Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Page 2 of 5 FirstFirst 1234 ... LastLast
Results 16 to 30 of 69

Thread: قسم اس وقت کی از ابو یحیی

  1. #16
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    20,505
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی

    ناعمہ اس سوال کے جواب میں خاموش رہی۔ اس کاانداز بتارہا تھا کہ وہ مزید سننا چاہتی ہے۔ اس لیے عبد الله بولتا رہا:
    “یہ تو ایک پہلو ہے۔ زیادہ بڑی بات یہ ہے کہ محمد صلی الله علیہ وسلم ایک تنہا و بےآسرا شخص تھے جس نے تن تنہا اپنے قبیلے اور پورے عرب کے سرداروں کی مخالفت مول لے لی۔ انہوں نے صرف ان کے عقائد ہی پر تنقید نہیں کی بلکہ اتنا بڑا دعویٰ کردیا جو کوئی عام آدمی کرہی نہیں سکتا۔ انہوں نے پہلے دن سے یہ کہہ کر اپنی بات شروع کی تھی کہ جس نے میری بات مانی وہ بچے گا اور باقی لوگ خدا کی نافرمانی کے جرم میں اس کے عذاب کی زد میں آکر ہلاک ہوجائیں گے۔ جبکہ میری بات کو ماننے والے زمین کے بادشاہ بنادیے جائیں گے۔ اتنا بڑا دعویٰ کوئی مجنون کرسکتا ہے یا پھر کوئی سچا رسول۔ وہ سچے رسول تھے اس لیے جب وہ دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے ماننے والے عرب کے حکمران اور نہ ماننے والے ہلاک ہو چکے تھے۔ یہی نہیں، وہ مستقبل کے واقعات کی اتنی ٹھیک پیش گوئی کرتے ہیں۔۔۔”
    عبد الله ایک لمحے کے لیے رکا اور میز سے قرآن مجید ہاتھ میں اٹھا کر بولا:
    “اور یہ پیش گوئیاں اس کتاب میں آج بھی موجود ہیں اور اب یہ تاریخ کا ناقابل تردید حصہ بن چکی ہیں۔”
    “مثال کے طور پر کوئی ایک پیش گوئی بتائیے۔”، ناعمہ نے پوچھا۔
    “ایک نہیں کئی پیش گوئیاں ہیں۔ مثلاً یہ کہ اس زمانے میں ایک عالمی جنگ میں رومی یکطرفہ طور پر شکست کھارہے تھے۔ عین ان کی مغلوبیت کے عالم میں قرآن نے یہ پیش گوئی کی کہ چند برسوں میں رومی غالب آجائیں گے۔ ٹھیک ایسا ہی ہوا۔ قرآن نے اسی طرح عین مکہ میں جب ایمان لانے والے بدترین مظالم کا شکار تھے یہ پیش گوئی کی کہ یہ ظالم کفار باز نہ آئے اور رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے پیروکاروں کو اس سرزمین سے نکالنے کے درپے ہوئے تو پھر عنقریب ہم ان کفار ہی کو یہاں سے نکال پھینکیں گے۔ پھر ایک عظیم پیش گوئی یہ ہے کہ عین اس زمانے میں جب پورا عرب مدینہ کی چھوٹی سے بستی کو مٹانے پر تلا ہواتھا، یہ پیش گوئی بلکہ وعدہ کیا گیا کہ اس رسول پر ایمان لانے والوں کو زمین کا اقتدار دے دیا جائے گا۔ چند برسوں میں یہ بھی ہو گیا اور اہل ایمان معجزانہ طور پر دنیا کی تنہا سپر پاور بن گئے۔ پھر عین مغلوبیت کے عالم میں یہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ سب لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوجائیں گے جبکہ ابو لہب اور اس کے ساتھی جو وقت کے فرعون بنے ہوئے تھے، تباہ وہ برباد ہوجائیں گے۔ چند برسوں میں ایسا ہی ہوگیا۔”
    “اور قرآن کے معجزہ ہونے والی بات بھی تو بتاؤ۔”، اسماعیل صاحب نے پہلی دفعہ اپنی نواسی کو لاجواب ہوتے دیکھ کر گرہ لگائی۔ خوشی ان کے چہرے پر دمک رہی تھی۔
    “قرآن نے اپنے سب سے پہلے مخاطبین یعنی عرب کے مشرکین کو جو خطابت اور شاعری کے بادشاہ تھے یہ چیلنج دیا کہ اگر تم سمجھتے ہو کہ اس نبی نے خود اس کلام کو گھڑا ہے تو تم بھی ایسا کلام بناکر لے آؤ۔ اور یاد رہے کہ یہ وہ نبی تھے جنہیں شاعری کا نہ کوئی شوق تھا نہ اشعار یاد تھے۔ مگر قرآن کا جواب کسی نے دینے کی کوشش بھی نہ کی۔ حالانکہ یہ نبوت کا دعویٰ جھوٹا ثابت کرنے اور ان کے پیروکاروں کو ان سے بدگمان کرنے کا سب سے آسان نسخہ تھا۔ لیکن ان کفار نے رسول کو جھٹلایا، مجنون، شاعر اور جادوگر کہا، ان کے پیروکاروں پر بدترین ظلم ڈھائے، ان سے جنگیں کیں، مگر اس چیلنج کا جواب نہیں دے سکے۔ اب بتائیے ایسی ہستی کو آپ رسول ماننے سے کیسے انکار کریں گی اور کیسے قرآن کو الله کا کلام نہیں مانیں گی؟”

    ناعمہ کا چہرہ اترچکا تھا۔ بات اس پر واضح ہوچکی تھی۔ عبد اللہ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو اتنی معقول اور مدلل بات شاید وہ مان بھی جاتی۔ تاہم عبداللہ کے سامنے اعتراف شکست کرنا اس کی انا کی شکست ہوتا۔ یہ اسے ہر گز قبول نہیں تھا۔ انانیت میں مبتلا ہر شخص معقولیت کی پٹڑی سے اتر جاتا ہے۔ چنانچہ اب ناعمہ نے وہ کام کیا جس پر ہمیشہ وہ مذہبی لوگوں کو لتاڑتی رہی تھی کہ وہ بحث کے ایک میدان میں جب شکست کھاجاتے ہیں تو اعتراف شکست کیے بغیر دوسرا محاذ کھول دیتے ہیں۔ ناعمہ نے اس عمل کا نام “مولویانہ قلابازی” رکھا تھا۔ مگر اب یہی “مولویانہ قلابازی” ناعمہ نے بھی لگا دی۔ عبداللہ کی اس پوری گفتگو کے جواب میں اس نے کہا:
    “آپ کی باتیں اگر ٹھیک ہوں تب بھی یہ اتفاقات سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ جس ظالمانہ طریقے پر یہ دنیا چلی جارہی ہے، اسے دیکھنے کے بعد کوئی باشعور شخص کسی خدا پر ایمان نہیں لاسکتا۔ خدا کو ماننا پری ماڈرن ازم کا ایک تصور ہے جب عقیدہ انسانی زندگی کی بنیاد تھی۔ ماڈرن ازم کے دور عقلیت میں یہ تصور مکمل طور پر رد ہوچکا ہے۔ خیر اب تو ہم پوسٹ ماڈرن ازم میں جی رہے ہیں۔ اس میں کسی کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ہم ثقافتی طور پر مذہب اور خدا کو مان سکتے ہیں۔ مگر سب جانتے ہیں کہ خدا کا تصور ایک غیر سائنٹفک تصور ہے۔ عرصہ ہوا کہ ارتقا کا نظریہ خدا کے وجود کی عقلی بنیاد ختم کرچکا ہے۔ سائنس کی دنیا میں اب خدا کو مان کر کوئی تحقیق نہیں کی جاتی۔”
    ناعمہ بہت ذہانت سے عبداللہ کو اس کی اسپیشلٹی کے میدان یعنی مذہب سے نکال کر اپنی اسپشلٹی کے میدان یعنی سائنس اور فلسفہ میں لے آئی تھی۔ اب بحث اس کے میدان میں ہونی تھی۔ جہاں ناعمہ کے خیال میں اس کی فتح یقینی تھی۔ تاہم عبداللہ اس میدان کا بھی کھلاڑی تھا۔ وہ پورے اعتماد سے بولا:
    “دیکھیے الله ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ کرنا سائنس کا دائرہ کار ہی نہیں ہے۔ وہ تو یہ بتاتی ہے کہ کائنات کیسے کام کررہی ہے۔ کائنات کیوں وجود میں آئی۔ انسان یہاں کیوں ہے، اس کا جواب نہ سائنس دے سکتی ہے نہ یہ اس کا دائرہ ہے۔ نہ سائنس آج تک کوئی ایسا دعویٰ کرسکی ہے کہ اس کی کسی دریافت نے ثابت کردیا ہے کہ خدا موجود نہیں ہے۔ البتہ سائنس نے تو اس کائنات کے جتنے اسرار کھولے ہیں، وہ صرف یہ بتاتے ہیں کہ اس درجہ کی پیچیدہ مگر متوازن، متضاد مگر ہم آہنگ کائنات کسی خالق کی تخلیق ہی ہوسکتی ہے۔
    جہاں تک ارتقا کے نظریے کا تعلق ہے تو یہ بات ٹھیک ہے کہ ڈارون کے زمانے میں انسانی علم جہاں پر تھا وہاں ارتقا کو خالق کا نعم البدل سمجھ لیا گیا تھا۔ مگر بیسویں صدی اور خاص کر اس کے آخر میں زندگی کی سادہ ترین شکلوں یعنی بیکٹیریا اور خلیہ پر ہونے والی تحقیقات اورجینیاتی سائنس کی ترقی نے ارتقا کے قدموں سے زمین نکال دی ہے۔
    جدید سائنس کی ترقی نے ایسی خوردبینیں ایجاد کردیں اور ایسے طریقے وجود میں آگئے کہ زندگی کی سادہ ترین اقسام کی انتہائی جزئی تفصیل بھی ہمارے سامنے آچکی ہے۔ اس سائنسی ترقی کا سب سے بڑا انکشاف یہ ہے کہ زندگی اپنی سادہ ترین شکل میں بھی اتنی ہی پیچیدہ ہے کہ ارتقا کا نظریہ اس کی وضاحت نہیں کرسکتا کہ ایسی پیچیدگی اتنی بنیادی سطح پر کیسے موجود ہوسکتی ہے۔”
    ناعمہ نے فوراً مداخلت کرتے ہوئے کہا:
    “میں بتاتی ہوں کہ یہ پیچیدگی کیسے ممکن ہے۔ دراصل ایک طویل عرصے تک جو کروڑوں بلکہ اربوں سال پر بھی محیط ہوسکتا ہے، زندگی کی کسی بھی سطح پر ان گنت اور پے درپے آنے والی تبدیلیاں اس کو ممکن بناسکتی ہیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ۔۔۔”
    “جی مجھے معلوم ہے وہ مثال کیا ہے۔”، عبداللہ نے اس کی بات بیچ سے کاٹتے ہوئے کہا:
    “اگر کچھ بندر ٹائپ رائٹر پر بلا سوچے سمجھے انگلیاں مارنے لگیں اور اربوں سال تک مارتے رہیں تو عین ممکن ہے کہ وہ کسی شاہکار نظم کو ٹائپ کرہی ڈالیں۔ مگر زندگی کی تمام تر پیچیدگیوں کو تو چھوڑ دیجیے، زندگی کے بنیادی جز ڈی۔این۔اے میں موجود معلومات کو اگر کتاب کی شکل میں ترتیب دیا جائے تو لاکھوں صفحات پر مشتمل وہ کتاب وجود میں آئے گی جس کا ہر لفظ، ہر سطر اور ہر باب بلکہ پوری کتاب ہی بامعنی، بامقصد اور مکمل طور پر مربوط ہے۔”
    پھر وہ رکتے ہوئے ناعمہ سے مخاطب ہوا:
    “آپ جانتی ہیں کہ کسی اتفاق کے تحت ایسی بامعنی کتاب کو وجود میں لانے کے لیے ان بندروں کو کتنے سال ٹائپنگ کرنی پڑے گی؟”
    پھر اپنے سوال کا جواب وہ خود ہی دیتے ہوئے بولا:
    “ریاضی کا علم یہ بتاتا ہے کہ اس کے لیے درکار وقت اتنا زیادہ ہے کہ اربوں کو کھربوں برس سے ضرب دے دیا جائے تب بھی یہ وقت ایسی تخلیق کو اتفاقی طور پر وجود میں لانے کے لیے کم ہے۔ میں ایک مثال سے آپ کو سمجھاتا ہوں۔”
    یہ کہہ کر عبد اللہ نے اپنی جیب سے قلم نکالا اور میز پر رکھتے ہوئے کاغذ پر ناعمہ کا نام انگریزی میں لکھتے ہوئے کہا۔
    “انگریزی زبان میں کل 26 حروف تہجی ہوتے ہیں اور آپ کا نام ان میں سے پانچ حروف تہجی کو ایک خاص ترتیب سے لکھنے سے بنتا ہے۔ علم ریاضی میں ایسی کسی شے کے ترتیب و تبادلہ یا (Permutation) معلوم کرنے کا ایک فارمولا ہوتا ہے۔”
    یہ کہتے ہوئے عبداللہ نے فارمولا لکھا اور اس سے حاصل ہونے والے عدد کوکاغذ پر بڑا بڑا لکھتے ہوئے کہا:
    “کسی بندر کو محض اتفاق کی بنیاد پر انگریزی زبان کے 26 حروف تہجی میں سے پانچ حروف پر مشتمل آپ کا نام لکھنے کے لیے اٹھتر لاکھ ترانوے ہزار چھ سو کی تعداد میں پانچ حرفی منفرد الفاظ لکھنے ہوں گے تب کہیں جاکر یہ بات یقینی ہوگی کہ ان کم و بیش 80 لاکھ الفاظ میں سے ایک لفظ ناعمہ ہوگا۔”
    “ناقابل یقین!”
    اسماعیل صاحب نے حیرت و استعجاب کے عالم میں کہا تو عبد اللہ مسکراتے ہوئے بولا:
    “ یہ تو ایک لفظ کا معاملہ ہے۔ بات اگرایک پوری مرتب کتاب کی ہو جس کا ہر لفظ دوسرے سے، ہر پیرا گراف اگلے سے اور ہر باب آگے پیچھے کے تمام ابواب سے پوری طرح مربوط ہوں تو پھر اسے اتفاقًا ترتیب میں آنے کے لیے اتنا زیادہ وقت چاہیے ہوگا کہ آپ تصور نہیں کرسکتے۔ اربوں کھربوں کے الفاظ اس گنتی میں ایسے ہی ہیں جیسے ہزاروں سال کی داستان میں ابتدائی چند سیکنڈ۔
    جبکہ حقیقت یہ ہے کہ زندگی ہماری جس زمین پر پیدا ہوئی اور سادہ سے پیچیدہ ترین شکلوں میں موجود ہے، وہاں کتاب زندگی کہیں زیادہ ضخیم مگر اتنی ہی مربوط و مرتب ہے اور دوسری طرف سانحہ یہ ہے کہ اس معصوم زمین کی عمر صرف چار ارب سال ہے۔ خود اس کائنات کی عمر تیرہ چودہ ارب سال سے زائد نہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ زندگی اتنی کامل شکل میں ایک جگہ پر اتنے مختصر وقت میں ظہور پذیر ہوجائے۔ اس لیے سائنس جس طرح کی کائنات کا تعارف کرارہی ہے، اس کے بارے میں یہ دعویٰ کرنا کہ یہ اتفاق سے وجود میں آئی ہے، زندگی بھی اتفاق سے وجود میں آئی اور زندگی کی تمام اقسام اپنی تمام تر پیچیدگیوں کے ساتھ اتفاق سے وجود میں آئیں، یا پھر ایک بےجان، بے شعور اور بےارادہ میکنزم حیات و کائنات کے اس بےمثل نظام کو کنٹرول کررہا ہے، یہ دعویٰ کوئی چاہے تو اپنا دل مطمئن کرنے کے لیے کرلے، مگرعقل اس دعوے کو قبول نہیں کرتی۔”


  2. #17
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    20,505
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی


    ناعمہ کو معلوم ہوچکا تھا کہ اسے مکمل شکست ہوچکی ہے۔ لیکن ترکش کا آخری تیر نکال کر اس نے چلاہی دیا۔
    "مجھے معلوم ہے کہ ارتقا پر بہت لوگ تنقید کرتے ہیں۔ مگر سائنسدانوں کی اکثریت بہرحال ارتقا کو ہی مانتی ہے۔"
    "جی ہاں مجھے بھی معلوم ہے۔"، عبداللہ نے مسکراتے ہوئے کہا:
    "مگر اس کی کوئی سائنسی وجہ نہیں ہے۔ بلکہ اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔ وہ یہ کہ خدا کو نہ ماننا اپنی ذات میں ایک مذہب ہے۔ ارتقا اس مذہب کا بنیادی اصول ہے۔ جو لوگ تنقید کو نہیں مانتے اس کی وجہ معقولیت نہیں بلکہ وہ تعصب ہوتا ہے جو ہر مذہبی انسان کو اپنے مذہب کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس پہلو سے ایک کٹر مذہبی رہنما اور ایک ملحد سائنسدان میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں یکساں طور پر متعصب ہوتے ہیں۔
    ایسے سائنسدان دراصل خالق کو نہیں ماننا چاہتے۔ اور خالق بھی وہ جو مسیحیت اور بائبل کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ جس کی نمائندگی اہل کلیسا کرتے ہیں۔ یہ ہے اصل مسئلہ۔ دراصل مسیحیت نے انسانیت اور خاص کر سائنسدانوں، فلسفیوں اور دانشوروں کے ساتھ قرون وسطیٰ میں وہ سلوک کیا ہے کہ اب وہ لوگ کسی طور مسیحیت اور کلیسا والے خدا کو قبول نہیں کرسکتے۔ مجھے یقین ہے کہ اسلام کی فطری تعلیم اور اس کا عقلی استدلال جب انسانیت کے سامنے آئے گا تو وہ اسے قبول کرنے سے انکار نہیں کرے گی۔"
    وہ ایک لمحے کو رکا اور ناعمہ کو غور سے دیکھتے ہوئے بولا:
    "مجھے تو اس کا بھی یقین ہے کہ آپ بھی خدا کے وجود پر قائل ہوچکی ہیں۔اور آج نہیں ہوئی ہیں تو بہت جلد ہوجائیں گی۔"
    ناعمہ طنزیہ انداز میں مسکرائی اور بولی:
    "میرے سوالات بہت زیادہ ہیں۔ اور شاید ان کا جواب دینا آپ کے لیے ممکن بھی نہیں۔ لیکن اس موضوع پر کبھی بعد میں بات کریں گے۔ اس وقت تو آپ لوگ میری وجہ سے ڈسٹرب ہورہے ہیں۔"
    یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔ اس کا چہرہ تنا ہوا تھا۔ باہر آکر وہ سیدھا فون کے پاس آئی اور فاریہ کا نمبر ملانے لگی۔

    ناعمہ کا چہرہ اترا ہوا تھا اور فاریہ ناعمہ کے سامنے بیٹھی ہوئی اسے تکے جارہی تھی۔ ناعمہ آج کے واقعے کی پوری روداد فاریہ کو سناچکی تھی۔ یہ داستان سننے کے بعد فاریہ دل میں تو بہت خوش تھی، مگر اپنی سہیلی کا بھرم رکھنے کے لیے وہ سنجیدہ شکل بنائے بیٹھی تھی۔ پھر اس نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا:
    "تو تم کیا چاہتی ہو۔ میں عبداللہ بھائی کو یہاں آنے سے منع کردوں؟"
    "میں اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔ تم نہیں جانتیں آج جب وہ بول رہا تھا تو نانا ابو کے چہرے پر کیسی خوشی تھی۔ لگتا تھا کہ ان کی اولاد میں نہیں ہو ں بلکہ وہ ان کی اولاد ہے۔"
    "نہیں ایسا نہیں ہے۔ اولاد تو تم ہی ہو اور تم ہی رہو گی۔ مگر تمھارا خیال یہ ہے کہ عبد اللہ بھائی کو یہاں آنے سے منع کرنے پر تمھارا مسئلہ حل ہوجائے گا تو میں یہ کردوں گی۔"
    ایک لمحے کے توقف کے بعد اس نے کہا:
    "لیکن نانا ابو نے انہیں بلا لیا تو کیا ہوگا؟"
    "تب کی تب دیکھی جائے گی۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ اس کے بعد وہ یہاں کبھی نہیں آئے گا۔ وہ اپنے آپ کو سمجھتا کیا ہے۔۔۔ جاہل کہیں کا۔"
    ناعمہ کی اس بات پر فاریہ نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا:
    "خیر جاہل تو نہ کہو انہیں۔ بے چارے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور جیسا کہ تم نے آج کی روداد سنائی، کچھ نہ کچھ وہ دیگر چیزوں سے بھی واقف ہیں۔"
    ناعمہ نے نظر اٹھا کر فاریہ کو غور سے دیکھا۔ وہ فیصلہ نہیں کر پائی کہ اس کی عزیز سہیلی اس کی طرف تھی یا عبد اللہ کی طرف۔
    فاریہ اپنا پرس اٹھاتے ہوئے بولی۔
    "یار میں چلتی ہوں۔ مجھے گھر جاکر کھانا بنانے میں امی کی مدد کرنی ہے۔ تم نے بلایا تھا تو میں آگئی۔ ویسے تمھارا کام ہوجائے گا۔ تم پریشان نہ ہو۔"
    یہ کہہ کر وہ اٹھی اور ناعمہ کے رخسار سے اپنے رخسار مس کرتے ہوئے بولی:
    "تم نے مجھ سے کبھی کہا تھا۔۔۔ تم خدا کو اس لیے نہیں مانتیں کہ تمھارے لیے سچائی اپنے تعصبات سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ میرے جانے کے بعد تنہائی میں سوچنا۔ کیا ابھی بھی تمھارے لیے سچائی سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے؟"
    "ور ہاں۔۔۔"، وہ ایک لمحے رک کر بولی:
    "تم میں اور کرن میں بہت فرق ہے۔ اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا۔"
    یہ کہہ کر فاریہ کمرے سے نکل گئی۔ ناعمہ ایک مجسمے کی طرح اپنی جگہ پر ساکت بیٹھ گئی۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ اس کی سہیلی اس سے کیا کہہ کر گئی ہے۔ اسے یہ جاننے کے لیے بہت زیادہ غور و فکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی کہ سچائی اب اس کے لیے اہم ترین چیز نہیں تھی۔ عبداللہ سے شکست قبول نہ کرنا اس کے لیے اہم ترین بات بن چکی تھی۔
    اس نے اپنی میز کی دراز کھول کر اس میں سے اپنی ڈائری نکالی۔ اس کے پہلے صفحے پر اس نے بڑے فخر سے لکھ رکھا تھا۔
    "میرے لیے سچائی ہر چیز سے زیادہ قیمتی ہے۔"
    ناعمہ کچھ دیر تک اپنی تحریر پڑھتی رہی۔ اسے بہت کچھ یاد آرہا تھا۔ کالج میں دیگر لڑکیوں اور اساتذہ سے مذہبی موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے وہ اکثر کہا کرتی تھی کہ آ پ سب تعصبات کے اسیر ہیں۔ پھر وہ مذہبی لوگوں کے اختلاف اور عناد کی داستان سنا کر اور ان کے مزعومات کی کمزوریاں سامنے لاکر جب لوگوں کولاجواب کیا کرتی تب اسے اپنے اوپر بڑا فخر محسوس ہوتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ خود ہر تعصب سے بلند ہوچکی ہے۔مگر آج اسے معلوم ہوا کہ جہاں دوسرے کھڑے ہوئے تھے وہ بھی ٹھیک اسی جگہ آکر کھڑی ہوچکی ہے۔ آج سے پہلے اس کا واسطہ متعصب، نامعقول انتہاپسندوں اور فرقہ پرستوں سے پڑا تھا۔ ناعمہ نے ان کو ہمیشہ شکست دی تھی۔ آج پہلی دفعہ ایک خدا پرست اس کے سامنے آیا اور ایک ہی وار میں اسے ڈھیر کر گیا تھا۔
    "مگر کیا مجھے وہی کرنا چاہیے جو دوسرے کرتے ہیں؟"
    اس نے اپنے آپ سے پوچھا۔
    "ہر شخص تعصب پر کھڑا ہوتا ہے، مگر ساتھ ہی چند بےمعنی الفاظ بول کر اپنے آپ کو دھوکہ بھی دے رہا ہوتا ہے۔ کیا میں بھی اپنے آپ کو دھوکہ دوں؟"
    وہ دھیرے سے بولی:
    "سچائی میرے لیے ابھی بھی ہر چیز سے زیادہ قیمتی ہے۔ مگر میں نہیں جانتی تھی کہ سچائی کا سفر اتنا مشکل بھی ہوسکتا ہے۔ مگر میں منافق نہیں بنوں گی۔ میں سچ قبول نہیں کرسکی تو کم از کم سچ بول تو سکتی ہوں۔ مجھے عبداللہ سے شدید نفرت ہے۔ مگر جو اس نے کہا میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔۔۔ کاش میرے لیے سچ کا سفر کچھ آسان ہوجائے۔"
    اس کے ساتھ ہی ناعمہ کے آنکھوں سے آنسوؤں کے موتی چھلکے اور چہرے سے ڈھلکتے ہوئے اس کے دامن میں جذب ہوگئے۔

  3. #18
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    20,505
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی

    عبد اللہ کے فون کی گھنٹی بجی۔ اس نے فون اٹھایا اور السلام علیکم کہا۔ دوسری طرف سے فاریہ کی آواز آئی۔
    "عبد اللہ بھائی میں فاریہ بات کررہی ہوں۔ آپ کیسے ہیں؟"
    عبد اللہ کو فاریہ کی آواز سن کر بہت حیرت ہوئی۔ کیونکہ فاریہ کے پاس اس کا نمبر تھا نہ کبھی اس نے اسے پہلے فون کیا تھا۔ وہ سمجھ نہیں سکا کہ اسے فون کرنے کا کیا سبب ہے۔ لیکن اس نے اپنی حیرت کا اظہار نہیں کیا اور جواب میں کہا:
    "الحمدللہ۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ آپ سنائیں کیسی ہیں؟"
    "میں ٹھیک ہوں۔ مجھے دراصل آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔"
    "فرمایئے۔"
    "وہ بات یہ ہے کہ ۔۔۔"، فاریہ نے کچھ جھجکتے ہوئے کہا:
    "ناعمہ دراصل بہت اچھی لڑکی ہے، لیکن اسے آپ سے کچھ پرابلم ہے۔"
    عبداللہ کے دل پر ایک کچوکا لگا، مگر وہ خاموشی سے سنتا رہا۔
    "دراصل وہ مذہب سے کچھ باغی ہے اور آپ بہت مذہبی ہیں۔ اس کے نانا اور امی سے بھی آپ بہت قریب ہوچکے ہیں۔ آپ بہت اچھے ہیں۔ سب آپ سے محبت کرتے ہیں۔ لیکن ناعمہ بچپن سے اپنے گھر میں محبت کا مرکز رہی ہے۔لیکن اب آپ اس محبت کو کچھ شئیر بھی کرنے لگے ہیں۔ آپ سن رہے ہیں نا۔"
    فاریہ نے رک کر کہا تو عبد اللہ بولا:
    "جی میں سن رہا ہوں۔"
    "دراصل آپ ناعمہ کو غلط مت سمجھئے گا۔ وہ طبعاً بہت بااخلاق لڑکی ہے۔ انسانوں سے اس کا معاملہ بہت ہمدردانہ رہتا تھا۔ اس کے باغیانہ نظریات اپنی جگہ لیکن نہ وہ بدتمیز ہے نہ بدلحاظ۔ لیکن آپ کے معاملے میں اس کی سوچ کچھ جارحانہ ہوچکی ہے۔ اب اس کی شادی ہونے والی ہے۔ لیکن آپ کے گھر آنے سے وہ کچھ ڈسٹرب سی ہوجاتی ہے۔ شاید پچھلے دنوں وہ آپ سے الجھ بھی پڑی تھی۔"
    "نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں تھی بس ان کے کچھ سوالات تھے۔"
    "اگر آپ کو اس کی کوئی بات بری لگی ہو تو پلیز آپ اسے معاف کردیں۔ میں اس کی طرف سے معافی مانگتی ہوں۔"
    "نہیں میں نے کسی بات کا برا نہیں مانا۔ ناعمہ تو بہت اچھی لڑکی ہے۔"
    "جی ہاں، آپ بھی بہت اچھے ہیں۔ میری تو بڑی خواہش تھی کہ آپ دونوں کی شادی ہوجاتی۔"
    فاریہ کو نہیں معلوم تھا کہ وہ لاعلمی میں عبداللہ کے مندمل ہوچکے زخموں کو کھرچنے لگی ہے۔
    "مگر بس ناعمہ یہ چاہتی تھی کہ اس کی شادی کسی دولتمند گھرانے میں ہو۔ دراصل وہ نہیں چاہتی تھی کہ جو محرومیاں اس کی والدہ نے جھیلی ہیں اب وہ جھیلے۔ اسی لیے اس نے آپ سے شادی سے انکار کردیا تھا۔"
    عبداللہ کو محسوس ہوا جیسے اس کے دل پر کسی نے گھونسا مار دیا ہو۔ مگر وہ اپنے آپ کو سنبھالنا سیکھ چکا تھا۔ وہ سپاٹ لہجے میں بولا:
    "جی میں سمجھ سکتا ہوں۔"
    "بس میرا خیال یہ تھا کہ آپ ناعمہ کی شادی تک اس کے گھر نہ جائیں تو وہ تھوڑا بہتر محسوس کرے گی۔"، فاریہ اپنا مدعا آخرکار زبان پر لے ہی آئی۔
    "آپ اطمینان رکھیے۔ ناعمہ کو مجھ سے کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ البتہ ان کی شادی کے بعد تو میں اسماعیل صاحب سے ملنے جاسکتا ہوں نا۔"
    "یہ تو آپ کا بہت احسان اور بڑا پن ہوگا۔"
    "ٹھیک ہے۔ آپ فکر مت کیجیے۔ اور کچھ۔۔۔"
    "نہیں بس، شکریہ اور الله حافظ۔"
    "اللہ حافظ۔"
    عبداللہ نے بوجھل دل کے ساتھ کہا اور فون بند کردیا۔
    وقت پر لگا کر اڑ رہا تھا اور شادی کے دن قریب آتے جارہے تھے۔ خواب میں بےلباسی کی ذلت اور عبداللہ کے ہاتھوں شکست پر کم و بیش ایک ہفتہ گزرگیا تھا۔ ناعمہ ایک دو دن تو ڈسٹرب رہی لیکن پھر شادی اور اس کے بعد کی زندگی نے اس کے خیالات کا رخ اپنی طرف موڑ لیا۔ اس رات ناعمہ اپنی ماں کے ساتھ بستر پر لیٹی ہوئی انہی خیالوں میں گم تھی۔ وہ تصورات میں خود کو یورپ اور امریکہ میں گھومتا ہوا دیکھ رہی تھی۔ اسے نہیں خبر تھی کہ اس کی ماں آمنہ بیگم کس قسم کے تفکرات میں مبتلا تھیں۔ وہ بیٹی کی خواہش اور رشتے والی کے اصرار پر اس رشتے کے لیے راضی تو ہوگئی تھیں۔ مگر اب کچھ حقیقتیں ہولناک شکل اختیار کرکے ا ن کے سامنے آرہی تھیں۔
    پہلی فکر تو بیٹی کی جدائی کی تھی۔ ان کی کل کائنات ناعمہ ہی تھی۔ اس کی خاطر عین جوانی میں بیوہ ہونے کے باوجود انہوں نے دوسری شادی نہیں کی۔ حالانکہ اس وقت ان کی والدہ زندہ تھیں جو ناعمہ کو سنبھال سکتی تھیں۔ انہوں نے بےحد اصرار کیا تھا کہ آمنہ دوسری شادی کرلے۔ آمنہ بیوہ سہی مگر بہت اچھی شکل و صورت کی تھیں۔ رشتے بھی آرہے تھے۔ ناعمہ کو نانا نانی اپنے پاس رکھنے کے لیے تیار تھے۔ ان کے پاس پورا موقع تھا کہ وہ زندگی کو ایک دفعہ پھر نئے سرے سے شروع کریں۔ گزرتا وقت ان کے جس نشیمن پر بجلیاں گرا کر اسے راکھ بناچکا ہے، اس راکھ سے وہ ایک نیا گھروندا پھر تعمیر کریں۔
    مگر انہوں نے اپنی زندگی اور اپنی خوشیوں پر اپنی بیٹی کو ترجیح دی۔ اسے بےپناہ محبت کے ساتھ پال پوس کر بڑا کیا۔ وقت کیسے گزرا اور کیسے ان کی چھوٹی سی ناعمہ شباب کے دروازے پر آپہنچی، انہیں معلوم ہی نہیں ہوا۔ اور اب بیٹی کی جدائی کا وہ وقت آن پہنچا تھا جو ہر ماں پر بے حد کٹھن ہوتا ہے۔ مگر ان کے پاس تو ناعمہ کے سوا کچھ اور نہیں۔ پھر جہاں ناعمہ کی شادی ہورہی تھی وہ اتنا بڑا گھرانا تھا کہ اس گھر میں بیٹی سے ملنے کے لیے جانے سے پہلے سو دفعہ سوچنا پڑے گا۔ ہونے والا داماد ملک سے باہر پڑھ رہا ہے۔ پتہ نہیں کیسا ہوگا۔ بیٹی کی محبت میں انہوں نے داماد کے بارے میں زیادہ تحقیق کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ بس رشتے والی خاتون کی بات پر بھروسہ کرلیاتھا۔ کچھ بعید نہیں تھا کہ وہ ان کی بیٹی کو لے کر ملک سے باہر شفٹ ہوجاتا۔ پھر تو وہ برسوں کے لیے اپنی بیٹی کی صورت کو ترس جائیں گی۔
    انہیں بےاختیار عبد اللہ کا خیال آیا۔ اگر یہ شادی اس سے ہورہی ہوتی تو ایک فکر بھی انہیں دامن گیر نہیں ہوتی۔ وہ اب اس سے اتنی مانوس ہوچکی تھیں کہ وہ انہیں اپنے بچوں جیسا لگنے لگا تھا۔ پھر اس کا تو کوئی تھا بھی نہیں۔
    "اسے تو میں اپنے گھر میں ہی رکھ لیتی۔ میری بیٹی ہمیشہ میرے پاس ہی رہتی۔"
    پچھتاووں نے انہیں چاروں طرف سے گھیرلیا۔ ان سے دامن چھڑانے کے لیے وہ شادی کی تیاریوں کے بارے میں سوچنے لگیں تو تفکرات نے انہیں آگھیرا۔
    ناعمہ کے سسرال والوں کے رنگ ڈھنگ سے انہیں کافی پریشانی تھی۔ وہ شہر کے سب سے بڑے کلب میں دو ہزار لوگوں کو بلا کر ولیمہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ جواب میں انہیں کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں پانچ سو لوگوں کو بھی بلانا پڑگیا تو شادی کی بیشتر رقم اسی میں خرچ ہوجائے گی۔ وہ جتنا بھی جہیز اور زیور بنالیتے، ان لوگوں کے مقابلے میں وہ بہت کم اور معمولی ہی نظر آتا۔ زیور سے انہیں کچھ یاد آیا تو برابر لیٹی ہوئی ناعمہ سے انہوں نے سوال کیا:
    "بیٹا وہ تمھارے پاس ایک بڑا وزنی سونے کا لاکٹ اور چین تھی۔ وہ کہاں ہے؟"
    ناعمہ اس وقت تصورات کی دنیا میں نیاگرا فالز کی سیر کررہی تھی۔ اس اچانک سوال سے اسے ایسا لگا جیسے کسی نے اسے آبشار کے کنارے سے نیچے دھکا دے دیا ہے۔ کچھ دیر تک تواس کی سمجھ نہیں آیا کہ اس کا کیا جواب دے۔ وہ سچ بتاتی تو والدہ سے بہت زیادہ ڈانٹ پڑتی۔ خیر ماں کو تو کسی طرح وہ مناہی لیتی کہ لاڈلی بیٹی تھی، مگر یہ نہیں چاہتی تھی کہ ایک اچھے کام کو کسی کے علم میں لائے۔ مگر اب تو کچھ نہ کچھ بتانا تھا۔
    اس نے کچھ جواب نہیں دیا تو آمنہ بیگم مزید گویا ہوئیں:
    "میں سوچ رہی تھی کہ اتنا بھاری لاکٹ اور چین ہے۔ کیوں نہ اس کی جگہ ایک سیٹ بنوالیا جائے۔ سیٹ کا نام بڑا ہوتا ہے۔ چین لاکٹ تو کسی گنتی میں نہیں آتے۔"
    ان کی یہ بات سن کر ناعمہ کو ایک بات بنانے کا موقع مل گیا ۔اس نے ماں سے لپٹتے ہوئے کہا:
    "امی وہ لاکٹ تو مجھے اتنا پسند ہے کہ کچھ حد نہیں۔ میں کسی قیمت پر اسے نہیں دوں گی۔ میں اسے اپنے ساتھ ایسے ہی لے جاؤں گی۔ آپ کچھ اور کرلیجیے۔"
    یہ کہہ کر ناعمہ کی تو جان چھوٹ گئی مگر بیٹی کے جواب سے آمنہ بیگم کی پریشانی اور بڑھ گئی۔ اسی پریشانی کے عالم میں نجانے کب ان کی آنکھ لگ گئی۔ ناعمہ بھی زیادہ دیر تک نہ جاگ سکی۔


  4. #19
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    20,505
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی

    ایک دفعہ پھر ناعمہ اسی میدان میں کھڑی تھی۔ بغیر کسی خوف اور پریشانی کے وہ ہر جگہ اڑتی پھر رہی تھی۔ یہ حسین مناظر اس کی طبیعت میں اتنا سرور اور نشاط بھر رہے تھے کہ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وقت تھم جائے اور ہمیشہ وہ یونہی اڑتی رہے۔ اچانک اس کے اڑنے کی صلاحیت ختم ہوگئی اور وہ زمین پر آکر ٹھہر گئی۔
    ایک دفعہ پھر وہی ہیولہ اس کے سامنے تھا۔ اس دفعہ ناعمہ کے دل میں اسے دیکھ کر کوئی خوف نہیں آیا۔ بلکہ ایک تجسس تھا۔ اس نے پوچھا:
    "تم کون ہو؟"
    "تمھیں اس سوال کا جواب جلد مل جائے گا۔۔۔ یہ بتاؤ کیا تم سچائی جاننا چاہتی ہو؟"
    "مگر مجھے تو سچائی معلوم ہے؟"
    "تمھیں کچھ نہیں معلوم۔ تم دھوکے میں جی رہی ہو۔ تمھیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ لوگوں کو کس چیز سے بچانا چاہیے۔"
    "میں سمجھی نہیں اس بات کا کیا مطلب ہے۔"
    "تم نے کائنات کے مالک کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ میں تو ایک ہی کو بچاسکی۔ ہوسکے تو باقی لوگوں کو تو بچالے۔"
    "ہاں کہا تھا۔"
    "تو پھر سن لو جس بچے کو تم نے بچانا چاہا تھا اسے دو دن بعد موت نے اپنی آغوش میں لے لیا۔ اگر بچانا ہے تو لوگوں کو اس بات سے بچاؤ کہ وہ الله کے حضور اس حال میں پیش ہوں کہ وہ بے لباس ہوں۔ کیونکہ جہنم کی آگ ایسے لوگوں کا لباس بن جائے گی۔"
    یہ سنتے ہی ناعمہ کی نظر اپنی طرف لوٹی اور یہ دیکھ کر وہ لرز اٹھی کہ ایک دفعہ پھر وہ بےلباس ہے۔ اس کے ساتھ ہی ناعمہ کی آنکھ کھل گئی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ سوئی ہی نہیں ہے۔ اس نے جو کچھ دیکھا ہے جاگتی ہوئی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اسے نہ نیند آرہی تھی نہ یہ سمجھ میں آرہا تھا کہ وہ ایسے بےتکے خواب کیوں دیکھ رہی ہے۔ کافی دیر وہ اسی ادھیڑ بن میں مصروف لیٹی رہی۔ اچانک مسجد سے فجر کی اذان کی صدا بلند ہوئی۔ ناعمہ کسی روبوٹ کی طرح اٹھی۔ واش روم جاکر وضو کیا اور نہ جانے کتنے عرصے بعد فجر کی نماز پڑھنے کھڑی ہوگئی۔

    ناعمہ کالج میں سارا دن کھوئی کھوئی رہی۔ وہ اس خواب کے مسئلے کو حل نہیں کرپارہی تھی۔ آخرکار اس نے پھر نفسیات کے علم سے مدد لینے کا فیصلہ کیا۔ لائبریری جاکراس نے کئی اور کتابوں کے علاوہ سگمنڈ فرائد کی کتاب The Interpretation of Dreams نکال کر پڑھنا شروع کی۔ یہاں اس کے سارے سوالوں کا جواب تھا۔ خواب کیوں آتے ہیں، ان کا مطلب کیا ہوتا ہے، ان کو کیسے سمجھا جاتا ہے۔ جواب بالکل واضح تھے۔ یہ دبی ہوئی خواہشوں، لاشعور میں پوشیدہ اندیشوں، غصہ اور نفرت کے افکار و خیالات، بھولی ہوئی یادوں، روزمرہ پیش آنے والے واقعات جن کو ہم شعور سے تحت الشعور اور تحت الشعور سے لاشعور کے خانے میں ڈال دیتے ہیں، ان سب کی مشترکہ پیداوار ہوتے ہیں۔ خواب کا ظاہری پہلو اہم نہیں ہوتا بلکہ خواب کا ظاہر کچھ اورحقائق کا ایک علامتی اظہار ہوتا ہے۔ خواب کا مطلب سمجھنے کے لیے خواب کے ظاہری پہلو کے بجائے یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ کن حقائق یا خیالات کو علامتی طور پر بیان کررہے ہیں۔ اس کے لیے حقائق کی تلاش اپنی زندگی کے واقعات، مشاہدات، جذبات اور ماضی و حال میں تلاش کرنا چاہیے۔
    علم نفسیات اور خاص کر فرائڈ کو پڑھنے کے بعد اس پر ساری بات بالکل واضح ہوگئی۔ یہ خواب مذہب اور اہل مذہب سے اس کی نفرت، معاشرے کی طرف سے خدا اور مذہب کا ڈراوا، مادی ترقی اور زندگی کی تعیشات کی اس خواہش، سچائی کی تلاش میں اس کا سفر، اس کی شادی کے بعد نئی زندگی جو آزادی اور تفریح سے آراستہ تھی ان سب کا مجموعہ تھا۔ یہ لاکٹ اور اس عورت کی مدد والی بات تو وہ بہرحال واقعات تھے جو پیش آئے۔ ان سب چیزوں کو جوڑ کر اس کا دماغ مطمئن ہوگیا۔ اس نے ایک گہرا سانس لیا اور ٹیبل پر سر رکھ کر ریلکس ہونے لگی۔ اس کاسارابوجھ اترچکا تھا۔ اس نے ہر چیز کو سمجھ لیا تھا۔ اب کوئی فکر اور تردد اسے دامن گیر نہیں تھا۔
    وہ اسی اطمینان کی کیفیت میں تھی کہ اچانک اس کے ذہن میں ایک دھماکہ ہوا۔ خواب کے اس پورے مجموعے میں وہ ایک چیز کو بالکل نظر انداز کرگئی تھی۔ جس کی حیثیت ایک اطلاع کی تھی۔ وہ یہ کہ جس بچے کو اس نے بچانا چاہا تھا وہ دو دن بعد الله کو پیارا ہوگیا تھا۔
    تھوڑی دیر تک تو وہ اس بات کو ذہن سے جھٹکنے اور اہمیت نہ دینے پر مصر رہی۔ پھر اسے یاد آیا کہ اس عورت اور بچے کی مدد کرنے کے اگلے دن جب اس کے نانا کی چھٹی ہوئی تھی تو وہ انتظامیہ کے آفس گئی تھی۔ وہاں وہی شخص موجود تھا جس سے اس نے بچے کے متعلق بات کی تھی۔ اس نے ناعمہ کے پوچھنے پر بتایا تھا کہ اس بچے کا آپریشن کامیاب ہوچکا ہے۔ یہ اس بات کی کافی دلیل تھی کہ خواب میں اس کے برعکس جو بات کہی گئی تھی ناعمہ اسے ذہن کی ایک کارستانی سمجھ کر بھول جائے۔ ناعمہ خود بھی اس بات کو نظر انداز کرنا چاہتی تھی مگر وہ ہیولہ ناعمہ کے سر پر پھر سوار ہوگیا۔ اس سے نجات پانے کا ایک ہی طریقہ تھا۔۔۔ اس بات کی تردید ہوجائے۔
    " اچھا ہے دل کا یہ شک بھی دور ہوجائے تاکہ آئندہ وہ اس طرح کی باتوں اور خوابوں کو بالکل اہمیت نہ دے۔"
    ناعمہ نے دل میں سوچا۔ پھر وہ لائبریری سے اٹھی اور سیدھی اسی ہسپتال جا پہنچی جہاں اس کے نانا ایڈمٹ تھے۔ وہ انتظامیہ کے دفتر تک آئی۔ اس وقت وہاں کوئی اجنبی شخص ڈیوٹی پر تھا۔ وہ شخص نہیں تھا جس سے اس نے بات کی تھی۔ لیکن اس نے اپنا مسئلہ اس آدمی کو بتایا کہ اس تاریخ کو ایک بچے کا آپریشن ہوا تھا۔ اس کا کیا ہوا۔ انتظامی دفتر کے کارکن نے اسے ریکارڈ آفس جانے کا کہا جہاں مریضوں کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔
    تھوڑی دیر میں وہ ریکارڈ روم میں کھڑی تھی۔ اسے نہ اس عورت کا نام معلوم تھا نہ اس بچے کا۔ صرف تاریخ، آپریشن اور رقم جو اس نے جمع کرائی تھی یاد تھی۔ یہ ایک مشکل کام تھا مگر اپنی خوبصورت شخصیت کی بنا پر اسے یہاں بھی لوگوں سے تعاون لینے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آئی۔ ایک شخص کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر اس کی دی ہوئی تاریخ میں تلاش اور جستجو کرنے لگا۔ اس نے اکاؤنٹس کے دفتر سے بھی مدد لی۔ بات چونکہ بہت زیادہ پرانی نہیں تھی اس لیے تقریباً نصف گھنٹے ہی میں معاملہ واضح ہوگیا۔ جس تاریخ میں ناعمہ نے پیسے جمع کرائے تھے اُس تاریخ اور رقم کی مدد سے بچے کو ڈھونڈ لیا گیا۔ اسی روز اس بچے کا آپریشن ہوا تھا۔ آپریشن کامیاب رہا تھا۔ اس بچے کی طبیعت بہتر ہورہی تھی۔ مگر دو دن بعد اس بچے کی طبیعت اچانک بگڑی اور اس کا انتقال ہوگیا۔

  5. #20
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    20,505
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی

    ناعمہ نے دوپہر کا کھانا نہیں کھایا۔ وہ ہسپتال سے سیدھی گھر آئی تھی اور خاموشی سے کمرے میں جاکر لیٹ گئی تھی۔ ماں نے کھانے کا کہا تو کہہ دیا کہ کالج میں دوستوں کے ساتھ کھا لیا تھا۔ وہ خاموش لیٹی صرف ایک بات سوچ رہی تھی۔ تحلیل نفسی اور خواب کی تعبیر کے نفسیاتی علم سے سب کچھ تو معلوم ہوگیا تھا۔ مگر یہ جواب کہیں موجود نہیں تھا کہ جو واقعہ خارج میں پیش آیا، جس کا ناعمہ کو کوئی علم نہیں تھا، وہ ٹھیک ٹھیک دنوں کے تعین کے ساتھ ناعمہ کو خواب میں کیسے معلوم ہوگیا۔ اس ہیولے نے یہ کیسے بتادیا کہ جس بچے کو اس نے بچانا چاہا تھا، جس کی خاطر اس نے اپنی محبوب ترین متاع کو بیچ دیا تھا، وہ ٹھیک دو دن بعد مرگیا۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ یہ سوال ہتھوڑا بن کر بار بار اس کے دماغ پر ضرب لگارہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ نفسیات کے جس علم پر اسے یہ بھروسہ تھا کہ وہ انسان کا تجزیہ کرکے اس کے بارے میں سب کچھ بتاسکتا ہے، جس فلسفے پر اسے اعتماد تھا کہ وہ کائنات کی ہر گتھی سلجھا سکتا ہے، وہ سارے علم ناقابل بھروسہ اور نامکمل تھے۔ حقیقت اور سچائی کہیں اور تھی۔ کسی برتر جگہ پر۔
    سوچتے سوچتے اس کے ذہن میں پہلے خواب کے بعد پیش آنے والے واقعات گھومنے لگے۔ لباس تقویٰ کا جو مطلب عبداللہ بتا رہا تھا، اس سے اسے اپنی برہنگی کا مطلب سمجھ میں آنے لگا۔ قرآن اللہ کی کتاب ہے اور محمد صلی الله علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اس کے جو دلائل عبد اللہ نے دیے تھے اور جنہیں اس نے صرف اس وجہ سے نظر انداز کردیا تھا کہ یہ سب کچھ دشمن جاں عبداللہ کہہ رہا تھا، اب اس کی بنائی ہوئی فصیلوں کو توڑ کر اس کے دل و دماغ کی سلطنت میں اپنی جگہ بنانے لگے۔ عبداللہ کی بات اس کے کانوں میں گونجنے لگی کہ رسول وہ باتیں بتاسکتے ہیں جو ابھی پیش ہی نہیں آئیں۔ جیسا وہ کہتے ہیں ٹھیک ویسا ہی ہوجاتا ہے۔ اتنے اعتماد سے مستقبل کی خبریں اور ماضی کے واقعات صرف الله تعالیٰ ہی کی طرف سے بیان کیے جاسکتے ہیں۔
    عبداللہ نے کوئی فلسفیانہ نکتہ نہیں اٹھایا تھا۔ صرف حقائق تھے۔ وہ حقائق جنہیں جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ جیسے کہ یہ ایک حقیقت تھی کہ جس بچے کو اس نے بچانا چاہا، وہ دو دن بعد مرگیا تھا۔ یہ بات اسے کسی طور معلوم نہیں تھی، مگر خواب میں وقت کے بالکل درست تعین کے ساتھ اسے یہ بات معلوم ہوگئی۔ یہ کیسے ممکن ہوا، اسے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔

    ناعمہ کے سارے گھروندے ٹوٹ چکے تھے۔ مذہب کا دامن پہلے ہی ہاتھ سے چھوٹ چکا تھا۔ فلسفے اور نفسیات کی مشکل کشائی آج مشکوک ہوچکی تھی۔ اگر کوئی اس سے خدا کے وجود کے حوالے سے بحث و مباحثہ کرتا تو وہ شاید کبھی اتنے جلدی ناعمہ میں وہ تبدیلی نہیں لاسکتا تھا جو اب آرہی تھی۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ ناعمہ کی ذہنی ساخت اور نفسیاتی شخصیت پر حملہ باہر سے نہیں اندر سے ہوا تھا۔ یہ ضر ب اس قدر شدید تھی کہ اس نے ناعمہ کے ہر دفاعی مورچے کو مسمار کردیا تھا۔ اس کی پرانی شخصیت ایک دھماکے کے ساتھ فنا ہوچکی تھی۔
    وہ جس تجربے سے حال ہی میں گزری تھی وہ بظاہر ایک خواب تھا۔ وہ چاہتی تو باآسانی اس خواب کو نظر انداز کردیتی۔ مگر وہ بےحس نہیں تھی کہ ذہن کی گرہوں اور الجھنوں کو فراموش کرکے جانوروں کی زندگی گزارنا شروع کردے۔ وہ سوچتی تھی، سوال اٹھاتی تھی اور جواب تلاش کیا کرتی تھی۔ مگر اب صرف سوالات رہ گئے تھے۔ جواب کہیں نہیں تھے، نہ انہیں جاننے کا کوئی ذریعہ بچا تھا۔ اس نے دوبارہ خواب کے بارے میں سوچنا شروع کردیا۔ وہ خواب اسے اول تا آخر پورا یاد تھا۔ وہ اس کے ایک ایک جز کو دہرانے لگی۔ اسے اندازہ ہوگیا کہ اس کا خواب ایک خواب نہیں تھا بلکہ اس کے ساتھ کیا گیا ایک مکالمہ تھا۔ اسے دیا گیا ایک واضح پیغام تھا۔ اس وقت اسے یاد آیا کہ اس ہیولے نے گفتگو کا آغاز اس بات سے کیا تھا کہ کیا وہ سچائی جاننا چاہتی ہے۔ ایک لمحے میں ناعمہ کے ذہن میں بجلی کی طرح ایک خیال کوندا۔ اگر یہ سب خدا کی طرف سے ہے تو اب اس مکالمے میں اگلی بات میں کروں گی۔ اگر کوئی خدا ہے تو مجھے جواب ضرور ملے گا۔ بےاختیار اس کے منہ سے نکلا۔
    "ہاں میں سچائی جاننا چاہتی ہوں۔"
    یہ کہہ کر وہ اٹھی اور وضو کیا اور ظہر کی نماز پڑھنے لگی۔ وہ جیسے ہی سجدے میں گئی اس کا دل بھر آیا۔ وہ روتے ہوئے کہنے لگے:
    "پروردگار میں تجھے نہیں مانتی تھی۔ اس لیے کہ میرے بہت سے سوالوں کا جواب کہیں نہیں ہے۔ اس دنیا میں اتنا ظلم کیوں ہے۔ یہاں عدل اور انصاف کیوں نہیں۔ اگر یہاں اندھے مادے کی حکومت نہیں اور تیرا حکم چلتا ہے تو پھر اتنی ناانصافی کیوں ہے۔ لوگ کیوں مرتے ہیں کیوں پیدا ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ محروم کیوں رہ جاتے ہیں، کچھ لوگوں کو بلاسبب اتنی نعمتیں کیوں مل جاتی ہیں۔ تو ہے تو سچائی لوگوں کو کیوں نہیں بتاتا۔ کیوں تو نے فلسفیوں اور مذہبی لوگوں کو یہ اجازت دے رکھی ہے کہ جوچاہیں کھڑے ہو کر تیرے نام پر کہہ دیں۔ تو خود کہاں ہے۔ تیری سچی رہنمائی کہاں ہے؟
    پروردگار میں اپنے دل سے ہر تعصب اور ہر نفرت ختم کرنے کے لیے تیار ہوں۔ میں اقرار کرتی ہوں کہ محمد صلی الله علیہ وسلم تیرے رسول ہیں۔ مجھے ان کی رسالت کا یقین اس شخص نے دلایا ہے جس سے مجھے نفرت ہے۔ مگر وہ بات ٹھیک کہہ رہا ہے۔ میں اس کی نفرت کے باوجود یہ اقرار کرتی ہوں کہ وہ سچ کہہ رہا ہے۔ مگر ابھی پورا سچ مجھے معلوم نہیں ہوا۔ میں اس خدا پر کیسے اعتماد کروں جو ظلم پر خاموش رہتا ہے۔ میں اس خدا سے کیسے محبت کرلوں جو محرومیوں کو جنم دیتا ہے۔ میں اس خدا پر کیسے یقین کروں جو سچ کھول کر نہیں بتاتا۔"
    ناعمہ بہت دیر تک روتی رہی اور سجدے میں مسلسل یہ دعا کرتی رہی۔

    ------------------------------




    ============= تیسری قسط ختم ہوئی =============

  6. #21
    Senior Member

    Join Date
    Dec 2007
    Location
    Dammam
    Posts
    2,584
    Mentioned
    9 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی

    waiting for remaining book

  7. #22
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    20,505
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی

    ==========چوتھی قسط==========








  8. #23
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    20,505
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی











  9. #24
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    20,505
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی










  10. #25
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    20,505
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی


    چوتھی قسط ختم ہوئی

  11. #26
    Sisters Society

    Join Date
    Mar 2012
    Location
    مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا
    Posts
    6,019
    Mentioned
    26 Post(s)
    Tagged
    2 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی

    جزاک اللہ عامر بھائی۔ حصہ اول تو بے حد بہترین تھا۔ بہتا عرصہ ہو گیا پڑھے لیکن ذہن سے ابھی تک وہ باتیں نہیں نکل سکیں۔ امید ہے دوسرا حصہ بھی شاندار ہو گا۔

    اتنے بھی نادان نہیں ہم ۔۔۔ ہم کو پڑھنا آتا ہے
    کونسا لہجہ دل کی دنیا ۔۔۔ کونسا دنیا داری ہے

  12. #27
    Member

    Join Date
    Nov 2009
    Posts
    70
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی

    شکریہ عامر جہاں ابو یحیی کے اس کتاب کے لیے
    [SIGPIC][/SIGPIC]

  13. #28
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2007
    Location
    Lahore
    Posts
    7,335
    Blog Entries
    2
    Mentioned
    7 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی

    واہ عامر بھائی
    کیا شاندار اور سبق آموز حقائق وضح کیے ہیں آپ نے
    اگلے حصے کا مجھے بڑی شدت سے انتظار ہے۔
    کوشش کریں کہ جلدی پوسٹ کریں۔
    جزاک اللہ خیر
    کس نے کس کا ۔۔۔سکون لوٹا
    آؤ بیٹھیں! حساب کرتے ہیں




  14. #29
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    20,505
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی

    ****** پانچویں قسط ******






  15. #30
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    20,505
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: قسم اس وقت کی از ابو یحیی






Page 2 of 5 FirstFirst 1234 ... LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •