Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Page 3 of 22 FirstFirst 1234513 ... LastLast
Results 31 to 45 of 319

Thread: 1US-Writers...مزاحیہ تحاریر کا دوسرا مقابلہ

  1. #31
    Senior Member

    Join Date
    Feb 2009
    Posts
    2,344
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: مزاحیہ تحاریر کا دوسرا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Wish View Post
    آپ بھی تو لکھتے ہیں۔ ۔ ۔
    میں پڑھ چُکی ہوں آپکا۔
    پھر اس مقابلے کے لیے کیا خیال ہے۔ ۔ ۔؟

    وہ کیا ہے کہ مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے کم از کم ایک عدد دل نا تواں درکار ہوتا ہے جو ہمیں عرصہ دراز سے میسر نہیں لہذا ہم ایسے معاملات میں تماشائی یا ریفری کا کردار نبھانے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں ~

  2. #32
    Senior Member

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    10,284
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: مزاحیہ تحاریر کا دوسرا مقابلہ

    ہم اور ہمارے غبارے کی داستان
    بہت اچھی تحریر ہے ۔لکھاری کو بہت بہت مبارک باد تڑکا لگا کے
    امید ہے کہ اور بھی ممبران جلد ہی اپنی مزاہیہ تحریروں کا تڑکا لگائیں گے اور ہمیں محفوظ کریں گے




  3. #33
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: مزاحیہ تحاریر کا دوسرا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Dilpasand View Post
    ہم اور ہمارے غبارے کی داستان
    بہت اچھی تحریر ہے ۔لکھاری کو بہت بہت مبارک باد تڑکا لگا کے
    امید ہے کہ اور بھی ممبران جلد ہی اپنی مزاہیہ تحریروں کا تڑکا لگائیں گے اور ہمیں محفوظ کریں گے



    دلپسند بھائی آپ خود کیوں نہیں لکھ رھے؟
    مجھے تو اور بہت سے لوگوں کے ساتھ ساتھ آپکی تحریر کا بھی شدت سے انتظار ہے۔
    "There is no market for emotions.
    So,
    Never advertise feelings,
    Just display attitude"

  4. #34
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: مزاحیہ تحاریر کا دوسرا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Nadeem Akhter View Post
    وہ کیا ہے کہ مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے کم از کم ایک عدد دل نا تواں درکار ہوتا ہے جو ہمیں عرصہ دراز سے میسر نہیں لہذا ہم ایسے معاملات میں تماشائی یا ریفری کا کردار نبھانے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں ~

    ہمارے پاس دل ناتوں نہیں ھے دستیاب اس وقت~ ۔ سارے کے سارے شوہروں نے کرائے پر لئے ہوئے ہیں;dمگر ہاں کئ قسم کے دل توانا ضرور موجود ہیں(جنکی ابھی تک شادی نہیں ہوئی;d) آپ کہیں تو آپکو ایک عدد کرایہ پر بھیج دوں؟
    آپکو بھی ضرور لکھنا ہی پڑے گا ندیم بھائی کیونکہ آپ اچھا لکھتے ہیں۔
    "There is no market for emotions.
    So,
    Never advertise feelings,
    Just display attitude"

  5. #35
    Senior Member

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    10,284
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: مزاحیہ تحاریر کا دوسرا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Sahira View Post
    دلپسند بھائی آپ خود کیوں نہیں لکھ رھے؟
    مجھے تو اور بہت سے لوگوں کے ساتھ ساتھ آپکی تحریر کا بھی شدت سے انتظار ہے۔
    اجی کس نے کہہ دیا کہ میں نہیں لکھ رہا ۔ضرور لکھوں گا تڑکالگا کے
    بلکہ لکھ رہا ہوں جیسے ہی تحریر مکمل ہوگی آپ تک پہنچ جائے گی تڑکالگا کے۔
    انتظار فرمائیے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




  6. #36
    Senior Member

    Join Date
    Nov 2008
    Posts
    4,460
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: مزاحیہ تحاریر کا دوسرا مقابلہ

    مجھے تو دونوں ہی تحریریں بہت اچھی لگیں یا شاید آنسرنگ مشین والی زیادہ پتا نہیں کبھی کوئ سی زیادہ اچھی لگتی کبھی کوئ سی، لکھی کس نے ہیں یہ تو بہت مشکل سوال ہے پتا نہیں کون کوں سے رائٹر شامل ہیں سب کے نام پتا ہوں تو تکا لگا دوں

  7. #37
    Senior Member

    Join Date
    Jan 2008
    Posts
    12,232
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: مزاحیہ تحاریر کا دوسرا مقابلہ

    واہ جی دونوں ہی تحریریں زبردست لکھی ہیں
    آنسرنگ مشین والا آئیڈیا تو بہت اچھا ہے
    اور غبارے والی تو لگتا ہے کشتاج نے لکھی ہے

  8. #38
    Senior Member

    Join Date
    Feb 2009
    Posts
    2,062
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: مزاحیہ تحاریر کا دوسرا مقابلہ

    [QUOTE=Sahira;1353147]
    ہم اور ہمارے غبارے کی داستان


    بہت مزے کا انداز بیاں ھے ،ارو مجھے شک ھے ،،میم سے مونا پر ،،کہ وہ اس تحرہر کو لکھنے کی مرتکب ھو چکی ھیں ،،،،تو کیا خیال ھے ،دیکھنے اور سننے والوں کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  9. #39
    Section Managers Kainat's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    Germany
    Posts
    14,437
    Blog Entries
    18
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: مزاحیہ تحاریر کا دوسرا مقابلہ



    مزاحیہ تحاریر پر تڑکا


    کل کا مرد شادی کر کے حاکم جبکہ آج کا مرد شادی کر کے محکوم تصور کیا جاتا ہے۔
    ھو ھو ھو ۔۔۔۔ زمانے کی ہوا ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    اگر لڑکے کے بال سفید ہو جائیں تو بیماری اور لڑکی کے ہوں تو چاندی کے تار۔
    ہی ہی ہی ۔۔۔ فرق صاف ظاہر ہے عاشق اور محبوبہ کے بالوں میں ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پوپ موسیقی کو سن کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے موسیقی سے انتقام لیا جا رہا ہے۔
    بجا فرمایا جس نے بھی فرمایا ۔۔۔۔ ھوں ھوں ھوں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جب کسی حسینہ کو دیکھتا ہوں آنکھ پھڑکتی ہے اور دل تیز تیز دھڑکنے لگتا ہے۔۔۔ ایک مریض کا ڈاکٹر کے سامنے اعتراف،
    اور اعتراف جرم بھی ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اکثر عورتیں میکے میں قہوہ اور خاوند سے کافی کا مطالبہ کرتی ہیں ،
    ہی ہی ہی ۔۔۔ یہی تو موقع شناسی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آج اگر دو بچے ہوں تو مرد کو بیوی پر حاوی اور اگر نو بچے ہوں تو بیوی کو مرد پر حاوی سمجھا جاتا ہے۔
    ترازو کے پلڑے تو اوپر نیچے ہوتے ہی ہیں ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مرد پہاڑوں اور سمندروں کا سینہ چیر سکتا ہے، عورت صرف خاوند کا۔
    ہا ہا ہا ۔۔۔۔۔ سو سنار کی ایک لوہار کی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پرانے زمانے میں ایسی عورتیں بھی پائی جاتی تھیں جو ضرورت پڑنے پر اپنا زیور خاوند کے قدموں میں ڈھیر کر دیتی تھیں۔
    ستی ساوتری ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بچوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ مرد کی خاموشی اورعورت کی چیخ و پکار میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
    کیونکہ وہ چوری اور سینہ زوری نہیں کر سکتا نا ۔۔۔۔۔۔ ھو ھو ھو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عاشق کا جوتا محبوبہ کے پیچھے بھاگ بھاگ کر ٹوٹتا ہے جبکہ محبوبہ کا جوتا عاشق کو مار مار کر۔۔
    ہا ہا ہا ۔۔۔۔۔۔ جوتا پھر بھی کام آیا



    *++*++*++*





    میں جن راستوں سے گزر جاتا ہوں ایک بار
    مڑ مڑ کے وہ نظارے بلاتے ہیں بار بار

  10. #40
    Senior Member

    Join Date
    Feb 2009
    Posts
    2,344
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: مزاحیہ تحاریر کا دوسرا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Sahira View Post
    ہمارے پاس دل ناتوں نہیں ھے دستیاب اس وقت~ ۔ سارے کے سارے شوہروں نے کرائے پر لئے ہوئے ہیں;dمگر ہاں کئ قسم کے دل توانا ضرور موجود ہیں(جنکی ابھی تک شادی نہیں ہوئی;d) آپ کہیں تو آپکو ایک عدد کرایہ پر بھیج دوں؟
    آپکو بھی ضرور لکھنا ہی پڑے گا ندیم بھائی کیونکہ آپ اچھا لکھتے ہیں۔
    مسئلہ کچھ یوں ہے جنابہ کہ ہم اپنے تئیں خود کو مارک ٹوائن، آرٹ بکوالڈ، ابن انشاء اور یوسفی صاحب جیسے مشاہیر کے پائے کا مزاح نگار سمجھتے ہیں ۔ ہم نے اپنی ایک تصوراتی دنیا بسا رکھی ہے جس کےسب آکسفورڈ ، پینگوئن اور فیروز سنز قسم کے ادارے ہمارے لکھے حرف حرف کو چھاپنے کے لئے ایک دوسرے پر بازی لے جانا باعث فخر سمجھتے ہیں۔۔ جہاں خادم کی کوئی کتاب سات ہندسوں سے کم تعداد میں نہیں چھپتی اور سارا مال راتوں رات اور ہاتھوں ہاتھ، گرما گرم سموسوں کی طرح بک جاتا ہے۔
    ایسے میں اس مقابلے میں حصہ لینے کا مطلب ہوگا اپنی ایک قدیم اور بیحد عزیز فینٹسی کی ایسی تیسی کرانا ۔ کیونکہ جب اتنے عظیم مزاح نگار کی تحریر بمشکل آخری پوزیشن حاصل کرے گی تو وہ کس منہ سے اپنی دنیا میں واپس جاسکے گا ???

  11. #41
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: مزاحیہ تحاریر کا دوسرا مقابلہ


    کھلتا کسی پہ کیوں نہ

    "اف وردہ کس مصیبت میں ڈال دیا۔" ناجیہ نے بیچارگی سے کہتے ہوئے کتاب بند کی اور وردہ کی طرف رحم طلب نظروں سے دیکھا۔
    "خبردار جو میرے بھائی کو مصیبت کہا۔" وردہ نے اسے گھورا تو وہ جلدی سے بولی تھی
    "تمہارے بھائی کو کون کہہ رہا ہے۔ مگر یہ شاعری تو کسی مصیبت سے کم نہیں۔ مجھ سے یاد ہی نہیں ہورہی۔ تم انہیں صاف صاف بتادو تم نے جھوٹ بولا تھا مجھے شاعری کا کوئی شوق ووق نہیں ہے۔" ناجیہ نے اپنی طرف سے بہت اچھا حل بتایا تھا۔
    "واہ واہ۔ کیا بات ہے محترمہ کی۔ یعنی میری محبت میں اتنا بھی نہیں کرسکتیں۔ صرف کچھ دن کی تو بات ہے۔ بس شادی ہوجائے پھر بے شک بھائی پر تمہاری اصلیت کھل جائے۔ پھر تم جانو اور بھائی جانیں۔ میری تو اس فوزیہ سے جان چھوٹ جائے گی نا۔" وردہ نے اسے تسلی دیتے ہوئے کچھ ہمت بھی دلائی۔
    "تمہاری اس فوزیہ سے جان چھوٹ جائے گی اور میری جان ہمیشہ کے لیے اس شاعری کی وجہ سے عذاب میں آجائے گی۔" ناجیہ نے اسے گھورتے ہوئے ایک دفعہ پھر فرحت عباس شاہ کی "کہاں ہو تم" اٹھا لی تھی۔
    "اچھا ایک آئڈیا ہے۔" وردہ کو اس کی مسکین صورت پر ترس آگیا تھا۔ "ایسا کرتی ہوں میں تمہیں کچھ مشہور اشعار، غزلیں وغیرہ اور کتابوں کے نام ایس ایم ایس کردیتی ہوں۔ تم کل ایسے شو کرنا جیسے میسجز چیک کررہی ہو اور جو یاد نہ ہو وہ دیکھ کر پڑھ لینا۔" وردہ نے داد طلب نظروں سے ناجیہ کی طرف دیکھا۔
    "زبردست! یعنی اب یہ سب نہیں رٹنا پڑے گا۔ اف وردہ تم کتنی اچھی ہو۔ میری اتنی بڑی مشکل آسان کردی۔ بس اب تمہیں اس فوزیہ سے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں تمہاری ہونے والی بھابھی تمہارے ساتھ ہے۔ دیکھنا میں کیسے دھاک بٹھاتی ہوں۔ فوزیہ کی شاعری میرے سامنے پانی بھرتی نظر آئے گی۔" اتنی دیر سے ناجیہ جو وردہ کی تسلیاں سن کر بھی پریشان تھی مصیبت ٹل جانے پر جلدی جلدی اسے یقین دلانے لگی۔

    * - * - *
    ارے آپ اب تک ہماری پریشانی کی وجہ نہیں سمجھ سکے؟ ابھی کچھ دن پہلے میں نے اپنے بھائی عالیان سے اپنی بچپن کی دوست ناجیہ کی انگیجمنٹ کروائی ہے۔ ویسے تو اب کوئی پریشانی کی بات نہیں مگر میری کزن فوزیہ اب بھی بھائی کے گرد منڈلاتی رہتی ہے۔ جس نے مجھ سمیت ناجیہ کی بھی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ میرے بھائی ایک مصروف ترین بزنس مین ہونے کے باوجود شاعری جیسے مرض میں مبتلا ہیں۔ ذرا فارغ وقت ملا اور وہ کوئی موٹی سی شاعری کی کتاب لے کر بیٹھے نظر آئیں گے۔ یہاں تک بھی بات ٹھیک ہے۔ انسان کو کسی چیز کا شوق ہے تو ہمیں بھلا کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔
    شوق اپنے تک رہتا تو بات پریشان کن نہ تھی، مگر کچھ دن پہلے امی کے دل میں بھائی کی شادی کرنے کا ارمان جاگا۔ امی کے پوچھنے پر بھائی نے کہا کے ان کی صرف ایک خواہش ہے کہ ان کی ہونے والی بیگم شاعری سے شغف رکھتی ہوں۔ نہ صرف یہ بلکہ انہیں کافی باذوق ہونا چاہیے۔ بھائی کی اس عجیب و غریب فرمائش پر جہاں مجھے غصہ آیا وہیں امی نے اپنے لاڈلے کی واحد فرمائش پوری کرنے کی ٹھان لی اور میرا وہ اپنی بچپن کی دوست ناجیہ کو بھابھی بنانے کا ہمیشہ کا خواب کھٹائی میں پڑتا دکھائی دیا۔ امی کے لیے بھی یہ بات پریشان کن تھی کہ آخر باذوق بہو کیسے تلاشی جائے؟ پھر بھائی اور امی کی پریشانی میں نے ناجیہ کی شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملا کر دور کردی۔ بھائی کو اس کے شاعری کی شیدائی ہونے کی بڑی مشکلوں سے یقین دھانی کروائی کیونکہ ناجیہ اور ہمارا سالوں سے ایک دوسرے کے گھر آنا جانا تھا۔ کیا سب اسے جانتے نہیں تھے؟ جس نے کورس کی کتابوں کو بڑی مشکلوں سے ہاتھ لگایا ہو وہ بھلا شاعری کی کتابیں کہاں پڑھتی ہوگی۔ مگر میں نے ان دونوں کو اچھی طرح یقین دلادیا کہ وہ اپنے فارغ وقت میں شاعری کے علاوہ کچھ پڑھتی ہی نہیں۔ بلکہ خالی پڑھتی ہی نہیں وہ تو خود شاعری کرتی بھی ہے۔ میں یہ بھول ہی گئی کہ جھوٹ بھی اس حد تک بولنا چاہیے جتنا نبھ جائے۔ میں بھی کیا کرتی۔ امی کی چہیتی بھانجی فوزیہ کا بھوت ہر وقت میرے سر پر سوار رہتا تھا۔ جو بات کا جواب بھی کسی کے شعر یا ایسی اردو میں دیتی تھی کہ میرا تو سانس اٹکنے لگتا تھا۔ اسے مستقل طور پر گھر لے آنے کا مطلب تھا کہ چلتے پھرتے اردو ادب کو سر پر سوار کرلیا جائے جو مجھے کسی طرح منظور نہیں تھا۔
    میری اتنی تعریفوں پر یقین تو ان دونوں کو کسی نہ کسی طرح آ ہی گیا۔ پھر کیا تھا بھائی نے تو سب امی اور مجھ پر چھوڑ دیا اور ہم نے چٹ رشتہ اور پٹ منگنی کروا کر ہی دم لیا۔ میرا بس چلتا تو نکاح بھی پڑھوا دیتی مگر وہ کچھ ماہ بعد ہونا طے پایا تھا۔ اب بس مجھے ان کچھ ماہ بھائی اور ناجیہ کا سامنا نہیں ہونے دینا تھا۔ نہ بھائی کو ناجیہ کی شاعری سے لگاؤ کے جھوٹ کا پتا چلنے دینا تھا نہ ناجیہ کو بھائی کی اوٹ پٹانگ شرط کی خبر ہونے دینی تھی۔ مگر برا ہو میری قسمت کا۔ ہر کام میں کوئی نہ کوئی رکاوٹ آجاتی ہے۔ ابھی جب منگنی ہوئے کچھ ہی ہفتے گزرے تھے ناجیہ کی سالگرہ پر ہمیشہ کے خاموش، سیدھے سادھے لگنے والے ہمارے بھائی محترم کی اسے ڈنر پر لے جانے کی فرمائش نے میرے ہوش ہی اڑادیے۔ مجھے پورا یقین تھا ناجیہ کے گھر والے اسے جانے کی اجازت نہیں دیں گے مگر حیرت کا جھٹکا تو تب لگا جب امی نے بتایا کہ میں بھائی اور ناجیہ کے ساتھ ڈنر پر جارہی ہوں۔ وہ بھی ٹھیک دو دن بعد۔ پھر کیا تھا۔ مجھے جو بھی کرنا تھا ان دو دنوں میں کرنا تھا۔ ورنہ بھانڈہ پھوٹتا تو میری خیر نہیں تھی۔
    ایک گھنٹے بعد میں ناجیہ کے قدموں میں موجود تھی۔ پہلے اسے سچائی سے آگاہ کیا تو وہ آگ بگولہ ہی ہوگئی۔ بڑی مشکلوں سے اسے ٹھنڈا کیا۔ پھر اسے اپنے مشن میں شامل کرنے کے لیے پاپڑ بیلے۔ اگلے پچھلے سارے احسانات یاد دلانے سے وہ نہ مانی تو منتیں کرکے، دنیا کی سب سے بے ضرر نند ہونے کے سہانے خواب دکھا کر راضی کیا۔ فوزیہ سے اسے بھی چڑ تھی اور ویسے بھی اب کوئی لڑکی بھائی کی طرف یا بھائی کسی لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ لیتے تو ناجیہ اس کی جان کی دشمن ہوجاتی تھی۔ ماننا تو اسے تھا ہی آخر اس کی زندگی کا معاملہ تھا۔

    * - * - *
    دوسرے دن شام میں ہم نے ناجیہ کو اس کے گھر سے پک کیا اور بھائی کے فیورٹ ریسٹورینٹ پہنچ گئے۔ ناجیہ جو کل تک بہت نروس تھی اب اس کا کانفیڈینس دیکھنے والا تھا، بس اپنا موبائل کسی متاع کی طرح ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا۔ اورڈر دے کر ہم ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔ میں شکر ہی کرتی رہی کہ بھائی کا شاعری کی طرف دھیان ہی نہیں جارہا مگر شاید ناجیہ بی بی کو اپنی دھاک بٹھانے کا کچھ زیادہ ہی شوق تھا۔ خود ہی بھائی سے ان کے فیورٹ شاعر کا پوچھ بیٹھیں اور بھائی تو جیسے ان کے منہ سے شاعری کا ذکر سن کر کِھل اٹھے تھے۔ اچھی خاصی دیر پتا نہیں کون کون سے شعراء اور ان کی مشہور کتابوں کے نام لیتے رہے۔ میں نے ناجیہ کو گھورا جو چہرے پر مسکراہٹ سجائے، اپنا سر ایسے ہلا رہی تھی جیسے سب سمجھ آرہا ہو۔ جبکہ میں لکھ کر دے سکتی ہوں کہ آدھے سے زیادہ شعراء کا نام اس نے پہلے کبھی سنا ہی نہیں ہوگا۔
    "آپ بھی تو بتائیں۔ آپ کس کا کلام پسند کرتی ہیں؟" بھائی کا یہ پوچھنا تھا اور میں نے ناجیہ کی طرف دیکھا۔ تیاری تو اس نے کافی کی تھی پھر بھی اگر کچھ یاد نہ رہتا تو موبائل ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا۔ اس لیے میں نے اطمینان سے ادھر ادھر بیٹھے لوگوں کا جائزہ لینا شروع کردیا۔
    "مجھے تو فرحت عباس شاہ بہت پسند ہیں۔ ان کی شاعری میں اتنی خوبصورتی سے احساسات بیان کیے گئے ہوتے ہیں کہ انسان پڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔" میں نے دل ہی دل میں ناجیہ کی ایکٹنگ کو داد دی۔
    "بلکہ میں تو کہوں گی فرحت عباس شاہ میری فیورٹ شاعرہ ہیں۔" میں جو بڑے اطمینان سے لوگوں کا جائزہ لینے میں مصروف تھی اپنی کرسی سے گرتے گرتے بچی۔ "شاعرہ" میں نے آنکھیں پھاڑ کر فخریہ مسکراہٹ سجائے بیٹھی ناجیہ کو دیکھا۔ بھائی جو جوس کا سپ لے رہے تھے کھانس کھانس کر ان کی آنکھوں سے پانی نکل آیا۔ ناجیہ بھی کچھ گھبراگئی۔
    "اوفوہ بھئی یہ کیا آپ دونوں شاعری کی باتیں لے کر بیٹھ گئے ہیں۔ میں بور ہورہی ہوں۔ اور بھائی ویٹر سے کہیں جلدی لائے بھوک کے مارے میرا تو حشر ہورہا ہے۔" میں نے بات ٹالنے کی کوشش کی مگر میں کیا کرتی ناجیہ خود ہی اپنی جان کی دشمن بنی بیٹھی تھی۔
    "ارے وردہ اب دو باذوق لوگوں میں تم بدذوق بور ہی ہوگی۔" ناجیہ نے بڑے اسٹائل سے کہا تھا اور میرا دل چاہا اس کو کچا چبا جاؤں۔
    "اچھا تو فرحت عباس شاہ آپ کی فیورٹ شاعرہ ہیں؟ ویسے ندا فاضلی کی شاعری کے بارے میں کیا خیال ہے؟" عالیان بھائی نے اپنے اوپر بڑی دقتوں سے سنجیدگی طاری کرتے ہوئے پوچھا۔ اور میں ناجیہ کی بکواس پر جزبز کرکے رہ گئی۔ بھائی کے سوال پر وہ کچھ گڑبڑائی کیونکہ یہ نام تو اسے میں نے رٹایا ہی نہیں تھا۔ میری طرف مدد طلب نظروں سے دیکھا تو میں نے بھی غصے سے منہ دوسری طرف کرلیا۔ "اب بھگتیں محترمہ۔"
    "ندا فاضلی۔ ۔ ۔ اوہ ہاں۔ وہ بھی کافی اچھی شاعری کرتی ہیں۔ بلکہ ان کی کئی غزلیں میں نے اپنی ڈائری میں لکھ رکھی ہیں۔"
    "شاعری کرتی ہیں" سن کر میرا دل چاہا بال نوچ لوں۔ اپنے نہیں برابر میں بیٹھی ناجیہ کے۔ اس نے ایک اور شاعر کو شاعرہ بنادیا تھا۔ مجھ سے مزید ہضم نہیں ہوا اس لیے وہاں سے اٹھ گئی۔
    "میں ابھی امی کو کال کرکے آتی ہوں۔" میں نے باہر کی طرف دوڑ لگائی کے اسے ایس ایم ایس کرکے ہی بتاؤں کے اپنا شاعری نامہ بند کرے ورنہ پتا نہیں کیا ہونے والا تھا۔ مگر میرے مسلسل میسجز کرنے کے بعد بھی اس نے اپنے موبائل کی طرف نہ دیکھا تو میں پیر پٹختی واپس اپنی جگہ آکر بیٹھ گئی۔ وہاں جیسے کوئی فرق ہی نہیں پڑا تھا۔
    "وردہ تم نے بتایا نہیں ناجیہ شاعری کی اتنی زیادہ شوقین ہے اور تم ان کے ساتھ کافی دفعہ مشاعروں میں جاچکی ہو۔" میرے بیٹھتے ہی بھائی نے مجھ سے پوچھا تو میں نے اس جھوٹ پر ناجیہ کی طرف دیکھا مگر وہ میری طرف کب دیکھ رہی تھی۔ پٹر پٹر بولتی وہ اپنے باذوق ہونے کے کتنے ہی ثبوت دیتی جارہی تھی۔
    "ارے خالی جاتے ہی نہیں ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے ایک جگہ محسن نقوی بھی مدعو تھے۔ ان کی شاعری کا تو آپ کو پتا ہے۔ ایک دنیا دیوانی ہے۔ میں کتنے ہی ضروری کام چھوڑ کر صرف ان کی وجہ سے گئی تھی۔ اور خالی گئی ہی نہیں تھی ان سے آٹوگراف بھی لی تھی۔" ناجیہ تو لگتا تھا اپنی اعلٰی کارکردگی پر بہت ہی خوش تھی۔ محسن نقوی جو اب اس دنیا میں ہی نہیں تھے، یہ محترمہ ان سے نہ صرف ملی تھیں بلکہ ان سے آٹوگراف بھی لیا تھا۔ میں اپنی جگہ پہلو بدل کر رہ گئی۔ ناجیہ کو چپ کروانا اب میرے بس میں نہیں تھا۔ وہ ایک دفعہ شروع ہوجائے تو پھر ادھر ادھر دیکھے بغیر نان اسٹاپ بولتی ہے۔
    "یہ تو کافی تشویش ناک بات ہے۔" بھائی کی بڑبڑاہٹ میں نے تو صاف سنی تھی مگر شاید وہ نہیں سن سکی۔
    "آپ تو شاعری کے بارے میں کافی معلومات رکھتی ہیں۔" بھائی نے امپریس ہونے کی اداکاری کی تو مجھے ان پر بھی غصہ آنے لگا۔ ناجیہ پرسکون بیٹھی تھی۔
    "مجھے یاد ہے میں نے سب سے پہلے محسن نقوی کی شاعری کی کتاب لی تھی۔ شاید 9 کلاس میں تھا میں۔ آپ کب سے شاعری کی شوقین ہیں۔ سب سے پہلی کتاب کون سی لی تھی؟" بھائی تو لگتا تھا اس کا امتحان لینے بیٹھے تھے۔ خوب مزے لے رہے تھے۔
    "میں نے۔۔۔" ناجیہ اٹکی۔۔۔ اسی وقت ویٹر ڈنر سرو کرنے لگا تو اس نے فوراً اپنے موبائل سے رجوع کیا۔ میں نے بھی شکر کا سانس لیا کے شاید اب کچھ عقلمندانہ جواب آجائے۔ مگر اس نے اپنا فون غصے سے بیگ میں ڈالا تو یہ آس بھی ختم ہوگئی۔
    "تو کیا کہہ رہی تھیں آپ؟" ویٹر کے جاتے ہی بھائی نے پھر پوچھا تھا۔
    "وہ۔ ۔ میں نے۔۔ میں نے سب سے پہلی شاعری کی کتاب وصی شاہ کی "میرے ہو کے رہو" لی تھی میں بھی تب 9 کلاس میں تھی۔" ذہن پر زور دیتے ہوئے آخر کار ایک کتاب کا نام لے ہی لیا تھا۔ مگر افسوس۔ میں نے ٹھنڈی سانس بھری اور کھانا کھانا شروع ہوگئی۔ یہاں تو جو ہونا تھا وہ ہو کر رہے گا میں کیوں اس کے غم میں ڈٹ کر نہ کھاؤں۔
    باقی کا وقت خاموشی سے کٹا۔ ناجیہ کو گھر ڈراپ کرتے وقت بھائی کی بات سن کر ناجیہ کے سارے کے سارے طبق روشن ہوگئے تھے۔
    "وردہ نے بتایا تو تھا مگر مجھے آج سے پہلے یقین نہیں آیا تھا کہ آپ کو شاعری سے اس قدر لگاؤ ہے۔" بھائی نے بات شروع کی تو ناجیہ کی مسکراہٹ دیکھنے والی تھی۔ وہ سمجھ رہی تھی سب بہت اچھا ہوا ہے۔
    "کیا اعلٰی ذوق پایا ہے۔۔۔۔۔ اپنی باذوق دوست کے ارشادات تم بھی ذرا غور سے سن لو وردہ۔
    فرحت عباس شاہ ان کی فیورٹ "شاعرہ" ہیں، شاعر نہیں" عالیان نے شاعرہ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
    " انہوں نے سات سال پہلے پہلی شاعری کی کتاب وصی شاہ کی "میرے ہو کے رہو" لی تھی۔ یعنی اس وقت جب وصی شاہ کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی کہ یہ کتاب بھی چھپنی ہے۔ اور محفلِ مشاعرہ میں جانے کا جنون کی حد تک شوق رکھتی ہیں، کبھی کوئی مس نہیں ہوا۔ ابھی پچھلے مہینے "محسن نقوی" کے مشاعرے میں گئیں تھیں۔ اور نہ صرف یہ کے مشاعرے میں گئی تھیں بلکہ ان سے آٹوگراف بھی لے کر آئی ہیں۔ ویسے ایک بات پوچھ سکتا ہوں ناجیہ؟ یہ کون سے باذوق لوگ ہیں جو شعراء کا قبرستان تک پیچھا کرتے ہیں۔ محسن نقوی کی عرصہ ہوا ڈیتھ ہوچکی ہے" عالیان نے بامشکل اپنی ہنسی کنٹرول کرتے ہوئے بتایا تو ناجیہ کا دل چاہا کے وہاں سے اڑن چھو ہوجائے۔۔۔۔
    "کیا کوئی گڑ بڑ ہوگئی وردہ؟" ناجیہ نے گھبرا کر سرگوشی کی تھی۔
    "تم اب بھی پوچھ رہی ہو؟ یعنی اتنا زبردست کارنامہ کرنے کے بعد بھی؟" وردہ تو تپی بیٹھی تھی۔
    "لو، اب میری کیا غلطی ہے کہ فون کی بیٹری ہی لو تھی۔ خبیث چل کر ہی نہ دیا۔ پھر مجھے جو جو یاد آیا بولتی گئی۔" اس نے معصومیت سے اپنا دفع کیا۔
    "اور میں جو کھانس کھانس کر تمہیں ہوش میں لانے کی کوشش کررہی تھی۔ مگر تم کسی طرف دیکھتیں تو کچھ سمجھتیں نا تم تو اپنی فیورٹ شاعرہ فرحت عباس شاہ کی غزلوں کے ٹائٹلز گنوا رہی تھیں۔ ان میں سے بھی آدھے تو پروین شاکر کی غزلیں تھیں۔" وردہ نے طنزیہ انداز میں کہا۔
    "میں نے تم سے پہلے ہی کہا تھا وردہ مجھ سے نہیں ہوگا یہ ڈرامہ۔ مگر تم پر تو بھوت سوار تھا۔ مجھے تو تمہارے بھائی ہی کچھ کھسکے ہوئے لگتے ہیں۔ اب آج کل کون پڑھتا ہے ایسی مشکل شاعری اور اگر پڑھنا ہے تو خود سو دفعہ پڑھیں بیچاری منگیتر کا کیا گناہ ہے کہ وہ بھی رٹے لگائے۔ اب ضروری تو نہیں نا ہر کسی میں بڈھی روح سمائی ہو۔" ناجیہ بھی جھنجھلا گئی تھی۔ اتنے گھنٹوں کی محنت اور ٹینشن کا یہ نتیجہ اس کے وہم و گمان بھی نہیں تھا۔ وہ دونوں عالیان کی موجودگی فراموش کرچکی تھیں۔ اور وہ ان کی باتوں پر محضوظ ہورہا تھا۔
    "ہیں ہیں۔۔۔ جھوٹ کی حد ہے۔ میں نے کب فورس کیا تھا تمہیں؟ تم نے خود چیلنج قبول کیا تھا۔ میں نے صرف فوزیہ کا بتایا تھا کہ وہ شعر سنا سنا کر اپنے آپ کو بہت باذوق ظاہر کرتی ہے تم بھی کچھ رٹ لو مستقبل میں کام آئیں گے۔ دھاک بٹھانے کا شوق تمہیں ہوا تھا۔ اور غلطی ساری کی ساری تمہاری ہی ہے۔ موبائل چارج نہیں کرسکتی تھیں؟ کیا فائدہ ہوا اتنی محنت کا جو لکھ لکھ کر میسجز سیو کیے تھے۔" وردہ کو اب محنت ضایع ہونے کی فکر ہوئی۔
    "بس رہنے دو۔۔۔ تمہارے میسجز بھی تمہاری ہی طرح بے وفا نکلے۔ عین وقت پر ساتھ دینے سے صاف انکار کردیا۔ اب کیا میں چپ بیٹھی اسے آن کرنے کی کوشش کرتی رہتی۔ بیٹری لو ہوگئی تھی موبائل کی۔" ناجیہ نے وردہ کو جھاڑتے ہوئے نظریں اٹھائیں تو عالیان کو اپنی طرف دیکھتا پاکر گڑبڑاگئی۔ پھر دل کڑا کرکے بولنا شروع کیا۔
    "دیکھیں مجھے شاعری کا کوئی شوق نہیں تھا۔ نہ ہی مجھے آپ کی کسی شرط کا علم تھا۔ یہ سب وردہ کی وجہ سے ہوا ہے۔ اس نے میرے بارے میں سب جھوٹ کہا تھا آپ سے۔ نہ تو مجھے شاعری سے کوئی لگاؤ ہے، نہ ہی کسی شاعر کو جانتی ہوں۔ آج جو سب میں نے کہا وہ کل وردہ کی منتیں کرنے پر رٹے مارے تھے۔ آپ کی بھی غلطی نہیں۔ انسان کو ایک دفعہ زندگی ملتی ہے اس میں اپنی مرضی کا ساتھی چننے کی پوری آزادی ہونی چاہیے اس لیے۔۔۔ اس لیے" آخر تک آتے آتے ناجیہ روہانسی ہوگئی تھی۔
    "یہ تو کچھ اس قسم کا معاملہ لگتا ہے
    کھلتا کسی پہ کیوں نہ میرے دل کا معاملہ
    شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے"
    عالیان کے شعر سنانے پر ناجیہ کو بھی ایسا ہی لگا۔ یہ ساری رسوائی اس شاعری کی وجہ سے ہی ہوئی تھی۔ اسے شاعری پر مزید غصہ آنے لگا۔
    "بھئی جب آپ میرے لیے اتنا کچھ کرسکتی ہیں، تو میں ایک فضول سی فرمائش نہیں چھوڑ سکتا۔" عالیان نے اسے رونے کی تیاری کرتے دیکھ کر فوراً کہا تھا۔
    "کیا! فضول سے فرمائش؟" وردہ خوشی سے چیخی تھی۔ "آپ کو ناجیہ کے بدذوق ہونے پر کوئی اعتراض نہیں؟" عالیان نے نفی میں سر ہلایا اور ناجیہ نے اپنے آپ کو بدذوق کہنے پر وردہ کو گھورا تھا مگر پھر وہ تینوں ہی ہنس پڑے تھے۔

    "There is no market for emotions.
    So,
    Never advertise feelings,
    Just display attitude"

  12. #42
    Senior Member

    Join Date
    Feb 2009
    Posts
    2,344
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: مزاحیہ تحاریر کا دوسرا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Sahira View Post
    کھلتا کسی پہ کیوں نہ


    بہت عمدہ جس کسی نے بھی لکھی ہے انہیں بہت شاباش ۔ مرکزی خیال گو کہ نیا نہیں مگر جو کہا گیا ہے ناں کہ

    سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے
    ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں

    تو اس کہانی کی ابتدا، اٹھان اور اختتام سب اتنے دلچسپ ہیں کہ مرکزی خیال کی قدامت پس منظر میں چلی گئی ہے ۔ خاص کر نئے رائٹر کی رعایت دیتے ہوئے ہم اسے اوسط سے بہتر تحریر گردانیں گے ۔ مکالمے اور سچویشنز جاندار اور حقیقت سے قریب ہونے کے ساتھ ساتھ مزاح سے بھرپور ہیں۔ صرف ایک چیز نے ہمیں قدرے مخمصے میں ڈالا اور وہ کہانی بیان کرنے والی بی بی کا "میں" سے "وردہ" میں تبدیل ہو جانا ہے۔ اب یہ تو فاضل مصنف/مصنفہ/مصنفین ہی بہتر جانتے ہونگے کہ اس کے پیچھے کیا رمز ہے لیکن پروف ریڈنگ کی غلطی سمجھی جائے تب بھی ایک نمبر تو ہم کاٹیں گے۔

  13. #43
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: مزاحیہ تحاریر کا دوسرا مقابلہ

    [quote=روشنی;1353744]
    Quote Originally Posted by Sahira View Post
    ہم اور ہمارے غبارے کی داستان




    بہت مزے کا انداز بیاں ھے ،ارو مجھے شک ھے ،،میم سے مونا پر ،،کہ وہ اس تحرہر کو لکھنے کی مرتکب ھو چکی ھیں ،،،،تو کیا خیال ھے ،دیکھنے اور سننے والوں کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دیکھتے ہیں جی آگے آگے کیا کیا نظر آئے گا۔ آُکے اندازے بھی کیسے ہوں گے;d۔
    "There is no market for emotions.
    So,
    Never advertise feelings,
    Just display attitude"

  14. #44
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: مزاحیہ تحاریر کا دوسرا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Nadeem Akhter View Post
    مسئلہ کچھ یوں ہے جنابہ کہ ہم اپنے تئیں خود کو مارک ٹوائن، آرٹ بکوالڈ، ابن انشاء اور یوسفی صاحب جیسے مشاہیر کے پائے کا مزاح نگار سمجھتے ہیں ۔ ہم نے اپنی ایک تصوراتی دنیا بسا رکھی ہے جس کےسب آکسفورڈ ، پینگوئن اور فیروز سنز قسم کے ادارے ہمارے لکھے حرف حرف کو چھاپنے کے لئے ایک دوسرے پر بازی لے جانا باعث فخر سمجھتے ہیں۔۔ جہاں خادم کی کوئی کتاب سات ہندسوں سے کم تعداد میں نہیں چھپتی اور سارا مال راتوں راتوں اور ہاتھوں ہاتھ، گرما گرم سموسوں کی طرح بک جاتا ہے۔
    ایسے میں اس مقابلے میں حصہ لینے کا مطلب ہوگا اپنی ایک قدیم اور بیحد عزیز فینٹسی کی ایسی تیسی کرانا ۔ کیونکہ جب اتنے عظیم مزاح نگار کی تحریر بمشکل آخری پوزیشن حاصل کرے گی تو وہ کس منہ سے اپنی دنیا میں واپس جاسکے گا ???
    ہاہاہا جناب
    پھر تو ھم آُپکو خواب خرگوش بلکہ فردوس سے جگانے کا تصور بھی نہیں کرنا چاہتے۔ آپ اپنی دنیا میں مگن رہیں اور حقیقت سے دور دور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں بھی کوشش کرتی ہوں آپکے آسے پاسے ذیادہ شور نہ ہو کہیں آپکی آنکھ ہی نہ کھل جائے;d۔
    "There is no market for emotions.
    So,
    Never advertise feelings,
    Just display attitude"

  15. #45
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: مزاحیہ تحاریر کا دوسرا مقابلہ



    مفت مشورہ

    یہ بہت عرصہ پہلے کی بات ہے ۔کہ ہم اپنا دماغ ذرا کم کم ہی استعمال کیا کرتے تھے ۔اور اس پر بہت فخر سے ارشاد بھی فرماتے تھے کہ
    "چیز جتنی استعمال ہو ختم ہوتی جاتی ہے اور ہم اپنا دماغ ختم نہیں کرنا چاہتے۔"
    ۔
    لیکن پھر بھی ہم شاید سب کو عقل مند لگتے تھے (شکل سے )تبھی تو جس کو دیکھو منہ اٹھائے ہم سے مشورہ مانگنے چلا آتا تھا،،اور ہم بھی ایسے کھلے دل کے کہ کبھی نا کہنے کو دل ہی نہ کرتا تھا۔۔

    بڑی سوچ بچار کے بعد مشورہ دیا جاتا اور اس کو ثابت بھی کیا جاتا ۔کہ اگلا بندہ اپنے آپ کو انتہا درجے کا بے وقوف سمجھتے ہوئے سر ہلاتا جاتا اور اس بے وقوفی کا عملی مظاہرہ اس وقت ہوتا جب اس پر عمل بھی کر لیتا۔۔۔۔اب اگر نتیجہ ٹھیک نہ نکلے تو اس میں ہمارا کیا قصور ۔

    ۔جب ہمارے پاس شکایت نامہ آتا بمع دو چار القابات کے تو ہم معصوم شکل بنا کر کہتے
    "ہم نے تو مشورہ دیا تھا کہا تو نہیں تھا کہ اس پر عمل بھی کریں "
    ایک بار رات کے وقت گھر میں مہمان آگئے ۔۔۔اب ایک ہی بوتل تھی کوک کی اس وقت۔کچن میں دو لوگ سر جوڑ کر بیٹھے تھے کہ اب کیا کریں ،جیسے ریاضی کا کوئی سوال حل کر رہے ہوں ۔اور عقل مند اتنے کہ گلاسوں میں ڈال بھی چکے تھے ۔۔
    شوہر۔۔۔۔۔اب کیا کریں ،دکانیں بھی بند ہیں۔
    بیوی ۔۔۔۔۔۔۔میں نے کہا بھی تھا کہ شربت بناتی ہوں ۔لیکن میری سنتا کون ہے ۔
    اتنے میں مابدولت کچن میں آئے اور ہم نے بڑی ہمدردی سے پوچھا کیا ہوا۔۔۔گلاسوں کو دیکھتے ہی بات سمجھ گئے (عقل مند جو ہوئے)
    ہم نے بڑی متانت اور سنجیدگی سے کہا کیوں پریشان ہو رہے ہیں تھورا تھورا پانی ملا دیجئیے۔مہمان تو بے زبان ہوتے ہیں۔۔۔۔۔
    اب دونوں میاں بیوی ہم کو ایسی تشکرانہ نظروں سے دیکھ رہے تھے جیسے ہم نے ان کو پرائز بونڈ نکلنے کی خوشخبری سنائی ہو۔۔۔ہم نے بھی ایک احسان جتاتی ہوئی مسکراہٹ ان کی طرف اچھالی اور باہر نکل آئے ۔۔۔
    اب جناب مہمانوں کے سامنے کوک رکھی گئی ۔پی تو وہ گئے لیکن ہمارا اندازہ تھورا سا غلط ہو گیا کہ "مہمان بے زبان ہوتے ہیں "
    پہلا سپ لیتے ہی فرمانے لگے آج کل تو کوک بھی دو نمبر آتی ہے "
    ہم نے اس کمرے سے باہر نکلنے میں ہی عافیت سمجھی کیونکہ چار خونخوار نگاہیں ہمیں بری طرح گھور رہی تھیں۔۔
    مہمانوں کے جانے کے بعد معاملہ گھر کے بڑوں تک پہنچ گیا۔ہماری طلبی ہوئی ۔ہم معصوم سی شکل بنائے کھڑے تھے ۔ڈانٹ کر پوچھا گیا کہ یہ حرکت کس کی تھی ۔ہم نے معصومیت سے ان دونوں کی طرف اشارہ کر دیا۔۔۔بھئی ہم نے کچھ کیا ہی نہیں تھا۔
    ان دونوں نے جھٹ سے بول دیا کہ مشورہ تو آپ کا ہی تھا۔اور ہم دل میں سوچ رہے تھے کہ لوگ کیسے احسان فراموش ہوتے ہیں ۔اتنی بڑی مصیبت سے نکالا اور ہم پر ہی الزام"
    ہم نے جواب دیا
    "مشورہ ہی دیا تھا آپ نہ مانتے ،ماننے کا تو نہیں کہا تھا"
    اور جھٹ وہاں سے غائب ہو گئے کہ اس کے بعد کچھ مزید القاب سنے پڑتے ۔
    اب آپ ہی بتائیے اس میں ہمارا کیا قصور
    ایسے ہی ایک بار ہمارے گھر کا پنکھا خراب ہو گیا۔۔اباجی نے اس کی موٹر کھولی اور مکینکی دکھانے لگے ۔ہم بھی شروع سے تھوڑے مکینکانہ ذہن والے ہیں تو ہم بھی کھڑے ہو گئے ان کے سر پر ۔ساتھ ہمارے ایک بھائی صاحب ابا جی کی مدد کر رہے تھے ۔
    اب اباجی ایک تار کو پکڑ کر دوسری کے ساتھ جوڑ رہے تھے ہم سے رہا نہ گیا
    ہم ۔۔۔۔۔۔اباجی یہ تار اس کے ساتھ نہیں نیلی والی کے ساتھ جوڑیں ۔۔۔
    اباجی۔۔۔۔۔۔۔ہیں تمہیں کیسے پتا کہ یہ تار اس سے جوڑنی ہے ۔۔
    ہم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ذرا سا مسکراتے ہوئے)ہم نے دیکھا ہے یہ وہیں سے اتری ہے ۔۔
    اباجی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمم
    بھائی صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خالو جان نہیں یہ تار یہاں نہیں جڑے گی ۔شارٹ ہو جائے گا۔
    اباجی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(خفا ہوتے ہوئے)ارے وہ کہہ رہی ہے تو ٹھیک ہی کہہ رہی ہو گی۔
    بھائی صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کو کیا پتا
    ہم۔۔۔۔۔۔۔اباجی ہمیں پتا ہے ہم نے دیکھا ہے ۔(ساتھ ہی نیچا منہ کر کے چل دئیے )
    اباجی۔۔۔۔۔۔۔۔ادھر آؤ۔
    اور اباجی نے بھائی صاحب کے نا نا کرتے ہوئے تار نیلی تار سے جوڑ دی ۔۔۔
    دھھھھھھھھھممممممممممممم
    ایک زور دار دھماکہ ہوا اور سارے گھر کی لائٹس بند۔
    لائٹ آنے کے بعد اباجی کی تقریر شروع ہو چکی تھی ۔سب سننے کے بعد ہم نے نہایت معصومانہ عرض کی
    ہم نے تو مشورہ دیا تھا کہا تو نہیں تھا کہ عمل کریں،،آپ نہ مانتے ہماری بات ۔۔۔۔

    اب آپ خود ہی بتائیں کہ ہمارے مشورے برے ہوتے ہیں یا لوگ ہی اپنی عقل استعمال نہیں کرتے
    اگر تجربہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمارا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے ۔
    جب جی چاہے مشورہ مانگ کر دیکھئیے
    "There is no market for emotions.
    So,
    Never advertise feelings,
    Just display attitude"

Page 3 of 22 FirstFirst 1234513 ... LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •