میں آج آپ لوگوں کے ساتھ اپنا ایک واقعہ شیر کرنے لگا ہوں جس کو میں اور میرے دوست ساری عمر نہیں بھول سکتے اگر آپ لوگوں کے ساتھ بھی کبھی کوئی ایسا واقعہ ہوا ہو تو ضرور شیر کرے گا
ہوا اصل میں یوں کے جب نئے نئے کالج گئے تو سمر وکیشن میں ہم فرینڈز نے پروگرام بنایا کے مری چلتے ہیں
اسکے بعد تیاری شروع ہو گئ
مری پہنچے
سبھی سٹوڈنٹ تھے ہم لوگ
اسی لئے کسی کے پاس بھی پیسے کی فراوانی نہیں تھی
ایک بجٹ کے مطابق ہم نے ٹوور انجوائے کرنا تھا
٢ دن تو بہت اچھے گزر گئے
تیسرے دن ہم لوگ پتریاٹہ گئے وہاں پر جب بھوک لگی تو کھانے کے لئے ایک ہوٹل میں چلے گئے
وہیں سے گڑبڑ سٹارٹ ہو گئ
ہم سات لڑکے تھے اور ادھر ہوٹل میں ہم نے پوچھا کیا ہے کھانے کے لئے تو ویٹر نے کافی کچھ بتایا اس میں سے ایک آیٹم اس نے یہ کھی کہ فرائیڈ چوچا ھے
ہم سمجھے کے لگتا ہے چھوٹے سایز کی مرغیاں ہونگی
تو بغیر قیمت پوچھے بول دیا سات لے او
اور پوچھئے مت جب وہ لے آیا
پورے فل سایزکے چرغے تھے
ہمنے اسے کہا کے تمنے تو کہا تھا چوچے ہیں یہ تو فل مرغی ہے
تو کہنے لگا ہم اسے چوچا ہی کہتے ہیں
ہمنے قیمت پوچھی تو بولا 1400 رپیز
مت پوچھئے ہمارا حال کیا تھا
ہوٹل کے ملک سے بات کی تو اسنے کہا تم لوگوں کو چوچوں کا پتا نہیں تھا تو قیمت پوچھ لینی چاہیے تھی نہ
اب میں ان کا کیا کروں
اس پاس بیٹھے لوگ بھی ہم پر ہنس رہے تھے
پھر کچھ کھایا اور باقی کا پارسل بنوا کے رات کے کھانے کے طور پر ساتھ لے گئے
بجٹ اتنا متاثر ہو گیا تھا کے تیسرے دن ہی واپس لوٹ اے
ابھی بھی ہم لوگ ایک دوسرے کو چوچا کہ کر چھیڑتے ہیں