Thanks Thanks:  2,773
Likes Likes:  472
Page 82 of 207 FirstFirst ... 3272808182838492132182 ... LastLast
Results 1,216 to 1,230 of 3091

Thread: قرآن فہمی، آئیے مل کر پڑھیں ترجمہ قرآن

  1. #1216
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,584
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    تقویٰ حفاظت و بچاؤ کا ذریعہ
    اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَا هُمْ مُّبْصِرُوْنَ

    اِنَّ
    : بیشک الَّذِيْنَ : جو لوگ اتَّقَوْا : ڈرتے ہیں اِذَا : جب مَسَّهُمْ : انہیں چھوتا ہے (پہنچتا ہے طٰۗىِٕفٌ : کوئی گزرنے والا (وسوسہ) مِّنَ : سے الشَّيْطٰنِ : شیطان تَذَكَّرُوْا : وہ یاد کرتے ہیں فَاِذَا : تو فوراً هُمْ : وہ مُّبْصِرُوْنَ : دیکھ لیتے ہیں

    جن لوگوں نے تقوی اختیار کیا ہے، انہیں جب شیطان کی طرف سے کوئی خیال آکر چھوتا بھی ہے تو وہ (اللہ کو) یاد کرلیتے ہیں۔
    فوراً وہ (دل کی آنکھیں کھول کر) دیکھنے لگتے ہیں۔۲۰۱

  2. #1217
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,584
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    شیطان کے پھندے
    وَاِخْوَانُهُمْ يَمُدُّوْنَهُمْ فِي الْغَيِّ ثُمَّ لَا يُقْصِرُوْنَ

    وَاِخْوَانُهُمْ
    : اور ان کے بھائی يَمُدُّوْنَهُمْ : وہ انہیں کھینچتے ہیں فِي : میں الْغَيِّ : گمراہی ثُمَّ : پھر لَا يُقْصِرُوْنَ : وہ کمی نہیں کرتے

    اور ان (کفار) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچ لے جاتے ہیں پھر وہ کمی نہیں کرتے۔۲۰۲


  3. #1218
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,584
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    قرآن کریم ہدایت اور رحمت
    وَاِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰيَةٍ قَالُوْا لَوْلَا اجْتَبَيْتَهَا ۭقُلْ اِنَّمَآ اَتَّبِعُ مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ مِنْ رَّبِّيْ ۚ هٰذَا بَصَاۗىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ

    وَاِذَا
    : اور جب لَمْ تَاْتِهِمْ : تم نہ لاؤ ان کے پاس بِاٰيَةٍ : کوئی آیت قَالُوْا : کہتے ہیں لَوْلَا : کیوں نہیں اجْتَبَيْتَهَا : اسے گھڑ لیا قُلْ : کہ دیں اِنَّمَآ : صرف اَتَّبِعُ : میں پیروی کرتا ہوں مَا يُوْحٰٓى : جو وحی کی جاتی ہے اِلَيَّ : میری طرف مِنْ : سے رَّبِّيْ : میرا رب هٰذَا : یہ بَصَاۗىِٕرُ : سوجھ کی باتیں مِنْ : سے رَّبِّكُمْ : تمہارا رب وَهُدًى : اور ہدایت وَّرَحْمَةٌ : اور رحمت لِّقَوْمٍ : لوگوں کے لیے يُّؤْمِنُوْنَ : ایمان رکھتے ہیں

    اور جب تم (ﷺ)ان کے پاس (کچھ دنوں تک) کوئی آیت نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تم نے (اپنی طرف سے) کیوں نہیں گھڑ لیا۔ کہہ دو کہ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پروردگار کی طرف سے میرے پاس آتا ہے۔ یہ قرآن تمہارے پروردگار کی جانب سے دانش وبصیرت اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔۲۰۳


  4. #1219
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,584
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    قرآن پڑھا جائے تو توجہ سے سنو
    وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ

    وَاِذَا
    : اور جب قُرِئَ : پڑھا جائے الْقُرْاٰنُ : قرآن فَاسْتَمِعُوْا : تو سنو لَهٗ : اس کے لیے وَاَنْصِتُوْا : اور چپ رہو لَعَلَّكُمْ : تاکہ تم پر تُرْحَمُوْنَ : رحم کیا جائے

    اور جب قرآن پڑھا جائے تو توجہ سے سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔۲۰۴


  5. #1220
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,584
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    اللہ کی یاد بکثرت کرو مگر خاموشی سے
    وَاذْكُرْ رَّبَّكَ فِيْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّخِيْفَةً وَّدُوْنَ الْجَــهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَلَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ

    وَاذْكُرْ
    : اور یاد کرو رَّبَّكَ : اپنا رب فِيْ : میں نَفْسِكَ : اپنا دل تَضَرُّعًا : عاجزی سے وَّخِيْفَةً : اور ڈرتے ہوئے وَّدُوْنَ : اور بغیر الْجَــهْرِ : بلند مِنَ : سے الْقَوْلِ : آواز بِالْغُدُوِّ : صبح وَالْاٰصَالِ : اور شام وَلَا تَكُنْ : اور نہ ہو مِّنَ : سے الْغٰفِلِيْنَ : بیخبر (جمع)

    اور یاد کرتے رہا کرو اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی کے ساتھ، اور ڈرتے ہوئے، آواز بلند کئے بغیر، صبح وشام اور نہ ہوجانا تم غافل لوگوں میں سے۔۲۰۵


  6. #1221
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,584
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    مقرب فرشتوں کا حال
    اِنَّ الَّذِيْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَيُسَبِّحُوْنَهٗ وَلَهٗ يَسْجُدُوْنَ

    اِنَّ : بیشک الَّذِيْنَ : جو لوگ عِنْدَ : نزدیک رَبِّكَ : تیرا رب لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ : تکبر نہیں کرتے عَنْ : سے عِبَادَتِهٖ : اس کی عبادت وَيُسَبِّحُوْنَهٗ : اور اس کی تسبیح کرتے ہیں وَلَهٗ : اور اسی کو يَسْجُدُوْنَ : سجدہ کرتے ہیں

    بےشک جو (فرشتے) تمہارے رب کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے، اور اس کی تسبیح کرتے ہیں، اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔۲۰۶
    آیت سجدہ۔
    الحمد للہ سورة اعراف ختم ہوئی، اس کی آخری آیت سجدہ ہے۔
    جو شخص اس آیت کو پڑھے یا سنے وہ سجدہ ریز ہوجائے تاکہ وہ اللہ کے مقرب بندوں میں داخل ہونے کی علامت کو ادا کر کے ان میں شامل ہوجائے۔ وہ اپنے عمل سے فورا یہ ثابت کر دے کہ وہ اللہ کی بندگی کرنے والوں میں شامل ہے ۔ منہ موڑنے والوں میں مطلق نہیں۔


  7. #1222
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,584
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    آیات سجدہ
    قرآن کی وہ آیات جن کو پڑھتے ہوئے یا سنتے ہوئے سجدہ واجب ہو جاتا ہے۔ ان آیات پر سجدہ کرنا متفق علیہ ہے، مگر اس کے واجب ہونے میں اختلاف ہے۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک سجدہ تلاوت واجب ہے۔
    نبی ﷺکا عمل
    محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بسا اوقات ایک بڑے مجمع میں قرآن پڑھتے اور اس میں جب آیت سجدہ آتی توآپ خود بھی سجدہ کرتے اور جو صحابی جہاں ہوتا، وہیں سجدہ ریز ہو جاتا، اگر کسی کو جگہ نہ ملتی تو وہ اپنے آگے والے شخص کی پیٹھ پر سر رکھ دیتا۔ یہ بھی روایات میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر قرآن پڑھا اور اس میں جب آیت سجدہ آئی توجو لوگ زمین پر کھڑے تھے، انہوں نے زمین پر سجدہ کیا اور جو گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار تھے، وہ اپنی اپنی سواریوں پر ہی جھک گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی دوران خطبہ آیت سجدہ پڑھی تو منبرسے اتر کر سجدہ کیا اور پھر اوپر جا کرخطبہ شروع کر دیا۔
    طریقہ سجدہ
    اس سجدہ کے لیے نماز کی سی ہی شرطیں ہیں، یعنی باوضو، قبلہ رو ہونا اور نماز کی طرح زمیں پر سر رکھنا۔
    مقامات
    وہ چودہ مقام جن پر سجدہ واجب ہے۔
    پہلی آیت سجدہ تلاوت: سورہ الاعراف، آیت 206۔
    دوسری آیت سجدہ تلاوت: سورہ الرعد، آیت 15۔
    تیسری آیت سجدہ تلاوت: النحل، آیت 49۔
    چوتھی آیت سجدہ تلاوت: الاسراء، آیت 109۔
    پانچویں آیت سجدہ تلاوت: مریم، آیت 58۔
    چھٹی آیت سجدہ تلاوت: الحج، آیت 18۔
    ساتویں آیت سجدہ تلاوت: الفرقان، آیت 60۔
    آٹھویں آیت سجدہ تلاوت: النمل، آیت 26۔
    نویں آیت سجدہ تلاوت: السجدہ، آیت 15۔
    دسویں آیت سجدہ تلاوت: ص، آیت 24۔
    گیارہویں آیت سجدہ تلاوت: حم السجدہ، آیت 37۔
    بارہویں آیت سجدہ تلاوت: النجم، آیت 62۔
    تیرہویں آیت سجدہ تلاوت: الانشقاق، آیت 21۔
    چودہویں آیت سجدہ تلاوت: العلق، آیت 19۔
    سجدہ تلاوت مطابق امام شافعی: الحج، آیت 77۔
    ایک مجلس میں سجدہٴ تلاوت والی آیت خواہ کتنی ہی مرتبہ پڑھی جائے، صرف ایک سجدہ کافی ہوجائے گا۔ اوراگر ایک ہی آیتِ سجدہ یا سورة مختلف مجالس میں پڑھی گئی تو ہرمرتبہ پڑھنے پر علیحدہ سجدہ واجب ہوگا: کمن کررھا أي الآیة الواحدة في مجلس واحد حیث تکفیہ سجدة واحدة... لأن النّبي صلی اللّہ علیہ وسلم کان یقروٴھا علی أصحابہ مرارًا ویسجد مرّة (مراقي الفلاح، ص494)
    صحیح مسلم میں بروایت حضرت ابوہریرہ متقول ہے کہ جب کوئی آدم کا بیٹا کوئی آیت سجدہ پڑھتا ہے اور پھر سجدہ تلاوت کرتا ہے تو شیطان روتا ہوا بھاگتا ہے اور کہتا ہے کہ ہائے افسوس انسان کو سجدہ کرنے کا حکم ملا اور اس نے تعمیل کرلی تو اس کا ٹھکانہ جنت ہوا، اور مجھے سجدہ کا حکم ہوا میں نے نافرمانی کی تو میرا ٹھکانہ جہنم ہوا۔


  8. #1223
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,584
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    الحمد للہ سورت اعراف ختم ہوئی، اب سورت انفال شروع ہو جائے گی ۔انشاءاللہ

  9. #1224
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,584
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    سورۃ الانفال

    اس سورت مبارکہ کا نام سورہ الانفال ہے، جو کہ اس کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے۔ جس کے معنی مال غنیمت کے ہیں۔ چونکہ سورت کا آغاز ،،نفال یعنی مالِ غنیمت کے احکام سے کیا گیا اور اس سورت کا بیشتر موضوع بھی یہی رہا ، اس لئے اس کا نام الانفال رکھا گیا۔اس سورت میں 75 آیات مبارکہ ہیں اور اس کے دس رکوع ہیں۔ جبکہ یہ آیت مدنی ہے۔
    یہ سورہ مبارکہ غزوئہ بدر کے فوراً بعد 2 ہجری میں نازل ہوئی ۔اسی لئے اس کا بیشتر حصہ غزوہ بدر کے متعلق ہی ہے۔
    اور اس سورہ میں بدر کی تاریخ ساز جنگ کے بارے میں بہت سے نکات بیان ہوئے ہیں۔ اس سورۃ کے مباحث اکثر جنگ بدر اور اس سے پیدا شدہ مسائل کے بارے میں ہیں چونکہ پیش آمدہ واقعات کے روشنی میں قانون سازی آسان ہو جاتی ہے، اس لیے غنائم جنگی کے بارے میں اسلام کا یہ موقف واضح کیا گیا کہ جنگی غنیمت، اسلامی ریاست کی ملکیت ہوتی ہے۔ پھر صلح و جنگ کے بارے میں بھی قانون سازی ہو گئی تاکہ جاہلی تصورات کی جگہ اسلامی، انسان ساز قانون ذہین نشین ہو جائے۔
    مسلمانوں کو یہ باور کرایا کہ جنگ میں فتح حاصل کرنے کے لیے کون سا اسلحہ زیادہ مؤثر ہے۔ آہنی اسلحہ یا آہنی ارادے۔ ارادوں کے آ ہنی ہونے کے لیے تائید غیبی درکار ہوتی ہے اور تائید غیبی کے حصول کے لیے بھی ایمان کی ایک خاص کیفیت درکار ہوتی ہے۔

    اس سورت کے بنیادی موضوعات یہ ہیں۔
    حق اور باطل کی جنگ ۔
    حق کو باطل سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیئے۔
    جنگ کا مقصد کسی پر حکومت کرنا یا مال غنیمت حاصل کرنا نہیں ہے ، بلکہ اس کا اصل مقصد خدا کا قانون نافذ کرنا ہے۔
    امن اور جنگ کے قانون واضع کرنا۔
    اسلامی ریاست کا اس کی رعایا سے تعلق بیان کرنا، چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم۔
    اس کے علاوہ اس سورت مبارکہ میں مسلمانوں پر یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جو فتح بھی تمہیں ملتی ہے اس میں محض تمہاری محنت اور بہادری شامل نہیں ہے، بلکہ اگر خدا تعالیٰ تمہارے ساتھ نہ ہوتا ، تو تمہارے لئے اس جنگ کو جیتنا ممکن نہ ہوتا۔ اس کے علاوہ مشرکین، یہودیوں اور قیدیوں سے بھی نہایت پر اثر انداز میں کلام کیا گیا ہےاور انہیں نصیحت کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مال غنیمت کی تقسیم سے متعلق بھی احکامات دیئے گئے ہیں۔ اور امن کے دور اور دوران جنگ ایسے رہنما اصول بھی بیان کیئے گئے ہیں جو اسلام کی شان کو بڑھاتی ہے اور دنیا پر اسلام کی حقانی کو ثابت کرتی ہے۔
    جنگی اخلاقیات کا ذکر ہے کہ اسلام نے اس تصور کو مسترد کیا کہ ’’جنگ میں ہر کام جائز ہے‘‘۔


  10. #1225
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,584
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    قانون تقسیم غنیمت
    يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ ۭقُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۠ وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗٓ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ

    يَسْــــَٔـلُوْنَكَ
    : آپ سے پوچھتے ہیں عَنِ : سے الْاَنْفَالِ : غنیمت قُلِ : کہ دیں الْاَنْفَالُ : غنیمت لِلّٰهِ : اللہ کیلئے وَالرَّسُوْلِ : اور رسول فَاتَّقُوا : پس ڈرو اللّٰهَ : اللہ وَاَصْلِحُوْا : اور درست کرو ذَاتَ : اپنے تئیں بَيْنِكُمْ : آپس میں وَاَطِيْعُوا : اور اطاعت کرو اللّٰهَ : اللہ وَرَسُوْلَهٗٓ : اور اس کا رسول اِنْ : اگر كُنْتُمْ : تم ہو مُّؤْمِنِيْنَ : مومن (جمع)

    تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ (کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے، پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو اور اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو۔۱


  11. #1226
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,584
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    مومنوں کی نشانیاں
    اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ

    اِنَّمَا
    : درحقیقت الْمُؤْمِنُوْنَ : مومن (جمع) الَّذِيْنَ : وہ لوگ اِذَا : جب ذُكِرَ اللّٰهُ : ذکر کیا جائے اللہ وَجِلَتْ : ڈر جائیں قُلُوْبُهُمْ : ان کے دل وَاِذَا : اور جب تُلِيَتْ : پڑھی جائیں عَلَيْهِمْ : ان پر اٰيٰتُهٗ : ان کی آیات زَادَتْهُمْ : وہ زیادہ کریں اِيْمَانًا : ایمان وَّ : اور عَلٰي رَبِّهِمْ : وہ اپنے رب پر يَتَوَكَّلُوْنَ : بھروسہ کرتے ہیں

    مومن تو وہ ہیں کہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے کہ ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے۔ اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔۲

  12. #1227
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,584
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    اقامت صلوة
    الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ

    الَّذِيْنَ
    : وہ لوگ جو يُقِيْمُوْنَ : قائم کرتے ہیں الصَّلٰوةَ : نماز وَمِمَّا : اور اس سے جو رَزَقْنٰهُمْ : ہم نے انہیں دیا يُنْفِقُوْنَ : وہ خرچ کرتے ہیں

    وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز کو اور ہم نے جو ان کو روزی دی ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔۳


  13. #1228
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,584
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    سچے مومنوں کیلئے عظیم الشان انعامات
    اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ۭلَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ

    اُولٰۗىِٕكَ
    : یہی لوگ هُمُ : وہ الْمُؤْمِنُوْنَ : مومن (جمع) حَقًّا : سچے لَهُمْ : ان کے لیے دَرَجٰتٌ : درجے عِنْدَ : پاس رَبِّهِمْ : ان کا رب وَمَغْفِرَةٌ : اور بخشش وَّرِزْقٌ : اور رزق كَرِيْمٌ : عزت والا

    وہی ہیں سچے ایمان والے، ان کے لئے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور معافی اور رزق عزت والا۔۴


  14. #1229
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,584
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    غزوۂ بدرکا تذکرہ
    كَمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ ۠ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لَكٰرِهُوْنَ

    كَمَآ
    : جیسا کہ اَخْرَجَكَ : آپ کو نکالا رَبُّكَ : آپ کا رب مِنْ : سے بَيْتِكَ : آپ کا گھر بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ وَاِنَّ : اور بیشک فَرِيْقًا : ایک جماعت مِّنَ : سے (کا) الْمُؤْمِنِيْنَ : اہل ایمان لَكٰرِهُوْنَ : ناخوش


    جیسا کہ آپ کو نکالا آپ کے رب نے آپ کے گھر سے حق کے ساتھ، (بدر کے معرکہ حق وباطل کی طرف)اوربےشک مؤمنین کی ایک جماعت کو گراں گزر رہا تھا۔۵


  15. #1230
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,584
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    بادل نخواستہ میدان کار زار کی طرف سے نکلنے والوں کی حالت
    يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُوْنَ

    يُجَادِلُوْنَكَ
    : وہ آپ سے جھگڑتے تھے فِي : میں الْحَقِّ : حق بَعْدَ : بعد مَا : جبکہ تَبَيَّنَ : وہ ظاہر ہوچکا كَاَنَّمَا : گویا کہ وہ يُسَاقُوْنَ : ہانکے جا رہے ہیں اِلَى : طرف الْمَوْتِ : موت وَهُمْ : اور وہ يَنْظُرُوْنَ : دیکھ رہے ہیں

    وہ جھگڑ رہے تھے آپ سے اس حق کے بارے میں اس کے بعد کہ وہ پوری طرح واضح ہوگیا تھا ان کے سامنے گویا کہ وہ موت کی طرف ہانکے جا رہے ہیں،اور وہ اسے دیکھ رہے ہیں۔۶


Tags for this Thread

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •