"تمہیں انٹیلی جنٹ اسٹار ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو کہ امریکہ میں صرف بہترین جاسوسوں کو دیا جاتا ہے۔۔۔ اس سلسلسے چودہ کو تقریب ہے۔۔"
سی آئی اے میں ٹونی کے آفیسر نے اس سے کہا

" اوہ! کیا یہ تقریب ایک ہفتہ تاخیر سے نہیں ہو سکتی؟ میں اپنے بیٹےکو بھی لے آتا اس کے اسکول کی چھٹیاں شروع ہو چکی ہوں گی۔۔"

" سوری ٹونی! یہ مشن بھی خفیہ تھا لہذا یہ تقریب بھی خفیہ ہو گی۔۔تم اپنے بیٹے کو بتا بھی نہیں سکتے۔۔"
" تو کیا آپ مجھے اسٹار ایوارڈ دے کر فورا واپس لے لو گے۔۔" ٹونیک تھوڑی سی مایوسی سے بولا
" تو اور کیا؟ تمہیں تالیاں چاہیے؟ تالیاں اور داد و تحسین چاہیے تو جاو کوئی سرکس جوائن کر لو۔۔" ٹونی کا باس ہنس کر بولا
" اچھا! میرا خیال ہے میں سرکس میں ہی ہوں۔۔" ٹونی بھی ہنس کر بولا اور دونوں نے بلند قہقہہ لگایا۔۔

کہنے کو یہ ایک عام سا سین ہے لیکن آپ پروفیشنلزم کی انتہا دیکھیں کہ ٹونی نے اس مووی میں ایک ایسا مشن جو تاریخ کا حصہ ہے۔۔۔لیکن سی آئی اے کے پروٹوکول اور ان کے پروفیشنل ایٹی ٹیوڈ کی وجہ سے بس ایک خفیہ سی تقریب میں ایک ایوارڈ دے کر واپس لے لیا جانا ہے۔۔ اور باقاعدہ کہا جا رہا ہے تالیاں چاہیے تو جاو سرکس جوائن کرو۔۔

بات ہو رہی ہے بین ایفلک کی مشہور زمانہ فلم "آرگو کی۔۔۔


خمینی انقلاب کے بعد جب ایران میں امریکہ مخالفت نفرت عروج پر تھی ۔۔ایسے میں امریکن ایمبیسی پر ایرانی عوام اور پاسداران انقلاب کی جانب سے حملہ ہوتا ہے،۔۔۔باقی سارا عملہ یہ لوگ پکڑ لیتے ہیں بس چھے لوگ فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔یہ چھے کے چھے ایران میں موجودہ کینڈین سفارت کار کے گھر میں پناہ لیتے ہیں۔۔جو مہینوں تک انھیں اپنے پاس رکھتا ہے۔۔ادھر سے امریکی سرکار ان چھے لوگوں کو ایران سے نکالنے کے لیے کافی ڈسکشن اور مباحثوں کے بعد ایک مشن ترتیب دیتی ہے۔۔۔اور یہ مشن ٹونی مینڈس (بین ایفلک ) کو اکیلے ہی مکمل کرنا تھا۔۔۔
سی آئی اے کے اہلکار ٹونی مینڈس نے کس طرح ان چھے لوگوں کو وہاں سے نکالا۔۔۔انھیں ایرانی عوام کے غضب و غصے سے کیسے بچایا۔۔۔اس کئے لیے آپ مووی دیکھیں۔۔اگر آپ ایکشن کے متلاشی ہیں تو یہ مووی ایکشن سے یکسر خالی ہے لیکن اگر آپ ایک اچھی سچی مکمل کہانی کی تلاش میں ہیں تو یہ فلم سب سے پہلے دیکھیں۔۔اس میں سسپنس، تھرل اور اداکاری اپنے عروج پر ہے۔۔
اس مووی کے مین اداکار ہونے کے ساتھ ساتھ بین ایفلک ہدایت کار اور پروڈیوسر بھی ہیں۔۔۔
یہاں یہ بتاتا چلوں کہ یہ حقیقی زندگی کے واقعات پر مبنی فلم ہے۔۔۔اس فلم میں دکھایا گیا مشن سی آئی اے نے بالکل اسی طرح مکمل کیا تھا۔۔۔اور ٹونی مینڈس کو ایوارڈ دے کر واپس بھی لے لیا تھا لیکن بعد میں انیس سو ستانوے میں صدر بل کلنٹن نے اس مشن سے خفیہ ہونے کا لیبل ہٹا دیا اور ٹونی مینڈس کو اس کا ایوارڈ بھی واپس کر دیا۔۔۔۔
فلم کے اختتامی سین دیکھنا مت بھولیں جہاں حقیقی زندگی کے اشخاص کے چہرے دکھائے جاتے ہیں جن کو لے کر یہ مووی بنائی گئی ہے۔۔

یہ مووی جہاں ایک اچھی تفریح مہیا کرتی ہے وہاں وہاں ہم جیسے تھرڈ ورلڈ ممالک سے تعلق رکھنے والے باشندوں کو احساس محرومی کا شکار بھی کرتی ہے کہ کیسے ترقی یافتہ ممالک کی حکومتیں دوسرے ممالک میں بھی مصائب میں اپنی عوام کو تنہا نہیں چھوڑتے۔پھر چاہے انھیں اپنے باشندوں کو بچانے کے لیے کمینگی کی کسی حد تک کیوں نہ جانا پڑے۔۔ریمنڈ ڈیوس کی مثال سامنے ہے۔۔دوسری مثال اس مووی میں مل جائے گی۔۔