Thanks Thanks:  28
Likes Likes:  38
Page 2 of 2 FirstFirst 12
Results 16 to 30 of 30

Thread: راستے میں شام از توقیر علی زئی

  1. #16
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    9,191
    Blog Entries
    4
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    غزل
    یہ غزل بھی پُر شکوہ الفاظ کی لاتا ہوں میں
    کہ انگوٹھی میں نگینوں کو جڑے جاتا ہوں میں
    جب زمینِ حشر میں کہہ کر غزل لاتا ہوں میں
    لوگ کہتے ہیں خیال اس کے چرا لاتا ہوں میں
    یہ حقائق کا ستم گر ترجماں ہے کس قدر
    آئنہ جب دیکھتا ہوں تو لرز جاتا ہوں میں
    میری قسمت میں دیے کی ٹمٹماتی لَو سہی
    آسماں سے ستارے توڑ کر لاتا ہوں میں
    جھوٹ میں نے اس قدر بولا ہے اپنے آپ سے
    اب یقیں آتا نہیں اس پر جو کہہ جاتا ہوں میں
    مسجدوں میں،معبدوںمیں،میکدوں میں دوستو!
    کس قدر بہروپیے ہیں،آج دکھلاتا ہوں میں
    راؔہی۰ مخلص کی دعوت تھی،وگرنہ دوستو!
    ان ہمک کے راستوں سے سخت گھبراتا ہوں میں
    جب دلِ مضطر سے ہوتا ہے تمہارا تذکرہ
    مجھ کو سمجھاتا ہے وہ اور اس کو سمجھاتا ہوں میں
    اعتراف اس کا مرے دشمن کریں گے بَرملا
    شاعروں کی بزم میں توقیر کہلاتا ہوں میں

    توقیر علی زئِی​

    ۰ عبداللہ راؔہی ایڈوکیٹ اٹک کے گاوں "ہمک" سے تعلق رکھتے تھے اور یہ غزل وہاں منعقدہ طرحی مشاعرے میں پڑھی گئی تھی۔​

  2. #17
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    9,191
    Blog Entries
    4
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    غزل
    پھر ستم بھی روا نہیں ہوتا
    جب ستمگر خفا نہیں ہوتا
    صرف تم کو معاف رکھتا ہوں
    صرف تم سے ِگلا نہیں ہوتا
    ساقیا! میکدہ سلامت رہے
    جام گرچہ عطا نہیں ہوتا
    ٹھیک ہے احتیاط لازم ہے
    صبر لیکن ذرا نہیں ہوتا
    سامنے آدمی کے جھکنا کیا
    آدمی تو خدا نہیں ہوتا

    توقیر علی زئی​

  3. #18
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    9,191
    Blog Entries
    4
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    غزل
    جدھر جاتا ہوں تیرا سامنا ہے
    کوئی منزل ہے تُو یا راستا ہے
    رہے گا ناخدائی کا بھرم کیا؟
    لبِ ساحل سفینہ ڈوبتا ہے
    حویلی آگ میں لپٹی ہوئی ہے
    مگر سارا قبیلہ سو رہا ہے
    رو پہلی صبح کو جوڑ گیا تھا
    اندھیری رات میں توڑ گیا ہے
    قلا بازی عذابِ جاں بنی ہے
    کبوتر اڑتے اڑتے گِر گیا ہے
    پرندہ اوٹ میں بیٹھا ہوا تھا
    نشانہ تاک کر مارا گیا ہے
    ترا پیغام ہے اشکِ رواں میں
    سمندر دل میں ٹھاٹیں مارتا ہے
    مرے ہونے سے وہ میرِ انجمن تھا
    وہ میرے بعد اکیلا رہ گیا ہے
    ابھی میں کیسے اطمینان کر لوں
    ابھی اک عقبی دروازہ کھلا ہے

    توقیر علی زئی​

  4. #19
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    9,191
    Blog Entries
    4
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    غزل
    شبِ فرقت کو شبِ وصل بنائے رکھنا
    تری تصویر کو آنکھوں سے لگائے رکھنا
    دل میں کینہ و کدورت کو چپھائے رکھنا
    پھول سجدوں کے جبینوں پہ سجائے رکھنا
    اپنے ہاتھوں میں لئے پھرتے ہیں فروِ عمل
    اپنی سانسوں میں ہمیں آگ لگائے رکھنا
    وہ کہ منہ پھیر کے چپ چاپ گزر جائے
    ہم کہ فرسودہ رسومات نبھائے رکھنا
    اس نئے عہد میں بدلے گئے سب رسم و رواج
    لیکن اک رسمِ محبت کو بچائے کھنا
    کسی مزدور کی دن بھر کی کمائی کی طرح
    اپنے شہکار کو سینے سے لگائے رکھنا

    توقیر علی زئی

  5. #20
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    9,191
    Blog Entries
    4
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    غزل​

    جب اپنی زیست کی پہلی کتاب لکھوں گا
    لہو کے نور سے ایک ایک باب لکھوں گا
    مرے حروف پکاریں گے، لفظ بولیں گے
    جبینِ وقت پہ جب اپنے خواب لکھوں گا
    فصیلِ شہر پہ شعلے اتار کر لوگو!
    میں انقلاب کے تابندہ باب لکھوں گا
    ترے جمال کے سچ کو گواہ ٹھہرا کر
    بیاضِ صبح پہ شب کے خواب لکھوں گا
    نکال دیں چمنستاں سے مجھ کو اہلِ چمن
    مگر گلاب کو پھربھی گلاب لکھوں گا

    توقیر علی زئی

    - - - Updated - - -

    غزل
    اک شخص مے کدے میں عجب کام کرگیا
    لبریز آنکھ اٹھا کے مرا جام کرگیا
    کچھ تو بتاو کون تھا وہ اجنبی سا شخص
    محفل میں آکے سب کو تہہِ دام کرگیا
    اے زلفِ یار! تیرے گھنے سائے کی قسم
    یہاں آکے صبحِ ہستی کی میں شام کرگیا
    تسبیح دراز ساغرِ مے پر نثار کی
    واعظ بھی مے کدے میں عجب کام کرگیا
    دنیا کی بات اور ہے اپنا ہے یہ خیال
    پروانہ جل ے شمع کو بدنام کرگیا
    خاکِ لحد پہ اس کی تو جھک جھک سلام کر
    توقیر مرکے دوست!ترا نام کرگیا

    توقیر علی زئی
    1953-2001​

  6. #21
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    9,191
    Blog Entries
    4
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    ہمارے ایک کزن تھے جوانی میں حادثاتی موت کا شکار ہوئے۔ان کی یاد میں لکھی گئی ایک آزاد نظم۔
    عجلت
    (مظہر علی خان کے لیے ایک نظم)

    بہاروں کا منظر
    وہ صبحِ چمن کا تکبر،وہ خوشبو سراسر
    وہ نکہت مجسم
    وہ سادہ طبیعت
    وہ اخلاق حسنہ کا پیکر
    بہت خوبصورت،بہت دلنشین تھا
    وہ مہرومروت کا پتلا
    فخرِِ زمردوگہر تھا
    کہ انگشتری میں نگیں تھا
    کوئی نوجواں اس طرح کا نہیں تھا
    ابھی زندگی اس پہ نازاں تھی
    پیکِ اجل۔۔!
    اتنی عجلت بھی کیاتھی!
    کہ اس موت پر موت بھی رو رہی ہے

    توقیر علی زئی​

  7. #22
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    9,191
    Blog Entries
    4
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    ابو جی کے کلیات سے میری ایک پسندیدہ غزل:۔

    کبھی اپنا تماشا دیکھتا ہوں
    کبھی ترا سراپا سوچتا ہوں
    خود اپنے آپ سے گھبرا رہا ہوں
    میں دشتِ ذات میں تنہا کھڑا ہوں
    میں غافل ہوں امورِ دوجہاں سے
    مگر تجھ کو مسلسل سوچتا ہوں
    کبھی فکرِ دو عام گھیرتی ہے
    کبھی اپنی طرف بھی دیکھتا ہوں
    سرِ صحرا بفیضِ آبلہ پائی
    ہر اک ذرّہ میں غنچہ دیکھتا ہوں
    مجھے شب کو نظر آتے ہیں سورج
    میں دن میں بھی ستارے دیکھتا ہوں
    سمندر کی سخاوت اللہ اللہ
    لبِ ساحل میں تشنہ لب کھڑا ہوں
    قضا ہوئے اپنے اکثر فرائض
    مگر تجھ کو مسلسل سوچتا ہوں

    توقیر علی زئی
    1953-2001​

  8. #23
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    9,191
    Blog Entries
    4
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    نظم پیش ہے۔

    طفل تسلی
    کیا کہا"تاریخ دُہراتی ہے اپنے آپ کو"
    لیکن آخر کس طرح سے
    کیوں کہ میرے شہر میں
    ایک سادہ لوح بڑھیا آج بھی
    اپنے بچوں کی تسلی کے لیے
    گھر کے ٹھنڈے چولہے پر
    دھرے بیٹھی ہے خالی ہانڈیا
    جیسے کہیں سے دفعتاً
    آئے گا کوئی عمر ابن خطاب
    ۰۔۰۔۰
    رضی اللہ عنہ

  9. #24
    Sisters Society Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    34,787
    Blog Entries
    25
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    بہت ہی شاندار شاعری ہے،،،،،زبردست،،،،،،،آج صبح سے ہی وقفے وقفے سے پڑھ رہی ہوں،،،،،،،ایک ایک شعر ایک ایک مصرعہ زبردست،،،،،،کمال مہارت ہے،،،،،ہر لفظ خوبصورت اور دل گداذ،،،،خوش رہیں۔
    کہاں میں اور کہاں یہ آبِ کوثر سے دُھلی خلقت ؟
    میرا تو دَم گُھٹ رھا ھے ، اِن پارساؤں میں

  10. #25
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    9,191
    Blog Entries
    4
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    زمین نئی نہ سہی لیکن اتنا یاد رہے
    نیا مکاں نئی بنیاد پر کھڑا ہو گا
    جناب! دل کے گمان و خیال اپنی جگہ
    وہ پہلی بار ملا ہے یہ دیکھنا ہو گا
    تھا ایک شخص خود اپنی تلاش میں گمراہ
    مجھے یقیں ہے ضرور آپ سے ملا ہو گا

    توقیر علی زئی​

  11. #26
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    9,191
    Blog Entries
    4
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    گلشنِ فکر پہ کیا کیا ترے جلوے اترے
    مری ہر بات میں جاناں ترے لہجے اترے
    ہر طرح تو نے ستمگر ہمیں جانچا پرکھا
    ہر طرح ہم ترے معیار پہ پورے اترے
    ہم بتائیں گے انہیں اپنی زمیں کی رفعت
    جب کبھی اوجِ ثریا سے وہ نیچے اترے
    کیا کہیں وہ ترا موہوم تصوّر کیا تھا
    قریۂ جاں میں بھی خوابوں کے جزیرے اترے
    ایک سونے کی ترازو میں پڑا ہے انساں
    کتنی ناداریٔ احساس میں بندے اترے
    چوڑیاں دوست کبھی بر سرِ محفل ٹوٹیں
    اور کبھی بر سرِ بازار دوپٹے اترے
    مگر انساں پہ اثر ان کا مرتب نہ ہوا
    ورنہ انساں کے لئے کتنے صحیفے اترے
    رنگ لائی ہے میری تیرہ نصیبی کیا کیا
    مرے آنگن میں گھٹا ٹوپ اجالے اترے
    تیری آنکھوں کی یہ ابہام مزاجی توبہ
    ہم نے مفہوم جو چاہے تو اشارے اترے
    آج یاروں پہ کوئی حادثہ گزرا توقیر
    کیسے بیٹھے ہیں ذرا دیکھو تو چہرے اترے
    توقیر علی زئی
    1953-2001​

  12. #27
    Senior Member Ahmed Lone's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    سعودی عرب
    Posts
    10,584
    Blog Entries
    21
    Mentioned
    12 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    بہت خوب جی
    یہ ہم ہی ہیں کہ کسی کے اگر ہوئے تو ہوئے
    تمھارا کیا ہے کوئی ہو گا، کوئی تھا، کوئی ہے
    https://thumbs.gfycat.com/HeartyBest...restricted.gif

  13. #28
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    9,191
    Blog Entries
    4
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    یہ تلخیٔ اظہارِ حقیقت نہیں اچھی
    ہر شخص سے اے دوست عداوت نہیں اچھی
    یک طرفہ محبت میں توازن نہیں رہتا
    شوریدہ سروں سے یہ شکایت نہیں اچھی
    صدیوں کی مسافت سے یہ اعزاز ملا ہے
    تہذیب و تمدن سے بغاوت نہیں اچھی
    بے داغ جوانی پہ کوئی حرف نہ آئے
    رک جا! شبِ مہتاب کی شہرت نہیں اچھی
    مثلاً یہ کہے کوئی تم جانِ چمن ہو
    ہر بات پہ انکار کی عادت نہیں اچھی
    موسم کی روش بھی کوئی معقول نہیں تھی
    اس نے بھی کہا میری طبیعت نہیں اچھی
    روشن نہ ہوا کوئی ستارہ،نہ تم آئے
    لگتا ہےکہ اس رات کی قسمت نہیں اچھی
    ملاح سفینوں کو کنارے سے لگادیں
    بپھرے ہوئے طوفاں کی نیت نہیں اچھی
    توقیرعلی زئی

  14. #29
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    9,191
    Blog Entries
    4
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    میں ہوں نقاد نہ افسانہ نگار
    میں نہ شاعر،نہ صحافی،نہ ادیب
    مجھے کافی ہے مری بزمِ خیال
    ان کو ہو سطوتِ دربار نصیب
    بادشاہوں سے مجھے کیا لینا
    میں رہا کرتا ہوں خود اپنے قریب
    توقیر​

  15. #30
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    9,191
    Blog Entries
    4
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)
    ہم کب حصارِ سر و سمن میں سمائے تھے
    آزاد طبع لوگ تھے صحرا بسائے تھے
    ہر عکسِ جستجو تھا کرن در کرن رواں
    مہتاب کھو دئیے تھے، تو خورشید پائے تھے
    خوشبو کے قافلے جو سرِ راہ لٹ گئے
    شاید شمیمِ زلف سے وہ چھو کے آئے تھے
    کچھ داغ،کچھ کتھائیں، کچھ آنسو،کچھ آبلے
    دشتِ وفا سے ہم یہی سوغات لائے تھے
    مہتاب بن گیا تھا ہر اک داغِ تیرگی
    زلفوں کے سلسلے بھی مری رہ میں آئے تھے
    توقیر

Page 2 of 2 FirstFirst 12

Tags for this Thread

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •