وہ روئیں جو منکر ہیں حیات شہدا کے ۔۔
ہم زندہ جاوید کا ماتم نہیں کرتے ۔۔
۔
سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے مصائب سن کر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ لینا چاہیئے۔۔۔سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ شہید ہیں اور زندہ ہیں اس لئے ان کا ماتم کرنا گناہ ہے۔اسلام ہمیں صبر و استقامت کی تعلیم دیتا ہے زور زور سے رونا پیٹنا سینہ کوبی کرنا کپڑے پھاڑنا اسلامی تعلیمات سے کوسوں دور ہیں ۔۔۔اسلام کا حکم ہے کسی کے مرنے سے تین بعد غم کا اظہار نہ کرو اور نہ سوگ مناؤ صرف عورت کے لئے اپنے شوہر کے مرنے کے بعد چار ماہ دس دن تک سوگ منانا ضروری ہے ۔۔شوہر کے علاوہ کسی اور کا خواہ باپ ہو یا بھائی ہو یا بیٹا ہو تین دن کے بعد سوگ منانا جائز نہیں ۔۔۔جب وہ شہید ہوئے غم اس وقت تھا تمام عمر غم کرنا کسی کے واسطے شرح میں حلال نہیں ۔۔غم کی مجلس خواہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی ہو یا کسی اور کی جائز نہیں کیونکہ شریعت میں صبر کا حکم ہے اور اس کے خلاف غم پیدا کرنا خود معصیت اور گناہ ہوگا
ہمارا تو سارا خاندان شہیدوں کا ہے ایک حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر سارے ہمارے بڑے شہید ہی ہیں اب اگر اس وقت سے آج تک کے ہمارے سارے بزرگوں کے صرف شہیدوں کا ہی ذکر ہو تو 365 سے کہیں زیادہ شہید نظر آئیں گے۔۔حققیت یہ ہے کہ فی گھنٹہ ایک شہید کا بھی پورے سال میں ایک دفعہ ذکر کرو تو شہداء کے نام پورے نہ ہوں گے۔۔اسلام کے لئے جن شہداء نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم پر جانیں دیں کیا ان کا ماتم کرنا باعث گناہ ہوگا؟ ۔۔یہ تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو یہ فخر عطا ہوا ہے کہ جو شہید ہوا۔۔اس نے درجات حاصل کئے کامیابی ملی خوش ہونے کی چیز ہے ۔۔جان دی اللہ کی راہ میں اور حیات جاودانی پائی یہ بہادروں کا شیوہ ہے انہوں نے زندگی کا حق ادا کیا۔۔۔فقط یہ دیکھنا کہ بعد از شہادت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعیں نے کیا کیا بس یہ دیکھ لو یہی دین ہے۔
۔
قبروں کی لیپا پوتی جائز ہے لیکن اس کا کام کے لئے صرف ماہ محرم کو مقرر کرنا درست نہیں ۔۔۔جب بھی موقع ہو لیپا پوتی کراسکتا ہے ۔۔قبروں کی زیارت ثواب ہے کہ دیکھنے سے موت یاد آتی ہے مگر اس کام کے لئے لوگ دس محرم کو مقرر کرتے ہیں اس سال میں صرف اسی دن قبرستان جاتے ہیں آگے پیچے کبھی بھول کر بھی نہیں جاتے یہ صحیح نہیں۔
۔
کچھ لوگ عاشوراء کے دن قبروں پر سبز چھڑیاں رکھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے مردے کا عذاب ٹل جاتا ہے اس عمل کے التزام میں بہت خرابیاں ہیں مثلا غیر لازم کو لازم سمجھا جاتا ہے ۔بعض لوگ عذاب ٹل جانے کو لازمی سمجھتے ہیں یہ درست نہیں ۔۔۔
۔
آج کا سبق از مولانا مفتی تقی عثمانی مدظلہ۔۔

[