معشوق جو ٹھگنا ہے تو عاشق بھی ہے ناٹا
اِس کا کوئی نقصان نہ اُس کو کوئی گھاٹا

تیری تو نوازش ہے کہ تو آ گیا ، لیکن
اے دوست مرے گھر میں نہ چاول ہے نہ آٹا

لڈن تو ہنی مون منانے گئے لندن
چل ہم بھی کلفٹن پہ کریں سیر سپاٹا

تم نے تو کہا تھا کہ چلو ڈوب مریں ہم
اب ساحلِ دریا پہ کھڑے کرتے ہو “ ٹاٹا “۔

عشاق رہِ عشق میں محتاط رہیں اب
سیکھا ہے حسینوں نے بھی اب جوڈو کراٹا

کالا نہ سہی ، لال سہی ، تِل تو بنا ہے
اچھا ہُوا مچھر نے ترے گال پہ کاٹا

اُس روز سے چھیڑا تو نہیں ہے اُسے میں نے
جس روز سے ظالم نے جمایا ہے چماٹا

جب اُس نے بُلایا تو ضیاء چل دیئے گھر سے
بستر کو رکھا سَر پہ ، لپیٹا نہ لِپاٹا

(ضیاء الحق قاسمی)