Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Page 1 of 5 123 ... LastLast
Results 1 to 15 of 69

Thread: قسم اس وقت کی از ابو یحیی

  1. #1
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    20,505
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    قسم اس وقت کی از ابو یحیی

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    پیشِ خدمت ہے ابو یحییٰ کی شہرہ آفاق کتاب جب زندگی شروع ہو گی، کا دوسرا حصہ

    ایک منکرِ خدا لڑکی کی داستانِ سفر جو سچ کی تلاش میں نکلی تھی

    ایک خدا پرست کی کہانی جس کی زندگی سراپا بندگی تھی

    ایک ایسی کتاب جو آپ کے ایمان کو یقین میں بدل دے گی

    خدا تعالیٰ کی ہستی اور روزِ قیامت کا ناقابلِ تردید ثبوت

    کفر و الحاد کے ہر سوال کا جواب، ہر شبہے کا ازالہ

    آج کی نوجوان نسل کے لیے ایک بہترین تحفہ

    ===============
    حصہ اول ، جب زندگی شروع ہو گی، کا لنک
    ===============

    ایک ضروری گزارش
    جن لوگوں نے اس کے حصہ اول کا مطالعہ کیا ہے وہ اس کا اینڈ دوبارہ سے پڑھیں۔ اس میں مصنف نے کچھ اضافہ جات کیے ہیں۔، جزاک اللہ خیر

  2. #2
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    20,505
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی

    دوسری یلغار

    انسانیت کا قافلہ مختلف ادوار سے ہوتا ہوا آج انفارمیشن ایج میں داخل ہوچکا ہے۔ اس مرحلہ سفر میں انسانیت کی امامت اہل مغرب کے ہاتھ میں ہے۔ ان کی زبان، تہذیب، ثقافت، علم، فلسفہ، اقدار اور حیات وکائنات کے بارے میں ان کے نظریات آج دنیا بھر میں غالب ہیں۔ دنیا پر اہل مغرب کایہ غلبہ ان کی دوسری یلغار کا نتیجہ ہے۔ ان کی پہلی یلغار صنعتی دور کے آغاز میں ہوئی تھی، مگر اس وقت ان کا غلبہ سیاسی نوعیت کا تھا۔ ان کے تہذیبی اثرات محکوم اقوام کی اشرافیہ ہی تک محدود تھے۔ تاہم آج جب سیٹلائٹ، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی غیرمعمولی ترقی نے دنیا کو حقیقی معنوں میں ایک گلوبل ولیج بنادیا ہے، مغربی فکر وتہذیب ذرائع ابلاغ کی طاقت سے معاشرے کے ہر طبقے میں سرائیت کررہی ہے۔ ہمارا تہذیبی ڈھانچہ، اخلاقی اقدار اور اعتقادی نظام سب مغرب کی اس دوسری یلغار کی زد میں ہیں۔

    اس میں شک نہیں کہ اس یلغار کاپہلا نشانہ ہمارا تہذیبی ڈھانچہ اور اخلاقی نظام بنے ہیں لیکن اس کا آخری ہدف ہمارا مذہبی اوراعتقادی نظام ہی ہوگا۔ یہ بنیادی حقیقت کہ عالم کا ایک پروردگار ہے جو کائنات کا نظام براہراست چلارہا ہے۔ وہ اپنے رسولوں کو لوگوں کے پاس بھیجتا ہے تاکہ وہ اس کی مرضی سے لوگوں کو آگاہ کریں۔ پھر ایک دن وہ اپنے وفاداروں کوبہترین جزا دے گا اور منکروں کا احتساب کرے گا۔۔۔ یہ باتیں الحاداور انکار خدا (atheism) پر مبنی مغربی فکر کے تحت لوگوں کو ناقابل یقین لگتی ہیں۔ ان چیزوں کو حقائق سے زیادہ بعض مذہبی لوگوں کا انفرادی عقیدہ یا ایک ثقافتی مظہر (Cultural Phenomenon) سمجھا جاتا ہے۔

    جدید دنیا میں مذہبی افکار سے متعلق یہ تصورات عام ہیں، مگر ہمارے ہاں پچھلی دو نسلوں میں مذہبی فکر کے غلبے کی بنا پر یہ چیزیں نمایاں نہیں ہوسکی تھیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ انٹرنیٹ اور سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کی وجہ سے تبدیلی کا ایک عمل آہستہ آہستہ شروع ہوچکا ہے۔ ان ذرائع کی پہنچ اور قوت کی بنا پرالحاد (atheism) کا اصل نشانہ ہماری جدید نسلیں اور نوجوان ہیں۔ ان نوجوانوں میں سوال اور تشکیک کے مرحلے کا آغاز ہوچکا ہے۔ موثر جواب سامنے نہیں آیا تو شکوک وشبہات اور انکار کا مرحلہ جو ابھی ایک اقلیت تک محدود ہے جلد ہی اکثریت کا مسئلہ بن جائے گا۔ اگلی نسل میں بیشتر پڑھے لکھے لوگ خدا و آخرت کو ایک زندہ حقیقت ماننے کے بجائے ایک ثقافتی مظہر کے مقام پر پہنچادیں گے۔ میں مذہب کے ساتھ سوشل سائنس کا بھی طالب علم ہوں اور سماجی حرکیات (Social Dynamics) کو سمجھتا ہوں۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ کیا تبدیلی آرہی ہے اور کیا آنے والی ہے۔ جواب دینے کا یہی وقت ہے۔ اس کے بعد کوئی جواب موثر نہیں ہوگا۔ نوجوان نسل کو بچانے کا یہی وقت ہے۔ اسی احساس کے تحت میں نے آج سے دو برس قبل ’’جب زندگی شرع ہوگی‘‘ کے نام سے ایک ناول شائع کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو وہ مقبولیت عطافرمائی جو کم ہی تحریروں کو ملا کرتی ہے۔

  3. #3
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    20,505
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی

    ’’جب زندگی شروع ہوگی‘‘ میں میرا مقصد روزقیامت کو ایک زندہ حقیقت کی شکل میں دکھانا تھا۔ اس اسلوب میں استدلال کی ضرورت ہوتی ہے نہ اس کے بیان کی گنجائش۔ لیکن یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک کمی تھی جو پچھلے ناول میں بہرحال موجود تھی۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے قارئین کی خدمت میں ’’قسم اُس وقت کی‘‘ کے نام سے ’’جب زندگی شروع ہوگی‘‘ کا دوسرا حصہ یا Sequel پیش ہے۔ الحمدللہ اس کتاب میں قیامت کے وجود کو ثابت کیا گیااوراس طرح ثابت کیا گیا ہے کہ انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ ظاہر ہے یہ ایک معجزانہ کام ہے جوکسی انسان کے بس کی بات نہیں۔ الحمدللہ یہ کام پروردگار عالم نے اپنی آخری کتاب میں خود ہی کررکھا ہے۔ اس ناول میں قرآن مجید کا یہی معجزہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو آخری درجے میں سچائی کو ثابت کردیتا ہے۔ اس بندۂِ عاجز کے نزدیک قرآن کریم کا یہی وہ معجزہ ہے جو رہتی دنیا تک ہر انسان پر حجت قطعی ہے۔ ہمارے اہل علم اس معجزے کو سمجھتے اور اپنی کتابوں میں بیان کرتے ہیں، مگر عام مسلمانوں کی اکثریت پر اس کی اہمیت واضح نہیں ہے۔ مگر درحقیقت ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معجزے کو سمجھے اور دوسروں کو سمجھائے۔ یہ ناول اس کام کو ایک کہانی کی شکل میں آسان کرنے میں ان شاء اللہ بہت معاون و مددگار ثابت ہوگا۔

    میں نے اس ناول میں قرآن مجید کے اصل استدلال کے ساتھ کئی اور پہلوؤں سے اسلام پر ہونے والے اعتراضات کا جواب بھی دیا ہے۔ یہ وہ سوالات اور اعتراضات ہیں جو لوگ برسہا برس سے میرے سامنے رکھتے رہے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ ہر جواب کے بعد ایک نیا اعتراض کیا جاسکتا ہے۔ تاہم جو استدلا ل قرآن مجید کا ہے اور جو چوتھے باب سے شروع ہوگا، وہ ایک معجزہ ہے۔ اس کا جواب دینا ممکن نہیں۔ میرے پیش نظر اسی کا بیان ہے۔ باقی جو کچھ ہے وہ اسی کے ذیل میں ضمنی طور پر بیان ہوا ہے۔ قرآن مجید میں یہ استدلال جگہ جگہ بکھرا ہوا ہے، مگر اس کی ایک مختصر مگر جامع ترین سورت ’’العصر‘‘ کو بنیاد بنا کر میں نے اس ناول کی بنا اٹھائی ہے۔ ناول کا نام ’’قسم اُس وقت کی‘‘ اسی سورت کے ابتدائی الفاظ ’’والعصر‘‘سے ماخوذ ہے ۔

    آج کی انفارمیشن ایج میں انکار خدا و آخرت پر مبنی مغربی فکر علم کے بجائے ثقافتی روایات، تہذیبی اقدار اور میڈیا کے ذریعے سے ہماری نئی نسلوں کو متاثر کر رہی ہے۔ میں نے بھی ان سوالوں کا جواب دینے کے لیے علمی طریقے کے بجائے اسی طریقے کو اختیار کیا ہے جو مغربی فکر کا طریقہ ہے۔ یعنی علمی کتاب لکھنے کے بجائے جذبات و احساست پر مبنی ایک دلچسپ کہانی کی شکل میں نوجوان نسلوں کو مخاطب کیا ہے جو عام طور پر دین سے دور ہیں۔

    مغرب کی اس دوسری یلغار کا چیلنج اتنا بڑا ہے کہ اس کے لیے کم از کم ایک پورے میڈیا گروپ کو وقف ہونا چاہیے۔ اس کے وسائل میرے پاس نہیں ہیں۔ میرا ہتھیار ایک بےمایہ قلم اور ایک خامہ خام ہے۔ یہ قلم نوائے حق بن کر ناول نگاری کے اسلوب میں الحاد کے ٹڈی دل لشکر کے سامنے صف آرا ہواہے۔ اس غیر متوازن جنگ میں تنہا اترنے کی جرات مجھ میں اس یقین کی بنا پر پیدا ہوئی کہ یہ دراصل خدا کی جنگ ہے۔ اس جنگ میں کوئی ہمارے ساتھ ہو نہ ہو پروردگار عالم ضرور ہمارے ساتھ ہے۔ وہ اگر ساتھ ہے تو پھر اس راہ میں کسی دوسرے تیسرے کی ضرورت نہیں۔ لیکن اللہ کے بندوں اور بندیوں کو اپنے تعصبات، فرقوں اور جماعتوں کی وفاداری سے اوپر اٹھ کر ایک دفعہ ضرور سوچنا چاہیے کہ عالم کے پروردگار نے روز قیامت اگران سے پوچھ لیا کہ جب میرا دین اپنی بقا کی فیصلہ کن جنگ لڑتے ہوئے تمھیں مدد کے لیے پکار رہا تھا تو تم کیا کر رہے تھے؟ سینے میں دل کی جگہ اگر پتھر نہیں تو سوچنا چاہیے کہ لوگ اس بات کا کیا جواب دیں گے۔ ہم لوگ اس بات کا کیا جواب دیں گے۔

    ابویحییٰ

    26اکتوبر،2012ء
    یوم العرفہ،1433ھ

  4. #4
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    20,505
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی

    قسط نمبر 1


    ”مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ اس بےوقوف میں نانا ابو کو کیا خاص بات نظر آئی ہے۔ کیا امی کے بعد وہ میری زندگی بھی تبا ہ دیکھنا چاہتے ہیں؟ “
    غصے اور جھنجھلاہٹ سے بھرپور یہ الفاظ وہ پہلی بات تھے جو فاریہ کو دیکھ کر ناعمہ کی زبان سے نکلے۔ یہ فاریہ کے لیے ایک بالکل غیر متوقع استقبال تھا۔
    فاریہ کچھ دیر قبل جب ناعمہ کے کمرے میں داخل ہوئی تو وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبی اپنے بستر پر بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کی نگاہیں کھڑکی سے باہر آسمان کی سمت بےمقصد بھٹک رہی تھیں۔ وہ اپنی سوچ میں اتنی مگن تھی کہ اسے فاریہ کی آمد کا احساس بھی نہیں ہوا ۔ وہ اس کی آمد سے بےخبر اپنے خیالات کی دنیا میں کھوئی رہی۔
    فاریہ کچھ دیر کھڑی ناعمہ کا جائزہ لیتی رہی۔ اسے ناعمہ کے چہرے پر ایک نظر ڈالتے ہی معلوم ہوگیا کہ وہ خیالات کے جس سمندر میں کھوئی ہوئی ہے وہاں ہموار لہریں موجزن نہیں بلکہ تلاطم کی کیفیت برپا ہے۔ اس کی خاموشی جس طوفان کا پیش خیمہ تھی اس کے تمام تر آثار ناعمہ کے چہرے پر بکھرے تاثرات سے ظاہر ہورہے تھے۔
    فاریہ کو یہ اندازہ تو اپنے گھر ہی میں ہوگیا تھا کہ معاملہ کچھ گڑبڑ ہے۔ آج جیسے ہی وہ کالج سے گھر پہنچی تو ناعمہ کا فون آگیا کہ فوراً میرے پاس چلی آؤ۔ پہلے تو فاریہ سمجھی کہ ناعمہ کے نانا اسماعیل صاحب کی طبیعت کی خرابی کا کچھ مسئلہ ہے۔ کیونکہ پچھلے دنوں وہ ہسپتال میں تھے اور آج ناعمہ کالج بھی نہیں آئی تھی۔ مگر ناعمہ نے بتایا کہ ان کی طبیعت ٹھیک ہے۔ البتہ اس نے فاریہ سے بہت اصرار کیا کہ وہ فوراً اس کے پاس چلی آئے۔ لہٰذا کھانا کھاتے ہی وہ اس کے گھر چلی آئی۔ یہاں آکراس نے ناعمہ کو فکر و تردد کے جس سمندر میں غوطہ زن دیکھا اس نے اس کی تشویش کو اور بھی بڑھادیا۔ ناعمہ خیالات کی جس دنیا میں کھوئی ہوئی تھی وہاں نہ دروازہ کھلنے کی آواز پہنچ سکی تھی نہ فاریہ کے قدموں کی چاپ۔
    فاریہ اپنی عزیزسہیلی کواس حال میں دیکھ کر مضطرب ہوگئی۔ وہ بچپن سے بہت گہری سہیلیاں تھیں۔ دونوں ایک ہی محلے میں رہے اوراسکول سے لے کر کالج تک ساتھ پڑھے تھے۔ وہ ناعمہ کی سوچ، اس کے رویے اور اس کی رگ رگ سے واقف تھی۔ اسے معلوم تھا کہ ناعمہ نے زندگی کتنی محرومیوں میں گزاری ہے۔ مگر زندگی کی ہر مشکل کو اس نے بڑی ہمت سے جھیلا تھا۔ پچھلے دنوں اپنے نانا کی بیماری میں اس نے جس طرح اپنی والدہ کا ساتھ دیا تھا وہ خود اس کی ہمت کی ایک مثال تھی ۔ گھر میں نانا کے سوا کوئی اور مرد نہ تھا، مگر اس نے بڑی بہادری سے اس صورتحال کا سامنا کیا اور نانا کی خدمت میں پیش پیش رہی۔ اپنی ایسی باہمت سہیلی کی پریشانی فاریہ کے لیے باعث تشویش تھی۔
    فاریہ کے کمرے میں داخل ہونے کے کافی دیر بعد بھی ناعمہ نے اس کی آمد کا کوئی نوٹس نہیں لیا تو فاریہ نے بہت پیار سے ناعمہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی آمد کی اطلاع دی۔
    "ہماری فلسفی حسینہ کس کی یادوں میں کھوئی ہوئی ہے ؟"
    فاریہ ایک خوشگوار مذاق سے بات شروع کرنا چاہ رہی تھی، لیکن جواب میں ایک تند و تیز جملہ سننے کو ملا جو ہر قسم کے سیاق و سباق کے بغیر تھا۔ وہ کون بے وقوف تھا جو اس کے نانا ابو کو نظر آگیا تھا اور ناعمہ کی زندگی سے اس کا کیا تعلق تھا، فاریہ کو کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ اس نے ناعمہ کے برابر بیٹھتے ہوئے پیار سے اس کی کمر کو تھپتھپایا اور بولی:
    "مسئلہ کیا ہے؟ پوری بات بتاؤ۔ ایسے تو میری سمجھ میں کچھ نہیں آئے گا۔"
    "تمھیں معلوم ہے نا کہ پچھلے کچھ عرصے سے ہمارے گھر میں ایک بلا آگئی ہے۔"
    ناعمہ نے برا سا منہ بنا کر جواب دیا۔ مگر فاریہ پر ناعمہ کا مدعا واضح نہیں ہوسکا۔ اس نے نہ سمجھنے کے انداز میں سوال کیا:
    "یار یہ پہیلیاں کیوں بجھوا رہی ہو؟ صاف صاف بتاؤ کس بلا کا ذکر کررہی ہو؟"
    ناعمہ نے جھلا کر کہا:
    "وہی بلا جو پچھلے ہفتے نانا ابو کی بیماری میں مستقل طور پر ہمیں چمٹ گئی تھی۔"
    "تم عبد اللہ بھائی کی بات کر رہی ہو؟"، فاریہ پر اب واضح ہوگیا تھا کہ اس لب و لہجے میں کس کا ذکر خیر ہورہا تھا۔ اس نے سوال کی شکل میں اپنی بات کی تصدیق چاہی۔ ناعمہ نے اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے اسی توہین آمیز لہجے میں عبداللہ کا ذکر جاری رکھا۔
    "ہاں اُسی احمق کی بات کر رہی ہوں جو روزانہ نانا ابو کے ساتھ رات کو زبردستی رکتا تھا۔ حالانکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ پانچ سات دن ہسپتال میں ان موصوف نے نانا ابو کی کیا خدمت کرلی کہ اب وہ مجھے کوئی بکری سمجھ کر میری رسی عمر بھر کے لیے اس کے حوالے کرنے پر تل گئے ہیں اور امی کو بھی انہوں نے قائل کرلیا ہے۔"
    ناعمہ کے لہجے میں غصہ، نفرت، حقارت سب ایک ساتھ جمع تھے۔
    "اچھا تو یہ بات ہے"، فاریہ نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔ معاملہ اب اس کی سمجھ میں آچکا تھا۔ وہ اس کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے اسے پیار سے سمجھانے لگی۔
    "دیکھو ناعمہ! تمھاری زندگی کا فیصلہ تمھاری مرضی کے خلاف نہیں ہوسکتا۔ میں آنٹی کو جانتی ہوں اور نانا ابو کو بھی۔ وہ دونوں تم سے بے حد محبت کرتے ہیں اور تمھاری رضامندی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔ مگر کیا آنٹی نے تم سے کوئی بات کی ہے؟"
    اس نے ایک سوال پر اپنی بات ختم کی تو فاریہ نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے کہا:
    "ہاں انہوں نے مجھ سے پوچھا تھا۔"
    "تو تم نے کیا جواب دیا؟"
    "وہی جو تمھیں دے چکی ہوں۔"
    "پھر انہوں نے کیا کہا؟"
    "بس خاموش ہوگئیں۔"
    "یار تو بس بات ختم ہوگئی ۔ وہ یہ بات نانا ابو کو بتادیں گی۔ لیکن یہ بتاؤ کہ تمھیں اتنا غصہ کس بات پر ہے؟"، فاریہ نے قدرے تعجب سے پوچھا۔
    ناعمہ اس سوال پر خاموش رہی تو فاریہ نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا:
    "ویسے عبد اللہ بھائی اتنے برے تو نہیں کہ تم رشتے کے ذکر پر اس قدر ناراض ہوجاؤ۔ تم نے ہی تو مجھے بتایا تھا کہ وہ تمھارے حسن سے اتنا مرعوب ہوئے تھے کہ تمھیں پہلی دفعہ دیکھتے ہی بےہوش ہوگئے تھے۔"
    ناعمہ کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے فاریہ نے لطیف انداز میں ہنستے ہوئے کہا۔ مگر ناعمہ کے چہرے پر مسکراہٹ کی کوئی رمق نمودار نہیں ہوئی۔ وہ سنجیدہ لہجے میں بولی:
    "اس شخص کا نہ کوئی کیریر ہے نہ اسٹیٹس۔ نہ شکل ہے نہ صورت۔ پھر اوپر سے اس کی مذہبی باتیں۔ نانا ابو کی بیماری میں اس کی باتیں سن سن کر میں تو تنگ آگئی تھی ۔"
    ناعمہ کے لفظ لفظ سے حقارت کا زہر چھلک رہا تھا۔

    ناعمہ نے اپنے “ جبری” عمرے کے آخر میں جس مصیبت کا ذکر کیا تھا، اس کی وضاحت کے لیے فاریہ کو کوئی سوال پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی۔ فاریہ جانتی تھی کہ اس کا اشارہ عبداللہ کی طرف ہے۔
    ناعمہ نے اسی ٹون میں گفتگو کرتے ہوئے فاریہ پر ایک حملہ کیا:
    “لیکن یار یہ تو بتاؤ تمھارے خیال میں یہ بےوقوفی کا کام نہیں ہے کہ لاکھوں روپے خرچ کرکے انسان پتھروں کو دیکھنے اور چھونے چلا جائے۔ اس کے بجائے یہ پیسے کسی غریب کی مدد پر خرچ نہیں ہونے چاہییں؟”
    اس کے بعد ناعمہ جو کثرت مطالعے کی بنا پر ایک چلتا پھرتا انسائیکلو پیڈیا تھی اعداد و شمار سے یہ ثابت کرنے لگی کہ جتنے پیسے حج عمرہ کے سفر پر خرچ ہوتے ہیں، اس سے غریب لوگوں کے کتنے مسائل ختم ہوسکتے ہیں۔ فاریہ کے پاس ایسی باتوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اس بے چاری نے جان بچانے کے لیے کہا:
    “یار میں تم سے بحث میں نہیں جیت سکتی۔ میں تو صرف اتنا جانتی ہوں ہم یہ اللہ کے لیے کرتے ہیں۔ ہم سب کو اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ سب سے بڑھ کر یہ شکریہ تمھیں ادا کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ ۔۔۔”
    فاریہ نے اپنا جملہ ادھورا چھوڑا اور ناعمہ کو کندھوں سے پکڑ کر دیوار پر لگے آئینے کے سامنے کھڑا کرتے ہوئے بولی۔
    “اللہ تعالیٰ نے اتنا حسین چہرہ اور ایسا دلکش وجود لاکھوں میں شاید کسی کو دیا ہوگا۔ اس کا ہی شکر ادا کرلیا کرو۔”
    ناعمہ اپنی تعریف پر خوش ہونے کے بجائے طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے فاریہ سے بولی:
    “میری جان! میری ماں بھی جوانی میں میرے جیسی تھی۔ مگر جانتی ہو اس کے ساتھ کیا ہوا۔ میرے نانا نے ایک بہت شریف ،ایماندار مگر غریب آدمی سے انہیں بیاہ دیا۔ میں دس مہینے کی تھی کہ میرے والد کا کینسر میں انتقال ہوگیا۔ وہ عین جوانی میں تڑپ تڑپ کر مرے اور میری ماں نوجوانی ہی میں بیوگی کا داغ لیے بیٹھی رہ گئی۔ میرے باپ نے ورثے میں میری ماں کے لیے بیوگی کے سوا کچھ اورنہیں چھوڑا۔ جس کے بعد میری ماں مجھے لے کر نانا کے گھر لوٹ آئیں۔ انہوں نے دوسری شادی کرنے کے بجائے میری پرورش کے خاطر اپنی جوانی برباد کردی۔ اب میرے نانا یہ چاہتے ہیں کہ اس گھر میں پھر ایکشن ری پلے ہو۔ اور تم کہتی ہو کہ میں شکر کروں۔”
    “تونہ کرو شکر۔ جو دل چاہے کرو۔”
    فاریہ نے قدرے ناراض لہجے میں کہا تو ناعمہ کو احساس ہوا کہ وہ بے چاری اتنی دیر سے اس کی دل جوئی کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ جواب میں وہ اس کے ساتھ بلاوجہ تلخ ہو رہی ہے۔ وہ اپنے لہجے اور گفتگو کی تلافی کرتے ہوئے نرمی سے بولی۔
    “سوری یار۔ مجھے غصہ امی اور نانا پر تھا جو میں نے تم پر اتاردیا۔”
    اس کو نرم پڑتے دیکھ کر فاریہ نے اس جارحانہ لب و لہجے کی طرف توجہ دلائی جس میں اس نے کچھ دیر قبل اللہ تعالیٰ کا ذکر کیاتھا:
    “میری تو خیر ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے معاملے میں محتاط رہا کرو۔ ہم سب اس کے بندے ہیں اور وہ ہمارا مالک ہے۔”
    “چھوڑو یار۔ یہ سب فضول باتیں ہیں۔”
    ناعمہ ایک دفعہ پھر پٹری سے اترنے لگی تو فاریہ نے اسے سمجھایا:
    “دیکھو میری بہن! میں تمھارے جیسی حسین ہوں نہ ذہین۔ میں ایک عام سی لڑکی ہوں۔ بلکہ ایورج سے بھی کم کہو۔ میری منگنی بھی ایک عام سے لڑکے کے ساتھ ہوئی ہے۔ لیکن میں بہت خوش ہوں۔ تم سے کہیں زیادہ خوش ہوں۔ اس لیے کہ خوشی اس چیز کا نام نہیں کہ ہمیں زندگی میں کیا ملا ہے۔ بلکہ جو کچھ ملا ہے اس میں خوش رہنا اصل چیز ہے۔ یہ کامیاب زندگی کا نسخہ ہے جو تم اپنے سارے علم اور ذہانت کے بعد بھی نہیں سمجھ سکیں۔ تم ذہین ہو۔ بہت خوبصورت ہو۔ مگر اللہ کی ان نعمتوں کو بھی تم نے اپنے منفی انداز فکر کی بنا پر اپنے لیے ایک مصیبت بنالیا ہے۔”
    ناعمہ اس دفعہ خاموش رہی۔ فاریہ نے اپنی بات کو موثر ہوتا دیکھ کربات جاری رکھی:
    “تم تعلیم اور علم میں بہت آگے ہو۔ ہر دفعہ تمھاری پوزیشن آتی ہے۔ تم شکل ہی میں خوبصورت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں شخصیت اور ذوق بھی بہت اچھا دیا ہے۔ تمھارا لباس، اٹھنا بیٹھنا، انداز گفتگو ہر اس شخص کو متاثر کردیتا ہے جو تم سے پہلی دفعہ ملتاہے۔ تم ان سب نعمتوں کا شکر ادا کیا کرو۔ شکر سے نعمتیں بڑھتی ہیں۔”
    “نعمتیں شکر سے نہیں بڑھا کرتیں۔ موقع سے فائدہ اٹھانے سے بڑھتی ہیں۔”
    ناعمہ نے فاریہ کی ساری اخلاقی تلقین کو مادی فلسفے کے دو جملوں میں برابر کردیا۔
    “اور میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ میں ان مواقع سے فائدہ اٹھاؤں گی جو قسمت سے مجھے مل گئے ہیں۔”
    ناعمہ نے سوچ سمجھ کر اللہ تعالیٰ کے بجائے قسمت کو اپنا محسن قراردیاتھا۔
    “میں ایسی جگہ شادی کروں گی جہاں میرا مستقبل بالکل محفوظ ہو۔ بہت امیر گھرانہ ہو۔ بنگلہ، گاڑیاں ہوں، ملازم ہوں، بینک بیلنس ہو۔ ہر طرح کی خریداری کے لیے کریڈٹ کارڈ ہوں۔ فارن ٹرپس ہوں اور بس ۔۔۔”
    ناعمہ نے آخری بات کہتے ہوئے آنکھیں بند کرلیں۔ وہ شاید تصوراتی دنیا میں خود کو انہی سب چیزوں کے درمیان دیکھ رہی تھی۔



  5. #5
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    20,505
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی

    عبداللہ کے بارے میں ناعمہ کے جو جذبات تھے وہ فاریہ کے لیے کسی انکشاف کی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ عبد اللہ کا پچھلے کئی مہینوں سے ناعمہ کے نانا اسماعیل صاحب کے پاس آنا جانا تھا۔ تین افراد پر مشتمل اس چھوٹے سے کنبے سے عبد اللہ کی ملاقات کچھ عرصہ قبل اس وقت ہوئی تھی جب اسماعیل صاحب اپنی بیٹی آمنہ اور نواسی ناعمہ کے ہمراہ عمرہ ادا کرنے مکہ گئے تھے۔ عمرہ ادا کرنے کے بعد وہ اپنی فیملی سے بچھڑگئے تھے۔ عبداللہ نے اس وقت ان کی مدد کی اور اس جگہ تک ان کی رہنمائی کردی تھی جہاں ان کی بیٹی اور نواسی ان کا انتظار کررہی تھیں۔ یہ ساری باتیں فاریہ کے علم میں ناعمہ ہی کے ذریعے سے آئی تھیں۔
    واپس آکر انہوں نے عبد اللہ سے رابطہ قائم رکھا اور کئی دفعہ اسے اپنے گھر پر بلایا تھا۔ فاریہ ناعمہ کی سہیلی ہی نہیں اس چھوٹے سے کنبے کی ایک فرد کی طرح تھی۔ اس لیے وہ بھی عبد اللہ سے اچھی طرح واقف ہوچکی تھی۔ ناعمہ کے برعکس فاریہ ایک مذہبی ذہن رکھتی تھی۔ دیگر نوجوانوں کی طرح اس کے ذہن میں بھی بہت سے سوالات تھے۔ اسماعیل صاحب جب عبداللہ سے باتیں کررہے ہوتے تو وہ بھی کبھی کبھار جاکر بیٹھ جاتی اور عبداللہ سے اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کا جواب حاصل کرتی۔ وہ عبد اللہ کی شخصیت اور شرافت سے بھی بے حد متاثر تھی۔ عبداللہ کے لہجے کا ٹھہراؤ، گفتگو میں متانت، نگاہوں میں حیا اور انداز و اطوار میں شائستگی وہ چیزیں تھیں جو اسے اس کی عمر کے لوگوں سے بہت مختلف بناتی تھیں۔ ان سب سے بڑھ کر عبداللہ کاعلم بہت متاثر کن تھا جو اس کی عمر کے اعتبار سے بہت زیادہ تھا۔ ان سب چیزوں کی بنا پر فاریہ عبداللہ کی بہت عزت کرتی تھی۔ تاہم ناعمہ کا معاملہ اس کے برعکس تھا۔ اپنی مذہب بیزار طبیعت کی بنا پر اسے اول دن ہی سے عبداللہ کی باتوں میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ اس پر مستزاد ابتدا ہی میں پیش آنے والا ایک واقعہ تھا، فاریہ جس کی گواہ بھی تھی اور کسی درجہ میں ذمہ دار بھی۔ اس واقعے نے ناعمہ کے دل میں عبدا للہ کے حوالے سے وہ دراڑ ڈال دی جو آنے والے دنوں میں ایک وسیع خلیج میں تبدیل ہوگئی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب فاریہ اور ناعمہ کی ایک مشترکہ سہیلی کرن ناعمہ کے گھر آئی ہوئی تھی ۔

    کرن انٹرمیڈیٹ کی تعلیم کے زمانے میں فاریہ اور ناعمہ کی دوست بنی تھی۔ وہ تھی تو دراصل ناعمہ کی ہم ذوق اور اسی کی دوست مگر ناعمہ کے تعلق سے فاریہ سے بھی اس کاملنا جلنا ہوگیا۔ کرن کے والد ایک کالج میں فلسفے کے پروفیسر تھے۔ وہ مذہب اور اہل مذہب کے سخت خلاف تھے۔ ان کے زیر اثر ان کی بیٹی کرن بھی ایسے ہی خیالات رکھتی تھی اور بڑے فخر سے ان کا اظہار بھی کرتی تھی۔ ناعمہ کے لیے تو اس میں خیر کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن فاریہ کو یہ باتیں بالکل پسند نہیں آتی تھیں۔ بات اگر کچھ مذہبی لوگوں کے منفی رویوں پر تنقید کی ہوتی تو فاریہ کو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ مگرکرن مذہبی اعمال تو کجا اعتقادات کو بھی اہمیت نہیں دیتی تھی۔
    انٹر کے بعد کرن الگ کالج میں پڑھنے لگی جبکہ ناعمہ اور فاریہ ساتھ ہی رہے۔ کالج کے بعد فاریہ نے کرن سے ملنا جلنا باقی نہیں رکھا تھا لیکن ناعمہ سے کرن کے تعلقات باقی رہے اور وہ دونوں کبھی کبھار ملاقات کرلیتی تھیں۔ پھر ایک روز ناعمہ نے فاریہ کوبتایا کہ کرن کے والد اپنی فیملی کو لے کرایک مغربی ملک شفٹ ہورہے ہیں۔ جانے سے قبل کرن اس سے ملنے آرہی ہے اس لیے وہ بھی اس کے گھر آجائے۔ چنانچہ فاریہ بھی اس کے گھر آگئی تاکہ کچھ پرانے دنوں کے حوالے سے گپ شپ ہوجائے اور وہ کرن کو الوداع بھی کہہ سکے۔
    یہ ملاقات اس پہلو سے بہت اچھی رہی کہ پرانی کلاس فیلو سے ملاقات ہوگئی، لیکن فاریہ کے لیے کرن سے ملنا کئی پہلوؤں سے بڑا تکلیف دہ تھا۔ اسے پہلا جھٹکا تو کرن کو دیکھ کر ہی لگا۔ اسے دوپٹے کا بےوزن کپڑا ہمیشہ ایک بوجھ لگا تھا۔ کالج میں یہ بوجھ وہ کسی نہ کسی طرح ڈھو رہی تھی، مگر اب اس نے یہ بھاری بوجھ اپنے کندھوں سے اتار پھینکا تھا۔ کپڑے جدید فیشن کے مطابق اورتراش خراش میں ان تمام ہتھیاروں سے لیس تھے جو صنف مخالف کے دل و دماغ میں تہلکہ مچادیتے۔ جب گفتگو شروع ہوئی تو فاریہ کے لیے اس وقت صورتحال بڑی تکلیف دہ ہو گئی جب کرن نے حسب عادت مذہب کا مذاق اڑانا شروع کردیا۔ وہ اپنی گفتگو میں مغربی ممالک کے رہن سہن کی بہت تعریف کررہی تھی۔ پھر بغیر کسی وجہ کے یہ تعریف اُس وقت مذہب پر تنقید میں تبدیل ہوگئی جب کرن نے کہا:
    "یار مغرب نے یہ ساری ترقی مذہب اور خدا کے تصور سے نجات پاکر حاصل کی ہے۔"
    "تم بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو۔" ناعمہ نے اس کی تائید کرتے ہوئے کہا:
    "پتہ نہیں ہمارے ہاں وہ وقت کب آئے گا جب لوگ ایسے فرسودہ تصورات سے نجات حاصل کریں گے۔میں تو ایک مغربی اسکالر کی اس بات پر یقین رکھتی ہوں کہ نسل انسانی تب تک آزاد نہیں ہوسکتی جب تک خدا کو دیے ہوئے اپنے اختیار ات واپس نہیں لے لیتی۔"
    کرن نے ترقی کے ساتھ آزادی کو بھی ایک بے خدا زندگی کا فیض ثابت کرتے ہوئے کہا تو فاریہ سے رہا نہ گیا:
    "یار کرن تم پتہ نہیں کس طرح کی انسان ہو۔ خدا ایک زندہ ہستی ہے جسے فلسفیانہ موشگافیوں سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔"
    "تم معصوم ہو فاریہ ۔ تمہیں نہیں معلوم کہ خدا کا تصور انسانوں کی ایجاد ہے۔"
    کرن نے شفقت آمیز لہجے میں فاریہ کو سمجھایا اور پھر اپنے دعویٰ کی تائید میں ایک شعر پڑھا:
    خدا کو اہل جہاں جب بنا چکے تو نیاز
    پکار اٹھے خدا نے ہمیں بنایا ہے
    کرن کا شعر پوری طرح ختم بھی نہ ہوا تھا کہ دروازے کی گھنٹی بجی۔ فاریہ جس کے لیے اس نشست میں بیٹھنا اب مشکل ہوچکا تھا وہ تیزی سے اٹھتے ہوئے بولی:
    "میں دیکھتی ہوں باہر کون ہے۔"
    فاریہ نے دروازہ کھولا تو باہر عبداللہ کھڑا ہوا تھا۔ فاریہ کو دیکھ کر وہ حسب عادت مسکرایا اور اپنے مخصوص ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا:
    "السلام علیکم فاریہ۔ آپ خیریت سے ہیں۔"
    پھر اس کے جواب کا انتظار کیے بغیر اپنے آنے کا مقصد بیان کرتے ہوئے بولا:
    "مجھے اسماعیل صاحب سے ملنا ہے۔ کیا وہ گھر پر ہیں؟"
    اس وقت اسماعیل صاحب گھر پر نہیں تھے۔ فاریہ کو یہ بھی معلوم تھا کہ وہ آمنہ بیگم کے ساتھ باہر گئے ہیں اوررات سے پہلے نہیں آئیں گے۔ مگر اس وقت وہ کرن کی ناک توڑنا چاہتی تھی اور ناک توڑنے والا شخص اس کے سامنے کھڑا تھا۔ یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ عبد اللہ کو باہر سے لوٹا دیتی۔ اس نے عبد اللہ کو اندر آنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا:
    "عبداللہ بھائی! وہ تو گھر پر نہیں ہیں لیکن تھوڑی ہی دیر میں آجائیں گے۔ اس وقت تک آپ اندر آکر انتظار کرلیجیے۔"

    عبداللہ نے ایک لمحے کے لیے سوچا پھر اس کی رہنمائی میں چلتا ہوا ڈرائنگ روم تک آگیا۔ اسے اندر آتا دیکھ کر ناعمہ نے تیزی سے دو پٹہ سر پر رکھا۔ البتہ کرن حسب سابق بے تکلفی سے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھی رہی۔ فاریہ نے اس کا تعارف کرن سے کراتے ہوئے کہا:
    "یہ عبد اللہ بھائی ہیں اور یہ کرن ہیں، ہماری سابقہ کلاس فیلو۔"
    پھر اس نے ناعمہ کو مخاطب کیا جو اسے حیرت اور ناگواری کے ملے جلے تاثر کے ساتھ گھور رہی تھی:
    "عبداللہ بھائی نانا ابو سے ملنے آئے تھے۔ وہ تو ہیں نہیں۔ میں نے سوچا ان کے ساتھ ایک کپ چائے ہی پی لی جائے۔"
    فاریہ ایک لمحے کے لیے رکی اورشرارت بھرے انداز میں مسکراتے ہوئے ناعمہ سے بولی:
    "ناعمہ مہمانوں کے لیے ذرا چائے تو بناؤ۔"
    ناعمہ فاریہ کی بات سن کر جھنجھلا اٹھی۔ اسے غصہ آرہا تھا کہ جب نانا اورامی گھر پر نہیں ہیں تو فاریہ عبداللہ کو اندرلے کر کیوں آئی اور وہ بھی اس وقت جب اس کی ایک پرانی سہیلی اس سے ملنے آئی ہوئی ہے۔ لیکن مروت اورلحاظ میں اس وقت وہ کچھ کہہ نہیں سکتی تھی۔ چارو ناچار اسے اٹھنا پڑا۔ وہ جھلائے ہوئے انداز میں کچن کی طرف چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد فاریہ نے ایک صوفے پر بیٹھتے ہوئے عبداللہ سے کہا:
    "آپ بیٹھیے نا۔"
    عبداللہ بیٹھ گیا اور فاریہ کرن سے عبداللہ کا تفصیلی تعارف کرانے لگی۔ عبداللہ کا تعلیمی اور پیشہ ورانہ تعارف متاثر کن تھا۔ تعارف ختم ہوا تو کرن ایک گرمجوش مسکراہٹ کے ساتھ اس کی طرف قدرے جھکتی ہوئی بولی:
    "بہت خوشی ہوئی آپ سے مل کر۔"
    وہ جھکتے وقت اس بات سے قطعاً بے پروا تھی کہ اس نے دوپٹہ نہیں پہن رکھا ہے۔ جواب میں عبداللہ نے کہا:
    "مجھے بھی بہت خوشی ہوئی۔"
    یہ کہتے ہوئے عبد اللہ نے نظر اٹھا کر کرن کی طرف دیکھا اور تیزی کے ساتھ نظر جھکالی۔ اس کے بعد جب تک عبداللہ بیٹھا رہا اس نے نظر اٹھاکر کرن کو نہیں دیکھا۔ خاموشی کا ایک طویل وقفہ آیا جس کے بعد فاریہ نے جنگ کا میدان ہموار کرتے ہوئے کہا:
    "یار کرن وہ عبداللہ بھائی کے آنے سے پہلے تم کیا شعر پڑھ رہی تھیں ؟"
    کرن نے ایک لمحے کو رک کر غور سے عبداللہ کو دیکھا۔ وہ نظروں ہی نظروں میں عبداللہ کو تول رہی تھی۔ عبداللہ کے جھکے ہوئے سر نے اس کی ہمت بندھائی ۔اس نے پورے اعتماد کے ساتھ شعر دہرادیا۔ اس کے خاموش ہونے پر فاریہ نے عبداللہ سے کہا:
    "کرن کا خیال ہے کہ خدا کے تصور سے نجات حاصل کیے بغیر ترقی ممکن نہیں۔"
    کرن کو اپنی بات پر اس قدر اعتماد تھا کہ وہ عبداللہ کا جواب سنے بغیر بولی:
    "مذہب پری موڈرن ازم میں کا ئنات کی توجیہہ کا ایک طریقہ تھا، مگر اب جب سائنس کی ترقی نے ہمیں بتادیا ہے کہ یہ کائنات کن فزیکل لاز کی بنیاد پر چل رہی ہے، ہمیں کسی خدا کو ماننے کی ضرورت نہیں ہے۔"
    کرن کے لہجے میں تحکم اور اعتماد کمال درجے کو پہنچا ہوا تھا۔ اس کے جملوں میں موجود "پری موڈرن ازم" کے الفاظ یہ بتارہے تھے کہ وہ انکار خدا کی فکری روایت سے واقف تھی۔ عبداللہ نے جو اس علمی اور فکری روایت کو کرن سے زیادہ جانتا تھا، تحمل سے اس کی بات سنی اور دھیمے لہجے میں بولا:
    "آپ نے کبھی غور کیا کہ فزیکل لاز کے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ یہاں کوئی خدا نہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں کوئی لا میکر بھی ضرور ہوگا۔ کیا یہ کامن سینس کی بات نہیں؟"
    کرن اس کا جواب سن کر گڑبڑا گئی۔ اس کے چہرے کے تاثرات سے صاف ظاہر تھا کہ وہ عبداللہ کو جواب دینا چاہ رہی ہے، مگر اس بات کا کوئی فوری جواب اس سے بن نہیں پڑ رہا تھا، مگر اب کرن کو اندازہ ہوچکا تھا کہ سرجھکائے بیٹھا ہوا شخص جسے وہ گاؤدی سمجھی تھی، اتنا پیدل نہیں تھا۔ عبداللہ نے ایک وقفے کے بعد کہا:
    "یہی قرآن مجید کا طریقہ ہے۔ کائنات جن فزیکل لاز کے تحت چل رہی ہے وہ ان سے پیدا ہونے والے نظم، ترتیب، تنظیم کو بار بار سامنے رکھ کر یہ واضح کرتا ہے کہ کائنات کے اتنے مختلف اور باہم متضاد اجزا حیرت انگیز طور پر ہم آہنگ ہیں اور مل کر وہ لائف سپورٹنگ سسٹم ترتیب دیتے ہیں جو سرتاسر انسان دوست اور حیات دوست ہے۔ یہ بغیر کسی خالق کی مداخلت کے کیسے ممکن ہے؟"
    قرآن کے ذکر پر کرن نے برا سا منہ بناکر جواب دیا:
    "قرآن کا ذکر تو آپ بالکل نہ کیجیے۔ ساری مذہبی کتابوں کی طرح اس میں بھی بڑی غلطیاں پائی جاتی ہیں۔"
    فاریہ جو کرن کی یہ بات پہلے بھی کئی دفعہ سن چکی تھی، وضاحت کرتے ہوئے بولی:
    "کرن کا کہنا ہے کہ قرآن میں زبان و بیان اور گرامر کی بہت سی غلطیاں ہیں۔ اس لیے یہ اللہ کا کلام نہیں ہوسکتا۔"
    فاریہ کی اس بات پر عبداللہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور ہنستے ہوئے کہا:
    "کرن صاحبہ تو اللہ تعالیٰ کو بھی نہیں مانتیں۔ اس لیے قرآن کااللہ کی طرف سے ہونا نہ ہونا ویسے بھی ان کا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ مگر میں بتاتا ہوں کہ یہ دراصل کس کا مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ درحقیقت اسلام مخالف مستشرقین کا ہے جو اللہ کو تو مانتے ہیں، مگر قرآن کو اللہ کا کلام نہیں مانتے۔ مگر ایسی باتوں کی کمزوری تو دو منٹ میں واضح ہوسکتی ہے۔"
    "وہ کیسے؟" ، فاریہ نے اشتیاق کے ساتھ کہا۔
    "دیکھیے قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے، یہ ثابت کرنا سب سے زیادہ قرآن مجید کے پہلے مخاطبین مشرکین عرب کے لیے اہم تھا۔ یہ کام سب سے زیادہ آسانی سے وہی کربھی سکتے تھے۔ کیونکہ و ہ شعر و خطابت اور ادب و بلاغت کے بادشاہ تھے۔ انہیں یہ کوشش بھی ضرور کرنی چاہیے تھی کیونکہ وہ اسلام کے بدترین دشمن تھے۔ اس دشمنی میں انہوں نے ہر حربہ اختیار کیا، مگر کبھی یہ نہیں کہا کہ قرآن میں گرامر یا زبان کی کوئی غلطی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر قرآن میں کوئی غلطی وہ لوگ دریافت نہیں کرسکے تو پھر سیکڑوں سال بعد پیدا ہونے والے لوگ کیسے قرآن کی غلطی نکال سکتے ہیں۔ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے اردو یا فارسی زبان بولنے والا کوئی شخص گرامر کی کتابوں سے انگریزی سیکھے اور پھر دنیا کو یہ بتائے کہ اس نے شیکسپیر کے کلام میں غلطیاں نکال لی ہیں یا پھر کوئی انگریز اردو سیکھ کر دنیا کو بتائے کہ کلام غالب میں فلاں غلطیاں پائی جاتی ہیں۔ یاد رکھیے کلاسیکل لٹریچر سے زبان کے قواعد وجود میں آتے ہیں۔ قواعد کی بنیاد پر ان کو پرکھنا سطحی انداز فکر کی دلیل ہے۔ یہی سبب ہے کہ جو غلطیاں مستشرقین قرآن میں نکالتے ہیں وہ کسی ناواقف شخص کو تو کچھ متاثر کرسکتی ہیں، لیکن زبان و بیان کا اچھا ذوق رکھنے والا کوئی شخص ان سے پہلے کبھی متاثر ہوا ہے نہ آئندہ ہوسکتا ہے۔ اس لیے کہ یہ سارے اعتراضات بچکانہ نوعیت کے ہیں۔"
    پھر اس نے ایک اور آسان مثال سے اپنی بات کی وضاحت کی:
    "عربی گرامر کی بنیاد پر قرآن میں غلطیاں نکالنا ایسا ہی ہے جیسے میڈیکل کی کسی کتاب میں کسی انسانی عضو کے کچھ فنکشنز لکھے ہوں۔ پھر تحقیق سے معلوم ہو کہ یہ عضو ایک اور کام بھی کرتا ہے۔ اب صحیح رویہ تو یہ ہوگا کہ اس عمل یا فنکشن کو میڈیکل کی کتاب میں لکھ دیا جائے، نہ کہ میڈیکل کی کتاب کو بنیاد بنا کر یہ کہا جائے کہ فلاں عضو میں ایک غلطی دریافت ہوگئی۔"

    عبداللہ بول رہا تھا اورکرن کے چہرے پر ایک رنگ آرہا تھا اور ایک جارہا تھا۔ عبداللہ نے اس کے مبلغ علم کا منبع بھی واضح کردیا تھا اور اعتراض کا ایک واضح جواب بھی دے دیا تھا۔ اسی دوران میں ناعمہ چائے کی ٹرے اٹھائے کمرے میں داخل ہوئی۔ اسے اندر آتا دیکھ کر فاریہ نے کہا:
    "بعض لوگوں کا خیال ہے کہ دنیا میں جو ظلم ناانصافی، حادثات اور سانحات پائے جاتے ہیں، وہ اس بات کوماننے کی اجازت نہیں دیتے کہ اس دنیا کا کوئی خالق و مالک ہے۔"
    ناعمہ چائے رکھ کر خاموشی سے بیٹھ گئی۔ اس کے چہرے پر تناؤ تھا۔ وجہ صاف ظاہر تھی۔ یہ اعتراض ناعمہ کا تھا۔ عبداللہ نے بدستور جھکے ہوئے سر اور دھیمے لہجے کے ساتھ کہا:
    "یہ دنیا کو آخرت کے بغیر دیکھنے کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل دنیا اور اصل زندگی آخرت کی ہے۔ جبکہ یہ عارضی اور فانی دنیا تواس نے صرف امتحان کے لیے بنائی ہے۔ اس مقصد کے لیے یہاں انسان کو اختیار و آزادی دی گئی ہے۔ اس اختیار سے ظلم وجود میں آتا ہے۔ اسی طرح امتحان کی غرض سے سانحات و حادثات بھی ہوتے رہتے ہیں۔ یہ بھی امتحان کی غرض سے دنیا میں رکھے گئے ہیں۔ مگر یہ حقیقت کا صرف ایک پہلو ہے۔ اس دنیا میں سانحات سے زیادہ انعامات اور مہربانیاں ہیں۔ انسان کو دونوں طرف دیکھنا چاہیے۔ نعمت پر شکر اور مصیبت پر صبر کرنا چاہیے۔ جنت اسی کا بدلہ ہے۔"
    ناعمہ خاموشی سے سنتی رہی۔ اس کے اعتراضات کی عمارت برسہا برس میں تعمیر ہوئی تھی۔ عبداللہ کے چند جملوں کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ البتہ کرن نے ناعمہ کی طرف سے عبداللہ کا جواب دینا ضروری سمجھا۔ وہ ناعمہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولی:
    "یہ جنت بھی ایک اور خیالی تصور ہے۔ مذہبی یوٹوپیا۔ بھئی یہی وہ باتیں ہیں جو ہمیں دنیا میں ترقی سے محروم رکھے ہوئے ہیں۔ آخرت اور خدا کی باتیں کرکے ہم لوگوں نے مذہب کو افیون بنالیا ہے اور اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنا چھوڑ دیا ہے۔"
    کرن ناعمہ سے حمایت کی طلبگار تھی۔ مگر ناعمہ دل سے اس سے متفق ہونے کے باوجود خاموش رہی۔ وہ عبداللہ کے سامنے کچھ بولنا نہیں چاہ رہی تھی۔ ناعمہ کے بجائے عبداللہ نے اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا:
    "جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ غلط کرتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ تو یہ بات نہیں کہتے کہ اپنی صلاحیت استعمال نہ کرو۔ وہ تو دنیا کے بارے میں بھی اسباب اکٹھا کرنے کا کہتے ہیں اور اس سے بڑھ کر جنت کے متعلق بھی بتاتے ہیں کہ اس میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسان راہ خدا میں جدو جہد کرے۔"
    کرن جنت کے دوبارہ ذکر پر تلملا اٹھی۔ وہ تنک کر بولی:
    "ہاں وہی جنت جس کے متعلق شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
    دوزخ کی دیوار پہ چڑھ کر میں نے اور شیطان نے دیکھا
    سہمی ہوئی حوروں کے پیچھے وحشی ملا بھاگ رہے ہیں"
    پھر اس نے ہنستے ہوئے عبداللہ سے کہا:
    "آپ برا مت مانیے گا مگر آپ کے قرآن میں ہر جگہ حوروں ہی کا تو ذکر ہے۔"
    کرن کی بات سے عبداللہ کو اندازہ ہوگیا کہ گفتگو اب دلائل کی حدود سے باہر نکل چکی ہے۔ اس نے متانت سے کہا:
    "آپ کی معلومات درست نہیں ہیں۔ قرآن مجید کی چھ ہزار دو سوچھتیس آیات میں صرف چار مقامات پر حوروں کا لفظ آیا ہے۔ مگر اس بات کو جانے دیجیے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہمیں ہر حال میں تہذیب اور شائستگی کا دامن تھامے رہنا چاہیے۔"
    عبداللہ کا اشارہ کرن کے سنائے ہوئے شعر کی طرف تھا۔
    "جی شائستگی اور تہذیب کا یہ درس آپ پہلے ذراملاؤں کو سکھا دیں جو اپنے سے مختلف نقطہ نظر کے لوگوں کو کافر اور واجب القتل قرار دیتے ہیں۔ جو خود کو سر تا سر حق اور اپنے سوا ہر ایک کو سراپا باطل سمجھتے ہیں۔ جواختلاف رائے برداشت کرسکتے ہیں نہ کسی اور نقطہ نظر کے فرد کو جینے کا حق دینے کے لیے تیار ہیں۔ جو ان سے اختلاف کردے بھوکے بھیڑیوں کی طرح اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ اورلگتا ہے کہ آپ مذہبی اختلافات میں ایک دوسرے کے خلاف لگائے گئے فتووں، اچھالے گئے کیچڑ، الزام و بہتان اور فرقہ وارانہ قتل و غارتگری سے واقف نہیں ہیں۔"
    کرن نے تند وتیز لہجے میں بات شروع کی اور ایک طنز پر اسے ختم کیا۔ عبداللہ نے اس تندی و تیزی کا جواب بہت نرمی اور شائستگی سے دیتے ہوئے سے کہا:
    "جی مجھے معلوم ہے۔ میں سب جانتا ہوں۔ مگر ان کی غیر شائستگی سے میرے اور آپ کے لیے غیر شائستہ ہونے کا جواز پیدا نہیں ہوجاتا۔ دین میں معیار تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات ہوتی ہے اورمیرے نبی نے مجھے تہذیب اور شائستگی ہی سکھائی ہے۔ میں اس کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑ سکتا۔
    رہے عام انسان تو ان میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ پچھلی امتوں میں تو مکمل گمراہی آگئی تھی ۔ ہمارے ہاں کم از کم ایک گروہ ایمان کی راہ پر اور اعلیٰ اخلاق کے راستے پر کھڑا ہو کر ہمیشہ سچائی کی طرف بلاتا رہے گا۔ ایسے لوگ آج بھی موجود ہیں۔ آپ ان کو کیو ں نہیں تلاش کرتیں؟ ہمیں رس چوسنے والی شہد کی مکھی کی طرح بننا چاہیے جو پھولوں کی تلاش میں رہتی ہیں۔ گندگی کی مکھی بننا کسی اعلیٰ انسان کو زیب نہیں دیتا۔"
    کرن کے پاس ان باتوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔ مگر اس کے چہرے کی بے پرواہی صاف بتا رہی تھی کہ اس پر عبداللہ کی کسی بات کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
    عبدا للہ نے فاریہ سے مخاطب ہو کر کہا:
    "یاد ہے فاریہ! پچھلے دنوں میں نے آپ کے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ہم مسلمان سمجھتے ہیں کہ ہم صرف عمل کی آزمائش میں ہیں۔ فکر اور عقیدہ کا مشکل ترین امتحان صرف غیر مسلموں کا مقدر ہے۔"
    فاریہ نے سر ہلاتے ہوئے کہا:
    "جی مجھے یاد ہے۔ آپ نے کہا تھا کہ ہم مسلمانوں کا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم فکر و ایمان کے امتحان کو یہود و نصاریٰ کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ہمارے لیے بھی یہ امتحان جاری ہے۔ دوسروں کے لیے اس کا مطلب ایمان قبول کرنا ہے اور ہمارے لیے اس کا مطلب سچائی قبول کرنا ہے۔ مگر ہماری اکثریت اپنے مطلب کی حد تک سچائی قبول کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ جو سچائی ہمارے تعصبات کے خلاف ہو ہمیں اس میں کوئی دلچسپی محسوس نہیں ہوتی۔ بلکہ اکثر تو ہم اس سچائی کے دشمن ہوجاتے ہیں۔"
    فاریہ کا اشارہ بالکل واضح تھا۔ مگر عبداللہ اب اس بحث و مباحثے کو ختم کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے اس نے گفتگو کا رخ بدلتے ہوئے ناعمہ سے پوچھا:
    "اسماعیل صاحب کب تک آئیں گے؟"
    "وہ اور امی کام سے گئے ہیں۔ رات تک آئیں گے۔"
    ناعمہ نے اصل بات بتا دی جو فاریہ نے چھپالی تھی۔ عبداللہ یہ سنتے ہی کھڑا ہوگیا۔
    "اچھا تو میں پھر بعد میں آؤں گا۔ انہیں میرا سلام کہیے گا۔"
    "آپ چائے تو پی لیجیے۔"، فاریہ نے اسے روکتے ہوئے کہا تو اس نے جواب دیا:
    "نہیں شکریہ۔ میں خوامخواہ آپ لوگوں کی نشست میں مخل ہوگیا۔ معذرت چاہتا ہوں۔"
    اس نے ناعمہ کی طرف دیکھ کر کہا۔ مگر وہ خاموش رہی۔ ناعمہ کو اس بات کا سخت افسوس تھا کہ اس کی سہیلی کرن اس کے گھر آخری دفعہ ملنے آئی بھی تو اس کے لیے ایک ناگوار صورتحال پیدا ہوگئی۔ عبداللہ اٹھ کر کمرے سے باہر گیا تو فاریہ بھی اسے دروازے تک چھوڑنے باہر چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد کرن ناعمہ سے بولی:
    "یہ آدمی بظاہر تعلیم یافتہ ہے، مگر اندر سے ایک جاہل مولوی کے سواکچھ نہیں ہے۔ میں تو لحاظ کرگئی کہ تمھارا مہمان ہے۔ ورنہ ایسا مزہ چکھاتی کہ ہمیشہ یاد رکھتا۔"
    کرن نے اپنا غصہ عبداللہ پر اتارتے ہوئے کہا۔
    "ہاں تم صحیح کہہ رہی ہو۔ مذہب افیون کا نشہ بن کر ان لوگوں کے رگ و پے میں اترا ہوا ہوتا ہے۔"
    ناعمہ عبداللہ اور کرن کی گفتگو کے بیشتر حصے میں موجود نہیں تھی۔ مگر فکری طور پر وہ کرن کی طرف ہی تھی۔ اس لیے اس نے کرن کی ہاں میں ہاں ملائی۔
    "یار یہ صاحب ہیں کون اور تمھارے گھر کا رخ کیسے کرلیا؟" کرن نے معنی خیز اندازمیں ناعمہ سے سوال کیا۔
    "یہ میرے نانا کے چہیتے ہیں۔ انہی سے ملنے آتے ہیں۔"
    ناعمہ نے ناگواری کے ساتھ جواب دیا۔
    "مگر یار تم بچ کر رہنا۔ کہیں یہ اجڈ ملا ہماری حوروں سے زیادہ حسین ناعمہ کے پیچھے نہ لگ جائے اور پھر تم اس سے سہمی سہمی نہ بھاگ رہی ہو۔"
    کرن نے بے ہودہ انداز میں قہقہہ مارکر کہا۔
    ناعمہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مگرچہرے کے تاثرات سے صاف ظاہر تھا کہ اس کے دل میں عبداللہ کے لیے ناپسندیدگی کے جذبات پیدا ہوچکے تھے۔

    اِس واقعے کے تقریباً دو ہفتے بعد ایک روز اچانک ناعمہ کے نانا اسماعیل صاحب کے سینے میں درد اٹھا ۔ اُس دن اتفاق سے عبد اللہ ان سے ملنے آیا ہوا تھا۔ اسماعیل صاحب اکثر عبداللہ کو اپنے گھر بلالیتے تھے۔ انہیں عبد اللہ کی شکل میں ایک بہت قابل اور نیک نوجوان نظر آیا تھا جو عام نوجوانوں کے برعکس بہت ذمہ دار، باشعور اور بااخلاق تھا۔ بلاشبہ قدرت نے عبد اللہ کو غیر معمولی شخصی خوبیوں سے نوازا تھا۔ بے پناہ ذہانت اور صلاحیت کی بنا پر اسے اسکول کے زمانے ہی سے اسکالر شپ ملتی رہی۔ یوں ماں باپ کے سائے سے محروم ہونے کے باوجود وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیاتھا۔ تعلیم کے فوراً بعد ایک بہترین جاب سے وہ اپنے کیریر کا آغاز کرچکا تھا اور بتدریج ترقی کی سیڑھیوں پر کامیابی سے چڑھ رہا تھا۔
    زندگی غموں اور خوشیوں کی دھوپ چھاؤں کا نام ہے۔ سارے آثار یہ تھے کہ زندگی کی تپتی دھوپ سہنے کے بعد اب خوشیوں کی ردا اس پر سایہ فگن ہونے والی تھی۔ عمرے کے سفر پر عبد اللہ نے برسات سے قبل چلنے والی ٹھنڈی ہواؤں کو اپنے وجود کا احاطہ کرتے محسوس کرلیا تھا۔ اسماعیل صاحب کے خاندان میں اسے وہ سب کچھ نظر آگیا تھا جس سے وہ محروم تھا۔ اس لیے ان کے بلانے پر وہ ہر دفعہ بہت شوق اور اہتمام سے ان کے گھر جاتا تھا۔ دوسری طرف اسماعیل صاحب کو بھی اس نوجوان کی شکل میں اپنی اولاد نرینہ کی کمی کا احساس دور ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔ عبد اللہ میں انہیں وہ ذمہ داری اور صلاحیت نظر آئی تھی جس کی بنا پر ان کا ارادہ تھا کہ وہ اپنی نواسی اور بیٹی کی ذمہ داری اس کو سونپ کر اطمینان سے دنیا سے رخصت ہوسکتے ہیں۔
    اس روز بھی وہ اسماعیل صاحب کے بلانے پر آفس سے واپس آتے ہوئے ان کے گھر آگیا تھا۔ وہ ڈرائنگ روم میں بیٹھا کافی دیر سے ان کا انتظار کر رہا تھا۔ مگر وہ نہیں آئے۔ پھر ان کی صاحبزادی آمنہ بیگم نے بتایا کہ ان کے سینے میں درد اٹھ رہا ہے۔ عبد اللہ نے فوراً انہیں ہسپتال لے جانے کا نہ صرف مشورہ دیا بلکہ خود اصرار کرکے انہیں ہسپتال لے گیا۔ وہاں معلوم ہوا کہ اسماعیل صاحب کو ہلکا سا ہارٹ اٹیک ہو چکا ہے۔ ڈاکٹروں نے انہیں تفصیلی معائنے اور احتیاط کے پیش نظر ہسپتال میں داخل کرلیا۔
    اس خاندان کے کفیل اور سرپرست اسماعیل صاحب تھے۔ جب وہ خود ہسپتال آگئے تو ایک مسئلہ پیدا ہوگیا۔ مالی طور پر تو کچھ نہ کچھ انہوں نے اچھے برے وقت کے لیے پس انداز کر رکھا تھا، مگر ایسے مسائل سے نمٹنے کے لیے کسی مرد کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ اس کمی کو عبد اللہ نے بہت خوبی سے نبھایا۔ وہ دن میں اپنے دفتر جاتا اور رات بھر ان کے ساتھ ہسپتال میں رکتا۔ صبح کے وقت آمنہ بیگم آجاتیں اور دو پہر سے شام تک ناعمہ ان کے ساتھ رکتی۔
    ناعمہ ایک بہت پراعتماد اور حوصلہ مند لڑکی تھی۔ اسے یقین تھا کہ وہ اس مسئلے کو تن تنہا بہت اطمینان کے ساتھ ہینڈل کرسکتی ہے۔ عبد اللہ ویسے بھی اسے شروع ہی سے ناپسند تھا۔ اس نے بہت منع کیا کہ وہ رات کو نہ رکے، مگر عبد اللہ کا اصرار تھا کہ رات کو وہی رکے گا۔ اسماعیل صاحب نے اس کی تائید کی اور ناعمہ کی والدہ آمنہ بیگم نے بھی اس کے ہونے کو ایک غیبی مدد سمجھا۔ یوں ہسپتال کے ان دنوں میں وہ اس خاندان سے قریب ہوتا چلا گیا۔ سوائے ناعمہ کے جس کے دل میں ہر گزرتے دن کے ساتھ عبد اللہ کی ناپسندیدگی بڑھتی چلی جارہی تھی۔
    اس ناپسندیدگی کا سبب بھی انہیں دنوں میں ناعمہ پر واضح ہونے لگا تھا۔ یہ عبد اللہ کے اندر موجود اللہ تعالیٰ کی گہری محبت تھی جو بات بے بات پر اس کی زبان پر اللہ کا نام لے آتی تھی۔ ناعمہ کو اس نام سے چڑ تھی۔ جب اللہ کے نام سے چڑ تھی تو عبداللہ کے متعلق اس کی رائے کیسے مختلف ہوسکتی تھی؟

  6. #6
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    20,505
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی






  7. #7
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    20,505
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی





  8. #8
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    20,505
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی





    پہلی قسط ختم ہوئی

  9. #9
    Senior Member

    Join Date
    Mar 2009
    Posts
    6,628
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی

    بہت بہت اعلٰی۔۔۔

    دوسری قسط کا انتظار رہے گا۔۔۔
    جزاک اللہ





    ﺟﻮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ، ﺣﺎﻻﺕ ﻭ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ، ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﮩﺎﮞ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﻔﯿﺪ ﮐﻮ ﺳﯿﺎە ﺍﻭﺭ ﺍﭼﮭﮯ ﮐﻮ ﺑﺮﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ۔

    [SIGPIC][/SIGPIC]

    Join My Page
    Its PAKISTAN




  10. #10
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    20,505
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی

    دوسری قسط
    بےلباسی کی ذلت

    اسماعیل صاحب کو گھر آئے ہوئے ایک مہینہ ہوچکا تھا۔ ان کی طبیعت اب مکمل ٹھیک ہوچکی تھی۔ کچھ احتیاط تھی جو وہ ڈاکٹروں کے مشورے پر کررہے تھے۔ عبداللہ بھی کئی دفعہ ان کی طبیعت معلوم کرنے آیا تھا۔ ان دونوں کا ذوق مشترکہ تھا یعنی مذہب۔ اس لیے زیادہ تر گفتگو بھی اسی حوالے سے ہوتی۔ وہ اکثر قرآن مجید لے کر ان کے پاس بیٹھ جاتا اور مختلف اہل علم کی آراء کی روشنی میں قرآن مجید کی شرح و وضاحت کرتا۔ رفتہ رفتہ اسماعیل صاحب اس کی سیرت کی ساتھ اس کے علم سے بھی متاثر ہوتے جارہے تھے۔

    انہیں عبداللہ کے ساتھ رہ کر اندازہ ہورہا تھا کہ یہ لڑکا غیر معمولی ذہین اور باصلاحیت ہے۔ اس کے ساتھ اعلیٰ ذوق اور مطالعے کی عادت کی بنا پر اس کا علم اورسمجھ غیر معمولی ہے۔ جو بات ایک پڑھے لکھے مذہبی آدمی کو معلوم نہیں ہوتی تھی وہ عبداللہ بہت آسانی سے بیان کردیتا تھا۔ اسماعیل صاحب اکثر اس سے کہتے تھے کہ وہ بظاہر ایک عام سا غیر مذہبی شخص لگتا ہے، لیکن وہ کسی عالم سے زیادہ صاحب علم ہے۔ جواب میں عبداللہ ہنس کر خاموش ہوجاتا۔

    عبداللہ انہیں کیا بتاتا کہ دینی علم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالینا عبد اللہ کا خواب تھا۔ مگر دوسری طرف دنیوی تعلیم کے بعد ملنے والی غیر معمولی دنیوی ترقی نے اس کے لیے صرف یہی راستہ چھوڑا تھا کہ وہ دن بھر دفتر میں معاش کے مسائل نمٹائے اور شام میں اپنے دینی ذوق کی تکمیل کرے۔ اس کی زندگی ایک کشمکش میں گزررہی تھی۔ اس کی تعلیم کچھ اور تھی اور اس کا ذوق کچھ اور تھا۔ کچھ عرصہ قبل وہ عمرہ کرنے گیا تو خدا سے یہی دعا کرتا رہا تھا کہ اس کی منزل اس کے سامنے واضح ہوجائے۔ اس کے لیے ایسے راستے کھل جائیں کہ وہ اپنے آپ کو خدا کے لیے وقف کرسکے۔ مگر سر دست یہ ایک خواب تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ خاندانی سرپرستی سے محروم ایک یتیم کے سامنے پہلا مقصد یہ تھا کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات؛ گھر، گاڑی، شادی ، بچوں اور خاندان کی ضروریات پوری کرے۔

    اسماعیل صاحب کے گھر میں اسے اپنی منزل نظر آنے لگی تھی۔ ناعمہ اس کے دل کے دروازے پر دستک دیے بغیر داخل ہوئی اور چپکے سے خانہ دل پر اپنا مستقل نقش بنالیا۔ یہ نقش مٹانا اب ممکن نہیں رہا تھا۔ دوسری طرف اسماعیل صاحب بھی کئی دفعہ دبے لفظوں میں یہ بات کہہ چکے تھے کہ وہ اسے اپنا بیٹا بنانا چاہتے ہیں۔ یوں وہ اپنی نئی زندگی کے خواب آنکھوں میں سجائے ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس بات سے بے خبر کہ عنقریب اس کے خواب بکھرنے والے ہیں۔

    ایک شام جب عبداللہ اسماعیل صاحب سے مل کر اپنے گھر روانہ ہوا تو آمنہ بیگم اسماعیل صاحب کو دوا کھلانے ان کے کمرے میں آئیں۔ اسماعیل صاحب نے دوا کھانے کے بعد اپنی بیٹی سے دریافت کیا:

    "بیٹا! تم نے ناعمہ سے عبداللہ کے حوالے سے بات کی؟ مجھےاب اپنی زندگی کا دھڑکا لگا رہتا ہے اور یہ لڑکا مجھے بہت پسند ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنی زندگی ہی میں ناعمہ کی ذمہ داری سے فارغ ہو جاؤں۔"

    "ابو! ناعمہ اس رشتے پر راضی نہیں ہے۔" ، آمنہ بیگم نے سر جھکا کر جواب دیا۔

    یہ سن کر اسماعیل صاحب کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگئے۔ انہیں شاید یہ امید نہیں تھی کہ ان کی نواسی ان کے پسند کیے ہوئے رشتے سے انکار کردے گی۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد انہوں نے پوچھا:

    "عبداللہ میں خرابی کیا ہے؟"

    "وہی جو ناعمہ کے والد شہزاد میں تھی۔"، آمنہ بیگم نے اداسی کے ساتھ جواب دیا۔

    "شہزاد کے ساتھ تو تقدیر نے خرابی کی۔ ورنہ آج وہ زندہ ہوتا تو صورتحال بالکل مختلف ہوتی۔ مگر تقدیر ہر دفعہ خراب نہیں ہوتی۔"

    "اب زمانہ بدل گیا ہے ابو!"، آمنہ نے سمجھانے والے انداز میں کہا:

    "اب ہم اپنی اولاد پراپنی مرضی نہیں ٹھونس سکتے۔ آج کے بچے ہماری نسل کی طرح اپنی قسمت پر صابر و شاکر نہیں رہتے۔ وہ اپنی قسمت آپ بنانا چاہتے ہیں۔ وہ فیصلے سنتے نہیں، اپنے فیصلے آپ کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کے فیصلے غلط ہوں تو اس کا الزام کم از کم اپنے آپ کو دیں۔ اپنے پیاروں کو تو کٹہرے میں کھڑا نہ کریں۔"

    "تمھاری بات ٹھیک ہے، مگر دیکھو تو سہی عبداللہ میں کتنی خوبیاں ہیں۔ وہ اچھی شکل کا ہے۔ بہت باصلاحیت ہے۔ اچھی ملازمت کرتا ہے۔ پھر اس نے ابھی ہسپتال میں ہمارا کس طرح ساتھ دیا ہے۔ سارا دن جاب کرتا اور ساری رات میرے سرہانے ایک کرسی پر بیٹھا رہتا تھا۔ اور نیک دیکھو کتنا ہے۔ اگر نیکی، شرافت اور صلاحیت کو دیکھنے میں ناعمہ کی نوجوان آنکھیں کامیاب نہیں ہو رہیں تو تم تو دیکھ سکتی ہو۔"

    "ابو! ناعمہ جہاں سے زندگی شروع کرنا چاہتی ہے، عبداللہ شاید بڑھاپے تک بھی اس منزل پر نہ پہنچ سکے۔ آپ یہ بھی تو دیکھیے عبداللہ اور اس کے خاندان کا ہمیں بہت زیادہ پتہ نہیں ہے۔ اتنی کم ملاقاتوں میں اتنے بڑے فیصلے نہیں کیے جاتے۔ پھر ناعمہ کے لیے اور بہت سے رشتے آرہے ہیں۔ ناعمہ خوبصورت ہے، تعلیم یافتہ ہے، اچھے گھرانے سے ہے۔ ایک دو رشتے ناعمہ کے اور آئے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک تو بالکل ویسا ہی ہے جیسا ناعمہ چاہتی ہے۔"

    "کہیں ناعمہ کی اپنی کوئی پسند تو نہیں؟"، اسماعیل صاحب نے ایک امکان کو سامنے رکھتے ہوئے پوچھا تو آمنہ بیگم نے فورا تردید کردی۔

    "نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔ ناعمہ کا کبھی کسی لڑکے سے کوئی ربط و ضبط نہیں رہا۔ بس اس کے کچھ خوف ہیں کہ جو محرومی اس نے جھیلی ہے اس کی اولاد کو نہ دیکھنی پڑے۔ پھر اس کے پس منظر کی لڑکیاں اونچا ہی سوچتی ہیں۔ اس جیسی شکل و صورت کی لڑکی فطری طور پر آج کل کے معاشرے میں رہ کر ایسا ہی سوچے گی۔ معاشرہ میں خوبصورتی کا جو سکہ سب سے زیادہ چلتا ہے وہ ناعمہ کے پاس بے حساب ہے۔ پھر وہ اوسط درجے کے ایک رشتے پر کیسے قانع ہوجائے۔ میں بھی اسے کوئی عقلمندی نہیں سمجھتی۔"

    ماں نے اپنا وزن بیٹی کے پلڑے میں ڈالتے ہوئے گویا اپنا فیصلہ بھی سنادیا۔

    "دوسرا رشتہ کیسا ہے؟" اسماعیل صاحب نے ہار مانتے ہوئے بیٹی سے دریافت کیا:

    "بہت امیر گھرانا ہے۔ لڑکا امریکہ میں تعلیم کے آخری مرحلے میں ہے۔ چند مہینے میں آنے والا ہے اور وہ لوگ اس کے بعد فوراً ہی شادی کرنا چاہتے ہیں۔میں نے تصویر دیکھی ہے لڑکے کی۔ بہت اچھا لڑکا ہے۔ رشتے والی خاتون بتارہی تھیں کہ انہیں رشتوں کی کوئی کمی نہیں۔ ایک ڈھونڈیں گے تو ہزار ملیں گے۔ مگر چونکہ وہ خاتون میری پرانی جاننے والی ہیں، اس لیے انہوں نے ترجیحاً سب سے پہلے مجھ سے کہا ہے۔ وہ کہہ رہی تھی کہ فوراً ہاں کہہ دیں۔ ایسے رشتے بار بار نہیں ملتے۔"

    "پھرمجھ سے کیا پوچھتی ہو، ناعمہ ہی سے پوچھ لو۔"، اسماعیل صاحب نے قدرے بے رخی اور بے پرواہی کے ساتھ کہا۔

    "مجھے معلوم ہے جو کچھ ناعمہ کو چاہیے وہ سب اس رشتے میں موجود ہے۔مجھے یقین ہے وہ ہاں کہہ دے گی۔ اس کی سہیلی فاریہ کی بھی منگنی ہوچکی ہے اوراب ناعمہ کی شادی بھی ہوجانی چاہیے۔ آپ ہاں کہہ دیں تو اگلے ہفتے باقاعدہ بات چیت ہوجائے گی۔"

    "میری ہاں تو بس ایک رسمی سی بات ہے۔ مگر میں عبداللہ کا سامنا کیسے کروں گا؟"

    "تو کیا آپ نے عبداللہ سے بات کرلی تھی؟"

    "میں نے تم سے بات کرنے سے قبل اس کا عندیہ اشاروں کنایوں میں لے لیا تھا کہ کہیں اس کی کوئی اور پسند نہ ہو۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ ناعمہ سے ہم بات کرلیں اور عبداللہ بعد میں منع کردے۔ یوں ناعمہ کو کوئی دکھ پہنچے۔مگر یہاں معاملہ ہی الٹا ہوگیا۔ اب تو عبداللہ کو دکھ ہوگا۔ میں نے سوچا تھا کہ ساری زندگی اللہ نے بیٹا نہیں دیا۔ اب عبداللہ جیسا بیٹا ملے گا جو میرے ذوق، مزاج اور خوابوں کے مطابق ہے۔ مگر شاید زندگی کے آخری حصے میں یہ محرومی اور دیکھنی تھی۔"

    "عبداللہ آپ سے مخلص اور واقعی اچھا لڑکا ہے تو پھر بھی آپ کے پاس آتا رہے گا۔"

    "تہ نہیں آگے کیا ہوگا؟"، اسماعیل صاحب نے آہستگی سے کہا اور آنکھیں بند کرلیں۔



  11. #11
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    20,505
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی

    دو ہفتے بعد ایک سادہ تقریب میں ناعمہ کی منگنی ہوگئی۔ لڑکا ملک سے باہر تھا۔ اس کے گھر والے زیورات اور مٹھائی لے کر ان کے گھر آگئے تھے۔ اسی موقع پر شادی کی تاریخ بھی طے پاگئی جو تین مہینے بعد کی تھی۔ اس موقع پر دونوں طرف کے لوگ بہت خوش تھے۔ ناعمہ عام طور پر بہت سادہ رہتی تھی۔ مگر منگنی والے دن جب وہ میک اپ کرکے باقاعدہ تیار ہوئی تو ہر دیکھنے والے کو لگا کہ گویا چاند زمین پر اتر آیا ہے۔ دوسری طرف ناعمہ کے سسرال والوں کی گاڑیاں، گھر اور معیار زندگی دیکھ کر ہر شخص ناعمہ کی قسمت پر رشک کررہا تھا کہ وہ کتنے بڑے گھر میں بیاہی جارہی ہے۔ اس کے سسرال والے تو بڑے دھوم دھام سے یہ تقریب کرنا چاہ رہے تھے، مگر اسماعیل صاحب نے اپنی بیماری کا عذر بیان کرکے تقریب کو بہت سادہ رکھوایا تھا۔

    انہیں یہ فکر بھی تھی کہ وہ لوگ کسی طور پر ان کے ہم پلہ نہیں تھے۔ ناعمہ اپنی ناسمجھی اور آمنہ بیٹی کی محبت کی بنا پر یہاں رشتہ تو کررہیں تھیں، مگر انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ایسے غیر مساوی رشتوں میں کیا مسائل پیش آتے ہیں۔ وہ کیا کرتے، ان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں رہا تھا۔ ان کا دل اندر سے بہت اداس تھا۔ عبداللہ کے حوالے سے ان کے دل پر ایک بوجھ تھا۔ ان اندیشوں اور بوجھ کے ساتھ غالباً وہ اس تقریب کے واحد شخص تھے جو خوش نہیں تھا۔ اگلے دن انہوں نے یہ بوجھ اتارنے کا فیصلہ کرلیا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عبداللہ آج بہت خوش تھا۔ وہ جھومتے ہوئے اپنی نئی چمچماتی گاڑی کو چلاتا ہوا اسماعیل صاحب کے گھر جارہا تھا۔ کل شام ان کا فون آیا تھا کہ وہ ان سے آکر مل لے۔ وہ خود ان سے ملنے جانا چاہتا تھا۔ اس نے پچھلے ہفتے ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں نئی جاب جوائن کی تھی۔ اس کمپنی نے اسے رہنے کے لیے ایک گھر اور نئی گاڑی بھی دی تھی۔ اب عبداللہ کی زندگی میں کوئی کمی تھی تو صرف ناعمہ کی۔ ناعمہ پچھلے کچھ عرصے میں اس کی زندگی اور خیالوں کا حصہ بن چکی تھی۔ محبت کیا ہوتی ہے۔ انسان کو وہ کس طرح پگھلا دیتی ہے۔ کس طرح اسے سرشار کردیتی ہے۔ کس طرح دنیا کے ہر رنگ کو بدل دیتی ہے۔ آج کل عبداللہ اسی تجربے سے گزررہا تھا۔ اسے یقین تھا کہ قدرت نے ناعمہ کی شکل میں اسے اپنی زندگی کا بہترین تحفہ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اسماعیل صاحب کی باتوں سے بھی اسے اندازہ ہوچکا تھا کہ وہ اسے اس حیثیت میں قبول کرچکے ہیں۔

    سب کچھ ایسا ہی ہورہا تھا جیسا اس نے چاہا تھا۔ جیسا ا س کی خواہش تھی۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر جیسے اس کے خواب تھے۔ وہ اس پروردگار کی شکر گزاری کے احساس میں جی رہا تھا جس نے ایک دو برس کے اندر اندر اس کی زندگی بدل دی تھی۔ تعلیم کے آخری مرحلے ہی میں ایک بہترین جاب کی آفر ہوگئی تھی۔ تھوڑا تجربہ حاصل ہوتے ہی مارکیٹ میں اس کی بہت اہمیت ہوگئی۔ چنانچہ فوراً اس نے نئی جاب تلاش شروع کردی اور زیادہ تردد کے بغیر اسے ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب مل گئی۔ جہاں بہترین تنخواہ کے ساتھ متعدد مراعات بھی اسے دی گئی تھیں۔

    انہیں خیالات میں مگن وہ ناعمہ کے گھر پہنچا۔ کال بیل بجائی تو دروازہ ناعمہ ہی نے کھولا۔ ناعمہ کو دیکھ کر بے اختیار اس کا دل دھڑکنے لگا۔ اس کا دل چاہا کہ سب سے پہلے وہ ناعمہ کو اپنی نئی جاب اور کامیابی کا بتائے۔ مگر ناعمہ نے تو اس کے سلام تک کا جواب نہیں دیا تھا۔ اسے خاموشی سے اندر ڈرائنگ روم میں بٹھا کر وہ اپنے نانا کو بلانے چلی گئی۔ ناعمہ کا رویہ شروع ہی سے اس کے ساتھ کچھ ایسا تھا۔ مگر عبداللہ کا خیال تھا کہ وہ کم گو اور با حیا لڑکی ہے۔ اس لیے فطری طور پر ایک اجنبی نوجوان سے کسی قسم کی گفتگو کرنے سے کتراتی ہے۔

    تھوڑی دیر میں اسماعیل صاحب ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے تو عبداللہ نے آگے بڑھ کر ان سے مصافحہ کیا اور ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں صوفے پر بٹھایا۔ وہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولے:

    "بیٹا کافی دنوں سے تم سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ کہاں مصروف تھے؟"

    "جی میں ذرا نئی جاب کی ذمہ داریاں سنبھالنے میں مصروف تھا، اس لیے حاضر نہیں ہوسکا۔"

    یہ کہتے ہوئے اپنے ساتھ لائی ہوئی مٹھائی اس نے ان کے سامنے رکھی اور پھر بڑی سرشاری کے عالم میں انہیں اپنی نئی جاب اور ملنے والی تنخواہ اور سہولیات کی تفصیلات بتانے لگا۔ یہ سب بتاکر وہ بولا:

    "سر میرا اپنا تو کوئی ہے نہیں۔ اس لیے مجھے آپ کو یہ سب کچھ بتا کر بہت خوشی ہورہی ہے۔ آپ آنٹی اور ناعمہ کو بھی یہ مٹھائی دے دیجیے گا۔"

    "ہاں بیٹا ضرور دوں گا۔ تمھاری کامیابیوں سے مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔ مجھے بھی تمھیں مٹھائی کھلانی ہے۔ دراصل پرسوں ہم نے ناعمہ کی منگنی کردی ہے۔ تین مہینے بعد اس کی شادی کی تاریخ مقرر ہوئی ہے۔"

    اسماعیل صاحب یہ سب کہہ رہے تھے تو ان کا سر جھکا ہوا تھا۔ وہ خود میں اتنی ہمت نہیں پارہے تھے کہ جس لڑکے کو وہ بار بار یہ کہہ چکے تھے کہ میں ساری زندگی کے لیے تمھیں اپنا بیٹا بنانا چاہتا ہوں، اس سے نظریں ملا کر اسے یہ بتائیں کہ اب اس کا کوئی امکان نہیں رہا ہے۔

    یہ اسماعیل صاحب کی کیفیت تھی اور دوسری طرف ان کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ فضا میں سنسناتی ہوئی گولیوں کی طرح عبداللہ کے کانوں تک پہنچے اور اس کی روح اور دل کو اندر تک چھیدتے چلے گئے۔ ایک لمحے کے لیے خاموشی چھاگئی۔ اس لمحے میں عبداللہ اپنی پوری طاقت اور قوت خرچ کرکے اپنے کرچی کرچی وجود کو سمیٹنے کی کوشش کررہا تھا۔ اس کی بھرپور کوشش تھی کہ اسے اپنے چہرے کے تاثرات، لب و لہجے اور ان آنسوؤں پر قابو رہے جو سیلاب کی طرح جذبات کا ہر بند توڑ کر باہر نکلنے کے لیے بے چین تھے۔

    عبد اللہ نے ساری زندگی محرومیوں میں گزاری تھی۔ ان محرومیوں کا سب سے بڑا فائدہ اسے آج ہورہا تھا۔۔۔ جب اسے زندگی کی سب سے بڑی محرومی کی اطلاع مل رہی تھی۔۔۔ جب آب حیات کے چشمے سے اسے زہر کا ساغر پینے کو مل رہا تھا۔ مگر ساری زندگی کے صبر ، ضبط اور برداشت کی بنا پر اس لمحے میں اسے اپنے آپ کو کچل کر خود پر قابو پانے میں کافی سہولت ہورہی تھی۔ اس نے اپنی پوری قوت استعمال کی اور آواز کے ارتعاش پر قابو پاتے ہوئے بولا:

    "سر آپ کو بہت بہت مبارک ہو۔ آنٹی اور ناعمہ کو بھی میر ی طرف سے بہت مبارکباد دیجیے گا۔"

    پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ مستحکم لہجے میں یہ جملے ادا کرنے کے بعد وہ خاموش ہوگیا۔ اس نے اپنی زندگی کا ایک اور معرکہ جیت لیا تھا۔ دوسری طرف اسماعیل صاحب کی جان میں جان آئی اور وہ تفصیل سے ناعمہ کی سسرال اور ہونے والے شوہر کے بارے میں بتانے لگے۔ اس بیان میں دولت، کارخانوں اور گاڑیوں، ملازموں کی تفصیلات بہت زیادہ تھیں۔ یہ بات بھی اس میں شامل تھی کہ لڑکا ہارورڈ یونیورسٹی میں پڑھ رہا ہے اور ہنی مون کے لیے اس کا پروگرام تھا کہ یورپ اور امریکہ کے دو براعظموں میں جایا جائے۔ شاید اسماعیل صاحب لاشعوری طور پر یہ تفصیلات بیان کرکے عبداللہ کے سامنے اپنی پوزیشن صاف کررہے تھے کہ ایسے رشتے کا انکار ہم کیسے کرسکتے تھے۔ وہ یہ بات بتاکر عبداللہ کو دکھی نہیں کرنا چاہتے تھے کہ جس لڑکی کو وہ دل کی گہرائیوں میں جگہ دے چکا ہے، وہ اسے پہلے ہی دھتکار چکی تھی۔


  12. #12
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    20,505
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی

    پوری رات گزر گئی ۔عبداللہ نے ایک لقمہ کھایا نہ ایک لمحہ سویا۔ اس کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ وہ ناعمہ کے گھر سے باہر نکلنے تک انتہائی پرسکون نظر آتا رہا۔ لیکن اپنی گاڑی میں بیٹھ کر جیسے ہی وہ مرکزی شاہراہ پر آیا اس نے اپنے آپ سے مزاحمت کرنا چھوڑ دی۔ سارے بند ٹوٹ گئے اور دل کا سیلاب آنکھوں کے رستے بہہ نکلا۔ سارے راستے وہ ہچکیاں لے کر روتا رہا۔ رات گئے تک اس کی کیفیت میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔

    وہ عشا کی نماز کے لیے جائے نماز پر کھڑا ہوا تو اس سے ہٹ نہیں سکا۔ رات بھر وہ جائے نماز پر کھڑا رہا۔ ایک لمحے کے لیے اس کے آنسو نہیں رکے۔ وہ بلک بلک کر روتا رہا اور بار بار سجدے میں جاکر ایک ہی جملہ کہتا:

    "پروردگار مجھے تجھ سے کوئی شکوہ نہیں اور اگر شکوہ ہے تو صرف تجھی سے ہے۔ تیرے سوا نہ کسی سے کچھ کہنا ہے نہ کہیں اور جانا ہے۔مجھے تیرا ہر فیصلہ قبول ہے۔ لیکن میرا اپنا آپ میرا ساتھ نہیں دیتا۔ میرے آنسو میرا ساتھ نہیں دیتے۔ تو مجھے معاف کردے۔"

    عبداللہ کا دل پھٹا جارہا تھا۔ اس کی زندگی محرومیوں کی ایک داستان تھی۔ پچپن سے ماں باپ کا سایہ نہ ملا۔ بہن بھائی نہ تھے۔ ایک طفل یتیم دور اور قریب کے رشتہ داروں پر بوجھ تھا۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ دھکے کھاتا رہا۔ خوش قسمتی سے بےپناہ ذہانت کی وجہ سے تعلیم کا سلسلہ کسی نہ کسی طرح جاری رہا۔ شعور میں قدم رکھتے ہی اپنا بوجھ خود اٹھایا اور ہاسٹلوں میں رہ کر تعلیم پوری کی۔ نہ گھربار نہ رشتہ دار نہ دوست یار۔ اور اب جب وہ سمجھ رہا تھا کہ وقت اپنے ہر زخم کا مداوا کرنے جارہا ہے، زندگی کی سب سے بڑی محرومی اس کے سامنے آگئی۔ اس محرومی نے عبداللہ کو مکمل طور پر توڑ پھوڑ کررکھ دیا تھا۔

    اب وہ اس محرومی کے ساتھ اس در پر کھڑا تھا جہاں آنے والے کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹتے۔ جہاں مانگنے والے ہفت اقلیم کی بادشاہی بھی مانگ لیں تو سب کچھ دے کر بھی اس اَن داتا کے خزانے میں ذرہ برابر کمی نہیں آتی۔جہاں مایوسی کفر ہوتی ہے۔ مگر عبداللہ کچھ مانگ نہیں رہا تھا۔ بس وہ خدا کے سامنے کھڑا رہا، روتا رہا اور نماز پڑھتا رہا۔ عبداللہ کے لیے یہ محرومی کی وہ سیاہ رات تھی جس کی تاریکیوں نے عمر بھر کے لیے عبداللہ کا احاطہ کرلیا تھا۔ مگر اسے نہیں معلوم تھا کہ یہ بخشش کی رات ہے۔ وہ بخشش جو قیامت کے بعد بھی ختم نہیں ہوگی۔

    وہ خود ابھی بہت کم عمر تھا۔ اپنی ایمانی زندگی کے ابتدائی مرحلے میں تھا۔ اسے معمولی سا اندازہ بھی نہیں تھا کہ وہ کس اعلیٰ ترین ہستی کے سامنے کھڑا ہے۔۔۔ وہ ہستی جو اپنے بندوں کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے۔ عبداللہ کچھ نہیں مانگ رہا تھا مگر جو اسے چاہیے تھا وہ دینے والے کو بغیر بتائے معلوم تھا۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ بندہ عاجز کی پہلی ضرورت صبر ہے۔ سو سب سے پہلے وہی دیا گیا۔ قرآن مجید کا ایک بڑا حصہ عبداللہ کو زبانی یاد تھا۔ فجر سے کچھ پہلے وہ قرآن پڑھتا ہوا سورہ نمل کے اس مقام پر پہنچا:

    "بے شک بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اس کو برباد کردیتے ہیں اور اس کے عزت داروں کو ذلیل کر ڈالتے ہیں۔"

    عبداللہ اس آیت تک پہنچا۔ پھر آگے نہیں بڑھ سکا۔ وہ بار بار یہی آیت پڑھتا رہا۔ وہ اسے دہراتا رہا یہاں تک کہ اس پر واضح ہوگیا کہ یہ آیت اسے کیا بتارہی ہے۔ یہ کہ اللہ سب سے بڑا بادشاہ ہے۔ اور دل کی بستی سب سے بڑی بادشاہت ہوتی ہے۔ اس بستی میں اگر اللہ داخل ہوجائے تو کسی اور کو وہ وہاں برداشت نہیں کرسکتا۔ اس کے بعد وہ وہاں موجود ہر عزت دار اور محبوب چیز کو نکال پھینکتا ہے۔ انسان اسے محرومی سمجھتے ہیں لیکن یہ توحید کا سب سے بڑا مقام ہوتا ہے۔ عبداللہ کا دل ہمیشہ خدا کا گھر بنارہا تھا۔ مگر پچھلے کچھ دنوں سے اس گھر میں ایک دیوی کی پرستش شروع ہوگئی تھی۔ لمحہ لمحہ کی خبر رکھنے والا آسما ن و زمین کا غیرت مند مالک یہ شرک کیسے برداشت کرسکتا تھا۔ اس لیے آج رات اس دیوی کو دل کے مندر سے نکال باہر کیا گیا۔ اس معبد میں اب کبھی غیراللہ کا گزر نہیں ہوسکتا تھا۔ عبداللہ کے لیے یہی اس آیت کا مطلب تھا۔ شرک ختم ہوگیا۔ توحید باقی رہ گئی۔ عبداللہ کو قرار مل گیا۔ آنسو تھم گئے۔

    فجر کی نماز پڑھ کر عبداللہ لیٹا۔ نیند تو سولی پر بھی آجاتی ہے۔ سو اسے بھی آگئی۔ وہ اٹھا تو دفتر جانے کا وقت نکل چکا تھا۔ مگر اب اسے دفتر جانا بھی نہیں تھا۔ سونے سے پہلے وہ ایک فیصلہ اور کرچکا تھا۔ وہ کشمکش جو بہت عرصے سے اس کے اندر جاری تھی آج اس کا فیصلہ بھی ہوگیا تھا۔ زندگی بہت مختصر ہے۔ یہ اس لیے نہیں ہے کہ گاڑی ،بنگلے اور کیریر کے پیچھے بھاگتے ہوئے گزاری جائے۔ اس کا ایک ہی مقصد ہونا چاہیے۔ وہ رب جو ہر نعمت دینے والا اور ہر محرومی کو دور کرنے والا ہے۔ اس کا تعارف اس دنیا کے ہر انسان سے کرایا جائے۔ اس کی محبت کی شمع ہر سینے میں جلائی جائے۔ اس کی ذات و صفات سے لوگوں کو آگاہ کرنا اور اس کی ملاقات کے لیے لوگوں کو تیار کرنا سب سے بڑا کام ہے۔ اس نے سونے سے قبل ایک دعا کی تھی۔

    "پروردگار! اس دنیا میں ہر شخص کی ایک قیمت ہوتی ہے اور ہر شخص بکتا ہے۔ میں اپنے وجود کو کسی ملٹی نیشنل کمپنی کے ہاتھو ں نہیں بیچ سکتا۔ میں تجھ سے اپنا سودا کرتا ہوں۔ مجھے خریدلے۔"

    صبح اٹھنے کے بعد عبداللہ نے پہلا کام یہ کیا کہ نئی جاب سے اپنا استعفیٰ لکھ دیا۔


  13. #13
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    20,505
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی

    جیسے جیسے ناعمہ کی شادی کے دن قریب آرہے تھے شادی کی تیاریوں کا سلسلہ زور پکڑتا جارہا تھا۔ اسماعیل صاحب کی بیشتر بچت پہلے ہی عمرے میں نکل چکی تھی۔ پھر وہ دل کی انتہائی مہنگی بیماری کا شکار ہوگئے۔ جو بچا تھا کچھ وہ ملایا اور کچھ سرمایہ ایک پلاٹ بیچ کر حاصل کیا اور سارے پیسے بیٹی کے حوالے کردیے۔ آمنہ بیگم ایک سلیقہ مند خاتون تھیں۔ ناعمہ کے لیے وہ اس کے بچپن ہی سے کچھ نہ کچھ بچا رکھتی تھیں۔ اس لیے عزت و آبرو کے ساتھ تیاری ہو رہی تھی۔ مگر جن لوگوں سے واسطہ پڑا تھا ان کے مقابلے میں ہر تیار ی بے وقعت تھی۔

    اس بات کا اندازہ اسماعیل صاحب کو پہلے دن سے تھا۔ اب آمنہ بیگم کو بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ ہوتا جارہا تھا۔ جیسے جیسے لڑکے والوں کی طرف سے شادی کے انتظامات اور تیاریوں کی تفصیل ان کے سامنے آتی ان کے ہاتھ پاؤں پھولتے چلے جارہے تھے۔

    ان سب فکروں سے اگر کوئی بے خبر تھا تو وہ ناعمہ تھی۔ یہ اس کی زندگی میں بڑی خوشی اور مسرت کے دن تھے۔ اس نے جو خواب دیکھے تھے ان کی تعبیر اچانک بہت تیزی سے اس کے سامنے نمودار ہوچکی تھی۔ خوشی کے ان لمحات کو وہ سب سے بڑھ کر اپنی گہری سہیلی فاریہ کے ساتھ مل کر انجوائے کررہی تھی۔ آج بھی فاریہ ناعمہ کے گھر آئی ہوئی تھی اوراس کے کمرے میں بیٹھی شادی کے جوڑے ٹانک رہی تھی۔ ہنسی مذاق اور گفتگو کا سلسلہ جاری تھا۔ باتوں باتوں میں فاریہ ناعمہ سے کہنے لگی:

    "تمھیں معلوم ہے باہر عبداللہ بھائی آئے ہوئے ہیں؟ نانا ابو کے کمرے میں ان کے پاس بیٹھے ہیں۔"

    "اچھا! مجھے نہیں معلوم۔"، ناعمہ نے بے پرواہی سے جواب دیا۔

    "میں تمھارے پاس آنے سے پہلے آنٹی کے پاس گئی تھی۔ وہی بتارہی تھیں کہ انہوں نے نئی جاب کرلی ہے۔"

    "ہاں میری منگنی کے ایک دو دن بعد وہ نئی جاب کی مٹھائی لے کر آیا تھا۔"

    "ارے نہیں بھئی۔ یہی تو اصل بات ہے۔ وہ جاب تو بہت زبردست تھی۔ مگر انہوں نے وہ جاب بھی چھوڑ دی۔۔۔"

    "ہاں یہی ان مڈل کلاس اسٹرگلنگ نوجوانوں کا مسئلہ ہوتا ہے۔ ترقی کی خواہش میں جلدی جلدی جاب بدلتے رہتے ہیں۔ مگر بوڑھے ہونے سے پہلے اپنا گھر بنانا بھی ان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔"

    ناعمہ نے اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی تبصرہ کردیا۔

    "ارے پاگل پوری بات تو سن لو۔ انہوں نے بہت اچھی جاب چھوڑ کر پڑھانے کی ایک پارٹ ٹائم جاب کرلی ہے اور باقی وقت میں وہ دینی علوم باقاعدہ سیکھ رہے ہیں۔"

    "چلو اچھا ہے۔ سوسائٹی میں ایک مولوی کا اضافہ اور ہوجائے گا۔"، ناعمہ نے طنزیہ ہنسی کے ساتھ کہا۔

    "میں نے اپنی زندگی میں اتنا ڈیسنٹ اور نائیس شخص نہیں دیکھا۔ بےچارے اچھی خاصی کیرئیر جاب کررہے تھے۔ اچانک دل میں کیا سمائی کہ ہر چیز پر لات مار کر اس سمت نکل گئے۔"

    فاریہ نے ہمدردی اور تاسف کے ملے جلے جذبات کے ساتھ کہا تو ناعمہ تنک کر بولی۔

    "یہ احمق پہلے دن ہی سے ایک جاہل ملّا تھا۔ پتہ نہیں کہاں سے نانا ابو کی جان کو چمٹ گیا ہے۔ چھوڑ کر ہی نہیں دیتا۔"، ناعمہ کے لہجے میں اتنی تحقیر تھی کہ فاریہ کو بہت برا محسوس ہوا۔

    "وہ نانا ابو کی جان کو چمٹے نہیں ہیں۔ بلکہ ان کا اور آمنہ آنٹی کا بہت بڑا سہارا بن چکے ہیں۔ دیکھو تم تو اپنے نئے گھر چلی جاؤ گی، مگر نانا اور آمنہ آنٹی تمھارے بعد تنہا رہ جائیں گے۔ ایسے میں عبداللہ بھائی ان کا بہت بڑا سہارا ہوں گے۔"

    "میرے بعد وہ سہارا نہیں بنے گا بلکہ اس نے تو میرے ہوتے ہوئے بھی مجھے اس گھر سے عملاً نکال دیا ہے۔ جسے دیکھو عبداللہ ہی کی تعریف کرتا ہے۔"

    ناعمہ کے اس جملے سے فاریہ کو اندازہ ہونے لگا کہ ساری زندگی ماں اور نانا کی محبت کی تنہا حقدار ناعمہ کو شاید یہ بات انتہائی ناگوار گزر رہی تھی کہ اس محبت میں اب کوئی دوسرا شریک ہوچکا ہے۔ فاریہ نے عبداللہ کی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا:

    "بات یہ ہے ناعمہ کہ عبداللہ بھائی نے شروع ہی سے نانا کے ساتھ بڑی محبت کا تعلق رکھا تھا۔ ان کی بیماری میں ان کا بہت ساتھ دیا۔ تمھیں تو شاید کوئی فرق نہ پڑا ہو لیکن ان کے ہونے سے آنٹی اور نانا کو بہت سہارا تھا۔ پھر جب تم نے ان سے شادی کے لیے انکار کیا تو ہم سب کا خیال تھا کہ وہ ناراض ہوجائیں گے۔ مگر انہوں نے شکایت کا ایک لفظ تک نہیں کہا۔ بلکہ ان کا رویہ اور بہتر ہوگیا۔ تمھاری شادی کے کتنے معاملات میں وہ ہی نانا ابو اور امی کی مدد کررہے ہیں اور ان کو مختلف جگہوں پر لے کر جاتے ہیں۔ ایسے بےغرض اور بےلوث شخص سے کون محبت نہیں کرے گا۔"

    فاریہ ایک لمحے کو رکی اور ناعمہ کو سمجھاتے ہوئے بولی:

    "انہوں نے تمھارا کیا بگاڑا ہے جو تم ہر وقت ان کے پیچھے لگی رہتی ہو۔"

    "وہ میرا کیا بگاڑے گا۔ !He does not exist for me۔ بس اس کی باتوں سے مجھے چڑ آتی ہے۔"

    "ان سے چڑنے کی کہیں یہ وجہ تو نہیں کہ اس گھر میں محبت کا مرکز پہلے ایک ہی ہستی ناعمہ تھی۔ اور اب اس کے ساتھ عبد اللہ بھی ۔۔۔"

    ناعمہ نے دل کا چور پکڑے جانے پر فاریہ کا جملہ کاٹتے ہوئے کہا:

    "I don’t care"

    فاریہ کو محسوس ہوا کہ اس موضوع پر گفتگو کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔چنانچہ اس نے موضوع بدلنا ہی مناسب سمجھا۔

    "چھوڑو یار، یہ بتاؤ کہ دولہا میاں سے کوئی بات چیت ہوتی ہے۔"

    "نہیں بھئی تم جانتی ہو! میں بالکل بھی رومانٹک نہیں ہوں۔ امی اور نانا کو بھی نہیں پسند کہ کچے رشتوں میں لڑکا لڑکی ایک دوسرے سے بات کریں۔ اس لیے اُن لوگوں کی خواہش کے باوجود امی نے میرا موبائل نمبر نہیں دیا۔ مجھے بھی یہ پسند نہیں ہے۔"

    "لیکن یار ایک بات ہے! تمھاری لاٹری نکل آئی ہے۔"

    "ہاں تقدیر نے کبھی نہ کبھی تو مہربان ہونا ہی تھا۔"

    "یار تم امیر ہو کر ہمیں بھو ل تو نہیں جاؤ گی۔"

    "ارے پاگل ہوگئی ہو کیا! میں دولت اور اسٹیٹس کی بھوکی نہیں ہوں کہ اسے پاکر اپنا ماضی اور رشتے بھول جاؤں گی۔ بس میری خواہش تھی کہ زندگی کی محرومیاں جس طرح میری ماں اور مجھے ساری زندگی گھیرے رہی ہیں، میری اولاد اور خاندان کو ایسے نہ گھیر لیں۔ فاریہ زندگی بس ایک ہی دفعہ ملتی ہے۔ میں تو یہ چاہتی تھی کہ جتنا ہوسکے اس کو انجوائے کرکے اچھے طریقے سے گزاروں۔ اور پھر دولت مند انسان کے دل میں دوسروں کا درد ہو تو وہ دوسروں کی بہت مدد کرسکتا ہے۔"

    "خیر اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا کہ دولت پاکر تم دوسروں کی مدد کرتی ہو یا اپنے پرانے رشتوں کو بھی بھول جاتی ہے۔"

    فکر نہ کرو! میں بدل نہیں سکتی۔ دنیا کی کوئی طاقت میرے خیالات اور سوچ کو نہیں بدل سکتی۔ میں اپنی دنیا کی خود مالک ہوں۔ میں آپ اپنی خدا ہوں۔"

    خدائی کا دعویٰ کرنے والی ناعمہ کے سان و گمان میں بھی نہ تھا کہ بہت جلد اس کا واسطہ حقیقی خدا رب ذوالجلال کے کمال و جلال سے پیش آنے والا ہے۔



  14. #14
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    20,505
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی

    شفاف نیلگوں آسمان کے نیچے وادی میں دور دور تک سبز گھاس کا فرش بچھا ہوا تھا۔ ہر جگہ مختلف رنگوں کے حسین پھول کھلے ہوئے تھے۔ ہر رنگ ایسا تھا کہ نگاہوں کو اپنی طرف سے ہٹ کر کسی اور سمت متوجہ ہونے کی اجازت ہی نہیں دیتا تھا۔ ہوا کے مدھم جھونکو ں کے ساتھ ہولے ہولے یہ پھول لہرارہے تھے۔ یوں لگتا تھا کہ فطرت نے رنگوں کے تار پر کوئی سر چھیڑ دیا ہے جس پر یہ پھول اور کونپلیں بےخودی کے عالم میں محو رقص تھیں۔ یہ وادی چاروں طرف سے بلند پہاڑوں سے گھری ہوئی تھی۔ کچھ پہاڑ اونچے اور شاداب درختوں سے لدے ہوئے تھے۔ کچھ ہری گھاس کا مخملی لباس پہنے ہوئے تھے۔ بعض پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف جمی ہوئی تھی۔ سورج کی کرنیں جب ان برف پوش چوٹیوں سے ٹکراتیں تو سنہری کرنوں کا عکس فضا میں بکھر جاتا ۔ برف اتنی پاک و شفاف تھی کہ سفید رنگ ہر رنگ کا بادشاہ بن کر چمک رہا تھا۔ کہیں کہیں یہ سفیدی سورج کی شعاعوں سے منور ہوکر چاندی کا روپ ڈھال چکی تھی۔ دیکھنے والی آنکھ کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ فضائے بلند میں آسمانی، سبز، سفید اور سنہری رنگوں کا تال میل زیادہ حسین تھا یا زمین پراس وادی کے رنگ زیادہ جاذب نظر تھے جو پھولوں کے ایک گلدستے کی شکل میں سرسبز پہاڑوں کا دل بنی ہوئی تھی۔

    اس وادی میں ایک اور وجود بھی تھا۔ حسن فطرت کا شاہکار یہ نسوانی وجود ناعمہ کا تھا۔ اس کے گہرے سیاہ اور ریشمی بال جو عام حالات میں گھٹنوں سے بھی نیچے جا پہنچتے تھے، اس وقت فضا میں دور تک بکھرے ہوئے تھے۔ سیاہ بالوں کی کچھ لٹیں دمکتے ہوئے سنہری چہرے سے چھیڑ خانی کررہی تھیں۔ ناعمہ کی بڑی بڑی آنکھیں، کھڑی ناک، صراحی دار گردن بار بار ان بہکتے ہوئے بالوں کا نشانہ بن رہی تھیں۔ انہیں شہہ دینے والے نرم و لطیف ہوا کے جھونکے تھے۔ یہ جھونکے ناعمہ کو بھی دلکش پھول سمجھ کر اس کے مرمریں وجود سے ٹکراتے اور اپنے آپ کو معطر کرلیتے۔کہیں دور کسی درخت کی آغوش میں چھپی کوئی کوئل فطرت کا ایک اور ساز گنگنا رہی تھی۔ وقفے وقفے سے اٹھتی کوک ماحول میں ایسی موسیقی بکھیر رہی تھی جو روح انسانی کے ہر تار کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی تھی۔

    وادی کے بیچ میں پھولوں کے درمیان خود کو ایک تتلی کی طرح محسوس کرتی ناعمہ بھی اسی کشمکش میں تھی کہ حسن فطرت کی کون سی ادا زیادہ دلفریب ہے۔ اس کی نظر کبھی رنگ برنگ پھولوں کے قالین پر بہکتی چلی جاتی تو کبھی بلند قامت پہاڑوں کا سبزہ اور سنہری برف اس کی نگاہوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا۔ اس نے اپنی زندگی میں ایسی حسین جگہ دیکھی تھی نہ اس کے وجود نے ایسے سرور کا کبھی ذائقہ چکھا تھا۔

    وہ اسی کیفیت میں تھی کہ اچانک اس کی نگاہ روشنی کے اس مرغولے کی طرف پڑی جو آسمان کی بلندی سے زمین کی طرف آرہا تھا۔ یہ منظر بڑا عجیب تھا۔ وہ ٹکٹکی باندھ کر اس مرغولے کو دیکھنے لگی جو آہستہ آہستہ اسی کی سمت بڑھتا چلا آرہا تھا۔ جیسے جیسے وہ قریب آرہا تھا اس نے ایک چمکدار ہیولے کی شکل اختیار کرلی تھی۔ بظاہر وہ انسانی ہیولہ تھا، مگر وہ کوئی انسان نہ تھا۔ ناعمہ کو اس سے کوئی خوف اور اندیشہ محسوس نہ ہوا۔ بلکہ اس کے اندر یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ اس سے باتیں کرے۔ اس خواہش کی تسکین کے لیے اسے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ ہیولہ آہستہ آہستہ اس کے قریب آیا اور زمین سے چند فٹ اوپرمعلق ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی اس سے آواز آئی۔

    "تو تم وہ ناعمہ ہو جسے یہ عزت دی گئی ہے۔"

    اس آواز میں عجیب سی تاثیر تھی۔ یہ آواز ناعمہ کے کانوں سے گزر کر دل و دماغ تک پہنچ گئی۔ اس پر آواز اور اس ہیولے کا رعب چھا گیا۔ وہ ڈرتے ڈرتے بولی:

    "جی میں ناعمہ ہوں، مگر آپ کون ہیں۔ اور یہ کس عزت کا ذکر کررہے ہیں؟"

    ایک دفعہ پھر وہی پرتاثیر آواز آئی۔

    "مجھے چھوڑو۔ صرف یہ جان لوکہ اپنی محبوب چیز ایک غریب کو دینے کی ادا تمھارے مالک کو پسند آئی جس کے بعد اس نے تمھیں اپنے قرب کی عزت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔"

    ناعمہ کچھ نہ سمجھ سکی اس بات کا مطلب کیا ہے۔ پھر اس خوف اور رعب کا ایسا عالم طاری تھا کہ چاہتے ہوئے بھی اس کی آواز نہ نکل سکی۔ وہ خاموشی سے ہیولے کی آواز سنتی رہی۔

    "مگر تمھیں دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ تم اس عزت کی مستحق نہیں۔ اللہ تعالیٰ بہت باعزت بہت باحیا ہیں۔ کیسے ممکن ہے کہ تم ان کا قرب حاصل کرو اور تمھارا حال یہ ہو کہ تم بالکل برہنہ ہو۔"

    اس جملے کے ساتھ پہلی دفعہ ناعمہ کی نظر خود اپنے وجود کی طرف لوٹی۔ یہ دیکھ کر وہ شرم سے پانی پانی ہوگئی کہ اس کے جسم پر کوئی لباس نہیں تھا۔ وہ اتنی دیر سے اس کھلے میدان میں بالکل برہنہ کھڑی ہوئی تھی۔ اور اب ہیولے کے سامنے بھی وہ اسی حال میں تھی۔ اس کا دل چاہا کاش زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔ وہ بے اختیار اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا جسم چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے زمین پردہری ہوکر بیٹھتی چلی گئی۔ اس پر شدید احساس ذلت طاری تھا۔ وہ بے اختیار رونے لگی اور ہیولے کی طرف دیکھ کر بولی۔

    "میرے کپڑے کہاں گئے؟"

    مگر ہیولہ غائب ہوچکا تھا۔ اس نے گھبراکر ارد گرد دیکھا تو ہر طرف اسے انسانوں کا سمندر نظر آیا۔ ہر شخص اسے دیکھ کر ہنس رہا تھا۔ ناعمہ یہ دیکھ کر بلبلا اٹھی۔ ذلت اور رسوائی کی اس حد کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ ہنسنے والے لوگ اب اس کی طرف دیکھ کر انگلیاں اٹھارہے تھے اور دوسروں کو اس کے بارے میں بتارہے تھے۔ وہ بے چین ہو کر کسی پناہ کی تلاش میں چاروں طرف دیکھنے لگی۔ ایسے میں اس کی نظر قہقہے لگاتے ہوئے ہجوم میں موجود ایک خاموش اور اداس شخص پر پڑی۔ اسے دیکھ کراس کی شرمندگی اور بڑھ گئی۔ وہ اسے دیکھ کر چلائی اور بولی۔

    "یہ میں نے خود نہیں کیا۔ میں نے یہ خود نہیں کیا!"

    "ناعمہ بیٹا اٹھو! کیا بات ہے؟ کیا ہوا؟"

    آمنہ بیگم نے ناعمہ کو جھنجھوڑا تو وہ اٹھ بیٹھی۔ اس کا دل خوف و دہشت سے لرزرہا تھا۔ اس کی سسکیاں ابھی بھی جاری تھیں۔ شعور میں آتے ہی اس نے بےاختیار اپنے کپڑوں کو چھوا۔ اسے یہ دیکھ کر ایک گونہ اطمینان ہوا کہ اس کے جسم پر لباس موجود تھا۔ اس کے سامنے اس کی والدہ آمنہ موجود تھیں۔ انہوں نے اسے پیار کرتے ہوئے کہا:

    "بیٹا ڈرو نہیں۔ تم نے کوئی برا خواب دیکھا ہے۔"

    ناعمہ دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ وہ کئی دن سے یہی خواب دیکھ رہی تھی۔ مگر ہر دفعہ یہ خواب بہت ہی خوبصورت ہوتا تھا۔ یہ خواب ایک حسین وادی کے مناظر تک محدود رہتا جس میں وہ تتلیوں کی طرح اڑتی پھرتی تھی۔ یہ ہیولے والا منظر اور بےلباسی والی بات آج پہلی دفعہ اس نے دیکھی تھی۔ ایک تیسری بات جو اسی لمحے اسے یاد آئی تھی وہ اس کے دل پر ایک اور زخم لگا گئی۔ ذلت کے اس تماشے میں وہ شخص جو آخر میں اداس اور خاموش کھڑا اسے حسرت سے دیکھ رہا تھا، عبد اللہ تھا۔

    "ناعمہ بیٹا پانی پیو۔"

    آمنہ کی آواز نے اس کے خیالات کا تسلسل توڑ دیا جو ایک گلاس میں پانی لیےاس کے پاس کھڑی تھیں۔ اس نے پانی پیا اور دوبارہ لیٹ کر نیند کی روٹھی ہوئی دیوی کو منانے لگی۔ پھر نجانے کب اس کی آنکھ لگ گئی۔

    ========= دوسری قسط ختم ہوئی =========

  15. #15
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    20,505
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی

    ====== تیسری قسط ======


    اگلے دن ناعمہ سہ پہر کے وقت اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی خیالوں میں گم تھی۔ وہ فلسفے کے علاوہ نفسیات کی بھی طالب علم تھی۔ عام طلبا کے برعکس اس کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ اس مطالعے کی روشنی میں وہ اپنے خواب کو سمجھنے کی کوشش کررہی تھی۔ وہ خواب ایسا نہیں تھا کہ ناعمہ اسے بھول جاتی۔ ذلت و رسوائی کا وہ احساس جو اسے خواب میں ہوا تھا ابھی تک اس پر طاری تھا۔ وہ بہت دیر تک اپنا psychoanalysis کرتی رہی۔ خواب میں اپنی خوشی اور اپنے خوف کی ہر گتھی کو اس نے اپنے مطالعے کی روشنی میں سلجھالیا تھا۔ اپنے شعور اور لاشعور کا تجزیہ وہ اپنے حالات واقعات کی روشنی میں کرکے مطمئن ہوچکی تھی۔ جو واحد چیز اس خواب میں اس سے حل نہیں ہو رہی تھی وہ یہ تھی کہ اسے احساس برہنگی کیوں ہوا۔ اسے احساس ہوا کہ شاید اس بات کی جڑیں اس کے بچپن تک جاتی ہوں جس کی یاد اس کے شعور میں موجود نہیں۔ یہ تاویل کرکے وہ مطمئن ہوگئی۔
    اسی وقت آمنہ کمرے میں داخل ہوئیں اور اس سے مخاطب ہوکر کہا:
    “بیٹا میں ذرا تمھارے لیے کچھ خریداری کرنے باہر جارہی ہوں۔ تم ایسا کرو کہ دو کپ چائے بناکر ابو کے کمرے میں دے دو۔ عبد اللہ آیا ہوا ہے۔”
    یہ سن کر ناعمہ کا منہ بن گیا۔ اس نے بیزاری کے ساتھ کہا۔
    “یہ موصوف ہر دوسرے دن کیوں آجاتے ہیں؟”
    “بیٹا وہ خود نہیں آتا تمھارے نانا بلاتے ہیں۔ دونوں مل کر قرآن مجید پڑھتے پڑھاتے ہیں۔ گھر میں ﷲ کا نام لینے سے خیر و برکت ہی ہوتی ہے۔ تمھیں چائے نہیں بنانی تو نہ بناؤ۔ میں بنا کر دے جاتی ہوں۔”
    غنیمت ہوا کہ ناعمہ نے اس پر کوئی منفی تبصرہ کرنے کے بجائے جواب دیا:
    “نہیں آپ جایئے میں چائے بنا کر دے آتی ہوں۔”
    آمنہ بیگم چلی گئیں۔ ناعمہ تھوڑی دیر تک کمرے میں بیٹھی رہی۔ پھر بےدلی کے ساتھ اٹھی اور کچن میں جاکر چائے بنانے لگی۔ کچھ دیر بعد وہ چائے بناکر نانا ابو کے کمرے کی طرف چل دی۔ کمرے میں نانا ابو اور عبداللہ دونوں ایک میز کے گرد اس طرح بیٹھے تھے کہ ان کی پشت دروازے کی طرف تھی۔ میز پر قرآن کریم رکھا ہوا تھا۔ وہ ٹرے اٹھا کر کمرے میں داخل ہو رہی تھی تو کان میں نانا ابو کی آواز آئی۔
    “یہ سورۃ اعراف میں لباس تقویٰ کا جو ذکر ہے اس سے کیا مراد ہے؟”
    لباس کا ذکر سن کر ناعمہ لمحے بھر کو ٹھٹک گئی اور خاموش ہوکر وہ سننے لگی جو عبداللہ جواب میں کہہ رہا تھا۔
    “یہ روح کا لباس ہے۔ انسانی شخصیت کا لباس ہے۔ دیکھیے جیسے ہم کپڑے پہن کر اپنے جسم کو ڈھانکتے ہیں اسی طرح انسان کا باطن، اس کی روح، اس کی شخصیت جسے جدید نفسیات کی اصطلاح میں آپ سیلف کہتے ہیں، یہ اس کا لباس ہے۔”
    پھر اپنی بات کی وضاحت میں وہ علم نفسیات کے ممتاز ترین نام سگمنڈ فرائڈ کا حوالہ دیتے ہوئے بولا:
    “یا فرائڈ نے جس طرح Anatomy of the Mental Personality میں اسے بیان کیا ہے کہ یہ مائنڈ کا وہ حصہ ہے جسے ایگو کہا جاتا ہے۔ یہی انسان کی اصل شخصیت ہے۔ اسے بھی کپڑوں کی ضرورت ہوتی ہے۔”
    ناعمہ نے اپنی زندگی میں پہلی دفعہ کسی مذہبی آدمی کے منہ سے فرائڈ اور اس کے کام کا حوالہ سنا تھا۔ وہ خاموش کھڑی سنتی رہی۔
    “الله تعالیٰ سورہ اعراف آیت 26 میں یہ بتاتے ہیں کہ انسان کے جسم کو ڈھانپنے کے لیے انہوں نے لباس جیسی نعمت انسان کو عطا کی ہے۔ مگر اسی کے ساتھ انہوں نے انسان کو اپنی ہستی اور خیر و شر کا وہ شعور الہام کیا ہے جس کے تانے بانے اگر وحی کی روشنی میں بنے جائیں تو تقویٰ کا وہ لباس وجود میں آتا ہے جو انسان کے اسی سیلف کو برہنہ ہونے سے بچا دیتا ہے۔ یہ سیلف یا اندرونی شخصیت انسان کے ظاہری جسم سے زیادہ اہم ہے۔ اس لیے اس کو لباس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ یہی ضرورت تقویٰ یا نیکی اور پرہیز گاری کا وہ لباس ہے جسے الله تعالیٰ ہر دوسرے لباس سے بہتر قرار دیتے ہیں۔ یہ تقویٰ اور کچھ نہیں الله کے احساس میں جینا ہے۔ لیکن بیشتر انسان ساری توجہ اپنے ظاہری لباس اور ظاہری رکھ رکھاؤ کی طرف دیتے ہیں اور لباس تقویٰ کے لحاظ سے اس طرح بے نیاز ہوجاتے ہیں کہ الله کے نزدیک وہ بالکل برہنہ رہتے ہیں۔ گویا الله کو بھول کر جینے والے لوگ الله کے نزدیک بالکل برہنہ اور بےحیا ہوتے ہیں۔”
    اس آخری بات کو سن کر ناعمہ کو ایسا لگا جیسے کسی نے زور سے اس کے منہ پر تھپڑ مار دیا ہو۔ اگر عبداللہ کی پشت کے بجائے اس کا چہرہ ناعمہ کی طرف ہوتا تو وہ واضح طور پر دیکھ سکتا تھا کہ ناعمہ کا حسین اور گلابی چہرہ سرخ ہوچکا ہے۔ اس کے لیے مزید خاموش کھڑے رہنا ممکن نہ تھا۔ وہ آگے بڑھ کر بولی:

    “نانا ابو چائے لے لیجیے۔”، حسب عادت اس نے عبداللہ کو سلام نہیں کیا تھا۔ عبداللہ نے بھی اسے نظر اٹھاکر نہیں دیکھا۔ چائے میز پر رکھ کر اس نے پہلے نانا ابو کو چائے دی۔ وہ بغیر چینی کے چائے پیتے تھے۔ پھر عبداللہ سے بےرخی کے ساتھ پوچھا۔
    “چینی کتنی ڈالوں؟”
    “ایک چمچہ۔”
    عبداللہ نے بھی بےنیازی سے جواب دیا۔ اس کی توجہ قرآن مجید کی طرف ہی رہی۔ چائے دے کر ناعمہ کو چلے جانا چاہیے تھا، مگر اسے محسوس ہوا کہ تھوڑی دیر قبل عبداللہ کے ہاتھوں اس کی جو توہین ہوئی ہے اس کے جواب میں اس وقت عبداللہ کو نیچا دکھانا ضرور ی ہے۔ اس نے پوچھا۔
    “سنا ہے آپ باقاعدہ دین سیکھ رہے ہیں۔”
    “جی”، عبداللہ نے ممکنہ ترین مختصر جواب دیا۔
    “میرے ایک سوال کا جواب دیں گے؟”، ناعمہ نے اپنے ہتھیار میدان میں نکالتے ہوئے کہا۔
    “ایک چودہ سو برس پرانی کتاب جو آؤٹ آف ڈیٹ ہوچکی ہے، اپنی عقل اور بصیرت کو اس کے تابع کرکے سوچنا کیوں ضروری ہے۔”
    عبداللہ شاید ناعمہ سے بات نہیں کرنا چاہ رہا تھا، اس لیے اس نے ایک مختصر جواب دیا:
    “اس لیے کہ یہ الله کا کلام ہے۔ وہ ہر زمانے اور وقت سے بلند ہستی ہے۔”
    “م کیسے مان لیں کہ یہ الله کا کلام ہے۔ یہ تو عقلی طور پر ہی غلط ہے کہ آپ مان کر غور شروع کریں۔ یہ تو غیر علمی اور غیر عقلی رویہ ہے۔”
    ناعمہ بحث کے لیے پوری طرح تیار تھی۔ جبکہ اسماعیل صاحب کو احساس ہوچکا تھا کہ ناعمہ اپنے اعتراضات کا ترکش نکال چکی ہے اور اب ایک ایک کرکے وہ تیر چلائے گی جن کا جواب اور بھی کئی لوگ نہیں دے سکے تھے۔ ان اعتراضات کے جواب میں اسے جواب میں اکثر کفر و گمراہی کے طعنے سننے کو ملے تھے یا نامعقول اور بودا استدلال۔ پہلی چیز سے مذہب کے خلاف ناعمہ کے غصے میں اضافہ ہوتا تھا اور دوسری چیز سے اس کے حوصلے میں۔ چنانچہ عبد اللہ کے سامنے فضیحت سے بچنے کے لیے انہیں گفتگو میں مداخلت کرنا پڑی:
    “بیٹا یہ سوال تو ہم مسلمانوں کو کرنا ہی نہیں چاہیے کیونکہ ہم قرآن کو الله کا کلام مانتے ہیں۔ اسی عقیدے کی روشنی میں ہمیں قرآن کو سمجھنا چاہیے۔ ”
    “نانا ابو یہی بات تو غیر مسلم اپنی کتابوں کے بارے میں کہتے ہیں۔ دیکھیے نا مسیحی علم الکلام کے مشہور عالم سینٹ انسلم کہتے ہیں کہ میں پہلے عقیدہ رکھتا ہوں پھر سمجھتا ہوں۔ پہلے سمجھ کر عقیدہ اختیار نہیں کرتا۔ اب بتایے کہ آپ میں اور ایک عیسائی میں کیا فرق رہ گیا۔”
    نواسی نے اپنے علم اور مطالعے کی روشنی میں نانا کو چاروں خانے چت کردیا تھا۔ اس کے بعد ان کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں بچا۔ مگر اب عبداللہ نے سوچا کہ اس کے سامنے ناعمہ نہیں ایک عام انسان موجود ہے جو دین سمجھنا چاہتا ہے۔ اس لیے اس نے پوری طرح گفتگو میں اترنے کا فیصلہ کرلیا۔ وہ اسماعیل صاحب سے مخاطب ہوا:
    “آپ اگر اجازت دیں تو میں کچھ عرض کروں۔”، پھر ان کے جواب کا انتظار کیے بغیر وہ کہنے لگا:
    “دیکھیے ناعمہ بی بی کم از کم میں آپ سے بالکل متفق ہوں۔ اور آپ کے سوال کو بالکل ویلڈ (valid) سمجھتا ہوں۔ خود الله تعالیٰ آپ کے سوال کو ویلڈ سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ بہت تفصیل کے ساتھ قرآن مجید میں اس سوال کاجواب دیتے ہیں۔ ان کی تو ساری اپیل عقل انسانی کو ہے۔ یہ تو کفار تھے جو عقل کو چھوڑ کر تعصب کو اختیار کرتے تھے۔ اس لیے آپ اطمینان رکھیے کہ آپ کا اعتراض بالکل درست ہے۔ یہ آپ کا حق ہے کہ آپ کو آپ کی بات کا عقلی جواب ملے۔”
    زندگی میں پہلی دفعہ ناعمہ کو معلوم ہوا کہ الله تعالیٰ حکم ٹھونسنے کے بجائے سوالوں کا جواب بھی دیتے ہیں اور لوگوں کو سمجھاتے بھی ہیں۔ عبداللہ بولتا رہا:
    “دیکھیے قرآن مجید جس عظیم ہستی پر نازل ہوا وہ قرآن مجید سے باہر بھی تاریخ کی روشنی میں پوری طرح معلوم و معروف ہے۔ اس ہستی کے متعلق معلوم ہے کہ اعلان نبوت سے پہلے وہ گرچہ غیر معمولی اعلیٰ سیرت و کردار کے مالک تھے، لیکن کوئی مذہبی عالم نہ تھے۔ وہ ایک عام تاجر تھے جن کا کوئی مذہبی پس منظر نہیں تھا۔
    ایسے میں وہ اچانک ایک روز اٹھتے ہیں اور نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان پر قرآن اترتا ہے۔ اس قرآن میں توحید و آخرت کی دعوت ہی نہیں بلکہ عرب و عجم کی پوری مذہبی روایت کی تفصیل ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان کو یہ سب اچانک کیسے معلوم ہوگیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہیں اچانک نہ صرف یہ سب معلوم ہوگیا بلکہ اس کے بعد ان کے خیالات میں کبھی کوئی ارتقا نہیں آیا۔ آپ کسی بھی مفکر اور صاحب علم کی زندگی کو دیکھ لیجیے۔ اس کی فکر اور علم میں ہمیشہ ایک ارتقا ملتا ہے۔ وہ ابتدا میں کچھ چیزیں سیکھتا ہے۔ علم، تجزیے اور تجربے کے بعد بہت سی چیزوں کو رد کرتا ہے۔ نئے نظریات اختیار کرتا ہے۔ پھر دنیا کے سامنے اپنی بات پیش کرتا ہے۔ اس کے بعد بھی اس کے افکار اور نظریات میں مسلسل ارتقا اور تبدیلی آتی رہتی ہے۔ سقراط، افلاطون اور ارسطو سے لے کر ڈیکارٹ، کانٹ، ہیگل تک اور گوئٹے اور شیکسپیر سے غالب اور اقبال تک کوئی شخص ایسا نہیں جو بغیر کسی علمی اور فکری ارتقا کے بغیر اپنے فکر اور کلام کو دنیا کے سامنے پیش کرسکا ہو، مگر محمد صلی الله علیہ وسلم کی ہستی اس پورے معاملے سے ایک عجیب استثنا ہے۔ اس بات کو ایک مذہبی مثال سے سمجھیے کہ ہمارے زمانے میں ایک صاحب نے نبوت کا دعویٰ کیا۔”
    “تم غالباً مرزا غلام احمد قادیانی کی بات کررہے ہو۔”، اسماعیل صاحب نے وضاحت کے لیے پوچھا:
    “جی ہاں۔ میرا اشارہ انہی کی طرف ہے۔ مگر دیکھیے کہ ان کی پوری زندگی ہمارے سامنے ہے۔ وہ کوئی ان پڑھ آدمی نہیں تھے۔ مذہب کی پوری روایت سے واقف تھے۔ مذہبی مناظرے کرتے تھے۔ ان کی فکر، خیالات اور دعووں میں ارتقا بھی ملتا ہے اور تضاد بھی۔ وہ اگر سچے نبی ہوتے تو یہ کبھی نہ ہوتا۔ اس لیے کہ نبی کی بات الله تعالیٰ کی بات ہوتی ہے جس میں نہ تضاد ہوسکتا ہے نہ اس کے علم میں کوئی ارتقا آسکتا ہے۔ اس کے برعکس نبی عربی صلی الله علیہ وسلم کی سچائی کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے مذہبی علم کے اعتبار سے صفر سے اپنی بات کا آغاز کیا اور جو کہا وہ آج تک غلط ثابت نہیں ہوا۔ اور جو دعوت دنیا کو پہلے دن دی، اس میں آخر تک کبھی کوئی تبدیلی آئی نہ ارتقا ہوا اور نہ کہیں تضاد ملتا ہے۔ یہ کام کوئی عام انسان کیسے کرسکتا ہے؟”


Page 1 of 5 123 ... LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •