Million Dollar Arm

"یہ ایک اچھا کھیل نہیں ہے۔ایسا لگتا ہے جیسا کوئی قید خانہ ہو اور پاگل قیدیوں کو ایک کھیل کھیلنے کی اجازت دے دی گئی ہو۔۔"
"یہ بالکل درست نہیں ہے۔۔ایک ارب سے زیادہ لوگ اس گیم کو کھیلتے ہیں جس کا نام کرکٹ ہے۔۔"
"کیا فرق پڑتا ہے؟ یہ مشہور ہے کیوں کہ ہر کوئی کھیل سکتا ہے۔۔اس کے کوئی ایسے اصول و ضوابط تو ہیں نہیں جو سمجھ نہ آ سکیں۔جہاں دل چاہے شاٹ مار دو۔اس کے بعد واپس آ کر ایک دوسرے کے بلے سے بلے مار کر داد دیتے پھرو۔۔ یہ سب بکواس ہے فضول ہے۔ننھا منا بچہ بھی یہ گیم کھیل سکتا ہے۔"
یہ گفتگو جے بی برینٹسن اور اس کے بزنس پارٹنر ایش کے درمیان ہو رہی تھی۔۔ایش جو کہ ہندوستانی پس منظر رکھتا ہے وہ جے جی کو کرکٹ کے بارے بتا رہا تھا۔۔۔جے بی اور ایش ان دنوں سخت پریشان تھے کیوں کہ ان کی کمپنی جو کہ ایک اسپورٹس ایجنٹ کمپنی ہے ڈوبنے کے قریب تھی۔۔انھیں کوئی بڑا نام یا کوئی سرپرائز انٹری چاہیے تھی جس کے ایجنٹ بن کر یا اسے بیس بال کے میدان میں متعارف کروا کر وہ معاوضہ اور کمیشن پا سکیں اور کمپنی جی اٹھے۔۔۔ایسے میں پریشان بیٹھے جے بی کو بطور مذاق ایش نے ٹی وی پر کرکٹ میچ لگا دیا جس میں بھارت اور برطانیہ کی ٹیمز کھیل رہی تھیں اور جے بی نے کرکٹ کی اچھی خاصی بے عزتی کر دی اور اسے بکواس کھیل قرار دیا۔۔
ایش کے جانے کے بعد جے بی ٹی وی چینلز تبدیل کر رہا ہوتا ہے کہ کرکٹ کا چینل آ جاتا ہے وہ منہ بسور کر اگلا چینل لگاتا ہے جس پر ڈانس ٹیلنٹ شو آ رہا ہوتا ہے۔۔اس سے آگلے چینل پر کوئی موٹیویشنل تقریر چل رہی ہوتی ہے اس تقریر میں کچھ سن کر اور کرکٹ اور ڈانس ٹیلنٹ کا چینل دماغ میں رکھ کر جے بی کے ذہن میں کچھ آتا ہے۔۔وہ بار بار کرکٹ چینل اور اس تقریر والے چینل بٹن گھماتا ہے ایسے میں اس کا ذہن ایک فیصلہ کر لیتا ہے۔۔ اور وہ فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ
"بھارت ایک ارب کی آبادی والا ملک ہے میں اگر وہاں جاوں اور وہاں سے دو ایسے نوجوان ڈھونڈھ لاوں جو کرکٹ کھیلتے ہوں لیکن ان کے پاس اتنی طاقت ہو کہ وہ کھڑے کھڑے اسی یا نوے میل کی رفتار سے گیند تھرو کر سکیں تو مجھے بیس بال کے لیے دو نئے چہرے مل جائیں گے اور میں ان چہروں کو بطور پچر ( کھڑے کھڑے گیند پھیکنے والے ) متعارف کرواوں گا اور میری کمپنی جی اٹھے گی۔
وہ انڈیا کا سفر کرتا ہے اور وہاں بھارت کے بڑے بڑے شہروں میں ٹیلنٹ شو آرگنائز کرتا ہے جن کا نام ہوتا ہے " ملین ڈالر آرم ( دس لاکھ ڈالرز کا بازو)" جس کا مطلب ہوتا ہے جو بھی شخص کھڑے کھڑے سب سے زیادہ تیز رفتاری سے گیند پھینکے گا وہ وقتی طور پر ایک لاکھ ڈالرز کا انعام پائے گا مگر اسی کے ساتھ وہ جے بی کے ساتھ امریکا جائے گا وہاں اسے مناسب تربیت دلوا کر کسی بہترین بیس بال کلب میں بطور کھلاڑی بھرتی کروایا جائے گا۔۔موسم کی سختیاں اور بھارت جیسے پسماندہ ملک میں دوسرے بہت سے مسائل جھیل کر جے بی کو دو نوجوان مل ہی جاتے ہیں جو ایک ہی گاوں کے رہنے والے ہوتے ہیں۔ایک کا باپ ٹرک ڈرائیور ہوتا ہے دوسرا بھی غریب گھرانے سے ہوتا ہے اور مزے کی بات ہے دونوں کو کرکٹ سے نفرت ہوتی ہے۔۔دونوں نوجوانوں کے نزدیک کرکٹ فضول کھیل ہوتا ہے۔۔ لیکن دونوں نوجوان کھڑے کھڑے اسی سے زیادہ کی رفتار سے گیند پھیکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔۔ ایک نام دنیش پٹیل ہوتا ہے جو دائیں ہاتھ سے پچ (گیند پھینکنا ) کرتا ہے دوسرا رنکو سنگھ ہوتا ہے جو بائیں ہاتھ سے گیند پھینکتا ہے۔۔
دونوں کو امریکا لایا جاتا ہے۔ اور مناسب تربت فراہم کرنا شروع کی جاتی ہے۔۔چھوٹے سے گاوں سے امریکا آنے والے نوجوانوں کی وہاں زندگی کیسی ہوتی ہے وہ کسی بڑے کلب میں منتخب ہو پاتے ہیں یا نہیں یا کیسے منتخب ہوتے ہیں۔اس کے لیے آپ فلم دیکھیں۔
یہ بتاتا چلوں کہ یہ فلم بالکل حقیقی کہانی پر منبی ہے،،اس فلم میں دکھایا جانے والا ایک ایک واقعہ حقیقت پر مبنی ہے تمام کردار حقیقی زندگی میں وجود رکھتے ہیں۔۔۔اصلی رنکو سنگھ اور دنیش پٹیل کی تصاویر اٹیچ کر رہا ہوں۔
فلم کا نام ہے "ملین ڈالر آرم"
وکی پیڈیا سے
رنکو سنگھ
Rinku Singh - Wikipedia
دنیش پٹیل
Dinesh Patel - Wikipedia