" بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کی حقیقت "

ایک ارب درختوں کے پراجیکٹ پر ایسے ایسے مضحکہ خیز اعتراضات اٹھ رہے ہیں کہ" عمران بغضین" پر ہنسی آتی ہے. اگر تھوڑا سا سوچ سمجھ لیا جائے تو یہ جاننا مشکل نہیں کہ ہمارے دین میں درخت کی کیا اہمیت ہے اور دنیا کی بقا میں درختوں، پودوں، جھاڑیوں اور اس سے منسلک پورے ایکولوجکل سسٹم کی کیا مرکزیت ہے. ہمیں تو ایک ارب چھوڑ ایک لاکھ درخت لگانے پر بھی خوشی کا اظہار کرنا چاہیئے تھا کیونکہ درخت پاکستان میں لگ رہے ہیں اسکا فائدہ پورا پاکستان اٹھائے گا.

لیکن لوگ، کے پی کے بندوں، درختوں اور دنوں کو ہاتھوں پر جمع تفریق کر کر کے باؤلے ہو رہے ہیں. ایک ارب درخت صرف دو برسوں میں کیسے لگ سکتے ہیں؟ یہ ممکن نہیں. کچھ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ درخت ہمارے سامنے کیوں نہیں لگے؟. یہ لا علمی ہے سادگی ہے اور کچھ تعصب ہے.

"کچھ حقائق "

1. 40 فیصد پلانٹیشن ہاتھوں سے ہوئی ہے. باقی 60 فیصد پروٹیکٹڈ ری جنریشن، اور ایریل سیڈنگ کے ذریعے کی گئی. آسان لفظوں میں پرانے جنگلات اور بیڈ لینڈز، بنجر، نرسریز اور ویٹ لینڈز کو ٹھیک کیا گیا. ہیلی کاپٹر سے بیج پھینکے گئے. یوں تیز رفتاری سے ماس پلانٹیشن ممکن ہوئی. گمبیلا دریا کے آس پاس مانسہرہ کا علاقہ اسکا ایک مرکز تھا. زیادہ تر پلانٹیشن کاٹے گئے جنگلات کی جگہوں پر کی گئیں.

2.جنگلات کے تین ریجن قائم کئے گئے. پہلا سینٹرل سدرن فاریسٹ ریجن جس میں پشاور، مردان کوہاٹ وغیرہ کے علاقے شامل ہیں، دوسرا ناردن فاریسٹ ریجن ایبٹ آباد، جس میں ہری پور، کوہستان بونیر کے علاقے شامل ہیں. تیسرا ناردن مالا کنڈ ریجن ہے جس میں دیر، سوات چترال کے علاقے شامل ہیں.

3.انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (iucn) نے 2011 میں "بون چیلنج" کا آغاز کیا تھا. دنیا کے بیس ممالک نے جنگلات کے رقبے میں اضافے کے چیلنج کو قبول کیا تھا. بون چیلنج کا مقصد 2020 تک ایک سو پچاس ملین ایکڑ رقبے پر جنگلات کو ریسٹور کرنا ہے پاکستان وہ پہلا ملک بنا جس نے سب سے زیادہ تقریباً 35 ہزار ایکڑ کا رقبہ آباد کیا. ڈنمارک کی معروف انوائر منٹلسٹ انگر اینڈرسن جو آئی یو سی این کی ڈائریکٹر جنرل ہیں انھوں نے پاکستان کی اس کامیابی پر مسرت کا اظہار کیا ہے. دنیا کے 160 ممالک میں اس تنظیم کی نمائندگی ہے. دنیا مختلف ممالک کی 1300 سرکاری تنظیمیں اسکی رکن ہیں.

4. 13 ہزار سرکاری نرسریاں قائم کی گئیں. نجی این جی اوز کی شراکت سے بھی نر سریز کا قیام عمل میں لایا گیا. چھوٹے سکیل کی نرسریوں نے 25 ہزار بیج کی کم از کم مقدار مہیا کی.

5.کے پی کے حکومت نے اس پراجیکٹ کے لئے 123 ملین ڈالر مختص کئے. مزید سو ملین 2020 تک پودوں کی دیکھ بھال پر خرچ ہونگے.

6.ورلڈ وائلڈ فنڈ جو 1961 سے قائم شدہ سوئٹزرلینڈ بیسڈ تنظیم ہے اس نے بطور آزاد نمائندے کے اس پراجیکٹ کو مانیٹر کیا اور تصدیق کی ہے.

7. تقریباً 23 فیصد سفیدے، 20 فیصد چیڑ کے درخت کو لگایا گیا. اخروٹ، کیل، ملبری اور دیگر علاقائی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے درختوں کی اقسام کا انتخاب کیا گیا. سفیدے کے متعلق تحقیق کے بعد اس مفروضے کو بے بنیاد پایا گیا کہ یہ زیر زمین پانی میں کمی لاتا ہے. لیکن اسکا پانی کا استعمال دوسرے درختوں سے کچھ زیادہ یقیناً ہوتا ہے.

8.کچھ سرکاری اور نجی سکولوں میں پلانٹیشن مہم چلائی گئی. طالب علموں نے پلانٹیشن میں حصہ لیا.

یہ تو ہیں اعداد و شمار جن کی تصدیق عالمی ادارے بھی کر رہے ہیں. لیکن پاکستان میں فراڈ اور بے ایمانی کو لازمی ایک فیکٹر کے طور رکھنا چائیے. اس لئے کنٹریکٹرز کے گھپلوں، بیجوں میں ملاوٹ اور اعدادوشمار میں ہیر پھیر کا کچھ امکان میں رکھتا ہوں لیکن اس سب کے باوجود یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ لازماً کروڑوں پودے لگائے گئے ہیں.

اگر آپ کو پھر بھی شک ہے تو ابھی کچھ ہی دن قبل مدھیہ پردیش بھارت میں 12 گھنٹوں میں ساڑھے چھ کروڑ درخت لگائے گئے. پندرہ لاکھ لوگوں نے یہ کارنامہ انجام دیا. یاد رہے بھارت پیرس پیکٹ کے تحت اگلے پندرہ برسوں میں اپنے مجموعی رقبے کے 29 فیصد کو جنگلات میں تبدیل یا ریسٹور کرے گا.

ورلڈ وائلڈ فنڈ کے نمائندے کا کہنا ہے کہ درخت کا مطلب مزید پرندے، پرندوں کے اضافے سے کیڑے مکوڑے کی بہتات، جانوروں کے لئے بہترین ماحول، سیلاب اور گلوبل وارمنگ سے بچاؤ میں مدد اور ہوا میں آکسیجن کا اضافہ انسانی صحت میں بہتری کا سبب، یعنی پورا ایکولوجکل سسٹم بہتر ہوگا.

پاکستان اگلے 30 برسوں میں گلوبل وارمنگ سے شدید متاثر ہونے والے سات ممالک میں شامل ہے. ڈیم اور درخت ہماری زندگی کی بقا کا اہم ترین جزو ہونگے. اس بات کا احساس کریں.


بشکریہ ثاقب ملک