Thanks Thanks:  2
Likes Likes:  2
Results 1 to 6 of 6

Thread: ہاروی

  1. #1
    Senior Member

    Join Date
    Mar 2009
    Posts
    18,149
    Mentioned
    4 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    ہاروی

    گہرے پانیوں والے سمندروں کے بیچوں بیچ جب پانی کی اوپر والی سطح کا درجہ حرارت 26 ڈگری سینٹی گریڈ سے بڑھ جاتا ہے تو ہوا ٹکرانے سے بخارات بننے کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ جب بخارات بنتے ہیں تو پانی کا درجہ حرارت کم ہوجاتا ہے اور اس عمل کے دوران گرمی خارج ہوتی ہے۔ بخارات اوپر پہنچتے ہیں تو کم درجہ حرارت کی وجہ سے بادل بن جاتے ہیں، دوسری طرف پانی کی سطح سے جو گرمی ریلیز ہوتی ہے، اس سے ہوا گرم ہو کر اوپر کو اٹھتی ہے، اور کم درجہ حرارت کی تلاش میں بادلوں سے اوپر پہنچ جاتی ہے۔
    دوسری طرف نیچے سطح سمندر سے بخارات بننے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ایک طرف بادل بنتے رہتے ہیں، دوسری طرف گرم ہوا نیچے سے اوپر تیزی سے سفر کرتی رہتی ہے اور پھر ہوا کے دباؤ میں کمی بیشی کی وجہ سے اوپر سے نیچے کی طرف سفر کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہوا کا ایک سرکلر موشن شروع ہوجاتا ہے جس کے اوپر بادلوں کا ایک گہرا جتھا بنتا رہتا ہے، اور ساتھ ساتھ کئی کلومیٹر کی رفتار سے ہوا کا گولا بھی بنتا جاتا ہے۔
    وقت کے ساتھ ساتھ اس گولے کا حجم بڑھتا جاتا ہے اور اس گولے کی ہوا کی رفتار میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔
    اس سارے عمل کو آپ سمندری طوفان یا امریکی زبان میں ' ہری کین ' بھی کہہ سکتے ہیں۔
    آج سے چار دن قبل 21 اگست کو جس وقت ٹرمپ افغان ایشو پر تقریر کررہا تھا اور پاکستان کو دھمکی دے رہا تھا، ٹھیک اسی وقت بحرہ اوقیانوس کے گلف آف میکسیکو کے عین درمیان میں پانی کا درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے اس گولے کے بننے کا عمل شروع ہوگیا جسے پہلے ٹروپیکل سٹارم یعنی نسبتاً کم درجے کے معمولی طوفان کا نام دیا گیا کیونکہ اس میں ہوا کی رفتار محض 20 میل فی گھنٹہ تھی۔
    اگلے دو دن کے اندر یہ رفتار بڑھ کر 35 اور پھر 70 میل فی گھنٹہ ہوگئی۔ جونہی یہ رفتار 70 میل سے بڑھی تو محکمہ موسمیات کے مطابق یہ سٹارم اب ہری کین یعنی سمندری طوفان کی کیٹیگری میں آگیا تھا اور اسے ' ہاروی ' کے نام سے پکارا جانے لگا۔
    23 اگست کی رات تک یہ کیٹیگری ایک کا طوفان رہا، اگلے دن رفتار بڑھ کر 98 میل ہوئی تو کیٹیگری 2 میں تبدیل ہوگیا۔ 25 اگست کو اس کی رفتار 130 تک چلی گئی تو یہ کیٹیگری 3 میں داخل ہوگیا، اس وقت تازہ خبر یہ ہے کہ ہاروی صاحب کی رفتار 170 میل فی گھنٹہ سے تجاوز کرچکی اور یہ اب کیٹیگری 4 کی خطرناک حدود میں داخل ہوچکا ہے۔
    اب سے تھوڑی دیر قبل ہاروی نے اپنا پہلا لینڈ فال کیا، یعنی وہ زمین سے ٹکرا گیا ۔ ۔ ۔ اس وقت اس گولے کے قطر کا سائز 170 میل ہوچکا ہے اور یہ اپنے ساتھ اتنے بادل لا چکا ہے کہ امریکہ کہ تین ریاستوں میں اگلے کئی دن تک سیلابی بارشوں کا سبب بنے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ہواؤں کے بگولے یعنی ٹارنیڈوز بھی پھینکتا رہے گا۔
    اس وقت دنیا کی سب سے بڑی سپرپاور اور اس کا صدر ٹرمپ دم سادھے ہاروی کو دیکھ رہے ہیں اور اس انتظار میں ہیں کہ یہ کب اپنے جلال کو توڑ کر اپنی رفتار کم کرے اور سمندر میں واپس چلا جائے ۔ ۔ ۔ ۔ اپنی تمام تر ٹیکنالوجی، تمام تر سیٹلائیٹ اور اسلحہ کی طاقت کے باوجود ایک ہاروی کے آگے اس وقت امریکہ بے بس نظر آرہا ہے۔
    جس وقت ٹرمپ بڑا بول بول رہا تھا، اسی وقت اللہ نے صرف اپنے ایک معمولی اشارے سے بحرہ اوقیانوس میں درجہ حرارت کو 27 ڈگری کردیا اور امریکی تاریخ کا سب سے بڑا سمندری طوفان کھڑا ہوگیا۔
    یہ ہے میرا وہ رب جس کے قبضہ قدرت میں ہر شے ہے، وہ جو چاھے، کرسکتا ہے۔ اس کے آگے دنیا کی ہر طاقت، ہر ٹیکنالوجی، ہر فوج بے بس ہے۔
    وہ سب سے بڑا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ اکبر ۔ ۔ ۔ ہم کیا اور ہماری اوقات کیا!!!
    بابا کوڈا

  2. #2
    Site Managers Rubab's Avatar

    Join Date
    Jun 2007
    Posts
    13,943
    Blog Entries
    6
    Mentioned
    24 Post(s)
    Tagged
    2 Thread(s)
    اللہ پاک اپنا رحم کرے۔
    امریکہ سے ہمارے بہت سے ساتھی آتے ہیں، ہم میں سے کئی کے عزیز رشتے دار بھی وہاں موجود ہیں۔ اللہ پاک سب کی حفاظت کرے۔ آمین۔

    جو اللّٰہ کا حکم



  3. #3
    Site Managers Rubab's Avatar

    Join Date
    Jun 2007
    Posts
    13,943
    Blog Entries
    6
    Mentioned
    24 Post(s)
    Tagged
    2 Thread(s)
    اس بارے میں مزید کوئی اطلاع ہو تو یہیں اپڈیٹ کر دیجیے گا۔
    شکریہ

    جو اللّٰہ کا حکم



  4. #4
    Senior Member

    Join Date
    Mar 2009
    Posts
    18,149
    Mentioned
    4 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    اب تک چالیس ارب ڈالرز کا نقصان کر چکا ہے۔۔۔۔

  5. #5
    Senior Member

    Join Date
    Mar 2009
    Posts
    18,149
    Mentioned
    4 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    تھوڑی دیر قبل جیو ٹی وی چینل پر امریکی ریاست ٹیکسس میں آنیوالے سمندری طوفان کے حوالے سے ایک خبر چل رہی تھی جو کچھ یوں تھی:
    " سمندری طوفان کی وجہ سے ہزاروں پاکستانی محصور ہو کر رہ گئے اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ دوسری طرف لوگوں نے سٹورز وغیرہ پر لوٹ مار کرنا شروع کردی ۔ ۔ ۔ "
    میں نے سی این این لگایا، خبریں سنیں، پھر انٹرنیٹ پر ہاروی نامی سمندری طوفان کے بارے میں جاننے کی کوشش کی، مختلف اخبارات کی خبریں پڑھیں، آن لائن کمیونیٹیز کے آرا جانیں، حکومتی ویب سائٹس پر گیا تو جو کچھ سمجھ آیا وہ مختصراً ذیل میں درج ہے:
    1۔ ہاروی نامی سمندری طوفان جب ٹیکساس کے ساحلی شہر روک پورٹ سے ٹکرایا تو اس کی شدت کیٹیگری 4 تھی یعنی انتہائی تباہی لانے والا طوفان۔
    2۔ ہاروی اپنی سپیڈ، ہوا کی رفتار، بادلوں کی کثافت اور مجموعی پرسنالٹی کے لحاظ سے ٹیکس کا پچھلے 70 برسوں کی تاریخ کا سب سے خوفناک طوفان تھا اور یہ امریکہ کی مجموعی 400 سالہ تاریخ کا 8 واں خطرناک ترین سمندری طوفان تھا۔
    3۔ اس سے پہلے آخری مرتبہ کیٹیگری فور کا سمندری طوفان امریکی ریاست لیوزیانا میں آیا تھا جس کا نام غالباً کترینہ تھا اور اس نے بہت تباہی مچائی تھی۔
    4۔ ہاروی 25 اگست کی رات کو زمینی حدود میں داخل ہوا اور وقفے وقفے سے انتہائی تیز بارشیں اور تیز ہواؤں کے بگولے جنہیں ٹارنیڈوز کہا جاتا ہے، چلانے شروع کردیئے۔ یہ ٹارنیڈوز اور بارشیں 200 میل کے ریڈئیس تک ایک جیسی شدت سے چلے اور ایسی بارش برسائی جو اپنی ہوش سنبھالنے کے بعد شاید بہت کم امریکیوں نے دیکھی ہو۔
    ٹیکسس حکومت کو تیاری کیلئے صرف ایک دن کا وقت ملا تھا، لیکن پھر بھی جو کچھ انہوں نے کیا، وہ درج ذیل ہے:
    ای۔ ٹیکسس کے گورنر ایبٹ جو آج کل وہیل چئیر پر تھا، فوری طور پر کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر بنایا اور وہیں منتقل ہوگیا۔ صدر ٹرمپ سے رابطہ کیا، ہمسایہ ریاستوں کو سٹینڈ بائی کیا اور اپنی ریاست کے تمام اداروں کو مربوط انداز میں پلان بنا کر آگے بڑھا دیا۔
    دو۔۔۔ ایمرجینسی ریلیف کے ادارے بشمول 911، فائر فائٹنگ، ایمبولینسز، کوسٹل گارڈز اور پولیس کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئیں۔
    تین۔۔۔ ٹیکسس کے تمام لوکل ٹی وی چینلز محکمہ موسمیات کے ریڈارز اور سیٹلائٹ سے منسلک ہوگئے ہر لمحہ بہ لمحہ موسم کی صورتحال سے لوگوں کو آگاہ کرنا شروع کردیا۔
    چار۔۔۔ موبائل نیٹ ورکس سے محکمہ موسمیات نے تمام صارفین کو ایمرجینسی الرٹس بھیجنا شروع کردیئے۔ جس علاقے میں ٹارنیڈو آنا ہوتا، سیٹلائٹ سے اس کی ایڈوانس اطلاع پاتے ہی موبائل نیٹ ورک اس کا ایمرجینسی الرٹ کم از کم 30 منٹ پہلے اس علاقے میں موجود صارفین کو پہنچا دیتے جس سے وہ محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہوجاتے۔ یہی کام بارش کے نتیجے میں آنے والے فلیش فلڈ کی صورت میں بھی کیا جاتا۔
    پانچ۔۔۔ جن علاقوں میں پانی کھڑا ہونے کا خطرہ بڑھتا، وہاں انخلا کا آرڈر جاری ہوتا، ہائی سکولز جن کا سائز ہماری پنجاب یونیورسٹی سے بھی شاید بڑا ہوتا ہے، انہیں فوری طور پر شیلٹر ہومز میں بدل دیا جاتا، پھر بڑی گاڑیوں، بسوں، ہیلی کاپٹرز، ایمبولینسز اور ہوا بھری ہوئی کشتیوں کو وہاں پہنچا دیا جاتا اور علاقے کے لوگوں کو بحفاظت قریبی شیلٹر میں منتقل کردیا جاتا۔ اس عمل کے دوران ان کے کتے اور دوسرے جانوروں کو بھی بحفاظت منتقل کیا جاتا۔
    چھے۔۔۔ لوکل گورنمنٹس کا پورا سٹرکچر بشمول سٹی مئیر، کاؤنٹی ججز، ڈسٹرکٹس کونسل ممبران نے اپنے اپنے علاقے کے انتظام سنبھالے اور ریلیف کی نگرانی شروع کردی۔
    سات۔۔۔ امریکی تاریخ کے اس خوفناک ترین طوفان اور سیلاب میں اب تک صرف 6 اموات ہوئی ہیں اور ان کی وجہ پانی میں ڈوبنا نہیں بلکہ ڈپریشن یا خوف تھا۔
    آٹھ۔۔ گورنر، مئیرز اور کاؤنٹی مینجمنٹ کے لوگ بار بار تقریروں میں کہتے رہے کہ قطع نظر آپ کا مذہب، رنگ، نسل کیا ہے، اگر آپ اس وقت مشکل میں ہیں تو ہمیں اطلاع کریں، ہم آپ کی مدد کریں گے۔
    اس پورے عمل کے دوران ٹیکسس گورنر ایبٹ، سٹی مئیرز اور کاؤنٹی مینجمنٹ کے لوگوں نے نہ تو لانگ بوٹ پہنے اور نہ ہی چھاتہ اور کیمروں کی ٹیم کے ہمراہ پانی میں کھڑے ہو کر تصویریں بنائیں۔ ان لوگوں نے اپنے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز میں بیٹھ کر اپنے سول اداروں کو استعمال کیا جو عوام کے پیسے سے بنائے گئے تھے اور ان اداروں نے اپنا حق ادا کردیا۔
    اگر اتنی شدت کا طوفان خدانخواستہ پاکستان یا کسی اور ملک میں آیا ہوتا تو وہ مکمل تباہ ہوچکے ہوتے۔ یہ امریکہ تھا، جہاں کے سیاستدانوں میں شرم اور عوام میں عقل تھی، انہوں نے لندن میں جائیدادیں بنانے کی بجائے سول ادارے بنائے، انہیں مضبوط کیا اور آج امریکی تاریخ کے 400 سالہ بدترین طوفان کو بآسانی شکست دے کر تاریخ کے آگے سرخرو کھڑے ہوگئے۔
    اب میرا ان پاکستانی چینلز پر لعنت بھیجنے کو دل کرتا ہے کہ جنہیں اس سمندری طوفان کی خبر ملی بھی تو منفی۔ انہیں یہ نظر نہیں آیا امریکہ نے کس طرح اس طوفان کو شکست دی۔
    ہم پاکستانیوں نے اپنی آنکھوں پر خوش فہمی یا غلط فہمی کی پٹی باندھ رکھی ہے جس سے ہمیں صرف اپنا آپ ٹھیک اور دوسرے غلط نظر آتے ہیں۔ ہماری یہ جہالت ہمیں تباہ کرچکی اور آئیندہ مزید برباد کرے گی!!!


    بابا کوڈا

  6. #6
    Site Managers Rubab's Avatar

    Join Date
    Jun 2007
    Posts
    13,943
    Blog Entries
    6
    Mentioned
    24 Post(s)
    Tagged
    2 Thread(s)

    جو اللّٰہ کا حکم



Tags for this Thread

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •