کچھ دیر پہلے ایک صاحب کی آئی ڈی پر ایک پوسٹ پڑھنی نصیب ہوئی جس میں دو چھوٹے بچوں کی تصویر تھی اس پوسٹ کا لب لباب یہ تھا

" یہ دونوں معصوم بچے ایک شہید کیپٹن کے بیٹے ہیں جو وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہو گیا تھا۔۔اس کی وفات کے بعد آرمی نے شہید کی بیوہ کی پینتیس ہزار روپے پینشن لگائی لیکن تھوڑے عرصے بعد ان بچوں نے اپنی ماں بھی کھو دی۔۔اب آرمی نے پینشن بند کر دی ہے اور پینشن کے نام پر ان بچوں کی دادی کو محض آٹھ سو روپے ملتے ہیں جو بار بار درخواست کے بعد تیرہ سو روپے کی گئی ہے۔۔اس پوسٹ کو پھیلا کر آرمی کو بیدار کریں کہ بچوں کی نانی کو پینتیس ہزار پینشن دی جائے۔۔۔"

نیچے کمنٹس میں لڑکے اور لڑکیاں آبدیدہ ہو کر آمین آمین اور آرمی سے جھولی پھیلا پھیلا کر فریاد میں مصروف تھے کہ آرمی نانی جی کو پینتیس ہزار روپے پینشن دے ۔۔معصوم بچوں جو مستقبل تباہ نہیں ہو گا۔۔

ایسے میں ایک عقل مند شخص نے نیچے کمنٹ کیا کہ آرمی کی جانب سے شہید ہونے والے کیپٹن کے ورثاء کو ایک کروڑ روپے اور ایک عدد پلاٹ دیا جاتاہے۔۔وہ سب کہاں گیا؟
صاحب پوسٹ کا جواب کچھ ایسا تھا
" یار وہ کروڑ روپیہ ان کے مستقبل میں کام آئے گا اور پلاٹ بیچ کر گھر کا اناج وغیرہ لینا عقل مندی نہیں ہے وہ بھی ،مستبقل کے لیے رکھ چھوڑا ہے۔۔۔"

میرا دل کیا کہ اپنا کیٹ کا سینڈل اتار کر ان بوٹ پالیشیوں کی وہ چھترول کروں کہ رہتی دنیا تک یاد رہے۔۔
آرمی والا بھی ڈیوٹی کرتے مرا وہ شہید ہے۔۔دوسری جانب ایک واپڈا والا ڈیوٹی کے دوران تاروں سے لٹک کر مر جاتا ہے اسے تم لوگ شہید کا درجہ دینے کو بھی تیار نہیں ہوتے ۔۔اور ادھر یہ حال ہے کہ ایک کروڑ روپیہ اور پلاٹ کے بعد بھی آرمی سے بھیک مانگی جا رہی ہے کہ پینتیس ہزار پینشن بھی دو۔۔آرمی ایک نظم و ضبط والا ادارہ ہے۔۔اس کا اصول ہے کہ شہید کی بیوہ کو پینشن ملتی ہے اگر بیوہ کسی اور سے شادی کر لے یا وفات پا جائے اس کے بعد پینشن کی یا تو اماونٹ کم ہو جاتی ہے یا پھر ختم کر دی جاتی ہے۔۔
ایک کروڑ اور ایک پلاٹ اس ملک کی پچانوے فیصد آبادی نے ایک ساتھ نہیں دیکھے ہوں گے اور یہ خوش نصیب بچے ہیں جو باقی کے پانچ فیصد میں سے ہیں۔۔ورنہ یہاں پر ڈیوٹی پر ہزاروں لوگ ہر سال مر جاتے ہیں کوئئ پرسان حال نہیں ہوتا۔۔اس معاشرے میں ڈاکووں کی گولیاں کھا کر مرنے والا پولیس اہلکار شہید تو دور، لعنتی اور کرپٹ ہی کہلاتا ہے۔تاروں سے لٹک کر مرنے والا واپڈا اہکار اس وقت تک تماشہ بنا رہتا ہے جب تک اس کی لاش اتار نہ لی جائے۔۔ہوش کرو یار۔۔پوجنے میں اس حد تک نہ جاو کہ بنی اسرائیل سے آگے نکل جاو اور اس ادارے کو مقدس گائے بنا دو