Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Page 1 of 3 123 LastLast
Results 1 to 15 of 34

Thread: [Afsana 063] درد کا درماں

  1. #1
    Section Managers Kainat's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    Germany
    Posts
    14,437
    Blog Entries
    18
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    [Afsana 063] درد کا درماں

    درد کا درماں

    مجھے کمپیوٹر کلاس سے گھر آئے ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی۔ کہ سامنے والے گھر میں پھر شور شرابا اٹھا۔ طبیعت ایک دم بڑی مکدر ہوئی۔ کہ لوگ نہ موقع دیکھتے ہیں نہ دوپہر نہ سہ پہر، نہ گرمی نہ سردی اور ہو جاتے ہیں جھگڑنے شروع ۔

    آج وقت ذرا مشکل سے ہی گزرا تھا، ردا آئی نہیں تھی۔ واپسی پر بھی مجھے تنہا ہی آنا پڑا تھا۔ پیاس سے برا حال تھا۔ گرمی اپنے جوبن پر تھی۔ پسینہ سر سے پاؤں تک بہہ رہا تھا۔ ابھی گھر سے کافی دور تھی اور گلا پیاس سے خشک ہو رہا تھا۔ ویڈیو شاپ پر لگے گانے کی آواز کان میں پڑی۔

    نیناں برسے رم جھم رم جھم
    پیا تورے آون کی آس

    میں نے ماتھے سے پسینہ پونچھتے آسمان کی طرف دیکھا۔ واقعی بارش کے تو کوئی آثار نہیں تھے، سو پھر ایسے میں نیناں ہی برس لیں تو اچھا ہے، کبھی نینوں کے جام بھر جاتے ہیں اور پھر وہی جام آنکھوں سے انڈیل دئیے جاتے ہیں۔

    یہ نیناں بھی خوب ہیں،

    کبھی یہ نیناں برسات بن جاتے ہیں
    پھر یہ نکھر کر درپن ہو جاتے ہیں
    اور ان میں جادو بھر جاتا ہے
    تو جادو بھرے نینوں میں پیار تو سمائے گا ہی۔

    یہی سوچتے سوچتے میں گھر میں داخل ہوئی تھی۔

    صبح تو روشن اور چمکیلی ہی نمودار ہوئی تھی مگر پھر دوپہر ڈھلتے ڈھلتے بادلوں نے سورج کو روپوش کرنا شروع کر دیا تھا اور آندھی کے آثار ہو رہے تھے۔

    کہ اماں کی آواز سنائی دی۔

    "بیٹا چھت پر کپڑے بھی ڈالے ہیں انھیں اتار کر لے آؤ تو اچھا ہے، ورنہ مٹی سے اٹ گئے تو گئی محنت بےکار، "

    " ماں، میں لے آؤں گی آپ بے فکر رہیں۔ " یہ کہہ کر میں نے انھیں مطمئن کرنے کی کوشش کی۔

    اب آندھی کے آثار دیکھے تو فورا چھت پر جا پہنچی۔ گہری سانس لے کر اپنے آپ کو ذرا ریلیکس محسوس کرنے کی کوشش کی۔

    کپڑے اتار کر نیچے اترنے کو تھی کہ کتے کے زور زور سے چیاؤں چیاؤں کی آواز آئی۔ اور اس کے ساتھ ہی کسی آدمی کے بھی فورا چیخنے چلانے اور منہ سے بے تکے فقرے بولنے کی۔ سمجھ نہیں پائی کہ وہ اپنے کتے پر چیخ رہا تھا یا کتے کی وجہ چیخ رہا تھا۔

    "اوہ، اچھا یہ تو وکیل صاحب کا ڈوگی ہے۔ "میں نے بڑبڑاتے ہوئے خود سے کہا "

    " اب اسے نہ جانے کیا آفت آئی ہے۔ اس کی چیاؤں چیاؤں تو چلو سمجھ آتی ہے کہ اس کی تو زبان ہی یہی ہے ۔ لیکن یہ وکیل صاحب کو کیا ہوا۔ کچھ تو اپنے عہدے اور رتبے کا خیال کریں۔ "

    میں یہ سوچتی ہوئی واپسی کے لیے مڑی۔

    کپڑے اتار کر ایک طرف رکھے، ابھی انھیں تہ لگانے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ ساتھ والی چھت پر مجھے شمع نظر آ گئی۔ اس نے بھی مجھے دیکھ لیا تھا ہم دونوں ہی درمیانی دیوار کے قریب آ گئیں۔

    " ارے واہ آج تو کئی روز بعد نظر آ رہی ہو، " وہ مجھے دیکھتے ہی بولی

    " کیا کروں کام ہی اتنے ہوتے ہیں کہ بروقت نپٹ ہی نہیں پاتے۔ بس ویک اینڈ پر تھوڑا آرام کا موڈ بنتا ہے اور ڈھیروں کام نکل آتے ہیں۔"

    میں نے بیزاری سے مصروفیت کا رونا رویا

    " ہاں یہ تو ہے۔ " اس نے بھی اتفاق کیا " اچھا اور سنو تم نے شعاع میگزین پڑھ لیا۔؟ "

    میں اور وہ دونوں ہی پڑھنے کے شوقین تھے۔ ارے یہی ناول افسانے وغیرہ کی بات کر رہی ہوں، لوگوں کے چہرے پڑھنے کی فرصت کہاں، ہم دونوں ہی گریجوئیشن کر کے فارغ ہو چکی تھیں۔ میں نے البتہ ان دنوں کمپیوٹر کلاسز جوائن کی ہوئی تھیں۔ میں شعاع میگزین لیتی تھی اور وہ خواتین ڈائجسٹ، اور ہم دونوں بدل بدل کر پڑھ لیا کرتی تھیں۔

    " نہیں ابھی ردا پڑھ رہی ہے، " میں نے جواب دیا

    "پتہ ہے اس بار فرحت اشتیاق کا ناول شروع ہوا ہے خواتین ڈائجسٹ میں۔۔۔۔۔۔ ہم سفر۔۔ "


    " اچھا واقعی " میرا لہجہ تجسس سے بھر پور تھا۔

    کیونکہ فرحت اشتیاق میری فیورٹ رائیٹر ہیں۔ اور وہ رائیٹر فائزہ افتخار کی فین۔ سو جس ماہ ہماری فیورٹ رائیٹرز کی تحریر آتی۔ ہم بہت ایکسائیٹڈ ہو جاتے۔

    " اور تم سناؤ تمہاری فائزہ افتخار کی بھول بھلیاں کیسی جا رہی ہے۔ ؟" میں نے اسے چھیڑا۔

    " اچھی جا رہی ہے۔ بےچاری منزہ۔۔۔۔ اور اس کی ساس۔۔۔ توبہ توبہ شمشاد بیگم، ان کی تو زبان آگے خندق ہی نہیں۔ کیا چن چن کے منہ سے انگارے اڑاتی ہیں، منزہ اس کا مقابلہ دو بدو کبھی نہیں کر پائے گی، اسے تو کچھ اور ہی ڈپلومیسی اختیار کرنا چاہیئے۔" وہ بولی

    ہم دونوں بچپن کی سہیلیاں، بچپن کا ساتھ رہا تھا۔ اس لیے اک خاص انسیت سی تھی۔ پھر ان کے ساتھ دیوار بھی سانجھی تھی۔

    اللہ کا شکر تھا ہمارے گھر میں سب ہی امن پسند اور صلح جو نیچر کے افراد تھے۔ ابا امن کا جھنڈا تھامے رہتے اور اماں امن کی فاختہ اڑایا کرتیں،

    ویسے بھی اماں کافی سمجھدار اور دور اندیش تھیں۔ کوئی بھی موقع کسی کو ہاتھ نہ آنے دیتیں۔ جس سے باقیوں میں بھی جھگڑنے کی کوئی وجہ ہاتھ نہ آتی۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے کام آتیں، بلکہ دوسروں کے دکھ اور غم تکلیفیں انھیں پہلے نظر آتے، نیکی کرنے کا چھوٹا سا موقع بھی ہاتھ سے نہ جانے دیتیں۔

    ہم بہن بھائی بھی شیروشکر رہتے۔

    برعکس اس کے ساتھ والے شمع کے گھر میں وہ ماحول نظر نہ آتا تھا۔ پہلے اس کے والدین کی لڑائی جم کر ہوا کرتی تھی۔ دونوں ہی خوب دم خم کے ساتھ میدان میں اترتے۔ ایک لمبے بحث مباحثہ کے بعد لڑائی تکرار اور چیخ و پکار تک نوبت پہنچ جاتی۔ پھر میاں تو باہر کی راہ لیتا اور ماں دھنا دھن بچوں پہ اپنا غصہ اتارتی۔

    اور یہ سلسلہ سالوں سے چلا آ رہا تھا۔ مجھے بہت ہمدردی ہوتی شمع سے کہ وہ بچاری اس طرح کے ماحول میں بڑی ہوئی ہے اور جب اس کا موازنہ اپنے اور اپنے گھر سے کرتی تو بے اختیار اللہ کا شکر ادا کرتی۔

    ہم سایہ یعنی ایک دوسرے کے سائے میں زندگی بسر کرنے والے۔۔۔ تو چلیئے اب لگے ہاتھوں سامنے والے ہمسایوں کی جان پہچان بھی کرا دوں۔ جن کے سائے تلے ہم پل رہے تھے اور وہ ہمارے سائے تلے۔

    جی جناب نام سن کر ہی آپ پر رعب پڑ جائے گا۔ ہاں تو۔۔۔ وکیل صاحب کا گھر، یعنی ایک پڑھے لکھے انسان کا گھر ۔۔۔

    مگر نہیں ٹھہرئیے کبھی بھول کر بھی نہ سوچنا کہ یہ کسی نرم دل ، ہمدرد اور عاجز قسم کے وکیل ہوں گے۔ اگر ان میں یہ سب لطیف علامتیں ہوتیں تو یقینا یہ کوئی شاعر یا فنکار ٹائپ کی ہستی ہوتے۔ مگر ان کا تو غصیلہ پن آپ ان کا تعارف ہے۔ لیکن رکیے اب اتنا بھی منفی ان کے بارے میں نہ سوچیے، آخر وہ جھولے سے تو یہ چیز ساتھ لے کر نہیں آئے۔ حالات نے یقینا ان کو ایسا بنا دیا ہو گا۔

    وہ دو بھائی تھے ابھی چھوٹے تھے کہ باپ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ماں نے کچھ سال بعد دوسری شادی کر لی۔ ان دونوں بھائیوں کی پرورش ننھیال میں ہوئی۔ یہ پڑھ لکھ تو گئے۔

    مگر حالات کے ہاتھوں اتنا نروٹھا پن ان میں جمع ہو گیا کہ آج بھی اپنی ماں سے نفرت بھرا سلوک ہی کرتے ہیں۔ انھیں لگتا تھا کہ ماں نے انکی اور بھائی کی پرواہ نہ کرتے اپنی زندگی شروع کر لی۔ ماں انھیں خودغرض عورت نظر آتی تھی۔

    وہ جب بھی بیٹے کی محبت میں ان کے پاس آئی۔ تو ہمیشہ ان کے گھر جھگڑا ہوتا، ماں اپنی صفائیاں دیتیں اور یہ انھیں چار باتیں سنا کر اور رلا کر ہی بھیجتے۔ وہ بے چاری روتی ہوئیں بد دل ہو کر جاتیں، سب کا خیال ہوتا کہ اب وہ دوبارہ نہیں آئیں گی لیکن ممتا کی ماری کچھ عرصے بعد پھر آ جاتیں اور پھر وہی سب کچھ دہرایا جاتا۔

    آگ ہی آگ
    اللہ جانے وکیل صاحب کیوں اتنے آگ کے شعلے بنے بھڑکے ہوئے ہی رہتے۔
    شائد زندگی میں کی جدوجہد نے ان کے اندر اک آگ سی بھر دی تھی، اس آگ کی تپش کا یہ فائدہ ضرور ہوا تھا کہ انھوں نے اپنے آپ کو زندگی کے میدان میں کھڑا ضرور کر لیا تھا۔ خود بھی اچھا پڑھ لکھ گئے اور بھائی کو بھی سنبھال لیا۔

    شکر ہے پورے انگارے انھوں نے خود ہی چبا لیے، کیونکہ بھائی کی فطرت انکے الٹ تھی۔

    ماں کے بعد بیوی ان کے عتاب کا نشانہ بنتی۔ وکیل صاحب کتنی گھن گرج کے ساتھ اس پر برستے کہ محلے کی عورتیں گھر بیٹھیں دانتوں میں انگلیاں دبا لیتیں۔

    لیکن اف کیا عورت تھیں وہ

    کہ وکیل صاحب کی جلی کٹی باتیں چپ چاپ سنتی رہتیں مگر جوابا ایک لفظ بھی آگے نہ بولتیں۔ حیرانی کی بات یہ تھی کہ مرد کے ہاتھوں اتنی درگت بننے کے بعد محلے کی عورتوں کا خیال ہوتا کہ وہ ان سے ذرا شرمساری سے ملیں گی، نظریں جھکی ہوئی ہوں گی۔ الفاظ ان کا ساتھ نہیں دے رہے ہوں گے اور اس عورت کو ذرا دبانے میں آسانی رہے گی۔

    مگر ایسا کچھ بھی نہ ہوتا ۔ ۔
    اور ایسا ہو بھی کیوں۔۔۔
    آپ نے ایسا سوچا ہی کیوں۔۔۔

    میاں کی جلی کٹی سن کر ہی وہ سیر ہو جاتی تھیں۔ باقی عورتوں سے تو وہ ۔۔۔ ہم سا ہو تو سامنے آئے ۔۔۔۔ کے مصداق ملتیں۔ اور میاں کی سنی اتنی فضیحتیں انھیں ان عورتوں کو سنانے میں مدد دیتیں۔

    ارے، میں تو اماں کی طرح دوسروں کا ہی پنڈار کھولے بیٹھی ہوں۔ اپنے بارے میں تو بتایا ہی نہیں، اماں ابا اور ان کے یہ ہونہار، ہم دو بہنیں اور دو بھائی گھر کی رونق بڑھائے ہوئے تھے،

    بھائی، اشعر اور معیز ابھی چھوٹے تھے، سکول کی پڑھائی پڑھ رہے تھے، بڑے ہوتے تو شائد ہم پر کچھ رعب بھی جما رہے ہوتے یا پانی کے گلاس منگوا رہے ہوتے۔
    اریب ۔۔۔ مجھ سے چھوٹی میری پیاری بہن ابھی گریجوئیشن میں تھی۔


    اور میں کون؟


    وہی ۔۔۔۔ جو شروع سے ہی آپ کو اپنے ساتھ لے کر چل رہی ہوں، ابھی بھی میرے بارے میں آپ نہیں جان پائے۔۔ تو میں

    فرزہ ۔۔۔ میرے نام کا معنی آپ کو اس افسانے کے آخر میں پتہ چل جائے گا۔ ابھی تو مجھے اپنے نام کے مصداق کچھ کر لینے دیجئیے۔

    میں کمپیوٹر کلاس کے بعد گھر میں اماں کی مدد کرتی۔ میری انگیجمنٹ ہو چکی تھی ذیشان میرے خالہ زاد کے ساتھ۔ خالہ اور اماں، دونوں بہنیں اپنا رشتہ اب مستقبل کی سمدھنوں کے روپ میں بدلنے کا سوچ چکی تھیں۔ میری اور ذیشان کی تو پوری کوشش ہو گی نا۔۔۔ کہ ہماری اچھی نبھ جائے ورنہ ان بہنوں نے تو اپنے رشتے میں دراڑ ڈالنے کا پورا رسک اٹھا لیا تھا نا۔

    اب میری شادی بھی اسی سال کے اندر متوقع تھی۔ اور اریب کے بھی رشتے آ رہے تھے اور اماں ابا ان پر بھی سوچ بچار میں ہوتے اور اماں اس وقت لازمی ایک دو ٹھنڈی سانسیں بھی بھرتیں،

    کاہے کو۔۔۔ ابھی بتاتی ہوں دو گھونٹ پانی تو پی لوں۔

    اماں کے اس طرح غیر متوقع ٹھنڈی آہیں بھرنے پر ابا بھی الرٹ ہوجاتے کہ شائد انھوں نے انجانے میں نیک بخت کو کوئی دقت پہنچا دی ہے۔ اور بیوی کے حقوق۔۔۔۔ میں ان کی پکڑ نہ ہو جائے۔ مگر اماں کہتیں

    " مولا تیرا لاکھ لاکھ احسان ہے شکر ہے کہ تو نے اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھا ہے۔ پریشانیوں سے بچایا ہے، اے خدا تو ہی ہمیشہ حامی و ناصر ہونا۔ "

    پھر اماں بابا جان سے کہنے لگتیں۔

    "سنیں۔۔۔ مجھے تو کبھی کبھی سوچ کر بڑی پریشانی ہوتی ہے کہ یہ ساتھ والے ہمسایوں کا کیا بنے گا ؟

    جس گھر میں ہر وقت لڑائی، کلیس ہی چلتا رہے اور میاں بیوی الیکشن کی دو پارٹیوں کی طرح اپنے اپنے محاذ پر ڈٹے رہیں، اس گھر کے مسائل کیسے حل ہونگے اور ذمہ داریاں کیسے پوری ہوں گی۔ اب تو ان کے بچے بھی جوان ان کی ذمہ داریاں اور شادیوں کے مرحلے۔۔۔ کا بھی سامنا ہو گا۔

    ان لوگوں کو یہ سوچ بھی نہیں آتی۔"

    اور اماں یہ کہتی ہوئیں ہاتھوں سے گھٹنوں پر دباؤ ڈال کر کھڑی ہو جاتیں

    " کاش ہم ہی ان کے لیے کچھ کر پاتے۔ مولا ان کو ہدایت دے۔ امین"

    " کر بھلا تو ہو بھلا "

    اور دل سے نیت سے مانگی دعا ضرور قبول ہو جاتی ہے اور وہ شائد اک بارقبولیت کی ہی گھڑی تھی،

    تو ہوا کچھ یوں جیسا کہ آپ کو پہلے بتایا۔ کہ سامنے والے وکیل صاحب نمبر ون تو بیوی پر برسا کرتے،
    دوسری لڑائی ان کی ماں کی انٹری پر ہوتی،
    لیکن جو تیسری وجہ تھی جس پر وکیل صاحب بغیر پلاننگ کے گرجتے۔ اس کا سرا میرے ہاتھ نہیں لگ رہا تھا۔

    کیونکہ اس تماشے میں ان کا ڈوگی بھی ان کے ساتھ ہوتا، اکثروبیشتر دونوں ہی چیخ رہے ہوتے۔ اور مجھے علم نہ ہوتا کہ وجہ کیا ہوئی اور آغاز کس نے کیا۔

    تو ایک بار میں جیسے ہی چھت پر گئی تو شمع پہلے ہی وہاں اپنی چھت پر موجود تھی۔ میں نے دیکھا اس کے ہاتھ میں کوئی چھوٹا سا پتھر تھا جس سے وہ کوئی نشانہ باندھ رہی تھی، اس سے پہلے کہ میں اسے اپنی جانب متوجہ کرتی۔ اس نے نشانہ لگا ہی لیا اور ساتھ ہی وکیل صاحب کے ڈوگی کے چیخنے اور آسمان سر پر اٹھانے کی آواز آئی۔

    اور سیکنڈ میں ہی سارا معاملہ سمجھ آ گیا۔ کیونکہ وکیل صاحب بھی شروع ہو چکے تھے۔ میں منہ کے آگے ہاتھ رکھے جلدی سے سیڑھی اتر آئی اور اپنے روم میں آ کر دم لیا۔ پھر جو میرے من میں پھلجڑیاں چھوٹیں، ان کی تو مت پوچھیں۔

    پھر آگے جیسے جیسے میں اس بات کو سوچتی گئی تو ساری باتیں میرے سامنے آتی گئیں۔ سو اب آپ ہی بتائیں کہ مزید دیر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ میں اماں کے پاس چلی آئی۔ کیونکہ میرا کام ختم ہونیوالا تھا اور اماں کا شروع۔

    میں نے اماں کے کان میں تھوڑی معصومیت تھوڑے بہانے تھوڑے طریقے سے یہ بات ڈال دی۔ کہ

    " اماں، آپ کے دائیں باجو والے ہمسائےاور سامنے والے ہمسائے کتنا ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ دونوں جنگ و جدل اور لڑائیوں کے ماہر، ایک گھر میں جوان لڑکی آنے والی زندگی کے خواب سجا کر بیٹھی ہے، اور دوسرے گھر میں وکیل صاحب کا چھوٹا بھائی جوان جہان چھڑا چھانڈ، ابھی تک اکیلا منتظر شریک حیات، پتہ نہیں ان دونوں کے گھر والوں کو لڑائیوں سے فرصت بھی ملے گی یا نہیں کہ وہ ان دونوں کی جانب بھی دیکھ پائیں، اماں نیکی کرنے کا موقع آپ کے سامنے ہے اور آپ اسے نظر انداز کئے ہوئے ہیں۔"

    سو جناب اب آگے بتانے کی ضرورت تو نہیں کہ پھر اماں اور رشتے کروانے والی ماسی نے کیا کیا جتن کیے، بہرحال دونوں گھروں میں شہنائی بج گئی۔ اور شمع مسز عادل بن گئی۔

    اور میرا کام بھی پورا ہو گیا۔ آپ سمجھ گئے ہونگے۔

    میں نے سہیلی کی شہنائی بجوا دی،
    اماں نے ثواب کما لیا۔
    اور جس گھر میں شمع گئی وہاں بھی کچھ نہ کچھ تو بہتری آئے گی، امید رکھنے میں کیا حرج ہے۔

    دراصل وکیل صاحب ایک فرسٹریٹڈ انسان تھے۔ سو وہ اپنا غصہ بھڑک کر نکال دیتے تھے، اور میری سہیلی شمع بھی ایک فرسٹریٹڈ فیملی سے تھی۔ گھٹن اس کے اندر بھی جمع تھی جسے وہ بچارے ڈوگی کے ذریعے وکیل صاحب کو بھڑکا کر نکالتی تھی۔

    سو اب اگر میں نے دو فرسٹیٹڈ انسانوں کو ایک گھر میں جمع کر دیا تو۔۔۔۔ آپ ہی کہیں ۔۔۔ کیا برا کیا۔۔۔ اب یا تو دونوں سدھر جائیں گے یا آمنے سامنے آ جائیں گے۔
    " ۔۔۔۔ کر بھلا تو ہو بھلا۔۔۔۔۔ "


    اب تو آپ کو میرے نام کا مطلب پتہ چل گیا ہو گا نا
    ۔۔۔ عقل مند۔۔۔۔ سمجھدرا۔۔۔۔

    ************
    میں جن راستوں سے گزر جاتا ہوں ایک بار
    مڑ مڑ کے وہ نظارے بلاتے ہیں بار بار

  2. #2
    Senior Member

    Join Date
    Nov 2009
    Posts
    771
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: درد کا درماں

    ;dبہت اچھا لکھا ہے کائنات۔ مجھے تو اس کا اینڈ بہت مزے کا لگا تھا۔
    A little knowledge that acts is worth infinitely more than much knowledge that is idle. (Kahlil Gibran)

  3. #3
    Senior Member

    Join Date
    Feb 2009
    Posts
    2,062
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: درد کا درماں

    اچھا لکھا کائنات۔خاص کر اینڈ ۔۔۔۔۔۔۔۔لکھتی رہئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور خوش رہئے۔۔۔۔۔میں نے پہچان لیا تھا نا۔۔۔۔۔۔۔۔

  4. #4
    Section Managers Kainat's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    Germany
    Posts
    14,437
    Blog Entries
    18
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: درد کا درماں

    Quote Originally Posted by حرا قریشی View Post
    ;dبہت اچھا لکھا ہے کائنات۔ مجھے تو اس کا اینڈ بہت مزے کا لگا تھا۔
    پسند کرنے کا شکریہ حرا سس،
    میں جن راستوں سے گزر جاتا ہوں ایک بار
    مڑ مڑ کے وہ نظارے بلاتے ہیں بار بار

  5. #5
    Section Managers Kainat's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    Germany
    Posts
    14,437
    Blog Entries
    18
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: درد کا درماں

    Quote Originally Posted by روشنی View Post
    اچھا لکھا کائنات۔خاص کر اینڈ ۔۔۔۔۔۔۔۔لکھتی رہئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور خوش رہئے۔۔۔۔۔میں نے پہچان لیا تھا نا۔۔۔۔۔۔۔۔
    پسندیدگی کے لیے بہت شکریہ۔۔۔
    جی ہاں آپ نے اور کچھ ساتھیوں نے اسے واقعی بوجھ لیا تھا۔۔۔۔
    میں جن راستوں سے گزر جاتا ہوں ایک بار
    مڑ مڑ کے وہ نظارے بلاتے ہیں بار بار

  6. #6
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: درد کا درماں

    ہاہاہاہا کائنات مجھے تو اچھا لگا تھا۔ پھر بھی مجھ سے بھی ناراض ہو؟ کیوں؟
    "There is no market for emotions.
    So,
    Never advertise feelings,
    Just display attitude"

  7. #7
    Section Managers Kainat's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    Germany
    Posts
    14,437
    Blog Entries
    18
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: درد کا درماں

    Quote Originally Posted by Sahira View Post
    ہاہاہاہا کائنات مجھے تو اچھا لگا تھا۔ پھر بھی مجھ سے بھی ناراض ہو؟ کیوں؟
    نہیں نہیں ۔۔۔ ناراض تو بالکل نہیں ہوں۔۔۔ بلکہ اپنے آپ کو تھپکی دی ہے ۔۔۔ کہ افسانہ نگاری کی سمت بھی درمیان میں آ گئی ہوں۔ نہ اوپر نہ نیچے۔۔۔۔۔ کم سے کم جو برج منہ کے بل گرے ، ان میں نہیں۔۔۔۔ تھی۔ ورنہ۔۔۔۔۔۔ ہی ہی ہی
    میں جن راستوں سے گزر جاتا ہوں ایک بار
    مڑ مڑ کے وہ نظارے بلاتے ہیں بار بار

  8. #8
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: [Afsana 063] درد کا درماں

    ہاہا کائنات سس آپ کا وہی شگفتہ انداز ہے۔ ۔ ۔
    اسی لیے آپ پہچانی بھی جاتی ہیں جلد ہی۔ ۔ ۔
    اتنے دُکھی دُکھی افسانوں میں آپ کا افسانہ مانندِ پھوار تھا۔ ۔ ۔
    بہت اچھا لگا پڑھ کر۔ ۔ ۔ شائستگی کا احساس آپ کی تحریر میں ہمیشہ ہی ملا ہے۔
    لکھتی رہیں ۔ ۔

    [SIGPIC][/SIGPIC]

  9. #9
    Samia Ali
    Guest

    Re: [Afsana 063] درد کا درماں

    میں نے یہ افسانہ پڑھا تھا بہت اچھا لکھا ہے
    مجھے سب سے زیادہ اچھا سین ڈوگی کو پتھر مارنے والا لگا ہاہاہا
    کائنات جی لگتا ہے آپ بہت سوفٹ سپوکن ہیں آپ کا یہ وصف آپکی تحریر میں نظر آرہا ہے

  10. #10
    Sisters Society

    Join Date
    Jan 2009
    Posts
    15,028
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: [Afsana 063] درد کا درماں

    گریٹ کائنات
    بہت اچھا لکھا ہے
    میں مدینے سے کیا آگیا ہوں زندگی جیسے بجھ سی گئی ہے
    گھر کے اندر فضا سُونی سُونی گھر کے باہر سماں خالی خالی

  11. #11
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: درد کا درماں

    Quote Originally Posted by کائنات View Post
    نہیں نہیں ۔۔۔ ناراض تو بالکل نہیں ہوں۔۔۔ بلکہ اپنے آپ کو تھپکی دی ہے ۔۔۔ کہ افسانہ نگاری کی سمت بھی درمیان میں آ گئی ہوں۔ نہ اوپر نہ نیچے۔۔۔۔۔ کم سے کم جو برج منہ کے بل گرے ، ان میں نہیں۔۔۔۔ تھی۔ ورنہ۔۔۔۔۔۔ ہی ہی ہی

    مذاق اڑا رہی ہو فقیروں کا۔
    "There is no market for emotions.
    So,
    Never advertise feelings,
    Just display attitude"

  12. #12
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    16,873
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: [Afsana 063] درد کا درماں

    یہ تھا میرا تبصرہ کائنات جو پہلے میں نے کیا تھا

    ہاں جی یہ تو میرا افسانہ تھا تو کیسے اس پر تبصرہ کروں ھآھآھھآھآ

    اس کہانی پر تبصرہ تو کافی ہو چکا ہے

    لیکن بس اس میں مجھے افسانہ کم دنیا جہاں کی باتیں زیادہ پڑھنے کو ملی جس سے مجھے اس کہانی کی مطابقت سمجھ میں نہیں آئی ؟؟؟

    لیکن ایک بات کی تعریف کرنا مسٹ ہے لکھاری کا انداز تحریر بہت دلچسپ ہے اور اس میں کافی مہارت حاصل ہے ۔ سچویشن بھی کافی دلچسپ لگی ساری ۔ مزہ آیا پڑھ کر ۔ کافی اچھی اور سمجھدار سہیلی تھی اس کہانی کی۔ ۔ ۔ اللہ بچائے سب کو ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ھآھآھآھھآ

    مجھے اس وقت ہی سمجھ جانا چاہیئے تھا کہ اتنی دلچسپ سچویشن لکھنے میں کمال صرف آپکو ہی حاصل ہے

    گڈ جاب کیپ رائیٹنگ

  13. #13
    Section Managers Kainat's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    Germany
    Posts
    14,437
    Blog Entries
    18
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: [Afsana 063] درد کا درماں

    Quote Originally Posted by Sahira View Post
    مذاق اڑا رہی ہو فقیروں کا۔

    نہیں نہیں ۔۔۔۔۔ میں تو تجزیہ کر رہی تھی۔۔۔۔ مجھے اب بھی بہت افسوس ہے کہ آپ نے اتنا اچھا لکھا لیکن کوئی پوزیشن کیوں نہیں آئی؟ لگتا ہے وہی دوبارہ ہوا جو لاسٹ مقابلے میں آمنہ جی کے افسانے کے ساتھ ہوا تھا۔۔۔
    چلیں اگلی بار کے لیے گڈ لک۔۔۔۔۔
    میں جن راستوں سے گزر جاتا ہوں ایک بار
    مڑ مڑ کے وہ نظارے بلاتے ہیں بار بار

  14. #14
    Section Managers Kainat's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    Germany
    Posts
    14,437
    Blog Entries
    18
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: [Afsana 063] درد کا درماں

    Quote Originally Posted by Lubna Ali View Post
    یہ تھا میرا تبصرہ کائنات جو پہلے میں نے کیا تھا

    ہاں جی یہ تو میرا افسانہ تھا تو کیسے اس پر تبصرہ کروں ھآھآھھآھآ

    اس کہانی پر تبصرہ تو کافی ہو چکا ہے

    لیکن بس اس میں مجھے افسانہ کم دنیا جہاں کی باتیں زیادہ پڑھنے کو ملی جس سے مجھے اس کہانی کی مطابقت سمجھ میں نہیں آئی ؟؟؟

    لیکن ایک بات کی تعریف کرنا مسٹ ہے لکھاری کا انداز تحریر بہت دلچسپ ہے اور اس میں کافی مہارت حاصل ہے ۔ سچویشن بھی کافی دلچسپ لگی ساری ۔ مزہ آیا پڑھ کر ۔ کافی اچھی اور سمجھدار سہیلی تھی اس کہانی کی۔ ۔ ۔ اللہ بچائے سب کو ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ھآھآھآھھآ

    مجھے اس وقت ہی سمجھ جانا چاہیئے تھا کہ اتنی دلچسپ سچویشن لکھنے میں کمال صرف آپکو ہی حاصل ہے

    گڈ جاب کیپ رائیٹنگ
    شکریہ لبنی۔۔۔ اتنے اچھے تبصرے کے لیے۔۔۔۔
    میں جن راستوں سے گزر جاتا ہوں ایک بار
    مڑ مڑ کے وہ نظارے بلاتے ہیں بار بار

  15. #15
    Section Managers Kainat's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    Germany
    Posts
    14,437
    Blog Entries
    18
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: [Afsana 063] درد کا درماں

    Quote Originally Posted by Wish View Post
    ہاہا کائنات سس آپ کا وہی شگفتہ انداز ہے۔ ۔ ۔
    اسی لیے آپ پہچانی بھی جاتی ہیں جلد ہی۔ ۔ ۔
    اتنے دُکھی دُکھی افسانوں میں آپ کا افسانہ مانندِ پھوار تھا۔ ۔ ۔
    بہت اچھا لگا پڑھ کر۔ ۔ ۔ شائستگی کا احساس آپ کی تحریر میں ہمیشہ ہی ملا ہے۔
    لکھتی رہیں ۔ ۔

    شکریہ وش سس، میرے افسانے کو پسند کرنے کے لیے۔
    اور چاہتے ہوئے بھی اپنا انداز چھپا نہیں سکتی۔
    میں جن راستوں سے گزر جاتا ہوں ایک بار
    مڑ مڑ کے وہ نظارے بلاتے ہیں بار بار

Page 1 of 3 123 LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •