Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Page 1 of 3 123 LastLast
Results 1 to 15 of 42

Thread: سب سے اچھا بچہ از رافعہ خان

  1. #1
    Senior Member

    Join Date
    Mar 2009
    Posts
    2,765
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    سب سے اچھا بچہ از رافعہ خان









    سب سے اچھا بچہ



    اسے سب سے اچھا بچہ بننا تھا۔ اسکے بابا نے اسے بتایا تھا۔ اسے بہت زیادہ پڑھنا تھا۔ اوروہ سمجھتا تھا کیوں۔ وہ بہت دھیان سے اپنا سارا کام کرتا تھا۔ تب اسکی اماں ہر روز اسکی مدد کرتی تھی۔ تب تو اماں باقی سب کی بھی بہت مدد کرتی تھی۔ دادی کی، جس کو کم دکھتا تھا۔ چھٹی والے دن قصبے سے مٹھوں کا بڑا تھیلا لاتے چاچا کی۔ اس کے چھوٹے بھائی کی۔ چھوٹا تب بہت چھوٹا تھا اور اس کی کتابیں پھاڑنے کو آتا تھا۔


    لیکن اب اسے چھوٹے سے اپنی کتابیں چھپانی آگئی تھیں۔ وہ ابھی تیسری جماعت میں آیا تھا۔ لیکن بابا کہتے تھے اب وہ بڑا اور سمجھدار ہوگیا ہے۔ وہ جانتا تھا کیوں۔ اسکی آستین اب اسکے ہاتھوں میں نہیں پھنستی تھی۔ دوڑتے ہوئے اسکے پاؤں بار بار جوتے سے نہیں نکلتے تھے۔ اور وہ سٹینڈ پر کھڑی سائیکل ہر اچک کر چڑھ جاتا تھا۔ اور اس کو بابا کی باتیں بھی بہت مشکل نہیں لگتی تھیں۔


    بابا ہی اسے بتاتے تھے دنیا بہت بڑی ہے۔ بس ایک بڑے گاؤں کی طرح۔ بابا نے بتایا تھا دنیا میں ابھی بہت کام باقی تھا۔ اور اسے وہ کام کرنا تھا۔ اس کے حصے کا کام۔ تب بابا اس کو ہر روز بہت ساری باتیں بتاتے۔ دھیان سے اچھی پڑھائی کرنے کی باتیں۔ اور کامیابی کی باتیں ۔ اور اخبار میں چھپنے والی فوٹو کی باتیں۔ دنیا کی باتیں جسے اس کی بہت ضرورت تھی۔


    تب جب وہ رات میں سارے اچھے کام کر لیتا۔ بابا کے پاؤں دباتا۔ پھر بابا اس کو اپنے ساتھ لٹا لیتے۔ بابا کی چارپائی بہت بڑی تھی۔ بڑے بڑے پایوں والی۔ سفید کھیسوں والی۔ جو شام سے پڑے پڑے بہت ٹھنڈے ہو جاتے۔ رات کی رانی کی خوشبو ساری رات آتی رہتی۔ ستارے اپنی اپنی جگہ نکلتے اور چمکتے رہتے۔ اور چاند اگر اسکے بستر کے دوسری طرف جانے میں دیر کرتا تو صبح سورج کو جلدی جلدی خداحافظ کہتا۔


    جب وہ سونے سے پہلے اپنی ساری کتابیں دل میں دھرا لیتا، اپنے کلمے اور پہاڑے۔ تو دنیا کو اچھا بنانے کے بہت سارے طریقے سوچتا۔ کبھی کبھی وہ بابا سے پوچھتا۔

    اپنے قصبے جیسا اچھا؟

    نہیں اس سے بھی اچھا۔ بابا ہمیشہ کہتے۔

    لیکن اسے تو اپنا قصبہ ہی سب سے اچھا لگتا تھا۔ گھر کے باہر اینٹوں والی گلی۔ پھر تھوڑا آگے چوک کے بیچ تنور والی اماں۔ آگے مدرسہ، پھر سکول اور بڑی سڑک کا بازار۔


    تب وہ ہر روز اپنے جوتے چمکاتا جو آگے سے تھوڑا ادھڑے تھے۔ کپڑے بدلتا۔ بستہ اٹھاتا اور سکول جاتا۔ اسکی استانی بہت اچھی تھی۔ صرف اسکی استانی جی کو یہ پتہ تھاکہ وہ اپنے بابا اور اماں کے لیے سب سے اچھا بچہ بننا چاہتا ہے۔ صرف اسکو پتا تھا کہ وہ ہر روز اپنا کام پورا ختم کرتا ہے تاکہ جب سب لوگ اسکی فوٹو بنانے آئیں تو کوئی اس کی شکایت نہ لگائے۔ استانی جی تو بالکل بھی نہیں۔


    سکول سے آتے آتے وہ روز اپنا لال گولا لیتا۔ بہت ٹھنڈا ۔ بہت میٹھا۔ اور جب برف سے سارا میٹھا ختم ہوجاتا تو گولے والا اور رنگ ڈال دیتا۔ اس لال شربت کا ذائقہ اسے بہت یاد آتا تھا۔ اور اسکے حافظ جی کی اونچی آواز۔ وہ سیپارے کی غلطی برداشت نہیں کرتے تھے۔

    اللہ کا کلام ہے، ٹھیک سے پڑھو سارے۔

    وہ بہت زور لگا لر بولتے۔ اوروہ ڈر کو اور دھیان لگاتا۔


    اور چوک میں سارے کوکلا چھپاکی کھیلتے۔ اور بہت ہنستے۔ اور بہت دوڑتے۔ اور کتنی دیر وہ تنور سے اڑنے والی چنگاریوں کو دیکھتا رہتا۔ وہ ٹوٹ ٹوٹ کر ادھر ادھرگرتی رہتیں۔ اور اسے اپنا سکول کا کام یاد آتا تھا۔ اور اس کی تختی۔ جو اماں اس کو روز تازہ دھو کر دیتی تھی۔ اور وہ بانس کے ترچھے قلم سے سیاہی میں ڈبو ڈبو کر لکھتا۔ کالے کالے، سیدھے اور گول لفظ۔


    پھر جب بابا نے بتایا تھا انہیں جلدی جلدی جانا تھا۔ وہ سب جلدی جلدی اٹھے تھے۔ اس نے اپنا بستہ اٹھایا تھا۔ بابا کے پاس بھی ایک بستہ تھا۔ اماں بہت چیزیں اٹھا رہی تھی۔ نئی چادریں۔ انکے بسترے۔ عید کے جوڑے۔لیکن بابا نے منع کیا تھا۔ تب اسے لگا تھا وہ سمجھتا ہے۔ چھوٹا ان کو خراب کر سکتا ہے۔ بابا سب چیزوں کو گھر میں سنبھالنا چاہتے تھے۔ اور بابا نے بتایا تھا انکو دور جانا تھا۔ سامان اٹھا کر دور نہیں جاسکتے۔وہ سمجھتا تھا۔


    پھر وہ بہت دور آگئے۔ وہا بہت لوگ تھے۔ دنیا کے سارے لوگ وہاں پر تھے۔ لیکن وہاں اور کچھ بھی نہیں تھا۔ اسے لگا بابا ٹھیک کہتے تھے۔ دنیا میں بہت کام باقی تھا۔ اسے لگا اس نے غلطی کی تھی۔ اسے بستے کے ساتھ اپنا سکول، اپنا مدرسہ، اپنا چوک اور اپنا بازار بھی لانا تھا۔ اسے لگا اسے اپنا تنور، اپنا گھربھی ساتھ لانا تھا۔ اسے لگا بابا کی باتیں ابھی بھی مشکل تھیں۔


    بابااس دن کام کرنے گئے تھے۔ اور کھانا لینے۔ جب بہت سارے لوگ آکر انہیں خیمہ دے کر گئے تھے۔ بابا نے آکر دیکھا تو انہیں اچھا نہیں لگا۔ پر اماں نے کچھ کہا۔ بابا نے اسکو اور چھوٹے کو دیکھا۔ اور آسماں کی طرف دیکھا۔ پھر کچھ نہیں کہا۔ اسے پتہ تھا بابا کو کیا برا لگا تھا۔ خیمہ میں ستارے نظر آنا مشکل تھے۔ اوررات کی رانی کی خوشبو۔ جو اماں نے چھوٹی کیاری میں لگائی تھی۔ برا اسے بھی لگا تھا۔ بابا کی چارپائی اس خیمے سے کتنی بڑی لگتی تھی۔


    اس نے اپنی ساری کتابیں پڑھ لیں تھی۔ اپنی کاپیوں کے سارے صفحوں کی ساری سطریں بھردیں تھی۔ سیپارے کے سارے سبق یاد کرلیے تھے۔ وہ سارا دن انتظارکرتاجب بابا آئیں گے تو وہ روٹی کھائیں گے۔ بابا بہت دور دور جاتے تھے۔ انکے پاؤں دکھتے ہی رہتے۔ لیکن وہ اسکو دبانے نہیں دیتے تھے۔ بس ماں سے کچھ باتیں کرکے سوجاتے۔ اسے بابا کی ساری باتیں یاد آتی تھیں۔ اسکو کام کے بارے میں بابا سے بات کرنی تھی۔ لیکن اسے پتہ تھا اچھے بچے بابا کو نیند سے نہیں اٹھاتے۔


    جب بابا کام کے لیے نکلتے تو اماں دادی کو تیل ملتی تھی۔ دادی اب بہت کھانستی تھی۔ وہ بہت روتی تھی۔ا ماں اسکے ہاتھ پکڑ کر بیٹھتی۔ اسکو اماں اب بہت دھندلی دھندلی لگتی۔ وہ چھوٹے کو پکڑ کر بیٹھتا تھا۔ اسکو بابا کی ساری باتیں بتاتا تھا۔ اب بابا کے پاس اتنا وقت نہیں تھا۔ پر اب وہ بڑا ہوگیا تھا۔ اسکی آستینیں اسکے ہاتھ میں نہیں آتی تھیں۔ اسے چھوٹا بھی اب بڑا لگتا تھا۔ لیکن چھوٹے کو دنیا اور قصبے کا نہیں پتا تھا۔ دنیا کو قصبے جیسا بنانے کے لیے بہت سارے اچھے بچوں کی ضرورت تھی۔


    کتنے سارے لوگ اتنی ساری چیزیں لے کر آتے تھے۔ لیکن بابا نے اسے بتایا تھا جب وہ کام سے آئیں گے تو وہ کھانا کھائیں گے۔ اسے وہاں بیٹھ کر انکا انتظار کرنا تھا۔ اس کو کبھی کسی نے بلایا بھی نہیں تھا۔ پر اس دن اس پتلون قمیض والے نے بھی اس کا راز جان لیا تھا۔


    تم یہاں کیوں بیٹھے ہو۔

    میرے بابا نے کہا ہے

    تم نے روٹی نہیں لینی

    بابا روٹی لائیں گے کام کے بعد

    تمہارے بابا جب تک نہیںآتے، تم یہیں بیٹھے رہتے ہو

    ہاں

    تم تو بہت اچھے بچے ہو۔ کیا میں تمھاری فوٹو لے لوں؟


    وہ اس آدمی کو دیکھتا رہا۔ جس کے کپڑے صاف تھے۔ اسکے جوتے بہت چمکدار تھے۔ اسکے پاس کیمرہ بھی تھا۔ کیمرا سیدھا ہونے تک وہ چپ بیٹھا تھا۔ اسے لگتا تھا اس نے ٹھیک نہیں سنا۔


    اسے اپنے گھر کے اوپر چمکتے ستاروں کی چمک یاد آئی۔ اور رات کی رانی کی خوشبو۔ اتنے سارے دن اس کو یقین تھا ک وہ دن آئے گا جب سب کو پتا چل جائے گا کہ وہ سب سے اچھا بچہ ہے۔ پر وہ دن کسی اور طرح سے آنا تھا۔ عید کے نئے کلف والے جوڑے میں جس کی آستینیں انگلیوں تک آتی ہوں۔ نئے چمکدار کھلے کھلے کالے بوٹوں میں۔ بابا کا ہاتھ پکڑ کر۔ استانی جی کے سامنے۔ سکول کے بڑے صحن میں ، جھنڈیوں کے نیچے، سب کے ساتھ قصبے میں۔


    اسے پتا تھا بابا کو اچھا نہیں لگے گا ایسے فوٹو بنانا۔ اتنے گندے کپڑوں میں۔ اماں کی بڑی سی پرانی چپل پہنے۔ ناک بہتے چھوٹے کو بابا کی باتیں بتاتے۔ اور اسکا منہ دھلا ہوا نہیں تھا۔ اس کو بہت بھوک بھی لگی تھی۔ پھر جانے کیسے اس کی خشک زباں پر لال شربت کا ذائقہ جاگا اور جانے کیسے اس کا سر ہاں میں ہل گیا۔ وہ اس دن کی خبر تھا۔


    ****



    ”سب سے اچھا بچہ“ کے بارے میں اپنی رائے دینا نہ بھولیے

    آپ کی تعریف، تنقید اور حوصلہ افزائی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔






  2. #2
    Senior Member

    Join Date
    May 2009
    Posts
    17,348
    Blog Entries
    4
    Mentioned
    4 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: سب سے اچھا بچہ از رافعہ خان

    تحریر بہت ہی اچھی ہے۔ مرکزی خیال تو نہایت شاندار ہے۔افسانے کے تمام لواز مات موجود تھے۔

    مگر

    ون اردو رائٹر کی مشترکہ پرابلم

    افسانہ مختصر تھا۔

    کردار نگاری میں مزید کام کرنے کی ضروت اس افسانے کےمرکزی کردار کے علاوہ دو کردار انتہائی مضبوط ہیں جنہیں میری نظر میں مناسب اسپیس نہیں دی گئی۔ مرکزی کردار کے والدین پر مزید روشنی ہو نا چاہیے تھی۔
    جاری ہے

  3. #3
    Senior Member

    Join Date
    May 2009
    Posts
    17,348
    Blog Entries
    4
    Mentioned
    4 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: سب سے اچھا بچہ از رافعہ خان

    منظر نگاری۔آپ نے ایک ہی لائن میں پورے قصبے کی تصور کشی کی اچھی کوشش کی ہے ۔، جس کو مزید نکھارا جا سکتا ہے۔ منظر نگاری بھی کچھ چیزیں پر مشتمل ہوتی ہے۔

    جمادات
    حیوانات
    نباتات
    موسم
    اورایک یا چند انسان

    جاری ہے

  4. #4
    Senior Member

    Join Date
    Mar 2009
    Posts
    2,765
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: سب سے اچھا بچہ از رافعہ خان

    احسان بھائی جب کسی سبجیکٹ کو فوکس کرتے ہیں کیمرے میں تو ایسے زوم کرتے ہیں کہ باقی سب بیک گراؤنڈ بلری ہو جاتا ہے۔
    جاری ہے

    ہمدم دیرینہ ! کیسا ہے جہان رنگ و بو
    سوز و ساز و درد و داغ و جستجو و آرزو

  5. #5
    Senior Member

    Join Date
    Feb 2009
    Posts
    2,062
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: سب سے اچھا بچہ از رافعہ خان

    بہت اچھا لکھا ہے رافعہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سادہ سے الفاظ میں اتنی گہری باتیں ۔۔۔۔۔۔متاثرکن ۔۔۔۔۔۔۔آخری پیرا سب سے زیادہ جاندار لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور آخری لائن بالکل افسانوی رنگ لئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔قاری کو کھوج پر مجبور کر دیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

  6. #6
    Section Managers

    Join Date
    Jan 2008
    Posts
    24,453
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: سب سے اچھا بچہ از رافعہ خان

    بہت اچھا لکھا ہے رافعہ۔

  7. #7
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    2,972
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: سب سے اچھا بچہ از رافعہ خان

    ہممم بہت اچھا لکھا ہے رافعہ سس۔۔۔۔اسپیشلی اختتامی پارٹ۔۔۔
    میں نےجو کیا وہ بُرا کیا، میں نے خود کو خود ہی تباہ کیا
    جو تجھے پسند ہو میرے رب، مجھے اُس ادا کی تلاش ہے

  8. #8
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    9,191
    Blog Entries
    4
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: سب سے اچھا بچہ از رافعہ خان

    بہت اچھی تحریر ہے رافعہ آپی جی ۔ ۔ ۔

  9. #9
    Section Managers Kainat's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    Germany
    Posts
    14,437
    Blog Entries
    18
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: سب سے اچھا بچہ از رافعہ خان

    بہت اچھا افسانہ لکھا ہے رافعہ جی،
    فیلنگز، احساسات کی بہت اچھی اور سچی عکاسی آپ نے کی ہے۔ آپ تو نظم اور نثر دونوں جگہ جھنڈے گاڑ رہی ہیں۔ اب آپ تعارف کی بالکل محتاج نہیں رہیں۔
    میں جن راستوں سے گزر جاتا ہوں ایک بار
    مڑ مڑ کے وہ نظارے بلاتے ہیں بار بار

  10. #10
    Durre Nayab
    Guest

    Re: سب سے اچھا بچہ از رافعہ خان

    بہت عمدہ، ایک معصوم بچے کی نظر سے اپنے اطراف اور دنیا کی بہت اچھی تصویر کشی کی۔

  11. #11
    Site Managers Meem's Avatar

    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Bora Bora
    Posts
    51,071
    Mentioned
    22 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: سب سے اچھا بچہ از رافعہ خان

    بہت اچھی اور بےحد حساس تحریر۔

    If you start believing that you're happy, you'll be happy forever

  12. #12
    Senior Member Sabih's Avatar

    Join Date
    Jun 2009
    Posts
    10,466
    Blog Entries
    11
    Mentioned
    19 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: سب سے اچھا بچہ از رافعہ خان

    بہت خوبصورت افسانہ ہے رافعہ سس
    ایک بچے کے جذبات احساسات اور مشاہدے کو عمدگی سے بیان کیا۔

  13. #13
    Senior Member

    Join Date
    Feb 2009
    Posts
    533
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: سب سے اچھا بچہ از رافعہ خان

    very nice

  14. #14
    Senior Member

    Join Date
    Mar 2009
    Posts
    2,765
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: سب سے اچھا بچہ از رافعہ خان

    Quote Originally Posted by روشنی View Post
    بہت اچھا لکھا ہے رافعہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سادہ سے الفاظ میں اتنی گہری باتیں ۔۔۔۔۔۔متاثرکن ۔۔۔۔۔۔۔آخری پیرا سب سے زیادہ جاندار لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور آخری لائن بالکل افسانوی رنگ لئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔قاری کو کھوج پر مجبور کر دیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
    پسندیدگی کا بہت شکریہ روشنی۔

  15. #15
    Senior Member

    Join Date
    Mar 2009
    Posts
    2,765
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: سب سے اچھا بچہ از رافعہ خان

    Quote Originally Posted by حرفِ دُعا View Post
    بہت اچھا لکھا ہے رافعہ۔
    آمد کا اور پسندیدگی کا بہت شکریہ دعا

Page 1 of 3 123 LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •