فلم کا نام : ہیرو پنتی


جیکی شیروف کے بیٹے ٹائیگر شیروف کی یہ پہلی فلم تھی۔۔اس فلم کا سب کو انتظار تھا کیوں کہ ٹائیگر شیروف ایک باڈی بلڈر، جم ٹریبر، جمناسٹک کا ماہر اور مارشل آرٹسٹ ہے۔۔وہ فلموں میں انٹری سے بہت سے بالی وڈ ہیروز کو جم ٹریننگ دے چکا ہے جن میں عامر خان بھی شامل ہیں ۔۔سب دیکھنا چاہتے تھے کہ کیا ٹائیگر کو اداکاری بھی آتی ہے یا نہیں۔۔
فلم کی کہانی اس معاشرے کی عکاسی کرتی ہے جس میں چند نوجوان اپنے ایک دوست کی مدد کرتے ہیں وہ دوست ایک گاوں کے بارعب چوہدری کی بیٹی بھگا کر لے جاتا ہے۔۔مدد کرنے والے دوستوں میں ببلو (ٹائیگر شیروف) بھی شامل ہوتا ہے۔۔۔جسے لگتا ہے کہ اس نے بالکل درست کیا ہے۔۔ہر شخص کو حق ہے اپنے پیار کو پا لے چاہے اسے بھگا کر لے جانا پڑے۔۔
چوہدری اس لڑکے تمام دوستوں کو اٹھا لیتا ہے جن میں ببلو بھی شامل ہوتا ہے اور ان لوگوں کو زبردستی اپنے ساتھ شامل کر لیتا ہے کہ میری بیٹی اور ا سکے بوائے فرینڈ کی تلاش میں میری مدد کرو۔۔
ایسے میں ایک رات تھکا ہارا،مایوس ٹوٹا ہوا، نا امید چوہدری ببلو سے کچھ باتیں کرتا ہے۔۔وہ باتیں ایک ٹوٹے ہوئے تھکے ہارے باپ کی فریاد ہوتی ہے۔۔اس کی آہ ہوتی ہے۔۔سب لوگ ان باتوں کو غور سے پڑھیں۔۔اور سوچیں ان باپوں پر کیا بیتتی ہے جن کی بیٹیاں گھروں سے بھاگ جائیں یا گھر میں ہی بیٹھی باپ کی عزتوں کو تار تار کر رہی ہوں۔۔

"یہی جوانی ہے؟ ہم بھی جوان تھے۔۔اتنا گھمنڈ تھا کسی کی نہیں سنتا تھا۔۔ماں باپ بیوی۔کسی کی نہیں۔۔پھر میں باپ بنا بچی کا۔۔رینو کا۔۔اتنی سی تھی جب پہلے بار اسے پکڑا۔،۔پھر سب کچھ چھوڑ دیا۔۔۔گدھے کی طرح محنت کی۔۔۔پیسہ کمایا۔۔۔اس کی خاطر انگلش بھی سیکھی۔۔پھر ایک لڑکا آیا، بھگا کر لے گیا۔۔۔پیار؟ یہی ہے پیار؟ جیب میں پیسہ نہیں؟ قابلیت ثابت نہیں۔دوستوں نے مدد کی بھگا کر لے گیا۔۔بن گیا ہیرو۔یہی ہے ہیرو پنتی؟ جیب میں پیسہ ختم تو چین بیچ دی۔۔پھر بات نہیں بنی تو طلاق دے دے گا؟ پر میں تو میری بیٹی کو نہیں چھوڑ سکتا۔۔باپ ہوں اس کا۔۔بیس سال پال پوس کر بڑا کیا ہے۔۔باپ کا ہر فرض نبھایا ہے۔۔اس کی شادی کرنا چاہتا تھا۔۔خوش دیکھنا چاہتا تھا۔۔لیکن کہاں ہے میری بیٹی؟ کہاں ہے؟ہار چکا ہوں میں۔۔نام عزت غرور سب کچھ کھو چکا ہوں۔۔مجھے میری بیٹی چاہیے۔۔کہاں ہے میری بیٹی۔۔"
یہ سب کہہ کر وہ شخص جس کے خوف سے پورا گاوں کانپتا تھا بلک بلک کر رونے لگا ۔۔"