کہتے ہیں کہ ایک مال دار بنیے کی نیند چوروں کے ڈر نے اڑا رکھی تھی۔ اس نے پریشانی دوسرے بنیے سے بیان کی تو اس نے مشورہ دیا کہ وہ خرا ٹے لینے کی مشق اس طر ح کرے کہ خرا ٹوںکی آواز ”کون ہے “ سنائی دے۔ اس طر ح اس آواز کو سن کر چور دور ہی بھا گ جا ئیں گے۔ بنیا اپنی اس کو شش میں کامیا ب ہو گیا اور عرصے تک چوروں سے محفوظ بھی ر ہا۔
بنیے کی سی مشق بہم پہنچانا تو ممکن نہیں ،لیکن یہ بات اپنی جگہ طے ہے کہ جس کمرے میں خرا ٹے لینے والا مو جو د ہو، کوئی اور سو نہیں سکتا۔ یوں چوکیداری کا سامان خود فراہم ہو جاتاہے۔

خراٹے گہری نیند کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ تھکن زیا دہ ہو تو خرا ٹے بھی بہت گہرے اور تیز ہو تے ہیں بلکہ بعض کی آوازیں خوفناک بھی ہوتی ہیں۔ ان خراٹوں سے ہمارے ہا ں تو صرف چوربھگائے جا سکتے ہیں، مغر بی ملکو ں میں بیویا ں شوہر وں کو چھوڑ بھاگتی ہیں۔ ان ملکوں کی عدالتو ں میں خراٹو ں کی ستائی بیویا ں ہر سال طلا ق لینے کے لیے رجوع ہو تی ہیں۔ ایک بیویاں ہی نہیں، خراٹوں سے بے شمار لو گ پنا ہ مانگتے ہیں اور ظاہر ہے کہ وہ ایسے افرا د سے دور رہ کر ہی سکون اور چین کی نیند سو سکتی ہیں۔

مغر بی ملکو ں میں خاص طور پر فلیٹس کی دیواریں عام طور پر لکڑی کی ہوتی ہیں۔ یہ اگر ساﺅنڈ پروف نہ ہو ں تو پڑوسیوں کی نیندیں حرام ہو جا تی ہیں۔ انسان فلیٹس میں رہنے سے پہلے بھی جب غاروں میں رہتا تھا، خراٹے لیتا تھا۔ صدیو ں پرانی اس عادت کے بار ے میں کچھ کر نے کے سلسلے میں ماہرین خو د کو بے بس ہی پاتے ہیں، لیکن اب بعض برطانوی ماہر ین کا دعوی ہے کہ وہ اس سلسلے میں خراٹے لینے والو ں کو اس غارت گر نیند و سکو ن عادت سے نجا ت دلا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اس طر ح کم از کم خرا ٹوں کا شور بہت کم ہو سکتا ہے۔ بس ہلکے خرا ٹوں کی خواب آور آواز سنائی دیتی ہے۔

طبی اعتبار سے خراٹو ںکے کئی اسباب ہو سکتے ہیں مثلا ً ناک سے حلق تک جا نے والی نا لی میں کو ئی نقص یا رکا وٹ اس کا سبب ہو سکتی ہے۔ نا ک میں نرم مسے بھی بن جا تے ہیں اور سانس کی تکلیف بھی اس کا سبب بن سکتی ہے۔ اسے عام طور پر نا ک کی ہڈی بڑھ جا نے کا عا رضہ قرار دیا جا تا ہے۔ ان شکایات کی وجہ سے سانس کی آمدورفت آزادی کے ساتھ نہیں ہو تی۔ ناک میں مسے بن گئے ہوں تو انہیں عمل جرا حی سے دور کیا جا سکتا ہے۔ سائی نس کا دواﺅ ں سے علا ج ہو سکتا ہے یا پھر اسے بھی نشتر سے دور کیا جا سکتا ہے۔ یہ سمجھنا غلط ہے کہ خراٹے صرف مرد لیتے ہیں۔ عورتیں بھی کسی سے پیچھے نہیں ہوتی۔ خراٹوں کا ایک عام سبب گلے سے نکلنے والی خر خراہٹ ہوتی ہے۔ ما ہرین کا کہنا ہے کہ دراصل نیند میں خراٹے لینے والے شخص کی زبان اور جبڑا ڈھیلا پڑ کر پیچھے کی طر ف ہو جا تا ہے۔ جس کی وجہ سے تا لو یا گلے کا کوا سانس کی آمدورفت سے پھڑ پھڑا کر آواز پیدا کر تا ہے۔

اس لیے ماہرین نے کچھ ورزشیں وضع کی ہیں۔ جنہیں روزانہ دو ہفتو ں تک سوتے وقت کرتے رہنے سے خراٹے ختم ہو جا تے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ خراٹے لینے والا سو نے کے لیے بستر میں لیٹ کر اپنی زبان کو الٹے چمچے یا ایسی ہی کسی چیز سے دس منٹ تک دبائے رکھے۔ اس عمل سے کوئی پا نچ منٹ بعد جبڑے تھک جائیں گے، لیکن اس عمل کو جا ری رکھنا چاہئے۔ دس منٹ کی اس مشق کے بعد انگلیوں سے ٹھوڑی دو تین منٹ تک زور سے دبائے رکھنا چاہیے ۔گو یا آپ کی انگلیاں، ٹھوڑی سے اور ٹھوڑی، انگلیو ں سے زور کر رہی ہو۔ اس کے بعد منہ بند کر کے زبان سے نچلے دانتو ں کو باہر کی طر ف دھکیلنا چاہیے۔ یہ عمل تین چار منٹ کر کے سو جا نا چاہیے۔ زیر تجر بہ ڈھا ئی سو سے زائد افراد کی بیویوں میں سے اکثر نے دو ہفتو ں کے بعد اپنے شوہروں کے خرا ٹو ں میں نمایاں کمی کی رپورٹ دی۔ بلکہ اکثریت نے خرا ٹو ں کے مکمل خاتمے کا اعتراف کیا۔ باقی نے انہیں قابلِ برداشت قرار دیا۔ بہر نو ع ان سے حلق او رزبان کے عضلا ت میں ڈھیلے پن کی شکا یت کم ضرور ہو جا تی ہے۔ جسے اصطلا حاً عضلاتی استرخاقرار دیا جا تا ہے

از: قمر اسلام