Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Page 1 of 2 12 LastLast
Results 1 to 15 of 100

Thread: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ

Hybrid View

Previous Post Previous Post   Next Post Next Post
  1. #1
    Member

    Join Date
    Jul 2010
    Posts
    98
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ


    السلام علیکم۔

    اُمید کرتی ہوں کہ سب خیریت سے ہوں گے۔

    آج میں "ون اُردو رائٹرز سوسائٹی" کی طرف سے ایک اور تعمیری مقابلہ لے کر حاضر ہوئی ہوں۔ تو جناب سب کاغذ قلم اور کی بورڈ سنبھال کر بیٹھ جائیں۔

    اُمید ہے آپ سب ہی کسی نہ کسی وقت میں زمانہ طالب علمی سے منسلک رہے ہوں گے۔ ۔ بہت سے تو اب بھی طالب علم ہی ہیں۔ تو اس زمانے میں ایک چیز ہے جو سب کا ہی دردِ سر رہتی ہے وہ ہے مضمون نویسی۔ ۔

    اس مقابلے کے میں آپ سب کی بھر پور شمولیت کے لیے "رائٹرز سوسائٹی" کی طرف مضمون نویسی پر ایک شارٹ کورس بھی کروایا گیا ہے۔ آپ میں سے جس کو بھی مضمون لکھنے میں مشکل در پیش ہو وہ یہاں سے رہنمائی حاصل کر کے ایک مضمون ضرور لکھے۔ ۔ اور مقابلے میں شامل ہوں۔ اس مقابلے کی میزبانی وش اور رمیصہ کر رہے ہیں۔

    موضوع
    (انٹرنیٹ کے فوائد/ آن لائن پرائیویسی/ ڈیجیٹل سیکیورٹی)


    لکھنے کے دوران درج زیل نکات کا بھی خیال رکھیں۔


    1- تحریر آپ کی اپنی ہو۔
    2- اپنی تحریر لکھ کر اسے کچھ دن بعد دوبارہ ضرور پڑھیں، اس طرح اس میں مزید بہتری کے مقامات نظر آجاتے ہیں۔
    3- جملوں کی ساخت اور بناوٹ پر توجہ دیں۔ تاکہ وہ شکستگی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ محسوس ہوں۔
    4- تحریر کی پروف ریڈنگ کریں اور املاء کی اغلاط حتی الامکان ٹھیک کریں۔
    5-تحریر اردو میں لکھیں۔ انگریزی کا استعمال صرف ضرورتاً کریں۔
    6-پیش کرنے سے پہلے کسی قابل اعتماد دوست کو تحریر دکھا کر اس پر رائے ضرور لیں۔


    قوانین:

    1۔ آپ اپنا مضمون صرف اور صرف مقابلے کے میزبان وش یا رمیصہ کو پی ایم کریں گے اور وہ بنا نام کے پوسٹ ہو گا۔

    2۔ ججز کا فیصلہ حتمی ہو گا، اسے تھریڈ وغیرہ بنا کر یا کہیں بھی تنقید کا نشانہ بنانے کی اجازت نہیں ہے۔۔ اگر آپ کو نتائج پہ اعتراض ہے تو مقابلے کی میزبان وش یا سائٹ مینیجر سُمارا سے رابطہ کریں۔ کُھلے عام تنقید کا نشانہ بنانے سے اجتناب کریں۔

    اس اصول کی خلاف ورزی کی صورت میں آپ تمام مقابلوں میں شرکت کے لیے نا اہل قرار پائیں گے۔


    انعامات
    :

    پہلا انعام 10000 سلور پوائنٹس
    دوسرا انعام 7500 سلور پوائنٹس
    تیسرا انعام 5000 سلور پوائنٹس
    چوتھا انعام 3000 سلور پوائنٹس


    آپ اپنی تحریر 31 جولائی پاکستانی وقت کے مطابق رات 12 بجے تک بھیج سکتے ہیں۔

  2. #2

  3. #3
    Site Managers Rubab's Avatar

    Join Date
    Jun 2007
    Posts
    13,943
    Blog Entries
    6
    Mentioned
    24 Post(s)
    Tagged
    2 Thread(s)

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ

    مقابلہ شروع کرنے کے لئے بہت شکریہ۔ امید ہے یہاں بہت اچھے مضامین پڑھنے کو ملیں گے اور ہماری معلومات میں قابل قدر اضافے کا باعث بنیں گے۔

    سب شرکا کو خوش آمدید۔

    جو اللّٰہ کا حکم



  4. #4
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ

    بالکل جناب۔۔
    اور سب جو جو طالب علم رہ چُکے ہیں اور خاص طور پر جو موجودہ ہیں وہ تو تیاری کر ہی رکھیں نا۔ ۔ اس مقابلے سے اُن کی جان کسی طور نہیں چھوٹنے والی۔ ۔ بلکہ یوں تو امتحان کی تیاری کا بھی ایک 10 نمبر کا سوال تیار ہو جائے گا۔ ۔
    چانچہ بچوں اور بڑوں۔ ۔ سب ہی تیار رہو۔ ۔ :

    بڑے کیوں۔ ۔ ؟ ارے تو کیا آپ اپنے بچوں کو مضمون لکھنا نہیں سکھائیں گے۔ ۔
    تو پہلے خود تو لکھیں نا۔ ۔ ۔~

    [SIGPIC][/SIGPIC]

  5. #5
    Sisters Society

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    CA, USA
    Posts
    16,003
    Blog Entries
    2
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ

    السلام علیکم۔

    ماشاءاللہ سوسائٹی کے زیر نگرانی ایک اور مقابلہ منعقد ہو رہا ہے۔ گو کہ کمپیوٹر کے مضمون پر میں دسترس نہیں رکھتی مگر کسی بھی ممبر کے مضمون کی اصلاح کیلئے حاضر ہوں۔ اگر مناسب سمجھیں تو مجھے پی ایم کردیں۔ چوبیس گھنٹوں میں آپکے مضمون پر رائے مل جائے گیا، ان شاءاللہ۔





    The most common way people give up their power


    is by thinking they don't have any.


    ~ Alice Walker ~


    Courage is like a muscle.


    We strengthen it with use.


    ~ Ruth Gordon ~

  6. #6
    Sisters Society

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    CA, USA
    Posts
    16,003
    Blog Entries
    2
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ

    یہ مقابلہ آپ سب کا متظر ہے!۔۔۔





    The most common way people give up their power


    is by thinking they don't have any.


    ~ Alice Walker ~


    Courage is like a muscle.


    We strengthen it with use.


    ~ Ruth Gordon ~

  7. #7
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ




    انٹرنیٹ کے فوائد



    سائنسدانوں نے کمپیوٹر کو ایک بہت بڑی ایجاد قرار دیا ہے۔ اور کمپیوٹر کا ترقی یافتہ قدم انٹرنیٹ ہے، جس کے ذریعے ہم دنیا کے ہر گوشے سے براہ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔ اور ہمارا پیغام چند لمحوں میں دوردراز جگہوں تک پہنچ جاتا ہے۔ پاکستان میں انٹرنیٹ کا آغاز انیس سو پچانوے میں ہوا۔ انٹرنیٹ سے منسلک ہونے کے لیے صرف ایک عدد کمپیوٹر، ایک موڈیم اور ایک ٹیلی فون پوائنٹ کی ضرورت ہے۔

    موجودہ دور معلومات کا دور ہے اور انٹرنیٹ کا بنیادی مقصد معلومات کا ایک دوسرے سے تبادلہ ہے۔ انٹرنیٹ ایک ایسا دریچہ ہے، جو آپ کے لیے دنیا دیکھنے کی خاطر ایک کھڑکی کھول دیتا ہے۔ یہ معلومات کا ایک ایسا خزانہ ہے جو کبھی خالی نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر سیکنڈ بعد آپ ایک نئی دنیا دریافت کر رہے ہوتے ہیں۔ اور یہ ان سب لوگوں کے لیے اہم ہے، جنہیں معلومات کے حصول کی پیاس ہے۔

    یہ سچ ہے کہ انٹرنیٹ کی آمد نے ایک انقلاب سا برپا کر دیا ہے۔ خاص کر نئی نسل کے لیے نئے فکرونظر کی نئی دنیائیں پیش کر دی ہیں۔ دنیا بھر کی تہذیب و ثقافت اور اندازحیات واضح کر دئیے ہیں۔ علم کا ایک سمندر ان کے لیے پیش کر دیا ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے ہر اس کتاب تک بآسانی رسائی ہو جاتی ہے، جس کا خریدنا ناممکن ہو۔ محنتی طالب علم اس کے ذریعے اپنی تحقیق کو آگے بڑھا رہے ہیں اور شکر ادا کر رہے ہیں کہ اس ایجاد کے ذریعے انھیں گھر بیٹھے دنیا بھر کی جدید معلومات مہیا ہو رہی ہیں۔

    جو لوگ اعلی تعلیم کے حصول کے لیے بیرون ملک جانے کے خواہشمند ہیں۔ انھیں اس کے ذریعے دنیا کی تمام یونیورسٹیوں میں پڑھائے جانے والے مضامین کے بارے میں پوری واقفیت ہو سکتی ہے۔
    ڈاکٹر، ڈیزائینر، انجینیئرزاور ماہرین ارضیات وغیرہ دوسرے ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے گفتگو کر سکتے ہیں۔ طبی ماہرین بعض پیچیدہ امراض اور ان کے علاج کے بارے معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔اور ان سے مشورہ حاصل کر سکتے ہیں۔

    موجودہ دور میں پوسٹ یا فیکس کے ذریعے ڈاک بھیجنا اور اپنی باری کا انتظار کرنا اب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔ دستاویزات کے عکسی خاکے یہاں تک کہ تصاویر بھی ای میل کے ذریعے برق رفتاری سے دنیا کے کسی بھی حصے میں بھیج سکتے ہیں۔ انٹر نیٹ اب ہر بزنس مین اور تاجر کی ضرورت بن گیا ہے۔ اور دنیا میں ہر طرح کا کاروبار بغیر زمان و مکاں کے فرق کے انٹر نیٹ پر ہو رہا ہے۔

    مصنفین اپنے مسودے دنیا کے کسی بھی ناشر کو بھیج سکتے ہیں۔ ترسیل کے اس طریقے سے وہ نہ صرف وقت اور روپے کی بچت کرتے ہیں، بلکہ ماحولیات کے لیے بھی یہ مفید ہے۔ کیونکہ اس طرح بہت سا کاغذ بچا لیتے ہیں۔ اور اگر آپ کے اندربھی کچھ لکھنے کی خواہش انگڑائی لیتی ہے تو آپ اپنا بلاگ بنا کر وہاں یہ شوق پورا کر سکتے ہیں۔ اور آپ کو وہاں قارئین بھی آسانی سے میسر آ جائیں گے۔ اور ان کی تعریف و تنقید آپ کو آگے بڑھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    گھر کے کام کاج سے فارغ ہونے کے بعد خواتین انٹر نیٹ سے بہت کچھ حاصل کر سکتی ہیں۔ اسے استعمال کرنے کے لیے کسی بھی قسم کی تربیت کی ضرورت نہیں، کیونکہ آج کے کمپیوٹر خود ہی یہ سب سکھا دیں گے۔ ویسے بھی انٹرنیٹ پر سرچ انجن گوگل، یا ہو، لائیکوس کسی مددگار سے کم نہیں۔ انھیں صرف لاگ ان ہونا سیکھنا ہے۔ اور پھر اپنی پسندیدہ کرسی پر بیٹھ کربس دنیا کی سیر کرنی ہے۔ اور اگر چاہیں تو انٹرنیٹ سے ہی یو ٹیوب سائٹ سے اپنا پسندیدہ میوزک سننے کے لیے کانوں پر ہیڈ فون بھی لگا لیں، آپ کا سفر اور بھی پر رونق دوبالا ہو جائے گا۔

    انٹرنیٹ ہماری زندگی کا ایک اہم آلہ، مددگار بن چکا ہے۔ اگر کھانا پکانے سے دلچسپی ہے تو ایسی بہت سی سائیٹس ملیں گی۔ جہاں روایتی کھانوں سے لے کر کانٹی نینٹل کھانے بنانے تک سیکھے جا سکتے ہیں۔ اور ان سے متعلقہ ویڈیوز دیکھ سکتے ہیں۔ پھر چاہے وہ کھانا پکانا ڈاٹ کام ہو یا کھانا خزانہ ڈاٹ کام، ترلا دلال کی سائٹ ہو یا مصالحہ چینل کی، ماہرین طرح طرح کے کھانے پکانے کی ترکیبیں بتاتے ہیں۔ شیف راحت، شیف گلزار، شیف ذاکر تک کے پروگرامز آپ آن لائن دیکھ سکتے ہیں۔ ان پروگرامز سے جہاں خاتون خانہ فائدہ اٹھا سکتی ہے، وہاں بہت سے کنوارے، سنگل حضرات، سٹوڈنٹس کی بھی مدد ہو جاتی ہے۔

    اچھا کھانے کے بعد یقینا وزن بھی بڑھ سکتا ہے، لیکن فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے ہی ہیلتھ اور ڈائٹ کے حوالے سے مختلف سائٹس مل جاتی ہیں، جو ڈائٹ کے چارٹس اور ٹپس بتاتی ہیں۔ کسی کسی سائیٹ پر ڈائٹیشن تک موجود ہوتے ہیں۔ جو آن لائن آپ کے پرابلمز کے حل بتاتے ہیں۔ زیادہ انفارمیشن فری میں ہی موجود ہوتی ہیں۔ مگر کچھ سائیٹس پر وہ اپنی پروفیشنل ایڈوائس اور مشورہ جات کے لیے فیس کی ڈیمانڈ بھی کرتے ہیں۔ سو اگر آپ کو وہ بھروسہ کے قابل لگیں تو بھی آپ گھر بیٹھے کچھ معاوضے کے عوض اپنا مقصد پا لیتے ہیں اور وقت کی بچت بھی۔

    اس کے علاوہ خواتین کو فیشن سے لے کر گھر کو ڈیکوریٹ کرنےاور اپنے پسندیدہ ہر ٹاپکس تک رسائی ہو سکتی ہے۔ گھر بیٹھے ہی لیڈیز نئے شوز، بیگز، جیولری اور ڈریسز بارے معلومات کی جانکاری لے لیتی ہیں۔ انٹرنیٹ کو ہولیڈے کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کسی ٹریول ایجنٹ کو بیچ میں ڈالے بغیر آپ اپنی چھٹیاں گزارنے کے منصوبے خود پلان کر سکتے ہیں۔ آپ صرف اس ملک، جگہ پر کلک کر دیں، جہاں آپ جانے کے خواہشمند ہوں۔ پھر آپ کو ساری معلومات حاصل ہو جائیں گی۔ جن میں ہوٹل اور گھومنے کی جگہیں بھی شامل ہیں۔

    انٹرنیٹ کے ذریعے آپ آن لائن بینکنگ کر سکتے ہیں۔ کسی ٹریول ایجینسی میں جائے بغیر گھر بیٹھے اپنے ٹکٹس بک کر کے حاصل کر سکتے ہیں۔ شاپنگ کر سکتے ہیں۔ مختلف کورسز کر سکتے ہیں۔ موبائل کے بعد اب کمپیوٹر، انٹرنیٹ کا استعمال بھی لوگوں کی زندگیوں میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ جوں جوں لوگوں کو اس کی افادیت کا علم ہو رہا ہے تو لوگوں کا رحجان بھی اس کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اب کس کا دل چاہے گا بل جمع کروانے کے لیے لمبی لمبی لائینوں میں جا لگنے کا۔ اگر ان کے پاس متبادل آن لائن سہولت ہے تو۔

    آج کل تو اخبار بھی انٹرنیٹ پر پڑھا جا سکتا ہے۔ بس انٹرنیٹ پر جا کر صرف نیوزپیپر کے انٹرنیٹ نمبر لکھتے ہیں، جس کے بعد پورا کا پورا اخبار کمپیوٹر کی اسکرین پر ظاہر ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ معلوماتی، تفریحی، تعلیمی، کھیلوں کی خبریں، موسم کی خبریں اور اس جیسی دوسری بہت سی اہم ضرورتوں کو حاصل کرلیتے ہیں۔ پردیس میں بیٹھ کر آپ اپنے دیس سے جڑے رہتے ہیں۔ ہزاروں میلوں کے فاصلے سیکنڈوں، منٹوں میں بدل گئے ہیں۔ بلاشبہ کمپیوٹر کی ایجاد اور انٹرنیٹ کی سہولت نے انسانی زندگی کو بہت سہل بنا دیا ہے۔ وقت اور پیسے کی بچت دی ہے۔ یہ انٹرنیٹ کے مثبت پہلو ہیں، جن سے بھر پور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

    کوئی بھی چیز بذات خود اچھی یا بری نہیں ہوتی بلکہ اس کا استعمال اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔ انٹرنیٹ ایک بحربیکنار ہے۔ جس کے کچھ تاریک پہلو بھی ہیں۔ نو عمر بچے جو ابھی اچھائی برائی کے دوراہے پر کھڑے ہوتے ہیں۔ مناسب رہنمائی کے بغیر اس کا بے جا استعمال ان کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ اور ایسی عمر میں اگر ان کو یہ چیزیں بآسانی دستیاب ہوں گی تو یہ انھیں ان کی راہ سے بھٹکا دیں گی۔ ایک سروے کے مطابق کافی والدین نے کہا کہ ان کے بچے اپنی پڑھائی سلسلے انٹرنیٹ سے مستفید ہو رہے ہیں اور ان کے سکول کی رپورٹس بھی شاندار ہیں۔ وہ اپنے سکول میں بہترین کارکردگی کے حامل ہیں۔ جبکہ بہت سارے والدین نے یہ بھی کہا ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود خرافات نے بچوں کو متاثر کیا ہے۔

    انٹرنیٹ نے زندگی ضرور آسان بنا دی ہے، وقت کی بچت کروا دی ہے۔ تنہائی اور بوریت بھی ایک حد تک دور کر دی ہے۔ مگر اس سے کچھ جذباتی نقصانات بھی ہو رہے ہیں۔ ایک محبت بھری اشتراکیت جو انسان کی اپنے بزرگوں سے فیملی سے دوستوں سے ہونی چاہیئے، وہ کم ہو رہی ہے۔ ہم اپنے آپ میں ہی گم ہوتے جا رہے ہیں۔ خوشی تو تبھی ملے گی جب ہم خود اسے بانٹیں گے۔

    *********************




    [SIGPIC][/SIGPIC]

  8. #8
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ



    یہ لیں جناب ۔ ۔ ۔ ۔ ایک اور مضمون حاضر ھے۔ ۔ ۔ پڑھیں اور رائے دیں


    [SIGPIC][/SIGPIC]

  9. #9
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Location
    Kharian, Gujrat, Punjab, Pakistan
    Posts
    2,500
    Blog Entries
    4
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ

    لو جی میں آج سے بادام کھانا شروع کر دیتا ہوں۔ آخر کب سے دماغ بند پڑا ہے۔???

    آپ سے تو سوچنے والا کام دے دیا۔
    "Tolerance means to bear pain and hardships with patience"

  10. #10
    Site Managers Rubab's Avatar

    Join Date
    Jun 2007
    Posts
    13,943
    Blog Entries
    6
    Mentioned
    24 Post(s)
    Tagged
    2 Thread(s)

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Wish View Post



    انٹرنیٹ کے فوائد



    سائنسدانوں نے کمپیوٹر کو ایک بہت بڑی ایجاد قرار دیا ہے۔ اور کمپیوٹر کا ترقی یافتہ قدم انٹرنیٹ ہے، جس کے ذریعے ہم دنیا کے ہر گوشے سے براہ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔ اور ہمارا پیغام چند لمحوں میں دوردراز جگہوں تک پہنچ جاتا ہے۔ پاکستان میں انٹرنیٹ کا آغاز انیس سو پچانوے میں ہوا۔ انٹرنیٹ سے منسلک ہونے کے لیے صرف ایک عدد کمپیوٹر، ایک موڈیم اور ایک ٹیلی فون پوائنٹ کی ضرورت ہے۔



    تفصیلی انداز میں لکھا گیا ہے مضمون اور زیادہ تر نکات کو کور کر رہا ہے، ایک اچھا مضمون لکھنے پر صاحب مضمون کو مبارکباد،،،، میرا اندازہ کائنات کی طرف ہے کہ شاید یہ مضمون ان کے قلم سے نکلا ہے۔

    جو اللّٰہ کا حکم



  11. #11
    Senior Member

    Join Date
    Feb 2009
    Posts
    670
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Wish View Post



    انٹرنیٹ کے فوائد



    سائنسدانوں نے کمپیوٹر کو ایک بہت بڑی ایجاد قرار دیا ہے۔ اور کمپیوٹر کا ترقی یافتہ قدم انٹرنیٹ ہے، جس کے ذریعے ہم دنیا کے ہر گوشے سے براہ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔ اور ہمارا پیغام چند لمحوں میں دوردراز جگہوں تک پہنچ جاتا ہے۔ پاکستان میں انٹرنیٹ کا آغاز انیس سو پچانوے میں ہوا۔ انٹرنیٹ سے منسلک ہونے کے لیے صرف ایک عدد کمپیوٹر، ایک موڈیم اور ایک ٹیلی فون پوائنٹ کی ضرورت ہے۔

    موجودہ دور معلومات کا دور ہے اور انٹرنیٹ کا بنیادی مقصد معلومات کا ایک دوسرے سے تبادلہ ہے۔ انٹرنیٹ ایک ایسا دریچہ ہے، جو آپ کے لیے دنیا دیکھنے کی خاطر ایک کھڑکی کھول دیتا ہے۔ یہ معلومات کا ایک ایسا خزانہ ہے جو کبھی خالی نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر سیکنڈ بعد آپ ایک نئی دنیا دریافت کر رہے ہوتے ہیں۔ اور یہ ان سب لوگوں کے لیے اہم ہے، جنہیں معلومات کے حصول کی پیاس ہے۔



    *********************






    اچھے انداز میں لکھا گیا ہے. انداز تحریر پختہ ہے۔اور آخری سطور میں تنبیہ بھی کر دی گئی ہے۔۔۔۔!!

  12. #12
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ


    انٹرنیٹ کے فوائد

    انسان اللہ تعالیٰ کی اعلیٰ و ارفع ترین مخلوق ہے جسے خدا نے شعور و آگہی دے کر تجسس اور جستجو کا مادہ ودیعت کیا۔ اسی خصوصیت کی بدولت انسان نے ہمیشہ اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس جہدِ مسلسل میں انسان نے ان گنت ایجادات کیں۔ لیکن ان چند ایجادات میں، جنہوں انسانی زندگی کو یکسر ایک نئی جہت اور رفتار سے آشنا کیا، انٹرنیٹ سرِ فہرست ہے۔ انٹرنیٹ انسانی سوچ اور استعداد کا وہ شاہکار ہے جس نے انسان کو پہلی بار برق رفتار کے اصل مفہوم سے آشنا کیا۔
    ہر ایجاد کی مانند انٹرنیٹ نے بھی انسانی زندگی پر کئی اثرات مرتب کیے جن میں سے کچھ مثبت تھے اور کچھ منفی۔
    اگر مثبت پہلوؤں کی بات کی جائے تو سب سے زیادہ کمیونیکیشن کا نظام انٹر نیٹ سے مستفید ہوا۔ ای میل اور میسینجرز نے ہزاروں میل دور بیٹھے لوگوں کو بھی محظ ایک کلک کے فاصلے پر لا کھڑا کیا۔ اور تصویری بات چیت کو ممکن بنا کر آدھی ملاقات کو بالمشافہ ملاقات کی مانند کر دیا۔ انٹرنیٹ نے انسان کے دنیا کو گلوبل ولیج بنانے کے خواب کو تعبیر دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آج انٹرنیٹ مختلف علاقوں، زبانوں، اور نسلوں کے کروڑوں لوگوں کے درمیان رابطے کا واحد ذریعہ بن چکا ہے۔ ذرائع ابلاغ بھی آج انٹرنیٹ کی بدولت ہی شہرت کی نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ دنیا کے کسی دور افتادہ ترین علاقے میں رونما ہونے والا واقعہ بھی چند ہی منٹوں میں تمام دنیا کے میڈیا کی زینت بن جاتا ہے۔
    علم و ہنر کے جویا لوگوں کے لیے بھی انٹرنیٹ گراں قدر خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ آن لائن لائیبریریوں کی بدولت لاکھوں کتب انسان کو گھر بیٹھے میسر ہوتی ہیں۔ محققین گھر بیٹھے کسی بھی موضوع پر پوری دنیا میں ہونے والی تحقیق کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ ایڈورٹائزمنٹ کا بزنس بھی اپنی نئی رفعتوں کے لیے انٹرنیٹ زیربار ہے۔
    بینکنگ کے شعبے کو بھی انٹرنیٹ نے آن لائن بینکنگ کی صورت ایک سبک رفتار اور قابلِ اعتبار متبادل فراہم کیا ہے۔ آج انٹرنیٹ کی بدولت ہی اربوں اور کھربوں کا لین دین محظ چند انگلیوں کی جنبش کا کام رہ گیا ہے۔
    انٹرنیٹ تجارت اور خریدو فروخت کے لیے بھی ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہو رہا ہے۔ اور اسی کی وسعت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔
    انٹرٹینمنٹ کی دنیا میں بھی انٹرنیٹ کا استعمال لازم و ملزم ہو چکا ہے۔ کوئی بھی نئی مووی ہو یا گانوں کی البم ریلیز کے چند گھنٹوں بعد ہی انٹرنیٹ کی بدولت دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچ چکی ہوتی ہے۔
    انٹرنیٹ کے ان تمام فوائد کے ساتھ ساتھ ہر ایجاد کی طرح اس میں بھی چند تشنہ پہلو اور کمزوریاں ہیں۔ جن میں سرِ فہرست ہر قسم کے مواد اور لٹریچر کی بلاروک ٹوک پوری دنیا میں فراہمی ہے۔ لیکن اللہ کریم نے نہ تو انسان کو کاملیت بخشی ہے ماسوائے حبیبِ کبریاﷺ کے اور نہ ہی انسان کی بنائی کسی چیز کو۔
    اپنی کمزوریوں کے باوجود انٹرنیٹ ایک حیرت انگیز ایجاد ہے۔ اور اگر پرکھا جائے تو اس کی خوبیاں ہمیشہ خامیوں پر حاوی رہیں گی۔ کیونکہ خامی انٹرنیٹ میں نہیں بلکہ اس کے غلط استعمال اور غلط استعمال کرنے والوں میں ہے۔ انٹرنیٹ انسانی زندگی کا دھارا بدل دینے والی ایجادات میں ہمیشہ ایک امتیازی مقام کا حامل رہے گا۔



    [SIGPIC][/SIGPIC]

  13. #13
    Senior Member

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    1,416
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ

    Quote Originally Posted by 1US-Writers View Post


    آپ اپنی تحریر 25 جولائی پاکستانی وقت کے مطابق رات 12 بجے تک بھیج سکتے ہیں۔
    السلام علیکم

    میرا خیال ہے کہ اس مقابلے کا وقت تو اب ختم ہو چکا ہے، ہے نا؟
    [SIGPIC][/SIGPIC]ناخدا ہیں میرے جب محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کیسے ڈوبے گا میرا سفینہ

    میرے دل میں ہے یادِ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) میرے ہونٹوں پر ذکرِ مدینہ





  14. #14
    Site Managers Rubab's Avatar

    Join Date
    Jun 2007
    Posts
    13,943
    Blog Entries
    6
    Mentioned
    24 Post(s)
    Tagged
    2 Thread(s)

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ

    وعلیکم السلام لمحے سس!

    مقابلے کی تاریخ بڑھا کر 31 جولائی کر دی گئی ہے۔

    جو اللّٰہ کا حکم



  15. #15
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ



    ڈیجیٹل سیکیورٹی

    آسان الفاظ میں ڈیجیٹل سیکیورٹی کا مفہوم تمام برقی یا الیکٹرانی آلات کے استعمال اور روابط میں تحفظ بنتا یے۔ لیکن جوں جوں ہماری روزمرہ زندگی میں برقی آلات، ذرائع ابلاغ اور مواصلات کو ترقی و ترویج مل رہی ہے، ڈیجیٹل سیکیورٹی کا مفہوم بھی بدلتا جا ریا ہے۔ یہ آج کی دنیا کا صرف ایک ابھرتا ہوا مسئلہ ہی نہیں بلکہ یہ ایک علیحدہ علم، ایک مکمل فنی شعبہ اور مقبول پیشہءروزگار ہے۔ ایسے میں بے شمار کتب پہ مشتمل اس موضوع کی وسعت کو ایک مضمون کی جامعیت میں سمونا دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہوگا۔ چناچہ یہاں ہم مختصرا” اس مسئلہ کے آغاز و ارتقاء، مختلف پہلو، اور تدارک وغیرہ کے چیدہ چیدہ پہلوؤں پر نظر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    ڈیجیٹل سیکیورٹی محض پچھلے بیس برس میں بتدریج پاؤں پھیلا کر ایک بڑا مسئلہ بنا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ روزمرہ زندگی میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا بڑھتا ہوا دخل ہے۔ سنہ انیس سو نوے میں مائیکروسوفٹ نے پی-سی(ذاتی کمپیوٹر) کے ساتھ پہلی ونڈو (تین) نکالی تھی۔ یہی ایپل کے میکنٹاش کلاسک کا آغاز بھی تھا، جو پہلی بار رنگین تصاویر اور عکس سے مزین تھا۔ اسی اثناء میں انٹرنیٹ نے ہر خاص و عام کی توجہ کھینچ لی۔ یہ بیوپاری کا دور نہیں تھا۔ زیادہ تر کمپیوٹر اداروں یا تحقیقی مراکز کے توسط سے رابطہ کرتے تھے۔ آن لائن خدمات کے ادارے اپنے دروازے پی-سی یوزر کے لیے کھول رہے تھے۔ اور ڈیٹا کمیونیکیشن ، سائیبر سپیس اور سپر ہائی وے جیسے الفاظ بھاری بھرکم لگتے تھے۔ آی-آر-سی کے چیٹ رومز بھرے رہتے۔ اور کسی کے ذاتی فولڈر میں اسکے تازہ سی-وی اور پینٹ برش میں بنائے ہوئے چند شاہپاروں، محفوظ شدہ بیک گراؤنڈز اور کرسر تھیم کے علاوہ زیادہ کچھ نہیں ھوتا تھا۔ اے ڈرائیو کی میں سب کچھ سنبھال لیا جاتا تھا۔ اور شائد اب بھی کچھ لوگوں کو ہارڈدسک کو آٹو موڈ میں لا کر نیوٹرل کرنے، اور آٹوایگزک بیٹ فائیل میں ری-سٹارٹ لکھ کر پی-سی کریش کرنے کی ”معصوم“ شرارتیں یاد ہوں۔

    لیکن پچھلے بیس برس میں ہر چیز کے ساتھ ”ڈیجیٹل“ کا لاحقہ جڑ گیا ہے۔ سو اب یہ ڈیجٹس ہمارے فون، کیمرے، ٹی-وی ہی میں نہیں، ہمارے سکول، کالج، ہسپتال، بینک اور بازار میں بھی چھا چکے ہیں۔ تھری ایم ایم فلاپی جو بلو-رے سے بدل چکی ہے۔ ٹی-وی کے آگے رات آٹھ بجے بیٹھنے والے اب اپنا پسندیدہ پروگرام فرصت کے لمحوں کے لیے محفوظ کر لیتے ہیں۔ پانچ، چھ سالہ بچے ای میلز پا رابطہ رکھے ھوئے ہیں۔ اور ان سے بھی چھوٹے اپنے پسندیدہ کارٹون کے ویب سائیٹ کھول کر بیٹھے ہیں۔ ذاتی فولڈرز میں لوگوں کے پاسپورٹ، اور مقالہ جات پڑے ہیں۔ جب استعمال عام ہوا، تو تحفظات بھی بڑھ گئے۔ جب مواقع لامتناہی ہوئے تو جرائم بھی زیادہ ہو گئے۔

    جس طرح ہر معاشرے میں پر تجسس ذہنوں، چوروں اور وسوسہ و فساد ڈالنے والوں کی کمی نہیں ہوتی اسی طرح ڈیجیٹل کمیونٹی میں بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ لوگوں کا ذاتی مال و متاع، ان کے کاروبار، ان کی تصاویر، شناخت نامہ، بیماریوں کے ریکارڈ، ان کی تحقیق، لکھت پڑھت، سب ایک بھرے بٹوے کی طرح ہے جسے اگر کھلی سڑک پر چھوڑ دیا جائے تو بہتوں کا ایمان ڈگمگا دے۔ ایسے میں اس بہتی گنگا میں ھاتھ دھونے کے لیے افراد کے ساتھ ساتھ امریکہ، ایشیا اور یورپ کی بے شمار کمپنیوں نے پورا پورا حصہ لیا ہے۔

    کمپیوٹر وائرس کی ابتدائی شکل بہت سبک روی اور چابکدستی سے بہت آگے نکل چکی ہے۔ کمپیوٹر فریز کرنا، ہارڈ ڈسک اور مدربورڈ کریش کرنا، کمپیوٹر کو پنگ کرتے رہنا یا اسکی رفتار آہستہ کرنا، اور اسی طرح کے دوسرے روکاوٹی طریق کار اب بھی مروج ہیں لیکن اس سے بھی بڑھ کر ہیں: سائیبر جنگیں، دھمکانا اور ڈرانا، مخرب الاخلاق مواد کی ترویج و ترسیل، شخصیت کی چوری، تحقیق و منصوبہ جات کی چوری، کاپی رائٹ کی خلاف ورزی اور استعمال کنندہ کا پورا پروفائیل بنانا جس سے شماریاتی اداروں کو اپنے صارفین کے بارے میں ہر قسم کی معلومات حاصل ہوجاتی ہیں، یعنی وہ ناشتے میں کیا کھاتے ہیں سے لے کر انہوں نے کل کونسی مووی دیکھی تک۔ ہم کہ سکتے ہیں کہ یہ باتیں تو ہم خود بھی بتا دیتے ہیں لیکن ہمارا بتانا اور ہماری بے خبری میں اسے چرانا دو الگ الگ باتیں ہیں۔ ہم کچھ لوگوں پر اعتماد کرتے ہیں لیکن سب پر نہیں۔ مائیکروسوفٹ نے ایک عرصہ تک اپنے صارفین کی بغیر اجازت اپنے لیے ایک چور دروازہ کھلا رکھا۔ جس کی بنیاد پر اسے بھاری جرمانہ کا سامنا کرنا پڑا۔

    آج ان تمام حرکات، سپامنگ (بن چاہی معلومات)، پشنگ(میل کے ذریے معلومات منگوانا)، سنفنگ(آن لائن پیکٹ کو چرانا)، ٹریشنگ (ٹریش سے معلومات چرانا) اور ویششنگ(جعلی فون پر آپکی ذاتی، بہت خاص معلومات کا حصول) سے لوگوں کے تحفظ کے لیے بہت سخت قوانین بن گئے ہیں۔ ای میل کو کسی بھی شخس کی قانونی تحریر مان لیا گیا ہے۔ محدود حقوق کے فری وئر اور کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کی سزائیں اب کہیں سخت ہیں۔ بچوں کے بچاؤ کے لیے مختلف سوفٹ وئیرز آگئے ہیں جو چھان پھٹک کر معلومات پردہ پر لاتے ہیں۔ آن لائین خریداری کو روزبروز زیادہ مخفی کیا جا رہا ہے۔ لیکن ھیکرز آج بھی نئے سے نئے چور دروازے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ لوگوں کو آج بھی چھوٹی گلی کی تلاش رہتی ہے جو تفریح اور معلومات کو بلامعاوضہ ان تک لا سکے۔ کمپنیاں آج بھی اشتہارات کی آڑ میں ہمیں جانچ رہی ہیں۔

    اس کا تدارک صرف اس صورت میں ممکن ہے جب ہر استعمال کنندہ کو اپنی اور دوسروں کی حدود کا واضح علم ہو۔ کمپیوٹر کے آغاز میں لوگ اپنے اصل نام کو مخفی رکھتے تھے۔ وہ اسوقت کا حفاظتی اقدام تھا۔ آج سکولوں میں انٹرنیٹ پرائیویسی میں اینٹی وائرس کا استعمال سمجھایا جاتا ہے۔ اور یہی سچ ہے کہ ہمیں اب اپنی مشینوں میں وائرس سے بچاؤ ، ڈیٹا بیک اپ اور سرج کنٹرول کے پروگراموں کی لازمی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی معلومات کو بیرونی عوامل سے پیدا شدہ روکاوٹ اور نقصان سے بچانے کی ضرورت ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہم اپنے گھروں کو چوروں سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ عدم تحفظ نہیں بلکہ ایک متوازن اور ذمہ دار ڈیجیٹل معاشرے کے قیام کی کوشش ہے۔

    ڈیجیٹل انقلاب کے پیچھے کچھ لوگوں کے خواب تھے۔ انسانی بہبود کے، آرام اور تعیش کے، علم کو عام کرنے کے، صحت و تندرستی کے اخراجات کم کرنے کے، حکومتوں کو زیادہ تندہی سے اپنی خدمات سرانجام دینے کے قابل کرنے کے، نئی نوکریوں کو پیدا کرنے کے خواب، جن کی تعبیر میں آج دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے۔ ہر شخص کا ہر شئے سے رابطہ ممکن ہے۔ لیکن یہ نیا گاؤں اپنے باسیوں سے احساس ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔ ڈیجیٹل آلات کے بحفاظت استعمال کی توقع کرتا ہے۔ اسی کا نام ڈیجیٹل سیکیورٹی ہے۔
    ======



    [SIGPIC][/SIGPIC]

Page 1 of 2 12 LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •