Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Page 9 of 10 FirstFirst ... 78910 LastLast
Results 121 to 135 of 149

Thread: افسانہ نویسی کا ساتواں مقابلہ

  1. #121
    Section Managers

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    21,997
    Mentioned
    5 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: افسانہ نویسی کا ساتواں مقابلہ

    سوچ کا گرداب

    کھڑکیوں کے شیشے چٹخنے کا شور تھا یا تیزی سے بڑھتی ہوئی حدت، جس کی وجہ سے اس کی آنکھ کھلی تھی۔ کبھی وہ آنکھیں مل مل کے اپنے گھر کے مختلف حصوں کو جلتے دیکھتا تو کبھی خود کو بچانے کی فکر کرتا۔ اسکی آرام گاہ سے ملحقہ کمرے دھڑا دھڑ جل رہے تھے اگلی باری اس کےکمرے اور پھر خود اس کی تھی۔ اسے انتہائی خوف محسوس ہوا وہ فوراً تیزی سے بستر سے اٹھا لیکن بچاؤ کی جگہ تلاشنے کی بجائے اپنا کچھ قیمتی سامان بچانے کے لئے آگ لگے ہوئے حصوں کی طرف بھاگا۔ پھر ایک دم سے خود کو روکا کہ جان ہے تو جہان ہے اور پلٹ آیا۔ سارے گھر میں صرف اور صرف گھر کی اشیا کے جل جل کر گرنے چٹخنے کا شور مسلط تھا اور جھلسا دینے والی آگ اسی کا احاطہ کرنے کو تھی۔ اس کی آرام گاہ میں، کمرے میں داخل ہونے والے دروازے کے علاوہ ایک اور دروازہ بھی تھا جہاں پر ٹیرس بنا ہوا تھا۔ یہ گرل نما دروازہ چوروں سے حفاظت کے لئے اکثر لاک کر کے سونا پڑتا تھا۔ اب وہ اپنی جان بچانے کی فکر میں تھا اور ایک یہی راستہ نظر آ رہا تھا۔
    ٹیرس سے کودنے ہی والا تھا کہ ایک عجیب سا خیال اس کے ذہن میں آیا۔
    لوگ کیا سوچیں گے، ایسے کودتا دیکھ کر چور تو نہیں سمجھ لیں گے۔ ایسی حالت میں بھی ذہن نے ایک الگ سی بات سوچی۔ پھر ایک اور خیال آیا۔
    لیکن کون سے لوگ کہاں کے لوگ۔ جب میرا گھر جل رہا ہے تو بجھانے تک تو کوئی آیا ہی نہیں۔ لیکن پھر اس نے مزید غور کیا۔
    یہ سب سوئے ہوئے کیوں ہیں۔۔۔۔۔؟ ان کا پڑوسی جل رہا ہے اور یہ سب سوئے پڑے ہیں۔ آخر کیوں اتنے اطمینان سے سو رہے ہیں۔ عجیب خوفناک سا منظر تھا جسے آنکھیں جھٹلانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ پیچھے آگ اور ادھر یہ۔ وہ کودنے ہی والا تھا کہ اچانک ایک اور خیال آیا کہیں وہ یہ سب خواب تو نہیں دیکھ رہا۔
    نہیں یہ سب خواب نہیں ہو سکتا۔ میرا گھر جل رہا ہے میں دیکھ رہا ہوں۔
    لیکن خواب بھی تو سچ ہی لگتا ہے نا۔
    ہاں لگتا تو ہے لیکن خواب میں کب پتہ چلتا ہے کہ خواب دیکھا جا رہا ہے۔
    اس کے دل و دماغ میں ایک جنگ سی چھڑ گئی تھی۔
    کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان خواب دیکھ رہا ہوتا ہے اور اسے پتہ بھی چل جاتا ہے کہ وہ خواب دیکھ رہا ہے دنیا میں بہت سے لوگ ہیں جن کے ساتھ ایسی بھی کیفیت ہو جایا کرتی ہیں۔ تب وہ کوشش کرتا ہے کہ اگر اچھا خواب ہے تو ختم ہی نہ ہو اور برا خواب ہے تو جلد سے جلد آنکھ کھُل جائے۔ اس کو لگا کہ وہ ایسی ہی کسی کیفیت کے زیرِ اثر ہے۔
    وہ اب خود کو جگانا چاہتا تھا۔
    وہ خود کو جھنجھوڑنے کی کوشش کرنے کا ارادہ رکھتا تھا مگر پھر وہ ایک دم بستر پر جا بیٹھا
    کہ چلو آج دیکھ لیتے ہیں کہ خواب میں آگ کیسے لگتی ہے۔
    وہ مطمئن تھا کہ خواب ہی ہے کچھ نہیں ہو گا تبھی تو اتنی دیدہ دلیری سے بستر پر بیٹھ گیا تھا، لیکن دل ڈر رہا تھا کہ کیا اتنا خوفناک منظر مجھ سے برداشت ہو جائے گا۔ نہیں شاید نہیں ہو گا۔۔۔۔ کچھ دیر ہی میں اس نے یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ خود کو جگا کر رہے گا کیوں کہ پہلے تو وہ خوش ہی تھا کہ وہ بھی ان خوش نصیبوں میں سے ہے جن کو خواب ہی میں خواب کا علم ہو جاتا ہے لیکن بعد میں اس نے یہ سوچا کہ کیا موت کے بعد قبر و قیامت کے مناظر بھی دیکھنا پڑھیں گے۔
    واعظوں کی قبر کے عذاب والی باتیں یاد آئیں اور خوف سے اس کی گھگھی بندھ گئی۔
    میں کل سے ایک نیک اوراچھا انسان بن جاؤں گا تا کہ جب اصل میں قیامت آئے تو مجھے یہ خوف نہ ہو۔۔ وہ بڑبڑایا۔
    اب آگ کمرے کے اندر داخل ہو چکی تھی۔ اس کے کمرے کا دروازہ اور قریب کے پردے جلنے لگے تھے۔۔۔
    وہ اپنے کمرے کو آگ کی لپیٹوں میں محسوس کر کے اندر تک کانپ گیا کہ جب میرا بدن بھی ان لپیٹوں میں ہو گا۔۔۔۔ تو۔۔۔۔
    تو تو ۔۔۔ کچھ نہیں ہو گا بس۔۔
    آج یہ سب دیکھ لوں گا میں۔۔۔ اس نے خود کو کمبل میں اچھی طرح لپیٹ لیا۔۔۔۔
    رات دھیرے دھیرے سرک رہی تھی۔۔ تارے چھٹ رہے تھے۔۔۔
    اندھیری رات کہیں بڑھتی کہی کم ہوتی دکھائی دے رہی تھی۔۔
    دھیرے دھیرے صبح ہو ہی گئی۔۔۔
    صبح فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اس کے گھر کی آگ بجھا رہی تھیں اور ایمبولینس میں پڑی اس کی سوختہ لاش مجسمہ سوال تھی کہ کیا یہ سب ایک خواب نہیں تھا، کیا پڑوسی اتنے بے حس ہو چکے ہیں؟
    پر اس کا جواب پانے کے لیے دوبارہ سے جاگنا اس کے بس میں نہیں رہا تھا۔ بھلا اسے کیا معلوم تھا کہ اسکے نیک اور اچھا انسان بننے سے پہلے ہی قیامت آ بھی چکی۔


    یہ افسانہ مقابلے میں شامل نہیں۔۔۔ جسٹ یہاں کا سناٹا بھگانے کو~۔

    *****

    اے کشور ذرا میری لالچ تو دیکھو
    سوالی ہوں قلب کشادہ کے آگے!!!!۔


    *****


  2. #122
    Senior Member

    Join Date
    Jun 2008
    Posts
    7,798
    Mentioned
    3 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: افسانہ نویسی کا ساتواں مقابلہ

    سوچ کا گرداب
    کسی نوآموز رائٹر کا لگتا ہے اور لگتا ہے کہ گھر بھی مڈل آف نو وئیر میں تھا کہ آس پڑوس میں آگ کے شعلے کسی کو دکھائی ہی نہیں دیے۔ اگر کوئی سچا واقعہ بیان کرنا مقصود تھا تو مزید اصلاح کی ضرورت ہے۔'
    اس میں اچھا پیغام تھا کہ انسان کو آخرت کی تیاری پہلے سے کر کے رکھنی چاہیے۔ آج کل میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔



    ​The Quraan breaks hard hearts and heals broken hearts.

    Grow
    where you are planted

  3. #123
    Senior Member

    Join Date
    Mar 2008
    Posts
    734
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: افسانہ نویسی کا ساتواں مقابلہ

    کش کیا ہو گیا ہے سب کو۔۔۔۔ سب ہی ایسے درد ناک افسانے لکھ رہے ہیں۔۔۔۔

  4. #124
    Senior Member

    Join Date
    Jan 2008
    Posts
    12,232
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: افسانہ نویسی کا ساتواں مقابلہ

    السلام علیکم

    کیا ہو گیا لوگو
    اتنی سستی
    ایسے تو نہیں ہوتا جی

    کیا سارے افسانے میں ہی لکھوں ؟

  5. #125
    Section Managers

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    21,997
    Mentioned
    5 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: افسانہ نویسی کا ساتواں مقابلہ

    Quote Originally Posted by رفعت View Post
    السلام علیکم

    کیا ہو گیا لوگو
    اتنی سستی
    ایسے تو نہیں ہوتا جی

    کیا سارے افسانے میں ہی لکھوں ؟
    وعلیکم السلام
    کچھ نہیں ہو رہا آپی۔۔
    اور مسئلہ تو یہی ہے کہ کچھ بھی نہیں ہو رہا ۔۔۔۔۔۔۔
    آپی یہ سارے افسانے آآ آآ آپ نے لکھے ہیں ۔۔۔۔ ہی ہی ہی ہی

    *****

    اے کشور ذرا میری لالچ تو دیکھو
    سوالی ہوں قلب کشادہ کے آگے!!!!۔


    *****


  6. #126
    Section Managers

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    21,997
    Mentioned
    5 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: افسانہ نویسی کا ساتواں مقابلہ



    *****

    اے کشور ذرا میری لالچ تو دیکھو
    سوالی ہوں قلب کشادہ کے آگے!!!!۔


    *****


  7. #127
    Sisters Society Rose's Avatar

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi
    Posts
    36,508
    Blog Entries
    26
    Mentioned
    15 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)

    Re: افسانہ نویسی کا ساتواں مقابلہ

    Quote Originally Posted by KishTaj View Post
    اپنی آنکھوں کو قناعت کی طرف لا اے شخص
    اس سے پہلے کہ کوئی خواب بڑا ہو جائے



  8. #128
    Senior Member

    Join Date
    Jan 2008
    Posts
    12,232
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: افسانہ نویسی کا ساتواں مقابلہ

    لگتا ہے کسی کو دلچسپی نہیں ہے

    چلیں کوئی بات نہیں

    عیاشی کریں
    یہ مقابلہ نہیں ہو رہا

    میں تھریڈ لاک کر دوں؟

  9. #129
    Senior Member

    Join Date
    Nov 2008
    Posts
    6,678
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: افسانہ نویسی کا ساتواں مقابلہ

    بہت افسوس کی بات ہے ویسے۔۔ کدھر ہیں سارے لکھاری۔۔ یعنی کیا ون اردو پر واقعی موسم خزاں کا دور دورہ ہے

    ~
    http://forums.randi.org/images/smili...s/PAKISTAN.gif
    http://i33.tinypic.com/dmtdhx.jpg

    میری پہچان
    http://i43.tinypic.com/296omco.jpg
    قائد اعظم ﴿رحمتہ اللہ علیہ﴾ کا پاکستان
    کافر ہے تو تابع ہے تقدیرِ مسلماں
    مومن ہے تو وہ آپ ہے تقدیرِ الٰہی


  10. #130
    Senior Member

    Join Date
    Jan 2008
    Posts
    12,232
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: افسانہ نویسی کا ساتواں مقابلہ

    Quote Originally Posted by ابن الاسلام View Post
    بہت افسوس کی بات ہے ویسے۔۔ کدھر ہیں سارے لکھاری۔۔ یعنی کیا ون اردو پر واقعی موسم خزاں کا دور دورہ ہے

    ~

    yehi to

    main aik aakhro afsana post karnay lagi hon ..bohat dukh howa muje aik aik banday ki mintain karo k likhein likhein..ya shayad muje thread banana hi nahi chahiye tha ...

  11. #131
    Senior Member

    Join Date
    Jan 2008
    Posts
    12,232
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: افسانہ نویسی کا ساتواں مقابلہ


    مجاہد کی اذاں




    ”پانی پپ پپ ۔۔۔ پپ پانی دو مجھے۔ اُف پیاس۔۔۔ ایک گلاس اور دے دو۔ خدا کے لئے ایک گلاس اور دے دو‟۔ اُس نے جب پانی کا چھٹا گلاس بھی ایک سانس میں خالی کر دیا تو اُس شخص نے جو جگ اُٹھائے سب کو اُس دسترخوان پر پانی پلا رہا تھا رُک کر حیرت سے اُسے دیکھا۔
    ”کیا بات ہے بھائی؟ کیا صدیوں سے پیاسے ہو؟‟ جگ والے آدمی نے اُلجھے ہوئے انداز میں کہا۔
    ”ایک گلاس اور دے دو شاید میری پیاس اس مرتبہ بجھ جائے‟۔ اُس نے بھیک مانگنے والے انداز میں کہا لیکن وہ جگ والا آدمی سر جھٹکتا ہوا واپس جانے کے لئے مڑا۔
    ”مت جاؤ بھائی ایک گلاس اور دے دو تمہیں خدا کا واسطہ‟۔ وہ یہ کہتے ہوئے اُس کے پیچھے بھاگا اور تب ہی اُس کی نظر ایک بڑے سے ڈرم پر پڑی جو پانی سے بھرا ہوا تھا۔ اُس نے جگ والے آدمی کے پیچھے جانے کی بجائے ادھر کا رُخ کیا اور دونوں ہاتھوں سے چلو بنا کر گھونٹ گھونٹ پانی پینے لگا مگر پیاس تھی کہ بجھتی ہی نہ تھی وہ جیسے جیسے پانی پیتا جا رہا تھا لگتا تھا کہ پیاس اور ہی بڑھتی جا رہی ہے۔ وہ اس کیفیت سے تنگ آ کر حلق کے بل زور سے چیخا۔
    ”کیا ہوا میرے لعل؟ کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ لیا کیا؟‟۔ بی جی کی پرشفقت آواز نے اُس کو ہوش کی دنیا میں لا پٹخا۔
    اُس کا سارا جسم پسینے میں شرابور تھا اور پیاس سے اُس کے حلق میں کانٹے پڑ رہے تھے۔
    ”آہ پانی!‟ وہ بمشکل بولا اور آنکھیں موندے خواب میں برداشت کی گئی تکلیف کو بھلانے کی کوشش میں مصروف رہا۔
    ”یہ لو پانی میرا بچہ!‟ بی جی ہاتھ پانی کا گلاس تھامے اس کے بستر کے پاس آ کھڑی ہوئیں۔ اُس نے جھپٹنے والے انداز میں اُن سے پانی کا گلاس لیا اور ایک ہی سانس میں گلاس خالی کر کے بی جی کو واپس تھما دیا کہ جیسے وہ بھی کہیں جگ والے آدمی کی طرح پانی لے کر چلی نہ جائیں۔
    بی جی خالی گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اُس کے ساتھ ہی تھوڑی سی جگہ بنا کر ٹک گئیں اور اور اُسے اپنے ساتھ لگا کر ہولے ہولے تھپکنے لگیں اور ساتھ ہی آیت الکرسی پڑھ کر اس پر پھونکیں مارنے لگیں۔ اُس نے بی جی کے پُرشفقت لمس سے بہت سکون محسوس کیا۔ تھوڑی دید بعد اُسکی آنکھیں بند ہونے لگیں۔
    کچھ عرصے سے یہ خواب کسی نہ کسی شکل میں اُسے اکثر آتا تھا۔ وہ دیکھتا کہ وہ پیاسا ہے اور پانی کی ایک وافر مقدار پی لینے کے باوجود اُس کی پیاس نہ بجھتی۔ وہ جتنا پانی پیتا اُتنی ہی پیاس بڑھتی چلی جاتی۔ اب تو وہ سونے سے پہلے ایک عجیب سا خوف محسوس کرتا کہ کہیں یہ خواب پھر سے نہ آ جائے۔ لیکن اس نے اس خواب کا ذکر گھر میں کسی سے بھی نہیں کیا حتی کہ آغا جی سے بھی جن سے وہ اپنے دل کی ہر بات کہتا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ”انسان کی نفسیات بڑی عجیب ہوتی ہے بیٹا! اس کو جس چیز سے روکا جائے یہ وہی کرنے پر آمادہ ہوتی ہے‟۔ ڈاکٹر ہاشمی نے اُس کی پوری بات تفصیل سے سننے کے بعد پُر سوچ انداز میں قلم کی نوک منہ میں دبائے ہوئے کہا۔ ڈاکٹر ہاشمی اُس کے پاپا کے بہت اچھے دوست تھے۔ آغا جی کے بعد وہ ہر بات انکل ہاشمی سے کہہ لیا کرتا تھا۔
    ”میں آپ کی بات نہیں سمجھا!‟ اُس نے استفہامیہ نظریں اُن کے چہرے پر گاڑ دیں۔
    ”اچھا تمہیں ایک بات بتاتا ہوں، ایک مرتبہ میں اپنے ڈرائیور کے ساتھ کچھ سامان لینے مارکیٹ گیا تو وہاں ایک دکان کے باہر ایک کونے میں ایک بورڈ نصب تھا۔ میں نے دیکھا کہ لوگ اُس کے پاس کھڑے ہو کر اُس کے اوپر لکھی عبارت کو پڑھتے اور پھر اُس بورڈ کے دوسری جانب جا کر کچھ پڑھتے۔ حالانکہ وہ جگہ عام گزرگاہ سے ہٹ کر تھی لیکن پھر بھی لوگوں کی ایک کثیر تعداد وہاں بورڈ کو سلام کرنے ضرور جا رہی تھی۔ مجھے بھی تجسس ہوا تو میں بھی گاڑی سے اتر کر اُس طرف کو چلا گیا۔ دیکھا تو اُس بورڈ پر لکھا تھا، ”اس بورڈ کے دوسری جانب پڑھنا سخت منع ہے‟۔ اب تو میرا تجسس اور بڑھ گیا میں جلدی جلدی بورڈ کی دوسری طرف گیا تو وہاں ایک چاٹ بیچنے والے کا اشتہار لگا ہوا تھا اور پتہ لکھا ہوا تھا۔ اب دیکھو میں ایک ماہر سائیکاٹرسٹ ہونے کے باوجود ایک عام چاٹ والے کے دام میں پنھس گیا جو انسان کی نفسیات کے اس پہلو سے واقف تھا‟۔ ڈاکٹر ہاشمی نے اُسے واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔
    ”تمہارے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ تم رات کو سونے سے پہلے اپنے آپ کو تاکید کرتے ہو کہ یہ بورڈ نہیں پڑھنا لیکن تمہارا لاشعور اُس بورڈ تک پہنچنے کے راستے تلاش کر ہی لیتا ہے‟۔ ڈاکٹر ہاشمی نے بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا۔
    ”تو پھر میں کیا کروں؟‟ اُس نے بے بسی سے ہونٹ چباتے ہوئے پوچھا۔
    ”اگنور اٹ! جسٹ ٹرائے ٹو اگنور اٹ مائی سن!‟ ڈاکٹر ہاشمی نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اُسے مشورہ دیا تھا۔
    اگنور کرنے کے باوجود کوئی فرق ہی کہاں پڑا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    فصیح احمد صمدانی اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا۔ اُس کے باپ احمد صمدانی نے اپنی پسند سے شادی کی تھی جس میں اُن کے گھرانے کی پسند بھی شامل تھی۔ آغا جی یعنی احمد صمدانی کے والد اور فصیح کے دادا شروع سے ہی بہت کھُلے مزاج کے آدمی تھے۔ جب اُن کے اکلوتے بیٹے نے اُن کے سامنے اپنی پسند کا اظہار کیا تو اُنہوں نے بخوشی اس فیصلے کو قبول کیا اور یوں نوشین ظفر آن کی زندگی کی ساتھی بن گئیں۔ لیکن اُن کی بدقسمتی تھی یا قدرت کی طرف سے ایک امتحان کہ نوشین، فصیح کی پیدائش کے وقت زندگی کی بازی ہار گئیں۔ وہ روتے رہے تڑپ تڑپ کر اُن کو آن کے عدو پیمان یاد دلاتے رہے لیکن نوشین نے آنکھیں نہیں کھولیں اور منوں مٹی تلے جا سوئیں۔ اُس کے بعد اُن کی زندگی کی ویرانی کو فصیح کی معصوم کلکاریاں بھی ختم نہ کر سکیں۔ بہت عرصہ تک وہ دنیا سے بالکل کٹے رہے لیکن آہستہ آہستہ اُنہوں نے اپنے بوڑھے ماں باپ کی خاطر خود کو زندگی کی جانب راغب کیا۔ کاروبار کو، جو اب اُن کی غیر حاضری اور لاتعلقی کی بنا پر تباہی کے دہانے پر تھا، پھر سے ترقی دلانے کے لئے کوشاں ہو گئے۔ دو تین سال تک وہ کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح وہ نوشین کی یادوں سے پیچھا چھڑا سکیں لیکن اُن کے دل نے اُنکی ایک نہ مانی۔ تب اُنہوں نے سارے کاروبار کو بیرونِ ملک منتقل کرنے کا سوچ لیا۔ آغا جی نے اُن کے اس فیصلے کو مکمل طور پر سراہا لیکن اُن کے ساتھ جانے پر تیار نہ ہو سکے۔ اُنہوں نے بھی باپ کو زیادہ مجبور نہ کیا اور ننھے فصیح کو ماں باپ کے حوالے کر کے لندن چلے گئے۔ پچھلے بیس سال سے وہ باہر ہی مقیم تھے۔ نوشین کے بعد وہ کسی اور عورت کو اُنکی جگہ نہ دے سکے بس کاروبار کو ہی زندگی کا اولین مقصد بنا لیا۔ سال میں ایک آدھ بار چکر لگا لیتے لیکن مستقل طور پر واپس آنے کا اُنہوں نے کبھی نہ سوچا۔ فصیح اب تیئس برس کا نوجوان تھا اور انجینئرنگ کے تیسرے سال میں تھا۔اُس کی زندگی تو بس آغا جی اور بی جی کے گرد گھومتی تھی اور وہی دونوں اُس کے لئے ماں باپ بھی تھے، دادا دادی بھی اور بہترین دوست بھی۔ دونوں میں بے حد پیار تھا لیکن دونوں کے مزاج میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ بی جی نماز روزے کی پابند تھیں اور ساتھ ہی غصے کی بے حد تیز۔ آغا جی نہایت ٹھنڈے مزاج کے آدمی تھے لیکن ایک بات اُن میں بہت عجیب تھی وہ نماز نہیں پڑھتے تھے یا شاید کبھی اپنے کمرے میں پڑھتے ہوں لیکن فصیح نے اُن کو کبھی نماز پڑھتے دیکھا نہیں تھا۔ ہاں وہ قرآن پڑھتے رہتے تھے۔ جب بھی فارغ ہوتے قرآن لے کر بیٹھ جاتے۔ اُس وقت اُن کے چہرے پر نہ جانے کیسی چمک ہوتی تھی جس کو فصیح کبھی سمجھ نہ پایا۔ ایک دن اُس نے اُن سے پوچھا بھی تھا۔
    ”آغا جی! ایک بات کہوں؟‟
    ”بولو برخوردار!‟
    ”آپ کبھی نماز کیوں نہیں پڑھتے؟‟ اُس نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔
    آغا جی چپ ہو گئے۔ وہ کچھ سوچتے رہے جیسے الفاظ ترتیب دے ریے ہوں۔
    ”نماز۔۔۔ مجھ جیسے گنہگار کو ایک عمر چاہیے اس کی روح کو سمجھنے کے لئے‟، آغا جی کی آواز بہت پست تھی۔ اُن کے ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے۔ فصیح کو اُن کے ہاتھوں میں کپکپاہٹ واضح نظر آ رہی تھی۔ اُن کی آنکھوں میں دیکھ کر لگ رہا تھا کہ کہیں بہت دور کسی سوچ کی گہرائی میں کھو گئے ہوں۔ پھر بہت دیر کے بعد بولے۔
    ”نماز کیا ہے؟ یہی نا کہ میں اللّٰہ سے ہمکلام ہو جاؤں۔ اُس سے بات کروں۔ اُس کو اپنی سناؤں۔ اُس سے مانگوں۔ رحم کی استدعا کروں۔ اُس کے آگے جھک جاؤں۔ اُس کی تعریف میں رطب اللسان ہو جاؤں۔ اُس کو بتاؤں کہ میں کیا ہوں ایک حقیر کیڑا جسے جب وہ چاہے مسل کر رکھ دے۔ اُس کو بتاؤں کہ وہ کتنا عظیم ہے۔ کتنا اونچا ہے۔ اُس کی عظمت کو پانے کے لئے پتا نہیں مجھے کون کون سی منزلیں طے کرنی ہوں گی۔ نہیں میں اس قابل نہیں ہوا ابھی کہ یہ سب کر سکوں۔ میں جب جائے نماز پہ کھڑا ہوتا ہوں تو میری حالت اُس طالبعلم کی سی ہوتی ہے جس کا امتحان ہو اور اُس کو ایک لفظ بھی یاد نہ ہو۔ بس پھر کمرہ امتحان سے بھاگنے میں ہی عافیت محسوس کرتا ہوں۔ بس میں نہیں پڑھ سکتا نماز۔ میں اُس کے جلال کی تاب نہیں لا سکتا‟۔ آغا جی ایک سانس میں بولتے چلے گئے۔ اُنکا جسم پسینے میں شرابور ہو گیا۔
    ”آغا جی!‟، فصیح کے دل کی دھڑکن بہت تیز ہو گئی تھی۔ اُس کو لگ رہا تھا کہ اُس کا دل بند ہو جائے گا اُس نے آغا جی کو کبھی ایسی حالت میں نہیں دیکھا تھا وہ تو بہت گہرے مزاج کے آدمی تھے کبھی جذباتی نہیں ہوئے تھے۔
    ”یہ پانی لیجیئے‟، اُس نے جلدی سے ٹیبل پر رکھے جگ میں سے پانی گلاس میں اُنڈیل کر اُن کے لبوں سے لگا دیا۔
    ”قرآن!‟، آغا جی تو کسی اور ہی دنیا میں پہنچے ہوئے تھے۔ ایسے گویا ہوئے جیسے اُن کے منہ میں شیرینی گھُل گئی ہو۔
    ”قرآن اُس کی زبان ہے۔ اُس کا کلام ہے۔ اُس کے ہاں سے آیا ہے۔ نماز میں تو ہم اُس سے مخاطب ہوتے ہیں نا اور قرآن میں وہ ہم سے مخاطب ہوتا ہے۔ نماز میں ہم بولتے ہیں اور وہ سنتا ہے جبکہ قرآن میں وہ بولتا ہے اور ہم سنتے ہیں۔ اور مجھے اُسے سننا اُسے سنانے سے زیادہ تسکین دیتا ہے، اُس کے ہاں سے آئے ہوئے الفاظ کو اپنے لبوں سے دہرانا، اُففف، کیا بتاؤں کیسا مزا دیتا ہے اور یہی الفاظ میرے آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے من و عن ادا ہوئے ہوں گے‟، لگ رہا تھا جیسے آغا جی کو کسی نے جادو کی چھڑی سے چھو کر ٹھیک ٹھاک کر دیا ہو۔ اُن کے چہرے کی شگفتگی لوٹ آئی تھی۔
    وہ حیرت سے منہ کھولے آغا جی کے اس پل پل بدلتے روپ کو دیکھ رہا تھا۔ اُنکی ساری باتوں میں سے کوئی ایک بات بھی اُس کے پلے نہیں پڑی تھی۔
    آغا جی کی پرسنالیٹی اُس کو بہت متاثر کیا کرتی تھی جانے کیا تھا اُن میں بس اُن کے پاس بیٹھنے سے اُس کو بہت سکون ملا کرتا تھا۔
    آغا جان کے بھی بہت حیران کر دینے والے روپ تھے۔ بڑے ہی بھی عجیب تھے وہ۔ اُن کی چھوٹی سے لائبریری میں بے شمار کتابیں موجود تھیں لیکن جانے کیا بات تھی کہ اُس نے ہمیشہ اُنہیں اقبال کو پڑھتے پایا تھا۔ ہر رات وہ اقبال کے کلام کو پڑھے بغیر سو نہیں سکتے تھے۔



    ”آغا جی میں کوئی اسلامک سینٹر جوائن کرنا چاہتا ہوں‟، وہ رات کو کھانے کے بعد آغا جی کے کمرے میں بیٹھا اجازت مانگ رہا تھا۔
    ”کیوں برخوردار؟ اسکی ضرورت کیوں پیش آ گئی؟‟، آغا جی نے محبت بھری نظروں سے اُسے دیکھا۔ وہ کتنا مختلف سا نوجوان تھا۔ بہت معصوم، اُسکی خواہشات بھی ایسی ہی معصوم ہوا کرتی تھیں۔
    ”پتا نہیں آغا جی! بس میں اچھا مسلمان بننا چاہتا ہوں‟، وہ سر جھکائے جھکائے بولا۔
    ”اچھا مسلمان؟‟، آغا جی زیرِ لب مسکرائے۔
    ”اچھا مسلمان کیا ہوتا ہے میاں؟‟،
    ”پتا نہیں، یہی تو جاننا چاہتا ہوں۔ لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ میں بالکل بھی اچھا مسلمان نہیں ہوں۔ تبھی تو۔۔۔‟، اُس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
    ”بہت اچھی بات ہے بیٹا۔ اللہ تمہاری مدد کرے۔ میں بھلا اس نیک کام سے تمہیں کیسے روک سکتا ہوں؟‟، آغا جی نے اپنا پُرشفقت ہاتھ اُسکے سر پر رکھ دیا۔ وہ ایسے ہی تھے، ہمیشہ سب کی خوشی میں خوش ہونے والے، ہر ایک کی رائے کو اسی طرح اہمیت دینے والے۔

    ”آغا جی آپ اُس کو سمجھائیں بس۔ اُس کا اُٹھنا بیٹھنا کچھ عجیب سے لوگوں میں ہے‟، اس بات کو ایک دو ماہ گزرے تھے کہ فصیح کا دوست ذوہیب آغا جی کے پاس بیٹھا تشویش ذدہ لہجے میں کہہ رہا تھا۔
    ”کس طرح کے عجیب لوگ بیٹا؟‟، آغا جی حیران ہوئے۔
    ”پتا نہیں کوئی مولوی ٹائپ لوگ ہیں‟، ذوہیب ہچکچاتا ہوا بولا تو آغا جی ہنس پڑے۔ اُس کے سبھی دوست آغا جی کے بھی دوست تھے۔ وہ سب آغا جی سے اپنے مسئلے مسائل اسی طرح بے تکلفی سے شئیر کر لیا کرتے تھے۔ لیکن اس بار ذوہیب ایک الگ ہی مسئلہ لے کر حاضر ہوا تھا۔
    ”ہاں اُس نے ایک بار مجھ سے ذکر کیا تھا کہ وہ اسلامک سنٹر جوائن کرنا چاہتا ہے‟، آغا جی کو جیسے سکون سا مل گیا۔ وہ ذوہیب کے انداز پہ تشویش میں مبتلا ہو گئے تھے لیکن اُسکا جواب سن کر وہ اسکی معصومیت پر مسکرا رہے تھے۔
    ”نہیں آغا جی وہ کسی اسلامک انسٹیٹیوٹ نہیں گیا۔ وہ ہماری یونیورسٹی کے ہی لوگ ہیں بس چھوٹی سی یونین بنا رکھی ہے۔ اُن کے پاس جاتا ہے۔ اور کلا سز بھی چھوڑ رہا ہے۔ آپ جانتے ہیں نا کہ اگزامز کتنے نزدیک ہیں اُس کی پڑھائی کا حرج ہو رہا ہے‟، ذوہیب ایک بہت اچھا دوست ہونے کے ناطے اُس کے لئے صحیح معنوں میں پریشان تھا۔
    ”اچھا برخوردار! آج آنے دو فصیح میاں کو، ان سے بھی دو دو ہاتھ ہو جائیں آج‟، وہ ذوہیب کے کندھے پر ہاتھ رکھ دوستانہ انداز میں بولے تو ذوہیب مسکرا دیا۔ اُسے یقین ہو گیا تھا جیسے اب یہ مسئلہ بآ سانی حل ہو جائے گا۔

    ”آغا جی آپ!‟، وہ اپنے کمرے کے دروازے پر آغا جی کو کھڑے دیکھ کر کُرسی سے اُٹھ گیا۔
    ”کہاں ہوتے ہو یار آج کل؟ کبھی ہمیں بھی وقت دے دیا کرو‟، آغا جی ہیمشہ کی طرح بے تکلفانہ انداز میں بولے جیسے وہ بچپن کے کسی دوست سے مخاطب ہوں۔
    ”بس کچھ یونیورسٹی کی مصروفیات ہیں آغآ جی‟، اُس نے سر جھکائے جھکائے کہا۔
    اُس کا حلیہ تھوڑا عجیب سا تھا۔ شیو بڑھی ہوئی تھی اور کمزور کمزور سا لگ رہا تھا۔ آغا جی اُسے بغور دیکھ رہے تھے لیکن انہوں نے اُس سے کوئی سوال نہیں کیا اور ادھر ادھر کی باتیں کر کے واپس آ گئے۔
    ”میرے اللہ مجھے معاف کر دے میں بہت گناہ گار ہوں۔ میں نے اپنی ساری زندگی گناہوں کی دلدل میں گزار دی۔ تو بخش دے مجھے مولا۔ میں ہر وقت دوستوں کے ساتھ ہلا گلا کرتا تھا پارٹیوں میں جاتا تھا موسیقی کا بے حد شوقین تھا۔ دنیاوی تعلیم حاصل کرنے میں لگا رہا کبھی نماز کی طرف دھیان نہیں دیا۔ عبادات کو ہمیشہ نظر انداز کیا۔ تو مجھے معاف کر دے میں آئندہ کبھی عبادات میں کوتاہی نہیں کروں گا۔ تو مجھے معاف کر دے‟، اگلے دن اُس کے کمرے سے تڑپ تڑپ کر رونے کی آوازیں آ رہی تھیں اور آغا جی کمرے کے باہر کھڑے کسی گہری سوچ میں گم تھے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ اُسے سنبھلنے کا موقع ہی نہیں مل پایا۔ وہ آخری پیپر دے کر گھر آیا ہی تھا کہ پاپا کے ہارٹ اٹیک کی خبر ملی۔ اگلے ہی روز وہ اور آغا جی لندن کے لئے روانہ ہوگئے۔ بی جی کو اس بات سے بے خبر رکھا گیا بس اتنا کہا گیا کہ فصیح کو کسی کمپنی نے جاب انٹرویو کے لئے بلایا ہے۔ پاپا کو بہت شدید ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔ وہ آئی سی یو میں تھے۔ تین دن تو جیسے آغا جان اور اس کے لئے قیامت سے کم نہیں تھے۔ وہاں ڈاکٹرز کسی کو ہاسپٹل میں رکنے نہیں دے رہے تھے اور اُن دونوں کو گھر میں چین نہیں آتا تھا۔ اب تین دن کے بعد پاپا کی حالت کچھ سنبھلی تھی۔ وہ اب خطرے سے تو باہر تھے لیکن ڈاکٹرز نے سختی سے آرام کی تاکید کی تھی اور کسی بھی قسم کا کام کرنے سے منع کر دیا تھا۔ تب اُنہوں نے پہلی بار فصیح کو اپنے پاس رُک جانے کے لئے کہا۔ آغا جی نے بھی اُس کو سمجھایا کہ اب اپنے باپ کے ساتھ کچھ وقت گزارنا ہی ان دونوں کے حق میں بہتر ہے۔ اور یوں آغا جی اسے زمانے سے لڑنے کے لئے تنہا چھوڑ کر پاکستان واپس چلے گئے اور وہ آج پاپا کے آفس میں اُن کی کرسی پہ بیٹھا کاروباری معاملات دیکھ رہا تھا۔ صدیقی صاحب پاپا کے مینیجر اُس کو اہم معاملات سے آگاہ کر رہے تھے۔ بزنس مینیجمنٹ سے تو اس کا دورونزدیک سے بھی واسطہ نہیں تھا لیکن اب پاپا کے لئے اُسے یہ سب کرنا تھا۔

    اُس کو یہاں آئے اب تو ایک سال ہونے کو تھا اور شاید وہ یہاں کی زندگی کا عادی ہو چلا تھا۔ پہلے تو وہ آغآ جی سے ہر روز ہی فون پہ بات کرتا تھا لیکن اب کچھ دن سے اُس نے ایک اور اسلامک سنٹر جوائن کر لیا تھا۔ شام کو آفس سے فارغ ہوتے ہی سیدھا وہاں کا رُخ کرتااور اُس کے بعد ٹینس کھیلنے چلا جاتا کیونکہ ایک یہی اُس کا واحد مشغلہ تھا۔ زندگی بس اسی ڈگر پر رواں دواں تھی۔ آغا جی سے بات نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    ”ہائے فصیح!‟، اُس نے سر اُٹھایا تو کیتھرین کھڑی مسکرا رہی تھی۔ کیتھرین کی اُس سے پہلی بار ملاقات ٹینس کورٹ میں ہوئی تھی۔ کلب کی طرف سے آرگنائز کئے ہوئے میچز میں وہ اس کی حریف ہوا کرتی تھی لیکن جانے کیا بات تھی کہ میچ کے بعد وہ اُس سے مختلف موضوعات پر بات چیت کرنے اور ساتھ ساتھ رہنے کی کوشش کرتی اور اُسی نے فصیح کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا جو کہ فصیح نے جان بوجھ کر نظر انداز کر دیا تھا کیونکہ اُسکی نظر میں عورت کے ساتھ دوستی کی اجازت ہمارا مذہب نہیں دیتا تھا اور وہ تو ویسے بھی غیر مسلم تھی۔ لیکن پھر بھی وہ جانے کیسی ڈھیٹ تھی ہمیشہ اُس سے بہت گرمجوشی سے ملتی تھی بلکہ اپنی باتیں بھی شئیر کیا کرتی تھی جو کہ فصیح نا چاہتے ہوئے بھی سنتا رہتا تھا۔
    ”کیا کر رہے ہو؟ مصروف تو نہیں تھے؟‟، اُس کی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر وہ خود ہی اُس کے سامنے دھم سے بیٹھ گئی۔
    ”نہیں! آج بہت دن کے بعد دکھائی دیں تم؟‟، اُس کے منہ سے بلا ارادہ نکل گیا۔
    ”ہاں! آئی واز سو اپ سیٹ‟، وہ اُداس سی ہو گئی۔
    ”کیوں؟‟، اُس نے پوچھا۔
    ”بس مجھے مارک کی بہت یاد آ رہی تھی۔ ایک سال ہونے کو آیا اُسے مجھے چھوڑے، لیکن وہ اب بھی مجھے بہت یاد آتا ہے۔ وہ تو اتنا کمینہ ہے کہ میرے سامنے اپنی نئی گرل فرینڈ کے سامنے گھومتا ہے لیکن پھر بھی میں اُس سے نفرت نہیں کر سکتی۔ مجھے بتاؤ فصیح جب میں بہت اداس ہوں تو کیا کیا کروں؟‟، اُس نے ایک سانس میں بولتے بولتے ایک دم سوال کیا۔
    ”تم چرچ نہیں جاتیں کیا؟‟، فصیح نے پوچھا۔
    ”چرچ؟ ہاہاہا! میں چرچ کیوں جاؤں بھلا؟ میں کرسچن تو نہیں ہوں‟، وہ ہنسی۔
    ”اوہ آئی ایم سوری! مجھے نہیں پتا تھا کہ تمہارا مذہب کیا ہے؟‟، فصیح شرمندہ سا ہو گیا۔
    ”میرا کوئی مذہب نہیں‟، وہ سامنے گراؤنڈ کی گھاس پر نظر جمائے ہوئے بولی۔
    ”کیا مطلب؟‟، فصیح نے گردن موڑ کر حیرت سے اُسے دیکھا۔
    ”تم ایک مذہبی اسکالر ہو۔ تمہیں تو پتا ہو گا کہ مذہب اُن کا ہوتا ہے جو گاڈ پہ ایمان رکھتے ہیں لیکن میں کسی بھی گاڈ پہ ایمان نہیں رکھتی‟، وہ لاپروائی سے بولی۔
    ”کسی بھی گاڈ کا کیا مطلب ہے؟ گاڈ تو سب کا ایک ہی ہے‟، فصیح اس کے انداز پہ کانپ کر رہ گیا، لیکن خود پہ قابو رکھتے ہوئے اُس نے بات بڑھائی۔
    ”کیا مطلب؟ کیا تم لوگوں کا گاڈ کرسچنز کے گاڈ سے الگ نہیں ہے؟‟، وہ پوری آنکھیں پھاڑ کر فصیح کو دیکھنے لگی۔
    ”نہیں۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔ گاڈ سب کا ایک ہی ہے۔ بس سب کی عبادات کے طریقے مختلف ہیں۔ جس طرح اس کینٹربری کلب تک لوگ مختلف راستوں سے ہو کر آتے ہیں، لیکن منزل سب کی ایک ہی ہوتی ہے۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون کس راستے سے ہو کر آیا ہے۔ بس پہنچنا شرط ہے‟، فصیح نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
    ”حیرت ہے میں تو پہلی بار یہ سن رہی ہوں‟، وہ نہ یقین کرنے والے انداز میں بولی۔
    دونوں کے درمیان کچھ لمح؁ے خاموشی طاری رہی۔
    ”اچھا مجھے یہ بتاؤ کہ جیسس (عیسٰی) کون تھا؟‟، وہ کچھ دیر بولی جیسے بہت سوچنے کے بعد یہ سوال تلاش کر کے لائی ہو۔
    ‟جیسس اللّٰہ کے نبی ہیں‟، فصیح نے مختصرا جواب دیا۔
    ‟مطلب کرسچینز کے گاڈ! رائٹ؟‟، اُس نے فصیح کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بہت ٹھوس لہجے میں کہا۔
    ”تو کیا وہ تمہارے بھی گاڈ ہیں؟‟، پھر فصیح کے جواب کا انتظار کئے بغیر بولی۔ اُس کا لہجہ استہزاء لئے ہوئے تھا۔
    ”نہیں ہم اُن کو نبی مانتے ہیں خدا نہیں، خدا تو بس ایک ہے‟، فصیح کو اچھا لگنے لگا اُس کے خیالات کی تصحیح کرنا۔
    ”تو پھر سب مذاہب کا گاڈ کیسے ایک ہوا؟‟، اُس نے پھر سے وہی بات کی۔
    ” نہیں پہلے ایسا نہیں تھا۔ عیسائی بھی پہلے ایک اللّہ کو ہی مانتے تھے۔ بلکہ وہ جیسس کو گاڈ نہیں گاڈ کا بیٹا کہتے ہیں۔ بات تو ایک ہی ہے۔ گاڈ کسی کا باپ، بیٹا یا بھائی نہیں۔ اصل میں اُن کے مذہب میں بھی یہ تبدیلی بعد میں ہوئی ہے۔ تم نے سنا تو ہو گا نا ان کے دو گروپس ہیں، کیتھولک اور پروٹیسٹنٹس‟، فصیح نے جواب دیا۔
    ”تم ایسا کیسے کہہ سکتے ہو کہ اُن کے مذہب میں تبدیلی ہوئی ہے؟ عیسائی تو کبھی اس بات کو نہیں مانیں گے۔ بلکہ کوئی بھی مذہب یہ بات نہیں مانے گا۔ تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ جیسس (عیسٰی) نبی ہیں خدا یا خدا کے بیٹے نہیں ہیں؟‟، کیتھرین اُلجھ سی گئی۔
    ”کیونکہ قرآن میں لکھا ہے کہ خدا ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے‟، فصیح نے دوبدو جواب دیا۔
    ”اوہ تو تم اس بات پہ اس لئے ایمان رکھتے ہو کیونکہ وہ تمہاری کتاب میں لکھا ہے؟ تم تو اُسے ہی ٹھیک کہو گے لیکن میں، کوئی کرسچن یا کسی بھی مذہب کا آدمی اس بات کو کیسے مان سکتا ہے کہ تمہاری کتاب میں جو لکھا ہے وہ سچ ہے؟‟، کیتھرین اُس سے دلیل مانگ رہی تھی۔ ”ہر کوئی اپنے مذہب کو سچا اسی لئے مانتا ہے کیونکہ وہ اُس کا مذہب ہے‟، وہ مزید گویا ہوئی۔
    ”نہیں ایسی بات نہیں ہے۔ تم غور کرو تو تمہیں بہت سی ایسی نشانیاں ملیں گی جن سے ثابت ہوتا ہے کہ گاڈ بس ایک ہی ہے۔ کائنات ایک بہت مربوط نظام کے تحت چل رہی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی ایک ہی قوت ہے جو اسکو چلا رہی ہے۔ ایک سے زیادہ ہوتے تو مختلف کاموں کے لئے آپس میں جھگڑتے، اور شاید کائنات کا نظام درہم برہم ہو جاتا‟، فصیح کا لہجہ مدلل ہو گیا۔
    ”دنیا کا قانون تو یہ ثابت کرتا ہے کہ ٹیم ورک سے ہی ترقی ممکن ہے۔ اکیلا کوئی بھی ہو کسی مکمل نظام کو نہیں چلا سکتا‟، کیتھرین اس کی دلیل سے مطمئن نہیں ہوئی۔
    ”گاڈ تو وہ ہے جس نے یہ دنیا بنائی ہے۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ وہ ہمیں زندگی دیتا ہے اُسے موت نہیں آتی اور۔۔۔‟،
    ”لیکن جیسس بھی تو مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ وہ بیماروں کو ٹھیک کرتے تھے۔ اور وہ زندہ ہیں۔ کتنی صدیاں بیت گئیں مگر وہ زندہ ہیں۔ ایسا ہی کہتے ہیں نا کرسچنز؟ اور یہی خوبیاں تم گاڈ کی بھی بتا رہے ہو، تو پھر دونوں میں کیا فرق ہوا؟‟، وہ اُسکی بات کاٹتے ہوئے بولی۔
    ”ہاں لیکن وہ انسان تھے۔ اللّٰہ نے اُن کو یہ خصوصیات عطا کی تھیں۔ لیکن اللہ تو ان خصوصیات کے لئے کسی کا محتاج نہیں‟، اُسے لگا اُس کے پاس الفاظ ختم ہو گئے ہوں۔ اللہ کی ذات کو بیان کیسے کرے؟
    ”تمہیں یہ اس لئے معلوم ہے کہ یہ قرآن میں لکھا ہے؟ اور کرسچنز کو یہ اس لئے معلوم ہے کہ وہ بائبل میں لکھا ہے۔ باقی سب مذاہب کے لئے بھی وہی ٹھیک ہوگا جو اُن کی کتابوں میں لکھا ہے۔ سبھی کے لئے اپنا اپنا ایمان ٹھیک ہے لیکن سچ کیا ہے؟ کیسے ثابت ہو گا؟ میں جاننا چاہتی ہوں‟، کیتھرین کی آنکھوں میں اُلجھن بہت واضح ہو گئی۔


    ”تمہیں پتا ہے اُس دن کی تمہاری باتوں کے بعد سے پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ میں نے مارک کے علاوہ کچھ اور بھی سوچا ہو‟، کیتھرین ٹینس کورٹ میں اُس کو دیکھ کر اُس کے پاس آتے ہی بولی۔
    ”تمہاری باتیں بہت انٹرسٹنگ تھیں لیکن میں اُن کے متعلق مزید جاننا چاہتی ہوں‟، وہ اُسے خاموش دیکھ کر بولی۔
    ”اُس کے بعد سے میں سوچ رہی ہوں کہ مذہب کیا ہوتا ہے؟ مذہب کیوں بھیجا گیا اور پھر اتنے سارے مذاہب کیوں ہیں؟ اگر گاڈ ایک ہی ہے تو اُس نے اتنے سارے مذاہب کیوں بنائے؟ انسان کس راستے پر چلے؟‟، یوں لگتا تھا کہ وہ یہ سب جاننے کے لئے بہت بیتاب ہے کیونکہ وہ سوالوں پر سوال کئے جا رہی تھی۔
    وہ ابھی تک چپ سادھے کھڑا تھا۔
    ”فصیح مجھے آج رات کسی پارٹی میں جانا ہے لیکن مجھے تم سے یہ سب باتیں ضرور کرنی ہیں۔ ابھی تو میں جاتی ہوں پھر ملیں گے ڈئیر۔ بائے‟، وہ جاتے جاتے اُس کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولی اور تیزی سے باہر کی جانب چلی گئی۔
    اُس کے جانے کے بعد فصیح وہیں کھڑا رہا۔ اُسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیتھرین کہاں سے ایسے سب سوال ڈھونڈ کے لے آتی ہے۔ اُس نے علامہ صاحب سے بھی پوچھا تھا جن کے علم و فضل سے آجکل وہ فیضیاب ہو رہا تھا لیکن علامہ صاحب نے اُسے یہ کہہ کر مطمئن کر دیا تھا کہ کافروں کے ایسے سوالوں کے متعلق سوچنا ٹھیک نہیں جو انسان کو کفر کی جانب لے جائیں۔ خدا تو ایک ظاہر حقیقت ہے۔ ایسے سوال کرنے والے خود تو جہنمی ہیں ہی ساتھ میں مسلمانوں کا ایمان بھی خراب کرتے ہیں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ”آؤ کافی پینے چلیں‟، آج بہت دن کے بعد پھر پارک میں اُس کی کیتھرین سے ملاقات ہوئی تھی، جانے کہاں گم تھی وہ۔
    ”نہیں میرا روزہ ہے‟، وہ بنچ پہ بیٹھے بیٹھے ہی بولا۔
    ”اُس دن سے میں اس مہم پر لگی ہوں۔ مختلف مذاہب کے لوگوں سے ملی ہوں اور ایک بہت انٹرسٹنگ بات سامنے آئی ہے۔ جانتے ہو کیا؟‟،
    ہاہاہا، ہر ایک یہی کہتا ہے کہ میرا مذہب سچا ہے‟، وہ جانے کیوں ان باتوں میں بہت دلچسپی لے رہی تھی، پیچھے ہی پڑ گئی تھی۔
    وہ خاموش ہی رہا۔
    ”اچھا چھوڑو یہ بتاؤ کہ کتنا مشکل ہوگا نا خالی پیٹ کام کرنا؟‟، وہ ہمدردی سے بولی۔ ”مجھے ایک بات بتاؤ فصیح! تم تو کہتے ہو کہ گاڈ کسی کو تکلیف میں نہیں ڈالتا تو پھر یہ روزہ کیوں؟ تم لوگوں کو بھوکا رکھ کر وہ تکلیف میں کیسے ڈال سکتا ہے؟‟، وہ سنجیدہ ہوتے ہوئے بولی۔
    ”نہیں یہ تکلیف نہیں ہے۔ یہ ہمارے اللہ کا حکم ہے اور ہمیں اُس کا حکم مان کر خوشی ہوتی ہے۔ اُن لوگوں کی بھوک پیاس کا احساس ہوتا ہے جن کو ایک وقت کا کھانا بھی نہیں ملتا۔ روزے کے اور بھی بہت سے فوائد ہیں۔ ہماری صحت پر روزے کے بہت اچھے نتائج مرتب ہوتے ہیں اور سائنس نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے‟، وہ مسلسل بولتا چلا گیا۔
    ”اچھا؟ تو پھر یہ بات آج تک دنیا کے سامنے کیوں نہیں آئی؟ مجھے بتاؤ کہاں لکھا ہے؟ کس نے کی ہے ریسرچ؟ کہاں پبلش ہوئی ہے؟ میں پڑھنا چاہتی ہوں کہ کیا لکھا ہے؟‟، وہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
    ”ہاں وہ۔۔۔ مم مجھے ابھی تو نہیں پتا لیکن میں تمہیں معلوم کر کے بتاؤں گا‟، وہ گڑبڑا سا گیا۔ یہ تو اس نے ہزاروں بار سنا تھا، اخبارات میں پڑھا تھا کہ ایسی تحقیق ہوئی ہے، فلاں غیر مسلم نے یہ ثابت کیا ہے روزہ رکھنے سے انسانی صحت پر بہترین نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ وہ انہی باتوں پر یقین کر لیا کرتا تھا کبھی اس ریکارڈ کو جانچنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اسے پتا نہیں تھا کہ کل کوئی اس سے ایسا سوال کر بیٹھے گا۔

    ”تمہاری عورتوں کو سر ڈھانکنے کو حکم کیوں ہے فصیح؟ کیا عورت کا دل نہیں کرتا کہ وہ اچھا لباس پہن کر باہر جائے لوگ اُس کو سراہیں۔ یہ پابندیاں کیوں ہیں؟‟، وہ آج پھر فصیح کو گھیرے ہوئے تھی۔ جانے کیوں اس نے اس بات کو انا کا مسئلہ بنا لیا تھا، جب بھی ملتی اسی موضوع پہ بات کرتی۔ اور ہمیشہ ایسے ہی سوال اُس کے لبوں پر ہوتے۔
    ”تم لوگ شادی سے پہلے کسی کو گرل فرینڈ یا بوائے فرینڈ نہیں بنا سکتے۔ کیا یہ آزادئ رائے کو سلب کرنے والی بات نہیں ہے؟‟، اس نے پوچھا۔
    ”نہیں! دیکھو مذہب نے جن باتوں سے منع کیا ہے اس میں انسان کا ہی فائدہ ہے۔ شراب پینے سے منع کیا گیا ہے تو اس لئے کہ انسان نشے کی حالت میں اپنی سوجھ بوجھ کھو بیٹھتا ہے۔ اچھے برے کی تمیز نہیں رہتی۔ تو وہ انسان سے جانور بن جاتا ہے‟، فصیح ہر ممکن کوشش کر رہا تھا کہ وہ ان دلائل سے قائل ہو جائے لیکن اُسے بے سود لگتا تھا۔
    ”لیکن یہ تو تب ہوتا ہے نا جب بہت زیادہ شراب پی لی جائے۔ لیکن اگر شراب اگر نشہ نہ دے تو تب تم کیا کہو گے؟‟، وہ ہر بات کی گہرائی میں چلی جایا کرتی تھی۔
    ”نہیں شراب میں الکوحل ہوتا ہے۔ میڈیکل سائنس بھی کہتی ہے کہ وہ صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔ اسلام میں اُنہی چیزوں سے منع کیا گیا ہے جو انسان کے لئے کسی بھی طرح سے نقصان دہ ہیں‟، فصیح نے جواب دیا۔
    ”اچھا تو کیا صرف اسلام میں منع کیا گیا ہے شراب پینے سے؟‟، اُس نے پوچھا۔
    ”نہیں ہر مذہب میں۔ میرا مطالعہ اتنا وسیع نہیں ہے کہ میں دنیا کہ ہر مذہب کے بارے میں کوئی مدلل بات کر سکوں لیکن سبھی مذاہب میں اُن باتوں سے روکا گیا ہے جن سے انسان کو کسی بھی طرح کے نقصان کا احتمال ہو‟، فصیح نے جواب دیا۔
    ”بہت عجیب بات ہے فصیح، بہت ہی عجیب، اگر ہر مذہب اچھائی ہی سکھاتا ہے تو پھر ایک انسان کو صرف مسلمان ہی کیوں ہونا چاہیئے؟ وائی ون نیڈز ٹو بی اے مسلم جسٹ اے مسلم؟ اگر سارے مذاہب کی تعلیمات ایک سی ہیں تو صرف اسلام کو ہی کیوں چُنا جائے؟ کیا دلیل ہے تمہارے پاس؟
    یہ انگریز دیکھے ہیں نا؟ مجھے تو یہ تم لوگوں سے زیادہ ایماندار اور پُر خلوص لگتے ہیں۔ بُرے بھی ہوں گے لیکن ان میں بھی اچھے لوگوں کی کمی نہیں ہے۔ انسان کی مدد کرتے ہیں۔ دل میں درد رکھتے ہیں انسانیت کا۔ کسی کو اپنے ہاتھ سے نقصان نہیں پہنچاتے۔ یہاں کوئی بھی فساد ہوتا ہے، کسی دکان میں ڈاکہ پڑتا ہے تو پیچھے کسی نا کسی مسلمان کا ہاتھ نکلتا ہے۔ پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی کرتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں مسلمان لڑکے اور مجھے حیرت ہے کہ جنت کا وعدہ پھر بھی تم لوگوں سے کیا گیا ہے؟ اور باقی دنیا کے لوگ ہر لحاظ سے نیک ہونے کے باوجود جہنم میں کیوں پھینکے جائیں گے؟ کیوں؟‟، وہ ایک ہی سانس میں بولتی چلی گئی۔
    ”کیونکہ غیر مسلمان کو اللہ دنیا میں ہر آسائش دے دے گا اُس کے نیک اعمال کے بدلے میں۔ لیکن جنت میں وہ نہیں جا سکتے کیونکہ جنت میں جانے کے لئے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانا ضروری ہے‟، فصیح کو تو جیسے آگ لگ گئی، لیکن پھر بھی اس نے بہت تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُسے جواب دیا۔
    ”دیکھو کوئی بچہ اپنی مرضی سے تو کسی مسلم یا غیر مسلم گھرانے میں پیدا نہیں ہوتا نا؟ تو پھر اس میں اس کا کیا قصور کہ اُس کو دوزخ میں پھینک دیا جائے؟‟۔ ایک اور سوال۔
    ”ہاں لیکن جوان ہو کر تو اُس میں سوجھ بوجھ آ جاتی ہے نا؟ تو وہ سچ کو سمجھے تب تو یہ ذمہ داری اُس پر عائد ہوتی ہے نا؟‟ فصیح چڑ سا گیا۔
    ”تو یہی تو میں اتنے دن سے کرنے کی کوشش کر رہی ہوں، بالغ ہوں میں، سچائی کا راستہ جاننا چاہتی ہوں، اگر مجھ پہ یہ ذمہ داری تمہارے اللہ نے عائد کی ہے تو میں اس ذمہ داری کو نبھانا چاہتی ہوں۔ لیکن تم مجھے بتاؤ نا کہ سچ کیا ہے؟ بتاؤ اپنے مذہب کے متعلق، ثابت کرو کہ تمہارا مذہب سچا ہے۔ ایک پورے نظام پہ چل رہے ہو تو کیا آنکھیں بند کر کے چل رہے ہو؟ کوئی تو دلیل مانی ہوگی نا تم نے تبھی تو چل رہے ہو اس مذہب پہ؟ یہ دلیل مجھے بھی دو۔ مجھے بتاؤ نا سچ میں جاننا چاہتی ہوں؟‟، وہ بول بول کے تھک بھی نہیں رہی تھی۔
    ”میں تمہیں قرآن لا دوں گا انگلش ٹرانسلیشن میں، تم پڑھنا اور کچھ اور اسلامی کتابیں بھی لا کر دوں گا وہ بھی پڑھنا‟، فصیح کو ایک ہی حل سمجھ میں آیا۔
    کیوں میں کیوں پڑھوں یہ سب، تم جو بچپن سے پڑھتے آئے ہو تم کیوں نا بتاؤ مجھے؟‟ وہ بھی ہار نہ مانتے ہوئے بولی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اُس کا دل بہت غیر مطمئن سا ہو رہا تھا۔ وہ کسی ایسے کندھے کی تلاش میں تھا جس پہ سر رکھ کر اتنا روئے کہ سارا غبار بہہ جائے۔ عجیب سی گھٹن نے اس کی ذات کا احاطہ کر رکھا تھا۔ دو دن سے اُس کی نمازیں بھی قضا ہو رہی تھیں اور نہ ہی وہ علامہ صاحب کی صحبت میں بیٹھا تھا۔ ایک لمحہ لگا تھا اُسے فیصلہ کرنے اور تھوڑی دیر بعد وہ پاپا سے پاکستان جانے کی بات کر رہا تھا۔
    ‟بیٹا اُن لوگوں کو مطمئن کرنا جو شروع سے اسلام کے دائرہ کار میں ہیں کچھ خاص مشکل نہیں ہے۔ اصل بات تو تب ہے جب ہم اُن لوگوں کو اسلام کی سچائی کے متعلق بتا سکیں جو نہیں جانتے‟، وہ آغا جی کے قدموں میں بیٹھا تھا اور اپنا سر اُن کے گھٹنوں پر رکھ کے اُن سے وہ سب سوال کر رہا تھا جو کیتھرین نے اُس سے کئے تھے۔
    ”ہم پیدا ہوئے اور کان میں اذان دی گئی، قدم قدم پہ بتایا گیا کہ اللہ ایک ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُس کے آخری رسول ہیں۔ اللہ اور رسولؐ کی محبت ہماری روح میں بسی ہے لیکن دنیا میں بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جنکی صبح شاید اس سوچ سے شروع ہوتی ہوگی کہ آج کے دن پیٹ کا دوزخ کس طرح بھرا جائے۔ اُن کے لئے کون اللہ اور کون رسولؐ؟ وہ لوگ تو ایک طرف بیٹا ہم تو اُن لوگوں تک بھی اپنی بات پہنچانے سے قاصر ہیں جنہوں نے علم و حکمت کے میدان میں اتنی ترقی کر لی ہے کہ ستاروں پر کمندیں ڈالنے چلے ہیں‟، آغا جی اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہے تھے اور وہ دم سادھے بس سن رہا تھا۔
    ”یہ دور سائنسی ترقی کا دور ہے اور شاید ہم مسلمان اس میں سب سے پیچھے ہیں۔ اسلام تو امن پسندی کا دین ہے۔ یہ مقابلہ بازی کا دین نہیں ہے۔ ہم یہ کہہ دیتے ہیں کہ اللّٰہ ان غیر مسلموں کو ہدایت دے۔ اللّٰہ نے خود ہی سب کام کرنے ہوتے تو تمہیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم کیوں ہوتا؟ تم دیکھو گے کہ ہمارے ملک میں مختلف فرقوں کے علمائے کرام ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ ہر ایک فرقہ خود کو صحیح ثابت کرنے کی سعی میں ہے اور خود کو صحیح ثابت کرنے کے چکر میں مذہب کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔ غیر مسلم ہمیں آپس میں لڑتے دیکھ کر ہنستے ہیں۔ اُنہیں تو اسلام کے خلاف کچھ کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی، ہم خود جو اس کے لئے کافی ہیں۔ کوئی کہتا ہے شلوار کو ٹخنوں سے اوپر رکھنا چاہیئے اور کوئی کہتا ہے نہیں نیچے رکھنا چاہیئے۔ بیٹا ایک مومن کی زندگی کا مقصد لوگوں کو یہ بتانا نہیں ہے کہ نماز ہاتھ باندھ کے پڑھی جائے یا کھول کے۔ اور یہ بھی نہیں کی مرد کی داڑھی کی لمبائی کتنی ہونی چاہیئے۔ اپنے ذہنوں کو کھولو اور ان خود ساختہ بندھنوں سے باہر نکل کے اُن لوگوں کی باتوں کا جواب دو جو پوچھتے ہیں کہ ایک انسان کو صرف مسلمان ہی کیوں ہونا چاہیئے؟ انگریز اس قدر ریسرچ اورینٹڈ ہیں بیٹا کہ اگر تم ان کے منہ میں سیب کا ایک ٹکڑا بھی ڈالو گے اور انہیں کہو گے کہ آنکھیں بند کر کہ بتاؤ یہ کونسا پھل ہے تو وہ جب تک اپنی آنکھوں سے دیکھ نہیں لیں گے کسی اگلے بندے تک یہ معلومات نہیں پہنچائیں گے اُنہوں نے سیب کھایا ہے۔ تو بیٹا وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان کیوں لائیں گے؟ جب وہ اُن کے بارے میں کچھ جانتے ہی نہیں۔ اُن کو اس کے مفہوم سے روشناس کروانا ہمارا کام ہے۔ قرآن یا اسلامی کتابیں تو وہ بعد میں پڑھیں گے بیٹا پہلے تو وہ ہمیں دیکھیں گے نا۔ اگر ہمارا عمل اچھا نہ ہوا تو وہ تو یہی سوچیں گے کی ان کا مذہب انہیں یہ سب سکھاتا ہے۔ لیکن ہمیں آپس کے لڑائی جھگڑوں سے فرصت نہیں تو ہم اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاقیات کو اُن کے سامنے بھلا کس طرح لا سکتے ہیں۔ اُن کو بتاؤ کہ جن باتوں سے ہمیں روکا گیا ہے اُس کی وجہ گناہ نہیں بلکہ ہمارا اپنا نقصان ہے۔ جو کچھ نہیں جانتے اُن کو گناہ ثواب کے چکر میں مت پھنساؤ اُن کو پریکٹیکل باتیں بتاؤ۔ اُن کو کیا پتا کہ قرآن کا ایک لفظ پڑھنے سے دس نیکیاں ملتی ہیں؟ نیکی اُن کے لئے ایک ایبسٹریکٹ چیز ہے۔ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے زمانے کے لوگ ہیں دلیلوں سے قائل کرو اُنہیں، اُن سے اُن کے ذہنوں کے مطابق بات کرو اور یہ تو ہمارے نبی کا فرمان بھی ہے انزلوالناس علی منازلہم کہ لوگوں سے اُن کے مرتبے کے مطابق بات کرو۔ اس کا مطلب ظاہری مرتبہ نہیں بلکہ اُن کی ذہنی قابلیت ہے اور ہمارے حضور سے اچھا کوئی مبلغ نہیں ہو سکتا۔ تو بہترین تبلیغ کا اصول یہی ہے کہ ایسی باتیں کہو جن سے لوگ مطمئن ہو سکیں ورنہ اپنا ہی مذاق اُڑوا بیٹھو گے۔ اور بیٹا کسی دوسرے پہ مت چھوڑ دو کہ فلاں تحقیق کرے گا تو پتا چلے گا۔ یہ بحیثیت مسلمان ایک ایک فرد پر لاگو ہوتا ہے کہ وہ اسلام کو فائدہ پہنچائے‟، آغا جی چپ ہو گئے۔
    فصیح نے سر اُٹھا کہ انہیں دیکھا۔ آغا جی کی آنکھیں نم تھیں۔
    ”اُٹھو بیٹا اور ایک نئی لگن سے اپنے مذہب کو جانو تا کہ جب تم واپس جاؤ تو ایک کیتھرین نہیں، دنیا کے ہر غیر مسلم کی بات کا جواب دے سکو‟، آغا جی کرسی سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور اپنا عصا ٹیکتے ہوئے باہر جانے لگے۔ دروازے پر پہنچ کر اُنہوں نے مڑ کر دیکھا اور فصیح کو مخاطب کیا،
    ”بیٹا! تم اقبال کے شاہین ہو، مجاہد ہو تم، اور ایک بات یاد رکھنا، مجاہد کی اذان ”اور‟ ہوتی ہے اور یہ اثر کر کے رہتی ہے‟، آغا جی نے دروازے کی طرف دو قدم اور بڑھائے اور پھر رک گئے، ”اور ہاں! مجھے یقین ہے آج خواب میں تمہاری پیاس بجھا دی جائے گی‟، آغا جی نے مڑے بغیر کہا اور فصیح کو حیرت زدہ چھوڑ کر تیزی سے باہر نکل گئے۔
    __________________

  12. #132
    Senior Member

    Join Date
    Jan 2008
    Posts
    12,232
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: افسانہ نویسی کا ساتواں مقابلہ


    مجاہد کی اذاں




    ”پانی پپ پپ ۔۔۔ پپ پانی دو مجھے۔ اُف پیاس۔۔۔ ایک گلاس اور دے دو۔ خدا کے لئے ایک گلاس اور دے دو‟۔ اُس نے جب پانی کا چھٹا گلاس بھی ایک سانس میں خالی کر دیا تو اُس شخص نے جو جگ اُٹھائے سب کو اُس دسترخوان پر پانی پلا رہا تھا رُک کر حیرت سے اُسے دیکھا۔
    ”کیا بات ہے بھائی؟ کیا صدیوں سے پیاسے ہو؟‟ جگ والے آدمی نے اُلجھے ہوئے انداز میں کہا۔
    ”ایک گلاس اور دے دو شاید میری پیاس اس مرتبہ بجھ جائے‟۔ اُس نے بھیک مانگنے والے انداز میں کہا لیکن وہ جگ والا آدمی سر جھٹکتا ہوا واپس جانے کے لئے مڑا۔
    ”مت جاؤ بھائی ایک گلاس اور دے دو تمہیں خدا کا واسطہ‟۔ وہ یہ کہتے ہوئے اُس کے پیچھے بھاگا اور تب ہی اُس کی نظر ایک بڑے سے ڈرم پر پڑی جو پانی سے بھرا ہوا تھا۔ اُس نے جگ والے آدمی کے پیچھے جانے کی بجائے ادھر کا رُخ کیا اور دونوں ہاتھوں سے چلو بنا کر گھونٹ گھونٹ پانی پینے لگا مگر پیاس تھی کہ بجھتی ہی نہ تھی وہ جیسے جیسے پانی پیتا جا رہا تھا لگتا تھا کہ پیاس اور ہی بڑھتی جا رہی ہے۔ وہ اس کیفیت سے تنگ آ کر حلق کے بل زور سے چیخا۔
    ”کیا ہوا میرے لعل؟ کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ لیا کیا؟‟۔ بی جی کی پرشفقت آواز نے اُس کو ہوش کی دنیا میں لا پٹخا۔
    اُس کا سارا جسم پسینے میں شرابور تھا اور پیاس سے اُس کے حلق میں کانٹے پڑ رہے تھے۔
    ”آہ پانی!‟ وہ بمشکل بولا اور آنکھیں موندے خواب میں برداشت کی گئی تکلیف کو بھلانے کی کوشش میں مصروف رہا۔
    ”یہ لو پانی میرا بچہ!‟ بی جی ہاتھ پانی کا گلاس تھامے اس کے بستر کے پاس آ کھڑی ہوئیں۔ اُس نے جھپٹنے والے انداز میں اُن سے پانی کا گلاس لیا اور ایک ہی سانس میں گلاس خالی کر کے بی جی کو واپس تھما دیا کہ جیسے وہ بھی کہیں جگ والے آدمی کی طرح پانی لے کر چلی نہ جائیں۔
    بی جی خالی گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اُس کے ساتھ ہی تھوڑی سی جگہ بنا کر ٹک گئیں اور اور اُسے اپنے ساتھ لگا کر ہولے ہولے تھپکنے لگیں اور ساتھ ہی آیت الکرسی پڑھ کر اس پر پھونکیں مارنے لگیں۔ اُس نے بی جی کے پُرشفقت لمس سے بہت سکون محسوس کیا۔ تھوڑی دید بعد اُسکی آنکھیں بند ہونے لگیں۔
    کچھ عرصے سے یہ خواب کسی نہ کسی شکل میں اُسے اکثر آتا تھا۔ وہ دیکھتا کہ وہ پیاسا ہے اور پانی کی ایک وافر مقدار پی لینے کے باوجود اُس کی پیاس نہ بجھتی۔ وہ جتنا پانی پیتا اُتنی ہی پیاس بڑھتی چلی جاتی۔ اب تو وہ سونے سے پہلے ایک عجیب سا خوف محسوس کرتا کہ کہیں یہ خواب پھر سے نہ آ جائے۔ لیکن اس نے اس خواب کا ذکر گھر میں کسی سے بھی نہیں کیا حتی کہ آغا جی سے بھی جن سے وہ اپنے دل کی ہر بات کہتا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ”انسان کی نفسیات بڑی عجیب ہوتی ہے بیٹا! اس کو جس چیز سے روکا جائے یہ وہی کرنے پر آمادہ ہوتی ہے‟۔ ڈاکٹر ہاشمی نے اُس کی پوری بات تفصیل سے سننے کے بعد پُر سوچ انداز میں قلم کی نوک منہ میں دبائے ہوئے کہا۔ ڈاکٹر ہاشمی اُس کے پاپا کے بہت اچھے دوست تھے۔ آغا جی کے بعد وہ ہر بات انکل ہاشمی سے کہہ لیا کرتا تھا۔
    ”میں آپ کی بات نہیں سمجھا!‟ اُس نے استفہامیہ نظریں اُن کے چہرے پر گاڑ دیں۔
    ”اچھا تمہیں ایک بات بتاتا ہوں، ایک مرتبہ میں اپنے ڈرائیور کے ساتھ کچھ سامان لینے مارکیٹ گیا تو وہاں ایک دکان کے باہر ایک کونے میں ایک بورڈ نصب تھا۔ میں نے دیکھا کہ لوگ اُس کے پاس کھڑے ہو کر اُس کے اوپر لکھی عبارت کو پڑھتے اور پھر اُس بورڈ کے دوسری جانب جا کر کچھ پڑھتے۔ حالانکہ وہ جگہ عام گزرگاہ سے ہٹ کر تھی لیکن پھر بھی لوگوں کی ایک کثیر تعداد وہاں بورڈ کو سلام کرنے ضرور جا رہی تھی۔ مجھے بھی تجسس ہوا تو میں بھی گاڑی سے اتر کر اُس طرف کو چلا گیا۔ دیکھا تو اُس بورڈ پر لکھا تھا، ”اس بورڈ کے دوسری جانب پڑھنا سخت منع ہے‟۔ اب تو میرا تجسس اور بڑھ گیا میں جلدی جلدی بورڈ کی دوسری طرف گیا تو وہاں ایک چاٹ بیچنے والے کا اشتہار لگا ہوا تھا اور پتہ لکھا ہوا تھا۔ اب دیکھو میں ایک ماہر سائیکاٹرسٹ ہونے کے باوجود ایک عام چاٹ والے کے دام میں پنھس گیا جو انسان کی نفسیات کے اس پہلو سے واقف تھا‟۔ ڈاکٹر ہاشمی نے اُسے واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔
    ”تمہارے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ تم رات کو سونے سے پہلے اپنے آپ کو تاکید کرتے ہو کہ یہ بورڈ نہیں پڑھنا لیکن تمہارا لاشعور اُس بورڈ تک پہنچنے کے راستے تلاش کر ہی لیتا ہے‟۔ ڈاکٹر ہاشمی نے بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا۔
    ”تو پھر میں کیا کروں؟‟ اُس نے بے بسی سے ہونٹ چباتے ہوئے پوچھا۔
    ”اگنور اٹ! جسٹ ٹرائے ٹو اگنور اٹ مائی سن!‟ ڈاکٹر ہاشمی نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اُسے مشورہ دیا تھا۔
    اگنور کرنے کے باوجود کوئی فرق ہی کہاں پڑا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    فصیح احمد صمدانی اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا۔ اُس کے باپ احمد صمدانی نے اپنی پسند سے شادی کی تھی جس میں اُن کے گھرانے کی پسند بھی شامل تھی۔ آغا جی یعنی احمد صمدانی کے والد اور فصیح کے دادا شروع سے ہی بہت کھُلے مزاج کے آدمی تھے۔ جب اُن کے اکلوتے بیٹے نے اُن کے سامنے اپنی پسند کا اظہار کیا تو اُنہوں نے بخوشی اس فیصلے کو قبول کیا اور یوں نوشین ظفر آن کی زندگی کی ساتھی بن گئیں۔ لیکن اُن کی بدقسمتی تھی یا قدرت کی طرف سے ایک امتحان کہ نوشین، فصیح کی پیدائش کے وقت زندگی کی بازی ہار گئیں۔ وہ روتے رہے تڑپ تڑپ کر اُن کو آن کے عدو پیمان یاد دلاتے رہے لیکن نوشین نے آنکھیں نہیں کھولیں اور منوں مٹی تلے جا سوئیں۔ اُس کے بعد اُن کی زندگی کی ویرانی کو فصیح کی معصوم کلکاریاں بھی ختم نہ کر سکیں۔ بہت عرصہ تک وہ دنیا سے بالکل کٹے رہے لیکن آہستہ آہستہ اُنہوں نے اپنے بوڑھے ماں باپ کی خاطر خود کو زندگی کی جانب راغب کیا۔ کاروبار کو، جو اب اُن کی غیر حاضری اور لاتعلقی کی بنا پر تباہی کے دہانے پر تھا، پھر سے ترقی دلانے کے لئے کوشاں ہو گئے۔ دو تین سال تک وہ کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح وہ نوشین کی یادوں سے پیچھا چھڑا سکیں لیکن اُن کے دل نے اُنکی ایک نہ مانی۔ تب اُنہوں نے سارے کاروبار کو بیرونِ ملک منتقل کرنے کا سوچ لیا۔ آغا جی نے اُن کے اس فیصلے کو مکمل طور پر سراہا لیکن اُن کے ساتھ جانے پر تیار نہ ہو سکے۔ اُنہوں نے بھی باپ کو زیادہ مجبور نہ کیا اور ننھے فصیح کو ماں باپ کے حوالے کر کے لندن چلے گئے۔ پچھلے بیس سال سے وہ باہر ہی مقیم تھے۔ نوشین کے بعد وہ کسی اور عورت کو اُنکی جگہ نہ دے سکے بس کاروبار کو ہی زندگی کا اولین مقصد بنا لیا۔ سال میں ایک آدھ بار چکر لگا لیتے لیکن مستقل طور پر واپس آنے کا اُنہوں نے کبھی نہ سوچا۔ فصیح اب تیئس برس کا نوجوان تھا اور انجینئرنگ کے تیسرے سال میں تھا۔اُس کی زندگی تو بس آغا جی اور بی جی کے گرد گھومتی تھی اور وہی دونوں اُس کے لئے ماں باپ بھی تھے، دادا دادی بھی اور بہترین دوست بھی۔ دونوں میں بے حد پیار تھا لیکن دونوں کے مزاج میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ بی جی نماز روزے کی پابند تھیں اور ساتھ ہی غصے کی بے حد تیز۔ آغا جی نہایت ٹھنڈے مزاج کے آدمی تھے لیکن ایک بات اُن میں بہت عجیب تھی وہ نماز نہیں پڑھتے تھے یا شاید کبھی اپنے کمرے میں پڑھتے ہوں لیکن فصیح نے اُن کو کبھی نماز پڑھتے دیکھا نہیں تھا۔ ہاں وہ قرآن پڑھتے رہتے تھے۔ جب بھی فارغ ہوتے قرآن لے کر بیٹھ جاتے۔ اُس وقت اُن کے چہرے پر نہ جانے کیسی چمک ہوتی تھی جس کو فصیح کبھی سمجھ نہ پایا۔ ایک دن اُس نے اُن سے پوچھا بھی تھا۔
    ”آغا جی! ایک بات کہوں؟‟
    ”بولو برخوردار!‟
    ”آپ کبھی نماز کیوں نہیں پڑھتے؟‟ اُس نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔
    آغا جی چپ ہو گئے۔ وہ کچھ سوچتے رہے جیسے الفاظ ترتیب دے ریے ہوں۔
    ”نماز۔۔۔ مجھ جیسے گنہگار کو ایک عمر چاہیے اس کی روح کو سمجھنے کے لئے‟، آغا جی کی آواز بہت پست تھی۔ اُن کے ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے۔ فصیح کو اُن کے ہاتھوں میں کپکپاہٹ واضح نظر آ رہی تھی۔ اُن کی آنکھوں میں دیکھ کر لگ رہا تھا کہ کہیں بہت دور کسی سوچ کی گہرائی میں کھو گئے ہوں۔ پھر بہت دیر کے بعد بولے۔
    ”نماز کیا ہے؟ یہی نا کہ میں اللّٰہ سے ہمکلام ہو جاؤں۔ اُس سے بات کروں۔ اُس کو اپنی سناؤں۔ اُس سے مانگوں۔ رحم کی استدعا کروں۔ اُس کے آگے جھک جاؤں۔ اُس کی تعریف میں رطب اللسان ہو جاؤں۔ اُس کو بتاؤں کہ میں کیا ہوں ایک حقیر کیڑا جسے جب وہ چاہے مسل کر رکھ دے۔ اُس کو بتاؤں کہ وہ کتنا عظیم ہے۔ کتنا اونچا ہے۔ اُس کی عظمت کو پانے کے لئے پتا نہیں مجھے کون کون سی منزلیں طے کرنی ہوں گی۔ نہیں میں اس قابل نہیں ہوا ابھی کہ یہ سب کر سکوں۔ میں جب جائے نماز پہ کھڑا ہوتا ہوں تو میری حالت اُس طالبعلم کی سی ہوتی ہے جس کا امتحان ہو اور اُس کو ایک لفظ بھی یاد نہ ہو۔ بس پھر کمرہ امتحان سے بھاگنے میں ہی عافیت محسوس کرتا ہوں۔ بس میں نہیں پڑھ سکتا نماز۔ میں اُس کے جلال کی تاب نہیں لا سکتا‟۔ آغا جی ایک سانس میں بولتے چلے گئے۔ اُنکا جسم پسینے میں شرابور ہو گیا۔
    ”آغا جی!‟، فصیح کے دل کی دھڑکن بہت تیز ہو گئی تھی۔ اُس کو لگ رہا تھا کہ اُس کا دل بند ہو جائے گا اُس نے آغا جی کو کبھی ایسی حالت میں نہیں دیکھا تھا وہ تو بہت گہرے مزاج کے آدمی تھے کبھی جذباتی نہیں ہوئے تھے۔
    ”یہ پانی لیجیئے‟، اُس نے جلدی سے ٹیبل پر رکھے جگ میں سے پانی گلاس میں اُنڈیل کر اُن کے لبوں سے لگا دیا۔
    ”قرآن!‟، آغا جی تو کسی اور ہی دنیا میں پہنچے ہوئے تھے۔ ایسے گویا ہوئے جیسے اُن کے منہ میں شیرینی گھُل گئی ہو۔
    ”قرآن اُس کی زبان ہے۔ اُس کا کلام ہے۔ اُس کے ہاں سے آیا ہے۔ نماز میں تو ہم اُس سے مخاطب ہوتے ہیں نا اور قرآن میں وہ ہم سے مخاطب ہوتا ہے۔ نماز میں ہم بولتے ہیں اور وہ سنتا ہے جبکہ قرآن میں وہ بولتا ہے اور ہم سنتے ہیں۔ اور مجھے اُسے سننا اُسے سنانے سے زیادہ تسکین دیتا ہے، اُس کے ہاں سے آئے ہوئے الفاظ کو اپنے لبوں سے دہرانا، اُففف، کیا بتاؤں کیسا مزا دیتا ہے اور یہی الفاظ میرے آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے من و عن ادا ہوئے ہوں گے‟، لگ رہا تھا جیسے آغا جی کو کسی نے جادو کی چھڑی سے چھو کر ٹھیک ٹھاک کر دیا ہو۔ اُن کے چہرے کی شگفتگی لوٹ آئی تھی۔
    وہ حیرت سے منہ کھولے آغا جی کے اس پل پل بدلتے روپ کو دیکھ رہا تھا۔ اُنکی ساری باتوں میں سے کوئی ایک بات بھی اُس کے پلے نہیں پڑی تھی۔
    آغا جی کی پرسنالیٹی اُس کو بہت متاثر کیا کرتی تھی جانے کیا تھا اُن میں بس اُن کے پاس بیٹھنے سے اُس کو بہت سکون ملا کرتا تھا۔
    آغا جان کے بھی بہت حیران کر دینے والے روپ تھے۔ بڑے ہی بھی عجیب تھے وہ۔ اُن کی چھوٹی سے لائبریری میں بے شمار کتابیں موجود تھیں لیکن جانے کیا بات تھی کہ اُس نے ہمیشہ اُنہیں اقبال کو پڑھتے پایا تھا۔ ہر رات وہ اقبال کے کلام کو پڑھے بغیر سو نہیں سکتے تھے۔



    ”آغا جی میں کوئی اسلامک سینٹر جوائن کرنا چاہتا ہوں‟، وہ رات کو کھانے کے بعد آغا جی کے کمرے میں بیٹھا اجازت مانگ رہا تھا۔
    ”کیوں برخوردار؟ اسکی ضرورت کیوں پیش آ گئی؟‟، آغا جی نے محبت بھری نظروں سے اُسے دیکھا۔ وہ کتنا مختلف سا نوجوان تھا۔ بہت معصوم، اُسکی خواہشات بھی ایسی ہی معصوم ہوا کرتی تھیں۔
    ”پتا نہیں آغا جی! بس میں اچھا مسلمان بننا چاہتا ہوں‟، وہ سر جھکائے جھکائے بولا۔
    ”اچھا مسلمان؟‟، آغا جی زیرِ لب مسکرائے۔
    ”اچھا مسلمان کیا ہوتا ہے میاں؟‟،
    ”پتا نہیں، یہی تو جاننا چاہتا ہوں۔ لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ میں بالکل بھی اچھا مسلمان نہیں ہوں۔ تبھی تو۔۔۔‟، اُس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
    ”بہت اچھی بات ہے بیٹا۔ اللہ تمہاری مدد کرے۔ میں بھلا اس نیک کام سے تمہیں کیسے روک سکتا ہوں؟‟، آغا جی نے اپنا پُرشفقت ہاتھ اُسکے سر پر رکھ دیا۔ وہ ایسے ہی تھے، ہمیشہ سب کی خوشی میں خوش ہونے والے، ہر ایک کی رائے کو اسی طرح اہمیت دینے والے۔

    ”آغا جی آپ اُس کو سمجھائیں بس۔ اُس کا اُٹھنا بیٹھنا کچھ عجیب سے لوگوں میں ہے‟، اس بات کو ایک دو ماہ گزرے تھے کہ فصیح کا دوست ذوہیب آغا جی کے پاس بیٹھا تشویش ذدہ لہجے میں کہہ رہا تھا۔
    ”کس طرح کے عجیب لوگ بیٹا؟‟، آغا جی حیران ہوئے۔
    ”پتا نہیں کوئی مولوی ٹائپ لوگ ہیں‟، ذوہیب ہچکچاتا ہوا بولا تو آغا جی ہنس پڑے۔ اُس کے سبھی دوست آغا جی کے بھی دوست تھے۔ وہ سب آغا جی سے اپنے مسئلے مسائل اسی طرح بے تکلفی سے شئیر کر لیا کرتے تھے۔ لیکن اس بار ذوہیب ایک الگ ہی مسئلہ لے کر حاضر ہوا تھا۔
    ”ہاں اُس نے ایک بار مجھ سے ذکر کیا تھا کہ وہ اسلامک سنٹر جوائن کرنا چاہتا ہے‟، آغا جی کو جیسے سکون سا مل گیا۔ وہ ذوہیب کے انداز پہ تشویش میں مبتلا ہو گئے تھے لیکن اُسکا جواب سن کر وہ اسکی معصومیت پر مسکرا رہے تھے۔
    ”نہیں آغا جی وہ کسی اسلامک انسٹیٹیوٹ نہیں گیا۔ وہ ہماری یونیورسٹی کے ہی لوگ ہیں بس چھوٹی سی یونین بنا رکھی ہے۔ اُن کے پاس جاتا ہے۔ اور کلا سز بھی چھوڑ رہا ہے۔ آپ جانتے ہیں نا کہ اگزامز کتنے نزدیک ہیں اُس کی پڑھائی کا حرج ہو رہا ہے‟، ذوہیب ایک بہت اچھا دوست ہونے کے ناطے اُس کے لئے صحیح معنوں میں پریشان تھا۔
    ”اچھا برخوردار! آج آنے دو فصیح میاں کو، ان سے بھی دو دو ہاتھ ہو جائیں آج‟، وہ ذوہیب کے کندھے پر ہاتھ رکھ دوستانہ انداز میں بولے تو ذوہیب مسکرا دیا۔ اُسے یقین ہو گیا تھا جیسے اب یہ مسئلہ بآ سانی حل ہو جائے گا۔

    ”آغا جی آپ!‟، وہ اپنے کمرے کے دروازے پر آغا جی کو کھڑے دیکھ کر کُرسی سے اُٹھ گیا۔
    ”کہاں ہوتے ہو یار آج کل؟ کبھی ہمیں بھی وقت دے دیا کرو‟، آغا جی ہیمشہ کی طرح بے تکلفانہ انداز میں بولے جیسے وہ بچپن کے کسی دوست سے مخاطب ہوں۔
    ”بس کچھ یونیورسٹی کی مصروفیات ہیں آغآ جی‟، اُس نے سر جھکائے جھکائے کہا۔
    اُس کا حلیہ تھوڑا عجیب سا تھا۔ شیو بڑھی ہوئی تھی اور کمزور کمزور سا لگ رہا تھا۔ آغا جی اُسے بغور دیکھ رہے تھے لیکن انہوں نے اُس سے کوئی سوال نہیں کیا اور ادھر ادھر کی باتیں کر کے واپس آ گئے۔
    ”میرے اللہ مجھے معاف کر دے میں بہت گناہ گار ہوں۔ میں نے اپنی ساری زندگی گناہوں کی دلدل میں گزار دی۔ تو بخش دے مجھے مولا۔ میں ہر وقت دوستوں کے ساتھ ہلا گلا کرتا تھا پارٹیوں میں جاتا تھا موسیقی کا بے حد شوقین تھا۔ دنیاوی تعلیم حاصل کرنے میں لگا رہا کبھی نماز کی طرف دھیان نہیں دیا۔ عبادات کو ہمیشہ نظر انداز کیا۔ تو مجھے معاف کر دے میں آئندہ کبھی عبادات میں کوتاہی نہیں کروں گا۔ تو مجھے معاف کر دے‟، اگلے دن اُس کے کمرے سے تڑپ تڑپ کر رونے کی آوازیں آ رہی تھیں اور آغا جی کمرے کے باہر کھڑے کسی گہری سوچ میں گم تھے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ اُسے سنبھلنے کا موقع ہی نہیں مل پایا۔ وہ آخری پیپر دے کر گھر آیا ہی تھا کہ پاپا کے ہارٹ اٹیک کی خبر ملی۔ اگلے ہی روز وہ اور آغا جی لندن کے لئے روانہ ہوگئے۔ بی جی کو اس بات سے بے خبر رکھا گیا بس اتنا کہا گیا کہ فصیح کو کسی کمپنی نے جاب انٹرویو کے لئے بلایا ہے۔ پاپا کو بہت شدید ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔ وہ آئی سی یو میں تھے۔ تین دن تو جیسے آغا جان اور اس کے لئے قیامت سے کم نہیں تھے۔ وہاں ڈاکٹرز کسی کو ہاسپٹل میں رکنے نہیں دے رہے تھے اور اُن دونوں کو گھر میں چین نہیں آتا تھا۔ اب تین دن کے بعد پاپا کی حالت کچھ سنبھلی تھی۔ وہ اب خطرے سے تو باہر تھے لیکن ڈاکٹرز نے سختی سے آرام کی تاکید کی تھی اور کسی بھی قسم کا کام کرنے سے منع کر دیا تھا۔ تب اُنہوں نے پہلی بار فصیح کو اپنے پاس رُک جانے کے لئے کہا۔ آغا جی نے بھی اُس کو سمجھایا کہ اب اپنے باپ کے ساتھ کچھ وقت گزارنا ہی ان دونوں کے حق میں بہتر ہے۔ اور یوں آغا جی اسے زمانے سے لڑنے کے لئے تنہا چھوڑ کر پاکستان واپس چلے گئے اور وہ آج پاپا کے آفس میں اُن کی کرسی پہ بیٹھا کاروباری معاملات دیکھ رہا تھا۔ صدیقی صاحب پاپا کے مینیجر اُس کو اہم معاملات سے آگاہ کر رہے تھے۔ بزنس مینیجمنٹ سے تو اس کا دورونزدیک سے بھی واسطہ نہیں تھا لیکن اب پاپا کے لئے اُسے یہ سب کرنا تھا۔

    اُس کو یہاں آئے اب تو ایک سال ہونے کو تھا اور شاید وہ یہاں کی زندگی کا عادی ہو چلا تھا۔ پہلے تو وہ آغآ جی سے ہر روز ہی فون پہ بات کرتا تھا لیکن اب کچھ دن سے اُس نے ایک اور اسلامک سنٹر جوائن کر لیا تھا۔ شام کو آفس سے فارغ ہوتے ہی سیدھا وہاں کا رُخ کرتااور اُس کے بعد ٹینس کھیلنے چلا جاتا کیونکہ ایک یہی اُس کا واحد مشغلہ تھا۔ زندگی بس اسی ڈگر پر رواں دواں تھی۔ آغا جی سے بات نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    ”ہائے فصیح!‟، اُس نے سر اُٹھایا تو کیتھرین کھڑی مسکرا رہی تھی۔ کیتھرین کی اُس سے پہلی بار ملاقات ٹینس کورٹ میں ہوئی تھی۔ کلب کی طرف سے آرگنائز کئے ہوئے میچز میں وہ اس کی حریف ہوا کرتی تھی لیکن جانے کیا بات تھی کہ میچ کے بعد وہ اُس سے مختلف موضوعات پر بات چیت کرنے اور ساتھ ساتھ رہنے کی کوشش کرتی اور اُسی نے فصیح کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا جو کہ فصیح نے جان بوجھ کر نظر انداز کر دیا تھا کیونکہ اُسکی نظر میں عورت کے ساتھ دوستی کی اجازت ہمارا مذہب نہیں دیتا تھا اور وہ تو ویسے بھی غیر مسلم تھی۔ لیکن پھر بھی وہ جانے کیسی ڈھیٹ تھی ہمیشہ اُس سے بہت گرمجوشی سے ملتی تھی بلکہ اپنی باتیں بھی شئیر کیا کرتی تھی جو کہ فصیح نا چاہتے ہوئے بھی سنتا رہتا تھا۔
    ”کیا کر رہے ہو؟ مصروف تو نہیں تھے؟‟، اُس کی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر وہ خود ہی اُس کے سامنے دھم سے بیٹھ گئی۔
    ”نہیں! آج بہت دن کے بعد دکھائی دیں تم؟‟، اُس کے منہ سے بلا ارادہ نکل گیا۔
    ”ہاں! آئی واز سو اپ سیٹ‟، وہ اُداس سی ہو گئی۔
    ”کیوں؟‟، اُس نے پوچھا۔
    ”بس مجھے مارک کی بہت یاد آ رہی تھی۔ ایک سال ہونے کو آیا اُسے مجھے چھوڑے، لیکن وہ اب بھی مجھے بہت یاد آتا ہے۔ وہ تو اتنا کمینہ ہے کہ میرے سامنے اپنی نئی گرل فرینڈ کے سامنے گھومتا ہے لیکن پھر بھی میں اُس سے نفرت نہیں کر سکتی۔ مجھے بتاؤ فصیح جب میں بہت اداس ہوں تو کیا کیا کروں؟‟، اُس نے ایک سانس میں بولتے بولتے ایک دم سوال کیا۔
    ”تم چرچ نہیں جاتیں کیا؟‟، فصیح نے پوچھا۔
    ”چرچ؟ ہاہاہا! میں چرچ کیوں جاؤں بھلا؟ میں کرسچن تو نہیں ہوں‟، وہ ہنسی۔
    ”اوہ آئی ایم سوری! مجھے نہیں پتا تھا کہ تمہارا مذہب کیا ہے؟‟، فصیح شرمندہ سا ہو گیا۔
    ”میرا کوئی مذہب نہیں‟، وہ سامنے گراؤنڈ کی گھاس پر نظر جمائے ہوئے بولی۔
    ”کیا مطلب؟‟، فصیح نے گردن موڑ کر حیرت سے اُسے دیکھا۔
    ”تم ایک مذہبی اسکالر ہو۔ تمہیں تو پتا ہو گا کہ مذہب اُن کا ہوتا ہے جو گاڈ پہ ایمان رکھتے ہیں لیکن میں کسی بھی گاڈ پہ ایمان نہیں رکھتی‟، وہ لاپروائی سے بولی۔
    ”کسی بھی گاڈ کا کیا مطلب ہے؟ گاڈ تو سب کا ایک ہی ہے‟، فصیح اس کے انداز پہ کانپ کر رہ گیا، لیکن خود پہ قابو رکھتے ہوئے اُس نے بات بڑھائی۔
    ”کیا مطلب؟ کیا تم لوگوں کا گاڈ کرسچنز کے گاڈ سے الگ نہیں ہے؟‟، وہ پوری آنکھیں پھاڑ کر فصیح کو دیکھنے لگی۔
    ”نہیں۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔ گاڈ سب کا ایک ہی ہے۔ بس سب کی عبادات کے طریقے مختلف ہیں۔ جس طرح اس کینٹربری کلب تک لوگ مختلف راستوں سے ہو کر آتے ہیں، لیکن منزل سب کی ایک ہی ہوتی ہے۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون کس راستے سے ہو کر آیا ہے۔ بس پہنچنا شرط ہے‟، فصیح نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
    ”حیرت ہے میں تو پہلی بار یہ سن رہی ہوں‟، وہ نہ یقین کرنے والے انداز میں بولی۔
    دونوں کے درمیان کچھ لمح؁ے خاموشی طاری رہی۔
    ”اچھا مجھے یہ بتاؤ کہ جیسس (عیسٰی) کون تھا؟‟، وہ کچھ دیر بولی جیسے بہت سوچنے کے بعد یہ سوال تلاش کر کے لائی ہو۔
    ‟جیسس اللّٰہ کے نبی ہیں‟، فصیح نے مختصرا جواب دیا۔
    ‟مطلب کرسچینز کے گاڈ! رائٹ؟‟، اُس نے فصیح کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بہت ٹھوس لہجے میں کہا۔
    ”تو کیا وہ تمہارے بھی گاڈ ہیں؟‟، پھر فصیح کے جواب کا انتظار کئے بغیر بولی۔ اُس کا لہجہ استہزاء لئے ہوئے تھا۔
    ”نہیں ہم اُن کو نبی مانتے ہیں خدا نہیں، خدا تو بس ایک ہے‟، فصیح کو اچھا لگنے لگا اُس کے خیالات کی تصحیح کرنا۔
    ”تو پھر سب مذاہب کا گاڈ کیسے ایک ہوا؟‟، اُس نے پھر سے وہی بات کی۔
    ” نہیں پہلے ایسا نہیں تھا۔ عیسائی بھی پہلے ایک اللّہ کو ہی مانتے تھے۔ بلکہ وہ جیسس کو گاڈ نہیں گاڈ کا بیٹا کہتے ہیں۔ بات تو ایک ہی ہے۔ گاڈ کسی کا باپ، بیٹا یا بھائی نہیں۔ اصل میں اُن کے مذہب میں بھی یہ تبدیلی بعد میں ہوئی ہے۔ تم نے سنا تو ہو گا نا ان کے دو گروپس ہیں، کیتھولک اور پروٹیسٹنٹس‟، فصیح نے جواب دیا۔
    ”تم ایسا کیسے کہہ سکتے ہو کہ اُن کے مذہب میں تبدیلی ہوئی ہے؟ عیسائی تو کبھی اس بات کو نہیں مانیں گے۔ بلکہ کوئی بھی مذہب یہ بات نہیں مانے گا۔ تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ جیسس (عیسٰی) نبی ہیں خدا یا خدا کے بیٹے نہیں ہیں؟‟، کیتھرین اُلجھ سی گئی۔
    ”کیونکہ قرآن میں لکھا ہے کہ خدا ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے‟، فصیح نے دوبدو جواب دیا۔
    ”اوہ تو تم اس بات پہ اس لئے ایمان رکھتے ہو کیونکہ وہ تمہاری کتاب میں لکھا ہے؟ تم تو اُسے ہی ٹھیک کہو گے لیکن میں، کوئی کرسچن یا کسی بھی مذہب کا آدمی اس بات کو کیسے مان سکتا ہے کہ تمہاری کتاب میں جو لکھا ہے وہ سچ ہے؟‟، کیتھرین اُس سے دلیل مانگ رہی تھی۔ ”ہر کوئی اپنے مذہب کو سچا اسی لئے مانتا ہے کیونکہ وہ اُس کا مذہب ہے‟، وہ مزید گویا ہوئی۔
    ”نہیں ایسی بات نہیں ہے۔ تم غور کرو تو تمہیں بہت سی ایسی نشانیاں ملیں گی جن سے ثابت ہوتا ہے کہ گاڈ بس ایک ہی ہے۔ کائنات ایک بہت مربوط نظام کے تحت چل رہی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی ایک ہی قوت ہے جو اسکو چلا رہی ہے۔ ایک سے زیادہ ہوتے تو مختلف کاموں کے لئے آپس میں جھگڑتے، اور شاید کائنات کا نظام درہم برہم ہو جاتا‟، فصیح کا لہجہ مدلل ہو گیا۔
    ”دنیا کا قانون تو یہ ثابت کرتا ہے کہ ٹیم ورک سے ہی ترقی ممکن ہے۔ اکیلا کوئی بھی ہو کسی مکمل نظام کو نہیں چلا سکتا‟، کیتھرین اس کی دلیل سے مطمئن نہیں ہوئی۔
    ”گاڈ تو وہ ہے جس نے یہ دنیا بنائی ہے۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ وہ ہمیں زندگی دیتا ہے اُسے موت نہیں آتی اور۔۔۔‟،
    ”لیکن جیسس بھی تو مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ وہ بیماروں کو ٹھیک کرتے تھے۔ اور وہ زندہ ہیں۔ کتنی صدیاں بیت گئیں مگر وہ زندہ ہیں۔ ایسا ہی کہتے ہیں نا کرسچنز؟ اور یہی خوبیاں تم گاڈ کی بھی بتا رہے ہو، تو پھر دونوں میں کیا فرق ہوا؟‟، وہ اُسکی بات کاٹتے ہوئے بولی۔
    ”ہاں لیکن وہ انسان تھے۔ اللّٰہ نے اُن کو یہ خصوصیات عطا کی تھیں۔ لیکن اللہ تو ان خصوصیات کے لئے کسی کا محتاج نہیں‟، اُسے لگا اُس کے پاس الفاظ ختم ہو گئے ہوں۔ اللہ کی ذات کو بیان کیسے کرے؟
    ”تمہیں یہ اس لئے معلوم ہے کہ یہ قرآن میں لکھا ہے؟ اور کرسچنز کو یہ اس لئے معلوم ہے کہ وہ بائبل میں لکھا ہے۔ باقی سب مذاہب کے لئے بھی وہی ٹھیک ہوگا جو اُن کی کتابوں میں لکھا ہے۔ سبھی کے لئے اپنا اپنا ایمان ٹھیک ہے لیکن سچ کیا ہے؟ کیسے ثابت ہو گا؟ میں جاننا چاہتی ہوں‟، کیتھرین کی آنکھوں میں اُلجھن بہت واضح ہو گئی۔


    ”تمہیں پتا ہے اُس دن کی تمہاری باتوں کے بعد سے پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ میں نے مارک کے علاوہ کچھ اور بھی سوچا ہو‟، کیتھرین ٹینس کورٹ میں اُس کو دیکھ کر اُس کے پاس آتے ہی بولی۔
    ”تمہاری باتیں بہت انٹرسٹنگ تھیں لیکن میں اُن کے متعلق مزید جاننا چاہتی ہوں‟، وہ اُسے خاموش دیکھ کر بولی۔
    ”اُس کے بعد سے میں سوچ رہی ہوں کہ مذہب کیا ہوتا ہے؟ مذہب کیوں بھیجا گیا اور پھر اتنے سارے مذاہب کیوں ہیں؟ اگر گاڈ ایک ہی ہے تو اُس نے اتنے سارے مذاہب کیوں بنائے؟ انسان کس راستے پر چلے؟‟، یوں لگتا تھا کہ وہ یہ سب جاننے کے لئے بہت بیتاب ہے کیونکہ وہ سوالوں پر سوال کئے جا رہی تھی۔
    وہ ابھی تک چپ سادھے کھڑا تھا۔
    ”فصیح مجھے آج رات کسی پارٹی میں جانا ہے لیکن مجھے تم سے یہ سب باتیں ضرور کرنی ہیں۔ ابھی تو میں جاتی ہوں پھر ملیں گے ڈئیر۔ بائے‟، وہ جاتے جاتے اُس کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولی اور تیزی سے باہر کی جانب چلی گئی۔
    اُس کے جانے کے بعد فصیح وہیں کھڑا رہا۔ اُسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیتھرین کہاں سے ایسے سب سوال ڈھونڈ کے لے آتی ہے۔ اُس نے علامہ صاحب سے بھی پوچھا تھا جن کے علم و فضل سے آجکل وہ فیضیاب ہو رہا تھا لیکن علامہ صاحب نے اُسے یہ کہہ کر مطمئن کر دیا تھا کہ کافروں کے ایسے سوالوں کے متعلق سوچنا ٹھیک نہیں جو انسان کو کفر کی جانب لے جائیں۔ خدا تو ایک ظاہر حقیقت ہے۔ ایسے سوال کرنے والے خود تو جہنمی ہیں ہی ساتھ میں مسلمانوں کا ایمان بھی خراب کرتے ہیں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ”آؤ کافی پینے چلیں‟، آج بہت دن کے بعد پھر پارک میں اُس کی کیتھرین سے ملاقات ہوئی تھی، جانے کہاں گم تھی وہ۔
    ”نہیں میرا روزہ ہے‟، وہ بنچ پہ بیٹھے بیٹھے ہی بولا۔
    ”اُس دن سے میں اس مہم پر لگی ہوں۔ مختلف مذاہب کے لوگوں سے ملی ہوں اور ایک بہت انٹرسٹنگ بات سامنے آئی ہے۔ جانتے ہو کیا؟‟،
    ہاہاہا، ہر ایک یہی کہتا ہے کہ میرا مذہب سچا ہے‟، وہ جانے کیوں ان باتوں میں بہت دلچسپی لے رہی تھی، پیچھے ہی پڑ گئی تھی۔
    وہ خاموش ہی رہا۔
    ”اچھا چھوڑو یہ بتاؤ کہ کتنا مشکل ہوگا نا خالی پیٹ کام کرنا؟‟، وہ ہمدردی سے بولی۔ ”مجھے ایک بات بتاؤ فصیح! تم تو کہتے ہو کہ گاڈ کسی کو تکلیف میں نہیں ڈالتا تو پھر یہ روزہ کیوں؟ تم لوگوں کو بھوکا رکھ کر وہ تکلیف میں کیسے ڈال سکتا ہے؟‟، وہ سنجیدہ ہوتے ہوئے بولی۔
    ”نہیں یہ تکلیف نہیں ہے۔ یہ ہمارے اللہ کا حکم ہے اور ہمیں اُس کا حکم مان کر خوشی ہوتی ہے۔ اُن لوگوں کی بھوک پیاس کا احساس ہوتا ہے جن کو ایک وقت کا کھانا بھی نہیں ملتا۔ روزے کے اور بھی بہت سے فوائد ہیں۔ ہماری صحت پر روزے کے بہت اچھے نتائج مرتب ہوتے ہیں اور سائنس نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے‟، وہ مسلسل بولتا چلا گیا۔
    ”اچھا؟ تو پھر یہ بات آج تک دنیا کے سامنے کیوں نہیں آئی؟ مجھے بتاؤ کہاں لکھا ہے؟ کس نے کی ہے ریسرچ؟ کہاں پبلش ہوئی ہے؟ میں پڑھنا چاہتی ہوں کہ کیا لکھا ہے؟‟، وہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
    ”ہاں وہ۔۔۔ مم مجھے ابھی تو نہیں پتا لیکن میں تمہیں معلوم کر کے بتاؤں گا‟، وہ گڑبڑا سا گیا۔ یہ تو اس نے ہزاروں بار سنا تھا، اخبارات میں پڑھا تھا کہ ایسی تحقیق ہوئی ہے، فلاں غیر مسلم نے یہ ثابت کیا ہے روزہ رکھنے سے انسانی صحت پر بہترین نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ وہ انہی باتوں پر یقین کر لیا کرتا تھا کبھی اس ریکارڈ کو جانچنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اسے پتا نہیں تھا کہ کل کوئی اس سے ایسا سوال کر بیٹھے گا۔

    ”تمہاری عورتوں کو سر ڈھانکنے کو حکم کیوں ہے فصیح؟ کیا عورت کا دل نہیں کرتا کہ وہ اچھا لباس پہن کر باہر جائے لوگ اُس کو سراہیں۔ یہ پابندیاں کیوں ہیں؟‟، وہ آج پھر فصیح کو گھیرے ہوئے تھی۔ جانے کیوں اس نے اس بات کو انا کا مسئلہ بنا لیا تھا، جب بھی ملتی اسی موضوع پہ بات کرتی۔ اور ہمیشہ ایسے ہی سوال اُس کے لبوں پر ہوتے۔
    ”تم لوگ شادی سے پہلے کسی کو گرل فرینڈ یا بوائے فرینڈ نہیں بنا سکتے۔ کیا یہ آزادئ رائے کو سلب کرنے والی بات نہیں ہے؟‟، اس نے پوچھا۔
    ”نہیں! دیکھو مذہب نے جن باتوں سے منع کیا ہے اس میں انسان کا ہی فائدہ ہے۔ شراب پینے سے منع کیا گیا ہے تو اس لئے کہ انسان نشے کی حالت میں اپنی سوجھ بوجھ کھو بیٹھتا ہے۔ اچھے برے کی تمیز نہیں رہتی۔ تو وہ انسان سے جانور بن جاتا ہے‟، فصیح ہر ممکن کوشش کر رہا تھا کہ وہ ان دلائل سے قائل ہو جائے لیکن اُسے بے سود لگتا تھا۔
    ”لیکن یہ تو تب ہوتا ہے نا جب بہت زیادہ شراب پی لی جائے۔ لیکن اگر شراب اگر نشہ نہ دے تو تب تم کیا کہو گے؟‟، وہ ہر بات کی گہرائی میں چلی جایا کرتی تھی۔
    ”نہیں شراب میں الکوحل ہوتا ہے۔ میڈیکل سائنس بھی کہتی ہے کہ وہ صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔ اسلام میں اُنہی چیزوں سے منع کیا گیا ہے جو انسان کے لئے کسی بھی طرح سے نقصان دہ ہیں‟، فصیح نے جواب دیا۔
    ”اچھا تو کیا صرف اسلام میں منع کیا گیا ہے شراب پینے سے؟‟، اُس نے پوچھا۔
    ”نہیں ہر مذہب میں۔ میرا مطالعہ اتنا وسیع نہیں ہے کہ میں دنیا کہ ہر مذہب کے بارے میں کوئی مدلل بات کر سکوں لیکن سبھی مذاہب میں اُن باتوں سے روکا گیا ہے جن سے انسان کو کسی بھی طرح کے نقصان کا احتمال ہو‟، فصیح نے جواب دیا۔
    ”بہت عجیب بات ہے فصیح، بہت ہی عجیب، اگر ہر مذہب اچھائی ہی سکھاتا ہے تو پھر ایک انسان کو صرف مسلمان ہی کیوں ہونا چاہیئے؟ وائی ون نیڈز ٹو بی اے مسلم جسٹ اے مسلم؟ اگر سارے مذاہب کی تعلیمات ایک سی ہیں تو صرف اسلام کو ہی کیوں چُنا جائے؟ کیا دلیل ہے تمہارے پاس؟
    یہ انگریز دیکھے ہیں نا؟ مجھے تو یہ تم لوگوں سے زیادہ ایماندار اور پُر خلوص لگتے ہیں۔ بُرے بھی ہوں گے لیکن ان میں بھی اچھے لوگوں کی کمی نہیں ہے۔ انسان کی مدد کرتے ہیں۔ دل میں درد رکھتے ہیں انسانیت کا۔ کسی کو اپنے ہاتھ سے نقصان نہیں پہنچاتے۔ یہاں کوئی بھی فساد ہوتا ہے، کسی دکان میں ڈاکہ پڑتا ہے تو پیچھے کسی نا کسی مسلمان کا ہاتھ نکلتا ہے۔ پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی کرتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں مسلمان لڑکے اور مجھے حیرت ہے کہ جنت کا وعدہ پھر بھی تم لوگوں سے کیا گیا ہے؟ اور باقی دنیا کے لوگ ہر لحاظ سے نیک ہونے کے باوجود جہنم میں کیوں پھینکے جائیں گے؟ کیوں؟‟، وہ ایک ہی سانس میں بولتی چلی گئی۔
    ”کیونکہ غیر مسلمان کو اللہ دنیا میں ہر آسائش دے دے گا اُس کے نیک اعمال کے بدلے میں۔ لیکن جنت میں وہ نہیں جا سکتے کیونکہ جنت میں جانے کے لئے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانا ضروری ہے‟، فصیح کو تو جیسے آگ لگ گئی، لیکن پھر بھی اس نے بہت تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُسے جواب دیا۔
    ”دیکھو کوئی بچہ اپنی مرضی سے تو کسی مسلم یا غیر مسلم گھرانے میں پیدا نہیں ہوتا نا؟ تو پھر اس میں اس کا کیا قصور کہ اُس کو دوزخ میں پھینک دیا جائے؟‟۔ ایک اور سوال۔
    ”ہاں لیکن جوان ہو کر تو اُس میں سوجھ بوجھ آ جاتی ہے نا؟ تو وہ سچ کو سمجھے تب تو یہ ذمہ داری اُس پر عائد ہوتی ہے نا؟‟ فصیح چڑ سا گیا۔
    ”تو یہی تو میں اتنے دن سے کرنے کی کوشش کر رہی ہوں، بالغ ہوں میں، سچائی کا راستہ جاننا چاہتی ہوں، اگر مجھ پہ یہ ذمہ داری تمہارے اللہ نے عائد کی ہے تو میں اس ذمہ داری کو نبھانا چاہتی ہوں۔ لیکن تم مجھے بتاؤ نا کہ سچ کیا ہے؟ بتاؤ اپنے مذہب کے متعلق، ثابت کرو کہ تمہارا مذہب سچا ہے۔ ایک پورے نظام پہ چل رہے ہو تو کیا آنکھیں بند کر کے چل رہے ہو؟ کوئی تو دلیل مانی ہوگی نا تم نے تبھی تو چل رہے ہو اس مذہب پہ؟ یہ دلیل مجھے بھی دو۔ مجھے بتاؤ نا سچ میں جاننا چاہتی ہوں؟‟، وہ بول بول کے تھک بھی نہیں رہی تھی۔
    ”میں تمہیں قرآن لا دوں گا انگلش ٹرانسلیشن میں، تم پڑھنا اور کچھ اور اسلامی کتابیں بھی لا کر دوں گا وہ بھی پڑھنا‟، فصیح کو ایک ہی حل سمجھ میں آیا۔
    کیوں میں کیوں پڑھوں یہ سب، تم جو بچپن سے پڑھتے آئے ہو تم کیوں نا بتاؤ مجھے؟‟ وہ بھی ہار نہ مانتے ہوئے بولی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اُس کا دل بہت غیر مطمئن سا ہو رہا تھا۔ وہ کسی ایسے کندھے کی تلاش میں تھا جس پہ سر رکھ کر اتنا روئے کہ سارا غبار بہہ جائے۔ عجیب سی گھٹن نے اس کی ذات کا احاطہ کر رکھا تھا۔ دو دن سے اُس کی نمازیں بھی قضا ہو رہی تھیں اور نہ ہی وہ علامہ صاحب کی صحبت میں بیٹھا تھا۔ ایک لمحہ لگا تھا اُسے فیصلہ کرنے اور تھوڑی دیر بعد وہ پاپا سے پاکستان جانے کی بات کر رہا تھا۔
    ‟بیٹا اُن لوگوں کو مطمئن کرنا جو شروع سے اسلام کے دائرہ کار میں ہیں کچھ خاص مشکل نہیں ہے۔ اصل بات تو تب ہے جب ہم اُن لوگوں کو اسلام کی سچائی کے متعلق بتا سکیں جو نہیں جانتے‟، وہ آغا جی کے قدموں میں بیٹھا تھا اور اپنا سر اُن کے گھٹنوں پر رکھ کے اُن سے وہ سب سوال کر رہا تھا جو کیتھرین نے اُس سے کئے تھے۔
    ”ہم پیدا ہوئے اور کان میں اذان دی گئی، قدم قدم پہ بتایا گیا کہ اللہ ایک ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُس کے آخری رسول ہیں۔ اللہ اور رسولؐ کی محبت ہماری روح میں بسی ہے لیکن دنیا میں بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جنکی صبح شاید اس سوچ سے شروع ہوتی ہوگی کہ آج کے دن پیٹ کا دوزخ کس طرح بھرا جائے۔ اُن کے لئے کون اللہ اور کون رسولؐ؟ وہ لوگ تو ایک طرف بیٹا ہم تو اُن لوگوں تک بھی اپنی بات پہنچانے سے قاصر ہیں جنہوں نے علم و حکمت کے میدان میں اتنی ترقی کر لی ہے کہ ستاروں پر کمندیں ڈالنے چلے ہیں‟، آغا جی اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہے تھے اور وہ دم سادھے بس سن رہا تھا۔
    ”یہ دور سائنسی ترقی کا دور ہے اور شاید ہم مسلمان اس میں سب سے پیچھے ہیں۔ اسلام تو امن پسندی کا دین ہے۔ یہ مقابلہ بازی کا دین نہیں ہے۔ ہم یہ کہہ دیتے ہیں کہ اللّٰہ ان غیر مسلموں کو ہدایت دے۔ اللّٰہ نے خود ہی سب کام کرنے ہوتے تو تمہیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم کیوں ہوتا؟ تم دیکھو گے کہ ہمارے ملک میں مختلف فرقوں کے علمائے کرام ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ ہر ایک فرقہ خود کو صحیح ثابت کرنے کی سعی میں ہے اور خود کو صحیح ثابت کرنے کے چکر میں مذہب کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔ غیر مسلم ہمیں آپس میں لڑتے دیکھ کر ہنستے ہیں۔ اُنہیں تو اسلام کے خلاف کچھ کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی، ہم خود جو اس کے لئے کافی ہیں۔ کوئی کہتا ہے شلوار کو ٹخنوں سے اوپر رکھنا چاہیئے اور کوئی کہتا ہے نہیں نیچے رکھنا چاہیئے۔ بیٹا ایک مومن کی زندگی کا مقصد لوگوں کو یہ بتانا نہیں ہے کہ نماز ہاتھ باندھ کے پڑھی جائے یا کھول کے۔ اور یہ بھی نہیں کی مرد کی داڑھی کی لمبائی کتنی ہونی چاہیئے۔ اپنے ذہنوں کو کھولو اور ان خود ساختہ بندھنوں سے باہر نکل کے اُن لوگوں کی باتوں کا جواب دو جو پوچھتے ہیں کہ ایک انسان کو صرف مسلمان ہی کیوں ہونا چاہیئے؟ انگریز اس قدر ریسرچ اورینٹڈ ہیں بیٹا کہ اگر تم ان کے منہ میں سیب کا ایک ٹکڑا بھی ڈالو گے اور انہیں کہو گے کہ آنکھیں بند کر کہ بتاؤ یہ کونسا پھل ہے تو وہ جب تک اپنی آنکھوں سے دیکھ نہیں لیں گے کسی اگلے بندے تک یہ معلومات نہیں پہنچائیں گے اُنہوں نے سیب کھایا ہے۔ تو بیٹا وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان کیوں لائیں گے؟ جب وہ اُن کے بارے میں کچھ جانتے ہی نہیں۔ اُن کو اس کے مفہوم سے روشناس کروانا ہمارا کام ہے۔ قرآن یا اسلامی کتابیں تو وہ بعد میں پڑھیں گے بیٹا پہلے تو وہ ہمیں دیکھیں گے نا۔ اگر ہمارا عمل اچھا نہ ہوا تو وہ تو یہی سوچیں گے کی ان کا مذہب انہیں یہ سب سکھاتا ہے۔ لیکن ہمیں آپس کے لڑائی جھگڑوں سے فرصت نہیں تو ہم اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاقیات کو اُن کے سامنے بھلا کس طرح لا سکتے ہیں۔ اُن کو بتاؤ کہ جن باتوں سے ہمیں روکا گیا ہے اُس کی وجہ گناہ نہیں بلکہ ہمارا اپنا نقصان ہے۔ جو کچھ نہیں جانتے اُن کو گناہ ثواب کے چکر میں مت پھنساؤ اُن کو پریکٹیکل باتیں بتاؤ۔ اُن کو کیا پتا کہ قرآن کا ایک لفظ پڑھنے سے دس نیکیاں ملتی ہیں؟ نیکی اُن کے لئے ایک ایبسٹریکٹ چیز ہے۔ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے زمانے کے لوگ ہیں دلیلوں سے قائل کرو اُنہیں، اُن سے اُن کے ذہنوں کے مطابق بات کرو اور یہ تو ہمارے نبی کا فرمان بھی ہے انزلوالناس علی منازلہم کہ لوگوں سے اُن کے مرتبے کے مطابق بات کرو۔ اس کا مطلب ظاہری مرتبہ نہیں بلکہ اُن کی ذہنی قابلیت ہے اور ہمارے حضور سے اچھا کوئی مبلغ نہیں ہو سکتا۔ تو بہترین تبلیغ کا اصول یہی ہے کہ ایسی باتیں کہو جن سے لوگ مطمئن ہو سکیں ورنہ اپنا ہی مذاق اُڑوا بیٹھو گے۔ اور بیٹا کسی دوسرے پہ مت چھوڑ دو کہ فلاں تحقیق کرے گا تو پتا چلے گا۔ یہ بحیثیت مسلمان ایک ایک فرد پر لاگو ہوتا ہے کہ وہ اسلام کو فائدہ پہنچائے‟، آغا جی چپ ہو گئے۔
    فصیح نے سر اُٹھا کہ انہیں دیکھا۔ آغا جی کی آنکھیں نم تھیں۔
    ”اُٹھو بیٹا اور ایک نئی لگن سے اپنے مذہب کو جانو تا کہ جب تم واپس جاؤ تو ایک کیتھرین نہیں، دنیا کے ہر غیر مسلم کی بات کا جواب دے سکو‟، آغا جی کرسی سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور اپنا عصا ٹیکتے ہوئے باہر جانے لگے۔ دروازے پر پہنچ کر اُنہوں نے مڑ کر دیکھا اور فصیح کو مخاطب کیا،
    ”بیٹا! تم اقبال کے شاہین ہو، مجاہد ہو تم، اور ایک بات یاد رکھنا، مجاہد کی اذان ”اور‟ ہوتی ہے اور یہ اثر کر کے رہتی ہے‟، آغا جی نے دروازے کی طرف دو قدم اور بڑھائے اور پھر رک گئے، ”اور ہاں! مجھے یقین ہے آج خواب میں تمہاری پیاس بجھا دی جائے گی‟، آغا جی نے مڑے بغیر کہا اور فصیح کو حیرت زدہ چھوڑ کر تیزی سے باہر نکل گئے۔
    __________________

  13. #133
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    16,873
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: افسانہ نویسی کا ساتواں مقابلہ

    Quote Originally Posted by رفعت View Post
    yehi to

    main aik aakhro afsana post karnay lagi hon ..bohat dukh howa muje aik aik banday ki mintain karo k likhein likhein..ya shayad muje thread banana hi nahi chahiye tha ...

    ہاں ناں ۔۔۔ مجھے تو سبسسسسسسس سے زیادہ افسوس ہو رہا ہے۔۔ تم دنوں کو تو پھر بھی کسی نے افسانہ بھیجنے لائق سمجھا مجھے تو ایک افسانہ کیا اس کا ٹوٹا تک نہیں بھیجا کسی نے

  14. #134
    Senior Member

    Join Date
    Jan 2008
    Posts
    12,232
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: افسانہ نویسی کا ساتواں مقابلہ

    han na ...pehlay aisa nahi tha na pichla wala muqabla kitna acha tha..
    is bar sab k pas hi time nahi ha ..to khatam kar detay hain

  15. #135
    Senior Member Sabih's Avatar

    Join Date
    Jun 2009
    Posts
    10,466
    Blog Entries
    11
    Mentioned
    19 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: افسانہ نویسی کا ساتواں مقابلہ

    سوری رفعت آپی لبنیٰ آپی اینڈ کے ایم ایس۔

    میں پچھلی بار کی طرح نہیں حصہ لے سکا۔ بابا کی بیماری کی وجہ سے ذہن بکھرا ہوا سا ہی رہا۔

Page 9 of 10 FirstFirst ... 78910 LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •