Thanks Thanks:  12
Likes Likes:  25
Results 1 to 10 of 10

Thread: ون اردو فورم کی یادیں

  1. #1
    Section Managers Kainat's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    Germany
    Posts
    14,437
    Blog Entries
    18
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    ون اردو فورم کی یادیں

    ون اردو کی دسویں سالگرہ پر تمام اہلیان ون اردو کو بہت بہت مبارک،
    میں اس موقع پر سیزن ون اردو بلاگ سے یہ تحریر نکال لائی ہوں۔( پرانے بلاگر توجہ فرمائیں)
    دس سال کوئی معمولی عرصہ نہیں۔ خوشگوار یادیں تو سب کے ساتھ ہوں گی تو آپ بھی اس تھریڈ میں کچھ شیئر کیجئے۔ میں بھی نئی پرانی یادیں آپ کے لیے لائی ہوں۔
    ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صورت آشنا
    والسلام والسلام،
    گھبرانے کی بات نہیں ۔۔۔۔
    میں اور میرے ساتھی،
    ”ہم ایک بڑے ہی خاص ادارے کی طرف سے یہاں آئے ہیں۔ ایسا ادارہ جس کا نام سن کر ہی تم لوگ اپنی خیر مناؤ۔ ہم خفیہ پولیس کے محکمے کی طرف سے اس سائیٹ کو دیکھنے جانچنے اور پھٹکنے کے اختیارات لے کر آئے ہیں۔ آنکھیں کھول کھول کر ہمارے چٹی وردیاں اور کارڈ دیکھ لو۔ اب ہم اس سائیٹ کو چھلنی میں سے پانی کی طرح نکال کر جائیں گے۔ ہے کسی کی روکنے کی ہمت تو ابھی سے آ کر لائن میں لگ جائے۔
    ارے تم بڑا غورغور سے ہماری باتیں سن رہے ہو۔ کیا انھیں ہندی، فارسی میں ڈب کرنے کا پروگرام ہے ؟ اور اپنی موٹی موٹی آنکھوں سے گھور بھی رہے ہو۔ ادھر آؤ اور کیا نام ہے تمھارا ؟ پہلے تم سے نہ نپٹ لیں۔

    ”جی میرا نام ارشد منیر کاظمی ہے۔“
    ” لے تین ناں بتانے کی کیا ضرورت ہے۔ شارٹ وے میں بتا دو۔ یا یہ بتا دو گھر میں پیار سے کیا کہتے ہیں؟“
    ”جی وہ گھر والی تو پیار سے۔۔۔۔ کاظمی شرما کر مراقبے میں جاتے ہوئے،
    ”اچھا چل رہن دے۔ پردے کی بات پردے ماں۔۔۔۔“
    گھورنے کے علاوہ کوئی کام بھی کرتے ہو؟“
    ”جی جناب۔۔۔ وہ میں سیلف امپرومنٹ، فیملی انٹیگریشن، بزنس مینجمنٹ، پراجیکٹ پلاننگ، ایک عدد خاتون خانہ کا شوہر اور چار معصوم بچوں کا ابا ہوں جی۔“
    ”لے۔۔۔۔ اک جی ہو کے اینے کم ؟ توں بندہ ایں کہ مشین؟
    آگے بڑھتے ہوئے۔۔۔
    ”اچھا جی،
    ہمیں یہ شکایت ملی ہے کہ یہ سائیٹ چوروں کی طرح چھپ کر بیٹھی ہے۔ باہر بورڈ لگا ہے خوبصورت لوگوں کی خوبصورت سرزمین۔۔۔ کا لیکن یہ تو کسی کو اندرای نہیں آنے دیتی۔ البتہ کبھی کبھی یہاں سے کسی کو دولتی مار کرباہر نکال ضرور دیتی ہے تو ہمیں شک ہوا کہ یہاں کوئی کالا دھندا تو نہیں ہوتا ؟“
    خوبصورت سرزمین دکھانے کے لالچ میں ممبران سے بیگار تو نہیں لی جاتی۔
    ؟
    انھیں شداد کی جنت دکھانے کا خواب دکھلا کر دوزخ تو نہیں دکھائی جاتی۔؟
    انھیں نوکری کا خواب دکھا کر یہاں قید تو نہیں کیا جاتا؟
    اور تنخواہ کے بدلے پوائینٹس تو نہیں دیئے جاتے ؟
    اور بزرگوں کی پنشن چھین کر انھیں کام پر تو نہیں لگایا جاتا۔؟
    اور یہ بھی پتہ کرنا ہے کہ یہ سائیٹ میل ڈومینیٹ ہے کہ فی میل ڈومینیٹ؟
    ہاں تو،
    سارے کھڑے میرے منہ کی طرف ایسے دیکھ رئے ہو جیسے کبھی بولنے والا بندہ نئیں دیکھا۔“ چلو سارے نظریں نیچی کرو،
    تھوڑا سا اور آگے آتے ہوئے،
    ”ادھر آ ذرا بی بی خیر تاں ہے توں کھڑی ہے ڈوئی لے کے؟“
    مسز تنویر جرات سے آگے بڑھ کر،
    ”نہیں سر جی کوئی ایسی بات نہیں، وہ میں نا کھانا پکوا رہی تھی۔ اور جو لڑکیاں دھیان سے کام نہیں کرتیں۔ ان کی اس ڈوئی سے خبر لیتی ہوں۔“
    ”بہت اچھا کرتی ہو بی بی۔ پھر تاں ڈوئی گھر ماں بھی کام آتی ہو گی۔ “
    ساحرہ جلدی سے آگے بڑھ کر ۔۔۔
    ”سر جی آج میں نے افغانی کباب بنائے ہیں۔ تندورمیں نان لگائے ہیں۔ اچار چکن، کڑاہی گوشت، موتیوں والے کوفتوں کی بریانی بنائی ہے۔ تین طرح کی سلاد، اور دو سویٹ ڈش اورایک چاکلیٹ کیک بنایا ہے پر وہ زیادہ بیک ہو گیا اس لیے کچھ کالا کیک لگتا ہے۔ فکر کی بات نہیں، کھانے والے یہی سمجھیں گے کہ اسے اوون نے تڑکا لگا دیا ہے۔ اب ٹیبل پر انگلی رکھنے کو بھی رتی بھر جگہ نہیں بچی کہ میں وہاں ٹوتھ پکس اور ہاجمولا کی شیشی رکھ دیتی۔
    آپ آئیں نا سر، ذرا ٹیسٹ کر کے بتائیں کھانا کیسا بنا ہے۔؟“
    او بیبی ہم ٹیسٹ نہیں کریں گے، ہم تو رج کے کھائیں گے۔ پہلے تھوڑا کم شم بھی کر لینے دو۔ تا کہ بھوک تھوڑی اور چمک لے۔“
    ”اور وہ کدھر ہےَ؟
    کہاں چھپ کے بیٹھا ہے ابھی تک اس کو ہماری خبر ہی نہیں ملی؟ کس کی جوتیاں سیدھی کر رہا ہے ؟“
    سجاد سرور جلدی سے آگے بڑھ کر،
    ”وہ جی، سر جی، آپ کس کو پوچھ رہے ہو۔ یہاں تو جوتیاں سیدھی کرنے، سر دبانے، ٹانگیں دبانے والے بوت ہیں جی،“
    “اچھا تمھارا کیا نام ہے ؟ لگتا ہے تم بھی ان کاموں میں ٹرینڈ ہو جو اتنے سارے لوکاں مارے بھی پتہ ہے۔ “
    ”وہ جی میرا نام سجاد سرور ہے۔ مجھے سیاحت کا بڑا شوق ہے۔ میں جہاز رانی بھی کرتا ہوں۔ “
    ”لے تیرا ناں پوچھا ہے شوق نئیں ؟
    داڑھی تو واوا خوبصورت رکھی ہے نماز بھی پڑھتے ہو ؟“
    سجاد سرور فخر سے،
    ”جی سر، اگر میں بھول جاؤں تو گھر والی یاد کرا دیتی ہے مسیتے جانا،“
    ”اچھا۔۔۔ پھیر تاں تیار رے ۔۔۔ سارا ثواب تاں اس کرماں والی نے لے جانا۔ توں پھیر خالی دا خالی ۔۔۔۔۔
    ایس لئی ہن توں ہی صلوت التسبیح پڑھنی شروع کر دے۔“
    “ہاں تو ۔۔۔
    میں کہہ رہا تھا سب سے اور کہہ تو میں کب سے ہی رہا ہوں۔ کہ کس کونے ماں چھپ کے بیٹھا ہے تم لوکاں کا ٹھیکے دار؟ جو اسے ہمارے آنے کا پتہ نئیں چلا، یا وہ بھی کسی کا سر، پیر دبا رہا ہے۔“
    اتنے میں حرف دعا ڈیزائننگ روم سے نکلتی ہے۔ اور باہر بھیڑ دیکھ کر ادھر کا رخ کر لیتی ہے۔ ہاتھ میں پینٹنگ برش ہے جس پر گلابی گلابی پینٹ لگا ہے۔ اسے آگے بڑھتا دیکھ کر،
    ”آآآآ رک جا بی بی، اپنی تھاں پر ہی رک جا، ہلنے کی ضرورت نئیں۔ ہماری چٹی وردی کو کینوس سمجھ کر پینٹ کا منصوبہ بنا لیا جھٹ پٹ، اگر ہم یہاں سے ہولی کھیل کر گئے تو گھار والے کیسے پہچانیں گے۔ یہ نہ ہو کہ گھر میں نہ گھسنے دیں۔ اور بچے ابا کہنے سے انکاری ہو جائیں۔“
    حرف دعا، ” لیکن سر آپ ہیں کون؟“
    ”لے اپنے منہ سے کیا تعارف دیں۔ ویسے بھی ہم تو تعارف دینے نہیں لینے آئے ہیں۔ اس کا جس نے یہ لنکا بنائی ہے۔ اور اتنا کچھ بنا کے چھپ کے بیٹھا ہے۔ “
    اسی دوران عمران نیئرسفید براق لباس میں شاعری روم سے نکلتے ہیں ہاتھ میں شاعری کی کتاب ہے۔ آنکھیں تھوڑی سی نیم وا ہیں۔ اس لیے انھیں صورتحال کا پتہ نہیں چلتا اور وہ گنگناتے آ رہے ہیں۔

    تیرے بنا زندگی سے کوئی شکوہ تو نہیں
    تیرے بنا زندگی بھی لیکن زندگی تو نہیں
    ”رک جا ۔۔۔ رک جا ۔۔۔
    ۔۔۔ میں کیا، بریکاں لا،
    اگر تجھے زندگی سے اتنے شکوے ہیں تو زندگی کو پتہ نہیں تجھ سے کتنے شکوے ہوں گے۔“
    عمران نیئر گنگنانا بھول کر الرٹ ہو کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور پوچھتے ہیں،
    ”لیکن آپ کون ہیں جی؟
    ”لے یہ بھی ہم ای بتائیں ۔۔۔۔؟“
    اتنے میں کائنات کے بلاگ سے محمد رفیع کا گیت ہوا کے دوش پہ نکلتا ہے،

    میں کون ہوں میں کہاں ہوں مجھے یہ ہوش نہی
    کدھر میں آج رواں ہوں مجھے یہ ہوش نہیں
    ”لے مل گیا نا تعارف، چل اگے بڑھ اور بتا میرے کو اس کارخانے کے مالک کا ؟“
    ”سر جی آپ کس سے ملنا چاہتے ہیں؟ پرانے سر سے یا نئے سر سے؟“
    لے اس کا جوڑی دار بھی ہے۔ اس طرح کر دونوں کی لائن لگوا دے۔“
    عمران نیئر،
    ”نہیں جناب آپ سے تو دونوں میں سے کوئی بھی نہیں مل سکتا۔“
    ”کیوں ؟“
    جناب، وہ بڑے سر جو ہیں وہ شاعر بن گئے ہیں نا اب ان کی کتاب تتلیاں جو آ گئی ہے مارکیٹ میں، اس لیے اب وہ مفت میں تعارف نہیں دیتے۔“
    ”اچھا یہ کیوں نہیں کہتے اب اسکا دماغ شماغ ہو گیا ہے اور اگے بڑھ دوسرا ؟“
    ”سر جی وہ تو ابھی نئے ہیں نا۔۔ انھوں نے تو ابھی تک ہمیں بھی اپنا تعارف نہیں دیا۔“
    ”اچھااااااا، بلے بھئ بلے،
    اس نے کس خوشی ماں موہن بھرت رکھا ہے ؟“
    ”سر جی وہ جب بولیں گے پھر ہی پتہ چلے گا نا، کہ کسی خوشی میں رکھا ہے یا ناخوشی میں،“
    ”اچھا ان سے کہنا ہم اگلے سال پھر آئیں گے۔ تب تک اس کا بھی بھرت پورا ہو جائے گا اور شاعر کا دماغ بھی اپنے ٹھکانے پر آ جائے گا۔
    چلتے ہیں پھر۔۔۔ اگلے سال کے دن ابھی سے گننے شروع کر دو۔
    اور اب جلدی سے ہمیں کچن کا رستہ دکھا۔

    *****اختتام*****
    میں جن راستوں سے گزر جاتا ہوں ایک بار
    مڑ مڑ کے وہ نظارے بلاتے ہیں بار بار

  2. #2
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2016
    Posts
    297
    Blog Entries
    1
    Mentioned
    4 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    بہت خوب کائنات جی ۔۔۔اللہ خوش رکھے

  3. #3
    Site Managers

    Join Date
    Jun 2007
    Location
    پاکستان
    Posts
    54,986
    Mentioned
    42 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    واہ واہ۔
    بہت خوب اور شگفتہ تحریر ہے جی۔
    (اے اللہ! میرے علم میں اضافہ فرما)۔
    میرا بلاگ: بے کار باتیں

  4. #4
    Section Managers Kainat's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    Germany
    Posts
    14,437
    Blog Entries
    18
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    سیزن ون اردوبلاگ سخن آفرین کی کچھ اورمہکتی یادیں۔۔ ٭
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ واقعہ ایک ایسی فلم سے متعلق ہے۔ جب زمانے کو ہوا نہیں لگی تھی۔ اور زندگی کا ہر شعبہ اپنے میدان کارہائے میں بہت پیچھے تھا۔ اور آج کے ترقی یافتہ دور میں ایسے واقعات پڑھنے والے کو ایک مسکراہٹ دے دیتے ہیں۔
    ہیں کواکب کچھ
    فلم مرزا صاحباں میں ایک آؤٹ ڈور گانا شوٹ ہونا تھا۔کہ ہیروئین کپڑے دھو رہی ہے اور ساتھ ساتھ گیت گا رہی ہے۔یہ گیت اور سین ایک جھیل کے کنارے فلمایا جانے والا تھا۔ اور پوائی لیک پر شوٹ ہونا تھا۔اس وقت پلے بیک کا زمانہ نہیں تھا کہ ریکارڈنگ سٹوڈیو کے اندر گیت پہلے ریکارڈ کر لیا جاتا۔اس لیے یہ گیت شوٹنگ میں ہی گایا اور فلمایا جانے والا تھا۔ سو پوائی لیک پر میوزیشن بلائے گئے۔ کلارنٹ بجانے والے کو درخت کی ایک ٹہنی پر بٹھایا گیا۔آرگن بجانے والا بھی پیڑ پر چڑھ گیا۔ اور اسی طرح باقی میوزیشن پارٹی بھی ادھر ادھر چھپ کر بیٹھ گئی۔ ریہرسل ہوئی اور کیمرہ سیٹ کر دیا گیا۔ کہ کپڑے دھوتی ہیروئن نے شکایت کی کہ اسے گانے کی ۔۔لے۔۔ نہیں مل رہی۔ اس لیے طبلہ اس کے قریب لایا جائے۔ اس وقت طبلہ ایک غوثا پہلوان بجا رہے تھے۔ اب مشکل یہ تھی کہ طبلے والا اگر قریب لایا جائے تو وہ کیمرے کی زد میں آئے گا۔ سوچ بچار کے بعد اس کا یہ حل نکالا گیا کہ ایک بڑے پیڑ کو کاٹا گیا اور ایک بڑا ٹہنا غوثا پہلوان کی کمر سے باندھاگیا۔ اور انھیں ہیروئین کے قریب کر کے شاخوں سے ڈھانپ دیا گیا۔ اور گانا شوٹ ہونا شروع ہوا۔ اب ہو یہ رہا تھا کہ غوثا پہلوان طبلہ بجانے کی وجہ سے ہل رہے تھے اور فلم میں اس گانے کی شوٹنگ میں یہ محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے پیڑ ہوا سے ہل رہا ہے۔
    ٭٭٭٭
    مندر
    ایک انڈین فلم قانون ریلیز ہوئی تو ایک غلط فہمی کی وجہ سے بڑا زبردست ہنگامہ بھی ہوا۔دراصل فلم کا ایک سین کچھ اس قسم کا تھا کہ گھر میں ایک مندر بنا ہوا ہے۔ جہاں پتنی بھجن گا رہی ہے۔ کہ اس کا پتی آتا ہے اور کہتا ہے، بند کرو یہ بکواس اور مندر کو ٹھوکر مارتا ہے۔
    فلم بنانے والوں کا خیال تھا کہ فلم ریلیز ہونے کے بعداس بات پر فلم بینوں کو اعتراض ہو سکتا ہے کہ مندر کو ٹھوکر کیوں ماری گئی۔ حالانکہ اس مندر میں کسی مورتی کی بجائے پتی کی تصویر رکھی ہوتی ہے۔ چنانچہ بیٹھ کر اس صورتحال سے نپٹنے کے لیے سوچا گیا اور ایک فیصلہ لیا گیا کہ فلم کے اول شو میں کمپنی کے تمام ملازمین سینما ہال جائیں اور جب مندر کوٹھوکر مارنے کے بعد شوہر کی تصویر نظر آئےتو تب تالیاں بجائی جائیں تا کہ لوگ سین کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ پروگرام کے مطابق تمام ملازمین فلم کا شو شروع ہوتے ہی سینما چلے گئے۔ ان ملازمین میں ایک پارسی بابا بھی تھے جو پیانو بجاتے تھے۔ بس ان سے ذرا سی چوک ہو گئی۔ جیسے ہی پتی نےمندر کو ٹھوکر لگائی، اس نے جلدی سے تالیاں بجا دیں۔ اس پر فلم بینوں نے اٹھ کر ان کی پٹائی کر دی۔ جوں ان کا ترتیب دیا سارا پروگرام چوپٹ ہو گیا اور وہاں ایک اچھا خاصا ہنگامہ برپا ہو گیا ۔

    ٭٭٭٭

    فلم شاہجہاں
    ایک پرانی فلم شاہجہاں کی شوٹنگ ہو رہی تھی۔چونکہ تاریخی فلم تھی اس لیے بہت بڑی تعداد میں ایکسٹرا اداکار اور اداکارائیں اس میں حصہ لیتے تھے۔ اکثر ایسا ہوتا کہ شوٹنگ کے بعد یہ اداکار اپنے گٹ اپ اور فلمی ملبوسات کے ساتھ سٹوڈیو سے رخصت ہو جاتے اور اگلے دن شوٹنگ کے وقت دوبارہ ان کا گٹ اپ کرنا پڑتا اور ملبوسات کا بندوبست بھی کرنا پڑتا۔ فلم بنانے والے ڈائریکٹر کاردار اور یونٹ والےاس بات سے بہت پریشان تھے۔ انھوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ سٹوڈیو کے گیٹ پر ایک چوکیدار کی ڈیوٹی لگا دی کہ شوٹنگ کے بعد روزانہ وہ ہر شخص سے گیٹ پر اس کا گٹ اپ اور ملبوسات اتروائے اور پھر اسے جانے دے۔
    حکیم حیدر بیگ، فلم بنانے والے ڈائریکٹر کاردار صاحب کے قریبی دوست اور فلم مدر انڈیا کے ڈائریکٹر محبوب خان کے سمدھی تھے۔ وہ ایک دن کاردار صاحب سے ملنے سٹوڈیو آئے۔ ملاقات کے بعد جب وہ گیٹ پر پہنچے تو اچانک زبردست ہنگامہ ہو گیا۔ حکیم صاحب زور زور سے چلا رہے تھے۔ ان کا شور سن کر سب لوگ سٹودیو کے گیٹ پر پہنچ گئے۔ وہاں جا کر دیکھا کہ چوکیدار حکیم صاحب سے اصرار کر رہا ہے کہ وہ داڑھی اتار کر جائیں اور حکیم صاحب آگ بگولا ہو کر چوکیدار سے کہہ رہے تھے۔
    " بدتمیز، خبیث، تیری یہ مجال کہ تو میرے چہرے کی داڑھی کو اتروائے۔ بے وقوف یہ میری اصل داڑھی ہے۔"
    اور چوکیدار یہ بات ماننے کو تیار نہ تھا۔ اور اپنی بات پر بضد تھا کہ جناب داڑھی اتار کر جائیں۔ اس لیے معاملہ بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ تب فلم بنانے والے مسکراتے ہوئے آگے بڑھے اور معاملے کو نپٹایا۔۔
    ٭٭٭٭
    میں جن راستوں سے گزر جاتا ہوں ایک بار
    مڑ مڑ کے وہ نظارے بلاتے ہیں بار بار

  5. #5
    Site Managers

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    52,406
    Blog Entries
    3
    Mentioned
    16 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    وقت نے کِیا ،کیا حسیں ستم
    تم رہے نہ تم، ہم رہے نہ ہم

    بےقرار دل اس طرح ملے۔ جس طرح کبھی ہم جدا نہ تھے
    تم بھی کھو گئے، ہم بھی کھو گئے
    ایک راہ پر چل کے دو قدم
    *
    جائیں گے کہاں، سوجھتا نہیں،چل پڑے مگر راستہ نہیں
    کیا تلاش ہے، کچھ پتا نہیں
    بُن رہے ہیں دل، خواب دَم بدَم
    *
    وقت نے کِیا کیا حسیں ستم
    تم رہے نہ تم، ہم رہے نہ ہم

    خوبصورت یادوں کے لیے شکریہ سس

    ***

    گفتگو کرنے کا کچھ اُس میں ہُنر ایسا تھا
    وہ مری بات کا مفہوم بدل دیتا تھا
    ***

  6. #6
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    2,077
    Mentioned
    3 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    نائیس تھریڈ سس،

  7. #7
    Section Managers Kainat's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    Germany
    Posts
    14,437
    Blog Entries
    18
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    قبلہ حکیم صاحب

    نئی تحریر
    ایک تحریر ۔۔حکیم صاحب کے مطب خانے میں ۔۔ تھی۔ اس کا دوسرا حصہ۔۔ قبلہ حکیم صاحب









  8. #8
    Section Managers Kainat's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    Germany
    Posts
    14,437
    Blog Entries
    18
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    کر پنجاب دی سیر


    کَر پنجاب دی سیر

    ایک مسافر۔۔
    میں اسٹیشن پہنچا تو گاڑی پلیٹ فارم پر لگ چکی تھی ۔۔ لوگوں کی افراتفری، قلیوں کی بھاگ دوڑ، سامان کی بہتات، بچوں کا ہنگامہ، منظر جم چکا تھا۔۔
    لوگ اچھا کھانے پینے کے شوقین ہوتے ہیں یا کتابیں پڑھنے کے شائقین۔۔ لیکن میں نے اِک نیا شوق پال رکھا ہے۔۔قریہ قریہ گھومنا۔۔ بستی بستی پھرنا۔نئے نئے مقامات کھوجنا اور وہاں پہنچ جانا۔۔بھئی اللہ کی بنائی اس کائنات میں گھومنا بھی تو ضر
    وری ہے۔ کیا پتہ، آخرت میں اللہ میاں کوئی سوال اس کے متعلق بھی کر لیں کہ،
    "اے عباد۔۔ میری بنائی اس شاندار کائنات کی کھوج کیوں نہیں کی اور کولہو کے بیل کی طرح اپنے روزوشب میں ہی کیوں مصروف رہے ؟"
    اورپھر میرے پاس سوائے بغلیں جھانکنے کے کوئی آپشن ہی نہ رہے۔
    بلکہ اک نیا سبق پڑھنے کو ملے۔۔
    "اے اللہ کے بندے، یہ بہتے ندی نالے، خوبصورت جھرنے،دریا، اونچے پہاڑ،سرسبز وادیاں، فطرت کے نظارے تیرے لیے ہی بنائے گئے تھے۔۔جن سے تو نے کچھ فائدہ نہ اٹھایا۔۔ واقعی مرد ناداں پہ کلام نرم و نازک ہے بے اثر۔۔"
    سو یہ سبق میں نے ایڈوانس میں ہی پڑھ لیا تھا۔ یہ سوچ کر کہ قیامت کے روز اتنے لوگوں کے سامنے اپنی بے عزتی نہیں کروانی۔۔ اس لیے بیوی بچوں کے شور مچانے کے باوجود میں چند دنوں کے لیے انھیں تیاگ کر آگے بڑھ جاتا ہوں۔۔
    ویسے بھی میں ان لوگوں میں ہرگز نہیں آتا کہ خوشی ملے توسٹریو ہائی فائی آن کر کے گانوں کے ساتھ بے ہنگم اچھل کود کر نے لگوں ۔۔موڈ خراب ہو، طبیعت بیزار ہو تو کمرہ بند کر کے اداس ، غمگین گانے سننے لگوں۔ تکیے میں منہ چھپا کر دنیا والوں سے ناراض ہو کر ان کی نظروں سے اوجھل ہو جاؤں۔۔بلکہ میرے سارے مسئلوں کا بہترین حل مجھے فطرت ہی مہیا کرتی ہے۔۔ خوش ہوں تو میں لمبی سیر کو نکل جاتا ہوں۔برستی بارش میں بھیگ کر راحت محسوس کرتا ہوں ۔غمگین ہوں تو آسمان پہ ٹانکے چاند کو تکتا رہتاہوں اور شاعر کے احساسات سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اور اس سے بھی بڑھ کر اک نادر نسخہ میرے پاس موجودہے۔۔ میں اپنا رُک سیک پیک کرتا ہوں۔۔ گھر والوں کو بائے بائے کہتا ہوں اور چند دنوں کے لیے گھر،محلےبلکہ منظر سے ہی غائب ہو جاتا ہوں۔ اِک نئی تلاش مجھے اپنے ساتھ لیے لیے پھرتی ہے(یہ علیحدہ بات ہے کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں شائد عمرہ کرنے گیا ہوں )
    اس اچانک کی مسافت ڈھونے کے لیے میں اپنی ذاتی سواری استعمال نہیں کرتا۔۔ کار گیراج میں بند کر کےچند دنوں کے لیے اسے بھی اپنی زندگی سے ہٹا دیتا ہوں۔۔اور پھر سفر میں جو بھی سواری ملے اسے استعمال کرنے میں عار نہیں سمجھتا۔۔ٹرین، بس، ویگن، کوچ، چِن چِن،تانگہ۔۔بلکہ اگر لفٹ جائے تو کیا ہی بات ہے۔۔لوگ کہتے ہیں جوانی کا حج بڑھاپے کے حج سے کہیں بہتر ہے۔ تو میرا یہ مانناہے کہ دنیا دیکھنے کے لیے بھی صرف جوانی ہی عمر کابہترین حصہ ہے۔ کم سے کم ہڈیاں تو پوری سلامت ہوتی ہیں نا۔۔ تھوڑا سا سفر کرنے اور اونچائی چڑھنے کے بعد کھڑکنے تو نہیں لگتیں۔۔ سانس دھونکنی کی طرح چلنے تو نہیں لگتا۔۔اور نظر بھی دور تک کا منظر لپیٹ لیتی ہے۔ ۔پھربندہ اپنا بوجھ(رُک سیک ) خود بآسانی ڈھو سکتا ہے۔۔
    ویسے بھی اللہ کی بنائی اس دنیا کا حصہ بنے شروع کےچند سال تو بس ایویں ہی بیت گئے تھے اک بے خبری، لاعلمی کے عالم میں، جس کا افسوس تا زندگی رہے گا کہ وہ ہماری کسی گنتی میں نہ آئے۔۔ہم تھے بھی اور نہیں بھی ۔۔یا پھر ہم وہاں تھے جہاں ہمیں اپنی خبر نہ تھی ۔۔درحقیقت لوگوں کو دنیا سے چلے کے بعد کے زمانے کی فکر ہوتی ہے۔۔
    ہمارے بعد محفل میں افسانے بیاں ہوں گے
    بہاریں ہم کو ڈھونڈیں گی نہ جانے ہم کہاں ہونگے
    جبکہ ہمیں دنیا میں آنے سے پہلے کے زمانے کی فکر ستاتی ہے۔اتنے کارنامے اور عظیم جنگیں ہمارے بغیر ہو گئیں۔۔پانی پت کی لڑائیاں تک لڑی گئیں۔۔مغلوں نے اتنے عیش و عشرت کی زندگیاں بسر کیں۔۔انارکلی ، سلیم کی محبتی کہانی اوروہ چاندنی راتیں۔۔پر ہم نہ تھےصد افسوس، تب کے زمانےنہ جانے کیسے ہوتے ہوں گے۔۔سماج کیسا ہوتا ہو گا۔۔ معاشرے کیسے تشکیل پاتے ہوں گے۔۔لوگوں کا ایک دوسرے کے ساتھ کیا بیو پار ہوتا ہو گا۔۔من و سلوی نہ سہی پر صاف، تازہ ہوا اور خالص کھانے تو ملتے ہوں گے۔۔ لوگ گِلٹ فری ایٹنگ کرتے ہوں گے۔۔ پلوشن تو ہوتی نہ ہو گی۔۔ لوگوں کو آفتاب، مہتاب بھی کثیف فضا کے بغیر نظر آتے ہوں گے۔ ہاں بھئی، کیا بات ہوتی ہو گی ،سادہ قوموں کے سادہ لوگوں کی جو ہاتھی، گھوڑے، اونٹ پر چڑھ کر جنگیں تلوار اور تیرکے بل پر جیت لیتے تھے۔
    تب نہ گولی تھی نہ کلاشنکوف ،
    نہ بم تھے نہ ایٹم بم۔۔
    نہ جانے صبحیں کتنی سنہری ہوتی ہوں گی اور شامیں کتنی سُرمئی۔۔
    سورج آب و تاب سے نکلتا ہو گا۔ ۔
    بارش گنگناتی زمین پر اترتی ہو گی۔۔
    چاند یونہی جگمگاتا ہوگا۔۔تارے مسکراتے ہوں گے
    پہلے ہم ویسے ہی صدیوں باری سے لگے رہے۔اورجب وجود میں آئے تو خود کو برصغیر پاک و ہند کے ملک پاکستان کےبڑے صوبے پنجاب کے مشہور و معروف شہر لاہور میں پایا۔جس سے ہماری شخصیت کے ساتھ خود بخود اِک لاہوری ٹیگ جڑ گیا۔۔( جیسے لکھنو والوں کے ساتھ جڑ جاتا ہے)جس پر بعدمیںہم ہمیشہ اِتراتے رہے۔۔ویسےاس بات کے لیے ہمیشہ اماں، ابا کے مشکور رہے کہ وہ لاہورجیسے زندہ دلان لوگوں کے شہر میں سکونت پذیر تھے۔۔اور ہم کسی ماڑے جھیڑے شہر میں پیدا نہیں ہو گئے۔۔ورنہ اگر وہ چیچو کی ملیاں میں رہتے تو ہم نےکیا کر لینا تھا۔ ہم بھی چپ چاپ بغیر کسی احتجاج کے چیچو کا اِک اٹوٹ اَنگ بن جاتے اور کسی گمنام گوشے میں پڑے رہتے۔۔
    خیر ایک جگہ ٹکنا ہمیں پھر بھی نصیب نہ ہوا۔۔ ہمارے تو قدموں تلے زمین ٹریڈمل کی طرح بچھی تھی۔۔پاؤں میں بلیاں بندھی تھیں۔۔آنکھوں میں اِک پیاس تھی اور دل میں انہونی خواہش۔۔جبھی ہم بہتوں سے ہٹ کر اک نئی راہ کے مسافر نکلےجس کی قسمت میںمسافت در مسافت لکھی گئی تھی۔سیر سپاٹے کے شوقین، رنگین گرین نظاروں کے شیدائی ، دل ہر دم چاہتا تھا نیا دن ہو نئی رات ہو۔۔انوکھی صبح ہو رنگین شام ہو۔۔نئی جگہ ہو،نیا دیار ہو۔۔جبکہ یہ ویلوں کاشوق نہ اماں میں تھا نہ ابا میں۔۔اور نہ ہی اتنے بڑے خاندان میں کوئی آزاد منش، آوارہ گرد گزرا تھا۔پرنہ جانے کیسے یہ ہماری ذات میں جستجو بن کر چلا آیا تھا۔تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد اچھی بھلی چلتی زندگی میں اچانک بھوال آ جاتا۔ کسی نشئی کی طرح بدن ٹوٹنے لگتا۔۔ پھر یہ نشہ پورا کرنے کے لیے سفر کا منہ تاکناپڑتا۔۔اس آوارہ گردی کے لیے ویسے تومیں اکیلا ہی کافی ہوں۔ کسی دوست یار کا دل چاہے تو اٹھ کر ساتھ چل دیتا ہے ورنہ میں اور میری تنہائی اکثر یکجا ہوتے ہیں۔ ویسےدیکھا جائے تومیں اکیلا کہاں،رنگ برنگی دنیا نئے لوگ، نئے مقام میرے اردگرد ہی تو ہوتے ہیں۔۔
    موجودہ سفر بھی میری انھی مسافتوں کی کڑی ہے۔۔سیکنڈ کلاس کا ٹکٹ میری جیب میںہے۔ رُک سیک میری کمر پہ۔۔ بلیو جینز کی پتلون اور آڈی ڈاس کی شرٹ ، سر پر کیپ، نائک کے شوز۔۔سن گلاسز، یہ میرا کوہ نوردی حلیہ ہے ۔۔موسم معتدل ہے۔۔ویسے بھی سیاحت کے ماروں کو گرمی، سردی کی اتنی پرواہ نہیں ہوتی۔ سب موسم ایک سے لگتے ہیں۔۔ بس دل کی زمین پر شگوفے پھوٹے پڑتے ہیں۔میرے مختصر سامان میں کپڑوں کے چند جوڑے، ایک دوتولیے، ایک عدد کیمرہ بمعہ ریل اور چند دیگر اشد چیزیں شامل ہوتی ہیں۔۔ ویسے لازمی تو میرے لیے شیونگ کٹ بھی ہے۔۔ جسے ایک دو بار بھول گیا تھا تو واپسی پر شناخت گم ہو چکی تھی اور گھروالے گھر میں گھسنے نہیں دے رہے تھے۔۔ وہ تو محلے والوں کی مہربانی رہی کہ وہ مجھ کو گھر والوں سے زیادہ پہچانتے ہیں۔۔ کھانے پینے کے کوئی بھی اَلے تللےمیں ساتھ نہیں رکھتا، اس لیے مستنصر حسین تارڑ پارٹی کی طرح مجھے آٹا، دال، چاول، گھی کے کنستر ہر گھڑی ساتھ ساتھ اٹھائے پھرنا اور جگہ جگہ ان کی گنتی کرتے رہنا قطعا پسند نہیں۔۔پھرتو میں خود کو، کوہ نورد کم اور مزدور زیادہ سمجھنے لگوں گا۔۔اورجہاں دوپہر، شام ہوئی کوئی نہ کوئی ڈھابہ، ہوٹل مل ہی جاتا ہے۔۔وہیں رات گزر جاتی ہے اور میں پاؤں پسار لیتا ہوں۔۔
    گزشتہ چند سالوں میں نے سفرنامے پڑھ کر شمالی علاقہ جات میں قریہ قریہ جھانکا۔۔ ہنزہ کی وادی کے خالص اور خوبصورت نظارے دیکھے۔۔نانگا پربت کے نشیب میں ڈیرے ڈالے۔۔ کاغان، کالام، ناران کی خوب سیر کی۔۔ مری، سوات، نتھیا گلی تو میں اپنے اس جنون کے ابتدائی سالوں میں کئی بار جا چکا۔۔ پچھلے سال کوئٹہ کی پہاڑیاں اور مرغزار زیر ِمسافت رہے۔۔ اس سال کدھر جایا جائے یہ سوال کئی روز سےمیرے ذہن میں اتھل پتھل مچائے ہوئے تھا۔۔ لیکن ہنگ لگا نہ پھٹکڑی، چند روز بعد میرا یہ پینڈنگ مسئلہ اپنے آپ حل ہو گیا۔۔میں نے مزید کوئی دیر کیے بغیر آفس میں چھٹی کی عرضی جمع کرا دی ، جو جلد منظور ہو گئی (یعنی کائنات بھی مجھے اپنی اور کھینچ رہی تھی اور حالات وسیلہ در وسیلہ بنا رہے تھے)ابتدائی مرحلے میں ریلوے اسٹیشن جا کر ٹرین کا ٹکٹ خرید کر سیٹ بھی ریزرو کروا لی۔۔ میرے سفر کا پہلا قدم ٹرین، بس، کوچ میں ہی پڑتا ہےپھر آگے چل سو چل ۔۔پاؤں کے نیچےریگزار ہوں یا سبزے بچھے ہوں،دونوں کے اپنےہی
    رنگ اور مزے ہیں۔۔ سو اس سال کے نشے کا توڑ ہو چکا ۔۔ گھر والوں کو میں نے سفر سے صرف ایک دن پہلے بتایا ورنہ ابا کی نصیحتیں، اماں کا لیکچر اور بیوی کاکلستا موڈ میری کوہ نوردی کا رنگ کچھ پھیکا کر دیتا۔۔۔
    اب میرا یہ ٹور کدھر کا ہے؟
    آپ ذرا یہ پزل کھیلئے،اور اس گانے پہ نظر ڈالیے جو گزشتہ دنوں گلی کی نکڑ پر پان والے کی دکان کے سامنے سے گزرتے ہوئے میرے کانوں میں پڑا تھا۔۔
    چھک چھک گڈی کردی جاندی اوندے جاندے شہر
    مڑ کے نیئوں جمنا ماما، کَر پنجاب دی سیر

    ۔۔۔۔۔۔۔




  9. #9
    Section Managers Kainat's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    Germany
    Posts
    14,437
    Blog Entries
    18
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)


  10. #10
    Section Managers Kainat's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    Germany
    Posts
    14,437
    Blog Entries
    18
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)





Tags for this Thread

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •