کچھ اس طرح سے میں نے جیون سجا لیا
ہر بار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اک نیا چہرہ لگا لیا
تقدیر کی لکیریں ہاتھوں میں رک گئیں
قدموں کی آہٹوں سے منزل ٹھہر گئی
اپنوں کی آرزو کو ھر پل مٹا دیا
ہر بار۔۔۔۔۔۔ اک نیا چہرہ لگا لیا
اپنوں کا نہ کبھی غیروں کا بن سکا
سانسوں کی آرزو کا حصہ نہ بن سکا
میرے وجود کو سب نے بھلا دیا
ہر بار اک نیا چہرہ لگا لیا

یہ مخبر فلم کی غزل ہے


ہم لوگ آرمی والوں کی زندگی کے بارے جانتے ہیں، پولیس والوں کی زندگی کے بارے جانتے ہیں خفیہ ادارے جیسا کہ آئی ایس آئی، سی آئی اے والوں کے بارے بہت کچھ جانتے ہیں لیکن کیا ہم جانتے ہیں کہ یہ سب ایک شخص کے بنا ادھورے ہیں وہ شخص یا ادارے جسے یہ "مخبر" کے نام سے جانتے ہیں۔۔کیا ہم جانتے ہیں کہ یہ مخبر کیا ہوتے ہیں؟ کیسے زندگی بسر کرتے ہیں؟ ان کا کام کرنے کا کیا طریقہ کار ہے؟ ان کی جان کو کیا خطرات لاحق ہوتے ہیں؟

ایک مخبر کی زبانی

" میرا سچ یہ ہے کہ میرا کوئی سچ نہیں۔۔کتنے نام ہیں میرے ، کتنے چہرے۔۔جھوٹ کو جھوٹ میں لپیٹتا ہوں ۔نقاب کو نقاب سے چھپاتا ہوں۔۔میں انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ کے لیے کام کرتا ہوں۔۔کبھی مرضی سے اور کبھی مجبوری سے۔۔لوگ مجھے مخبر کے نام سے جانتے ہیں۔۔"

دو ہزار آٹھ میں یہ فلم ریلیز ہوئی اور میں یہ تین بار دیکھ چکا ہوں۔۔ہر بار اس فلم کی چاشنی ہی الگ ہے۔۔
اس فلم میں سمیر داتانی نے مخبر کا کردار ادا کیا ہے ۔ ان کے علاوہ سنیل شیٹھی، اوم پوری، جیکی شیروف اور راہول دیو نے بہترین پرفارمنس دی ہے۔۔۔
ضرور دیکھیں۔۔بہترین مووی ہے۔۔۔بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔۔۔