Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Page 1 of 3 123 LastLast
Results 1 to 15 of 45

Thread: پسندیدہ نظم کا مقابلہ نمبر-6

  1. #1
    Site Managers

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    52,406
    Blog Entries
    3
    Mentioned
    16 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    پسندیدہ نظم کا مقابلہ نمبر-6

    السلام علیکم

    آپ کی پسندیدہ نظم کا مقابلہ نمبر-6 لے کر حاضر ہوں۔۔
    امید ہے پہلے مقابلوں کی طرح آپ کی شرکت بھرپور رہے گی۔۔۔

    اس مقابلے میں شرکت کی اولین شرط تو آپ جانتے ہی ہوں گے۔۔

    جی ہاں وہ یہ کہ
    نظم کا عنوان اور شاعر کا نام
    ضرور دیں۔
    بصورت دیگرآپ کی نظمیں مقابلے میں شامل نہیں سمجھی جائیں گی۔
    ایک ممبر دو عدد نظمیں پوسٹ کر سکتا ہے



    مقابلہ جیتنے والے ممبر کو 1000 سلور پوائنٹس


    دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے کو 700 سلور پوائنٹس


    تیسری پوزیشن پر آنے والے ممبر کو 500 سلور پوائنٹس

    کا انعام دیا جائے گا۔

    مقابلے کی آخری تاریخ 05 اپریل 2011 ہے۔

    ***

    گفتگو کرنے کا کچھ اُس میں ہُنر ایسا تھا
    وہ مری بات کا مفہوم بدل دیتا تھا
    ***

  2. #2
    Site Managers

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    52,406
    Blog Entries
    3
    Mentioned
    16 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: پسندیدہ نظم کا مقابلہ نمبر-6

    (یہ نظم مقابلے میں شامل نہیں ہے)

    قرض

    کچھ خواب ہیں
    جن کو لکھنا ہے
    تعبیر کی صورت دینی ہے
    کچھ لوگ ہیں
    اجڑے دل والے
    جنہیں اپنی محبت دینی ہے
    کچھ پھول ہیں
    جن کو چننا ہے
    اور ہار کی صورت دینی ہے
    کچھ اپنی نیندیں باقی ہیں
    جنہیں بانٹنا ہے کچھ لوگوں میں
    ان کو بھی تو راحت دینی ہے
    اے عمرِ رواں!
    آہستہ چل
    ابھی خاصا قرض چکانا ہے!



    اعتبار ساجد

    ***

    گفتگو کرنے کا کچھ اُس میں ہُنر ایسا تھا
    وہ مری بات کا مفہوم بدل دیتا تھا
    ***

  3. #3
    Senior Member Sabih's Avatar

    Join Date
    Jun 2009
    Posts
    10,466
    Blog Entries
    11
    Mentioned
    19 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: پسندیدہ نظم کا مقابلہ نمبر-6

    جب شہرِ خزاں میں آئے ہو

    جب شہرِ خزاں میں آئے ہو
    کچھ دور چلو تنہا تنہا
    کچھ دیر سنو سنّاٹے میں
    کوئی نوحہ پیلے پتوں کا
    کہیں تیز ہوا کے ہاتھوں سے
    گری ٹہنی سوکھی شاخوں سے
    کچھ بات کرو دھیرے دھیرے
    کچھ خاک اُڑاؤ رستے کی
    کچھ گرد سجاؤ پلکوں پر
    ذرا سر پہ بٹھاؤ ذرّوں کو
    پھر کھولو درد کے بستر کو
    پھر اوڑھو چادر زخموں کی
    پھر دیکھو اپنے سینے میں
    کوئی سُرخ سی کونپل پھوٹی ہے
    پھر راکھ کریدو یادوں کی
    کوئی چنگاری ہے، مہکے گی
    پھر اُجڑی سونی گلیوں میں
    کہیں ڈھونڈو یار کا نقشِ قدم
    جب شہر خزاں میں آئے ہو
    کچھ دور چلو تنہا تنہا

    رئیس علوی

  4. #4
    Junior Member

    Join Date
    Apr 2010
    Posts
    27
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: پسندیدہ نظم کا مقابلہ نمبر-6

    main ihsan ki yeah taza nazam maqablay main dita hooon.

    تمہیں کیوں نہ خبر ہوئی۔

    پالا تھا نازوں سے
    محبتوں سے تراشا تھا
    تھام کر انگلیاں
    چلنا بھی سکھایا تھا
    غیرت و عزت کی امین کو
    شرم وحیا سے سجا کر
    مومنہ بنایا تھا۔

    مومنہ بنا کر
    حالات سے ملایا تھا
    رنگِ زندگی دکھایا تھا
    اس کی ہر اک جیت پہ
    تیرا دل مسکرایا تھا
    اس کی ہر ہار نے
    تم کو تڑپایا تھا

    پھر
    ایک دن
    دنیا کے بازار میں
    عفلتوں کی راہ گزر
    تیری آنکھیں کندہ کر گئی
    اور
    پتھر کا شیطان ایک
    جواہر و زر کا ڈھیر لیے
    شہزادے کا بھیس بنا کر
    تیری حویلی نقب لگا گیا
    تیری شہزادی کو چرا کر
    جہیز کے مطالبوں کے
    گنبد میں بند کر دیا

    پھر بھی تم خاموش رہے
    اسے نہ اپنے گھر لائے
    نا کوئی دلاسا دیا

    پھر اسی کے ساتھ بھیج دیا
    اور ہوس کے شیطان نے
    تیری مومنہ کو جلا دیا
    (سحر آزاد)

  5. #5
    Site Managers Meem's Avatar

    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Bora Bora
    Posts
    51,071
    Mentioned
    22 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: پسندیدہ نظم کا مقابلہ نمبر-6

    سنگسار تمنا

    جو بھی سنتا ہے
    چونک اٹھتا ہے
    آج ایک لڑکی نے
    صدقے کی قربان گاہ پر
    سر رکھنے سے انکار کر دیا ہے۔

    عطیہ داؤد

    If you start believing that you're happy, you'll be happy forever

  6. #6
    Senior Member

    Join Date
    Mar 2007
    Posts
    11,611
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: پسندیدہ نظم کا مقابلہ نمبر-6

    نارسائی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    عجب رشتہ ہے یہ ترک مطلب کا
    کہ جو اب تک رویوں کی ٹھٹھرتی
    برف کی چادر میں اپنا منہ چھپائے
    اپنے ہونے کی لڑائی لڑ رہا ہے
    اور ایسے بے در و دیوار زنداں میں مقید ہے
    جہاں معصوم روحیں فکر فردا سے ہراساں ہیں
    جہاں پر خواب کی رنگیں فضائیں بن نہیں سکتیں
    جہاں سچائیاں بھی اپنے بچے جن نہیں سکتیں
    جہاں پر روشنی کے دائرے آزار ہوتے ہیں
    جہاں پر زندگی کے حوصلے مسمار ہوتے ہیں
    جہاں پر حرف تسلی بھی یونہی بےکار لگتا ہے
    جہاں زعم و تکبر عجز سے دامن چھڑاتے ہیں
    دعاؤں کے پرندے راستوں سے لوٹ جاتے ہیں
    جہاں پر تتلیوں کے پر بھی رنگوں سے مکر جائیں
    جہاں پر گیت سارے فاختاؤں کے بکھر جائیں
    یہی وہ عالم حیرت ہے،دشت بدگمانی ہے
    جہاں دل کی حویلی میں وفا برباد رہتی ہے
    یقیں کے باب میں ساری فضا ناشاد رہتی ہے
    یہاں ذہنوں پہ کوئی خوش خیالی چھا نہیں سکتی
    محبت بن کے اس در پہ سوالی آ نہیں سکتی!!



    منور جمیل


  7. #7
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    11,169
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: پسندیدہ نظم کا مقابلہ نمبر-6

    لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی!

    لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی!

    ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی!

    تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند
    اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی

    میری مینائی غزل میں تھی ذرا سی باقی
    شیخ کہتا ہے کہے یہ بھی حرام اے ساقی

    شیر مردوں سے ہوا بیشۂ تحقیق تہی!
    رہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ساقی

    عشق کی تیغِ جگر دار اڑا لی کس نے؟
    علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی

    سینہ روشن ہو تو ہے سوزِ سخن عینِ حیات
    ہو نہ روشن، تو سخن مرگِ دوام اے ساقی

    تو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ
    ترے پیمانے میں ہے ماہِ تمام اے ساقی


    ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

  8. #8
    Senior Member

    Join Date
    Feb 2008
    Posts
    11,946
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: پسندیدہ نظم کا مقابلہ نمبر-6

    آرزوئے وصل جاناں دلمیں ہے
    یار اب تک پردہ حائل میں ہے



    میری جو لیلٰی ہے میرے دلمیں ہے
    سارباں پھر کیا ترے محمل میں ہے


    آرزوئے زندگی ہرگز نہیں
    موت لیکن قبضئہ قاتل میں ہے


    قافلے والو ذرا یہ تو کہو
    میری لیلٰی کونسی محمل میں ہے


    آپ خود اچھی طرح ہیں جانتے
    کیا بتائیں آرزو کیا دل میں ہے


    ترک مے اور میں، نہ ہوگا یہ کبھی
    مے پرستی میرے آوگل میں ہے


    اے شترباں دیکھ آہستہ چلا
    ساتھ اسکے دل مرا محمل میں ہے


    جانِ حسرت لے کے شاید جائیگا
    اے خیال دلربا کیا دل میں ہے



    عبدالقدیر صدیقی حسرت

  9. #9
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    3,199
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: پسندیدہ نظم کا مقابلہ نمبر-6

    میرا وُجود کیا ہے

    لَمحے مُسرتوں کے
    ماضی کی وسعتوں میں
    کچھ اِس طرح سے کھوئے
    جیسے کہ ایک قطرہ
    بارش کا ہاتھ تھامے
    جب بادلوں سے بچھڑا
    ٹپکا وہ اک ندی پر
    اب کھو دیا تھا اس نے
    اپنا وجود سارا
    محتاج ہے ندی کا،
    جس سِمت اُس کو موڑے
    جس راہ اُسے چلائے

    بالکل اسی طرح سے،
    میں بھی بکھر چُکا ہوں
    اپنا وُجود کھو کے
    اب اُس کو کھوجتا ہوں
    بس وقت کے سہارے
    اب وقت کے یہ دھارے
    کِس سمت لے کے جائیں
    کِس راہ مجھے چلائیں
    یہ رب ہی جانتا ہے
    میرا وُجود کیا ہے!!


    (ثقی حیات)

  10. #10
    Site Managers Meem's Avatar

    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Bora Bora
    Posts
    51,071
    Mentioned
    22 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: پسندیدہ نظم کا مقابلہ نمبر-6

    نظم نمبر دو
    شاعر سلیم کوثر

    اے لوگو!
    تمہیں کیسے بتائیں ہم۔۔۔۔۔
    محبت اور کہانی میں کوئی رشتہ نہیں ہوتا
    کہانی میں
    تو ہم واپس بھی آتے ہیں
    محبت میں پلٹنے کا کوئی رستہ نہیں ہوتا
    ذرا سوچو ۔۔۔۔!
    کہیں دل میں خراشیں ڈالتی یادوں کی سفّاکی
    کہیں دامن سے مٹتی ہے کسی بھولی ہوئی
    ساعت کی نمناکی
    کہیں آنکھوں کے خیموں میں
    چراغ خواب گل کرنے کی سازش کو
    ہوا دیتی ہوئی راتوں کی چالاکی
    مگر میں بندہ خاکی
    نہ جانے کتنے فرعونوں سے الجھی ہے
    مرے لہجے کی بےباکی

    مجھے دیکھو
    مرے چہرے پر کتنے موسموں کی گرد
    اور اس گرد کی تہہ میں
    سمے کی دھوپ میں رکھا اک آئینہ
    اور آئینے میں تاحد نظر پھیلے
    محبت کے ستارے عکس بن کر جھلملاتے ہیں
    نئی دنیاؤں کا رستہ دکھاتے ہیں
    اسی منظر میں آئینے سے الجھی کچھ لکیریں ہیں
    لکیروں میں کہانی ہے
    کہانی اور محبت میں ازل سے جنگ جاری ہے
    محبت میں ایک ایسا موڑ آتا ہے
    جہاں آ کر کہانی ہار جاتی ہے

    کہانی میں تو کچھ کردار ہم خود فرض کرتے ہیں
    محبت میں کوئی کردار بھی فرضی نہیں ہوتا
    کہانی کو کئی کردار
    مل جل کر کہیں آگے چلاتے ہیں
    محبت اپنے کرداروں کو خود آگے بڑھاتی ہے
    کہانی میں کئی کردار
    زندہ ہی نہیں رہتے
    محبت اپنے کرداروں کو مرنے ہی نہیں دیتی
    کہانی کے سفر میں
    منظروں کی دُھول اڑتی ہے
    محبت کی مسافت راہگیروں کو بکھرنے ہی نہیں دیتی

    محبت ایک شجر ہے
    اور شجر کو اس سے مطلب کیا
    کہ اس کے سائے میں
    جو بھی تھکا ہارا مسافر آ کے بیٹھا ہے
    اب اس کی نسل کیا ہے، رنگ کیسا ہے
    کہاں سے آیا ہے
    کس سمت جانا ہے
    شجر کا کام تو بس چھاؤں دینا
    دھوپ سہنا
    اس سے اس سے غرض کیا ہے
    پڑاؤ ڈالنے والوں میں کس نے
    چھاؤں کی تقسیم کا جھگڑا اٹھایا ہے
    کہاں کس عہد کو توڑا ہے کہاں وعدہ نبھایا ہے

    مگر ہم جانتے ہیں
    چھاؤں جب تقسیم ہوجائے
    تو اکثر دھوپ کے نیزے
    رگ و پے میں اترتے ہیں
    اور اس کے زخم خوردہ لوگ
    جیتے ہیں نہ مرتے ہیں


    If you start believing that you're happy, you'll be happy forever

  11. #11
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2009
    Location
    کراچی
    Posts
    25,116
    Blog Entries
    3
    Mentioned
    5 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: پسندیدہ نظم کا مقابلہ نمبر-6

    کوئی نظم ایسی لکھوں کبھی

    کوئی نظم ایسی لکھوں کبھی
    تری بات بات کی روشنی
    مِرے حرف حرف میں بھر سکے
    ترے لمس کی یہ شگفتگی
    مرے جسم و جاں میں اُتر سکے
    کوئی چاندنی کسِی گہرے رنگ کے راز کی
    مرے راستوں میں بکھر سکے
    تری گفتگو سے بناؤں میں
    کوئی داستاں کوئی کہکشاں
    ہوں محبتوں کی تمازتیں بھی کمال طرح سے مہرباں
    ترے بازوؤں کی بہار میں
    کبھی جُھولتے ہُوئے گاؤں میں
    تری جستجو کے چراغ کو سرشام دِل میں جلاؤں
    اِسی جھلملاتی سی شام میں
    لِکھوں نظم جو ترا رُوپ ہو
    کہیں سخت جاڑوں میں ایک دم جو چمک اُٹھے
    کوئی خوشگوار سی دُھوپ ہو
    جو وفا کی تال کے رقص کا
    کوئی جیتا جاگتا عکس ہو
    کوئی نظم ایسی لکھوں کبھی
    کہ ہر ایک لفظ کے ہاتھ میں
    ترے نام کی
    ترے حروف تازہ کلام کے
    کئی راز ہوں
    جنھیں مُنکشف بھی کروں اگر
    تو جہان شعر کے باب میں
    مِرے دل میں رکھی کتاب میں
    ترے چشم و لب بھی چمک اٹھیں
    مجھے روشنی کی فضاؤں میں کہیں گھیر لیں
    کوئی نظم ایسی لکھوں کبھی

    پروین شاکر۔۔۔

  12. #12
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2009
    Location
    کراچی
    Posts
    25,116
    Blog Entries
    3
    Mentioned
    5 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: پسندیدہ نظم کا مقابلہ نمبر-6

    سنگریزہ

    لوگ کہتے ہیں
    بڑے پیار سے سمجھاتے ہیں
    سنگریزہ ہے جسے تونے گہر مان لیا

    لوگ کہتے ہیں بڑے پیار سے سمجھاتے ہیں
    لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے
    مجھ کو تسلیم بصد عجز و نیاز !
    مجھ کو تسلیم گُہر ہے نہ وہ ہیرا موتی
    سنگریزہ ہی سہی

    کیسے جیتے ہیں وہ لوگ
    کہ جن کے پاس
    سنگریزہ بھی نہیں ہے کوٕئی

    پرکاش پنڈت

  13. #13
    Senior Member

    Join Date
    Mar 2007
    Posts
    11,611
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: پسندیدہ نظم کا مقابلہ نمبر-6

    محبت تم نے کب کی ہے؟


    محبت تم نے کب کی ہے؟
    محبت میں نے کی ہے
    تم نے تو بس خامشی کی اوٹ میں رکھ کر
    کچھ اپنے لمس کے مصرعے میرے دل میں اتارے ہیں
    لب نم ساز کے نم میں کئی نطمیں بھگو کر میرے شانوں
    پر بکھیری ہیں
    محبت تم نے کب کی ہے؟
    محبت میں نے کی ہے
    تم نے تو اپنی آنکھوں دور تک اسرار میں ڈوبی ہوئی
    اک شام جیسی آنکھوں میں مجھے تحلیل کرنا تھا
    سو میں بھی ایک بے وقعت سے لمحے کی طرح اب تک
    تمہارے پاؤں کی مٹی سے لپٹا ہوں
    نہ تم نے پاؤں کی مٹی کو جھٹکا ہے
    نہ اس بے وقعت بے مایہ لمحے کو
    اٹھا کر اپنی پیشانی پہ
    رکھا ہے
    تمہاری خاموشی کی اوک میں
    میرے لیے کیا ہے؟
    سب ہی کچھ ہے مگر اقرار کی جھلمل نہیں ہے
    سمندر موجزن ہے اور کوئی ساحل نہیں ہے
    محبت تم نے کب کی ہے؟
    محبت میں نے کی ہے جان جاں تم سے
    تمہارے رنگ سے،رنگوں کی دنیا سے
    تمہاری خوبصورت ان سلی سی گفتگو کے
    خاص جادو سے
    تمہارے منفرد لہجے کی گہری دھند سے
    اس دھند کے اندر ٹھٹھرتے جھوٹ سچ سے
    مصلحت کی
    سبز کائی سے کہ جس کائی کی گیلی سرد
    سطحوں پر میری اک عمر کے سردار لمحے ثبت تھے
    اور اب ہوا میں خواب بن کے اڑ رہے ہیں
    میری اس عمر کے سردار لمحے اب جنہیں تیرے
    لب و رخسار کی آب و ہوائے سبز سے
    بے دخل کر ڈالا ہے تیری
    سردمہری نے
    مگر پھر بھی نہ جانے کیوں
    یہ دل یہ زرد مٹی میں گندھا دل کیوں تیری
    بے مہریوں کی
    کھوج میں رہتا ہے،کیوں آخر!
    تمہیں معلوم ہے
    آخر یہ بے وقعت سا دل اب بھی
    تمہارے پاؤں کے ناخن سے
    کیوں ہر بار چھلتا ہے
    تمہیں معلوم ہے جاناں!
    محبت تم نے کب کی ہے!!!


    ایوب خاور

  14. #14
    Senior Member

    Join Date
    Jan 2008
    Posts
    8,357
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Thumbs up Re: پسندیدہ نظم کا مقابلہ نمبر-6

    ٹھنڈی انگلیاں
    سرد انگلی اپنے مفلس باپ کی پکڑے ہوئے
    رو رہا ہے ایک بچہ اک دکاں کے سامنے
    اک کھلونے کی طرف انگلی اٹھا کر بار بار
    کچھ نہیں کہتا ہے لیکن رو رہا ہے بار بار
    باپ کی بجھتی ہوئی آنکھوں میں ہے دنیا سیاہ
    رُخ پہ گردِ مفلسی ہے جیبِ خا لی پر نگاہ
    باپ کی نمناک آنکھوں میں پئے تکمیل یاس
    کیا قیامت ہے پسر کے آنسوؤں کا انعکاس
    دل ہوا جاتا ہے بچے کے بلکنے سے فگار
    کہہ رہا ہے زیرِ لب فریاد اے پروردگار
    واہ کیا تقدیر ہے اس بندہء معصوم کی
    ہو چلی ہیں انگلیاں ٹھنڈی میرے معصوم کی


    جوش ملیح آبادی

    بے ثبات دُنیا میں, جب ثبات چاہو گے, آس ٹُوٹ جائے گی
    کچّی گولیاں کھیلو, ایک دن ٹوٹیں گی, جان چُھوٹ جائے گی

  15. #15
    روزبیہ خواجہ
    Guest

    Re: پسندیدہ نظم کا مقابلہ نمبر-6

    Quote Originally Posted by اجالا View Post
    محبت تم نے کب کی ہے؟


    محبت تم نے کب کی ہے؟
    محبت میں نے کی ہے
    تم نے تو بس خامشی کی اوٹ میں رکھ کر
    کچھ اپنے لمس کے مصرعے میرے دل میں اتارے ہیں
    لب نم ساز کے نم میں کئی نطمیں بھگو کر میرے شانوں
    پر بکھیری ہیں
    محبت تم نے کب کی ہے؟
    محبت میں نے کی ہے
    تم نے تو اپنی آنکھوں دور تک اسرار میں ڈوبی ہوئی
    اک شام جیسی آنکھوں میں مجھے تحلیل کرنا تھا
    سو میں بھی ایک بے وقعت سے لمحے کی طرح اب تک
    تمہارے پاؤں کی مٹی سے لپٹا ہوں
    نہ تم نے پاؤں کی مٹی کو جھٹکا ہے
    نہ اس بے وقعت بے مایہ لمحے کو
    اٹھا کر اپنی پیشانی پہ
    رکھا ہے
    تمہاری خاموشی کی اوک میں
    میرے لیے کیا ہے؟
    سب ہی کچھ ہے مگر اقرار کی جھلمل نہیں ہے
    سمندر موجزن ہے اور کوئی ساحل نہیں ہے
    محبت تم نے کب کی ہے؟
    محبت میں نے کی ہے جان جاں تم سے
    تمہارے رنگ سے،رنگوں کی دنیا سے
    تمہاری خوبصورت ان سلی سی گفتگو کے
    خاص جادو سے
    تمہارے منفرد لہجے کی گہری دھند سے
    اس دھند کے اندر ٹھٹھرتے جھوٹ سچ سے
    مصلحت کی
    سبز کائی سے کہ جس کائی کی گیلی سرد
    سطحوں پر میری اک عمر کے سردار لمحے ثبت تھے
    اور اب ہوا میں خواب بن کے اڑ رہے ہیں
    میری اس عمر کے سردار لمحے اب جنہیں تیرے
    لب و رخسار کی آب و ہوائے سبز سے
    بے دخل کر ڈالا ہے تیری
    سردمہری نے
    مگر پھر بھی نہ جانے کیوں
    یہ دل یہ زرد مٹی میں گندھا دل کیوں تیری
    بے مہریوں کی
    کھوج میں رہتا ہے،کیوں آخر!
    تمہیں معلوم ہے
    آخر یہ بے وقعت سا دل اب بھی
    تمہارے پاؤں کے ناخن سے
    کیوں ہر بار چھلتا ہے
    تمہیں معلوم ہے جاناں!
    محبت تم نے کب کی ہے!!!


    ایوب خاور
    بہت خوب اجالا سس۔

Page 1 of 3 123 LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •