الیکشن سے پہلے سے لے کر اب تک جہاں جہاں وزیر اعظم نے جلسہ کیا وہاں وہاں سوکالڈ ترقیاتی کاموں کا اعلان کیا اور زیادہ تر وہ ترقیاتی کام کون سے ہوتے تھے۔۔
موٹر وے
ایئر پورٹ
میٹرو

چھوٹے میاں صاحب جہاں جاتے ہیں وہاں پل کا اعلان کر آتے ہیں ان کا بس نہیں چلتا کہ پورے ملک میں ہسپتال اسکول گرا کر بھی انڈر پاس یا پل بنا دیں۔۔
عید کے مبارک موقع سے ایک دن پہلے سانحہ بہاولپور نے ہر آنکھ اشک بار کر دی ہے۔۔۔اسے ہم لالچ کہیں۔ غربت کہیں یا جہالت کہیں۔۔کچھ بھی کہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔کچھ بھی کہنے سے یہ حقائق بدلنے والے نہیں کہ اب تک ایک سو ساٹھ لوگ دردناک موت کا شکار ہو چکے ہیں۔۔ٹریفک حادثے میں ہونے والی اموات ہوں یا ڈوب کر مرنے والی اموات یہ سب جل کر مرنے والی اذیت کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔۔۔غربت یا لالچ کے مارے لوگ ایک ایک دو دو لیٹر پٹرول اکٹھا کرنے کے چکروں میں جان سے گئے۔۔
ایسے میں پنجاب حکومت کے ترجمانوں کا بیان ملاحظہ ہو
"ہمارے پاس متعلقہ ہسپتالوں میں سہولیات ناکافی ہیں۔ْ۔۔"
یہ بیان نا صرف حکومت کے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ ہے بلکہ حکومت کی پشت پناہی کرتے ٹی وی چینلز،قلم فروش صحافی اور ان کو ووٹ دینے طبقے کے منہ پر ایک طمانچہ ہے ۔۔کہاں گئیں آپ کی میٹرو، موٹر وے،آپ کے پل آپ کے انڈر پاس۔۔کیا یہ سب ضروری تھے یا نئے ہسپتالوں کا قیام اور پرانے ہسپتالوں میں ضروری سہولیات کا ہونا ضروری تھا؟
کیا اس ملک کا پڑھا لکھا طبقہ پچھلے چار سالوں سے نہیں پیٹ رہا کہ میٹرو بعد میں بنا لینا۔۔سڑکیں بعد میں بنا لینا۔۔پہلے تعلیم صحت اور روزگار پر توجہ دے دیں۔۔
امکان یہی ہے کہ مرنے میں زیادہ تر غیر تعلیم یافتہ تھے چونکہ اگر ان کے پاس تعلیم ہوتی تو انھیں شعور ہوتا کہ یہ بکھرا ہوا تیل کسی کس قدر تیز آتش گیر مائع ہے جو ایک سیکنڈ میں ہزاروں جانیں لے سکتا ہے۔۔ان کے پاس اچھا روزگار ہوتا ، اچھی آمدن ہوتی تو شاید یوں لیٹر یا دو لیٹر کے لیے اپنے گھروں سے برتن اٹھائے بھاگے نہ آتے۔یہ سب نہ ہوتے کم از کم وہاں کے ہسپتال جدید ترین مشیزی سے مزین ہوتے تو اموات کی شرح کم ہو جاتی۔۔
اب یہ صورت حال ہے کہ جلے ہوئے زخمیوں کو بہاولپور سے دو سے چار سو کلو میٹر دور ہسپتالوں میں شفٹ کیا جا رہا ہے اور وہ راستوں میں دم توڑتے جا رہے ہیں۔۔
دیسی انڈیانا جونز (شہباز شریف) نے ایسے میں وہی کیا جو یہ کرتا آیا ہے۔۔مرنے والوں کے لیے بیس لاکھ،۔زخمیوں کے لیے دس لاکھ۔۔
ان کے نزدیک یہ قوم نہیں طوائف ہے۔۔جس کی عزت نہیں کرنی بس پیسہ بہت دینا ہے۔۔
اب کل وزیر اعظم صاحب تشریف لائیں گے۔۔ڈر ہے کہیں اعلان نہ کر دیں۔نامناسب سڑک کی وجہ سے ٹینکر الٹا۔جس کی وجہ سے اموات ہوئیں۔ہم بہاولپور میں نئی سڑکوں کا جال بچھانے کا اعلان کرتے ہیں۔۔