Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Page 3 of 7 FirstFirst 12345 ... LastLast
Results 31 to 45 of 99

Thread: خاکہ نگاری کا مقابلہ

  1. #31
    Senior Member Sabih's Avatar

    Join Date
    Jun 2009
    Posts
    10,466
    Blog Entries
    11
    Mentioned
    19 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Sajda Sehr View Post
    واؤ
    چلو مقابلہ شروع تو ہوا
    پہلا خاکہ جو مقابلے میں شامل نہیں وہ صبیح بھائی کا خود کا بھی ہو سکتا ہے


    اور مقابلے کا پہلا خاکہ بھی زبردست ہے استاد جی کا
    دیکھئے آگے کیا ہوتا ہے
    میری جمالیاتی حس ابھی اتنی ٹکنی کلر نہیں ہوئی کہ نیل گائے کو پسند کر ماروئ۔ ۔ ۔

  2. #32
    Sisters Society

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    CA, USA
    Posts
    16,003
    Blog Entries
    2
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    یہاں تو حالات بہت ٹھنڈے جا رہے ہیں۔۔۔بھئی کہاں ہیں سب لوگ۔۔۔۔کیا سب کا زور ممبران کے خاکے تک ہی تھا۔۔۔۔۔۔۔





    The most common way people give up their power


    is by thinking they don't have any.


    ~ Alice Walker ~


    Courage is like a muscle.


    We strengthen it with use.


    ~ Ruth Gordon ~

  3. #33
    Senior Member Sabih's Avatar

    Join Date
    Jun 2009
    Posts
    10,466
    Blog Entries
    11
    Mentioned
    19 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    اٹھ جاؤ پیارے بھائیو اور پیاری بہنو۔ ۔ ۔
    مقابلہ آپ کا منتظر ہے۔ ۔ ۔

  4. #34
    Senior Member

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    10,284
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    دونوں خاکے اچھے لکھے گئے ہیں ۔دوسرے خاکوں کا انتظار ہے کہ کب پڑھنے کو ملیں گے ۔ یہ رائٹرز سو کیوں رہے ہیں ۔ تڑکا لگا کے



  5. #35
    Site Managers Meem's Avatar

    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Bora Bora
    Posts
    51,071
    Mentioned
    22 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Dilpasand View Post
    دونوں خاکے اچھے لکھے گئے ہیں ۔دوسرے خاکوں کا انتظار ہے کہ کب پڑھنے کو ملیں گے ۔ یہ رائٹرز سو کیوں رہے ہیں ۔ تڑکا لگا کے



    یہ رائٹرز سوسائٹی کا نہیں "عوامی" مقابلہ اس لیے آپ بھی اٹھ جائیں تڑکا لگا کر۔

    If you start believing that you're happy, you'll be happy forever

  6. #36
    Senior Member Sabih's Avatar

    Join Date
    Jun 2009
    Posts
    10,466
    Blog Entries
    11
    Mentioned
    19 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Dilpasand View Post
    دونوں خاکے اچھے لکھے گئے ہیں ۔دوسرے خاکوں کا انتظار ہے کہ کب پڑھنے کو ملیں گے ۔ یہ رائٹرز سو کیوں رہے ہیں ۔ تڑکا لگا کے


    بھائی جان آپ بھی کوئی تڑکا لگائیے نا خاکے کی صورت میں۔ ۔ ۔

  7. #37
    Section Managers

    Join Date
    Feb 2008
    Posts
    20,573
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    خوبصورت بہنوں اور اچھے بھائیوں آپ اگر خاکہ لکھ چکے ہیں تو بھیج دیں۔
    آپ کس انتظار میں ہیں اب ان کو آزاد کرنے کا وقت آ گیا ہے ۔ ہی ہی ہی
    اور خاکہ بھیجنے سے پہلے اچھی طرح مقابلےکے جو قوانین ہیں ان کو اچھی طرح پڑھ لیں۔تاکہ آپکی محنت ضائع نا جائیں۔


    پھر کہتی ہوں کہ ون اردو ممبران پر خاکہ نہیں لکھنا۔

  8. #38
    Section Managers

    Join Date
    Feb 2008
    Posts
    20,573
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    سردار جبار احمد خان

    سردار جبار سے ہماری پہچان اس دور کی ہے جب ہم دونوں پوتڑے زیبِ تن کیے فرش پر لڑھکا کرتے تھے۔ اسی دور میں مجھے کچھ عرصہ ان کا پنگھوڑہ فیلو ہونے کا بھی شرف حاصل رہا۔ مصیبت کبھی اکیلے نہیں آتی اسی لیے ہم دونوں آگے پیچھے ہی زمین پر ٹپکے، لیکن اس سے یوں مت سمجھیے کہ پنگھوڑے سے ہی خطاب کر رہا ہوں۔ اب ہم دونوں نوجوانی سے پھسل کر جوانی میں گر چکے ہیں اور سنبھلنے کی کوشش قطعی نہیں کر رہے!




    سردار جوں جوں بڑے ہوتے گئے مزید نکھرتے گئے۔ سرخ و سفید رنگت لمبا قد اور چہرے پر سجی مونچھیں ان کی سرداریت کو چار چاند لگاتی ہیں۔ گھنیرے کالے بال انہیں مزید پرکشش بنا دیتے ہیں۔ سردار کے خدوخال بچپن سے ہی چیخ چیخ کر اپنی سرداریت کی گواہی دیتے۔ لمبا قد بچپن سے ہی ظاہر تھا۔ اکثر اوقات میز یا کرسی کے نیچے گھستے ہوئے ایک پٹاخ کی آواز آتی اور چند لمحوں بعد سردار کا ترانہ ملی سنائی دیتا۔




    لب و لہجہ کیونکہ شروع ہی سے شیریں اور چاشنی سے بھرپور تھا۔ ۔ ۔ روتے بھی تو پرندے غش کھا کر گر پڑتے۔ اکثر دیکھ گیا کہ سردار صحن میں بیٹھے رونے کا ریاض کر رہے ہوتے اور چڑیاں کوے بیٹھے سر دھن رہے ہوتے۔ ان کی اسی خاصیت کی بنا پر ان کو ایک بار شکار پر ساتھ لیجایا گیا لیکن بندر کیا جانے ادرک کا سواد۔ ۔ ۔ جنگلی پرندوں کو سر سنگیت سے کیا لینا دینا، لہٰذا خالی ہاتھ لوٹے!






    لباس کے معاملے میں ہمیشہ سے آزادی خیال کے قائل ہیں۔ بچپن میں پسندیدہ لباس نیپی تھا۔ بچپن اور لڑکپن کے درمیان ایک بار ضد کر بیٹھے کہ لہنگا پہنوں گا تو چند دن لہنگا بھی زیب تن کیے رکھا۔ آجکل مجبوراً شلوار قمیض اور پنٹ شرٹ میں ہی نظر آتے ہیں ورنہ ماضی کی روایات کے پیش نظر دھوتی ہی من کو بھاتی ہے۔






    امداد باہمی اور انصاف کے حد درجہ قائل ہیں۔ لوگوں کا درد اُن کے سینے میں اٹھنے سے پہلے اِن کو بے حال کر چکا ہوتا ہے۔ دور بیٹھے اوروں کے دل کے وہ بھید جان لیتے ہیں جو ان کو خود بھی معلوم نہیں ہوتے۔ ایک دفعہ چاچا باطی کی چہیتی مرغی کو کوئی حاسد گنجا کر گیا۔ ۔ ۔ سردار جی کو معلوم پڑا۔ ۔ ۔ راتوں رات کاروائی کی گئی اور اگلے دن پورے گاؤں کی مرغیاں مرغ ٹنڈیں چمکاتے پھر رہے تھے۔


    سوچ میں انفرادیت اور بلندی کے قائل ہیں۔ جراسک پارک دیکھی تو کئی دن ٹھنڈی آہیں بھرتے رہے کہ کاش جراسک پارک میرا ہوتا تو میں بڑا سا ہوٹل بناتا جس میں ڈائنوسار کے گوشت کی ڈشز بنتیں۔ ساتھ ہی فرماتے کہ خود سوچو ایک انڈے سے پورے ہوٹل کے لیے آملیٹ بن جاتا۔ ایسے ہی ایک دن ٹریکٹر دیکھ کر فرمانے لگے کہ میں سوچتا ہوں ریلوے انجن خرید کر اس کو ہل لگوا لیا جائے۔




    جانور پالنے کا شوق ورثے میں ملا۔ بچپن میں کسی نے بتا دیا کہ گھوڑے بیجوں سے اگتے ہیں تو سارے بازار میں گھوڑے کے بیج تلاشتے پھرے۔ کسی دانش مند نے دے دئیے گھوڑے کے بیج۔ ۔ ۔ گھر آ کر ایک مخصوص کیاری میں اہتمام سے بیج بوئے گئے۔ جب پہلے ڈنٹھل نکلے تو خیال کیا کہ شاید گھوڑا دم کی طرف سے نکل رہا ہے۔ لیکن بڑے ہونے پر معلوم پڑا کہ یہ تو تربوز کے بیج تھے۔ لیکن پھر بھی کسی کو توڑنے کی اجازت نہ ملی کہ شاید پکنے پر ہی کسی تربوز سے گھوڑا ہنہناتا نکل آئے۔


    سردار اپنے جانوروں کے نام بھی خود ہی رکھتے ہیں۔ ایک گدھا ہے جس کا نام تان سین ہے۔ وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب بھی گانے کی کوشش کرتے ہیں وہ سر ضرور ملاتا ہے۔ اس گدھے کی زوجہ محترمہ کا نام فیراری رکھا۔ ایک دن ہم اس کی پشت کی جانب کھڑے کچھ سوچ رہے تھے کہ فرمایا دیکھنا یہ بیک فائر بھی کر جاتی ہے۔ اور فیراری ایسی فرمانبردار ٹھہری کہ فوراً جمپ لگا کر کنگ فو کے سٹائل میں دولتی رسید کی۔ اٹھنے تک ہم سردار اور ان کی خرفہمی کے قائل ہو چکے تھے اور صرف دولتی کے بیک فائر پر اللہ کا شکر ادا کیا تھا۔ ۔ ۔ نہیں تو کیا پتا کیا کچھ فائر ہو جاتا، سردار صاحب کے کہنے پر۔ ۔ ۔



    سردار حسن پرست بھی بلا کے ہیں۔ بچپن میں بھی اگر کسی بزرگ خاتون کی گود میں ڈالا جاتا تو فوراً منہ پھاڑ پھاڑ کر چلانا شروع کر دیتے اور اگر کوئی توجہ نہ دیتا تو خود ہی خاتون کو ایسی چٹکی کاٹتے کہ وہ بلبلا کر چھوڑ دیتیں۔ بڑے ہو کر تو یہ حس اور بھی نکھر گئی۔ اسی وجہ سے ہمیشہ مویشی خریدنے سردار کو ہی بھیجا جاتا ہے۔ چن کر ایسی بکری خریدتے ہیں کہ پورے گاؤں کے بکرے دل تھام کر رہ جاتے ہیں۔ ایک بار تو گاؤں والے شکایت لے آئے کہ ان کی وجہ سے تمام گاؤں کے بکرے دودھ کی نہر کھودنے جانے کا سوچ رہے ہیں۔



    سردار صرف نام کے سردار نہیں بلکہ بہادری میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ ایک دن کچھ پڑوسیوں سے لڑائی ہو گئی ابھی زبانی جنگ ہی جاری تھی کہ سردار کے ہاتھ سے ضبط کا دامن چھوٹ گیا چھت پر کھڑے تھے وہاں سے چھلانگ لگائی نیچے پڑوسیوں کی چھت پر۔ ۔ ۔ وہاں سے گلی میں اور اینٹ اٹھا کر دوڑے ۔ ۔۔ ہم دم بخود کہ آج کوئی نہ کوئی مرے گا ان کے ہاتھوں۔ چیختے چلاتے پڑوسیوں کے گھر تک پہنچے۔ ۔ ۔ بند دروازے کو اینٹ ماری اور اسی رفتار اور جوش سے واپس کا سفر طے کیا۔


    چوبیس سال کے ہو جانے کے باوجود ان کی سرداریت جوں کی توں قائم ہے۔ سردار جبار سے جو تعلق پنگھوڑے اور ایک دوجے کے فیڈر چھیننے سے شروع ہوا ابھی تک قائم و دائم ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ اس میں مضبوطی ایسے ہی رہی ہے جیسے پیپلز پارٹی اور ایم قیو ایم کے تعلق میں آئی ہے۔ سردار جبار کے ساتھ گزارے دن یادوں کی کتاب میں سنہری باب ہیں۔

  9. #39
    Section Managers

    Join Date
    Feb 2008
    Posts
    20,573
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ


    میرے رہبر میرے رہنما



    اللہ کی مہربانی تھی کہ احسان، میں اس گھر میں رونق بن کر چلی آئی جہاں واقعی میری ضرورت تھی۔ ابن آدم پہلے ہی موجود تھا۔ سو حوا کی اس بیٹی کو بھی ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ کسی نے نہیں کہا کہ اور بیٹا ہوتا تو بھائیوں کی جوڑی ہو جاتی۔ بلکہ کہا گیا کہ بیٹا تو پہلے سے تھا چلواچھا ہوا اب بیٹی بھی آ گئی اور فیملی مکمل ہو گئی۔

    میں نے جیسے ہی ہوش سنبھالا تو اپنے آپ کو امی جان کے علاوہ ابو کے بھی بہت قریب پایا۔ اس عمر میں تو اندازہ نہیں تھا کہ ان کی محبت میری زندگی میں ایک مشعل کی طرح جلے گی اور میری رہنمائی کرے گی۔ بچپن سے ہی مجھے اپنے اباجی کے قریب ہونے کا بہت موقع ملا۔

    والد صاحب کی اچھی نیچر، لائف سٹائل اور عادتیں میرے اوپر بچپن سے ہی اثر انداز ہونے لگی تھیں۔

    ماشاءاللہ، وہ ایک بہت ایکٹو انسان تھے۔
    اور ان کی بہت سوشل ایکٹیویٹیز تھیں۔ میں نے ان کو کبھی فرصت سے نہیں دیکھا۔ ہمیشہ کچھ نہ کچھ کرتے نظر آتے۔ ریلوے میں افسر تھے۔ جاب پر ان کے کولیگز، پانچ وقت نماز کے پابند انسان، پھر ایک رفاعی انجمن سے وابستھ تھے تو وہاں کے ساتھی، پھر جس طرح میں نے ان کو نماز کی پابندی کرتے دیکھا اسی طرح انہیں باقاعدہ روزانہ صبح کی سیر پر بھی جاتے دیکھا، چاہے مینہ برسے، آندھی آئے، اس عادت میں بھی ان کی پختگی دیکھی۔
    بھائی اور میں نے در پردہ ان کے دوستوں کو مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کر رکھا تھا۔ ہم آپس میں بات کرتے تو کہتے۔ ان کے نماز کا گروپ، ان کے سیر کا گروپ، ان کی انجمن کا گروپ، ان کے آفس کا گروپ۔۔۔!

    اس کے علاوہ وہ ایک فیملی مین بھی تھے۔ ہمیں کبھی نہیں لگا کہ وہ اپنی لائف کے باقی حصوں میں زیادہ انوالو ہو گئے ہوں اور ہمیں نظر انداز کر گئے ہوں۔ وہ ہمارے لیے ہمیشہ اس جگہ اور موقع پر موجود ہوتے تھے جہاں ہمیں ان کی ضرورت ہوتی تھی۔ ہماری ایجوکیشن پر بھی ان کی خاص نظر ہوتی تھی۔ اپنے اصولوں کے ساتھ وہ کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔ اور ان کے اصول ہمیں بھی اصول ہی لگا کرتے تھے ان کی انا نہیں لگتے تھے۔
    آفس میں وہ اپنی جاب کی نوعیت سے ضرور بارعب ہوں گے۔ مگر گھر کے اندر انھیں سب رشتوں کو خوب نبھانا آتا تھا۔ میں نے ان کے اندر مردوں والی خواہ مخواہ کی انا یا ضد بازی کبھی نہیں دیکھی۔ اور گفتگو کرنے بات چیت میں بھی ان کی زبان بڑی شستہ تھی۔

    خاندان میں بھی ان کا ایک بڑا نام تھا۔
    جہاں کہیں مسئلہ ہوتا یا صلح صفائی کا معاملہ ہوتا بلکہ کہا جائے کہ اگر کوئی مسئلہ اڑ جاتا، جس کا حل ناممکن نظر آتا تو سب والد صاحب کا نام لے کر کہتے کہ انھیں بلاؤ کہ وہی آ کر یہ مسئلہ حل کریں گے اور پیغام آنے شروع ہو جاتے۔ اب یہ ذرا ذاتی معاملات زندگی ہیں لیکن واقعی انھوں نے اپنی عقل و فراست سے ایسے ایسے مسئلے سلجھائے کہ شائد وہی یہ کر سکتے تھے۔

    فطرت کے بہت قریب ان کا مزاج تھا۔
    مجھے بچپن کی بات یاد ہے وہ صبح کی نماز کے بعد سیر کے لیے چلے جاتے۔ واپس آتے تو کبھی کبھی ان کے ہاتھ میں ایک مسواک بھی ہوتی۔ اور پھر وہ مجھے ساتھ لے کر باہر پارک کا چکر لگوانے لے جاتے۔ وہ ماشأاللہ، ایک قد آوراورسمارٹ شخصیت تھے۔ میں نے کبھی ان میں موٹاپے کی ہلکی سی بھی جھلک نہیں دیکھی۔ وہ تیز تیز چلتے۔ یا تو مسواک کیے جاتے یا کوئی شعر پڑھتے جاتے۔ اور میں ان کا ساتھ دینے کو بھاگ رہی ہوتی۔ جس پر وہ کبھی کبھی نوٹ کر کے رک جاتے اور پوچھتے ” کیا میں زیادہ تیز چل رہا تھا ؟ “ اور میں پھولی ہوئی سانس کے ساتھ کہتی ” نہیں تو “ جس پر وہ مسکرا دیتے۔

    بڑے باادب، باذوق اور ادبی قسم کے انسان تھے۔
    اچھی شاعری پڑھنا ان کا شوق تھا۔ اقبال ان کے پسندیدہ شاعرتھے جن کا بہت سا کلام اور اشعار انھیں زبانی ازبر تھے۔
    وہ اکثر موقع و محل کی مناسبت سے شعر پڑھتے اور کشیدہ ماحول کو بھی لائٹ بنا دیتے۔ پھر بلھے شاہ کا کلام بھی انھیں بہت بھاتا تھا اور ہیئر وارث شاہ بھی۔ اور قائد اعظم ان کی پسندیدہ شخصیت تھے۔
    انھیں فارسی سے بھی بہت لگاؤ تھا۔ اور شیخ سعدی سے بھی متاثر، خود بھی کبھی کبھی شعر کہہ لیتے تھے یا اپنی باتوں کو شعروں میں ڈھال لیتے۔ اس خوبی کا فائدہ ان کے انجمن کے ساتھی بہت اٹھاتے اور ہر تقریب کا احوال ان سے اشعار میں لکھوا کر سنتے اور داد دیتے۔

    امی جان بتاتی تھیں کہ ایک بار ایک واشنگ سوپ آیا تھا صابن سات سو سات، اور ایک شعر بنا کر اس سوپ کی ایڈورٹائز کی گئی تھی جو ٹی وی پر آتی تھی۔
    ہم تو جانیں سیدھی بات
    صابن ہوتوسات سو سات

    اگر ایک کمرشل یا فلم ہٹ ہو جائے تو ویسی ہی دسیوں اور بننا شروع ہو جاتی ہیں۔ تو یہی حال اس سوپ کے ساتھ ہوا۔ اور بھی کمپنیاں سوپ بنانا شروع ہو گئیں۔ اور ان میں سے ایک کمپنی نے کاپی کرتے ہوئے کچھ یوں شعر لکھا
    ہم تو جانیں سیدھی بات
    صابن ہو تو سات سو ایک

    کہتے ہیں والد صاحب نے ان کا شعر درست کروایا تھا،
    ہم تو جانیں بات ہی ایک
    صابن ہو تو سات سو ایک

    ابا جی کو چونکہ فارسی بہت پسند تھی۔
    انھیں جانے کیا سوجھی کہ نویں کلاس میں انھوں نے مجھے یہ سبجیکٹ رکھوا دیا۔ ساری کلاس اس سبجیکٹ کو آٹھویں سے پڑھ رہی تھی اور میں بعد میں انھیں جوائن کرنے لگی تھی۔ والد صاحب عربی سبجیکٹ پڑھ چکے تھے اور بھائی سائنس سبجیکٹ، تو میں کچھ گبھرائی تھی کہ اب میرا کیا بنے گا ؟ میں تو کسی سے مدد بھی نہیں لے سکوں گی۔ تب انھوں نے مجھے کہا تھا، ” گبھراؤ مت، میں ہوں نا۔ “ اور انھوں نے اپنا کہا پورا کر کے بھی دکھایا۔

    وہ پہلے خود میری پرشئن بک پڑھتے تھے، پھر وہ سبق مجھے سمجھاتے تھے۔ اور ان کی اس مدد کا یہ نتیجہ نکلا کہ نویں کے ایگزامز میں فارسی میں کلاس میں میرے سب سے زیادہ مارکس آئے تھے۔ اور مجھے یاد ہے کہ میری کلاس فیلوز میرے پاس آ کر مجھ سے ریکویسٹ کر رہی تھیں کہ میں انھیں ریسس ٹائم میں پرشیئن پڑھا دیا کروں، تو دل میں مجھے بہت ہنسی آئی تھی۔ انھیں کیا پتہ کہ یھ سارا کمال تو میرے رہنما کا تھا۔

    پڑھائی میں وہ مجھے کچھ خاص نکتے بھی نوازا کرتے تھے۔
    ایک بار میرا انگلش کا ٹیسٹ تھا۔ تو مجھے پہلی بار والد صاحب نے ۔۔۔ رومن اردو ۔۔۔ سے متعارف کروایا تھا۔ انھوں نے بتایا تھا کہ اگر مجھے کسی لفظ کی انگلش نہ آئے تو میں وہاں پر رومن اردو میں انگلش ورڈ لکھ دوں ۔۔۔ اور ایسا ہی ہوا تھا کہ مجھے ۔۔۔ مسجد ۔۔۔ لفظ کی انگلش ذہن میں نہیں آ رہی تھی اور میں نے وہاں رومن اردو میں انگلش ورڈ لکھ دیا تھا۔ اور بعد میں انگلش ٹیچر نے مجھے بلا کر یہ نکتہ استعمال کرنے پر شاباش دی تھی کہ میں نے اس لفظ کی جگہ خالی نہیں چھوڑی یا وہاں غلط اسپیلنگ نہیں لکھے۔

    والد صاحب کی باتیں میرے لیے اقوال زریں کی طرح تھیں۔
    وہ اس بات کے بالکل خلاف تھے کہ ایک سٹوڈنٹ پورا سال لاپرواہی سے رہے اور امتحان کے دنوں میں دن رات پڑھائی میں جٹا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ سارا سال پڑھائی میں محنت کرو اور ایگزمز کے دنوں میں تو بس اپنی کی اس محنت کو ایک نظر دیکھ لو تا کہ وہ ریمائینڈ ہو جائے۔

    میرے گرینڈ فادرایک بہت جری اور بہادر شخصیت تھے۔ ایک بار ایک ڈاکو سے انھوں نے دوبدو مقابلہ کرنے کے بعد اسے زیر کر دیا تھا تو ان کی بہت دھاک بیٹھ گئی تھی۔ تو یہی انکی بہادری اور جرآت میرے ابو دو چچا اور ایک پھپھو میں بھی تھی۔

    امی جان بتاتی تھیں کہ
    کئی سال پہلے ایک بار ابواور وہ بہاولپور کے ایک ریلوے اسٹیشن پر تھے۔ ٹرین آنے میں ابھی وقت تھا۔ پلیٹ فارم پر کافی لوگ آ جا رہے تھے، ابو کبھی امی جی سے باتیں کرنے لگتے اور کبھی اٹھ کر تھوڑی واک کرنے لگتے۔ پھر وہ اچانک آ کر امی جی کے پاس بیٹھ گئے اور کہنے لگے کہ مجھے کچھ شک سا ہو رہا ہے۔ یہاں دو عورتیں برقعے میں ملبوس گھبرائی ہوئی سی کبھی ادھر کبھی ادھر آ۔۔۔ جا رہی ہیں، اورکچھ خطرناک سے ٓادمی ان کا پیچھا کر رہے ہیں۔

    امی جی کہتی تھیں کہ اس دوران وہ عورتیں پھر ان کے آگے سے ادھر ادھر دیکھتی ہوئی گزریں اور چند لمحوں کے بعد ہی دو تین آدمی بھی ہمارے سامنے سے تیزی سے گزر کے گئے۔ بڑے خطرناک سے ان کے حلیے، سر پر بڑی بڑی پگڑیاں اور یھ بڑی بڑی مونچھیں، جنہوں نے کندھوں پر رائفلیں بھی لگا رکھی تھیں۔ امی جی نے بتایا کھ ابھی ھم دیکھ ہی رہے تھے کہ کچھ لمحوں بعد وہی عورتیں پھر ہمارے ٓاگے سے گزرنے لگیں تو اچانک جلدی سے وہ ابو کی طرف لپکیں اور بولیں ” بھائی صاحب، ہماری مدد کرو، ہمارے پیچھے کچھ آدمی لگے ہوئے ہیں۔ ہمیں یہاں سے نکلنا ہے ؟ “ ابو نے صورتحال تو پہلے ہی جانچ لی تھی۔ انھوں نے جلدی سے ادھر ادھر دیکھا،

    اسوقت ریلوے اسٹیشن کی بلڈنگ کے ساتھ ہی لوہے کی ریلنگ شروع ہو جاتی تھی جو کہ کافی تنگ تنگ ہوا کرتی تھی جسمیں سے گزرنا ناممکن سی بات تھی۔ اچانک ادھر ادھر دیکھنے پر ابو کو لوہے کی ریلنگ کا وہ حصہ نظر آیا جو اسٹیشن کی بلڈنگ کے ساتھ سے شروع ہو رہا تھا، وہاں کچھ خلا سا نظر آیا۔ جس میں سے کوئی بچہ تو گزر جائے مگر ایک بڑے فرد کا گزرنا تقریبا ناممکن،
    ابو نے ادھر اشارہ کرتے ہوئے کہا ”بہن، یہی ایک رستہ ہے اگر کسی طرح گزر جاو تو؟ اس کے ساتھ ہی پیچھے شہر ہے۔ “
    امی بتاتی تھیں کہ وہ عورتیں تو جیسے اک ہلکے سے اشارے اور مدد کی منتظر تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ اتنی تیزی سے اس جگہ سے اپنا آپ سمیٹ کر گزر گئیں اور پیچھے شہر میں لوگوں کے ہجوم میں روپوش ہو گئیں۔ اور سب کچھ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے آنا فانا ہو گیا۔ بعد میں ان آدمیوں کا یہ حال تھا کہ بوکھلائے ہوئے بھاگ بھاگ کر ادھر ادھر ان عورتوں کو ڈھونڈ رہے تھے۔ اور ابو کے پاس آ کر بھی ان عورتوں بارے پوچھا تھا، مگر ابو انجان بن کرایک طرف کھڑے تھے اور انھوں نے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

    اور ایک بار اپنے علاقے میں ہی ابو نے ایک ایسے آدمی کو قابو کیا تھا جو شراب پی کر غل غپاڑہ مچا رہا تھا اور لوگوں کو نقصان پہنچا رہا تھا۔ اور لوگ گروپ کی شکل میں اس پر قابو پانے کی کوشش میں بے حال ہوئے جا رہے تھے۔ اور ابو نے اکیلے اسے زیر کیا تھا۔
    انھیں پتہ تھا کہ کہاں طاقت استعمال کرنی ہے اور کہاں عقل۔

    وہ ایک بارعب انسان تھے
    مگر ان لوگوں کی طرح نہیں تھے جنہیں اپنا آپ منوانے کے لیے دوسروں پر نصیحتوں، روک ٹوک ، تنقید اور لفظوں کا بوجھ ڈالنا پڑتا ہے۔ وہ ایسے انسان تھے جو سازگار ماحول بنا کر پھر اس میں اپنا ایجنڈا لاتے ہیں۔ وہ زرخیز زمین تیار کر کے پھر اس میں پھول کھلانے والے انسان تھے۔ انھوں نے کبھی بے جا روک ٹوک نہیں کی تھی اور اگر کسی بات سے منع کیا تھا تو اس سے ہم نے کبھی انحراف نہیں کیا تھا۔ کیونکہ ہمیں پتہ تھا کہ یہ ہماری بہتری کے لیے ہے۔

    وہ ہمارے لیے ایک اکیڈمی کی طرح تھے۔
    انھوں نے ہمیں زندگی کی بہت سی ترجیحات دیں۔ شکر کرنا، صبر کرنا، قناعت پسند ہونا، زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو انجوائے کرنا۔ وقت کا صحیح استعمال کرنا، دین اور دنیا کو ساتھ لے کر چلنا، اور یہ باتیں انہوں نے بڑے بڑے ڈائلاگ کی صورت ہم تک نہیں پہنچائیں، بلکہ یہ ہمیں خود ان کی ذات میں نظر آتی تھیں۔ جو پھرخود بخود آہستہ آہستہ ہمارے اندر بھی اترتی چلی گئیں۔

    آج میں ان ویلیوز کو خود میں محسوس کرتی ہوں،
    جو مجھے ان کی طرف سے ملی ہیں۔ کہ جو اور جتنا پاس ہو اسی میں طمانیت محسوس کرنا انھوں نے ہمیں سکھلا دیا۔ لائف سٹائل کی دوڑ، لالچ، اور مقابلہ بازی بارے ۔۔۔ غیرمحسوس طریقے سے باور کرا دیا کہ یہ کس طرح بندے کے صبر اور شکر کو ختم کر دیتی ہیں اور سکون جیسی نعمت سے دور کرتی ہیں۔
    روپے پیسے کو انھوں نے ہماری زندگی کی ضرورت بنایا پر طمع لالچ نہیں۔ ایک بار انھیں اپنی جاب کی طرف سے گھر کی فسیلٹی ملی تھی مگر انھوں نے یہ کہہ کروہاں منع کر دیا تھا کہ میرے پاس اپنا ذاتی گھر ہے۔ جبکہ لوگ اپنے ذاتی گھر کے ہوتے ہوئے بھی اس سے فائدہ اٹھایا کرتے تھے۔ امی جان کا دل چاہ رہا تھا کہ جب گھر مل رہا ہے تو جانا چاہیے۔ تو والد صاحب نے بڑے اچھے انداز سے سمجھایا تھا کہ اول تو ہمیں اس گھر کی ضرورت ہی نہیں دوسرا میں کسی اور جائز حقدار کا حق ختم نہیں کرنا چاہتا۔ تو ان کے اس طرح کے فیصلے اور باتیں نہ صرف انھیں ایک اعلی مقام پر پہنچا رہی تھیں بلکہ ہماری تربیت میں بھی شامل ہو رہی تھیں۔

    انہوں نے ہمیں مقابلے کی فضا دی،
    مگر زندگی کے اورمراحل کے لیے۔ زندگی کی سچائیوں اور حقیقتوں کا سامنا کرنے کے لیے، شارٹ کٹ کی بجائے پراپر طریقے سے گول تک پہنچنے کے لیے، اپنے نفس پر قابو پانے کے لیے، اپنی خواہشات کو محدود رکھنے کے لیے،

    میں اس معزز، اعلی و ارفع ہستی کے بارے میں جتنا بھی لکھوں کم ہے۔ وہ تو ایک ۔۔۔ پارس ۔۔۔ ہستی تھے۔ جن کی بدولت بہت سے لوگ رشتہ دار بھی مستفید ہوئے۔ انہوں نے کسی کو تعلیم دلوائی تو کسی کو جاب اور کسی کی مالی مدد کی۔ وہ خود حرف حرف چراغ تھے۔ اوردوسروں کے لیے چراغ سے چراغ جلانے والے انسان تھے۔ اور مجھے اس بات پر بہت فخر ہے خوشی ہے کہ میں اتنے پیارے اور خوبصورت خیالات و عادات رکھنے والے انسان کی بیٹی ہوں۔


  10. #40
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    Quote Originally Posted by سوبی View Post
    سردار جبار احمد خان

    ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ اس میں مضبوطی ایسے ہی رہی ہے جیسے پیپلز پارٹی اور ایم قیو ایم کے تعلق میں آئی ہے۔ سردار جبار کے ساتھ گزارے دن یادوں کی کتاب میں سنہری باب ہیں۔

    ہہاہاہا بہت ہی مزےکا خاکہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے صبیح، یا الف نون پر شک ہے۔
    "There is no market for emotions.
    So,
    Never advertise feelings,
    Just display attitude"

  11. #41
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    Quote Originally Posted by سوبی View Post

    میرے رہبر میرے رہنما
    حرف چراغ تھے۔ اوردوسروں کے لیے چراغ سے چراغ جلانے والے انسان تھے۔ اور مجھے اس بات پر بہت فخر ہے خوشی ہے کہ میں اتنے پیارے اور خوبصورت خیالات و عادات رکھنے والے انسان کی بیٹی ہوں۔

    بہت اچھے سے تعارف کروایا جناب ۔ آپکے فادر کے بارے جان کر بہت اچھا لگا۔۔
    "There is no market for emotions.
    So,
    Never advertise feelings,
    Just display attitude"

  12. #42
    Section Managers

    Join Date
    Feb 2008
    Posts
    20,573
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    ہماری ایک آنٹی ہیں

    ہماری ایک آنٹی ہیں۔ آنٹی امینہ۔ رشتے میں تو وہ اباجی کی دورپرے کی نانی لگتی ہیں مگر گھر میں سب چھوٹے بڑے انہیں آنٹی امینہ ہی کہتے ہیں۔ بڑی سوئیٹ سی ہیں۔ حالانکہ نہ وہ سیرتاً سوئیٹ ہیں نہ صورتاً۔ اور نہ ہی چیونٹیاں انہیں پسند کرتی ہیں۔ پھر بھلا ہم نے کیا میٹھا میٹھا دیکھ لیا ان میں۔

    عمر ستر سال کے قریب ہے اور چہرے پر چہرہ کم لکیریں زیادہ نظر آتی ہیں۔ اگر غور سے دیکھیں تو لکیروں کے بیچ پتلے سے ہونٹ اور ناک کے ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ لیکن ان روشن لکیروں پر دو بادلوں سے ڈھکے آسمان کی رنگت والی صاف شفاف اور ذہین آنکھیں بغیر کسی غوروفکر کے دور ہی سے دکھائی دے جاتی ہیں۔

    تعلق ان کا کَچھ انڈیا سے ہے لہذا زبان بھی کَچھی بولتی ہیں۔ خوبی کی بات یہ ہے انہوں نے اس بولی کو اپنی پوری قدیم روایات اور وقار کے ساتھ زندہ رکھا ہوا ہے۔ بغیر کسی اور زبان کے ساتھ ملغوبہ بنائے بڑی روانی سے سن 1800 کے لہجے میں جب اپنے جاننے والے سے کسی مال یا ہائپر مارکیٹ کے باہر بازپرس اور خیریت دریافت کرتی ہیں تو آدمی وہیں کھڑے کھڑے پچھلی صدی کے کسی گاؤں کے کچے صحن میں پہنچ جاتا ہے جہاں اپلے تھاپتی اورسوکھے گوبر سے بھرے ہاتھ سے دوپٹے کے کونے سے پسینہ پونچھتی ماں اپنی دھی سے ہاتھ لہرا لہرا کر گالیؤں بولیؤں (بات چیت) میں مصروف ہو۔

    قدآور ہیں اور روزوں کی کثرت سے ہڈیوں اور کھال کے بیچ کا فاصلہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس عمر میں بھی چستی کا یہ حال ہے کہ گھر کی لائٹیں پنکھے تک خود ہی لمبے لمبے اسٹولوں پر چڑھ کر ہر دو دن کے بعد رگڑ رہی ہوتی ہیں۔ پھرتیلی ایسی کہ ہرن بھی دنگ رہ جائیں۔
    ہر وقت کچھ نہ کچھ کرتے رہنا ان کی عادت ہے یعنی ہاتھ پاؤں ڈھیلے چھوڑنے سے حتی الامکان اجتناب برتتی ہیں۔ ہاں جو چیز نہیں کرتیں وہ ہے کھانا پکانا، کیونکہ نہ انہیں نہ ان کے اہل خانہ کو کھانے پینے سے رغبت ہے۔ ضرورتا ہی باورچی خانے کا منہ دیکھتی ہیں اور جب کبھی باورچی خانے کو رونق بخشتی ہیں تو ایک دو سبزی اور شوربہ چند روٹیوں کے ساتھ آنا فانا بن جاتا ہے جو کئی دن تک ٹیبل کی زینت بنتارہتا ہے۔

    یہ آنٹی ایک عدد انکل بھی رکھتی ہیں جو پچھلے پچاس سالوں سے باقاعدگی سے فجر کے بعد خود بھی غوطہ لگاتے ہیں اور اپنی انتڑیوں کو بھی دو لیٹر پانی سے لگواتے ہیں۔ جس کی باعث مزاج میں غصہ، بے صبری اور تجسس مفقود ہے۔ ایسے ٹھنڈے ٹھار نرم مزاج کہ آدھی رات کو نیند میں چلتی امینہ آنٹی کو بیرونی دروازے سے باہر جانے کے لئے آہستہ سے چٹخنی خود ہی گرا دیں اور بے آواز قدموں سے، اپنی آدھی بہتر کے لڑکھڑانے اور گرنے کے ڈر سے پیچھے پیچھے خود بھی نیند میں چلتے رہیں۔

    سن اٹھاسی میں بیٹی کی رخصتِ ولایت کے بعد جب بیٹے نے بھی داغِ کینیڈا دیا تواپنے قدموں پر کھڑے رہنے کی ٹھانی۔ دل کو دہلیز پر کھڑے تنہا بڑھاپے سے نمٹنے کے لئے مضبوط کیا اور زندگی کی بدمست حقیقتوں کو آڑے ہاتھوں لینے کا فیصلہ کیا۔ جن پر اب تک من وعن قائم ہیں۔ لیکن کبھی کبھی اتنے آڑے ہاتھوں لیتی ہیں کہ جب دوسال بعد بیٹے نے ماں کی پسند کی ہوئی لڑکی کو ٹھکرا کر ٹورنٹو کے بزنس ٹائکون کو اپنا ہاتھ گھرجوائی کی صورت میں دیا تو رخصتی کے وقت ساس محترمہ کھلی بگھی میں کھلے سر اور ہیرے موتیوں سے لدی اپنی بیٹی کو رخصت کرا کے آنٹی امینہ سے ٖفخریہ انداز میں فرماتی ہیں۔
    "ایسی شادی کیا ہی کسی نے دیکھی ہو گی!" اس پر آنٹی امینہ نے اپنی فطری سادگی اور لہجے میں کہا "رب کسی کو ایسی شادی نہ دکھائے مر کر اپنے سوہنے نبی ص کو کیا منہ دکھائیں گے۔"

    بیٹے کی جدائی سے جب ٹوٹنے لگی تھیں تب انکل نے آنٹی امینہ کے مزاج کو دیکھتے ہوئے انہیں کھڑ کھڑ کرتی ہوئی سیکنڈ ہینڈ واکس ویگن بیٹل خرید کردی۔ ساتھ میں یہ بھی کہا کہ بیگم بے فکر رہو جتنا غصہ ہو اس پر نکال دیا کرو۔ ہائے بیچارے ٹھنڈے ٹھار انکل کیا جانیں کہ غصہ کس طرح نکالا جارہا ہے۔
    وہ تو ہر آنے جانے والوں کو ہمیشہ کہتی ہیں کہ ماشاءاللہ اللہ تعالٰی نے انہیں بہت اچھے حافظے سے نوازا ہے۔ مگرجب بیچ سڑک گاڑی روک کر اپنا روتا ہوا موبائل اٹھاتی ہیں تب وہ یہ بالکل بھول جاتی ہیں کہ پیچھے ہزاروں کی ٹریفک کا اژدہام ہے۔ دوسرے گاڑی سوار ایک معمر خاتون کو پہلے پیار سے چھوٹا سا ہوٹ، پھر کانوں کو چیرتا ہوا ہارن پھر غصے کی انتہاء سے گالم گلوچ اور آخر میں بے بس نظروں سے دیکھتے ہوئے ہاتھ پیر جوڑ رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں آنٹی امینہ تو ٹس سے مس نہیں ہوتیں مگر ان کے ساتھ بیٹھا بندہ شرمندگی سے سیٹ کے نیچے گڑ جانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ اکثر فون کرنا بھی انہیں ریڈ سگنل پر یاد آتا ہے جو کہ دوبارہ سگنل ریڈ ہونے تک جاری رہتا ہے۔ ایسے میں اگر پیچھے سے کوئی ہوٹ کر کے گاڑی آگے بڑھانے کی گزارش کر دے تو غصے سے اسے ہاتھ کے اشارے سے گاڑی سمیت اڑ کر گزرنے کا مشورہ دیتی ہیں۔
    بڑے سے بڑا اسپیڈ بریکر بھی ان کی بیٹل کی رفتار کے آگے دیوار نہیں بن سکتا جتنی اسپیڈ سے وہ آئیں گی اتنی سپیڈ پر ہی اڑ کر پار لگیں گی۔

    ایک بار ہم بھی گاڑی میں ساتھ تھے اوراسپیڈ بریکر پر پرواز کے بعد جب گاڑی لینڈ ہوئی تو ایک ذرہ برابر شرمندہ ہوئے بغیر بولیں "آہ! بھولائی جی ویو" (اوہ! بھول گئے)۔ خود تو سیٹ بیلٹ میں مقید تھیں مگر پچھلی سیٹ پر گاڑی کے ساتھ ساتھ ہمارے انجر پنجر بھی ہل کر رہ گئے۔ تب ہم نے اپنا سر اور کمر سہلاتے ہوئے ان سے پوچھا۔ آنٹی امینہ آپ کو موت سے ڈر نہیں لگتا؟ تو کہنے لگیں۔ "میں موت کے لئے بالکل تیار ہوں۔ دنیا میں جو دیکھنا چاہتی تھی سب مالک نے دکھا دیا۔ پوتے اور نواسے کی خواہش تھی وہ بھی پوری ہوئی۔ اب سوہنا رب جب چاہے بلا لے"۔ ہم نے سوچا لیکن ہم کیوں مفت میں جائیں انہیں جلدی ہو لیکن ہمیں ابھی کوئی جلدی نہیں۔ بس اس کے بعد سے ہم نے ان کی گاڑی کو معاف رکھا۔

    کچھ دن قبل ہماری ان سے مسجد میں ملاقات ہوئی ۔ تب وہ ولایت سے نئی نئی اپنی نواسی کے جنم پر بیٹی سے ملکر واپس آئی تھیں۔ سلام دعا کے بعد ہر بار کی طرح گھر تک لفٹ کی آفر کی۔ ہمارے ہاتھ دبانے پر امی نے چوں چراں کرنا چاہا مگر فوراً ہی ڈانٹ پڑی کہ گاڑی گھر تک خالی جائے گی اور ٹیکسیوں میں پیسوں کا اصراف ہو گا۔ ناچار جانا پڑا۔ راستے میں اپنے ولایت کے سفرکا حال احوال سنانے لگیں۔ نواسی کی پیدائش پر جہاں خوش تھی وہاں غمگین بھی کہ جنازے کی رونق تو بیٹیاں ہوتی ہیں آج میں مر جاؤں تو بیٹی دور ماں کی میت دور۔ امی بولیں میں بھی تو بیٹی ہی ہوں آپ کی۔ تو دعائیں دیتے ہوئے کہنے لگیں اللہ سوہنا دوجے راستے کھول دیتا ہے جو اگر ایک بند ہو جاتا ہے۔ لیکن دوسرے ہی لمحے ہمیں لتاڑنے لگیں کہ مسجد میں کیوں کم کم دکھائی دیتی ہو۔ ساچی گال ڈِٹھو تو ہیور جا چھوکرا تے چھوکریوں کمپیوٹر پٹھیاں لگیا آئن۔ (سچ بات دیکھی جائے تو آج کل کے لڑکے اور لڑکیاں سب کمپیوٹر کے پیچھے لگے ہوئے ہیں)۔ آخرت جئی کوئی فکرج نہ آئین۔ (آخرت کی کوئی فکر ہی نہیں)۔ ۔وہ منہ ہی منہ میں اپنی بولی میں بڑبڑائے جا رہی تھیں۔ اور ہم سوچ رہے تھے لو بھئی اپنی بیٹی کی غیر حاضری کا غصہ ہم پر نکالا جا رہا ہے۔ لیکن
    ان سب باتوں کے باوجود وہ ہمیں اچھی کیوں لگتی ہیں۔ وہ اس لئے کہ وہ دنیا کو دیکھنے اور پرکھنے کے بعد بھی سادہ فطرت ہی رہیں۔ رشتوں کی پروا کئے بغیر سیدھی اور سچی بات ہی کہی۔ اکیلے ہونے کے باوجود اپنے حال میں مست۔ اپنے ہر فعل کی خود ہی ذمہ داری بھی لی اور حتی الامکان دوسروں سے امیدیں لگانا چھوڑ دیں۔ بس ساری امیدیں ایک ہی وحدہ لاشریک سے جو لگاچکی تھیں۔
    اب بتائیے کیسی لگیں آپ کو ہماری آنٹی امینہ۔

  13. #43
    Section Managers

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    21,997
    Mentioned
    5 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    السلامُ علیکم
    فوزان آپی کی طرف سے ۔ ۔ ۔ ۔ خاکہ نگاری کے مقابلے میں کچھ رنگ بھرنے کے لئے۔
    فوزان آپی کا شکریہ





    ماموں مکھن



    یہ پہلے وقتوں کی بات ہے جب اماؤں کے سب کزن ماموں اور اباؤں کے سب کزن چچا کہلواتے تھے۔ ایسے ہی وقتوں میں ہمارا پالا بھی ماموں مکھن سے پڑا۔۔۔۔ بظاہر تو ماموں مکھن میں کافی بہتری آ چکی تھی مگر ان کے کچھ علاقائی شہرت یافتہ واقعات اب بھی زبان زد عام تھے۔ ماموں مکھن کا اصل نام تو کچھ اور تھا مگر بچپن میں ان کی سرخ سفید رنگت کی وجہ سے انہیں مکھن کہا جاتا تھا۔ بڑے ہونے کے بعد بھی یہی عرف عام جاری رہا، اگرچہ انکا سرخ و سفید رنگ کچھ تو انکی سیاہ کاریوں (جنکا ہم یہاں ذکر نہیں کریں گے کہ آخر کو تو جگت ماموں ہیں) اور کچھ دھوپ میں پھرنے کی وجہ سے سانولا چکا تھا۔


    ماموں مکھن بچن سے ہی کچھ کریکٹر ایکٹر تھے۔۔۔۔ سنا ہے بچپن میں اپنی اماں، ممانی، خالہ، وغیرہ کے ساتھ فلم دیکھنے گئے تو واپسی پر ایک ایک کھنبے اور درخت سے لپٹ لپٹ کر روئے کہ "میں تے اوسے فلم والی کول جانا اے" یعنی میں نے تو فلم والی کے پاس جانا ہے۔ اور ذرا بوجھو تو جانیں کہ وہ فلم والی کون تھی؟ جی اپنی "میڈم نور جہاں" اور فلم تھی "جگنو"۔۔۔۔یعنی ہمارے ماموں مکھن تو اعجاز درانی کو کب کا پیچھے چھوڑ چکے تھے اور وہ بچارا تو لاعلمی میں ہی خود کو میڈم کا سب سے کامیاب عاشق سمجھتا رہا۔ نانی بتاتی ہیں کہ ماموں مکھن کی وجہ سے بڑا پھڈا ہوا اس دن۔۔۔۔اس دن گھر کی خواتین مشہور زمانہ فلم "جگنو" کا پہلا شو مردوں سے چھپ کر دیکھنے نکلی تھیں اور گھر کے مرد خواتین کو بتائے بغیر گھر سے غائب تھے۔ جب ماموں مکھن کی آہ و بکاہ نے سب کو اپنی طرف متوجہ کرنا شروع کر دیا تو آخر کاران کے ایک بڑے خالہ زاد سے رہا نہ گیا اور ہجوم میں سے نکل کر ماموں مکھن کو دو جھانپڑ بھی رسید کیے اور کھنبے کا پیچھا بھی ان سے چھڑایا۔۔۔۔ہاں یہ الگ بات ہے کہ اس بچپن کے عشق کے چکر میں گھر کے بھیدوں کی ہانڈی چوراہے میں پھوٹی!


    ماموں مکھن کو جہاں بچپن میں نورجہاں سے عشق ہوا، وہیں یہ جان کر کہ وہ انکی پہنچ سے دور ہے، ان کا دھیان اپنے گھر میں پالی ہوئی مرغیوں کی طرف چلا گیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ان میں اور مرغیوں میں تفریق کرنا مشکل ہو گیا۔ہوا یوں کہ ایک دن انکی اماں کو دڑبے میں عجیب سی کھبلی محسوس ہوئی اور ساتھ میں "کٹ کٹ" کی آواز بھی آئی۔۔۔۔آواز کچھ ایسی تھی جیسے مرغی کے گلے میں کچھ پھنس گیا ہو۔انہوں نے گبھرا کر دڑبہ کھولا تو دیکھا کہ ماموں مکھن توڑی کے ڈھیر پر پاؤں کے بل بیٹھے ہیں اور بڑی مشکل میں ہیں، مگر منہ سے کٹ کٹ کی آواز لگاتار نکال رہے ہیں۔ انکی اماں نے پوچھا یہ کیا کر رہے ہو۔۔۔۔فرماتے ہیں "انڈے دے رہا ہوں۔۔۔۔ابھی تھوڑی دیر بعد آنا ، اماں۔۔۔۔!"


    ماموں مکھن جیسے جیسے بڑے ہوئے، انکی عقل و لیاقت کے ڈنکے دور دور تک بجنے لگے۔ یہ دور دور انکے گھر سے لیکر سکول سے لیکر گاؤں تک تھا۔ ایک دفعہ اردو کے استاد نے امتحان کے دوران صحت پر مضمون لکھنے کو کہا تو یہ ایک جملہ لکھ کر آ گئے۔۔۔۔"جان ہے تو جہان ہے ، پیارے!" ماسٹر صاحب نے ان کا حل کیا یہ پرچہ میرے نانا یعنی ماموں مکھن کے ماموں کو بھجوا دیا کہ وہ بھی بھانجے کے علم و فن سے لطف اندوز ہوسکیں۔ ایسی ہی ایک غلطی ماموں مکھن کے انگریزی کے استاد نے بھی کر ڈالی۔۔۔۔غلطی سے انہوں نے ماموں سے کہہ دیا کہ ایک جملے کا انگریزی میں ترجمہ کرو۔ جملہ تھا "میری میز ٹوٹ گئی ہے۔" ماموں مکھن گبھرا کر کھڑے ہو گئے اور فرمایا "میڈھا جو ڈسک ترٹ ونجھے، میکوں تاں چٹی پے گئی ناں" یعنی اگر میرا ڈیسک ٹوٹ گیا تو مجھے اسکا جرمانہ پڑ جائے گا۔ انگریزی کے ماسٹر صاحب عرصہ دراز تک اس ملتانی ترجمے میں ایک انگریزی کے لفظ کی گہرائی اور گیرائی کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہے۔


    مزے کی بات تو یہ ہے کہ ماموں مکھن نے نہ ساری زندگی کچھ کیا اور نہ ہی اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی کوشش کی۔۔۔۔ساری زندگی باپ کی جائیداد کے ملنے کے انتظار میں دن میں بھی خواب دیکھتے رہے۔۔۔۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ ان کے خواب پورے بھی ہو گئے۔۔۔۔ان کے والد جو ملک سے باہر رہتے تھے اور انکو پوچھتے بھی نہیں تھے، اپنی بیماری کے بعد اپنی پاکستان میں موجود ساری جائیداد ماموں مکھن کے نام کر گئے۔۔۔۔آجکل ماموں مکھن کی پانچوں مکھن سے بنے گھی میں ہیں اور سر مرغ کڑہائی میں۔۔۔۔ انکی ذاتی ڈائری میں سے ایک اقوال زریں۔۔۔۔روزانہ کا حساب کتاب لکھتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں۔۔۔۔"چکن بروسٹ۔۔۔۔۔ساٹھ روپے۔۔۔۔عیش"۔۔

    *****

    اے کشور ذرا میری لالچ تو دیکھو
    سوالی ہوں قلب کشادہ کے آگے!!!!۔


    *****


  14. #44
    Section Managers

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    21,997
    Mentioned
    5 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    Quote Originally Posted by سوبی View Post
    سردار جبار احمد خان



    سردار جبار سے ہماری پہچان اس دور کی ہے جب ہم دونوں پوتڑے زیبِ تن کیے فرش پر لڑھکا کرتے تھے۔ اسی دور میں مجھے کچھ عرصہ ان کا پنگھوڑہ فیلو ہونے کا بھی شرف حاصل رہا۔ مصیبت کبھی اکیلے نہیں آتی اسی لیے ہم دونوں آگے پیچھے ہی زمین پر ٹپکے، لیکن اس سے یوں مت سمجھیے کہ پنگھوڑے سے ہی خطاب کر رہا ہوں۔ اب ہم دونوں نوجوانی سے پھسل کر جوانی میں گر چکے ہیں اور سنبھلنے کی کوشش قطعی نہیں کر رہے!
    سب سے پہلے تو مصنف یا مصنفہ جو بھی ہیں بہت بہت مبارک باد قبول فرمائیں اتنی عمدہ تحریر لکھنے پر۔
    اس کے بعد بہت شکریہ اتنی اچھی تحریر لکھ کر دل خوش کر دیا;d;d۔
    بہت ہی زبردست اور پُر مزاح تحریر۔ ۔ ۔ ۔
    ویسے مصنف صاحب برا نہ مانیں تو ۔۔۔۔۔ مجھے تو صبیح بھائی کی فنکاری لگ رہی ہے;d۔

    *****

    اے کشور ذرا میری لالچ تو دیکھو
    سوالی ہوں قلب کشادہ کے آگے!!!!۔


    *****


  15. #45
    Senior Member Sabih's Avatar

    Join Date
    Jun 2009
    Posts
    10,466
    Blog Entries
    11
    Mentioned
    19 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    السلام علیکم
    یہ خاکہ ٹرومین پاءجی پر کافی عرصہ قبل لکھا تھا اور باہر فرنٹ پر پوسٹ کیا۔ لیکن مقابلے کے میزبانوں کا کہنا ہے کہ یہاں بھی پوسٹ کروں تاکہ تھوڑا ماحول میں تھوڑی مسکراہٹوں کی ملاوٹ ہو سکے۔ ۔ ۔
    ویسے اگر پڑھ کر ہنسی نہ آئے تو معافی۔ ۔ ۔ لیکن یہ خاکہ اس وقت لکھا جب مجھے یہ بھی علم نہیں تھا کہ خاکہ نام کی کوئی چیز بھی پائی جاتی ہے۔ لہٰذا غلطیوں کی معافی۔




Page 3 of 7 FirstFirst 12345 ... LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •