کل چودھویں کی رات تھی آباد تھا کمرہ ترا​
ہوتی رہی دھک دھک دھنا، بجتا رہا طبلہ ترا​

شوہر، شناسا، آشنا، ہمسایہ، عاشق، نامہ بر​
حاضر تھا تیری بزم میں ہر چاہنے والا ترا​

عاشق ہیں جتنے دیدہ ور، تو سب کا منظورِ نظر​
نتھا ترا، فجّا ترا، ایرا ترا، غیرا ترا​

اک شخص آیا بزم میں، جیسے سپاہی رزم میں​
کچھ نے کہا یہ باپ ہے، کچھ نے کہا بیٹا ترا​

میں بھی تھا حاضر بزم میں، جب تو نے دیکھا ہی نہیں​
میں بھی اٹھا کر چل دیا بالکل نیا جوتا ترا​

یہ مال اک ڈاکے میں کل دونوں نے مل کرلوٹا ہے​
انصاف اب کہتا ہے یہ، آدھا مرا، آدھا ترا​

دلاور فگار​