Thanks Thanks:  4
Likes Likes:  3
Results 1 to 4 of 4

Thread: ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کی فضیلت، قرآن و سنت کی روشنی میں

  1. #1
    Senior Member Pardaisi's Avatar

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    60,123
    Blog Entries
    19
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کی فضیلت، قرآن و سنت کی روشنی میں

    ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کی فضیلت، قرآن و سنت کی روشنی میں درج ذیل ہے:* اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَالْفَجْرِ وَ لَیَالٍ عَشْرٍ یعنی مجھے فجر اور دس راتوں کی قسم ہے۔ امام ابن کثیر رحمہ اللہ بحوالہ بخاری فرماتے ہیں: ’’اس سے مراد ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں‘‘۔
    =======
    * سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ان دس دنوں میں اللہ تعالیٰ کو عمل صالح بہت پسند ہے‘‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ کیا جہاد فی سبیل اﷲ سے بھی زیادہ یہ دن پسند ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ہاں! یہ دن جہاد فی سبیل اﷲ سے بھی بہتر ہیں سوائے اس شخص کے جو اپنے مال اور جان کو لے کر نکلے اور کسی چیز کو واپس لے کر نہ آئے‘‘ (بحوالہ بخاری)۔
    ========
    * سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ان دس دنوں سے بڑھ کر اور سب سے زیادہ محبوب اللہ تعالیٰ کو کوئی اور دن نہیں ہیں لہٰذا تم ان دنوں میں کثرت سے تسبیح، تحمید اور تہلیل کیا کرو‘‘۔ (بحوالہ طبرانی)۔
    ========
    * سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ان ایام عشرہ میں سخت ترین محنت سے عمل صالح فرماتے تھے۔ (بحوالہ دارمی)۔ امام ابن حجر رحمہ اللہ کے مطابق اس عمل صالح کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ان دنوں میں حج کا اجتماع منعقد ہوتا ہے اور حج اسلام کے اراکین میں شامل ہے۔
    =======
    * کثرت سے نوافل ادا کرنا۔ نمازوں میں مکمل پابندی کرنا، کثرت سجود سے قربِ الٰہی کا حاصل کرنا۔ (صحیح مسلم)۔
    =======
    * نفل روزے کا اہتمام کریں۔ کیونکہ اعمال صالحہ میں روزے شامل ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ذی الحجہ کی تاریخ کو روزے رکھتے تھے یوم عاشور، محرم اور ہر مہینے تین روزے رکھنا بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا معمول تھا۔ (بحوالہ ابوداؤد، مسند احمد)۔
    =========
    * کثرت سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنا بھی ان ایام کا ایک معروف فعل ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کے مطابق سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہم بازاروں میں جاتے تھے، خود بھی تکبیرات کہتے اور لوگ بھی تکبیریں بلند آواز سے پڑھتے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے خیمے میں بلند آواز سے تکبیریں کہتے تو اہل مسجد اس کو سن کر جواباً تکبیریں کہتے تھے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نمازوں کے بعد، گھر میں، آتے جاتے، پیدل چلتے ہوئے تکبیریں کہتے تھے۔ افسوس صد افسوس کہ ان ایام میں یہ عظیم سنت ختم ہو گئی ہے۔ تکبیر ان الفاظ سے کہی جاتی تھی:
    اَﷲُ اَکْبَر اَﷲُ اَکْبَراَﷲُ اَکْبَرکَبِیْرًااوراَﷲُ اَکْبَراَﷲُ اَکْبَرلَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَ اﷲُ اَکْبَراَﷲُ اَکْبَر وَ ِﷲِ الْحَمْدُ

    کوئی مجبوریاں نہیں ہوتیں
    لوگ یونہی وفا نہیں کرتے


  2. #2
    Senior Member Pardaisi's Avatar

    Join Date
    Sep 2007
    Posts
    60,123
    Blog Entries
    19
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)


    تکبیرات کی ابتدا یکم ذو الحجہ سے لے کر ایام تشریق یعنی تیرہ ذو الحجہ کے صلوةالعصر تک کسی بهی وقت میں زیادہ سے زیادہ پڑهنا ہے
    لیکن خاص طور پر جن دنوں اہتمام کرنے کا سنت سےثابت ہے وہ یوم عرفہ کی صبح فجر سے تیرہ ذوالحجہ کی عصر تک فرض نمازوں کے بعد پڑهنا ہے


    کوئی مجبوریاں نہیں ہوتیں
    لوگ یونہی وفا نہیں کرتے


  3. #3
    Site Managers

    Join Date
    Apr 2008
    Location
    Qatar
    Posts
    31,796
    Blog Entries
    16
    Mentioned
    46 Post(s)
    Tagged
    6 Thread(s)
    جزاک اللہ خیر۔
    * خسرو *

  4. #4
    Site Managers

    Join Date
    Apr 2008
    Location
    Qatar
    Posts
    31,796
    Blog Entries
    16
    Mentioned
    46 Post(s)
    Tagged
    6 Thread(s)
    گذارش ہے کہ اسلامک سیکشن میں تھریڈز موڈریشن پر ہیں اس لئے کوئی تھریڈ پوسٹ کرنے کے بعد تھوڑا انتظار کریں۔ آنلائن آتے ہی اپروو کر دیتا ہوں۔
    ایک ہی تھریڈ دو جگہوں پر پوسٹ نہ کریں۔ شکریہ
    * خسرو *

Tags for this Thread

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •