Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Page 5 of 7 FirstFirst ... 34567 LastLast
Results 61 to 75 of 100

Thread: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ

  1. #61
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Dilpasand View Post
    ایک عرض کرنا تھی کہ
    کیا یہ ضروری ہے مضمون کا عنوان انٹر نیٹ فوائد ہی ہو ۔یا پھر اپنی مرضی کا عنوان بھی دیا جاسکتا ہے؟
    اس بارے بتائیے گا تاکہ میں بھی کچھ لکھ ماروں تڑکا لگا کے




    نہیں کچھ خاص ضروری بھی نہیں۔ ۔ جیسے آپ کو مناسب لگے ویسے ہی کریں۔ ۔


    [SIGPIC][/SIGPIC]

  2. #62
    Senior Member

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    1,416
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ

    Quote Originally Posted by 1US-Writers View Post


    آپ اپنی تحریر 25 جولائی پاکستانی وقت کے مطابق رات 12 بجے تک بھیج سکتے ہیں۔
    السلام علیکم

    میرا خیال ہے کہ اس مقابلے کا وقت تو اب ختم ہو چکا ہے، ہے نا؟
    [SIGPIC][/SIGPIC]ناخدا ہیں میرے جب محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کیسے ڈوبے گا میرا سفینہ

    میرے دل میں ہے یادِ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) میرے ہونٹوں پر ذکرِ مدینہ





  3. #63
    Site Managers Rubab's Avatar

    Join Date
    Jun 2007
    Posts
    13,943
    Blog Entries
    6
    Mentioned
    24 Post(s)
    Tagged
    2 Thread(s)

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ

    وعلیکم السلام لمحے سس!

    مقابلے کی تاریخ بڑھا کر 31 جولائی کر دی گئی ہے۔

    جو اللّٰہ کا حکم



  4. #64
    Samia Ali
    Guest

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Wish View Post



    انٹرنیٹ کے فوائد

    سائنس کے شاہکار انٹرنیٹ کی جب ہم بات کریں تو یہ ایک ایسی ٹیکنالوجی ھے جس سے مستفید ہونے والا ایک ٹکٹ میں دو نہیں دو ہزار مزے کا محاورہ بولنے لگتا ہے۔ انٹرنیٹ کا استعمال آسان ہے اس لئے ہر بندہ برابری کی سطح پر اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہےخواہ بڑا ہو یا چھوٹا۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اس جال کے زریعے اب ہر کسی سے ہر جگہ آسانی سے رابطے میں رھا جا سکتا ہے۔ ہر چیز سے متعلق معلومات کے حصول میں صرف چند منٹ لگتے ہیں،انٹرنیٹ نہ صرف ہماری معلومات میں اضافہ کرتا ہے بلکہ ہمارا وقت بھی بچاتا ہے۔



    وقت کی اہمیت سے متعلق آپ کو جو بھی قول اچھا لگتا ہو لیکن ایک بات سچ ہے کہ معاشرتی اقدار کے قائم رہنے کا دارومدار وقت پر منحصر ہے۔ رشتے نبھانے ہو یا کاروبار، سیکھنا سیکھانا ہو یا لینا دینا، سب دراصل وقت کے لین دین کا نام ہے۔اور یہ ہمارے روزانہ کرنے کے کام کے لئے کافی نہیں ہوتا۔ انٹرنیٹ بطورِ زندگی بچانے کے نمودار ہوا ہے۔اب وہ کام جو ہم کئی دن بعد کرنے کے قابل ہوتے،انٹرنیٹ کی مدد سے کئی دن پہلے کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ انٹرنیٹ کے ایک کنکشن میں چوبیس گھنٹوں جب دل چاہے دنیا بھر کے تازہ اخبار، کتب خانے، ڈاکخانے، تفریح گاہیں اور بازار سمٹ کر آپ کے میز پر موجود، ھاتھ کی جنبش کی محتاج اور ھاتھ ہلانے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے۔



    انٹرنیٹ بنائے رشتے مضبوط! رشتے ہر انسان کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتے ہیں اور جب کوئی اپنا پیارا تعلیم، روزگار، یا کسی بھی وجہ سے ہم سے دُور چلا جاتا ہے تو دل اُس سے بات کرنے کو کان اُسے سُننے کو اور آنکھیں اُسے دیکھنے کو بےتاب رہتیں ہیں۔ انٹرنیٹ اپنے مخصوص طریقے سے تمام فاصلے سمیٹ کر ہمیں اپنے پیاروں کو دیکھنے، بات کرنے، اور دُکھ سکھ بانٹنے کیلئے اپنی خدمات فراہم کرتا ہے۔چیٹ روم، مسینجرسروسزز، ای میل، اور کانفرسنگ پروگرامز انٹرنیٹ پر کمیونیکیشن کے مقبول طریقے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ طریقے بہت سستے ہیں۔


    تعلیمی شعبے میں بھی انٹرنیٹ کا بہترین استعمال دیکھا جا سکتا ہے۔ انٹرنیٹ جہاں اساتذہ کو دنیا اور ملک کے کونے کونے میں موجود اپنے شاگردوں سے کانفرسنگ اور گلوبوریٹنگ، آن لائن کورس بنا کر اپنے شاگردوں کو تحریری صوتی اور تصویری شکل میں بھیجنے اور اُن کی راہنمائی کرنے کیلئے مواد ریفر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، وھاں طلباء کو بھی گھر بیٹھے ڈگری حاصل کرنے کے قابل بناتا ھے۔ گھر پر انٹرنیٹ کے زریعے پڑھنے کے بھی کئی فائدے ہیں۔ نہ انتظار کی کوفت نہ لیکچر کو مِس کرنے کا ڈر طلباء انٹرنیٹ پر دُنیا بھر میں موجود بہترین درسگاہوں کے بارے میں جان سکتے ہیں اور اُن میں داخلہ لے سکتے ہیں؛ انٹرنیٹ پر موجود لاتعداد برقی کتب خانوں میں اپنے نصاب سے متعلق آرٹیکل اور مضامین پڑھ سکتے ہیں اور ٹیم ورک کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیم کے لئے ایک فاعل کردار ادا کر سکتے ہیں۔


    کیا کبھی آپ نے خود کو ایسے حالات کے مقابل پایا ہے جب آپ کے پاس باہر جا کر کچھ کرنے کا ٹائم نہیں ہوتا یا آپ کی طبیعت ٹھیک نہ ہو اور بہت ضروری خریداری کے لیے آپ کو گھر سے باہر جانا پڑے۔ اگر ھاں تو جناب اب انٹرنیٹ آپ کو اپنے آرام دہ کرسی پر بیٹھے بیٹھائے خریداری کے قابل بناتا ہے۔ اب بہت ساری سپرمارکیٹ اور سٹور، کپڑے، جوتے، جیولری، گروسری، تقریبا ہر چیز کی آن لائن خریداری اور گھنٹوں اور دنوں میں گھر کے دروازے پر ڈیلیوری کی سہولت آفر کرتے ہیں۔ آن لائن خریداری نہ صرف آپ کا وقت اور پیسہ بچاتی ہے بلکہ اشیاء کی کوالٹی بھی عام مارکیٹ میں ملنے والے اشیاء سے بہتر ہوتی ہے۔


    ایک اور فائدہ جو انٹرنیٹ ہماری زندگی میں لایا ہے وہ یہ ھے کہ یہ ہر خاص و عام کو پوری دنیا کے سامنے اظہار خیال کی آذادی دیتا ہے۔ آپ فنکار ہوں یا گلوکار، مصّور ہوں یا فوٹو گرافر، لکھنے پڑھنے کے شوقیں ہوں یا سیاسی مقاصد رکھتے ہوں، بہترین ہمسفر کی تلاش میں ہوں یا کسی فلاحی کام کا مشن رکھتے ہوں، اپنا کلچر پروموٹ کرنا چاہتے ہوں یا کسی پروڈکٹ کی تشہیر چاہتے ہوں،آپ اپنا آئیڈیا اور نقطہ نظر ہر عام وخاص تک بلاگز ، سوشل ویب سائٹس اور مختلف فورم کا سہارے پورے دُنیا کے سامنے پہنچا سکتے ہیں کامیابی کی بہت ساری راہیں اب آپ کا راہ دیکھتی ہیں۔


    تجارتی و مالیاتی اداروں کے لیے بھی انٹرنیٹ کے گوناگوں فوائد قابلِ ستائش ہیں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے مختلف کمپنیاں نہ صرف اپنے نمائندگان کے طور پر بہترین انتخاب تلاش لیتے ہیں بلکہ اس کے مقبولِ عام کمیونیکیشن چینل کے زریعے اپنے سٹاف اور کسٹمرز سے اعتماد کا مضبوط تعلق قائم کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ تاجر برادری آنلائن مقامی اور عالمی مارکیٹ پر نظر رکھتے ہیں اپنی تازہ ترین معلومات کے تناظر میں خرید و فروخت اور خدمات فراھم کرتے ہیں۔ مالیاتی ادارے بھی اگر اپنے شراکت داروں کو آن لائن بینکنگ جیسی پائیدار اور محفوظ سہولت دیکر اُن کے دل جیت لیتے ہیں تو یہ بھی انٹرنیٹ کی وجہ سے۔ اگر ہم انہی قدموں پر چلتے جائیں تو انٹرنیٹ تحقیقاتی اور تفشیشی اداروں میں معاون، آن لائن ریزرویشن، انٹرنیٹ مارکیٹنگ اور ایک لمبی فہرست انٹرنیٹ کے فوائد کی ہمارے انتظار میں ہے۔ اس فہرست میں بترریج اضافہ ہو رھا ہے کیونکہ ہر گزرتا دن انٹرنیٹ کی افادیت کی ایک نئی جہت سے ہمیں روشناس کراتا ہے۔


    انٹر نیٹ کو اگر ہم پانی سے تشبیہہ دیں تو غلط نہ ہو گا کیونکہ دونوں میں ایک قدر مشترک ہے کہ دونوں کو لوگ پیاس بجھانے کے لیے استعمال میں لاتے ہیں؛ ایک کو ذہن کی اور دوسرے کو جسم و روح کی۔ ھاں مگر صاف پانی پیاس بجھانے کے ساتھ صحت بھی بناتا ہے جبکہ آلودھا پانی سے پیاس تو بجھ جاتی ھے لیکن انسان بیمار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح انٹر نیٹ کا غلط استعمال بھی ذہن اور روح کو روگ لگا سکتا ہے۔ ایسے میں آج کے دور میں انٹرنیٹ بےتحاشا خوبیوں والے چراغ کی جن کی سی جگہ رکھتا ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور ایک بےرنگ خیال بن جاتا ہے، مگر اس جن سے کام لیتے وقت احتیاط کی ضرورت ہے کہ یہ جن آپکی اپنی جان کے درپے نہ ہو جائے!



    پتہ نہیں کیوں مجھے اس مضمون کو پڑھ کر نور العین ساحرہ جی کا خیال آرہا ہے

  5. #65
    Section Managers Kainat's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    Germany
    Posts
    14,437
    Blog Entries
    18
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ

    میں نے سب مضمون پڑھے۔۔ ماشا ءاللہ، بہت اچھے اور معلوماتی لکھے گئے ہیں۔ مجھے تو یہ مضامین پڑھ کر بہت اچھا اور دلچسپ لگا کہ ہر ایک نے اپنے نکتہ نظر سے لکھا ہے۔
    گنتی کے تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔۔۔ بہنوں اور بھائیو ۔۔۔ ذرا اس مقابلے پر بھی نظر کریں۔ مضامین لکھنا اور پڑھنا بھی انفارمیشن اور نالج دیتا ہے۔ سو اس مقابلے کے ذریعے اس نکتے پر عمل کر کے دیکھیئے۔
    میں جن راستوں سے گزر جاتا ہوں ایک بار
    مڑ مڑ کے وہ نظارے بلاتے ہیں بار بار

  6. #66
    Section Managers Kainat's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    Germany
    Posts
    14,437
    Blog Entries
    18
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ

    اونہوں ۔۔۔۔ بہنوں اور بھائیو، اب آپ سب سے مضمون لکھنے کی توقع ختم۔۔۔ سو جو مضمون آ چکے ہیں۔۔ کم سے کم انھیں پڑھ ہی لیں۔
    میں جن راستوں سے گزر جاتا ہوں ایک بار
    مڑ مڑ کے وہ نظارے بلاتے ہیں بار بار

  7. #67
    Senior Member

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    10,284
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ

    Quote Originally Posted by کائنات View Post
    اونہوں ۔۔۔۔ بہنوں اور بھائیو، اب آپ سب سے مضمون لکھنے کی توقع ختم۔۔۔ سو جو مضمون آ چکے ہیں۔۔ کم سے کم انھیں پڑھ ہی لیں۔
    ابھی مدت ختم ہونے میں دو دن باقی ہیں
    انتظار کیجئے تڑکا لگا کے شاید کوئی لکھ ہی ڈالے مضمون




  8. #68
    روزبیہ خواجہ
    Guest

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Wish View Post



    انٹرنیٹ کے فوائد

    سائنس کے شاہکار انٹرنیٹ کی جب ہم بات کریں تو یہ ایک ایسی ٹیکنالوجی ھے جس سے مستفید ہونے والا ایک ٹکٹ میں دو نہیں دو ہزار مزے کا محاورہ بولنے لگتا ہے۔ انٹرنیٹ کا استعمال آسان ہے اس لئے ہر بندہ برابری کی سطح پر اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہےخواہ بڑا ہو یا چھوٹا۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اس جال کے زریعے اب ہر کسی سے ہر جگہ آسانی سے رابطے میں رھا جا سکتا ہے۔ ہر چیز سے متعلق معلومات کے حصول میں صرف چند منٹ لگتے ہیں،انٹرنیٹ نہ صرف ہماری معلومات میں اضافہ کرتا ہے بلکہ ہمارا وقت بھی بچاتا ہے۔


    بہت اچھا لکھا ہے۔

  9. #69
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Location
    Kharian, Gujrat, Punjab, Pakistan
    Posts
    2,500
    Blog Entries
    4
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ

    Quote Originally Posted by کائنات View Post
    اونہوں ۔۔۔۔ بہنوں اور بھائیو، اب آپ سب سے مضمون لکھنے کی توقع ختم۔۔۔ سو جو مضمون آ چکے ہیں۔۔ کم سے کم انھیں پڑھ ہی لیں۔
    کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ???
    لکھنے کے ساتھ ساتھ پڑھنے بھی پڑھیں گے۔

    مقابلہ شروع کرتے وقت پڑھنے کی شرط نہیں تھی۔;d
    "Tolerance means to bear pain and hardships with patience"

  10. #70
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ



    ڈیجیٹل سیکیورٹی

    آسان الفاظ میں ڈیجیٹل سیکیورٹی کا مفہوم تمام برقی یا الیکٹرانی آلات کے استعمال اور روابط میں تحفظ بنتا یے۔ لیکن جوں جوں ہماری روزمرہ زندگی میں برقی آلات، ذرائع ابلاغ اور مواصلات کو ترقی و ترویج مل رہی ہے، ڈیجیٹل سیکیورٹی کا مفہوم بھی بدلتا جا ریا ہے۔ یہ آج کی دنیا کا صرف ایک ابھرتا ہوا مسئلہ ہی نہیں بلکہ یہ ایک علیحدہ علم، ایک مکمل فنی شعبہ اور مقبول پیشہءروزگار ہے۔ ایسے میں بے شمار کتب پہ مشتمل اس موضوع کی وسعت کو ایک مضمون کی جامعیت میں سمونا دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہوگا۔ چناچہ یہاں ہم مختصرا” اس مسئلہ کے آغاز و ارتقاء، مختلف پہلو، اور تدارک وغیرہ کے چیدہ چیدہ پہلوؤں پر نظر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    ڈیجیٹل سیکیورٹی محض پچھلے بیس برس میں بتدریج پاؤں پھیلا کر ایک بڑا مسئلہ بنا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ روزمرہ زندگی میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا بڑھتا ہوا دخل ہے۔ سنہ انیس سو نوے میں مائیکروسوفٹ نے پی-سی(ذاتی کمپیوٹر) کے ساتھ پہلی ونڈو (تین) نکالی تھی۔ یہی ایپل کے میکنٹاش کلاسک کا آغاز بھی تھا، جو پہلی بار رنگین تصاویر اور عکس سے مزین تھا۔ اسی اثناء میں انٹرنیٹ نے ہر خاص و عام کی توجہ کھینچ لی۔ یہ بیوپاری کا دور نہیں تھا۔ زیادہ تر کمپیوٹر اداروں یا تحقیقی مراکز کے توسط سے رابطہ کرتے تھے۔ آن لائن خدمات کے ادارے اپنے دروازے پی-سی یوزر کے لیے کھول رہے تھے۔ اور ڈیٹا کمیونیکیشن ، سائیبر سپیس اور سپر ہائی وے جیسے الفاظ بھاری بھرکم لگتے تھے۔ آی-آر-سی کے چیٹ رومز بھرے رہتے۔ اور کسی کے ذاتی فولڈر میں اسکے تازہ سی-وی اور پینٹ برش میں بنائے ہوئے چند شاہپاروں، محفوظ شدہ بیک گراؤنڈز اور کرسر تھیم کے علاوہ زیادہ کچھ نہیں ھوتا تھا۔ اے ڈرائیو کی میں سب کچھ سنبھال لیا جاتا تھا۔ اور شائد اب بھی کچھ لوگوں کو ہارڈدسک کو آٹو موڈ میں لا کر نیوٹرل کرنے، اور آٹوایگزک بیٹ فائیل میں ری-سٹارٹ لکھ کر پی-سی کریش کرنے کی ”معصوم“ شرارتیں یاد ہوں۔

    لیکن پچھلے بیس برس میں ہر چیز کے ساتھ ”ڈیجیٹل“ کا لاحقہ جڑ گیا ہے۔ سو اب یہ ڈیجٹس ہمارے فون، کیمرے، ٹی-وی ہی میں نہیں، ہمارے سکول، کالج، ہسپتال، بینک اور بازار میں بھی چھا چکے ہیں۔ تھری ایم ایم فلاپی جو بلو-رے سے بدل چکی ہے۔ ٹی-وی کے آگے رات آٹھ بجے بیٹھنے والے اب اپنا پسندیدہ پروگرام فرصت کے لمحوں کے لیے محفوظ کر لیتے ہیں۔ پانچ، چھ سالہ بچے ای میلز پا رابطہ رکھے ھوئے ہیں۔ اور ان سے بھی چھوٹے اپنے پسندیدہ کارٹون کے ویب سائیٹ کھول کر بیٹھے ہیں۔ ذاتی فولڈرز میں لوگوں کے پاسپورٹ، اور مقالہ جات پڑے ہیں۔ جب استعمال عام ہوا، تو تحفظات بھی بڑھ گئے۔ جب مواقع لامتناہی ہوئے تو جرائم بھی زیادہ ہو گئے۔

    جس طرح ہر معاشرے میں پر تجسس ذہنوں، چوروں اور وسوسہ و فساد ڈالنے والوں کی کمی نہیں ہوتی اسی طرح ڈیجیٹل کمیونٹی میں بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ لوگوں کا ذاتی مال و متاع، ان کے کاروبار، ان کی تصاویر، شناخت نامہ، بیماریوں کے ریکارڈ، ان کی تحقیق، لکھت پڑھت، سب ایک بھرے بٹوے کی طرح ہے جسے اگر کھلی سڑک پر چھوڑ دیا جائے تو بہتوں کا ایمان ڈگمگا دے۔ ایسے میں اس بہتی گنگا میں ھاتھ دھونے کے لیے افراد کے ساتھ ساتھ امریکہ، ایشیا اور یورپ کی بے شمار کمپنیوں نے پورا پورا حصہ لیا ہے۔

    کمپیوٹر وائرس کی ابتدائی شکل بہت سبک روی اور چابکدستی سے بہت آگے نکل چکی ہے۔ کمپیوٹر فریز کرنا، ہارڈ ڈسک اور مدربورڈ کریش کرنا، کمپیوٹر کو پنگ کرتے رہنا یا اسکی رفتار آہستہ کرنا، اور اسی طرح کے دوسرے روکاوٹی طریق کار اب بھی مروج ہیں لیکن اس سے بھی بڑھ کر ہیں: سائیبر جنگیں، دھمکانا اور ڈرانا، مخرب الاخلاق مواد کی ترویج و ترسیل، شخصیت کی چوری، تحقیق و منصوبہ جات کی چوری، کاپی رائٹ کی خلاف ورزی اور استعمال کنندہ کا پورا پروفائیل بنانا جس سے شماریاتی اداروں کو اپنے صارفین کے بارے میں ہر قسم کی معلومات حاصل ہوجاتی ہیں، یعنی وہ ناشتے میں کیا کھاتے ہیں سے لے کر انہوں نے کل کونسی مووی دیکھی تک۔ ہم کہ سکتے ہیں کہ یہ باتیں تو ہم خود بھی بتا دیتے ہیں لیکن ہمارا بتانا اور ہماری بے خبری میں اسے چرانا دو الگ الگ باتیں ہیں۔ ہم کچھ لوگوں پر اعتماد کرتے ہیں لیکن سب پر نہیں۔ مائیکروسوفٹ نے ایک عرصہ تک اپنے صارفین کی بغیر اجازت اپنے لیے ایک چور دروازہ کھلا رکھا۔ جس کی بنیاد پر اسے بھاری جرمانہ کا سامنا کرنا پڑا۔

    آج ان تمام حرکات، سپامنگ (بن چاہی معلومات)، پشنگ(میل کے ذریے معلومات منگوانا)، سنفنگ(آن لائن پیکٹ کو چرانا)، ٹریشنگ (ٹریش سے معلومات چرانا) اور ویششنگ(جعلی فون پر آپکی ذاتی، بہت خاص معلومات کا حصول) سے لوگوں کے تحفظ کے لیے بہت سخت قوانین بن گئے ہیں۔ ای میل کو کسی بھی شخس کی قانونی تحریر مان لیا گیا ہے۔ محدود حقوق کے فری وئر اور کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کی سزائیں اب کہیں سخت ہیں۔ بچوں کے بچاؤ کے لیے مختلف سوفٹ وئیرز آگئے ہیں جو چھان پھٹک کر معلومات پردہ پر لاتے ہیں۔ آن لائین خریداری کو روزبروز زیادہ مخفی کیا جا رہا ہے۔ لیکن ھیکرز آج بھی نئے سے نئے چور دروازے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ لوگوں کو آج بھی چھوٹی گلی کی تلاش رہتی ہے جو تفریح اور معلومات کو بلامعاوضہ ان تک لا سکے۔ کمپنیاں آج بھی اشتہارات کی آڑ میں ہمیں جانچ رہی ہیں۔

    اس کا تدارک صرف اس صورت میں ممکن ہے جب ہر استعمال کنندہ کو اپنی اور دوسروں کی حدود کا واضح علم ہو۔ کمپیوٹر کے آغاز میں لوگ اپنے اصل نام کو مخفی رکھتے تھے۔ وہ اسوقت کا حفاظتی اقدام تھا۔ آج سکولوں میں انٹرنیٹ پرائیویسی میں اینٹی وائرس کا استعمال سمجھایا جاتا ہے۔ اور یہی سچ ہے کہ ہمیں اب اپنی مشینوں میں وائرس سے بچاؤ ، ڈیٹا بیک اپ اور سرج کنٹرول کے پروگراموں کی لازمی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی معلومات کو بیرونی عوامل سے پیدا شدہ روکاوٹ اور نقصان سے بچانے کی ضرورت ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہم اپنے گھروں کو چوروں سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ عدم تحفظ نہیں بلکہ ایک متوازن اور ذمہ دار ڈیجیٹل معاشرے کے قیام کی کوشش ہے۔

    ڈیجیٹل انقلاب کے پیچھے کچھ لوگوں کے خواب تھے۔ انسانی بہبود کے، آرام اور تعیش کے، علم کو عام کرنے کے، صحت و تندرستی کے اخراجات کم کرنے کے، حکومتوں کو زیادہ تندہی سے اپنی خدمات سرانجام دینے کے قابل کرنے کے، نئی نوکریوں کو پیدا کرنے کے خواب، جن کی تعبیر میں آج دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے۔ ہر شخص کا ہر شئے سے رابطہ ممکن ہے۔ لیکن یہ نیا گاؤں اپنے باسیوں سے احساس ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔ ڈیجیٹل آلات کے بحفاظت استعمال کی توقع کرتا ہے۔ اسی کا نام ڈیجیٹل سیکیورٹی ہے۔
    ======



    [SIGPIC][/SIGPIC]

  11. #71
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ



    انٹر نیٹ کے فوائد


    جدید سائنس کی جدید ٹیکنالوجی انٹر نیٹ نے جہاں دنیا کو گلوبل ولیج بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے وہی بہت سے افراد کے روزگار کا وسیلہ بھی بنا ہے۔آج بہت سے افراد انٹر نیٹ سے وابستہ ہیں۔انٹر نیٹ نے پوری دنیا کو سمیٹ کر کمپیوٹر میں قید کردیا ہے۔اب آپ کو جو اور جس بارے جاننا ہے انٹر نیٹ آپ کو مطلوبہ مواد فراہم کردے گااور وہ بھی سیکنڈوں میں ۔اسے اللہ دین کے چراغ کا جن کہا جاسکتا ہے بلکہ انٹر نیٹ کو کمپیوٹر کا جن کہنا بہتر ہوگا۔

    بچپن میں اللہ دین کے چراغ کا قصہ بڑے شوق سے سنتے اور پڑھتے تھے۔چراغ کا جن اللہ دین کی ہر خواہش سیکنڈوں میں ہوری کردیتا تھااور اب وہ جن انٹر نیٹ کی صورت میں حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔آپ کی بہت سی خواہشات کو سیکنڈوں میں پوری کرنا انٹر نیٹ کا ہی کام ہے۔اب آپ اپنے کمرے میں بیٹھے دنیا کے آخری کونے کے بارے میں بھی تازہ ترین خبریں جان سکتے ہیں اور وہاں پر موجود اپنے دوست سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

    آج انٹر نیٹ کے طفیل انسان پوری دنیا سے باخبر ہوچکا ہے اسے دنیا کے کونے کونے کی ثقافت۔رہن سہن ۔موسم حکومت ،سیاست۔صنعت و کاروبار بارے کا پتہ چل چکا ہے۔انٹر نیٹ نے فاصلے مٹادیئے ہیں اور دنیا کو ایک نیا موڑ دے دیا ہے۔
    اگر انٹر نیٹ کے فوائد کی بات کی جائے تو انسان نے اس سہولت سے بہت فوائد حاصل کئے ہیں اور حاصل کرتا جارہا ہے۔

    دنیا کے ہر ملک کا سرکاری ونجی دفتری کام انٹر نیٹ پر منتقل ہوچکا ہے ۔پہلے جو کسی فائل کو ڈھونڈنے میں گھنٹوں لگ جاتے تھے آج انٹر نیٹ پر وہ فائل منٹوں میں آپ کے سامنے آجاتی ہے اور اس طرح جہاں ٹائم کی بچت ہوئی ہے وہی کاغذ کی بھی بچت ہوئی ہے

    انٹر نیٹ کاروباری لوگوں کےلیے بہت مفید ثابت ہوا ہے کہ وہ اب اپنے گھر میں بیٹھے پوری دنیا میں پھیلے اپنے کاروبار کو کنڑول کرسکتے ہیں اور اس کی تازہ ترین اپڈیٹ بارے جان سکتے ہیں ۔عالمی مارکیٹ میں شیئرز بارے جان سکتے ہیں تو اپنی مصنوعات انٹر نیٹ پر سیل کر سکتے ہیں اور ساتھ ہی عالمی منڈی میں اپنی مصنوعات کی کھپت کے نئے مراکز ڈھونڈ سکتے ہیں۔اپنی مصنوعات کی بہتر طریقے سے پوری دنیا میں تشہیر کرسکتے ہیں۔
    آن لائن بینکنک سے کاروباری حضرات کو بہت فائدہ حاصل ہوا ہے اب وہ اپنے گھر یا دفتر میں بیٹھے بیٹھے لاکھوں اربوں روپے بینک سے نکال سکتے ہیں اور جمع کراسکتے ہیں۔اور خریداری بھی کرسکتے ہیں۔

    طالب علم انٹر نیٹ کے ذریعے دنیا بھر ے کے کالج و یونیورسٹیز بارے جان سکتا ہے اور ان میں تعلیم کا معیار۔سبجیکٹ ۔داخلہ۔معلومات اور رزلٹ بارے جان سکتا ہے بلکہ گھر بیٹھے آن لائن کورس کرکے ڈگری حاصل کرسکتا ہے۔امتحانات کی تیاری کےلیے انٹر نیٹ سے مدد لے سکتا ہے۔

    شاعر وادیب حضرات جنہیں قارئین میسر نہیں ہوتے تھے وہ اپنی تخلیقات انٹر نیٹ پر اپنے بلاگ بناکر پوری دنیا کےساتھ شیئر کرسکتے ہیں انہیں یہاں بہت سے قارئیں میسر آجائیں گے۔اور انٹر نیٹ ان کی تخلیقات کو دنیا کے کونے کونے میں بسنے والے لوگوں تک پہنچا دے گا۔مزے کی بات یہ ہے کہ اسے کاغذ کے خرچے سے بچت ہوگی ۔یعنی ہینگ لگے نا پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے۔
    آپ اپنے خیالات وغیرہ کسی فورم کے ذریعے پوری دنیا تک پہنچا سکتے ہیں۔اور دوسروں کے خیالات جان سکتے ہیں ۔دنیا بھر کی معلومات وہ ادب سے اپنے علم میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

    پہلے خط کو آدھی ملاقات کہا جاتا تھاپھر فون نے اسے تہائی ملاقات کردیا مگر اب انٹر نیٹ نے اسے کسی حد تک پوری ملاقات کا ذریعہ بن چکا ہے۔مختلف میسنجر کے ذریعے آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں بسنے والے اپنے عزیزوں و دوستوں کو کیمرے کے ذریعے براہ راست دیکھ اور سن سکتے ہیں۔پوری دنیا کے لوگوں سے گپ شپ کرسکتے ہیں اور نئے دوست بنا سکتے ہیں۔

    فلموں و گانوں کے شوقین افراد کو پوری دنیا کی فلمیں اور گلوکاروں کے گانے انٹر نیٹ پر مل جائیں گے ۔بلکہ ایسی نایاب فلمیں اور گانے بھی قدردانوں کے طفیل آپ کو انٹر نیٹ پر مل سکتے ہیں جو شاید اب کسی ویڈیو سنٹر پر بھی اب دستیاب نہ ہوں۔

    مطالعہ کے شوقین افراد کےلیے پوری دنیا کا ادب انٹر نیٹ پر دستیاب ہے ۔چاہے شاعری ہویا کہانی۔ افسانہ ہو یا نثر۔ تاریخ ہو یا اسلامی کتب ۔قرآن ہو یا احادیث مبارکہ سب انٹر نیت پر دستیاب ہے۔

    انٹر نیٹ ہر عمر و طبقہ کے لوگوں کےلیے یکساں مفید ہے ہر قسم کے ذوق کا حامل انسان انٹر نیٹ کے ذریعے اپنے ذوق کی تسکین کرسکتا ہے۔انٹر نیٹ پر وہ سب کچھ مل جائے گا جو آپ کو چاہیئے ہے۔

    کائنات بارے معلومات ہو یا انبیاء علیہ والسلام کے حالات زندگی۔دنیا کے عظیم لوگوں کی ہسٹری ہو یا اداکاروں کی فلمی زندگی۔سائنسی تحقیق بارے معلومات ہو یا کچن ریسیپیز ۔ویسٹرن کی کاؤبوائے فلم ہو یا بچوں کا پسندیدہ بارنی۔منٹو کا افسانہ ہویا عمیرہ احمد کا ناول۔شیکسپئر کا ڈرامہ ہو یا لاہور کا اسٹیج ڈرامہ ۔میڈونا کا گانا ہو یا سیاستدانوں کی ہلڑ بازی ۔مسٹر بین کی مزاحیہ فلم ہو یا سلطان راہی کی بڑک۔کاروبار ہو یا ضرورت رشتہ یعنی کہ آپ شوہر/بیوی بھی حاصل کرسکتے ہیں ۔ ہے نا مزے کی بات بارہ مصالے کی چاٹ۔سب کچھ انٹر نیٹ پر دستیاب ہے۔

    دنیا کے بدلتے حالات و موسم کی پل پل کی کی خبر انٹر نیٹ پر مل سکتی ۔انسان کی بوریت ختم کرنا انٹر نیٹ کی بہت بڑی خوبی ہے ۔اب بور ہونا چھوڑیے انٹر نیٹ کنکشن لیجئے اور دنیا کی سیر کیجیئے مگرررررررررررر۔

    انٹر نیٹ جہاں آپ کو تفریح مہیا کرے گا ۔آپ کی معلومات میں اضافے کا بحث بنے گا آپ کے کاروبار میں مدد فراہم کرے گا ۔اور آپ کو ایک اچھا انسان بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا تو وہی انٹر نیٹ آپ کو خطرناک شیطان بھی بنا سکتا ہے ۔یہ صرف آپ پر منحضر ہے کہ انٹر نیٹ کا استعمال آپ کیسے اور کن مقاصد کےلیے استعمال کرتے ہیں۔


    [SIGPIC][/SIGPIC]

  12. #72
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ



    انٹر نیٹ کے فوائد


    دس سال پہلے،انٹرنیٹ کا نام بہت سے لوگوں کے لیے ان سنا سا تھا۔پریکٹیکل لائف میں بھی اسے بہت کم سنا جاتا تھا۔لیکن،دورانِ حاضر ،انٹرنیٹ بیش بہا خدمات اور ذرائع جمع کرنے کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔
    انٹرنیٹ کے اہم مصارف ای میل اور ورلڈ وائڈ ویب ہی نہیں بلکہ انٹرنیٹ کا استعمال ان چیزوں کے لیے بے حد ممدو معاون ثابت ہوتا ہے جیسا کہ بزنس کے استعمال کے لیے،طالب علموں کے لیے ،نوجوان طبقے کے لیے ،کھیل تفریح الغرض بیشتر خدمات اس کی ایسی ہیں کو ہمیں زندگی کے کاموں میں مدد فراہم کرتی ہے۔
    بچے اور طالبعلم انٹرنیٹ کا استعمال سر فہرست ہیں۔آج طالب علموں کی بیشتر ضروریات انٹرنیٹ پوری کررہا ہے ۔تیس فیصد اساتذہ طالب علموں کو اسائنمنٹ انٹرنیٹ سے تلاش کرنے کے لیے ہی دیتے ہیں الغرض یہ طالب علموں کی بیش بہا ضروریات کو پورا کرتا ہے۔
    ادب اور مطالعے کا شوق کسے نہیں ہوتا۔۔۔۔مگر آپ کی پسندیدہ کتاب حاصل کرنا ایک مسئلہ۔جسے انٹرنیٹ سے بلکل حل کردیا۔۔۔کسی بھی قسم کی کتاب ،کسی بھی موضوع کی باآسانی دستیاب ہوجاتی ہے۔
    گھریلوں خواتین کے لیے انٹرنیٹ ایک انمول تحفہ ہی ہے۔گھر بیٹھے وہ نت نئ کھانے کی ترکیبیں ،گھریلو ڈیکوریشن ،بچوں کی تربیت اور بہت سی چیزیں جو گھر کی ضروریات کی ہوتی ہیں باآسانی ویب سائٹ کے ذریعے حاصل کر لیتی ہیں۔
    صرف کام ہی نہیں،کسی بھی ملک کی سیر ہو،چٹ چیٹ،گیمز اور تفریح کا بھر پور مزہ آپ اس سے اٹھا سکتے ہیں۔فارغ اوقات میں یہ ایک بہترین اور دلچسپ تفریح بن سکتا ہے۔نا صرف بچوں بلکہ ہر عمر کے لوگوں کے لیے۔
    اگر انٹر نیٹ کے فوائد لکھنے بیٹھے تو صفحوں کے صفحے بھر جائیں۔انٹرنیٹ نے پوری دنیا کو سمیٹ کر ایک ڈبے میں سما دیا ہے جیسے۔ایک منٹ کے اندر آپ یہاں سے وہاں پہنچ سکتے ہیں۔مستقبل میں مزید فوائد ایسے ہونگے جو ہم ایک بٹن دباتے ہی پورے کر لیں گے۔۔


    [SIGPIC][/SIGPIC]

  13. #73
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ



    آن لائن پرائیویسی


    انٹرنیٹ نے انسانی طرز حیات پر نمایاں اثرات مرتب کئے ہیں۔ چاہے وہ معلومات کا حصول ہو یا تفریح کے ذرائعے، مالیاتی معاونت ہو یا خرید و فروخت، سماجی تعلقات استوار کرنے سے لے کر خبر رسانی تک، انسانی زندگی کے متعدد شعباجات میں انٹرنیٹ متحرک نظر آتا ہے۔
    آج اس کے برعکس کہ انٹرنیٹ ہماری زندگی کو سہل بنانے میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے، آن لائن صارفین کو پرائیویسی سے متعلق لا تعداد مشکلات کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انٹرنیٹ سے استفادہ حاصل نہ کرنے والے افراد اب بھی انٹرنیٹ استعمال کرنے سے گریزاں ہیں۔

    تقریباً ایک صدی بیشتر امریکا کے سپریم کورٹ کے جسٹس لوئیس برینڈیس نے پرائیویسی کو "اکیلے رہنے کا حق" قرار دیتے ہوئے اسے ہر انسان کے بنیادی حقوق میں سے ایک قرار دیا۔ پرائیویسی کے بغیر حق رائے دہی کی آزادی اور مختلف انداز میں سوچنے کے رجحانات سرد خانے کی طرف قدم اٹھاتے نظر آتے ہیں۔ انٹرنیٹ مستقل تبدیلی کے مراحل کو تیز رفتاری سے عبور کر رہا ہے اور اسی تیز رفتار تبدیلی کے باعث ڈیجیٹل دنیا میں پرائیویسی یا سیکیورٹی کے اقدامات ڈیجیٹل کوڑے دان کے لئے امیدواران برائے وزارت عظمٰی ثابت ہوتے ہیں۔

    ایک آن لائن صارف جب انٹرنیٹ کی دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اس کی پرائیویسی کے لئے بے شمار خطرات صف بہ صف ہوشیار کھڑے نظر ہیں۔ ایک آن لائن صارف نہ صرف وائرسز، بگز، ٹراجن ہارسز، مالوئیرز اور اسپائیوئیرز کی زد میں ہوتا ہے بلکہ وہ مالی نقصانات اور ہیکنگ سے بھی غیر محفوظ ہے۔ صرف ایک آن لائن صارف ہی نہیں بلکہ کارپوریشنز اور حکومتی ادارے بھی انھی مشکلات سے دوچار نظر آتے ہیں جن میں کارپوریٹ اور حساس حکومتی معلومات کا ہیک ہونا، ای میلز کا پڑھ لیا جانا اور الیکٹرونک مالیاتی اداروں کی ہیکنگ کے ذریعے لاکھوں روپے کی ڈکیتیاں سرفہرست ہیں۔

    نوے کی دہائی میں ماہرین نے آن لائن صارفین کی پالیسی کو محفوظ رکھنے کے لئے "نوٹس انڈ چوائس" کا لائحہ عمل اپنایا جس میں ویب سائیٹس اپنی پرائیویسی پالیسی کے نکات صارفین پر واضح کر دیتی ہیں اور استعمال کرنے یا نہ کرنے کا انتخاب صارف کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ یہ لائحہ عمل کچھ عرصے تک کامیاب رہا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اب صارفین نے ان نکات کا مطالعہ کرنا چھوڑ دیا ہے۔ اس سے بہتر طریقہ کار کو اپنانے کے لئے کام ہو رہا ہے مگر اس سلسلے میں جتنی بھی پیش رفت ہوئی ہے اس کی بنیاد پر فی الحال پرائیویسی مضبوط کرنے کے لئے کوئی نیا طریقہ کار انٹرنیٹ کی دنیا میں متعارف نہیں کروایا جاسکا ہے۔

    سائیبر دنیا میں ایک بڑا رجحان ای بینک ڈکیتی کا پھیلتا نظر آرہا ہے جس کے لئے ہیکرز آن لائن صارفین کے مالیاتی اندراجات اور کریڈٹ کارڈز کی معلومات مختلف طریق کار جیسے اسنفنگ، اسکیم ای میلز، فشنگ وغیرہ کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ اسنفنک جو کہ نیٹورک ٹریفک میں پیکٹ انفارمیشن کا مطالعہ کرنے کا طریق کار ہے، حساس حکومتی اداروں، بزنس سیکٹرز اور کارپوریشنز کی مخبری کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اسنفنک سے بچاؤ کیلئے ایک عام طریقہ انکریپشن کا اپنایا گیا ہے جس میں معلومات کی ترسیل کے لئے بے معنی پیغامات حروف اور ہندسوں کو متبادل حروف اور ہندسوں سے بدل کر بنائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل سگنیچرز اور سرٹیفیکیٹس سوائے وصول کنندہ کے کسی بھی مداخلت کار کی معلومات تک رسائی حاصل کرنے کو ناممکن بنانے میں بڑے مددگار ثابت ہوئے ہیں۔ آن لائن صارفین میں اسکیم میلز اور فشنگ کی دھوکہ دہی کے سلسلے میں آگاہی کی وجہ سے بھی کافی حد تک مالیاتی فراڈز میں کمی واقع ہوئی ہے۔

    آن لائن صارفین کو کمپیوٹر کی تباہکاری کے لئے استعمال ہونے والے پروگرامز جن میں وائرسز جیسے میلیسا ، وارمز، بگز، ٹراجن ہارسز اور مالوئیرز جیسے مائی ڈوم اور بلاسٹر وارم وغیرہ شامل ہیں، سے ہر لمحہ خطرات لاحق رہتے ہیں۔ متعدد وائرسز اور وارمز کسی بھی کمپیوٹر میں زیادہ تر مائیکروسوفٹ کی پراڈکٹس جو کہ بڑی تعداد میں زیر استعمال ہیں جیسے انٹرنیٹ ایکسپلورر اور آؤٹ لک ایکسپریس کے ذریعے داخل ہوتے ہیں۔ مائیکروسوفٹ نے ان تباہکار پروگرامز سے بچاؤ کیلئے متعدد اپ ڈیٹس اور سیکیورٹی پیچز متعارف کروائے ہیں لیکن اس کے باوجود وائرسز میں دن رات اضافہ دیکھنے میں آتا ہے جس کی وجہ ان اپ ڈیٹس اور سیکیورٹی پیچز کا پرانے ہی طرز پر تعمیر ہونا ہے۔ ان وائرسز اور بگز وغیرہ سے بچاؤ کے لئے بہیترے اینٹی وائرس پروگرامز جیسے میک کیفے، نارٹن، وائیریکس وغیرہ بھی متعارف کروائے جا چکے ہیں مگر یہ اینٹی وائیرس پروگرامز بھی تمام کے بجائے کچھ مخصوص ٹراجنز وغیرہ کی روک تھام کیلئے موثر ہیں۔ چونکہ جیسے جیسے اینٹی وائیرسز کی طرز تعمیر میں ترقی ہو رہی ہے ویسے ویسے وائیرسز وغیرہ کی بناوٹ میں بھی نمایاں تبدیلی آرہی ہے جس کی وجہ سے کچھ دن بعد اینٹی وائیرس سوفٹ وئیرز بیکار ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک حل متبادل نیٹ اور میل براؤزرز جیسے نیٹ اسکیپ اور ایوڈورا کا استعمال بھی ہے جو باوجودیکہ کم سہولیات پیش کرتے ہیں پر ان کا حفاظتی ڈھانچہ تقابلی طور پر مضبوط تر ہے۔

    وقت کے ساتھ ساتھ اسپئیوئیرز کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور ماہرین کے مطابق یہ اضافہ ہوتا رہے گا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا کے پچانوے فیصد پی سی اسپائیوئیرز سے متاثر ہیں۔ ہیکرز مختلف قسم کے اسپائیوئیرز استعمال کرتے ہیں جن میں سے بیشتر کا مقصد آن لائن صارفین کی نیٹ سرفنگ کے متعلق معلومات اکھٹا کرنا ہے جو کہ بعد ازاں مارکیٹنگ کے مقاصد کیلئے استعمال ہوتی ہیں۔ اسپائیوئیرز سے بچاؤ کیلئے متعدد اسپائیوئیر ریموول ٹولز دستیاب ہیں لیکن ہیکرز کچھ ہی عرصے بعد ان کے توڑ تیار کر لیتے ہیں جس کے نتیجے میں ان ٹولز کی موجودگی کے باوجود اسپائیوئیرز کسی بھی پی سی تک آسانی سے رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ کچھ اسپئیوئیرز کی ہئیت ونڈوز ایرر میسیجز کی جیسی بنائی جاتی ہے اور یہ ایک پاپ ونڈو میں ظاہر ہوتے ہیں۔ نتیجے میں صارف اسے کوئی ونڈوز کا مسئلہ سمجھتے ہوئے ڈاؤنلوڈ کر لیتا ہے۔ اس کے علاوہ اسپائیوئیرز کسی پروگرام کی انسٹالیشن کے درمیان یا پھر کسی انفیکٹڈ ویب پیج کھل جانے یا پھر انٹرنیٹ ایکسپلورر کے حفاظتی ڈھانچے میں کمزوریوں کے باعث پی سی تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ ونڈوز ایکس پی استعمال کرنے والے صارفین کو سروس پیک ٹو انسٹال کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جس سے انٹرنیٹ ایکسپلورر کے حفاظتی ڈھانچے میں موجود کمزوریوں کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

    جیسے جیسے آن لائن صارفین کی پرائیویسی کو محفوظ بنانے کے لئے موثر اقدامات کئے جا رہے ہیں ویسے ویسے ہی ہیکرز بھی اپنے سلسلہ واردات میں مستقل ترقی کر رہے ہیں۔ اس کی ایک بنیادی وجہ جو دیکھنے میں آتی ہے وہ پرائیویسی مضبوط کرنے والے سوفٹ وئیرز کا پرانے طرز یعنی تباہکار سوفٹ وئیرز کو تلاش کر کے ان کو ختم کرنے پر بنایا جانا ہے نا کہ براؤزرز وغیرہ کے حفاظتی ڈھانچے کو مضبوط کرنا ہے۔ مختصراً آن لائن صارفین کی پرائیویسی کو مضبوط کرنے کیلئے صارفین میں آگاہی کے ساتھ ساتھ تکنیکی کمزوریاں جن سے ہیکرز کو فائدہ پہنچتا ہے پر ابھی بھی سخت غور کرنے کی ضرورت ہے۔


    [SIGPIC][/SIGPIC]

  14. #74
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ



    آن لائن پرائیوسی

    پرائیویسی کی بنیادی تعریف کسی بھی شخص کا اپنی ذاتی معلومات کو دوسروں کی دسترس سے محفوظ رکھنے کا حق ہے۔ آن لائن پرائیویسی سے مراد کسی شخص کا انٹر نیٹ پر اپنی ذاتی معلومات اور ان تک رسائی کو کنٹرول کرنے کا حق ہے۔ موجودہ دور میں انٹر نیٹ بچوں، جوانوں سے لے کر بوڑھوں تک کی ضرورت بن چکا ہے۔انٹر نیٹ سے جس طرح زندگی میں لا تعداد آسانیاں اور تبدیلیاں آئی ہیں وہ کسی بھی شخص کو اس کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی طرف راغب کرتی ہیں۔ تاہم انٹر نیٹ کے جہاں سینکڑوں فوائد ہیں وہیں اس کے غیر محتاط استعمال سے صارف کی پرائیویسی کے متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ انٹر نیٹ سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اپنی آن لائن پرائیویسی کی حفاظت کی جائے تاکہ کسی قسم کی ذاتی یا مالی پریشانی سے بچا جا سکے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ اکثر اوقات انٹر نیٹ صارفین ضروری معلومات نہ ہونے کی وجہ سے اپنی پرائیویسی کی حفاظت نہیں کر پاتے اور مختلف قسم کے سیکیوریٹی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی پرائیویسی کس طرح متاثر ہوتی ہے اور اس کو کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے آئیے مختصراً اس کا جائزہ لیتے ہیں۔

    انٹر نیٹ کے ذریعے چاہے کوئی چیز خریدنی ہو یا کسی سائٹ کی ممبر شپ لینی ہو، صارفین کو کچھ فارمز بھرنے پڑتے ہیں،جن میں ان کے متعلق معلومات جیسے نام، ای میل ایڈریس، گھر کا پتہ، فون نمبر وغیرہ مانگے گئے ہوتے ہیں۔ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ اپنی ذاتی وڈیوز اور تصاویر شئیر کرنا بھی اب معمول کی بات ہے۔ یہ وہ معلومات ہیں جو صارف خود شئیر کرتے ہیں۔ انٹر نیٹ پر شئیر کرنے کے بعد یہ معلومات پرائیویٹ نہیں رہتیں۔ مختلف سائٹس کی پرائیویسی پالیسی مختلف ہو سکتی ہیں اور یہ سائٹس اپنی پالیسیز کے حساب سے یہ معلومات آگے فراہم کر سکتی ہیں۔ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس بچوں اور جوانوں دونوں میں یکساں مقبول ہیں۔ اگر ان سائٹس کو بے احتیاطی سے استعمال کیا جائے تو یہ بھی ذاتی معلومات انٹر نیٹ پر بیٹھے ہوئے پری ڈیٹرز یا شکاریوں تک پہنچا سکتی ہیں۔


    اس موقع پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انفرادی طور پر اپنی پرائیویسی کو محفوظ رکھنے کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے۔ماہرین اس بارے میں یہ اقدامات تجویز کرتے ہیں۔

    ایسی ویب سائٹس کے وزٹ سے گریز کریں جن کی کوئی پرائیویسی پالیسی نہ ہو۔

    ذاتی معلومات جیسے نام، ای میل ایڈریس، گھر کا پتا، فون نمبر، پیدائش کی تاریخ، پسند، مشغلے، مالی معلومات وغیرہ شئیرکرنے سے پہلے سائٹ کی پرائیویسی پالیسی کا مطالعہ کریں۔ اور اس بات کی تسلی کر لیں کہ یہ معلومات صارف کی مرضی کے بغیر کسی تیسری پارٹی کو نہیں مہیا کی جائیں گی۔

    کسی بھی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کو استعمال کرتے وقت اس بات کا دھیان رکھیں کہ کن لوگوں کی آپ کی معلومات تک رسائی ہے۔ اکثر سائٹس شئیرنگ کنٹرول کرنے کے لئے صارف کو سیٹنگز پر کنٹرول دیتی ہیں، جیسے فیس بک میں یہ ہر شخص اپنی معلومات تک رسائی کو کنٹرول کر سکتا ہے اور اس کو اپنی پسند کے لوگوں تک محدود کر سکتا ہے۔

    اگر آپ دوستوں اور رشتی داروں سے تصویریں یا وڈیو شئیر کرنے کے لئے تصویریں یا وڈیو شئیرنگ کی سائٹ استعمال کر رہے ہیں تو اس بات کا خاص دھیان رکھیں کہ آپ صرف مطلوبہ لوگوں کے ساتھ ہی تصاویر شئیر کر رہے ہیں اور اجنبیوں کے ساتھ نہیں۔ اگر سائٹ میں اس طرح کی سہولت مہیا کی گئی ہو کہ یہ دیکھا جا سکے کہ کون کون ان تصاویر تک رسائی حاصل کر رہا ہے تو وقتاً فوقتاً چیک کرتے رہنا چاہئے اور اگر ان میں کوئی اجنبی شخص موجود ہو تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو اپنی پرائیویسی کی سیٹنگز کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔

    انٹر نیٹ کے اس دور میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آن لائن پرائیویسی سے متعلق خود کو ایجوکیٹ کریں کہ یہی پرائیویسی کو محفوظ کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ اس طرح ان پریشانیوں سے بچا جا سکتا ہے جو پرائیویسی محفوظ نہ ہونے کی صورت میں پیش آ سکتی ہیں۔

    [SIGPIC][/SIGPIC]

  15. #75
    Senior Member

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    10,284
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: 1US-Writers...مضمون نویسی کا پہلا مقابلہ

    سب کی تحریریں پڑھی ہیں ۔سب نے بڑے خوبصورت انداز اور خوبصورت الفاظ میں انٹر نیٹ کی خوبیوں کا احاطہ کیا ہے اور ڈیجیٹل سیکیورٹی اور آن لائن پرائیویسی بارے بھی بہت معلومات افزا مضمون پڑھنے کو ملے ہیں بہت بہت شکریہ جی اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ہو
    بس یہی کہوں گا کہ کہ لکھتے رہا کیجئے تڑکا لگا کے




Page 5 of 7 FirstFirst ... 34567 LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •