Black Hawk Down

تین اکتوبر انیس سو ترانوے کو صومالیہ میں موجود امریکی بیس کیمپ پر امریکی فوج کے ایک جتھے کو صومالیہ کے ایک کرپٹ سیاستدان اور مافیا سربراہ محمد فارح کو اغواء کرنے کا مشن ملا۔۔۔مشن کے لیے مکمل ہوم ورک کیا گیا۔۔بظاہر یہ آسان ترین مشن تھا۔۔مشن پر جانے والے فوجیوں نے پانی کی پوری بوتلیں بھی نہیں بھری تھیں کہ ہم نے کون سا زیادہ دیر باہر رہنا ہے۔۔۔ابھی واپس آ جانا ہے۔۔
یہ لوگ مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ محمد فارح کو اٹھانے جاتے ہیں۔۔۔اور اگلے چوبیس گھنٹے ان کی زندگی کے بھیانک ترین وقت کے روپ میں سامنے آتے ہیں۔۔
آدھے سے زیادہ شہر قریبا پانچ سے چھے ہزار باغی جن میں چھے سے سات سال کے بچے، عورتیں، ستر سال کے بوڑھے نوجوان سب شامل ہیں ہتھیار اٹھائے ان فوجیوں کو گھیر لیتے ہیں۔۔ان ان کو رلا رلا کر مارتے ہیں۔۔
شروع میں یہ چند لوگ ہی مشن پر نکلے تھے لیکن میں ساٹھ کے قریب مزید فوجی بھیجے جاتے ہیں ، جنگی ہیلی کاپٹر بھیجے جاتے ہیں لیکن ہر شے کم پڑ جاتی ہے۔۔
جس وقت امریکی فوج آس چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔۔۔ایک دوسرے کے خون میں لہولہان ہوتے ہیں۔پینے کو پانی ختم ہو جاتا ہے ہر طرٖف گولہ بارود گولیاں چل رہی ہیں۔۔مدد کی کوئی امید نہیں ہوتی اس وقت ان کو بچانے پاکستانی فوج آتی ہے۔۔۔جو کہ قریب ہی اقوام متحدہ کے کیمپ پر نگران ہوتی ہے۔۔
اس جنگ کو موغا دیشو جنگ کا نام دیا گیا اس میں انیس امریکی فوجی مارے گئے تھے۔۔پچھتر کے قریب زخمی ہوئے تھے اور ایک پاکستانی اور ملائشین فوجی شہید ہوا تھا۔۔۔
اس فلم کی سب سے خوبصورت بات اس کے حقیقت کے قریب ترین مناظر ہیں۔۔کہانی تو عام سی ہے جس میں کوئی رد و بدل ممکن نہیں کیوں کہ یہ حقیقی واقعات پر مشتمل ہے۔۔۔لیکن جس طرح ایک عام سی کہانی کو عکس بند کیا ہے یقینا اس فلم کے ہدایت کار رڈلی اسکاٹ داد و تحسین کے حق دار ہیں۔۔مجھے بہت کم انگلش موویز کے گانے پسند ہوتے ہیں لیکن اس مووی کا ایک گانا "ہی از ڈیڈHe Is daed" میں کئی بار سن چکا ہوں۔۔بنیادی طور پر یہ گانا نہیں موسیقی ہے جو روح کو گرماتی ہے۔۔۔
آئی ایم ڈی بی پر اس فلم کی ریٹنگ سات اعشاریہ سات ہے۔۔یہ فلم دو ہزار ایک میں ریلیز ہوئی۔۔۔اور ایک سو تہتر ملین ڈالرز کا کاروبار کیا۔۔