Thanks Thanks:  27
Likes Likes:  41
Page 1 of 3 123 LastLast
Results 1 to 15 of 33

Thread: عشقِ حقیقی اور عشقِ مجازی

  1. #1
    Sisters Society Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    36,819
    Blog Entries
    27
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)

    عشقِ حقیقی اور عشقِ مجازی

    عشقِ حقیقی اور عشقِ مجازی ! وہ والد کی قبر کی زیارت کے بعد واپس آ رھا تھا ،یہ زیارت اسے تقریباً 8 سال بعد نصیب ھوئی تھی جب اسے یورپ سے لوٹنا نصیب ھوا تھا ، جاتے وقت والد اسے ائرپورٹ چھوڑنے آئے تھے ، وہ ھمیشہ اسے بچے کی طرح ٹریٹ کرتے تھے گویا وہ کچھ جانتا ھی نہیں ھے ، اگرچہ وہ اعلی تعیم کے لئے یورپ بھیجا جا رھا تھا مگر والد صاحب اسے ٹوتھ برش اور پیسٹ استعمال کرنا بھی کچھ یوں سمجھا رھے تھے گویا وہ پرائمری سکول کا بچہ ھے ، وہ ایک سیدھے سادے زمین دار اور ٹوٹ کر پیار کرنے والے والد تھے - ماں جب اسے یورپ کی لڑکیوں سے بچنے کی تلقین کر رھی تھیں تو والد صاحب پریشان ھو رھے تھے ، آخر انہوں نے تنگ آ کر کہہ دیا کہ یہ ابھی بچہ ھے تم کس قسم کی باتیں اس سے کر رھی ھو ؟ وھی پیار اور اعتبار کرنے والے والد اسے دیکھنے کی تمنا دل میں لئے اگلے جہان کے راھی ھو گئے تھے ،، بیماری کے دوران وہ بار بار اس کا پوچھتے رھے ، اس کے لئے نصیحتیں نوٹ کرواتے رھے ، 1982 میں ابھی موبائیل فون کا رواج نہ تھا ، یوں باپ بیٹا آخری بات بھی نہ کر سکے ، اس نے فلسفہ پڑھا تھا ،ماسٹر اور پھر پی ایچ ڈی کر کے عارضی طور پر واپس لوٹا تھا ، اسے واپس یونیورسٹی میں جا کر پڑھانا تھا ،،والد کی قبر پر وہ بچوں کی طرح مچل مچل کر رویا تھا اسے نہیں پتہ تھا کہ مردوں کے بارے میں مولوی کیا عقیدہ بیان کرتے ھیں وہ تو بس رو رو کر دل کا حال بیان کرتا رھا ، وہ جو کچھ جیتے جی ابا کو نہیں کہہ سکتا تھا وہ سب قبر کو سنا آیا تھا ،مگر لگتا تھا کہ ابھی بادل تھمے نہیں تھے،گھٹائیں اندر امڈ امڈ کر آ رھی تھی مگر وہ انہیں برسنے نہیں دے رھا تھا – ویگن میں سوار دوسرے مسافر اس کے حال سے بے خبر اپنی دنیا میں مگن گپیں لگا رھے تھے ، موضوع منڈیوں کے بھاؤ ھی تھا کیوں کہ وہ سب منڈی سے واپس آ رھے تھے، وہ حکومت کو کوس رھے تھے جو عین فصل کے پکنے کے وقت قیمتیں گرا دیتی تھی ، پھر ان سے سستا خریدا ھوا پلٹ کر ان کو مہنگا فروخت کرتی اور دونوں طرف سے کماتی تھی،،ویگن کی سواریاں پوری نہیں تھیں وہ چاھتا تھا کہ ویگن جلدی اسے منزل پہ پہنچا دے کہیں یہ بند رستے میں ھی نہ ٹوٹ جائے، ایک سوٹڈ بوٹڈ بابو کو روتا دیکھ کر لوگ کیا سمجھیں گے ، اچانک دور کہیں سے اک تارے پر حضرت باھو کا کلام پڑھا جانے لگا ، ایمان سلامت ھر کوئی منگے، عشق سلامت کوئی ھووووو!
    ایمان منگن شرماون عشقوں ،دل نوں غیرت ھوئی ھووووووو!
    جس منزل نوں عشق پہنچاوے، ایمانوں خبر نہ کوئی ھووووو!
    میرا عشق سلامت رکھیں، ایمانوں دیاں دھروئی ھوووووووو!
    اک تارے نے اس کے اندر کے تاروں کو چھیڑ دیا تھا ،اس نے ویگن کے شیشے سے سر باھر نکال کر دیکھا ،ایک فقیر سر پہ گھٹڑی اور کندھے میں اک تارہ رکھے ایک ھاتھ سے بجاتا ھوا ویگن کی طرف آ رھا تھا ، فقیر نے اس کی متجسس نگاھوں کو بھانپ لیا اور سیدھا اسی کی طرف آیا ، یہ لوگ بھی ماھرِ نفسیات ھوتے ھیں ، اس کے حلیئے کو دیکھتے ھوئے وہ سمجھ گیا تھا کہ اگر کچھ ملنا ھے تو اس بابو سے ھی ملنا ھے ،، اس نے گھٹڑی ٹکٹ گھر کے بینچ پہ رکھ دی اور اک تارے کی تُن تُن کو پھر رواں کیا ،،
    جس دل اندر عشق نئیں رچیا ،کُتے اس توں چنگے ھووووووووووووو !
    در مالک دے راکھی کردے ، شاکر بھُکے ننگے ھوووووووووووووووو!
    جس دل اندر عشق سمانڑا ،فیر نئیں اس جانڑاں !
    سوھنے لکھ ھزراں ھوونڑ، اساں نئیں او یار وٹانڑاں!
    وہ اکتارے والے سے ایک سوال کرنا چاھتا تھا ،مگر اس کا علم اسے اس فقیر سے مخاطب ھونے سے روک رھا تھا ، کہا جاتا ھے کہ العلم حجاب الاکبر، علم بہت بڑا پردہ ھے ، ایک ان پڑھ کسی سے بھی اپنی منزل کی بس کا پتہ کرتا ھے اور جھٹ جا بیٹھتا ھے،مگر پڑھا لکھا پوچھنے کی بجائے پورے بس اسٹینڈ کی بسوں کے بورڈ پڑھتا پھرتا ھے کہ اپنے علم کی بنیاد پر اپنی منزل کا پتہ پا لے،، مکے کے پڑھے لکھے زیادہ تر سردار اسی علم کی وجہ سے منزل سے محروم رہ گئے ،، اور بلالِ حبشی ،حضرت بلال بن گئے ، وہ ویگن سے نکل کر باھر بینچ پہ آ بیٹھا، اک تارے والا بھی آ کر اس سے تھوڑا سا ھٹ کر بینچ پر بیٹھ گیا ،تھوڑی دیر خاموش رھنے کے بعد اکتارے والے نے سگریٹ نکال کر منہ میں رکھی اور بڑی بے تکلفی سے بولا بابو جی ماچس ملے گی؟ اس نے جواب دینے کی بجائے نہایت گہری نظر سے فقیر کو دیکھا ،، یہ کون ھے ؟ کیا چاھتا ھے ؟؟ اس نے جیب سے لائیٹر نکال کر فقیر کے ھاتھ میں دے دیا جو ایک طرف سے پین اور دوسری طرف سے لائٹر تھا ،، فقیر حیران رہ گیا ،بابو جی میں نے پین نہیں ماچس مانگی ھے ،، یہ ماچس ھی ھے ، اس نے دھیرے سے جواب دیا اور پین پکڑ کر ٹھک سے جلا دیا، فقیر نے سگریٹ سلگا لیا تو اس نے لائیٹر دوبارہ جیب کے ساتھ لگا لیا، یہ لائیٹر اس کی کمزوری تھا ، اس نے کبھی سگریٹ نہیں پیا تھا مگر کبھی بھی لائٹر جیب میں رکھنا نہیں بھوُلا تھا ، وہ بچپن سے اس ماچس کا امین تھا ، بابا کے حقے کو سلگاتے وقت ھمیشہ ماچس اسی سے مانگنی پڑتی تھی ، وہ ماچس کہیں چھپا دیتا تھا ،یا جیب میں ڈال لیتا تھا یا تکیئے کے نیچے رکھ لیتا تھا ، تا کہ حقہ سلگاتے وقت وہ خود اس کا نطارہ کرے ،، بابا کا حقے کو گرم کرنا ، پانی چیک کرنا ، پانی تبدیل کرنا ،، اسے بالکل کسی سائنسی لیبارٹری کا عمل لگتا تھا، وہ جب باھر گیا تو بھی ماچس پاس رکھنا نہیں بھُولتا تھا، اسے ماچس کی موجودگی میں لگتا جیسے اس کی بگننگ ھو چکی ھے اور اس ماچس کے ذریعے اس کے والد کو اس کے احوال کی خبر رھتی ھے ، دو چار دفعہ یونیورسٹی میں ماچس جیب سے نکلنے پر دوستوں نے ھُوٹننگ کی تو اس نے ماچس کی بجائے یہ لائیٹر رکھنا شروع کر دیا تھا ، فقیر کے سوال نے اس کے علم کی برف پگھلانی شروع کر دی تھی ! بابا یہ عشق کیا ھوتا ھے ؟ بابا نے دھوئیں کا مرغولہ اس کی طرف منہ کر کے اس طرح چھوڑا کہ اس کا چہرہ دھوئیں میں چھپ کر رہ گیا ،، اسے لگا جیسے فقیر نے سوال سنا ھی نہیں ھے – وہ سوال دوبارہ کرنے ھی لگا تھا کہ فقیر نے پلٹ کر دھیرے سے سوال کر دیا ، یہ بھوک کیا ھوتی ھے بابو جی ؟ ھاں واقعی بھوک کیا ھوتی ھے ؟ اس نے بھی سوچا ! بھوک کسی کو کیسے ایکسپلین کی جا سکتی ھے جب تک کوئی خود بھوک سے گزرا نہ ھو ! یہ تو ایک کیفیت ھے ،جس تن لاگے سو تن جانے ،، کیا عشق بھی ایسی ھی کیفیت ھے جسے صرف مبتلا ھونے والا محسوس کر سکتا ھے ،کسی کو دکھا اور بتا نہیں سکتا ، عشق تین لفظوں کے دروازے سے کھلنے والا ایک جہاں ھے جہاں سے داخل ھونے والا پیچھے پلٹ نہیں سکتا ! کیونکہ اس میں داخلے کا رستہ تو ھے ،ایگزٹ کوئی نہیں ھے، میاں محمد بخش نے کیا یہی بات کہنے کی کوشش کی تھی ؟
    عاشق دا جو دارو دسے، باہج ملاپ سجن دے !
    اوہ سیانا ،جان ونجانا، روگ نہ جانے من دے !
    کیا لوگ اسی لئے عشق کی ناکامی پہ خود کو گولی مار لیتے ھیں ؟ زھر کھا لیتے ھیں کیونکہ وہ کسی کو" وہ آگ "دکھا نہیں سکتے ؟ یہاں سے بات نے ایک اور ٹرن لے لیا تھا ، والدہ اس کی شادی اس کے ماموں کی بیٹی سے کرنا چاھتی تھیں جو بقول ان کے اس سے محبت کرتی تھی اور اس کی عدم موجودگی میں نہایت مناسب رشتوں سے انکار کر چکی تھی ، اس نے ایم بی بی ایس کیا تھا مگر ابھی تک کہیں منگنی کا ڈول ڈالا نہیں جا سکا تھا کیونکہ وہ " کسی مناسب" رشتے کا انتظار کر رھی تھی اور بقول اس کی والدہ کے وہ مناسب رشتہ وھی تھا، وہ ابھی شادی کے جھنجھٹ میں پڑنا نہیں چاھتا تھا مگر والدہ کا اصرار تھا کہ وہ جانے سے پہلے انہیں خوشی دکھا دے کیونکہ وہ والد کی طرح سہرے کو دیکھے بغیر مرنا نہیں چاھتی تھیں، اس کی بڑی بہن نے بھی اسے بتایا تھا کہ ریحانہ اس سے محبت کرتی ھے اور اس کے سوا کسی سے شادی نہیں کرے گی چاھے ساری زندگی اسی طرح گزر جائے ،، فقیر نے اس کے دل کے تار بھی چھیڑ دیئے تھے ،کیا ریحانہ بھی اسی جان لیوا عشق میں مبتلا ھے جس کے حصول کے بغیر زندگی بوجھ بن جاتی ھے ، کیا میاں محمد بخش کے بقول اس لیڈی ڈاکٹر کا علاج یہی ھے کہ وہ اپنا مقصود پا لے، اس کے علاوہ سائنس نے کوئی دوا ایجاد نہیں کی، شاید وہ چند لمحے تھے جن میں وہ یہ سب کچھ سوچ گیا ،وہ ابھی انہیں سوچوں میں الجھا ھوا تھا کہ فقیر نے اچانک لقمہ دیا " بھوک نہ ھو تو کھانا بھی بوجھ بن جاتا ھے بابو جی " عشق نہ ھو تو ایمان بوجھ بن جاتا ھے ،، انسان اس سے جان چھڑاتا پھرتا ھے ، فقیر کی بات سچ تھی ، عبداللہ ابن ابئ کتنا خوش قسمت تھا کہ سرورِ کائنات کی اقتدا میں اللہ کے حضور حاضری دیا کرتا تھا ،پہلی صف کا یہ نمازی عشق کی عدم موجودگی کی وجہ سے رئیس المنافقین کے لقب کا مستحق ٹھہرا ، صحابی تو دور کی بات آج تک اسے مسلمان کہنے پر بھی کوئی زبان تیار نہیں !!
    عشق ایمان کا اینٹی وائرس ھے ، یہ ایمان پر حملہ آور ھونے والے ھر وسوسے کا علاج ھے ، جتنا شدید خطرہ ھو ،اُتنا شدید عشق درکار ھے ، والذین آمنوا اشدُۜ حباً للہ " ایمان والے تو اللہ سے شدید محبت کرتے ھیں " لا یؤمن احدکم حتی اکون احب الیہ من ولدہ و والدہ والناس اجمعین ،، تم تب تک مؤمن نہیں ھو سکتے جب تک کہ میں تمہیں محبوب نہ ھو جاؤں اپنی اولاد سے ، اپنے والدین سے، اور دیگر تمام لوگوں سے !! گویا عشق کا علاج بھی مزید عشق ھے ،دو طرفہ عشق ،یحبھم و یحبونہ ،، وہ ان سے عشق کرتا اور وہ اس سے عشق کرتے ھیں ،کیا یہ عشقِ حقیقی اور عشق مجازی ایک ھی سرنگ کے دو سرے ھیں ؟ جہاں عشق مجازی سے داخل ھونے والا عشقِ حقیقی سے جا نکلتا ھے ! لگتا تھا کہ پاس بیٹھے ھوئے فقیر نے اپنے وائی فائی کو پاس ورڈ نہیں لگایا تھا مسلسل ڈاؤن لؤڈنگ جاری تھی ، اس نے جیب میں ھاتھ ڈالا اور جو اس کے ھاتھ میں آیا بغیر گنے فقیر کی طرف ھاتھ بڑھا دیا ،،، فقیر نے بے نیازی سے اس کی طرف دیکھا ،، بابو جی اللہ آپ کو سلامت رکھے میں آپ سے کچھ نہیں لونگا ،آپ نے اتنا وقت دیا میرے پاس بیٹھے ، دو بول بولے ،، میرے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی خزانہ نہیں، پیسوں کی بھیک مجھے لوگ دیتے ھی رھتے ھیں مجھے آج تک گلہ نہیں ھوا ، وقت کی بھیک کوئی نہیں دیتا ،، یہ کہہ کر فقیر اس کے بڑھے ھوئے ھاتھ کو نظر انداز کرتے ھوئے اٹھ کھڑا ھوا ،، اس نے اکتارے کے تاروں کو تن تن کر کے چیک کیا اور آگے کی جانب چل پڑھا ،، وہ دور تک اس فقیر کو دیکھتا رھا ،، شاید وہ جو کام کرنے آیا تھا وہ کر گیا تھا ،، ویگن کا ھارن بجا تو وہ چونک کر کھڑا ھو گیا ،مگر جگہ چھوڑنے سے پہلے وہ ریحانہ کی محبت کا جواب محبت سے دینے اور اس سے شادی کرنے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ ۔ ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    منقول
    اپنی آنکھوں کو قناعت کی طرف لا اے شخص
    اس سے پہلے کہ کوئی خواب بڑا ہو جائے



  2. #2
    Senior Member

    Join Date
    May 2009
    Posts
    17,348
    Blog Entries
    4
    Mentioned
    4 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    اگر یہ ’’محبت‘‘ کوئی حقیقت رکھتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر ہی جوڑے کیوں بنا دئیے تھے؟

  3. #3
    Site Managers Rubab's Avatar

    Join Date
    Jun 2007
    Posts
    13,943
    Blog Entries
    6
    Mentioned
    24 Post(s)
    Tagged
    2 Thread(s)
    عمدہ شیئرنگ ہے روز سس، بس اینڈ پہ آ کے مصنف نے عشق اور محبت کو گڈ مڈ کر دیا۔

    Quote Originally Posted by Sehar Azad View Post
    اگر یہ ’’محبت‘‘ کوئی حقیقت رکھتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ نے
    آسمانوں پر ہی جوڑے کیوں بنا دئیے تھے؟
    اچھا سوال ہے احسان بھائی۔ اس سوال کا جواب کیا ہوگا؟

    جو اللّٰہ کا حکم



  4. #4
    Site Managers Meem's Avatar

    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Bora Bora
    Posts
    51,071
    Mentioned
    22 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    عجیب گڈمڈ سا کونسیپٹ لگا مصنف کا۔۔
    عشق مجازی میں ساری مادی علتیں شامل ہوتی ہیں۔۔


    If you start believing that you're happy, you'll be happy forever

  5. #5
    Member

    Join Date
    Oct 2016
    Posts
    64
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    عشق تو ہوتا ہی حقیقی ہے
    اگر ہو تو
    مجازی تو سیڑھی ہے حقیقی تک پہنچنے کی۔۔
    یایہ کہہ لیں کہ ناپختگی ۔۔۔۔
    جب پختہ ہوجائے تو حقیقی
    فنا ہوگئے اُس کی ذات میں تو پایا حقیقی عشق
    جب تُو اور میں کا فرق مٹ جائے
    بس تُو ہی تُو ہو جائے یعنی میں بھی تُو
    بس اتنا سا فلسفہ ہے اگر سمجھ آئے تو

  6. #6
    Member

    Join Date
    Oct 2016
    Posts
    64
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    مادیت پرستی تو محبت میں آجائے تو
    محبت محبت نہیں رہتی
    عشق تو کسی اور ہی منزل کا نام ہے

  7. #7
    Sisters Society Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    36,819
    Blog Entries
    27
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    یہ تو نیم دیوانگی سی کیفیت والی بات ہے،،،،اپنی سمجھ کھو کر یا اپنا آپ بھلا کر کسی سے عشق کا دعویٰ کرنا شاید صوفی ازم کے زمرے میں آتا ہے،،،،،،عام حالات میں اور عام لوگوں کے لیے کیا ایسا ممکن ہے کہ اپنی دانائی یا سمجھ بوجھ کے ساتھ کسی کے عشق کا دعویٰ کر سکیں؟؟؟

    Quote Originally Posted by Siddiqui.Uddin View Post
    عشق تو ہوتا ہی حقیقی ہے
    اگر ہو تو
    مجازی تو سیڑھی ہے حقیقی تک پہنچنے کی۔۔
    یایہ کہہ لیں کہ ناپختگی ۔۔۔۔
    جب پختہ ہوجائے تو حقیقی
    فنا ہوگئے اُس کی ذات میں تو پایا حقیقی عشق
    جب تُو اور میں کا فرق مٹ جائے
    بس تُو ہی تُو ہو جائے یعنی میں بھی تُو
    بس اتنا سا فلسفہ ہے اگر سمجھ آئے تو
    اپنی آنکھوں کو قناعت کی طرف لا اے شخص
    اس سے پہلے کہ کوئی خواب بڑا ہو جائے



  8. #8
    Site Managers

    Join Date
    Jun 2007
    Location
    پاکستان
    Posts
    54,986
    Mentioned
    42 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    عشق تو عشق ہوتا ہے جی۔ اس میں مجازی اور حقیقی کا امتیاز کیسے کیا جا سکتا ہے۔
    یہ تو یار لوگوں نے اپنی سہولت (بلکہ دوکانداری چمکانے) کے لئے اصطلاحات وضع کر رکھی ہیں۔
    (اے اللہ! میرے علم میں اضافہ فرما)۔
    میرا بلاگ: بے کار باتیں

  9. #9
    Site Managers

    Join Date
    Jun 2007
    Location
    پاکستان
    Posts
    54,986
    Mentioned
    42 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    Quote Originally Posted by Sehar Azad View Post
    اگر یہ ’’محبت‘‘ کوئی حقیقت رکھتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر ہی جوڑے کیوں بنا دئیے تھے؟

    حیرانی کی بات ہے کہ عشق سے آپ کے ذہن میں فقط جوڑے ہی آ پائے۔
    (اے اللہ! میرے علم میں اضافہ فرما)۔
    میرا بلاگ: بے کار باتیں

  10. #10
    Member

    Join Date
    Oct 2016
    Posts
    64
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Quote Originally Posted by Rose View Post
    یہ تو نیم دیوانگی سی کیفیت والی بات ہے،،،،اپنی سمجھ کھو کر یا اپنا آپ بھلا کر کسی سے عشق کا دعویٰ کرنا شاید صوفی ازم کے زمرے میں آتا ہے،،،،،،عام حالات میں اور عام لوگوں کے لیے کیا ایسا ممکن ہے کہ اپنی دانائی یا سمجھ بوجھ کے ساتھ کسی کے عشق کا دعویٰ کر سکیں؟؟؟

    یہ عشق نہیں آساں، بس اتنا سمجھ لیجئے
    اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کہ جانا ہے

    اسی لئے تو عشق ہے ہی صرف حقیقی
    اسی لئے رب سے کیا جائے تبھی حقیقی۔۔۔
    جب میں میں نہ رہے تُو ہو جائے ۔۔۔
    اس کی منازل عقل،سمجھ سے بالاتر ہیں

    عام لوگوں کا کام ہے بھی نہیں عشق ۔۔۔۔
    عام لوگ تو محبت جیسے پاکیزہ جذبے کو بھی ہوس کی عینک سے دیکھتے ہیں
    عشق ہے ہی خاص لوگوں کا کام ۔۔۔۔

  11. #11
    Member

    Join Date
    Oct 2016
    Posts
    64
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    علامہ صاحب کے شعر سے شائد واضح ہوجائے ۔۔۔۔

    بے خطر کُود پڑا آتش نمرود میں عشق
    عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

    عشق ، عقل سمجھ سے بالاتر ہے اور
    تکمیل مانگتا ہے تبھی مکمل ہوتا ہے

  12. #12
    Senior Member

    Join Date
    Mar 2009
    Location
    اسلام آباد
    Posts
    3,763
    Blog Entries
    4
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Quote Originally Posted by Siddiqui.Uddin View Post
    عشق تو ہوتا ہی حقیقی ہے
    اگر ہو تو
    مجازی تو سیڑھی ہے حقیقی تک پہنچنے کی۔۔
    یایہ کہہ لیں کہ ناپختگی ۔۔۔۔
    جب پختہ ہوجائے تو حقیقی
    فنا ہوگئے اُس کی ذات میں تو پایا حقیقی عشق
    جب تُو اور میں کا فرق مٹ جائے
    بس تُو ہی تُو ہو جائے یعنی میں بھی تُو
    بس اتنا سا فلسفہ ہے اگر سمجھ آئے تو
    تو کیا عشق مجازی یعنی سیڑھی کو استعمال کرنے والے لوگ مثلاً ہیر رانجھا، سسی پنوں، شیریں فرہاد وغیرہ عشق حقیقی تک پہنچے؟
    مجھے ان لوگوں پر بہت حیرت ہوتی ہے جو دین کے متعلق محض اندازے سے بات کرتے ہیں۔
    امام اعظم رضی اللہ عنہ

  13. #13
    Senior Member

    Join Date
    Mar 2009
    Location
    اسلام آباد
    Posts
    3,763
    Blog Entries
    4
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Quote Originally Posted by Ahsan_Yaz View Post
    عشق تو عشق ہوتا ہے جی۔ اس میں مجازی اور حقیقی کا امتیاز کیسے کیا جا سکتا ہے۔
    یہ تو یار لوگوں نے اپنی سہولت (بلکہ دوکانداری چمکانے) کے لئے اصطلاحات وضع کر رکھی ہیں۔
    یار لوگوں نے اللہ سے عشق کو عشق حقیقی اور انسان سے عشق کو عشق مجازی کہا ہے، کیا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں؟ عشق حقیقی میں انسان جب رب کی ذات میں غرق ہوتا ہے تو وہ دنیا سے بے پرواہ ہوکر اپنے اللہ کا ہوجاتا ہے اور اسکا ہونے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اس کے احکام بجالا کر اس کے دیدار کا مستحق ہوجاتا ہے جو اسے آخرت میں ہی نصیب ہوگا کیونکہ دنیا میں اللہ کو دیکھنا ناممکن ہے۔ لوگ انہیں اولیاءاللہ کہتے ہیں۔ کیا عشق مجازی کرنے والے بھی اسی فائدے کو پاتے ہیں اور کیا لوگ انہیں بھی وہی کہتے ہیں جو وہ عشق حقیقی والوں کو کہتے ہیں، یعنی اللہ کے ولی؟
    مجھے ان لوگوں پر بہت حیرت ہوتی ہے جو دین کے متعلق محض اندازے سے بات کرتے ہیں۔
    امام اعظم رضی اللہ عنہ

  14. #14
    Site Managers

    Join Date
    Jun 2007
    Location
    پاکستان
    Posts
    54,986
    Mentioned
    42 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    Quote Originally Posted by Barvi View Post
    یار لوگوں نے اللہ سے عشق کو عشق حقیقی اور انسان سے عشق کو عشق مجازی کہا ہے، کیا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں؟ عشق حقیقی میں انسان جب رب کی ذات میں غرق ہوتا ہے تو وہ دنیا سے بے پرواہ ہوکر اپنے اللہ کا ہوجاتا ہے اور اسکا ہونے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اس کے احکام بجالا کر اس کے دیدار کا مستحق ہوجاتا ہے جو اسے آخرت میں ہی نصیب ہوگا کیونکہ دنیا میں اللہ کو دیکھنا ناممکن ہے۔ لوگ انہیں اولیاءاللہ کہتے ہیں۔ کیا عشق مجازی کرنے والے بھی اسی فائدے کو پاتے ہیں اور کیا لوگ انہیں بھی وہی کہتے ہیں جو وہ عشق حقیقی والوں کو کہتے ہیں، یعنی اللہ کے ولی؟
    کسی کا قول ہے کہ
    محبوب بھی تقریباً خدا ہی ہوتا ہے
    (اے اللہ! میرے علم میں اضافہ فرما)۔
    میرا بلاگ: بے کار باتیں

  15. #15
    Site Managers Rubab's Avatar

    Join Date
    Jun 2007
    Posts
    13,943
    Blog Entries
    6
    Mentioned
    24 Post(s)
    Tagged
    2 Thread(s)
    Quote Originally Posted by Ahsan_Yaz View Post

    حیرانی کی بات ہے کہ عشق سے آپ کے ذہن میں فقط جوڑے ہی آ پائے۔
    جبکہ شادی شدہ جوڑوں کے درمیان عشق تو شاید ڈھونڈے سے بھی نہ ملے۔ کہیں کہیں محبت مل جائے گی، اور زیادہ تر بے چاروں کے درمیان غمِ روزگار، غمِ اولاد، غمِ زمہ داریاں، غمِ بیماریاں و پریشانیاں وغیرہ ہی برآمد ہو سکیں گی۔
    ہی ہی ہی ہی

    جو اللّٰہ کا حکم



Page 1 of 3 123 LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •