Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Results 1 to 7 of 7

Thread: انگور کے فوائد

  1. #1
    Site Managers

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    52,406
    Blog Entries
    3
    Mentioned
    16 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    انگور کے فوائد



    انگور کو پھلوں کی ملکہ اور جنت کا میوہ بھی کہا جاتا ہے۔


    انگور میں بہت سے مفید غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں جیسے پولی فینالک انٹی آکسیڈنٹ ، وٹامنز اور معدن وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ متوازن غذا کھانے والے بہت سے افراد اپنی اس غذا میں انگور کو ضرور شامل کرتے ہیں خواہ یہ سالم کھائے جائیں یا جوس اور سلاد کے ساتھ لیے جائیں۔


    انگور ایک ایسا پھل ہے جسے باغوں کے علاوہ گھروں میں بھی بیلوں پراگایا جا سکتا ہے۔ انگور بنیادی طورپر یورپ اور بحیرہ روم کے خطے کا پھل ہے، لیکن اب دنیا میں ہر جگہ پایا جاتاہے۔ انگور کی کئی اقسام ہیں۔ جن میں زرد و سبز ، سفید ، سرخ اور سیاہ انگور زیادہ مقبول ہیں۔
    انگور میں ایک پولی فینولک مادہ پایا جاتا ہے اور یہی مادہ ہے جو اسے مختلف رنگ دیتا ہے۔ انگوروں میں مختلف اقسام کے انٹی آکسیڈنٹ پائے جاتے ہیں جو کہ صحت کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں۔


    انگور کی بنیادی طور پر تین نسلیں ہیں جن میں اول یورپی ، دوئم شمالی امریکی اور سوئم فرانسیسی ہائبرڈ قسم ہے۔ یہ تو انگور کا کچھ تعارف ہوگیا ، اب آئیے صحت کے لیے اس کے فوائد کے بارے میں پڑھتے ہیں:۔


    ٭انگوروں میں ایک مادہ رزویراٹرول

    Resveratrol
    پایا جاتا ہے جو کہ پولی فینولک فائیٹو کیمیکل پر مشتمل ہوتا ہے۔ رزویراٹرول ایک انتہائی طاقتور انٹی آکسیڈنٹ ہے جو کہ بڑی آنت اور غدودوں کے کینسر ، دل کی بیماریوں ، اعصابی بیماریوں ، الزائمر اور وائرل و فنگل انفیکشن کے خلاف بہت مفید ہوتا ہے۔

    ٭رزویرا ٹرول خون کی نالیوں میں مالیکیولر میکنزم میں تبدیلی لا کر فالج کے خطرے کو بھی کم کرتا ہے۔ یہ اس طرح سے کام کرتا ہے کہ پہلے خون کے دباؤ کے باعث نالیوں کو ہونے والے نقصان کو کم کرتا ہے اوراس کے بعد نائیٹرک ایسڈ کی پیدوار کو بڑھا کر خون کی نالیوں کو نرم کرتا ہے اور یوں دونوں صورتوں میں بڑھتے ہوئے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے۔ پولی فینولک انٹی آکسیڈنٹ کی ایک اور قسم انتھو سائنز سرخ انگور میں بکثرت پائی جاتی ہے۔ یہ فائٹو کیمیکلز کی ایک قسم ہے جو انٹی الرجی ، انٹی ورم ، انٹی مائیکروبائل اور انٹی کینسر ہے یعنی یہ ان تمام طبی مسائل کے خدشے کو کم کرنے میں معاون ہے۔


    ٭اس طرح ایک اور انٹی آکسیڈنٹ کیچنز بھی سفید اور سبز انگور میں بکثرت ہوتا ہے اور یہ بھی صحت کے تحفظ کے لیے کئی قسم کے کردار ادا کرتا ہے ۔



    اس کے علاوہ انگور میں کیلوریز بہت کم ہوتی ہیں یعنی سو گرام تازہ انگور میں صرف 69کیلوریز ہوتی ہیں جبکہ کولیسٹرول کا تناسب صفر ہوتا ہے۔


    ٭ انگور میں دیگر معدن جیسے فولاد ، کاپر اور مینگنیز بھی بکثرت ہوتا ہے۔ کاپر اور مینگنیز جسم میں خون کی کمی کو دور کرنے میں معاون ہوتے ہیں جبکہ فولاد انگور میں اس وقت اور بھی بڑھ جاتا ہے جبکہ اس کی کشمش بنائی جاتی ہے۔ اس طرح سوگرام تازہ انگور میں لگ بھگ ایک سو اکیانوے ملی گرام الیکٹرولائٹ پوٹاشیم ہوتی ہے جو صحت کے لیے بہت مفید معدن ہے۔


    ٭اس کے علاوہ انگور وٹامن سی ، وٹامن اے ، وٹامن کے، کیروٹینز اور بی کمپلیکس وٹامنز جیسے پائری ڈوکسنز، رائبوفلاون اور تھائیامن کا بھی بہت اچھا ذریعہ ہیں۔


    انگور کا رنگ زرد اور سیاہ ہوتا ہے۔ کچا انگور ترش ہوتا ہے جبکہ پکا ہوا شیریں ہوتا ہے۔ اس کا مزاج پختہ کا گرم تر درجہ اول اور کچا خشک درجہ اول ہوتا ہے۔ اس کی مقدار خوراک بقدر ہضم ہے۔ دوا کے طور پر دو چھٹانک سے ایک پاؤ تک روزانہ ہے۔

    انگور کثیرالغذا اور زود ہضم ہوتا ہے۔
    ٭ خون صالح پیدا کرتا ہے اور مصفیٰ خون بھی ہے۔
    ٭ جسم کو موٹا کرتا ہے۔
    ٭ پختہ انگور زیادہ کھانے سے اسہال آنے لگتے ہیں۔٭ کچا انگور قابض ہوتا ہے اور اسہال کے مرض میں مفید ہوتا ہے۔
    ٭ انگور میں کاربوہائیڈریٹس‘ پروٹین‘ وٹامن اے‘ وٹامن سی‘ کیلشیم اور آئرن پائے جاتے ہیں جو انسانی صحت کیلئے بہت مفید ہوتے ہیں۔
    ٭ جن لوگوں کا معدہ اکثر خراب رہتا ہے ان کیلئے انگور پختہ کا استعمال بے حد مفید ہے۔
    ٭ پسینہ زیادہ آنے کی صورت میں مازو ایک تولہ‘ انگور کا رس چھ تولے‘ ٹھنڈا پانی دو تولے‘ ان تمام اشیاء کو ملا کر بدن پر لیپ کرنے سے فوری فائدہ ہوتا ہے۔
    ٭ گیس یا بوجھل معدہ والے حضرات انگور کا ناشتہ کرنے سے اس مرض سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔
    ٭ انگور دل‘ جگر‘ دماغ اور گردوں کو طاقت دیتا ہے
    ٭ گرمی کے سر درد یا پھر آنکھ جو سرخ ہو کر درد کرنے لگے تو انگور کے پتے پیس کر پیشانی پر لیپ کرنے سے صحت ہوجاتی ہے۔
    ٭ لاغری اور کمزوری میں اس کا استعمال مفید ہے۔
    ٭ پرانے بخار میں انگور کا استعمال مفید پایا گیا ہے۔
    ٭ انگور کا بکثرت استعمال گردہ کی چربی بڑھاتا ہے۔
    ٭ چہرے کا رنگ نکھارتا ہے۔
    ٭ اگر انگور کو تخم خطمی کے ہمراہ پکا کر روم پر لگائیں تو ورم جلدی تحلیل ہوجاتا ہے اورصحت ہوجاتی ہے۔
    ٭ سینے کے جملہ امراض میں انگور بے حد مفید ہے۔
    ٭ پھیپھڑوں سے بلغم کے اخراج کیلئے انگور بہترین دوا ہے۔ ٭ کھانسی کو ختم کرنے کیلئے انگور کے رس میں شہد ملا کر چٹانا مفید ہوتا ہے۔
    ٭ انگور کا جوس یا رس پینے کے بعد پانی ہرگز نہیں پینا چاہیے۔
    ٭ عورتوں کے زمانہ حمل میں انگور کا رس پینے سے حاملہ عورت غشی‘ چکر‘ اپھارہ اور در وغیرہ سے محفوظ رہتی ہے اور بچہ بھی صحت مند اور توانا پیدا ہوتا ہے۔
    ٭ جسمانی طور پر کمزور انسان ایک پاؤ شیریں انگور صبح و شام کھائیں اور رات کو سوتے وقت دودھ میں ایک چمچہ شہد ملا کر پینے سے بالکل صحت مند ہو جائیں گے۔
    ٭ لیکوریا کی صورت میں خواتین کو چاہیے کہ وہ انگور کے رس میں ایک چمچہ شہد ملا کر پئیں تو یقینا مرض دور ہو جائے گا۔ یہ خوراک دس دن کی ہے۔
    ٭ بندش حیض میں انگور کے جوس میں ایک چمچہ شہد اور دوعدد پسے ہوئے چھوہارے ملا کر استعمال کرنا بے حد مفید ہوتا ہے۔
    ٭ گردے اور مثانے کی جملہ بیماریوں کو دور رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ ایک پاؤ انگور روزانہ کھائے جائیں۔
    ٭ مرگی کے مریض کو انگور کا رس پانچ تولہ متواتر تین ماہ تک دن میں تین بار پلانے سے مرگی کا مکمل خاتمہ ہوجاتاہے۔
    ٭ انگور کا رس ایک چمچہ صبح و شام پلانے سے جن بچوں کے منہ اور حلق میں چھالے پڑے ہوں فائدہ ہوتا ہے۔
    ٭ قطرہ قطرہ پیشاب آنے کی صورت میں ایک پاؤ انگور روزانہ کھانا مفید ہے۔
    ٭ ضعف گردہ اور سخت زکام میں انگور کا استعمال بے حد مفید ہے۔
    ٭ تین سال کے بچوں کی قبض دور کرنے کیلئے ایک چھوٹا چمچہ چائے والا انگور کا رس پلانا مفید ہوتا ہے۔
    ٭ جو بچے دانت نکال رہے ہوں اگر انہیں ایک چمچہ انگور کا رس روزانہ پلایا جائے تو دانت بالکل آسانی سے نکل آتے ہیں اور سیدھے بھی رہتے ہیں۔
    ٭ جن چھوٹے بچوں کو سوکھے پن کی بیماری ہوتی ہے ان کو ایک چھٹانک انگور کا رس روزانہ پلانا مفید ہوتا ہے۔
    ٭ گردے کی پتھری کیلئے دو تولے انگور کے پتے رگڑ کر دن میں دو بار پلانے سے پتھری ریزہ ریزہ ہوکر نکل جاتی ہے ایسے مریض کو سادہ پانی بھی وافر مقدار میں پیتے رہنا چاہیے۔
    ٭ انگور کے رس میں ایک چوتھائی چینی ملا کر رِب تیار کر کے کھانے سے دل کو طاقت ہوتی ہے اور مفرح بھی ہوتا ہے۔
    ٭ انگور جگر اور آنتوں کے امراض میں بہت مفید ہوتا ہے۔
    ٭ انگور دوا بھی ہے اور غذا بھی۔ اس لیے اس کو کھانے میں مکمل احتیاط کی جائے‘ ترش انگور سے پرہیز کیا جائے اور تازہ اور اچھے انگور کھائے جائیں تو یقیناً صحت اچھی رہے گی۔

  2. #2
    Site Managers

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    52,406
    Blog Entries
    3
    Mentioned
    16 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: انگور کے فوائد


    ***

    گفتگو کرنے کا کچھ اُس میں ہُنر ایسا تھا
    وہ مری بات کا مفہوم بدل دیتا تھا
    ***

  3. #3
    Site Managers

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    52,406
    Blog Entries
    3
    Mentioned
    16 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: انگور کے فوائد


  4. #4
    Senior Member

    Join Date
    May 2008
    Posts
    1,548
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: انگور کے فوائد

    بہت اچھی شیئرنگ ہے۔۔ شکریہ بھائی

  5. #5
    Site Managers

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    52,406
    Blog Entries
    3
    Mentioned
    16 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: انگور کے فوائد

    Quote Originally Posted by روحان View Post
    بہت اچھی شیئرنگ ہے۔۔ شکریہ بھائی
    بےحد شکریہ
    خوش رہیئے روحان


    ***

    گفتگو کرنے کا کچھ اُس میں ہُنر ایسا تھا
    وہ مری بات کا مفہوم بدل دیتا تھا
    ***

  6. #6
    Site Managers

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    52,406
    Blog Entries
    3
    Mentioned
    16 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)


    کیلیفورنیا: ۔

    انگور میں موجود اجزا نہ صرف موٹے افراد میں چکنائیاں ختم کرکے انہیں بلڈ پریشر اور امراضِ قلب سے بچاتے ہیں بلکہ انہیں مختلف قسم کے انفیکشنز ( امراض کے حملہ آور جراثیم) سے بھی محفوظ رکھتے ہیں۔
    ڈیوس کیلیفورنیا میں واقع ویسٹرن ہیومن نیوٹریشن ریسرچ سینٹر کے ماہرین نے انگور اور اسٹرابری میں موجود فائٹو کیمیکلز کا جائزہ لے کر کہا ہے کہ یہ خصوصاً فربہ افراد کے قدرتی دفاعی (امنیاتی) نظام کو مضبوط بناتا ہے۔ماہرین کے مطابق موٹے افراد میں کسی سرجری کے بعد انفیکشن کا خطرہ 35 فیصد بڑھ جاتا ہے خواہ وہ بیکٹیریا سے ہو یا وائرس سے۔ اس سے ان میں انفیکشن کی تعداد بڑھ جاتی ہے اس کے لیے ماہرین نے بہت سے افراد پر تجربات کیے۔موٹے رضاکاروں کو انگور کا رس پانی میں ملا کر دیا گیا یا صرف ایک فرضی محلول پلایا گیا۔ 3 ہفتوں تک اسے پلایا جاتا رہا جب کہ اگلے 3 ہفتے فرضی محلول اور انگور کے رس کا تبادلہ کیا گیا یعنی پہلے 3 ہفتے فرضی محلول اور پھر اگلے 3 ہفتے تک انگور کا رس دیا گیا۔ اس دوران ان کے خون میں چکنائیوں کو نوٹ کیا گیا جن میں لائپڈز شامل ہیں جو امنیاتی نظام پر اثرانداز ہوکر سوزش کی وجہ بن سکتے ہیں۔ جن مریضوں نے انگور کا جوس پیا تھا ان میں دیگر کے مقابلے میں ایل ڈی ایل کولیسٹرول کم تھا اور اس کی زیادتی دل کے امراض کی وجہ بن سکتی ہے۔اس کے علاوہ سائنسدانوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ انگور کھانے سے سائٹوکائنز میں بھی اضافہ ہوگیا جو انفیکشنز سے لڑنے والے خاص پروٹین ہوتے ہیں۔ اسی طرح اسٹرابری کھانے سے بھی یہ پروٹین جسم میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوا ہے کہ انگور انفیکشنز کو روکنے میں بہت مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

    ***

    گفتگو کرنے کا کچھ اُس میں ہُنر ایسا تھا
    وہ مری بات کا مفہوم بدل دیتا تھا
    ***

  7. #7
    Site Managers

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    52,406
    Blog Entries
    3
    Mentioned
    16 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    ***

    گفتگو کرنے کا کچھ اُس میں ہُنر ایسا تھا
    وہ مری بات کا مفہوم بدل دیتا تھا
    ***

Tags for this Thread

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •