Thanks Thanks:  3
Likes Likes:  34
Results 1 to 6 of 6

Thread: کہاں ہو تم، ذرا آواز دو۔۔۔ ہم یاد کرتے ہیں

  1. #1
    Site Managers

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    52,406
    Blog Entries
    3
    Mentioned
    16 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    کہاں ہو تم، ذرا آواز دو۔۔۔ ہم یاد کرتے ہیں

    السلام علیکم

    کہاں ہو تم، ذرا آواز دو
    ہم یاد کرتے ہیں۔


    ون اردو کی سالگرہ پر پرانے ساتھیوں کو یاد کرنا اور ان کے نام کوئی شعر یا خراج تحسین پیش کرنا تو بنتا ہی ہے۔
    امید کرتے ہیں کہ وہ جہاں بھی ہوں خوش ہوں۔۔ اور اگر رابطہ ہو سکے تو اپنی خیریت سے آگاہ کرتے رہیں۔

    اس کے علاوہ موجودہ ساتھیوں کو بھی کچھ نہ کچھ ڈیڈیکیٹ کیا جا سکتا ہے۔


    ***

    گفتگو کرنے کا کچھ اُس میں ہُنر ایسا تھا
    وہ مری بات کا مفہوم بدل دیتا تھا
    ***

  2. #2
    Site Managers

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    52,406
    Blog Entries
    3
    Mentioned
    16 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    رفعت

    ہمارے ون اردو کی ایک بہت ہی اچھی اور سمجھدار سی بہن۔۔
    بذلہ سنجی اور تحمل مزاجی اور عقلمندی کا بیک وقت شاہکار
    جب بھی ان سے بات ہوتی تھی۔۔ بہت اچھا لگتا تھا۔
    ون اردو پر ممبران کے انٹرویوز میں میری شامت لانے والی رفعت سس ہی تھیں
    یعنی انہوں نے میری رئیل لائف پر روشنی ڈالنے کے لیے سب ممبران کے تیرکمان میری طرف کر دیئے تھے۔
    اور اس کے بعد ون اردو کی کسی سالگرہ کے موقع پر میرا ایک فرضی انٹرویو۔
    واہ ۔۔ کیا بات تھی۔۔ پڑھ کر ہنس ہنس کر پیٹ میں بل پڑ گئے۔۔
    اس فرضی انٹرویو والی پوسٹ آپ کی نذر کروں گا۔۔ لیکن پہلے رفعت سس سے ایک بات
    جہاں بھی ہیں خوش رہیئے، شاد رہیئے، آباد رہیئے۔۔ اور ون اردو کو چکر لگا لیا کیجئے۔
    آپ کی کمی محسوس ہوتی ہے


    ***

    گفتگو کرنے کا کچھ اُس میں ہُنر ایسا تھا
    وہ مری بات کا مفہوم بدل دیتا تھا
    ***

  3. #3
    Site Managers

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    52,406
    Blog Entries
    3
    Mentioned
    16 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    یادوں کے جھروکوں سے۔۔۔
    دوسرا دن عمران بھائی کے ساتھ
    از۔ رفعت سس
    السلام علیکم
    لیں جی ایک دن کے بعد دوسرے دن کا احوال پیش خدمت ہے
    اس بار جی میں آئی کہ کیوں نہ عمران بھائی کے چہرے کا نقاب ہٹایا جایے ۔۔فورم میں تو ایک صلح جو نرم مزاج اور شاعرانہ بندے مشہور ہیں ،اب اصلی چہرہ دیکھنے کا اشتیاق تو سب کو ہی ہو گا تو بس اسی لیے ہم نے سوچا کہ اس بار عمران بھائی کو ڈھونڈتے ہیں
    عمران بھائی کے گھر کا ایڈریس ہم پہلے ہی لے چکے تھے ۔۔لیکن قسمت کی خرابی کہیے کہ وہ ہم سے گواچ گیا۔تو اندازے سے ہی ان کی گلی میں پہنچے لیکن ہمیں کوئی مشقت نہیں اٹھانی پڑی ۔سامنے سے ہی حلوائی ایک ہاتھ میں حلوہ پوریاں، دوسرے میں نہاری اٹھائے ایک گھر میں داخل ہوا ہم نے بنا دیر کیے اس کے پیچھے اسی گھر میں جانے کا فیصلہ کر لیا۔
    بھئی اتنا بھاری ناشتا کون کر سکتا ہے ہمارے عمران بھائی کے علاوہ
    اندر پہنچ کر سکون کا سانس لیا کہ صحیح جگہ ہی پہنچے ہیں
    اندر کا منظر کچھ یوں تھا
    ایک کمرے میں ٹیپ ریکارڈ بج رہا تھا۔اور کوئی فرنگی گانا چل رہا تھا ہمیں تو اس کے ایک بول کی بھی سمجھ نہیں آئی بس یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی سامان اٹھا اٹھا کر پھینک رہا ہو
    ہم نے نوکر سے پوچھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے ؟
    بولا کہ عمران ساب کا کمرہ ہے یہ ، وہ روز آفس جانے سے پہلے تیار ہوتے وقت میوزک سننا پسند کرتے ہیں
    ہم تو بے ہوش ہوتے ہوتے بچے کہ اوئی
    عمران بھائی تو بڑے رونے دھونے والے گانے شئیر کرتے ہیں یہ کیا؟؟
    ان کی تو لکھی ہوئی یا شئیر کی ہوئی غزل پڑھ کر بندہ بلا وجہ دو دو گھنٹے رو سکتا ہے
    دوسروں پر اتنا تشدد کہ ان کو رلائے جاؤ
    خود یہ میوزک سن رہے ہیں
    کیا یہ کھلا تضاد نہیں ؟
    نوکر شاید ہماری بات سے اکتا کر کب کا چلا گیا تھا ۔ہم نے ادھر ادھر دیکھ کر تسلی دی کہ کسی نے ہمیں اکیلے باتیں کرتے دیکھ کر پاگل تو نہیں سمجھا نا
    پھر آگے بڑھے
    لاونج میں پہنچے تو ایک تھرتھلی مچی ہوئی نظر آئی ۔عمران بھائی کی سب بہنیں بھابیاں۔جلدی کرو جلدی کرو کا شور مچا رہی تھیں
    :ایک بہن بولیں
    بھابی جلدی کیجیے ۔کیا آپ کو پتا نہیں کہ ناشتے کی ٹیبل ٹائم پر سیٹ نہ ہوئی تو کیا غضب ہو جایے گا
    بھابی:ارے ہاں ۔عمران بھائی کو کون نہیں جانتا ۔۔وہ تو ذرا سی دیر برداشت نہیں کریں گے اور ہم سب کی کم بختی آجانی ہے
    بہن:ہاں جی اور مجھ میں اب اتنی ہمت نہیں ہے کہ روز روز اپنی شامت بلواوں
    ساتھ ہی نوکر کو جلدی کرنے کا کہا۔
    ہم بھی تھوڑا ڈر ہی گئے کہ ہائیں بےچاری کیسے عمران بھائی کے غصے سے ڈر رہی ہیں
    فورم میں کیسے پراٰئے پھڈوں میں ٹانگ اڑا اڑا کر امن کی آشا کا پیغام دیتے ہیں
    سب کو غصہ نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور خود دیکھو گھر والے کیسے سہمے بیٹھے ہیں
    دل میں سوچ لیا کہ بس اب بہت ہوا دوغلا پن ۔اب ہم بھی امریکہ سے ڈالرز لیں گے عمران بھائی کی سچائی سامنے لانے کے بدلے میں
    یہ سوچ کر دل ہی دل میں حساب بھی لگانا شروع کر دیا کتنے ڈالر مانگیں ؟
    خیر جب کسی نے ہمیں لفٹ نہ کرائی تو ہم خود ہی ڈھیٹ بن کر بولے
    جی ہم ون اردو سے آئے ہیں عمران بھائی سے ملنے
    تو جواب آیا ۔۔
    کہیں سے بھی آٰے ہیں ہمیں کیا ، ابھی ہمیں صرف وقت پر ناشتا کرانا ہے یہ برتن اٹھا کر صاف کیجیے ورنہ آپ کی بھی شامت آسکتی ہے
    بس جی ہم تو برتن صاف کرنے پر لگ گئے
    اتنا سب کرنے کے بعد بھی اچانک سیڑھیوں سے عمران بھائی اترتے دکھے سب کو جیسے سانپ سونگھ گیا
    کرسی پر بیٹھ کر جو ٹیبل کو دیکھا تو بولے
    ابھی تک سارا ناشتا کیوں نہیں رکھا گیا۔گھر والے پریشان کہ سب تو رکھ دیا۔لیکن وہ بھی تو عمران بھائی تھے نا ۔
    مزے سے بولے
    میرے ناشتے میں اخبار بھی شامل ہوتا ہے وہ کہاں ہے
    بس اب سب بیٹھ جائیں خاموشی سے
    سب منہ بناتے بیٹھ گئے، ہم سمجھ گئے کہ اب ڈانٹ پڑے گی سب کو ۔لیکن یہ کیا۔
    عمران بھائی تو گلا صاف کر کے شروع ہو گئے
    کوئی کچھ بھی کہے لیکن
    مرے نزدیک تو بس اس کا مطلب مختصر سا ھے
    کہ اک بپھرا ھوا ساگر ھے"فرقت" جس کو کہتے ھیں
    اسی ساگر میں اک چھوٹی سی نازک سی،
    ابھرتی، ڈوبتی، موجوں سے لڑتی ھوئی ناؤ ھوتی ھے
    اسی کو "وصل" کہتے ھیں
    *
    چلو، دل بوئیں
    چلو ساری زمیں کھودیں
    اور اس میں اپنے دل بَو دیں
    کریںسیراب اس کو آرزوؤں کے پسینے سے
    کہ اس بے رنگ جینے سے
    نہ میں خوش ہوں،
    نہ تم خوش ہو،
    نہ ہم خوش ہیں
    *
    ہم ہکا بکا سے سب کا منہ دیکھ رہے تھے کہ یہ کیا ہو گیا
    سب بےچارے رونی شکل بنائے یہ شاعری سن رہے تھے ۔ہم نے آہستہ سے پوچھا۔
    سسٹر یہ سب کیا ہے ؟
    بولیں :یہی تو قیامت تھی جس سے سب بچنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن شاید ہماری قسمت ہی خراب ہے
    ہم تو روز سب چیزیں پوری رکھتے ہیں لیکن بھائی جانے کیسے کوئی نہ کوئی نقص ڈھونڈ کر ہم پر یہ شاعرانہ ڈرون حملے شروع کر دیتے ہیں
    ہم نے کہا:لیں یہ کون سا بڑی بات ہے آپ کانوں میں روئی ڈال لیں نا
    بولیں ۔یہ تو بالکل ممکن نہیں ہے ۔کیونکہ یہ ہماری سزا ہے کہ نا صرف شاعری سنی جائے بلکہ باقاعدہ مکرر۔مکرر اور واہ واہ کر کے داد بھی دی جائے، نہیں تو سزا کا وقت بڑھا دیا جاتا ہے
    اوہ ۔
    یہ سن کر ہم تو بس افسوس ہی کر سکے
    عمران بھائی کو متوجہ کیا
    السلام علیکم عمران بھائی ۔ہمیں پہچانا۔ہم ون ارود سے آئے ہیں
    بولے ابھی ہم کسی کو پہچاننے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور جو کوئی ہمیں بیچ میں ٹوکتا ہے اسکو چار گھنٹے ہم شعر وشاعری کی محفل سجا کر بٹھائے رکھتے ہیں
    اور پھر شروع ہو گئے
    تمہارا ساتھ اتنا تھا یہ ہم نے جان لیا ہے اب
    ہمیں دوگام چلنا تھا، یہ ہم نے جان لیا ہے اب
    ملے سب کو ریاضت کا ثمر، لازم نہیں یہ بھی
    گلاب آخر بکھرنا تھا، یہ ہم نے جان لیا ہے اب
    محبت مصلحت کی دُھند میں لپٹی رہی لیکن
    یہ جذبہ تو مچلنا تھا، یہ ہم نے جان لیا ہے اب
    تنی تھی دُھوپ کی چادر برابر سب سروں پہ ہی
    ہمیں کب سایہ ملنا تھا، یہ ہم نے جان لیا ہے اب
    بہت سے راستے تھے جو ہمیں تم تک تو لے جاتے
    انا کو کب کچلنا تھا ، یہ ہم نے جان لیا ہے اب
    سبھی وعدے نبھانے کے تو تم نے پانی پر لکھے
    تہی دامن ہی ہونا تھا، یہ ہم نے جان لیا ہے اب
    *

    اس سے زیادہ کی نہ ہم میں ہمت تھی نہ برداشت
    چپکے سے کھسکنے والے تھے کہ عمران بھائی کے آفس سے فون آگیا
    بڑے منہ بناتے ہوءے فون ریسیو کیا اور گھر والوں کو ارشاد ہوا
    ہم ابھی جا رہے ہیں باقی دوپہر کے کھانے پر
    دوپہر کا مینیو پوچھا تو بتایا۔
    قیمہ آلو کے کوفتے،نان کے ساتھ،ماش کی کھڑی دال ساتھ ہری مرچیں ۔سلاد،تندور کی روٹیاں ،بریانی ۔رایتے کے ساتھاور میٹھے میں گاجر کا حلوہ ۔اور کھیر
    ساتھ ہی پوچھا۔زیادہ مشکل تو نہیں ہے نا
    گھر والے بےچارگی سے بولے نہیں نہیں سب ہو جائے گا
    بےچارے۔ ان کو بھی پتا تھا کہ اتنا لمبا مینیوصرف
    دروازے سے باہر نکلے تو ان کا ہمساے سے ایک آدمی باہر نکلا ۔۔عمران بھائی کو دیکھا تو غصے سے آستینیں چڑھاتا ان کی طرف بڑھا
    عمران بھائی تو جھٹ گاڑی میں بیٹھ گئے
    ہم نے اس آدمی سے پوچھا بھائی کیا مسئلہ ہے ۔ہمارے اتنے نرم مزاج بھائی کو کیوں گھور رہے ہو
    بولے ۔آُپ ہمارے سامنے سے ہٹ جائیں، آج یا تو یہ نہیں یا میں نہیں
    اگر ان کو کچھ نہ کہہ سکا تو ان کی گاڑی کے نیچے آکر خود کشی کر لوں گا
    ہم نے عمران بھائی کی طرف دیکھا۔
    نہایت معصوم چہرہ ۔جھکی ہوئی آنکھیں ۔ایک دھیمی سی مسکراہٹ
    دل میں سوچا نہ تو یہ ذوالفقار مرزا سے ملتے ہیں ۔نہ ہی رحمان ملک سے اور نہ ہی زرداری سے ۔۔تو یہ بندہ اتنا دشمن کیوں ہو رہا ہے
    اس سے پوچھا کہ بات کیا ہے
    بولا:اس آدمی کی وجہ سے میرے دو بھائی پاگل خانے میں ہیں۔ان کو شاعری سنا سنا کر اس بندے نے پاگل کر دیا ہے ۔اور میرے دونوں بچے اس کے دیوانے ہیں ۔اس سے پہلے کہ وہ بھی پاگل ہو جائیں ،میں مر جانا چاہتا ہوں
    افففف اتنی خوفناک بات
    ہمارے تو رونگھٹے ہی کھڑے ہو گئے اور اس وقت کو کوسا جب ہم نے عمران بھائی کے ساتھ کچھ وقت گزارنے اور ان کے حالات آپ کو سنانے کا سوچا۔
    ہم نے ان بھائی ساحب کو ٹھنڈا کیا کہ بھئی ہمیں جانے دو پھر جو مرضی کرتے رہنا
    عمران بھائی ہمیں گاڑی میں بیٹھنے کی آفر دیتے رہے کہ چلیں آفس چلتے ہیں
    ہم نے اپنا مستقبل خطرناک دیکھ کر اجازت چاہی اور ان کی اجازت کا انتظار کیے بنا سر پر پیر رکھ کر دوڑ لگا دی
    کہ کہیں کوئی عمران بھائی کا ستایا ہوا بندہ ہم کو ٹارگٹ پر رکھ کر ٹارگٹ کلنگ ہی نہ شروع کر دے

    ***

    گفتگو کرنے کا کچھ اُس میں ہُنر ایسا تھا
    وہ مری بات کا مفہوم بدل دیتا تھا
    ***

  4. #4
    Site Managers

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    52,406
    Blog Entries
    3
    Mentioned
    16 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    نور العین ساحرہ

    ساحرہ کی کمی اس فورم پر ہمیشہ محسوس ہوتی رہے گی۔

    بہت ہی پیاری بہن جو بیک وقت غصہ بھی کرتی تھی اور احترام بھی۔۔
    رعب بھی جماتی تھی اور مان بھی کرتی تھی
    نت نئی ڈشیں بنانا مگر خود ڈائٹ پر رہنا۔۔
    ون اردو سے افسانہ نگاری کا آغاز کرنے والی ساحرہ اب ایک مکمل رائٹر بن چکی ہے۔
    پتا نہیں ون اردو سے دور کیوں ہے؟۔۔
    اگر پڑھے تو وجہ ضرور بتائے۔۔
    ساحرہ۔۔ اچھی سس ! ہم سب تمہیں تہہ دل سے یاد کرتے ہیں۔
    خوش رہو بہنا جی

    ***

    گفتگو کرنے کا کچھ اُس میں ہُنر ایسا تھا
    وہ مری بات کا مفہوم بدل دیتا تھا
    ***

  5. #5
    Site Managers

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    52,406
    Blog Entries
    3
    Mentioned
    16 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    ہما جاوید

    فورم پر سب سے پہلے جن کو آپی کہا اور ہمیشہ سمجھا۔۔ وہ ہیں ہما جاوید آپی
    باکمال شخصیت۔۔ 1001 ناولز پراجیکٹ پر ان کے ساتھ کام کیا تو بہت مزہ آیا۔۔
    سب سے کام کیسےلینا ہے۔۔ وہ اچھی طرح جانتی تھیں۔
    ہمہ گیر پرسنیلیٹی۔۔ بارعب اور ساتھ ساتھ ہمدرد بھی۔۔ بہت ہی پیاری آپی
    آج کل ان کی کوئی اطلاع نہیں۔۔ اگر کوئی ان سے رابطے میں ہو تو ہمارا سلام دیجئے اور کہیئے گا کہ
    انہیں ہم صدقِ دل سے یاد کرتے ہیں

    ***

    گفتگو کرنے کا کچھ اُس میں ہُنر ایسا تھا
    وہ مری بات کا مفہوم بدل دیتا تھا
    ***

  6. #6
    Site Managers

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    52,406
    Blog Entries
    3
    Mentioned
    16 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    ہاشمی

    بہت پیارے شخص۔۔ ان کی لائیولی گفتگو ہمیشہ مجھے پسند رہی۔۔
    کبھی کبھار ان سے سیاست کے موضوع پر اختلاف بھی ہوتا تھا۔۔ لیکن تہذیب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑتے تھے۔
    ابھی پتا نہیں کیوں غائب شائب ہیں۔۔ شاید ہماری بھابھی" بھاگاں جی "نے ان کے سارے کس بل نکال دیئے ہیں۔

    پاء جی۔۔ جتھے وی او۔۔ اپنی خیر خبر دی اطلاع کرو۔
    تاکہ ہمیں بھی قرار آئے۔
    رئیلی مس یو

    ***

    گفتگو کرنے کا کچھ اُس میں ہُنر ایسا تھا
    وہ مری بات کا مفہوم بدل دیتا تھا
    ***

Tags for this Thread

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •