Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Page 1 of 3 123 LastLast
Results 1 to 15 of 48

Thread: [Afsana 077] مائیں نی میں کِینوں آکھاں

Hybrid View

Previous Post Previous Post   Next Post Next Post
  1. #1
    Sisters Society

    Join Date
    Jan 2009
    Posts
    15,028
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    [Afsana 077] مائیں نی میں کِینوں آکھاں

    میں نے بھی یہ افسانہ کسی کی سچی داستان پہ لکھا ہے
    جو اپنی ماں سے اسی وجہ سے بچھڑ گئیں تھیں اور انھین شادی کے بعد پتہ چلا تھا کہ انکی ماں زندہ ہیں
    وہ اپنی ماں سے ملی تھیں لیکن بہت کم عرصے کے لیے وہ کیونکہ شادی کر کے دوسرے ملک چلی گئیں تھین اس لیے اپنے شوہر کی وجہ سے جلد واپس آ گئیں
    اور بعد میں انکی ماں فوت ہو گئیں اور انھیں آئی تھنک ماں کے مرنے کے پندرہ بیس دن بعد پتہ چلا کہ انکی ماں نہیں رہیں ہیں انکے سسرال والوں نے بتانے نہیں دیا تھا کیونکہ انکی کنڈیشن ٹھیک نہین تھی
    کیونکہ افسانہ بہت لمبا ہو جانا پہلے ہی بہت لمبا ہو گیا تھا پھر مین نے وہی پہ اینڈ کر دیا








    "السلام علیکم!‘‘ اس نے خالہ کے آگے جھکتے ہوئے کہا۔
    ’’وعلیکم السلام! کیسی ہو زینب؟ اچھا ہوا تم بھی آ گئی۔ میری رابعہ بھی آ رہی ہےکل۔‘‘
    خالہ نے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے خوشی سے نہال ہوتے ہوئے بتایا۔
    ’’میں تو ٹھیک ہوں خالہ، پر تم کیا کہیں جا رہی ہو؟‘‘ اس نے خالہ کو باہر جانے کے لیے تیار دیکھ کر پوچھا۔
    ’’وہ میں دیسی گھی لینے جا رہی ہوں۔ تمہیں تو پتہ ہے،میری رابعہ کو میرے ہاتھ کے دیسی گھی کے بنے پراٹھے کتنے پسند ہیں، سوچا پہلے سے ہی لا کر رکھ دوں۔‘‘ انکے لہجے میں رابعہ کے لیے محبت ہی محبت چھلک رہی تھی۔
    ’’اپنے شوہر کے ساتھ آ رہی ہے۔ پورے مہینے بعد ملے گی مجھ سےمیری تو آنکھیں ترس گئی تھی اسے دیکھنے کو، اب آئے گی تو اسے رکھوں گی کچھ دن اپنے پاس۔ اچھا تم بیٹھو پھر میں گھی لے آؤں۔‘‘خالہ تفصیل بتاتے بتاتے جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ بیٹی سے ملنے کی خوشی انکے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔
    ’’نہیں خالہ تم جاؤ میں پھر آ جاؤں گی۔‘‘رابعہ کتنی خوش قسمت ہے۔ اس نے حسرت سے سوچا اور واپس پلٹ آئی۔

    *******
    ’’زینب بیٹا! اتنی جلدی واپس آ گئی؟ خیریت ہے نا؟۔‘‘ ڈیڈی نے اس کو اداس چہرے کے ساتھ اتنی جلدی واپس آتے دیکھ کر حیرت سے پوچھا۔

    ’’ہاں ڈیڈی۔ ۔ وہ خالہ گھر نہیں تھیں۔ ۔ ۔ ڈیڈی میں سونے جا رہی ہوں۔ ۔ ۔کوئی مجھے ڈسٹرب نہ کرے۔ ۔ ۔ ۔‘‘اس نے عجلت سے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔
    ’’ٹھیک ہے بیٹا۔ ۔ ۔تم آرام کرو۔۔ ۔ شام کو ملیں گے پھر۔ ۔‘‘ ڈیڈی یہ کہتے ہوئے باہر نکل گئے۔

    *******

    وہ کسی لمبے سفر سے آئے مسافر کی طرح تھکن سے چور بیڈ پہ گر سی گئی اور آنکھیں بند کر لیں، لیکن نیند اس کی انکھوں سے کوسوں دور تھی۔
    سچ کہتے ہیں لوگ ’’میکہ ماؤں سے ہوتا ہے‘‘ اس سوچ کے ساتھ ہی درد کی ایک شدید لہر اٹھی جس نے اس کے پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور وہ ماہی بے آب کی طرح تڑپ کر رہ گئی۔
    یہ دکھ تو اسکے ساتھ ہی پل کر بڑا ہوا تھا، پر وہ آج بھی جب کسی ماں کو اپنی اولاد کے لیے بے چین دیکھتی تو اس کے زخم پھر سے رِسنے لگتے اور وہ انہیں بھرتے بھرتے ادھ موئی سی ہوئی جاتی۔

    ********

    ’’وہ اکثر سوچتی پتہ نہیں اس کی ماں کیسی تھی، کیا اس کی آنکھوں سے بھی محبت کی روشنیاں پھوٹتی تھیں؟ کیا اس کے لبوں پہ بھی پیار کے کنول کھلتے تھے؟ کیا اسکے غصے میں بھی ممتا کے دریا بہتے تھے؟ اسکی ڈانٹ میں بھی تو اسکی چاہت پوشیدہ ہوتی ہوگی تھی۔ جب ہنسی اسکے ہونٹوں کو چھوتی تو جانے وہ کیسی لگتی ہوں گی، کیا وہ بھی اس کی ہر خوشی میں نہال اور ہر تکلیف پہ مرجھا جاتی۔ کیا وہ بھی اسکے ملنے کو بے تاب پھرتی۔ کاش اسکی ماں بھی اسکے ہر درد کو محبت میں ڈوبی اپنی نرم پوروں سے چنتی اور وہ اپنے سارے دکھ ماں کے حوالے کرکے اس کی آغوش میں چین کی نیند سو جاتی۔‘‘

    کاش صرف ایک بار وہ اپنی ماں کو دیکھ لیتی، محسوس کر لیتی کہ ماں کیسی ہوتی ہے تو شاید یہ زخم اتنا بھی گہرا نہ ہوتا، پر ظالموں نے یہ بھی نہ ہونے دیا، کسی کو اس کا خیال نہ آیا، وہ کس کے آگے اپنا دکھڑا روئے۔ کس کا گریبان پکڑے، کس کو بتائے کہ ماں کے بغیر زندہ رہنا کتنا اذیت ناک ہوتا ہے۔ وہ بری طرح سِسک اٹھی۔


    اس نے جب سے ہوش سنبھالا تھا خود کو آیا اماں کی گود میں پایا تھا۔ اسے معلوم تھا۔ بہت سے بچوں کی طرح اس کے سر پہ بھی ماں کی گھنی چھاؤں نہیں ہے، وہ اس کمی کے ساتھ شاید سمجھوتہ بھی کر لیتی اگر وہ یہ نہ جان لیتی کہ اسکی ماں مری نہیں ہے، اسے مار دیا گیا ہے۔ اسے اس گناہ کی سزا میں زندہ درگور کر دیا گیا تھا جو کبھی اس سے سرزد ہی نہ ہوا تھا۔

    ********

    ڈیڈی اور پھپھو کی وٹے سٹے کی شادی تھی۔ پھپھو کا گھر نہ بس سکا تھا اس جرم کی پاداش میں میری ماں کا ہنستا بستا گھر بھی اجاڑ دیا گیا۔ یہ سوچے بغیر کے ماں اور ڈیڈی تو بہت خوش تھے۔ دادا کو اپنی اجڑی بیٹی کے سامنے میری ماں بستی اچھی نہ لگتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب میری بیٹی پر دکھ کا پہاڑ گرا ہے تو دوسروں کی بیٹی خوشیوں کے جھولے کیسے جھول سکتی ہے۔ دادا نے ڈیڈی پر ہر حربہ آزما لیا وہ تب بھی نہ مانے تو انہوں نے کہا اگر اس کو نہ چھوڑا تو میرا مرا ہوا منہ دیکھو گے۔ یوں ڈیڈی نے اپنے باپ کو تو بچا لیا پر میری ماں کو جیتے جی مارڈالا۔ دادا نے صرف اسی پہ اکتفا نہیں کیا بلکہ میری ماں سے کہا اگر اپنی بیٹی کو زندہ دیکھنا چاہتی ہو تو اس سے ملنے کی غلطی کبھی نہ کرنا۔ میری ماں اس ظلم کی تاب نہ لا سکی اور دنیا سے ہی منہ موڑ گئی۔۔
    پھر پھپھو کا گھر بس گیا۔ ڈیڈی کو بھی بیوی مل گئی، پر مجھے۔۔۔ میری ماں کبھی نہ مل سکی۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    *******

    ڈیڈی ممی کو گھر لائے تو میں ماں پا کہ بہت خوش تھی اور پھر جب کومل اس دنیا میں آئی تو مجھے پوری کائنات مل گئی۔ ممی کوئی روایتی سوتیلی ماں نہیں تھیں، کہ مجھ پہ ستم ڈھاتیں۔ ۔ وہ بہت اچھی تھیں۔ ۔ ۔ میرا بہت خیال رکھتیں۔ ۔ ۔ غلطیوں پہ ڈانٹتی بھی۔ ۔اور پھر ڈیڈی نے بھی مجھے ہتیھلی کا چھالہ بنا کر رکھا تھا۔ لیکن پھر بھی وہ اس طرح سے میری ماں نہیں بن سکیں جیسے کومل کی ماں تھیں اور یوں ماں کا جو خلا تھا وہ کبھی پر نہ ہو سکا۔۔

    ممی مجھے بھی پیار کرتیں لیکن جیسے وہ کومل کی ذرا سی بیماری پر تڑپ تڑپ جاتیں ویسے میرے لیے کبھی بے قرار نہ ہوتیں۔ میں ماں کی جدائی میں گیلی لکڑی کی طرح سلگتی رہتی۔ ۔ ہر وقت کوئی نہ کوئی بیماری میری جان کو چمٹی رہتی۔ اس طرح بہت سی چیزیں جو میں کھانا چاہتی تھی۔ ۔ انہیں صرف دیکھ کر رہ جاتی۔ ڈیڈی بہت کیئر کرتے اور ممی کو بھی پر زور تاکید کرتے تو ممی مجھے اس چیز کی طرف دیکھنے بھی نہ دیتیں۔ حالانکہ میں نے دیکھا جب کومل بیمار ہوتی اور اس کا کسی چیز کو کھانے کو دل کرتا تو وہ ضد کرکے کھا لیتی اور ممی بھی ڈیڈی سے چوری چوری اس کی خواہش پوری کر دیتیں۔ ممی جب بھی کومل کو دوا دیتیں پہلے خود چکھتیں چاہے کیسی بھی ہو اور ساتھ بیسیوں چیزیں رکھی ہوتیں کہ کومل کو دوا بہت کڑوی لگتی تھی۔ اور میری۔۔ میری تو پوری سائیڈ ٹیبل ہی ہمیشہ کڑوی دواؤں سے بھری رہتی۔
    کومل بہت نخرے کرتی کبھی کبھی ممی سے بدتمیزی بھی کر جاتی۔ اسے بالوں میں تیل لگوانا پسند نہ تھا پر ممی ہر ویک اسکو زبردستی تیل لگا دیتیں وہ لڑتی جگھڑتی پر ممی مسکراتی رہتیں۔ میں نے لگوانا ہے تو ٹھیک نہیں تو میری مرضی۔ ۔

    ایک دفعہ ممی نے سردیوں میں دن رات ایک کرکے راتوں کو جاگ جاگ کر کومل کے لیے سویٹر بُنا لیکن کومل نے نہ پہنا کہ اسے گھر کا بنا سویٹر پسند نہیں۔ ۔ میں نے ممی سے کہہ کر وہ سویٹر لے لیا وہ میرے لیے نہ سہی پر اس میں ماں کی خوشبو تو بسی تھی ناں۔ ۔ اسکے ایک ایک ٹانکے میں ماں کی چاہت تھی۔ ۔خیرات کی سہی پر ماں کی محبت تو تھی۔ ۔ ۔
    ایک بار جب میں ہسپتال میں تھی۔ میرے ساتھ والے بیڈ پہ ایک لڑکی آئی۔ وہ بہت زیادہ بیمار نہ تھی۔ بس بخار کی شدت سے بے ہوش تھی۔ میں اس کے لیے اس کی ماں کی دیوانگی دیکھ کر ششدر رہ گئی۔ اس کی ماں نے رو رو کر گڑ گڑا کر ایسے دعا مانگی کہ موت کی ہمت بھی نہ ہوتی اسے ساتھ لے جانے کی۔ ۔ میں اپنے خالی دامن کو دیکھتی رہی جسکے لیے کوئی رونے والا نہ تھا راتوں کو اٹھ کے مانگنے والا نہ تھا۔۔۔
    میرے اندر کا خالی پن کچھ اور بڑھ گیا۔۔


    رابعہ میری دوست نہ تو خوبصورت تھی پھر بہت کند زہن، ضدی اور جھگڑالو بھی۔ لیکن بہت خوش قسمت تھی۔ اس کی ماں اس سے بہت محبت کرتی تھی۔ اس کے بغیر ایک نوالہ تک نہ حلق میں اتارتی۔ وہ روٹھ جاتی تو اس کی ماں اس کو منانے کو سو سو جتن کرتی اس کی ایک ایک بات پہ ہزار بار قربان جاتی۔ مجھے رابعہ اچھی نا لگتی پر اس کی ماں کی وجہ سے میں سارا سارا دن اس آس میں اس کے ساتھ گزار دیتی کہ شاید صدقے کے کچھ سکے میری جھولی میں بھی گر جائیں پر پھر بھی میرا کشکول پہلے دن کی طرح خالی کا خالی ہی رہا۔۔۔

    میری جب شادی ہوئی تو میں بہت خوش تھی کہ حسن کی ماں حیات ہے۔ حسن کی ماں میری بھی تو ماں ہو گی شاید اس طرح میری ساری محرومیاں دور ہو جائیں۔ ۔ ممتا کے دور چار چھینٹے میری تڑپتے وجود پہ پڑ جائیں گے تو شایدعمر بھر کی جلتی روح کو اسی طرح قرار مل جائے پر میں یہاں بھی بد قسمت کی بد قسمت ہی رہی۔ وہ میری ساس تو بنی پر ماں ۔ ۔ ماں پھر بھی کہیں نہ مل سکی۔ ۔

    *********

    ’’زینب۔ ۔ زینب بیٹا!‘‘ ڈیڈی نے دروازہ ناک کرنے کے ساتھ ساتھ اسے آواز بھی دی۔

    وہ ڈیڈی کی آواز سے ہڑا بڑا کر حال میں لوٹی۔ آنسوؤں سے بھرا چہرا صاف کیا۔ دوپٹا اچھی طرح اوڑھ کر درواز کھول دیا۔۔

    ’’آئیے۔ ۔بیٹھیے۔ ۔‘‘ ڈیڈی کا سارا دھیان اپنے ساتھ آئے ہوئے مہمان پر تھا جس کی وجہ سے وہ اس کی روئی آنکھیں نہ دیکھ سکے۔ ۔

    ’’زینب بیٹا! یہ۔ ۔ ۔یہ تمہارے ماموں ہیں۔‘‘ ڈیڈی ہچکچاتے ہوئے بولے۔

    ’’ما۔ ۔ ۔ماموں۔ ۔ ۔ ‘‘ اس نے ڈیڈی کی طرف دیکھتے ہوئے ہکلا کر اپنا جملہ پورا کیا۔ وہ ساری عمر ترس گئی تھی ان رشتوں کے لیے۔ ماں نہ سہی پر کوئی ماں کا رشتہ بھی نہ تھا جس میں وہ اپنی ماں کی شبیہہ دیکھ سکتی۔۔
    ’’ ڈیڈی یہ ۔ ۔یہ‘‘ وہ کچھ کہتے کہتے رہ گئی۔ ۔
    ’’ہاں بیٹا میں تمہارا ماموں ہی ہوں۔ اور تمہیں لینے آیا ہوں۔ تمہاری ماں تمہیں دیکھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے افسردگی سے کہا۔
    ’’ماں۔ ۔پر میری ماں تو۔ ۔ ۔‘‘ اسنے یک دم کھڑے ہوتے ہوئے الجھن آمیز انداز میں پھر ڈیڈی کو دیکھا۔
    ’’ہاں بیٹا! تمہاری۔ ۔تمہاری ماں زندہ ہے۔‘‘ ڈیڈی نے اس سے نظریں چراتے ہوئے کہا۔
    ’’ڈیڈی۔ ‘‘ اس کے لبوں سے سرگوشی کی صورت نکلا اور وہ شاک کی کیفیت میں صوفے پر گر سی گئی۔ اس کی حالت پھانسی کے اس مجرم کی طرح تھی۔ جس نے لمحہ بہ لمحہ موت کی اذیت برداشت کی تھی۔ اور پھانسی سے چند لمحے پہلے اسے زندگی کی نوید سنا دی گئی۔ اور اس وقت وہ بھول گئی کہ اس کے باپ نے ساری زندگی اس سے جھوٹ بولا ۔ اسے بس اتنا یاد رہا کہ اس کی ماں زندہ ہے وہ اپنی ماں کو دیکھ سکتی ہے۔ چھو سکتی ہے۔
    وہ دیوانوں کی طرح روتی بھی جاتی اور ہنستی بھی جاتی۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ ایک ایک کو پکڑ کر بتائے کہ اس کی بھی ماں ہے۔ وہ بن ماں کی نہیں ہے۔ اور اسی خوشی میں وہ ڈیڈی کی ہر خطا بھلائے ان کا بازو پکڑے انہیں بتا رہی تھی۔

    ’’ڈیڈی۔ ۔ ۔میری ماں۔ ۔ ۔ڈیڈی ۔ ۔ میری ماں۔ ۔ ۔‘‘ اس سے خوشی کے مارے بات ہی پوری نہ ہو پائی۔۔
    ’’مجھے۔ ۔اپنی ماں سے ملنا ہے۔ ۔ اب۔ ۔ ۔ابھی۔ ۔‘‘ وہ ماں سے ملنے کو مچل گئی۔ اب وہ ایک پل کا بھی انتظار نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔

    ’’لیکن بیٹا!‘‘ ڈیڈی نے کچھ کہا پر وہ سن ہی کہاں رہی تھی اس کے حواسوں پہ تو بس ماں سوار تھی۔

    ’’ماموں۔ ۔ پلیز۔ ۔ ۔ پلیز ماموں۔ ۔ مجھے میری ماں کے پاس لے جائیں میں نے ساری زندگی ماں کے بغیر گزاری ہے لیکن اب۔ ۔اب نہیں۔ ۔پلیز ماموں۔ ۔‘‘ وہ ماموں کے آ گے گڑگڑاتے ہوئے بولی۔
    ’’ڈیڈی۔ ۔ ۔ڈیڈی آپ کہیے ناں۔ ۔ ۔آپ بتائیے نا میں کتنا تڑپی ہوں مجھے لے جائیں۔ ڈیڈی کہیے نا۔‘‘ وہ ڈیڈی سے کہتی کہتی بری طرح رو پڑی۔
    ’’ہاں بیٹا! کیوں نہیں۔ ۔میں تمہیں لینے ہی آیا ہوں۔ تم تیار ہو جاؤ۔‘‘ ماموں نے رسانیت سے کہا۔
    ’’میں۔ ۔میں تیار ہوں ماموں۔‘‘ وہ جلدی سے بولی اور جانے کے لیے چل پڑی۔

    اسے حسن کو بتانا بھی یاد نہ رہا اور یہ بھی نہ سوچا کہ ڈاکٹر نے کس قدر سختی سے اسے سفر سے منع کیا ہے۔ اسے کسی نقصان کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ اس پہ تو بس ماں سے ملنے کی دھن سوار تھی۔

    ********

    اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اڑ کہ چلی جائے۔ اس کے لیے ایک ایک سکینڈ گزارنا مشکل ہو رہا تھا۔ کب سفر ختم ہو اور وہ ماں کے سینے سے لگ کے صدیوں سے رکے اشک بہا دے۔ وہ اسے بتائے کہ اس کے بغیراس کی ایک ایک رات انگاروں پہ گزری ہے۔ اس کی گود اس کے لمس کو وہ کتنا ترسی ہے وہ اسے اپنی روح پہ لگے سارے زخم دکھائے گی۔ اور پھر جب اس کی ماں اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیکر اپنی انگلیوں سے اس کے آنسو پونچھے گی، اس کے ماتھے پہ بوسہ دے گی تو وہ اسے بتائے گی اس ایک پل پہ تو وہ ساری دنیا وار سکتی ہے۔


    ********

    اسے تو ماں جیسی گھنی چھاوں تلے سستانا تھا۔ ماں کے آنچل میں چھپ کے چین کی نیند سونا تھا۔ اسے ان لبوں کو چھو کر دیکھنا تھا جن سے نکلے ایک ایک لفظ نے اسکی راہ کے تمام کانٹوں کو چن کر پھولوں سے سجایا تھا۔ اسے تو اپنی ماں کے گلے لگ کہ اپنے ہونے کا یقین کرنا تھا۔ اسکی نس نس میں،رگوں میں دوڑتے خون اور آتی جاتی سانسوں میں ماں ہی ماں سمائی تھی۔ اسے تو ماں کو سامنے بٹھا کہ برسوں سے ترستی اپنی آنکھوں کی پیاس بجھانی تھی۔ اسے تو۔۔ ۔ ۔ ۔
    لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ کاتبِ تقدیر نے تو اس کی قسمت میں نارسائی ہی لکھی ہے۔
    وہ جو ساری زندگی پیاسی سِسکتی بلکتی رہی دو گھونٹ بھی اسکا مقدر نہ بن سکے۔
    اس کی ماں نے اسے ایک نظر دیکھ کر اپنے کلیجے کی آگ تو بجھا لی، لیکن اسے تپتے صحرا میں ننگے پاؤں جلتا چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے چلی گئی۔

  2. #2
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: مائیں نی میں کِنوں آکھاں افسانہ077

    نسیمہ بہت اچھا افسانہ ھے۔ بہت اچھا لکھا ھے۔
    "There is no market for emotions.
    So,
    Never advertise feelings,
    Just display attitude"

  3. #3
    Senior Member

    Join Date
    Feb 2009
    Posts
    2,062
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: مائیں نی میں کِنوں آکھاں افسانہ077

    واہ واہ۔امی کی یاد کرا دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت عمدہ۔۔۔۔۔۔۔۔بہت رونا آیا پڑھ کے ۔یعنی آپ پاس۔۔۔۔۔۔۔

  4. #4
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: [Afsana 077] مائیں نی میں کِینوں آکھاں

    ویری نائس نیسمہ۔ ۔ ۔
    تمہاری پہلی تحریر بھی بہتا چھی لگی تھی۔ ۔ ۔ اور یہ تو کیا ہی کہنے۔ ۔ ۔
    بہت اچھے سے تم نے ایک ایسے انسان کی کیفیات کو بیان کیا ہے جو بڑوں کی غلطیوں کا شکار ہو کر ساری زندگی سسکتے رہتے ہیں۔ ۔ ۔
    کہیں کہیں تو آنکھیں بھیگ گئیں۔ ۔ ۔

    بہت اچھا لکھا۔ لکھتی رہو۔ ۔ ۔

    [SIGPIC][/SIGPIC]

  5. #5
    Sisters Society

    Join Date
    Jan 2009
    Posts
    15,028
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: [Afsana 077] مائیں نی میں کِینوں آکھاں

    Quote Originally Posted by Wish View Post
    ویری نائس نیسمہ۔ ۔ ۔
    تمہاری پہلی تحریر بھی بہتا چھی لگی تھی۔ ۔ ۔ اور یہ تو کیا ہی کہنے۔ ۔ ۔
    بہت اچھے سے تم نے ایک ایسے انسان کی کیفیات کو بیان کیا ہے جو بڑوں کی غلطیوں کا شکار ہو کر ساری زندگی سسکتے رہتے ہیں۔ ۔ ۔
    کہیں کہیں تو آنکھیں بھیگ گئیں۔ ۔ ۔

    بہت اچھا لکھا۔ لکھتی رہو۔ ۔ ۔

    شکریہ وش
    یار یہ سارا تمہارا کمال ہے
    جو لکھنے پہ لگا دیا
    میں مدینے سے کیا آگیا ہوں زندگی جیسے بجھ سی گئی ہے
    گھر کے اندر فضا سُونی سُونی گھر کے باہر سماں خالی خالی

  6. #6
    Sisters Society

    Join Date
    Jan 2009
    Posts
    15,028
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: مائیں نی میں کِنوں آکھاں افسانہ077

    Quote Originally Posted by روشنی View Post
    واہ واہ۔امی کی یاد کرا دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت عمدہ۔۔۔۔۔۔۔۔بہت رونا آیا پڑھ کے ۔یعنی آپ پاس۔۔۔۔۔۔۔
    شکریہ روشنی

    بلکل جی اگر پڑھ کہ آنکھیں بھیگ گئیں
    جو فیلنگز میں نے بیان کی قاری پہ اثر انداز ہوئی تو پاس
    میں مدینے سے کیا آگیا ہوں زندگی جیسے بجھ سی گئی ہے
    گھر کے اندر فضا سُونی سُونی گھر کے باہر سماں خالی خالی

  7. #7
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    22,615
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: مائیں نی میں کِنوں آکھاں افسانہ077

    السلام علیکم

    ارررررے نسیمہ سوئٹی یہ آپ کا افسانہ تھا؟
    بہہہت اچھا لکھا اور بہہہت سچا بھی۔

    میں تو اسے پڑھ کر بہہہت روئی تھی۔
    اور پڑھنے کے بعد امی کو فون بھی کیا تھا یہ سوچ کر کہ امی کو کہوں گی امی آئی لو یو۔
    آپ بہہہت اچھی ھیں
    اور
    مجھے بہہہہت یاد آ رھی ھیں لیکن


    نہیں کہا۔
    سیڈ سمائلی
    پتہ نہیں ایسا کیوں ھوتا ھے۔ آج تک میں نے امی سے یہ نہیں کہا۔ پتہ نہیں کیوں۔
    [SIGPIC][/SIGPIC]

    جب ہم سے ملو گے تو ہمیں پاؤ گے مخلص
    ہر چند کہ اخلاص کا دعویٰ نہیں کرتے

  8. #8
    Sisters Society

    Join Date
    Jan 2009
    Posts
    15,028
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: مائیں نی میں کِنوں آکھاں افسانہ077

    Quote Originally Posted by ھما آپی View Post
    السلام علیکم

    ارررررے نسیمہ سوئٹی یہ آپ کا افسانہ تھا؟
    بہہہت اچھا لکھا اور بہہہت سچا بھی۔

    میں تو اسے پڑھ کر بہہہت روئی تھی۔
    اور پڑھنے کے بعد امی کو فون بھی کیا تھا یہ سوچ کر کہ امی کو کہوں گی امی آئی لو یو۔
    آپ بہہہت اچھی ھیں
    اور
    مجھے بہہہہت یاد آ رھی ھیں لیکن


    نہیں کہا۔
    سیڈ سمائلی
    پتہ نہیں ایسا کیوں ھوتا ھے۔ آج تک میں نے امی سے یہ نہیں کہا۔ پتہ نہیں کیوں۔
    وعلیکم السلام
    میں بھی امی سے کہنا چاہتی ہوں لیکن نہیں کہہ پاتی پتہ نہیں کیوں
    اور یہ ایک رئیل سٹوری ہی تھی
    میں نے بس افسانوی ٹچ دیا
    جن کی سٹوری ہے ان کو دیکھ کہ ان کو سن کہ اللہ کا بے تحاشہ شکر ادار کرنے کو دل کرتا ہے
    میں مدینے سے کیا آگیا ہوں زندگی جیسے بجھ سی گئی ہے
    گھر کے اندر فضا سُونی سُونی گھر کے باہر سماں خالی خالی

  9. #9
    Sisters Society

    Join Date
    Jan 2009
    Posts
    15,028
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: مائیں نی میں کِنوں آکھاں افسانہ077

    Quote Originally Posted by Sahira View Post
    نسیمہ بہت اچھا افسانہ ھے۔ بہت اچھا لکھا ھے۔
    شکریہ ساحرہ
    میں مدینے سے کیا آگیا ہوں زندگی جیسے بجھ سی گئی ہے
    گھر کے اندر فضا سُونی سُونی گھر کے باہر سماں خالی خالی

  10. #10
    Section Managers

    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    14,913
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: [Afsana 077] مائیں نی میں کِینوں آکھاں

    بہت اچھا افسانہ لکھا نیسمہ۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ افسانے کا ٹائٹل مجھے بہت پسند آیا تھا۔ اور افسانہ بھی۔ اور اچھی بات یہ ہے کہ جن ناموں کا تکا میں نے لگایا تھا اس افسانے کے لیے اس میں ایک نام تمہارا بھی تھا۔

  11. #11
    Diya
    Guest

    Re: [Afsana 077] مائیں نی میں کِینوں آکھاں

    افسانہ تو خیر سے اچھا ہے ہی۔۔اس میں کوئی دو رائے نہیں۔۔
    لیکن مجھے اس کا عنوان بہتت خوبصورت لگا۔۔
    بالکل پرفیکٹ میچ تھا سٹوری سے۔۔۔

    اور افسانہ بھی بہتت اچھا اور بہت فیہلنگز سے لکھا گیا تھا۔۔
    ویل ڈن اینڈ کیپ رائٹنگ۔۔۔

  12. #12
    Sisters Society

    Join Date
    Jan 2009
    Posts
    15,028
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: [Afsana 077] مائیں نی میں کِینوں آکھاں

    Quote Originally Posted by Diya View Post
    افسانہ تو خیر سے اچھا ہے ہی۔۔اس میں کوئی دو رائے نہیں۔۔
    لیکن مجھے اس کا عنوان بہتت خوبصورت لگا۔۔
    بالکل پرفیکٹ میچ تھا سٹوری سے۔۔۔

    اور افسانہ بھی بہتت اچھا اور بہت فیہلنگز سے لکھا گیا تھا۔۔
    ویل ڈن اینڈ کیپ رائٹنگ۔۔۔
    بہت شکریہ دیا
    میں نے بھی جب سوچا تھا یہ لکھنا ہے تو
    نام کوئی نہیں سوجھ رہا تھا
    پھر یہ اچانک آیا اور بس پھر سوچا یہی پرفیکٹ ہے
    میں مدینے سے کیا آگیا ہوں زندگی جیسے بجھ سی گئی ہے
    گھر کے اندر فضا سُونی سُونی گھر کے باہر سماں خالی خالی

  13. #13
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    10,234
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: [Afsana 077] مائیں نی میں کِینوں آکھاں

    تو یہ افسانہ جس نے سچ مچ آنکھوں میں پانی بھر دیا تھا۔۔۔یہ تمہاری تحریر تھی ۔۔

    بہت ٹچی بہت خوبصورت۔۔

    کیپ رائٹنگ

  14. #14
    Sisters Society

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    CA, USA
    Posts
    16,003
    Blog Entries
    2
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: [Afsana 077] مائیں نی میں کِینوں آکھاں

    نسمہ بہت مبارک

    ایسا ہی اچھا اچھا لکھتی رہیں مگر کچھ خوشگوار بھی۔۔۔۔۔اس تحریر نے تو اداس کر دیا





    The most common way people give up their power


    is by thinking they don't have any.


    ~ Alice Walker ~


    Courage is like a muscle.


    We strengthen it with use.


    ~ Ruth Gordon ~

  15. #15
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    1,598
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: [Afsana 077] مائیں نی میں کِینوں آکھاں

    nesma sis a bohat acha afsana tha,sach main ya story parh k ammi ki yad aa gai

Page 1 of 3 123 LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •