اُسی انگریز کے بارے میں منشی جی یہ بھی بتاتے تھے کہ وہ تھل کی آندھیوں سے بہت پریشان تھا، اور اس نے اُدھر ولایت میں اپنی سرکار کو لکھا تھا کہ پٹڑی بچھانے کے لئے یہ کیسا علاقہ مجھے دیا گیا ہے کہ آندھی کے بعد اس کا سارا جغرافیہ ہی بدل جاتا ہے، یہاں تو ریت کے ٹیلے باقاعدہ سفر کرتے ہیں، سو میری کچھ مدد کیجیے۔ اس پر ولایت کی سرکار نے دلّی کی سرکار کو لکھا، اور دلّی کی سرکار نے کسی پہنچے ہوئے پِیر سے ایک تعویذ حاصل کیا، جو پٹڑی کے آس پاس کی ببول میں لٹکا دیا جاتا۔ اس کے بعد آندھی آتی تو ریت کے ٹیلے پٹڑی کو چھوتے تک نہ تھے، مگر معلوم ہوتا ہے، حضرت پِیر اس پِیر سے بھی بڑے پِیر تھے۔ اس لیے کہتے ہیں، جب ایک بار بہت تیز آندھی آئی تو ایک ٹیلا ببول میں لٹکے تعویذ کی پروا کئے بغیر پٹڑی پر چڑھ گیا، پھر دلّی سے ایک اور تعویذ منگایا گیا، اور جب پہلے تعویذ کی جگہ اسے ببول میں لٹکایا گیا تو اچانک 'شررررر' کی آواز آئی۔ ریت کے اس ٹیلے کو آگ لگ گئی، اور وہ راکھ کی چٹکی بن کر اڑ گیا۔ غرض، تھل میں جب تک پٹڑی بچھتی رہی اس علاقے کے حضرت پِیر اور دلّی کے پیروں کا آپس میں سخت مقابلہ ہوتا رہا، اور حضرت پِیر کے جن بھوت تو آج بھی سرگرم ہیں۔ پچھلے دنوں اللہ جوایا اپنی بھینس سمیت گاڑی کے نیچے آکر کٹ گیا تو اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ بات بات پر ریل کا ٹکٹ کٹا لیتا تھا۔ بڑے بوڑھوں نے اسے بہت سمجھایا کہ ریل گاڑی میں اتنا سفر نہ کیا کرو، حضرت پِیر خفا ہوجائیں گے ، مگر وہ نہ مانا، اور پھر ایک پٹڑی پر چرتی ہوئی بھینس کو ریل گاڑی سے بچانے دوڑا تو بھینس کے ساتھ خود بھی انجن کے پہیوں کے ساتھ لپٹا چلا گیا۔ لوگوں نے پہیوں سے لپٹی ہوئی سوکھی چمڑی بیلچوں سے ادھیڑی۔