Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Page 2 of 7 FirstFirst 1234 ... LastLast
Results 16 to 30 of 99

Thread: خاکہ نگاری کا مقابلہ

  1. #16
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Location
    Kharian, Gujrat, Punjab, Pakistan
    Posts
    2,500
    Blog Entries
    4
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Durre Nayab View Post
    ایک ممبر کتنے خاکے سبمٹ کر سکتا ہے؟
    ایک ممبر زیادہ سے زیادہ دو تحاریر دے سکتا ہے۔
    "Tolerance means to bear pain and hardships with patience"

  2. #17
    Section Managers

    Join Date
    Feb 2008
    Posts
    20,573
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    Quote Originally Posted by کائنات View Post
    ارے بھئ۔۔۔ تیسرا دن ہو گیا ہے مقابلہ شروع ہوئے ۔۔۔۔
    اور یہاں تو ابھی تک کوئی دھواں ہی نہیں ۔۔۔ تو آگ کیسے سلگے گی ؟
    کم از کم میزبانوں کو تو یہاں ہونا چاہیئے۔۔۔۔۔ اور مہمانوں کو بلاتے رہنا چاہیے۔۔۔۔
    ویسے ممکن ہے ۔۔۔۔ میزبان خود ۔۔۔۔ خاکہ لکھنے میں مصروف ہوں۔


    ویسے تین لوگوں نے تو مجھ سے کہا ہے کہ وہ لکھ رہے ہیں خاکہ۔
    تو آپ دیکھنا یہاں اک دم آگ بھڑکے گی ہی ہی ہی۔
    ویسے آپی آپ کہاں تک پہنچی ہے فٹافٹ لکھ بھیج دیں ہم۔
    اورباقی ممبران سے بھی گزارش ہے کہ اپنی اپنی کوشش جاری رکھیں۔
    انشاءاللہ کامیابی حاصل ہو گئ
    ۔

  3. #18
    Section Managers

    Join Date
    Feb 2008
    Posts
    20,573
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    ون اردو کی اک شخصیت پر یہ خاکہ ملاحظہ کریں۔ اور زرا بوجھیئے بھی کہ یہ کس شخصیت پر ہنرآزمائی کی گئی ہے۔ہی ہی ہی
    یہ خاکہ مقابلے میں شامل نہیں ہے۔


    اک شخصیت

    ہاہ۔ ۔ ۔ ۔ خاکہ لکھنے کو قلم اٹھایا ہی تھا۔ ۔ ۔ ۔ کہ ورق سے آنے لگی صدا۔ ۔ ۔ حد ادب ارے بے ادب۔ ۔ ۔ ۔
    اٹھ کر تو کیوں نہ کھڑی ہوئی
    چل اٹھ کے کر فرشی سلام ۔ ۔ ۔ ۔ اور ادب سے لے پھر اس کا نام۔ ۔ ۔
    ارے سوری سوری میں نے تو شاعری شروع کر دی۔ ۔ ۔ہی ہی ہی ۔ ۔ ۔ آج میں نے خاکہ لکھنے کی کوشش کی۔ ۔ ۔ پہلےتو کوئی موزوں امیدوار ہی نہ ملتا تھا اور جب خوب سے خوب تر کی جستجو میں نظر ٹھہری تو ایسا ممبر ہاتھ لگا جو نایابیت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ ۔ ۔ اور اتنا ناپید ہے کہ بعض اوقات تو خود کو بھی کہیں رکھ کر بھول جاتا ہے اور پھر اپنے ہی تلاش گمشدہ کے اشتہارات لگاتا پھرتا ہے۔ ۔ ۔ سنا ہے ان کے گھر والوں ان کا علاج ایک ڈنڈے کی صورت میں نکالا ہے۔ ۔ ۔
    جب بھی گم ہو جائیں ایک ڈنڈا کھانے کے بعد فوراً یاد آ جاتا ہے کہ کدھر رکھ آئے تھے خود کو۔ ایک بار تو خود کو سکول میں ہی بھول آئے۔ ۔ ۔ اور آگے ویک اینڈ آ گیا۔ ۔ ۔ تو سارا ویک اینڈ اپنے بغیر ہی گزارا۔
    نیلا رنگ پسندیدہ ہے اور نیل کنٹھ پسندیدہ پرندہ۔ ۔ ۔پسندیدہ مچھلی نیلی وہیل۔ ۔ ۔ ہم نے پسندیدہ جانور نہیں پوچھا امید ہے کہ نیل گائے ہی ہو گا۔
    شاعری کے از حد دلدادہ ہیں۔ ۔ ۔ ۔ اور شاعری میں تخصیص کے قائل نہیں۔ ۔ ۔
    ٹرکوں اور رکشوں پر لکھے ادبی نمونوں میں غالب و میر تلاش لیتے ہیں۔
    شکاری پڑھنے آئے تھے اور خود ہی شکار ہو کر یہاں رہ گئے۔ ۔
    علم کے سمندر میں کافی دور تک غوطہ خوری کر چکے ہیں۔ اور وہ بھی بغیر آکسیجن کےٹینک کے۔ ۔ ۔ ۔ ایک بار غوطہ خوری کر رہے تھے کہ علمی مچھلیوں کی پولیس نے گرفتار کر لیا اور زبردستی اپنی یونیورسٹی میں داخلہ دے دیا۔ ۔ ۔
    جس کی بدولت زبردستی اعداد کی جادوگری سکھلائی گئی۔ ۔ ۔
    زمبابوے کا دورہ کرنے کے ازحد شوقین ہیں۔ لیکن وہاں کے گینڈے ان کو ویزہ دینے پر تیار نہیں۔ ایک بار پھر بھی ٹرک پر چھپ چھپا کر پہنچ گئے لیکن امیگریشن والا گینڈا کچھ عرصہ پاکستان میں رہ چکا تھا اسے شک ہو گیا۔ ۔ ۔ اس نے ایک ٹرک پر لکھا شعر غلط پڑھا۔ اب یہ ٹھہرے ٹرکیاتی حافظ۔ فورا تصحیح کی۔ ۔ ۔ بس پھر کیا تھا گینڈے نے اسی وقت ڈسپیچ کی مہر لگائی اور اگلے ٹرک پر ملک واپس۔
    بریانی موگرہ موتیا اور ٹیوب روز کھانے کے شوقین ہیں۔ ۔ ۔ ان کی وجہ سے بہت سی فلاور شاپس کو یہ بورڈ لگانا پڑا کہ یہاں بکے بنائے جاتے ہیں موتیا چاٹ نہیں۔
    ڈرتے ورتے کسی سے نہیں ہاں اگر کبھی کوئی چوہا ہاؤ کر دے تو چیخیں روکنا ذرا مشکل ہو جاتا ہے۔ ۔
    جن ڈھونڈنے میں ملکہ حاصل ہے۔ ۔ ۔ جناتی سی آئی اے اکثر مفرور جنوں کو تلاشنے میں ان کی مدد لیتی رہتی ہے۔ ۔ ۔ پچھلے ہی دنوں رئیل بیکری سے چند مفرور جنوں کو پکڑوا کر تمغہ حسن جناتی کارکردگی حاصل کر چکے ہیں۔

    اب ذرا ڈھونڈئیے کہ یہ کون حضرت ہیں۔ ۔ ۔ جس کو مل جائیں فورا یہاں پیش کریں۔ ۔ ۔
    پوائنٹی انعام دیا جائے گا۔ ۔


    تحریر

    (صبیح الحسن)

  4. #19
    Site Managers Meem's Avatar

    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Bora Bora
    Posts
    51,071
    Mentioned
    22 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    اوہو یہ تو کچھ سنے سنے مطبل دیکھے دیکھے صاحب لگ رہے ہیں۔;d;d;d

    If you start believing that you're happy, you'll be happy forever

  5. #20
    Senior Member Sabih's Avatar

    Join Date
    Jun 2009
    Posts
    10,466
    Blog Entries
    11
    Mentioned
    19 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    مجھے تو ہما آپی یا ساحرہ آپی لگ رہی ہیں۔ ۔ ۔ ۔
    کیوں جی۔ ۔ ۔۔ ۔؟؟؟???

  6. #21
    Senior Member

    Join Date
    Jan 2008
    Posts
    29,003
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    ساحل

    وہ چارہ گر مرے زخموں کو چھیڑنے والا
    دوا کو چھوڑ کے دینے لگا دعائیں مجھے

  7. #22
    Diya
    Guest

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    بہت مزے کا خاکہ ہے سوبی۔۔

    مندرجہ بالا تمام خصوصیات ساحل بھائی پر ہی فٹ آتی محسوس ہو رہی ہیں۔;d

  8. #23
    Section Managers

    Join Date
    Feb 2008
    Posts
    20,573
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    یہ خاکہ صرف اور صرف تھوری تفریح کے لیے پوسٹ کیا گیا ہے۔
    تمام ممبران سے گزارش ہے مقابلے کے لیے لکھیں۔

  9. #24
    Section Managers Kainat's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    Germany
    Posts
    14,437
    Blog Entries
    18
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    مجھے تو اس خاکہ میں ۔۔۔یازغل بھائی ۔۔۔۔ لگ رہے ہیں۔ پوائنٹ تیار رکھیے گا۔
    میں جن راستوں سے گزر جاتا ہوں ایک بار
    مڑ مڑ کے وہ نظارے بلاتے ہیں بار بار

  10. #25
    Senior Member

    Join Date
    Feb 2009
    Posts
    670
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    میرا ایک سوال ہے،خاکہ ون اردو کے ممبر کا نا ہو۔کسی مشہور شخصیت کا ہی ہو ،جسے سب جانتے ہوں یا کوئی بھی ایسا شخص جسے آپ جانتے ہیں؟

    اور اگر دوسرے آپشن کے ساتھ آیا جا سکتا ہے تو ایسی صورت میں خاکوں کی ججنگ پہ فرق تو نہیں آئے گا کیونکہ

    ایک خاکہ جج کیا جائے گا کہ اچھا یہ انکا خاکہ ہے تو کس حد تک درست ہے

    اور دوسرا پتا نہین کس کا ہے لیکن خاکہ کس کیسا ہے؟
    غیر معینہ مدت کے لیے غیر حاضر

    WAITING FOR SUPERMAN

  11. #26
    Senior Member

    Join Date
    Mar 2009
    Posts
    2,765
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    نہیں جی شخصیت کو تو نہیں جج کیا جائے گا۔ تحریر کو، اس کی خوبیوں خامیوں کو دیکھا جائے گا۔ یا یہ کہ کتنی اچھی طرح اس کی تصویر کشی ہوئی ہے۔ اور اسکے لیے ون اردو کے لوگوں کے علاوہ کسی کو بھی چن سکتے ہیں۔

  12. #27
    Section Managers

    Join Date
    Feb 2008
    Posts
    20,573
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ



    استاد جی

    استاد جی سے ہماری اولین ملاقات،
    انتہائی غیر رسمی اور غیر روائتی حالات میں ہوئی۔ یہ ملاقات اس دور میں ہوئی جب ہم نہ تو ان کے نام سے واقف تھے اور نہ ہی کام سے۔ یہ ملاقات کرکٹ کی پچ پر ہوئی۔ ایک دن ہم میچ میں مصروف اور فیلڈرز کی کمی کا شکار تھے کہ ایک نوجوان سا شخص جینز اور ٹی شرٹ پہنے، جاگرز چڑھائے آیا اور ہمارے کھیل میں شریک ہونے کا متمنی ہوا۔ ہم نے فیلڈرز کی کمی کو دیکھتے ہوئےحامی بھر لی۔ کچھ دیر کے بعد اس کی بیٹنگ آ گئی۔ پھر جو اس نے آگے بڑھ بڑھ کر ہم پر چوکوں اور چھکوں کی برسات کی تو جاوید میانداد کی یاد تازہ کر دی۔ پہلے پہل تو ہمیں غصہ آیا جو دھیرے دھیرے پریشانی میں تبدیل ہو گیا کہ اسے آؤٹ کیسے کیا جائے۔ ڈیڑھ گھنٹے تک جب ہم اسے آؤٹ کرنے میں ناکام رہے تو مجبوراً کھیل کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔

    وہ نوجوان مسکراتا ہوا آیا اور بیٹ ہمارے حوالے کیا۔ ہمیں اس کی مسکراہٹ میں طنز جھلکتا محسوس ہوا اور ایک غیرت مند کپتان کی طرح ہم نے اگلے دن اس کی باری پوری کرنے کا اعلان کیا۔ لیکن وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا کے مصداق ہم اگلے دن تو کیا بلکہ اگلا پورا ہفتہ سکول کے قریب بھی نہ پھٹکے۔ اس کے بعد ہم وقتاً فوقتاً سکول کھیلنے جاتے رہے لیکن وہ نوجوان ہمیں دوبارہ نظر نہ آیا۔ لیکن نہ جانے کیا بات تھی کہ گزرتے لمحات کی دھول ان یادوں کو کبھی گردآلود نہ کر سکی۔

    وقت کا پہیہ چلتا رہا ۔۔۔۔
    اور ہم تعلیمی منازل طے کرتے ہائی سکول میں پہنچ گئے۔ ایک دن کلاس میں بیٹھے گپیں ہانک رہے تھے کہ ہمارے کلاس انچارج کسی کی بانہہ پکڑے مسکراتے ہوئے کلاس میں داخل ہوئے۔ ہم نے سر اٹھا کر دیکھا تو آنکھوں کے آگے پٹاخے سے پھوٹتے محسوس ہوئے۔ انچارج صاحب کے ساتھ وہی نوجوان کھڑا مسکرا رہا تھا۔ انچارج صاحب نے اس کا تعارف سائنس ٹیچر کے طور پر کرایا۔ اور مسکراتے ہوئے ان سے کلاس کا ٹیسٹ لینے کا کہا۔ وہ مسکرایا اور اس نے جیب سے دس روپے کا نوٹ نکال کر لہرایا۔ ایک اردو کا فقرہ بول کر اس کا انگلش ترجمہ پوچھا۔ لڑکے بڑھ چڑھ کر ہاتھ کھڑا کر رہے تھے جبکہ ہم ڈیسک کے نیچے گھسنے کی فکر میں غلطاں تھے۔ ابھی ہم اس صورتحال سے نکلنے کا کوئی حل سوچ ہی رہے تھے کہ ان کی نگاہ ہم پر پڑی اور ٹک کر رہ گئی۔ چہرے پر شناسائی کے رنگ بکھر گئے۔ ہمارا دل یکدم دھڑکنے لگا کہ اگر سب کے سامنے اس نے اپنی باری مانگ لی تو پھر۔ ۔ ۔ ۔ لیکن انہوں نے مسکراتے ہوئے ہماری جانب اشارہ کیا۔ ہم نے لرزتی ٹانگوں کے ساتھ اٹھ کر الٹا سیدھا جواب دیا۔ وہ مسکرائے اور نوٹ ہماری جانب بڑھا دیا۔

    اس دن ہم پر یہ راز عیاں ہوا کہ ہماری کرکٹ کی پچ پر ایسی کی تیسی کرنے والا یہ نوجوان دراصل سائنس کا استاد تھا اور نہم اور دہم جماعت کو پڑھایا کرتا تھا۔ ہم نے پکا ارادہ کر لیا کہ نویں سے قبل ہی سکول کو خیرباد کہہ جانا ہے۔ لیکن کیا پتہ تھا کے اگلے چند ماہ میں ہی ان کی شخصیت کچھ یوں ہمیں اپنے سحر میں گرفتار کرے گی کی ساری زندگی اس سے آزاد نہ ہو پائیں گے۔


    نہم میں آنے کے بعد ہم نے استاد جی کی اکیڈمی بھی جوائن کر لی۔ اور اس دوران ان سے ایسا تعلق بنا کہ صبح سے شام تک فقط چند گھنٹے گھر کی شکل دیکھتے۔ اس دوران ان کی ذات کو قریب سے جاننے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ اور اس قربت نے ان کے کئی رنگ ہماری ذات کی تصویر میں بھی منتقل کیے۔


    استاد انتہائی متاثر کن شخصیت کے مالک تھے۔ لانبا قد، چھریرا بدن، صاف رنگت اور جدید تراش خراش کے مطابق کٹے قدرے لمبے گھنیرے بال ان کو ایک منفرد کشش عطا کرتے۔ چہرے کے قدرے تیکھے نقوش اور لبوں پر سجی اک مہربان سی مسکراہٹ مقابل کو بات کرنے سے قبل ہی مسحور کر چکی ہوتی۔ الفاظ اور لہجہ دونوں ملاحت اور ٹھراؤ لیے ہوتے۔ چہرے پر سجی ہلکی سی مونچھیں انہیں بارعب سی شبیہہ دیتیں۔ اپنی بھوری گہری آنکھوں سے جب وہ شاگردوں کو گھورتے تو ان کی نظریں دلوں کے بھید پڑھتی محسوس ہوتیں۔

    لباس کے معاملے میں استاد جدید سوچ رکھتے تھے۔ اکثر اوقات جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس نظر آتے لیکن کبھی کبھار شلوار قمیض کو بھی رونق بخشتے۔ ان کا لباس ہمیشہ صاف ستھرا اور شاندار ہوتا۔ ہمہ وقت خوشبوؤں میں رچے بسے رہتے۔ ان کا رواں رواں نفاست اور اعلیٰ ذوق کی کہانی بیان کرتا۔ کھانے کے معاملے میں سادگی پسند تھے۔ اور ہم نے انہیں کبھی کسی کھانے پر ناک بھوں چڑھاتے نہیں دیکھا۔ لیکن طعام کے اوقات کی ترتیب بہت گڑبڑ تھی۔ بسا اوقات پورا پورا دن کھانے کا نام نہ لیتے۔ یہی حالت ان کی نیند کی تھی

    مختصر خاندان اور غیر شادی شدہ ہونے کی بدولت گھریلو جھمیلوں سے آزاد تھے۔ اس اس آزادی کا بھرپور فائدہ بھی اٹھایا کرتے۔ یا تو شاگردوں سے گھرے رہتے اور فارغ ہوتے ہی کسی رفیق کو پکڑتے اور شہر کی سیر کو نکل جاتے۔

    استاد کو پڑھانے سے عشق تھا۔ اور یہ پیاس ایسی تھی کہ سارا دن سکول میں گزارنے کے بعد بھی تشنہ رہتی۔ سکول کے بعد اکیڈمی اور پھر دن ڈھلتے ہی شاگردوں کو ساتھ لیے سکول کے گراؤنڈ میں جا دھمکتے۔ سکول کی باسکٹ بال ٹیم کے انچارج بھی تھے اور اچھے کھلاڑی بھی۔ اندھیرا چھانے تک باسکٹ بال جاری رہتا اور اس کے بعد مختصر سی بریک۔ جس کے بعد شاگرد پھر استاد جی کے گھر جا بیٹھتے۔ پھر جو محفل جمتی اس کا زور رات کو دس بجے کے بعد ہی ٹوٹتا۔

    استاد سکول میں تو سائنس پڑھاتے تھے۔ مگر ادب میں بھی ان کو ملکہ حاصل تھا۔ جس کی بدولت شاز ہی شاگردوں کے سوالات تشنہ لبی کا شکار ہوتے۔ بیان کرنے کا انداز سادہ اور عام فہم ہوتا۔ اور کم ہی ایسے مواقع ہوں گے جب ان سے بحث کرنے کے بعد شاگرد مطمئن نہ ہوئے ہوں۔ بطور استاد ان کی ذات بہت سی صفات کا مجموعہ تھی۔ وہ بیک وقت ایک سخت گیر معلم بھی تھے اور ایک مہربان دوست بھی۔ کوتاہی پر مارتے بھی اور چند لمحوں بعد کوئی چٹکلا سنا کر مسکرانے پر بھی مجبور کر دیتے۔ تمام سال نہ خود چھٹی کرتے اور نہ کرنے دیتے۔ لیکن جب چھٹیاں دیتے تو شاگردوں سے وعدہ لیا کرتے کہ وہ ان دنوں میں کتابوں کو ہاتھ بھی نہیں لگائیں گے۔

    استاد ہمیشہ اپنے ذہن سے سوچنے کی اہمیت پر زور دیتے۔ نت نئے موضوعات پر مضمون لکھوا کر اپنی سوچوں کو الفاظ کا پیراہن دینے اور زیب قرطاس کرنے کی ترغیب دلاتے۔ ان کا ماٹو تھا کہ خواب دیکھو کہ ہر ناممکن چیز پہلے خواب ہی ہوا کرتی ہے۔ ان کی باتیں شاگردوں میں بجلی سی بھر دیا کرتیں۔ استاد تعریف کے معاملے میں قدرے کنجوس تھے۔ جس شاگرد کو دن میں ایک بار شاباش کا لفظ کہہ دیتے وہ یوں سمجھتا جیسے اسے دولت ہفت اقلیم مل گئی ہو۔ استاد شاگردوں پر بھرپور اعتماد کیا کرتے اور انہیں ٹیسٹ دے کر بعض اوقات خود سو جایا کرتے لیکن شاگردوں کی عقیدت کا یہ عالم ہوتا کہ کوئی چیٹنگ کا خیال تک دل میں نہ لاتا۔

    ایک روائتی معاشرے کا فرد ہونے کے باوجود استاد روائت شکنی کے علمبردار تھے۔ سکول میں جہاں کوئی طالبعلم بھی پینٹ نہ پہنتا استاد جینز چڑھائے پھرتے۔ دیگر اساتذہ ہاتھوں میں قینچی لیے شاگردوں کے بال ماپتے پھرتے اور استاد خود بال بڑھائے نظر آتے۔ ہر شے کو نئے اور مختلف زاوئیے سے دیکھنا ان کی اہم خاصیت تھی۔ ان کی یہی انفرادیت ان کی شخصیت کو ایسا سحر عطا کرتی کہ شاگرد اس میں کھو کر رہ جاتے۔اس سوچ کے باعث اکثر اوقات انہیں تنقید اور بسا اوقات طعن و تشنیع کا بھی نشانہ بننا پڑتا۔ لیکن وہ ذرہ برابر پروا نہ کرتے۔ اور شاگرد ان کی تقلید میں پیش پیش ہوتے۔

    ہمارا استاد جی سے تعلق میٹرک پاس کرنے تک قائم رہا۔ اس کے بعد ہمیں مزید تعلیم کی خاطر شہر بدر ہونا پڑا تو ان سے رابطہ بھی بہت کم ہو کر رہ گیا۔ لیکن ان کے ساتھ گزارے شب و روز ایک مہکتی یاد بن کر ہمیشہ ہمارے دل و دماغ کے دریچوں کو مہکاتے رہے۔

  13. #28
    Site Managers Rubab's Avatar

    Join Date
    Jun 2007
    Posts
    13,943
    Blog Entries
    6
    Mentioned
    24 Post(s)
    Tagged
    2 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    بہت اچھا خاکہ لکھا ہے۔

    سوبی/کشتاج دوسری پوسٹ میں لنکس بھی شامل کرتی جائیں تاکہ تحاریر ڈھونڈنے میں مشکل نہ پیش آئے۔

    جو اللّٰہ کا حکم



  14. #29
    Section Managers Kainat's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    Germany
    Posts
    14,437
    Blog Entries
    18
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    ارے واہ واہ ۔۔۔۔ تھا جس کا انتظار وہ ابتدائی خاکہ آ ہی گیا ۔۔۔۔

    بہت اچھا لکھا ۔۔۔ جس نے بھی لکھا ۔۔۔۔ لگتا ہے انھیں خاکہ لکھنے کے پورے نکتوں سے آگاہی ہے ۔۔۔۔ بہت خوب استاد جی،

    بہت اچھے انداز سے خوبصورت الفاظ کے چناو سے خاکہ ترتیب دیا ہے۔ ویلڈن
    وش یو آل دی بیسٹ
    میں جن راستوں سے گزر جاتا ہوں ایک بار
    مڑ مڑ کے وہ نظارے بلاتے ہیں بار بار

  15. #30
    Section Managers

    Join Date
    May 2008
    Posts
    5,164
    Mentioned
    11 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: خاکہ نگاری کا مقابلہ

    واؤ
    چلو مقابلہ شروع تو ہوا
    پہلا خاکہ جو مقابلے میں شامل نہیں وہ صبیح بھائی کا خود کا بھی ہو سکتا ہے


    اور مقابلے کا پہلا خاکہ بھی زبردست ہے استاد جی کا
    دیکھئے آگے کیا ہوتا ہے

Page 2 of 7 FirstFirst 1234 ... LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •