Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Page 1 of 6 123 ... LastLast
Results 1 to 15 of 90

Thread: [Afsana 055] لگن لاگی تم سے من کی لگن

  1. #1
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    [Afsana 055] لگن لاگی تم سے من کی لگن

    ناولٹ
    لگن لاگی تم سے من کی لگن
    نورالعین ساحرہ


    حوریہ نے اپنا سیل فون بند کر کے پرس میں رکھا اور جلدی جلدی اپنی شاپنگ مکمل کرنے لگی تاکہ اپنے شوہر سہیل کے آنے سے پہلے پہلے گھر پہنچ جائے۔
    اسکی شادی اب سے پانچ سال پہلے بیس سال کی عمر میں گھر والوں نے اپنی مرضی سے سہیل کے ساتھ کر دی تھی جو کہ ایک بہت کامیاب بزنس مین تھا مگر ان پانچ سال میں حوریہ نے شاید پانچ مہینے بھی اپنے شوہر سہیل کے ساتھ ٹھیک سے نہیں گزارے تھے۔ وہ اکیلا ہی ہر وقت ملکوں ملکوں اپنے کام کے سلسلے میں گھومتا رہتا اور جب بھی حوریہ اس کے ساتھ جانے کی ضد کرتی تو ہر بار اگلی دفعہ کا جھوٹا وعدہ کر کے بہلا پھسلا کر اکیلا ہی چلا جاتا اور وہ دل مسوس کر اس کو جاتے دیکھتی رہتی . دن کے وقت بوڑھی ساس سے ماضی کے قصے سنتی اور نوکروں سے کام کروایا کرتی یا پھر کبھی کبھار اپنے والدین کے گھر چکر لگا لیتی ۔ چاندنی راتیں ہوتی یا برستی برساتیں وہ تو بس ساری ساری رات اپنے بیڈروم میں لگے پردوں کے پھول ہی گننے پر مجبور تھی ۔
    زندگی اتنی مشکل تو نہیں ہوتی ۔ جانے کیوں کچھ لوگ دوسروں سے آ ۤگے نکلنے کی دھن میں اس کو اپنے لئے، اور کچھ لوگ دوسروں کے لئے عذاب بنا دیتے ہیں ۔ حوریہ کو پیسوں کی پرواہ بالکل نہیں تھی ۔ تربیت کے لحاظ سے وہ بہت صابر اور قناعت پسند تھی ۔اس کے خیال میں تو سر پر ایک چھت ہو، کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے اور زندگی کی بنیادی ضروریا ت پوری ہو رہی ہوں تو ہر انسان ہی بہت خوش قسمت کہلا سکتا ہے ۔ وہ ان ہی لڑکیوں میں سے ایک تھی جن کو دولت کی بجائے اپنے ہمسفر کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ مگر سہیل سمجھتا تھا شاید دولت ہی سب سے زیادہ اہم ہے اس لئے وہ اپنی بیوی کو تنہائیوں کے عذاب سہنے پر مجبور کر رہا تھا۔


    کبھی کبھی بالکل اچانک اسی طرح سہیل ایک دو ہفتے کے لئے گھر آ جاتا تو زندگی میں گویا ہلچل سی مچ جایا کرتی تھی اور ہر طرف بہار سی آ جاتی۔ اس وقت کھانا پکانے کا تو وقت نہیں تھا اس لئے باہر سے ہی سہیل کی پسند کا کھانا خرید لائی۔ گاڑی میں بیٹھنے لگی تو گجرے والے نے اپنا گجروں بھرا ہاتھ گاڑی کے اندر ڈال دیا ۔ اسکی گاڑی موتیا اور گلابوں کی خوشبو سے مہک اٹھی۔ وہ مسکرا دی، ذہن میں کئی خوبصورت اور خوش آئند منظر گھومنے لگے اور اس نے گجرے بھی خرید ڈالے۔
    ؓ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ ؓ؛
    پچاس سالہ شفیق ساغر نے شدت جذبات سے کانپتے ہاتھوں سے وہسکی کا ایک گھونٹ بھی لئے بغیر جام کو سائیڈ میں رکھا اور بہت بے قراری سے اپنا کمپیوٹر آن کر دیا۔
    اب سے سات دن پہلے تک وہ خود کو دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان مانتا تھا۔ دو پیارے پیارے بیٹوں اور انتہائی نیک اور خدمت گزار بیوی کے ہوتے ہوئے اسے زندگی سے بظاہر کوئی شکوہ نہ تھا ، سوائے اسکے کہ، کاش اس کی بیوی دیکھنے میں ایک عام سی گھریلو عورت کی بجائے بہت خوبصورت اور پڑھی لکھی عورت ہوتی ۔ اس کے ساتھ گھنٹوں بیٹھ کر نہ صرف ملکی حالات پر سیر حاصل تبصرے کر سکتی بلکہ اسکے فلاسفر ٹائپ دوستوں کو بھی محفل میں اپنے علم و ہنر سے حیرت زدہ کر دیا کرتی تو پھر وہ خود کو کتنا خوش قسمت سمجھتا۔

    شفیق کی بدقسمتی سے ایسا نا ہو سکا تھا۔ فریدہ خاتون بہت ہی سیدھی سادھی مڈل پاس اور اس کی کزن ہونے کی وجہ سے زبردستی اب سے تیس سال پہلے اسکی زندگی کا حصہ بنا دی گئی تھی۔ اس وقت وہ خود بھی چونکہ بیس سال کا ہی تھا تو انکار یا احتجاج جیسے لفظ سے قطعی ناواقف تھا۔
    کچھ عرصے بعد جب اسی سادہ سی بیوی کی سنگت سے زندگی بہت سہل ہو گئی اور پیارے پیارے دو بیٹے گود میں آئے تو گھر خوشیوں سے مہک اٹھا ۔ تب اس نے فریدہ خاتون کے سارے قصور معاف سمجھے اور اپنا سارا دھیان بھی ایک پڑھی لکھی آئیڈیل بیوی سے ہٹا کر صرف اپنا مستقبل بنانے میں لگا دیا۔

    اب تو شادی کو بھی تیس برس گزر چکے تھے اور وہ دادا بھی بن چکا تھا ۔ اس مقام تک آنے میں اس کی سادہ لوح اور ان پڑھ بیوی کا بہت ہاتھ تھا۔ جو ہمیشہ اس کے بلندی پر جانے کی وجہ بنی تھی۔ ویسے تو شفیق کے دل میں اپنی بیوی کے لئے بہت پیار تھا مگر پھر بھی کبھی کبھی وہی خوبصورت آئیڈیل بیوی والا خیال چپکے سے دماغ میں آ جاتا تو دل میں ایک کسک سی پیدا ہونے لگتی۔ ایسا لگتا تھا وہ اس بات کو بھول گیا ہے مگر سچ تو یہی ہے کہ کسی آرزو کو "بھلا" دینے میں اور زبردستی "دبا" دینے میں بہت فرق ہوا کرتا ہے۔ بھولی باتیں ہو سکتا ہے یاد نہ آئیں مگر زبردستی دبا دی گئی خواہشات موقع ملتے ہی "اسپرنگ" کی طرح اچھل کر سامنے آ جایا کرتی ہیں۔

    آج جبکہ وہ کراچی کا بہت بڑا وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی محبِ وطن شعلہ صفت کالم نگار اور چھوٹا موٹا شاعر بھی تھا۔ لوگ اس سے بہت ڈرتے تھے اور کہتے تھے اس کے قلم سے الفاظ نہیں، شعلے نکلا کرتے ہیں جو سامنے والے کو پل میں جلا کر بھسم کر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ کبھی کسی سے نہیں ڈرتا تھا کسی کے سامنے نہیں جھکتا تھا یہاں تک کہ مسلسل کامیابیوں نے اسے اتنا مغرور بنا دیا تھا کہ اب شاید اسے خدا کے سامنے سر جھکانے کی بھی ضرورت یا فرصت نہیں ملتی تھی۔

    جب شفیق ساغر نے اپنے کچھ ادیب دوستوں کے ساتھ مل کر پہلی بار شراب اور سگریٹ پینا شروع کیا تھا تو فریدہ خاتون اور بچوں نے اسے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر ان کی ایک نا سنی گئی ۔ اسی لئے کہتے ہیں قسمت کے بعد آپ کے دوست ہی آپ کا مستقبل بنانے اور بگاڑنے کے ذ مہ دار ہوتے ہیں۔ اچھے دوست ہوں گے تو اچھا مستقبل متوقع ہو گا اور برے دوست ہوں گے تو برا مستقبل ہی آپ کا منتظر ہو گا۔
    دوستوں کی وجہ سے اس کی یہ بری عادت پختہ سے پختہ ہوتی چلی گئی اور اب تو یہ حال تھا بیٹے خود شراب کی پرانی بوتل ختم ہونے سے پہلے نئی لا دیتے تھے کیونکہ بغیر شراب کے وہ کسی زخمی شیر میں بدل جایا کرتا تھا اور ان کی ماں پر ہاتھ اٹھانے سے بھی نہیں چوکتا تھا۔ ویسے بھی شفیق نے کھبی کسی کے سامنے نہیں پی تھی اور بہت ہی کم قریبی دوستوں کے علاوہ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ شراب بھی پیتا ہو گا۔ صرف رات کو سونے سے پہلے اور کالم لکھتے وقت پینا اسے ضروری لگتا تھا۔ یہ سمجھے بغیر کہ وہ جہنم خریدنے کا انتظام مکمل کر کے سوتا ہے۔
    ؓ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ ؓ؛
    جب سہیل ڈھیر سارے بیگ اٹھائے گھر میں داخل ہوا اور حوریہ پر نظر پڑی تو ایک ٹک اسے دیکھتا ہی رہ گیا ۔ پھر بہت بےتابی سے آگے بڑھکر اسے گلے ملتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔
    " حوریہ تم شادی کے پانچ سال بعد بھی نئی نویلی دلہن نظر آتی ہو۔ اپنی خوش نصیبی پر جتنا بھی ناز کروں کم ہے ۔ اس کمبخت بزنس نے مجھے تم سے بہت دور کر رکھا ہے ورنہ میں خود بھی اب زیادہ دیر تمھارے بغیر نہیں رہ سکتا۔""
    حوریہ بہت غصے سے خود کوچھڑاتے ہوئے پیچھے ہٹی اور روٹھے لہجے میں بولی
    "تو گویا اب کی بار بھی مجھے ساتھ لے کر نہیں جاؤ گے؟"
    خوشی سے دمکتے گالوں پر جیسے مایوسی کی رات پھیلنے لگی اور پھر سے لمبی جدائی کے خیال نے اس کو جیسے خوابوں کے طلسم سے نکال کر زمین پر پٹخ دیا۔
    "ارے نہیں نہیں میری جان ایسی بات نہیں ۔ میں بہت جلد خود پاکستان میں سیٹ ہونے والا ہوں بس کچھ مہینے اور انتظار کرنا ہو گا ۔"

    "چلو اب جلدی سے کھانا نکالو۔ باقی باتیں کھانے کی میز پر۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے سخت بھوک لگی ہے اور تمھیں تو علم ہے ہی میں بھوک برداشت نہیں کر سکتا اور کھانے کے بعد کی باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
    "بس بس بس" حوریہ کے گالوں پر گلال اتر آیا اور وہ جلدی سے اسکی پلیٹ میں کھانا نکالنے لگی۔

    دونوں نے مل کر بہت خوشی خوشی کھانا کھایا اور اسکے فوراً بعد سہیل چینج کرنے بیڈروم میں چلا گیا جبکہ حوریہ کی ساس کا فون آ گیا جو ان دنوں اپنی بہن کے گھر میں تھیں، جسے سننے میں اسے پندرہ منٹ لگ گئے۔
    جب وہ دل میں ہزاروں ارمان اور بے شمار جدائی کے قصے سہیل کو سنانے کے لئے بیڈروم میں داخل ہوئی تو سہیل پہلے ہی گہری نیند سو چکا تھا۔ اسے شدید دکھ ہوا ۔ گو کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا پھر بھی اپنی اس تذلیل اور نا قدری پر اسکا دل جیسے چیخ چیخ کر ماتم کرنا چاہتا تھا مگر لب خاموش رہے۔ لاکھ ضبط کرنے پر بھی آنکھوں کے کٹورے چھلک ہی گئے ۔ عورت پن کا سارا غرور جیسے خاک میں مل گیا تھا ۔ ہاتھوں میں پہنے ہوئے گجرے اس کا مذاق اڑانے لگے ۔ اپنی اتنی ناقدری کے خیال نے اسے اندر سے بےثمر زمین کی طرح بنجر کر دیا اور وہ بے بسی اور ذلت کے احساس سے جیسے زمین میں دھنستی ہی چلی گئی۔
    ؛ؓ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ ؓ؛
    کمپیوٹر کھلتے ہی شفیق ساغر نے بہت بے تابی سے شامِ بہار کا نام ڈھونڈنا شروع کیا۔ وہ پچھلے دو سالوں سے اس کے ہر کالم کو نہ صرف بہت باریک بینی سے پڑھتی بلکہ انتہائی عالمانہ رائے بھی دیا کرتی تھی۔ اس کی رائے نا صرف بہت مدلل اور نپی تلی ہوتی بلکہ جامعیت کے تمام پہلو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتی تھی۔ کبھی کبھی تو ایسی تنقید کرتی یا ایسے نقاط نکالتی کہ وہ خود بھی دنگ رہ جاتا۔ شروع شروع میں وہ باقی مداحوں کی طرح اس کا تبصرہ چیک کرتا مگر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ شام بہار کا نام اور مقام جیسے کچھ بدل سا گیا تھا۔
    اب تو کئی مہینوں سے لگتا تھا الٹا وہ خودشامِ بہار کا مداح بن چکا تھا۔ اس کا زہر اگلتا قلم اب جیسے خوشبو اڑانے لگا تھا۔ اس کے تمام کالمز میں سے،معاشرہ ،معاشرتی برائی، ملک ، ملکی حالات بالکل ختم ہو نے لگے ۔ اسکی بجائے رنگوں پھولوں اور خوشبو کا ذکر ہونے لگا۔ لوگ حیران تھے یہ کیا ہو رہا ہے۔ کسی کو بھی یہ معلوم نہیں تھا کہ اکثر کالم تو وہ اب صرف لکھتا ہی اسی لئے تھا کہ اس بارے میں شامِ بہار کا نظریہ جان سکے۔

    وہ اس کی زندگی میں واقعی جیسے بہار بن کر چھا گئی تھی۔ حالانکہ وہ شادی شدہ تھی اور ہر وقت اس کو بتاتی رہتی تھی کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ بہت خوشگوار زندگی بسر کر رہی ہے۔ بس اپنے شوہر کی حد سے بڑھی ہوئی مصروفیات کے باعث خود کو بہت اکیلا محسوس کرتی ہے اور زندگی میں بہت کمی سی لگتی ہے۔

    شفیق ایسا کچھ کرنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ وہ اپنے بچوں اور بیوی کے ساتھ بے حد مکمل زندگی گزار رہا تھا مگر انجانے میں اس سے یہ سب ہو رہا تھا۔ اس کا اپنے اوپر بس نہیں چل رہا تھا۔ ایک خوبصورت اور پڑھی لکھی والی بیوی والی برسوں پرانی دل میں زبردستی دبائی گئی خواہش کسی اسپرنگ کی طرح اچھل کر پھر سے سامنے آ گئی تھی۔ اس بات کا احساس ہوئے تو اسے بہت مہینے ہو چکے تھے کہ وہ ناچاہتے ہوئے بھی شامِ بہار کے عشق میں گوڈے گوڈے ڈوب چکا ہے۔
    وہ یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ اب کتنا بھی چاہے اس ذلت و رسوائی سے خود کو بچا نہیں پائے گا۔ ۔

    وہ پچھلے کئی مہینوں سے الجھا الجھا سا رہتا ۔ شامِ بہار کے ساتھ پوری پوری رات چیٹ کرتا رہتا۔ اس کا بہت خیال رکھتا۔ وہ دونوں ہر وقت ادھر ادھر کی بے مقصد باتیں کرتے رہتے۔ کچھ سمجھ نہیں آتا تھا کیسے اپنے دل کا حال بیان کرے۔ وہ شفیق کو اپنی سہیلی سمجھ کر چھوٹی چھوٹی باتیں شئیر کرتی رہتی۔ شفیق اس کو دل کی بات بتا نہیں پاتا تھا مگر خود ساری راتیں جا گتا ۔ ایک پل نہیں سو پاتا تھا۔ کچھ سجھائی نہ دیتا تھا کہ شامِ بہار تک کیسے اپنے جذبات پہنچائے۔ پہنچائے بھی یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔

    وہ تو اس کو اپنا دوست مان کر اس سے اکثر اپنا کوئی دکھ رو لیتی تھی۔ دل کی باتیں کر لیتی تھی ۔اس کے تو وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ شفیق ساغر اس کے پیار میں گرفتار ہو چکا ہے۔ خود شفیق کو بھی اچھی طرح علم تھا اگر باقی سب مسائل حل ہو بھی جائیں تو عمر کا فرق کھبی نہ ختم ہونے والا تھا۔ یہیں پر آ کر اس کی سوچ کی پرواز رک جاتی تھی۔اسی لئے وہ لاکھ چاہنے کے باوجود اپنے دل کا حال شامِ بہار سے چھپانے پر مجبور تھا۔
    ؛ؓ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ ؓ؛
    پچھلے چند مہینوں سے وہ شامِ بہار سے اس کی تصویر کا روزانہ تقاضا کرتے کرتے جیسے پاگل سا ہونے لگا تھا۔ وہ ہر بار کوئی نا کوئی بہانہ بنا دیتی تھی۔ شفیق کا اصرار اور اس کا انکار بڑھتا رہا۔ آخر کار ایک دن اتنی ضد سے مجبور ہو کر شامِ بہار نے اپنی چند شرائط منوانے کے وعدہ پر اپنی تصویر بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔ جب شفیق کو بتایا تو وہ ان شرائط کو سنے بغیر ہی مان بھی چکا تھا مگر اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب
    وہ اسکی شرطیں پڑھ رہا تھا تو ششدر رہ گیا ۔ شاید وہ اس کے لئے کھبی بھی قابل قبول نہیں ہو سکتی تھیں مگر شرائط نا ماننے کی سزا اس کے تصورات سے بھی زیادہ بھیانک تھی۔
    شامِ بہار نے لکھا تھا ۔

    "اگر آپ نے اس میں سے ایک بھی شرط میں ذرا سی بھی بے ایمانی کی تو بدلے میں آپ سے کبھی بات نہیں کروں گی اور چونکہ میں خود تو آپ کو یہ سب کرتے اپنی آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتی اس لئے ہم دونوں خدا سے دعا مانگیں گے کہ ایک بے ایمانی کے بدلے میں ہم دونوں کے درمیان ایک سال کی جدائی ہو جائے اور دو کے بدلے میں دو سال کی جدائی اسی طرح ہر بے ایمانی کے بدلے جدائی کے سال بڑھتے جائیں اور اگر آپ ہمیشہ میرے دوست رہنا چاہتے ہیں تو ابھی اسی دعا کے سامنے آمین لکھ کر مجھے واپس بھیج دیں گے"۔

    "ا) پہلی شرط یہ ہے کہ آپ کبھی بھی شراب کو ہاتھ نہیں لگائیں گے۔
    2)دوسری شرط یہ ہے کہ پوری پانچ نمازیں پڑھنے کی روزانہ کوشش کریں گے۔اور مجھے رپورٹ بھی دیں گے۔
    اگر آپ نے میری یہ دونوں شرطیں مان لیں تو میں آپ کی سالگرہ والے دن تحفے کے طور پر اپنی تصویر بھیج دوں گی "
    یہ سب پڑھ کر شفیق دم بخود بیٹھا رہ گیا اور اپنے آپ سے پوچھنے لگا ـ۔۔۔۔۔۔ اب کیا ہو گا؟

    یہ سوچ سوچ کر اس کا سر درد سے پھٹنے لگا تھا۔ نہ تو وہ شراب کو چھوڑ سکتا تھا نہ ہی بہار کو دیکھنے کا واحد موقع گنوا سکتا تھا۔ نہ جھوٹا وعدہ کر سکتا تھا کہ اسے اسی وقت آمین لکھ کر وہی میل واپس بھیجنا تھی اور نہ ہی جدائی کی سزا اٹھا سکتا تھا اور اب سخت پریشان تھا ۔
    ؛ؓ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ ؓ؛
    شراب،نماز اور شامِ بہار
    ان تین لفظوں نے اسے پاگل کر دیا تھا۔ ایسا لگتا تھا یہی اس کی زندگی کے بنیادی ستون ہیں اور وہ آنکھیں بند کر کے ان کے گرد چکر لگانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ وہ عجیب بے بسی سے ان شرطوں کو گھور رہا تھا۔ آج اس کو پہلی بار سمجھ میں آیا تھا کہ " من کی لگن" کیا چیز ہوتی ہے۔
    وہ ان تین لفظوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ہانپنے لگا تھا۔ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کس کو چن لے کس کو چھوڑ دے۔ پھر اس نے شامِ بہار سے کچھ دن مانگے اور آخر کار شرائط کے جواب میں "آمین" لکھ کر بھیج دیا کیونکہ اس کے لئے سب سے اہم اس ہستی کا دیدار تھا جس کو دیکھے بنا وہ اس کا اتنا دیوانہ تھا کہ وہ اس کے ایک اشارے پر اپنی جان بھی دے سکتا تھا۔ یہ شرطیں تو کچھ بھی نہیں تھیں۔
    آج اسے نماز پڑھتے اور شراب کو چھوڑے سات دن ہو چکے تھے۔ گھر والے اسے دیکھ دیکھ کر حیران ،پریشان اور اس کی اجڑی حالت دیکھ کر کبھی پشیمان ہوتے رہتے تھے تو کبھی نماز پڑھتے دیکھ کر بہت مسرور ہوتے ۔۔۔۔۔مگر وہ کسی کو کچھ بتا کر نہیں دیتا تھا۔ کئی بار بے خیالی میں شراب کا پیگ بناتا مگر پینے سے پہلے اپنی قسم یاد آ جاتی تو یونہی پھینک دیتا۔
    جائے نماز پر کھڑا ہوتا تو گھنٹوں کھڑا رہتا۔ سجدے میں جاتا تو اٹھنا بھول جاتا۔ کچھ سمجھ نہ آتا تھا خدا سے کیا کہے۔ کس طرح معافی مانگے۔ کس طرح اپنے گناہوں کا اقرار کرے۔
    مگر شاید خود خدا کو اس پر رحم آ گیا تھا یہی وجہ تھی کہ تیسرے دن وہ پوری رات فجر کی اذان کا انتظار کرتا رہا اور صبح بہت شوق سے نماز پڑھی۔ عجیب طرح کا نشہ اس کے وجود میں چھا رہا تھا۔ یہ نشہ اور سرور شراب کے نشے سے کہیں زیادہ طاقتور تھا۔

    ؛ؓ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ ؓ؛

    آج اس کی سالگرہ تھی اور پوری رات اور دن وہ دیوانوں کی طرح کمپیوٹر کھولے شام بہار کی تصویر کا منتظر تھا۔ پھر جب وہ اپنے وقت پہ آن لائن آئی تو اس کی میل کا عنوان "زندگی کا سب سے خوبصورت سال مبارک ہو"کے ساتھ اٹیچمنٹ کا سائن دیکھ کر شفیق کا دل شدت جذبات سے دھڑکنے لگا۔
    پتہ نہیں وہ کیسی ہو گی؟ ہزاروں وسوسے پل بھر میں ذہن سے گزرے۔ کبھی سوچتا تصویر نہ ہی کھولے۔ ایسا نہ ہو وہ اتنی بدصورت ہو کہ میرے خوابوں کا تاج محل دھڑام سے گر جائے، کبھی سوچتا۔۔۔۔ نہیں نہیں وہ بہت خوبصورت ہے میرا دل اس کی گواہی دیتا ہے اور دل کی گواہی کبھی غلط نہیں ہوتی ۔
    پھر وہ خود کو روک نہ پایا اور اٹیچمینٹ کو کلک کر ہی دیا۔
    ایک ۔۔۔۔۔ دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔تین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تصویر کھلنے میں کچھ وقت لے رہی تھی مگر اس کو لگتا تھا جیسے اس کی جان قدموں سے نکلتی جا رہی ہے
    اور پھر ایک جھماکے کے ساتھ وہ تصویر پوری کھل گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تصویر کیا کھلی گویا پوری کائنات کی ہر چیز پر چھا گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے ارض و سماں اس تصویر میں سما گئے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ مبہوت رہ گیا اور اسے دیکھ کر جیسے سانس لینا ہی بھول گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ وہ حسن کسی زمیں زادی کا ہو ہی نہیں سکتا تھا۔

    آف وائیٹ حریری کپڑوں کے ساتھ آف وائیٹ موتیوں اور گجروں میں لپٹی ہوئی لمبے لمبے بالوں والی نازک سی لڑکی تو صرف کسی مصور کا شاہکار ہی ہو سکتی تھی جو اس مصور نے شاید کبھی کسی حور کے تصور کو واضح کرنے کے لئے بنایا ہو گا۔
    "حور" وہ اپنے آپ میں بڑبڑایا۔ تمہارا نام اس کے علاوہ کچھ اور ہو ہی نہیں ہو سکتا
    وہ خوش ہونے کی بجائے ڈر سا گیا اور رعب حسن سے خوفزدہ ہو کر بیٹھے رہنے کی بجائے با ادب کھڑا ہو گیا۔ اسی وقت اس کی نظر سامنے لگے شیشے پر پڑی تو اپنے سفید بال اور جھریوں بھرے چہرے کو دیکھ کر وہ مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب گیا۔ زندگی کے اس عجیب و غریب اور بھیانک مذاق نے جیسے اس کی کمر ہی توڑ دی تھی
    اور اس نے کچھ اور سوچے بنا اسی وقت بہار کے نام یہ پیغام بھیج دیا۔

    "میں خود کو اور اپنے جذبات کو تم سے چھپاتے چھپاتے تھک گیا ہوں۔ اب نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور نہیں چھپا سکتا، تم سمجھو گی شاید میں تمھاری خوبصورتی سے متاثرہو کر اپنا ذہنی توازن کھو چکا ہوں مگر یہ سچ نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ تمہیں دیکھے بنا ہی میں تمہارا ہو چکا تھا۔ گر تم اندھی لولی لنگڑی بھی ہوتیں تب بھی میں تمھیں تم سے ضرور مانگتا کیونکہ
    محبت جنھیں ہو گئی ہو کسی سے
    وہ محبت کا انجام کب سوچتے ہیں
    چل پڑے ہوں چراغ محبت جو ہاتھوں میں لے کر
    بیابان میں ہو گی کہ صحرا میں ہو گی
    کہاں ہو گی اب شام، کب سوچتے ہیں "

    یہ میل جب بہار تک پہنچی تو وہ ہکا بکا رہ گئی اور غصے سے پوچھنے لگی

    "یہ کیسا گھٹیا مذاق ہے۔ میں تصور بھی نہیں کر سکتی آپ مجھ سے اتنی گری ہوئی بات کیسے کر سکتے ہیں۔ میں شادی شدہ ہوں ۔آپ جانتے ہیں ۔میں صرف آپ کو اپنا دوست سمجھتی تھی۔ میں اپنے شوہر کے پاکستان میں نہ ہونے سے اکثر تنہائی کا شکار ہو جاتی ہوں۔ آ پ اتنے اچھے اور معتبر ہیں۔ مجھے آپ سے نہیں صرف " آپکے افکار " سے محبت ہے ۔ میں تو صرف دوستوں کی طرح آپ سے بات کرتی تھی۔ میں نے صرف دوست سمجھ کر آپ کو اپنی تصویر بھیجی تھی مگر اب احساس ہو رہا ہے یہ میری بہت بڑی غلطی ہے۔
    مجھے شدید صدمہ ہو رہا ہے ۔آپ نے یہ سوچا بھی تو کیسے؟ ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ ایسا تو کبھی ہو ہی نہیں سکتا۔ آج مجھے اچھی طرح معلوم ہو گیا کہ اسلام میں مرد و عورت کی دوستی کیوں نہیں ہو سکتی۔ ہونی چاہیے بھی نہیں کہ ہمیشہ یہی ایک انجام متوقع ہوتا ہے۔ــــــ مجھے آپ کو کسی صورت اپنی تصویر دینی ہی نہیں تھی۔ یہ میری بہت بڑی بھول تھی۔۔

    یہ لکھ کر بہار نے میل وآپس بھیج دی۔
    فورا ہی شفیق کی طرف سے اس کا جواب بھی آ گیا
    ِ"شامِ بہار مجھ سے زیادہ کہا نہیں جائے گا۔بس اتنا سمجھ لو اگر تم مجھے نہ ملیں تو میں اسی لمحے اپنی جان دے دوں گا۔ بہت محبت کرتا ہوں تم سے۔ پوری زندگی بدل گئی ہے میری۔ ایک ایک پل میری نظر صرف تمھیں ہی دیکھنا چاہتی ہے۔
    پلیز اپنے شوہر سے طلاق لے کر مجھ سے شادی کر لو۔ میں جانتا ہوں تم اپنے شوہر کے ساتھ خوش نہیں ہو۔ اس کے پاس تمھارے لئے وقت نہیں ہے اور شاید کبھی نہیں ہو گا اور میرے پاس تمھارے علاوہ کچھ اور نہیں ہے۔
    میں تمھاری ساری محرومیوں کا ازالہ کروں گا۔ کہکشاں تمھارے قدموں میں بچھا دوں گا۔ بہت دولت ہے میرے پاس اور وہ سب لے کر ہم دور کسی ملک میں چلے جائیں گے۔جہاں ہمیں کبھی کوئی ڈھونڈ نہ پائے گا۔ میں کبھی تم کو زمین پر پیر بھی نہیں رکھنے دوں گا،تمھارے ہر قدم کے نیچے اپنا دل رکھوں گا۔
    دیکھو بہار۔۔۔۔ ! اب انکار مت کرنا کہ میں عشق کے اس مقام پر ہوں جہاں اور کوئی راستہ نہیں جاتا۔ اس سے آگے صرف فنا کا سفر ہوتا ہے۔ اگر تم مجھے نہیں ملیں تو یا تو میں خود مر جاؤں گا یا پھر تمھیں مار ڈالوں گا۔ پلیزعمر کے فرق کو ہمارے راستے کی دیوار مت بننے دینا کہ بس یہی ایک چیز میرے اختیار میں نہیں ہے اور شاید میرے راستے کی سب سے بڑی دیوار بھی یہی ہے۔ــ
    ؛ؓ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ ؓ؛

    یہ سب پڑھ کر شامِ بہار دم بخود بیٹھی تھی۔ یقین نہیں آ رہا تھا قسمت اس سے اتنا بھیانک مذاق کر سکتی ہے۔ پوری دنیا میں اس نے صرف ایک ہی شخص سے اپنے دل کا حال کہا تھا۔ اپنا درد بانٹا تھا۔ وہ اپنے سب سے اچھے دوست کو کھو کر کیسے جی پائے گی۔ وہ پچھلے کئی گھنٹوں سے اس میل کو دیکھ رہی تھی۔ اسے کچھ احساس بھی نہیں تھا کب سے آنسو بہتے جا رہے تھے۔ وہ صرف اپنے لئے ہی غمزدہ نہیں تھی بلکہ شفیق ساغر کے "من کی لگن" کو بھی اتنی ہی سچائی سے جان چکی تھی اور یہی بات اسے کسی پل چین نہیں لینے دے رہی تھی۔ اس کی جدائی کی صورت میں شفیق کو ملنے والا ناقابل برداشت غم خود اسے بھی اندر سے توڑ پھوڑ رہا تھا۔ اسے شفیق کی اذیت سے تکلیف ہو رہی تھی ۔ کبھی کبھی خیال آتا اگر پہلے "اس نظر " سے نہیں سوچا تو اب سوچنے میں کیا حرج ہے۔ وہ کیوں اپنی پوری لائف ایسے شخص کے لئے برباد کرے جس کے پاس اس کے لئے وقت نہیں ہے کیوں نہ اس کو چن لے جو اس کی ایک نظر کے لئے سر تا پا التجا بنا ہوا ہے۔ وہ کافی دیر سوچتی رہی اور پھر شفیق کو ای میل بھیج دی


    "کیا ہوا جو میرے میاں میرے پاس نہیں ہیں اس وقت، مگر ان کی عزت اور ناموس مجھے اپنی ہر خوشی سے بڑھ کر پیاری ہے۔ کیا ہوا جو میں خوش نہیں ہوں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں اپنی شرم و حیا طاق پر رکھ کر اپنے خاندان کی عزت سرعام اچھالوں۔ میرے خدا ،خاندان اور خاوند کے میرے طرف جو قرض بنتے ہیں ان کو نبھانے میں پوری زندگی بھی بیت گئی تو کوئی غم نہیں ہو گا۔ یہ دنیا تو آنی جانی چیز ہے،اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ آج مرے کل دوسرا دن ہو سکتا ہے۔۔

    آپ کے بھی بچے ہیں ۔ اچھی سی بیوی ہے۔ ایک پورا ہنستا بستا گھر ہے۔ کیسے دل توڑ پائیں گے آپ ان سب کا؟ کتنا مان ہے ان سب کو آپ پر۔ معاشرے میں کتنا بڑا نام ہے آپ کا اور کتنا اونچا مقام ہے ۔ سب لوگ آپ پر ہنسیں گے تو مجھے بہت تکلیف ہو گی۔ میں آپ کو کبھی زمانے میں نا معتبر نہیں ہونے دوں گی۔ یہ آپ سے میری "دوستانہ محبت" کا تقاضا ہے۔
    سوچیں۔۔۔۔۔! اگر ہم نے بھاگ کر شادی کر بھی لی اور دوسرے ہی دن ہم میں سے کوئی ایک مر گیا تو دوسرا دنیا کے کس کونے میں منہ چھپائے گا؟ زمین بھی شاید اس کو کہیں پناہ نہیں دے گی۔

    آپ بھٹک رہے ہیں ۔ مجھ سے محبت کر کے اپنا راستہ کھوٹا مت کریں۔ یہ عشق تو شاید پہلی سیڑھی ہے اس اونچائی کی جہاں آپ کو پہنچ جانا ہے ایک دن۔ آپ کی منزل میں نہیں ہوں بلکہ کچھ اور ہی ہے ۔ براہ مہربانی اس کو ڈھونڈنے کی کوشش کریں اور میرے پیچھے بھاگ کر اپنا وقت برباد مت کریں۔

    اب شاید مجھے کچھ کہنے کا حق تو نہیں رہا مگر پھر بھی آخری بار کہتی ہوں میرے بعد بھی کبھی شراب کو ہاتھ نہیں لگانا اور ہو سکے تو نماز کو کبھی چھوڑنا نہیں۔ آپ نے جو مصیبت محبت کے نام پر مول لی ہے تو اب تو صرف خدا ہی آۤپ کو اس عذاب سے نکال سکتا ہے۔ پلیز اس ہی سے رجو ع کریں"۔
    ہمیشہ کے لئے خدا حافظ۔
    ؛ؓ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ ؓ؛
    شامِ بہار نے اس میل کا جواب دینے کے بعد اپنا اکاؤنٹ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا اور اس کے ہونٹوں پر مستقل رہنے والی ہنسی کی جگہ اداسیوں نے ڈیرے ڈال لئے، وہ ایک بار پھر سے تنہا ہو گئی۔ یہ شک تو اسے بھی اکثر ہوتا تھا جیسے شفیق کو اس سے محبت ہوتی جا رہی تھی مگر ہر بار وہ محبت سے زیادہ اسے اس کی شفقت سمجھتی رہتی تھی۔ اٹھتے بیٹھتے اسے شفیق کی باتیں اور اس کا خیال رکھنا یاد آتا۔
    وہ کیسے اس کے ساتھ پوری پوری رات بیٹھ کر وقت بتایا کرتا تھا کیونکہ اسے اکیلے میں نیند نہیں آیا کرتی تھی۔ وہ دونوں دنیا جہان کی باتیں کرتے اور کبھی بچوں کی طرح لڑنے لگتے۔ اسے شفیق بہت بہت اچھا لگتا تھا۔ وہ سوچتی کاش اس کا شوہر بھی اس کے ساتھ ہوتا اور اس کا مزاج بھی شفیق جیسا ہوتا تو زندگی کتنی حسین ہوتی۔ شفیق کے چلے جانے سے اس کی زندگی میں دوسرا بڑا خلا پیدا ہو گیا تھا۔

    اسی طرح کافی مہینے گزر گئے ۔ شفیق ساغر نے کالم لکھنا اب بالکل ختم کر دیا ۔
    اکثر اخباروں میں اس کے ہارٹ اٹیک کی خبر چھپی تو وہ خدا کے سامنے خوب روئی ،گڑگڑائی اور شفیق کی زندگی کی بھیک مانگتی رہی۔اپنے کئے پر نادم بھی ہوئی مگر "اچھے مقصد" کے لئے "برا کرنے" سے "اچھے نتیجے" کی امید پھر بھی کم نہ ہوئی ۔ پھر اس کے صحت مند ہونے کے بعد اکثر اخباروں میں لکھا ہوتا کہ وہ اب صاحب فراش ہو گیا ہے۔ کسی سے ملتا جلتا نہیں ہے۔ کوئی کہتا رشوت لے کر اب خاموش رہتا ہے اور حکومت کے خلاف کچھ نہیں لکھتا ۔ ڈر گیا ہے ۔ کوئی کہتا اس کی "سپاری" دی جا چکی ہے ۔ اس نے لوگوں کے خلاف لکھنا بھی اسی لئے چھوڑ دیا ہے۔ غرض جتنے منہ اتنی ہی باتیں پڑھتی رہتی تھی اور اس کے لئے دعا گو رہتی تھی۔۔
    ؛ؓ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ ؓ؛

    ایک دن جب حوریہ اچانک ٹی وی دیکھتے ہوئے ایک چینل بدلنے لگی تو سامنے شفیق ساغر کو لمبی داڑھی میں ٹخنوں سے اوپر شلوار پہنے کچھ درس دیتا ہوا پایا تو حیرت سے دنگ رہ گئی۔ اسکا چہرہ بہت نورانی لگ رہا تھا اور وہ بہت زیادہ اسلامی رنگ میں رنگ چکا تھا۔
    "تو گویا تم اپنی منزل تک پہنچ گئے شفیق ساغر"
    اس کو اس طرح تبلیغ کرتے دیکھ کر حوریہ دل ہی دل میں بولی اور اتنے مہینوں بعد کھل کر طمانیت سے مسکرا دی۔ اس کے دل سے سارا بوجھ ایک دم اتر گیا۔ اب وہ زیادہ آسانی سے سہیل کے ہمیشہ کے لئے پاکستان سیٹ ہونے کا انتظار کر سکتی تھی ۔ پہلے وہ اپنا ایک واحد دوست کھو کر بہت اداس رہتی تھی مگر اب وہ بہت خوش تھی۔ صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کر کے اس نے نہ صرف بہت سے لوگوں کی عزت و ناموس بچا لی تھی بلکہ انجانے میں ہی سہی مگر ایک بھٹکے ہوئے شخص کو اس کی اصلی منزل تک پہنچانے کی وجہ بھی بن گئی۔
    ؛ؓ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ ؓ؛





    لگن لاگی تم سے من کی لگن
    نورالعین ساحرہ
    حوریہ نے اپنا سیل فون بند کر کے پرس میں رکھا اور جلدی جلدی اپنی شاپنگ مکمل کرنے لگی تاکہ اپنے شوہر سہیل کے آنے سے پہلے پہلے گھر پہنچ جائے۔
    اسکی شادی اب سے پانچ سال پہلے بیس سال کی عمر میں گھر والوں نے اپنی مرضی سے سہیل سے کر دی تھی جو کہ ایک بہت کامیاب بزنس مین تھا مگر ان پانچ سال میں حوریہ نے شاید پانچ مہینے بھی اپنے شوہر سہیل کے ساتھ ٹھیک سے نہیں گزارے تھے۔ وہ اکیلا ہی ہر وقت ملکوں ملکوں اپنے کام کے سلسلے میں گھومتا رہتا اور جب بھی حوریہ ساتھ جانے کی ضد کرتی تو ہر بار اگلی دفعہ کا جھوٹا وعدہ کر کے بہلا پھسلا کر اکیلا ہی چلا جاتا اور وہ دل مسوس کر اسکو جاتے دیکھتی رہتی . دن کے وقت بوڑھی ساس سے ماضی کے قصے سنتی اور نوکروں سے کام کروایا کرتی یا پھر کبھی کبھار اپنے والدین کے گھر چکر لگا لیتی ۔ چاندنی راتیں ہوتی یا برستی برساتیں وہ تو بس ساری ساری رات اپنے بیڈروم میں لگے پردوں کے پھول ہی گننے پر مجبور تھی ۔
    زندگی اتنی مشکل تو نہیں ہوتی ۔ جانے کیوں کچھ لوگ دوسروں سے آ ۤگے نکلنے کی دھن میں اسکو اپنے لئے، اور کچھ لوگ دوسروں کے لئے عذاب بنا دیتے ہیں ۔حوریہ کو پیسوں کی پرواہ بالکل نہیں تھی ۔ تربیت کے لحاظ سے وہ بہت صابر اور قناعت پسند تھی ۔اس کے خیال میں تو سر پر ایک چھت ہو، کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے اور زندگی کی بنیادی ضروریا ت پوری ہو رہی ہوں تو ہر انسان ہی بہت خوش قسمت کہلا سکتا ہے ۔ ۔ وہ ان ہی لڑکیوں میں سے ایک تھی جنکو دولت کی بجائے اپنے ہمسفر کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ مگر سہیل سمجھتا تھا شاید دولت ہی سب سے زیادہ اہم ہے اس لئے وہ اپنی بیوی کو تنہائیوں کا عذاب سہنے پر مجبور کر رہا تھا۔

    کبھی کبھی بالکل اچانک اسی طرح سہیل ایک دو ہفتے کے لئے گھر آ جاتا تو زندگی میں گویا ہلچل سی مچ جایا کرتی تھی اور ہر طرف بہار سی آ جاتی۔ اس وقت کھانا پکانے کا تو وقت نہیں تھا اس لئے باہر سے ہی سہیل کی پسند کا کھانا خرید لائی۔ گاڑی میں بیٹھنے لگی تو گجرے والے نے اپنا گجروں بھرا ہاتھ گاڑی کے اندر ڈال دیا ۔ اسکی گاڑی موتیا اور گلابوں کی خوشبو سے مہک اٹھی۔ وہ مسکرا دی، ذہن میں کئی خوبصورت اور خوش آئند منظر گھومنے لگے اور اس نے گجرے بھی خرید لئے۔
    ؓ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ ؓ؛
    پچاس سالہ شفیق ساغر نے شدت جذبات سے کانپتے ہاتھوں سے وہسکی کا ایک گھونٹ بھی لئے بغیر جام کو سائیڈ میں رکھا اور بہت بے قراری سے اپنا کمپیوٹر آن کر دیا۔
    اب سے سات دن پہلے تک وہ خود کو دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان مانتا تھا۔ دو پیارے پیارے بیٹوں اور انتہائی نیک اور خدمت گزار بیوی کے ہوتے ہوئے اسے زندگی سے بظاہر کوئی شکوہ نہ تھا ، سوائے اسکے کہ، کاش اسکی بیوی دیکھنے میں ایک عام سی گھریلو عورت کی بجائے بہت خوبصورت اور پڑھی لکھی عورت ہوتی ۔ اسکے ساتھ گھنٹوں بیٹھ کر نہ صرف ملکی حالات پر سیر حاصل تبصرے کر سکتی بلکہ اسکے فلاسفر ٹائپ دوستوں کو بھی محفل میں اپنے علم و ہنر سے حیرت زدہ کر دیا کرتی تو پھر وہ خود کو کتنا خوش قسمت سمجھتا۔

    شفیق کی بدقسمتی سے ایسا نا ہو سکا تھا۔ فریدہ خاتون بہت ہی سیدھی سادھی مڈل پاس اور اسکی کزن ہونے کی وجہ سے زبردستی اب سے تیس سال پہلے اسکی زندگی کا حصہ بنا دی گئی تھی۔ اس وقت وہ خود بھی چونکہ بیس سال کا ہی تھا تو انکار یا احتجاج جیسے لفظ سے قطعی ناواقف تھا۔
    کچھ عرصے بعد جب اسی سادہ سی بیوی کی سنگت سے زندگی بہت سہل ہو گئی اور پیارے پیارے دو بیٹے گود میں آئے تو گھر خوشیوں سے مہک اٹھا ۔ تب اس نے فریدہ خاتون کے سارے قصور معاف سمجھے اور اپنا سارا دھیان بھی ایک پڑھی لکھی آئیڈیل بیوی سے ہٹا کر صرف اپنا مستقبل بنانے میں لگا دیا۔

    اب تو شادی کو بھی تیس برس گزر چکے تھے اور وہ دادا بھی بن چکا تھا ۔ اس مقام تک آنے میں اسکی سادہ لوح اور ان پڑھ بیوی کا بہت ہاتھ تھا۔ جو ہمیشہ اسکے بلندی پر جانے کی وجہ بنی تھی۔ ویسے تو شفیق کے دل میں اپنی بیوی کے لئے بہت پیار تھا مگر پھر بھی کبھی کبھی وہی خوبصورت آئیڈیل بیوی والا خیال چپکے سے دماغ میں آ جاتا تو دل میں ایک کسک سی پیدا ہونے لگتی۔ ایسا لگتا تھا وہ اس بات کو بھول گیا ہے مگر سچ تو یہی ہے کہ کسی آرزو کو "بھلا" دینے میں اور زبردستی "دبا" دینے میں بہت فرق ہوا کرتا ہے۔ بھولی باتیں ہو سکتا ہے یاد نہ آئیں مگر زبردستی دبا دی گئی خواہشات موقع ملتے ہی "اسپرنگ" کی طرح اچھل کر سامنے آ جایا کرتی ہیں۔

    آج جبکہ وہ کراچی کا بہت بڑا وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی محبِ وطن شعلہ صفت کالم نگار اور چھوٹا موٹا شاعر بھی تھا۔ لوگ اس سے بہت ڈرتے تھے اور کہتے تھے اسکے قلم سے الفاظ نہیں، شعلے نکلا کرتے ہیں جو سامنے والے کو پل میں جلا کر بھسم کر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ کبھی کسی سے نہیں ڈرتا تھا کسی کے سامنے نہیں جھکتا تھا یہاں تک کہ مسلسل کامیابیوں نے اسے اتنا مغرور بنا دیا تھا کہ اب شاید اسے خدا کے سامنے سر جھکانے کی بھی ضرورت یا فرصت نہیں ملتی تھی۔

    جب شفیق ساغر نے اپنے کچھ ادیب دوستوں کے ساتھ مل کر پہلی بار شراب اور سگریٹ پینا شروع کیا تھا تو فریدہ خاتون اور بچوں نے اسے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر انکی ایک نا سنی گئی ۔ اسی لئے کہتے ہیں قسمت کے بعد آپکے دوست ہی آپکا مستقبل بنانے اور بگاڑنے کے ذ مہ دار ہوتے ہیں۔ اچھے دوست ہوں گے تو اچھا مستقبل متوقع ہو گا اور برے دوست ہوں گے تو برا مستقبل ہی آپکا منتظر ہو گا۔
    دوستوں کی وجہ سے اس کی یہ بری عادت پختہ سے پختہ ہوتی چلی گئی اور اب تو یہ حال تھا بیٹے خود شراب کی پرانی بوتل ختم ہونے سے پہلے نئی لا دیتے تھے کیونکہ بغیر شراب کے وہ کسی زخمی شیر میں بدل جایا کرتا تھا اور انکی ماں پر ہاتھ اٹھانے سے بھی نہیں چوکتا تھا۔ ویسے بھی شفیق نے کھبی کسی کے سامنے نہیں پی تھی اور بہت ہی کم قریبی دوستوں کے علاوہ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ شراب بھی پیتا ہو گا۔ صرف رات کو سونے سے پہلے اور کالم لکھتے وقت پینا اسے ضروری لگتا تھا۔ یہ سمجھے بغیر کہ وہ جہنم خریدنے کا انتظام مکمل کر کے سوتا ہے۔
    ؓ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ ؓ؛
    جب سہیل ڈھیر سارے بیگ اٹھائے گھر میں داخل ہوا اور حوریہ پر نظر پڑی تو ایک ٹک اسے دیکھتا ہی رہ گیا ۔ پھر بہت بےتابی سے آگے بڑھکر اسے گلے ملتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔
    " حوریہ تم شادی کے پانچ سال بعد بھی نئی نویلی دلہن نظر آتی ہو۔ اپنی خوش نصیبی پر جتنا بھی ناز کروں کم ہے ۔ اس کمبخت بزنس نے مجھے تم سے بہت دور کر رکھا ہے ورنہ میں خود بھی اب زیادہ دیر تمھارے بغیر نہیں رہ سکتا۔""
    حوریہ بہت غصے سے خود کوچھڑاتے ہوئے پیچھے ہٹی اور روٹھے لہجے میں بولی
    "تو گویا اب کی بار بھی مجھے ساتھ لے کر نہیں جاؤ گے؟"
    خوشی سے دمکتے گالوں پر جیسے مایوسی کی رات پھیلنے لگی اور پھر سے لمبی جدائی کے خیال نے اسکو جیسے خوابوں کے طلسم سے نکال کر زمین پر پٹخ دیا۔
    "ارے نہیں نہیں میری جان ایسی بات نہیں ۔ میں بہت جلد خود پاکستان میں سیٹ ہونے والا ہوں بس کچھ مہینے اور انتظار کرنا ہو گا ۔"

    "چلو اب جلدی سے کھانا نکالو۔ باقی باتیں کھانے کی میز پر۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے سخت بھوک لگی ہے اور تمھیں تو علم ہے ہی میں بھوک برداشت نہیں کر سکتا اور کھانے کے بعد کی باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
    "بس بس بس" حوریہ کے گالوں پر گلال اتر آیا اور وہ جلدی سے اسکی پلیٹ میں کھانا نکالنے لگی۔

    دونوں نے مل کر بہت خوشی خوشی کھانا کھایا اور اسکے فوراً بعد سہیل چینج کرنے بیڈروم میں چلا گیا جبکہ حوریہ کی ساس کا فون آ گیا جو ان دنوں اپنی بہن کے گھر میں تھیں، جسے سننے میں اسے پندرہ منٹ لگ گئے۔
    جب وہ دل میں ہزاروں ارمان اور بے شمار جدائی کے قصے سہیل کو سنانے کے لئے بیڈروم میں داخل ہوئی تو سہیل پہلے ہی گہری نیند سو چکا تھا۔ اسے شدید دکھ ہوا ۔ گو کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا پھر بھی اپنی اس تذلیل اور نا قدری پر اسکا دل جیسے چیخ چیخ کر ماتم کرنا چاہتا تھا مگر لب خاموش رہے۔ لاکھ ضبط کرنے پر بھی آنکھوں کے کٹورے چھلک ہی گئے ۔ عورت پن کا سارا غرور جیسے خاک میں مل گیا تھا ۔ ہاتھوں میں پہنے ہوئے گجرے اسکا مذاق اڑانے لگے ۔ اپنی اتنی ناقدری کے خیال نے اسے اندر سے بےثمر زمین کی طرح بنجر کر دیا اور وہ بے بسی اور ذلت کے احساس سے جیسے زمین میں دھنستی ہی چلی گئی۔
    ؛ؓ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ ؓ؛
    کمپیوٹر کے کھلتے ہی شفیق ساغر نے بہت بے تابی سے شامِ بہار کا نام ڈھونڈنا شروع کیا۔ وہ پچھلے دو سالوں سے اسکے ہر کالم کو نہ صرف بہت باریک بینی سے پڑھتی بلکہ انتہائی عالمانہ رائے بھی دیا کرتی تھی۔ اسکی رائے نا صرف بہت مدلل اور نپی تلی ہوتی بلکہ جامعیت کے تمام پہلو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتی تھی۔ کبھی کبھی تو ایسی تنقید کرتی یا ایسے نقاط نکالتی کہ وہ خود بھی دنگ رہ جاتا۔شروع شروع میں وہ باقی مداحوں کی طرح اسکا تبصرہ چیک کرتا مگر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ شام بہار کا نام اور مقام جیسے کچھ بدل سا گیا تھا۔
    اب تو کئی مہینوں سے لگتا تھا الٹا وہ خودشامِ بہار کا مداح بن چکا تھا۔ اسکا زہر اگلتا قلم اب جیسے خوشبو اڑانے لگا تھا۔ اسکے تمام کالمز میں سے،معاشرہ ،معاشرتی برائی، ملک ، ملکی حالات بالکل ختم ہو نے لگے ۔ اسکی بجائے رنگوں پھولوں اور خوشبو کا ذکر ہونے لگا۔ لوگ حیران تھے یہ کیا ہو رہا ہے۔ کسی کو بھی یہ معلوم نہیں تھا کہ اکثر کالم تو وہ اب صرف لکھتا ہی اسی لئے تھا کہ اس بارے میں شامِ بہار کا نظریہ جان سکے۔

    وہ اسکی زندگی میں واقعی جیسے بہار بن کر چھا گئی تھی۔ حالانکہ وہ شادی شدہ تھی اور ہر وقت اسکو بتاتی رہتی تھی کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ بہت خوشگوار زندگی بسر کر رہی ہے۔ بس اپنے شوہر کی حد سے بڑھی ہوئی مصروفیات کے باعث خود کو بہت اکیلا محسوس کرتی ہے اور زندگی میں بہت کمی سی لگتی ہے۔

    شفیق ایسا کچھ کرنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ وہ اپنے بچوں اور بیوی کے ساتھ بے حد مکمل زندگی گزار رہا تھا مگر انجانے میں اس سے یہ سب ہو رہا تھا۔ اسکا اپنے اوپر بس نہیں چل رہا تھا۔ ایک خوبصورت اور پڑھی لکھی والی بیوی والی برسوں پرانی دل میں زبردستی دبائی گئی خواہش کسی اسپرنگ کی طرح اچھل کر پھر سے سامنے آ گئی تھی۔ اس بات کا احساس ہوئے تو اسے بہت مہینے ہو چکے تھے کہ وہ ناچاہتے ہوئے بھی شامِ بہار کے عشق میں گوڈے گوڈے ڈوب چکا ہے۔
    وہ یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ اب کتنا بھی چاہے اس ذلت و رسوائی سے خود کو بچا نہیں پائے گا۔ ۔

    وہ پچھلے کئی مہینوں سے الجھا الجھا سا رہتا ۔ شامِ بہار کے ساتھ پوری پوری رات چیٹ کرتا رہتا۔ اسکا بہت خیال رکھتا۔ وہ دونوں ہر وقت ادھر ادھر کی بے مقصد باتیں کرتے رہتے۔ کچھ سمجھ نہیں آتا تھا کیسے اپنے دل کا حال بیان کرے۔ وہ شفیق کو اپنی سہیلی سمجھ کر چھوٹی چھوٹی باتیں شئیر کرتی رہتی۔ شفیق اس کو دل کی بات بتا نہیں پاتا تھا مگر خود ساری راتیں جا گتا ۔ ایک پل نہیں سو پاتا تھا۔ کچھ سجھائی نہ دیتا تھا کہ شامِ بہار تک کیسے اپنے جذبات پہنچائے۔ پہنچائے بھی یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔

    وہ تو اسکو اپنا دوست مان کر اس سے اکثر اپنا کوئی دکھ رو لیتی تھی۔ دل کی باتیں کر لیتی تھی ۔اس کے تو وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ شفیق ساغر اسکے پیار میں گرفتار ہو چکا ہے۔ خود شفیق کو بھی اچھی طرح علم تھا اگر باقی سب مسائل حل ہو بھی جائیں تو عمر کا فرق کھبی نہ ختم ہونے والا تھا۔ یہیں پر آ کر اسکی سوچ کی پرواز رک جاتی تھی۔اسی لئے وہ لاکھ چاہنے کے باوجود اپنے دل کا حال شامِ بہار سے چھپانے پر مجبور تھا۔
    ؛ؓ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ ؓ؛
    پچھلے چند مہینوں سے وہ شامِ بہار سے اسکی تصویر کا روزانہ تقاضا کرتے کرتے جیسے پاگل سا ہونے لگا تھا۔ وہ ہر بار کوئی نا کوئی بہانہ بنا دیتی تھی۔ شفیق کا اصرار اور اسکا انکار بڑھتا رہا۔ آخر کار ایک دن اتنی ضد سے مجبور ہو کر شامِ بہار نے اپنی چند شرائط منوانے کے وعدہ پر اپنی تصویر بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔ جب شفیق کو بتایا تو وہ ان شرائط کو سنے بغیر ہی مان بھی چکا تھا مگر اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب
    وہ اسکی شرطیں پڑھ رہا تھا تو ششدر رہ گیا ۔ شاید وہ اسکے لئے کھبی بھی قابل قبول نہیں ہو سکتی تھیں مگر شرائط نا ماننے کی سزا اسکے تصورات سے بھی زیادہ بھیانک تھی۔
    شامِ بہار نے لکھا تھا ۔

    "اگر آپ نے اس میں سے ایک بھی شرط میں ذرا سی بھی بے ایمانی کی تو بدلے میں آپ سے کبھی بات نہیں کروں گی اور چونکہ میں خود تو آپکو یہ سب کرتے اپنی آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتی اس لئے ہم دونوں خدا سے دعا مانگیں گے کہ ایک بے ایمانی کے بدلے میں ہم دونوں کے درمیان ایک سال کی جدائی ہو جائے اور دو کے بدلے میں دو سال کی جدائی اسی طرح ہر بے ایمانی کے بدلے جدائی کے سال بڑھتے جائیں اور اگر آپ ہمیشہ میرے دوست رہنا چاہتے ہیں تو ابھی اسی دعا کے سامنے آمین لکھ کر مجھے واپس بھیج دیں گے"۔

    "ا) پہلی شرط یہ ہے کہ آپ کبھی بھی شراب کو ہاتھ نہیں لگائیں گے۔
    2)دوسری شرط یہ ہے کہ پوری پانچ نمازیں پڑھنے کی روزانہ کوشش کریں گے۔اور مجھے رپورٹ بھی دیں گے۔
    اگر آپ نے میری یہ دونوں شرطیں مان لیں تو میں آپکی سالگرہ والے دن تحفے کے طور پر اپنی تصویر بھیج دوں گی "
    یہ سب پڑھکر شفیق دم بخود بیٹھا رہ گیا اور اپنے آپ سے پوچھنے لگا ـ۔۔۔۔۔۔ اب کیا ہو گا؟

    یہ سوچ سوچ کر اسکا سر درد سے پھٹنے لگا تھا۔ نہ تو وہ شراب کو چھوڑ سکتا تھا نہ ہی بہار کو دیکھنے کا واحد موقع گنوا سکتا تھا۔ نہ جھوٹا وعدہ کر سکتا تھا کہ اسے اسی وقت آمین لکھ کر وہی میل واپس بھیجنا تھی اور نہ ہی جدائی کی سزا اٹھا سکتا تھا اور اب سخت پریشان تھا ۔
    ؛ؓ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ ؓ؛
    شراب،نماز اور شامِ بہار
    ان تین لفظوں نے اسے پاگل کر دیا تھا۔ ایسا لگتا تھا یہی اسکی زندگی کے بنیادی ستون ہیں اور وہ آنکھیں بند کر کے ان کے گرد چکر لگانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ وہ عجیب بے بسی سے ان شرطوں کو گھور رہا تھا۔ آج اسکو پہلی بار سمجھ میں آیا تھا کہ " من کی لگن" کیا چیز ہوتی ہے۔
    وہ ان تین لفظوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ہانپنے لگا تھا۔ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کس کو چن لے کس کو چھوڑ دے۔ پھر اس نے شامِ بہار سے کچھ دن مانگے اور آخر کار شرائط کے جواب میں "آمین" لکھ کر بھیج دیا کیونکہ اسکے لئے سب سے اہم اس ہستی کا دیدار تھا جسکو دیکھے بنا وہ اسکا اتنا دیوانہ تھا کہ وہ اسکے ایک اشارے پر اپنی جان بھی دے سکتا تھا۔ یہ شرطیں تو کچھ بھی نہیں تھیں۔
    آج اسے نماز پڑھتے اور شراب کو چھوڑے سات دن ہو چکے تھے۔ گھر والے اسے دیکھ دیکھ کر حیران ،پریشان اور اسکی اجڑی حالت دیکھ کر کبھی پشیمان ہوتے رہتے تھے تو کبھی نماز پڑھتے دیکھ کر بہت مسرور ہوتے ۔۔۔۔۔مگر وہ کسی کو کچھ بتا کر نہیں دیتا تھا۔ کئی بار بے خیالی میں شراب کا پیگ بناتا مگر پینے سے پہلے اپنی قسم یاد آ جاتی تو یونہی پھینک دیتا۔
    جائے نماز پر کھڑا ہوتا تو گھنٹوں کھڑا رہتا۔ سجدے میں جاتا تو اٹھنا بھول جاتا۔ کچھ سمجھ نہ آتا تھا خدا سے کیا کہے۔ کس طرح معافی مانگے۔ کس طرح اپنے گناہوں کا اقرار کرے۔
    مگر شاید خود خدا کو اس پر رحم آ گیا تھا یہی وجہ تھی کہ تیسرے دن وہ پوری رات فجر کی اذان کا انتظار کرتا رہا اور صبح بہت شوق سے نماز پڑھی۔ عجیب طرح کا نشہ اسکے وجود میں چھا رہا تھا۔ یہ نشہ اور سرور شراب کے نشے سے کہیں زیادہ طاقتور تھا۔

    ؛ؓ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ ؓ؛

    آج اسکی سالگرہ تھی اور پوری رات اور دن وہ دیوانوں کی طرح کمپیوٹر کھولے شام بہار کی تصویر کا منتظر تھا۔ پھر جب وہ اپنے وقت پہ آن لائن آئی تو اسکی میل کا عنوان "زندگی کا سب سے خوبصورت سال مبارک ہو"کے ساتھ اٹیچمنٹ دیکھ کر شفیق کا دل شدت جذبات سے دھڑکنے لگا۔
    پتہ نہیں وہ کیسی ہو گی؟ ہزاروں وسوسے پل بھر میں ذہن سے گزرے۔ کبھی سوچتا تصویر نہ ہی کھولے۔ ایسا نہ ہو وہ اتنی بدصورت ہو کہ میرے خوابوں کا تاج محل دھڑام سے گر جائے، کبھی سوچتا۔۔۔۔ نہیں نہیں وہ بہت خوبصورت ہے میرا دل اسکی گواہی دیتا ہے اور دل کی گواہی کبھی غلط نہیں ہوتی ۔
    پھر وہ خود کو روک نہ پایا اور اٹیچمینٹ کو کلک کر ہی دیا۔
    ایک ۔۔۔۔۔ دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔تین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تصویر کھلنے میں کچھ وقت لے رہی تھی مگر اسکو لگتا تھا جیسے اسکی جان قدموں سے نکلتی جا رہی ہے
    اور پھر ایک جھماکے کے ساتھ وہ تصویر پوری کھل گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تصویر کیا کھلی گویا پوری کائنات کی ہر چیز پر چھا گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے ارض و سماں اس تصویر میں سما گئے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ مبہوت رہ گیا اور ا سے دیکھ کر جیسے سانس لینا ہی بھول گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ وہ حسن کسی زمیں زادی کا ہو ہی نہیں سکتا تھا۔

    آف وائیٹ حریری کپڑوں کے ساتھ آف وائیٹ موتیوں اور گجروں میں لپٹی ہوئی لمبے لمبے بالوں والی نازک سی لڑکی تو صرف کسی مصور کا شاہکار ہی ہو سکتی تھی جو اس مصور نے شاید کبھی کسی حور کے تصور کو واضح کرنے کے لئے بنایا ہو گا۔
    "حور" وہ اپنے آپ میں بڑبڑایا۔ تمہارا نام اسکے علاوہ کچھ اور ہو ہی نہیں ہو سکتا
    وہ خوش ہونے کی بجائے ڈر سا گیا اور رعب حسن سے خوفزدہ ہو کر بیٹھے رہنے کی بجائے با ادب کھڑا ہو گیا۔ اسی وقت اسکی نظر سامنے لگے شیشے پر پڑی تو اپنے سفید بال اور جھریوں بھرے چہرے کو دیکھ کر وہ مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب گیا۔ زندگی کے اس عجیب و غریب اور بھیانک مذاق نے جیسے اس کی کمر ہی توڑ دی تھی
    اور اس نے کچھ اور سوچے بنا اسی وقت بہار کے نام یہ پیغام بھیج دیا۔

    "میں خود کو اور اپنے جذبات کو تم سے چھپاتے چھپاتے تھک گیا ہوں۔ اب نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور نہیں چھپا سکتا، تم سمجھو گی شاید میں تمھاری خوبصورتی سے متاثرہو کر اپنا ذہنی توازن کھو چکا ہوں مگر یہ سچ نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ تمہیں دیکھے بنا ہی میں تمہارا ہو چکا تھا۔گر تم اندھی لولی لنگڑی بھی ہوتیں تب بھی میں تمھیں تم سے ضرور مانگتا کیونکہ
    محبت جنھیں ہو گئی ہو کسی سے
    وہ محبت کا انجام کب سوچتے ہیں
    چل پڑے ہوں چراغ محبت جو ہاتھوں میں لے کر
    بیابان میں ہو گی کہ صحرا میں ہو گی
    کہاں ہو گی اب شام، کب سوچتے ہیں "

    یہ میل جب بہار تک پہنچی تو وہ ہکا بکا رہ گئی اور غصے سے پوچھنے لگی

    "یہ کیسا گھٹیا مذاق ہے۔میں تصور بھی نہیں کر سکتی آپ مجھ سے اتنی گری ہوئی بات کیسے کر سکتے ہیں۔ میں شادی شدہ ہوں ۔آپ جانتے ہیں ۔میں صرف آپکو اپنا دوست سمجھتی تھی۔ میں اپنے شوہر کے پاکستان میں نہ ہونے سے اکثر تنہائی کا شکار ہو جاتی ہوں۔ آ پ اتنے اچھے اور معتبر ہیں۔ مجھے آپ سے نہیں صرف " آپکے افکار " سے محبت ہے ۔ میں تو صرف دوستوں کی طرح آپ سے بات کرتی تھی۔ میں نے صرف دوست سمجھ کر آپکو اپنی تصویر بھیجی تھی مگر اب احساس ہو رہا ہے یہ میری بہت بڑی غلطی ہے۔
    مجھے شدید صدمہ ہو رہا ہے ۔آپ نے یہ سوچا بھی تو کیسے؟ ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ ایسا تو کبھی ہو ہی نہیں سکتا۔ آج مجھے اچھی طرح معلوم ہو گیا کہ اسلام میں مرد و عورت کی دوستی کیوں نہیں ہو سکتی۔ ہونی چاہیئے بھی نہیں کہ ہمیشہ یہی ایک انجام متوقع ہوتا ہے۔ــــــ مجھے آپ کو کسی صورت اپنی تصویر دینی ہی نہیں تھی۔ یہ میری بہت بڑی بھول تھی۔۔

    یہ لکھ کر بہار نے میل وآپس بھیج دی۔
    فورا ہی شفیق کی طرف سے اسکا جواب بھی آ گیا
    ِ"شامِ بہار مجھ سے زیادہ کہا نہیں جائے گا۔بس اتنا سمجھ لو اگر تم مجھے نہ ملیں تو میں اسی لمحے اپنی جان دے دوں گا۔ بہت محبت کرتا ہوں تم سے۔ پوری زندگی بدل گئی ہے میری۔ ایک ایک پل میری نظر صرف تمھیں ہی دیکھنا چاہتی ہے۔
    پلیز اپنے شوہر سے طلاق لے کر مجھ سے شادی کر لو۔ میں جانتا ہوں تم اپنے شوہر کے ساتھ خوش نہیں ہو۔ اسکے پاس تمھارے لئے وقت نہیں ہے اور شاید کبھی نہیں ہو گا اور میرے پاس تمھارے علاوہ کچھ اور نہیں ہے۔
    میں تمھاری ساری محرومیوں کا ازالہ کروں گا۔ کہکشاں تمھارے قدموں میں بچھا دوں گا۔ بہت دولت ہے میرے پاس اور وہ سب لے کر ہم دور کسی ملک میں چلے جائیں گے۔جہاں ہمیں کبھی کوئی ڈھونڈ نہ پائے گا۔ میں کبھی تم کو زمین پر پیر بھی نہیں رکھنے دوں گا،تمھارے ہر قدم کے نیچے اپنا دل رکھوں گا۔
    دیکھو بہار۔۔۔۔ ! اب انکار مت کرنا کہ میں عشق کے اس مقام پر ہوں جہاں اور کوئی راستہ نہیں جاتا۔ اس سے آگے صرف فنا کا سفر ہوتا ہے۔ اگر تم مجھے نہیں ملیں تو یا تو میں خود مر جاؤں گا یا پھر تمھیں مار ڈالوں گا۔ پلیزعمر کے فرق کو ہمارے راستے کی دیوار مت بننے دینا کہ بس یہی ایک چیز میرے اختیار میں نہیں ہے اور شاید میرے راستے کی سب سے بڑی دیوار بھی یہی ہے۔ــ
    ؛ؓ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ ؓ؛

    یہ سب پڑھ کر شامِ بہار دم بخود بیٹھی تھی۔ یقین نہیں آ رہا تھا قسمت اس سے اتنا بھیانک مذاق کر سکتی ہے۔ پوری دنیا میں اس نے صرف ایک ہی شخص سے اپنے دل کا حال کہا تھا۔ اپنا درد بانٹا تھا۔ وہ اپنے سب سے اچھے دوست کو کھو کر کیسے جی پائے گی۔ وہ پچھلے کئی گھنٹوں سے اس میل کو دیکھ رہی تھی۔ اسے کچھ احساس بھی نہیں تھا کب سے آنسو بہتے جا رہے تھے۔ وہ صرف اپنے لئے ہی غمزدہ نہیں تھی بلکہ شفیق ساغر کے "من کی لگن" کو بھی اتنی ہی سچائی سے جان چکی تھی اور یہی بات اسے کسی پل چین نہیں لینے دے رہی تھی۔ اسکی جدائی کی صورت میں شفیق کو ملنے والا ناقابل برداشت غم خود اسے بھی اندر سے توڑ پھوڑ رہا تھا۔ اسے شفیق کی تکلیف سے تکلیف ہو رہی تھی ۔ کبھی کبھی خیال آتا اگر پہلے "اس نظر " سے نہیں سوچا تو اب سوچنے میں کیا حرج ہے۔ وہ کیوں اپنی پوری لائف ایسے شخص کے لئے برباد کرے جسکے پاس اسکے لئے وقت نہیں ہے کیوں نہ اس کو چن لے جو اسکی ایک نظر کے لئے سر تا پا التجا بنا ہوا ہے۔ وہ کافی دیر سوچتی رہی اور پھر شفیق کو ای میل بھیج دی


    "کیا ہوا جو میرے میاں میرے پاس نہیں ہیں اس وقت، مگر انکی عزت اور ناموس مجھے اپنی ہر خوشی سے بڑھ کر پیاری ہے۔ کیا ہوا جو میں خوش نہیں ہوں مگر اسکا مطلب یہ نہیں کہ میں اپنی شرم و حیا طاق پر رکھ کر اپنے خاندان کی عزت سرعام اچھالوں۔ میرے خدا ،خاندان اور خاوند کے میرے طرف جو قرض بنتے ہیں انکو نبھانے میں پوری زندگی بھی بیت گئی تو کوئی غم نہیں ہو گا۔ یہ دنیا تو آنی جانی چیز ہے،اسکی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ آج مرے کل دوسرا دن ہو سکتا ہے۔۔

    آپکے بھی بچے ہیں ۔ اچھی سی بیوی ہے۔ ایک پورا ہنستا بستا گھر ہے۔ کیسے دل توڑ پائیں گے آپ ان سب کا؟ کتنا مان ہے ان سب کو آپ پر۔ معاشرے میں کتنا بڑا نام ہے ۤاپکا اور کتنا اونچا مقام ہے ۔سب لوگ آپ پر ہنسیں گے تو مجھے بہت تکلیف ہو گی۔ میں آپکو کبھی زمانے میں نا معتبر نہیں ہونے دوں گی۔ یہ آپ سے میری "دوستانہ محبت" کا تقاضا ہے۔
    سوچیں۔۔۔۔۔! اگر ہم نے بھاگ کر شادی کر بھی لی اور دوسرے ہی دن ہم میں سے کوئی ایک مر گیا تو دوسرا دنیا کے کس کونے میں منہ چھپائے گا؟ زمین بھی شاید اسکو کہیں پناہ نہیں دے گی۔

    آپ بھٹک رہے ہیں ۔ مجھ سے محبت کر کے اپنا راستہ کھوٹا مت کریں۔ یہ عشق تو شاید پہلی سیڑھی ہے اس اونچائی کی جہاں آپکو پہنچ جانا ہے ایک دن۔ آپکی منزل میں نہیں ہوں بلکہ کچھ اور ہی ہے ۔ براہ مہربانی اسکو ڈھونڈنے کی کوشش کریں اور میرے پیچھے بھاگ کر اپنا وقت برباد مت کریں۔

    اب شاید مجھے کچھ کہنے کا حق تو نہیں رہا مگر پھر بھی آخری بار کہتی ہوں میرے بعد بھی کبھی شراب کو ہاتھ نہیں لگانا اور ہو سکے تو نماز کو کبھی چھوڑنا نہیں۔ آپ نے جو مصیبت محبت کے نام پر مول لی ہے تو اب تو صرف خدا ہی آۤپکو اس عذاب سے نکال سکتا ہے۔ پلیز اس ہی سے رجو ع کریں"۔
    ہمیشہ کے لئے خدا حافظ۔
    ؛ؓ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ ؓ؛
    شامِ بہار نے اس میل کا جواب دینے کے بعد اپنا اکاؤنٹ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا اور اسکے ہونٹوں پر مستقل رہنے والی ہنسی کی جگہ اداسیوں نے ڈیرے ڈال لئے، وہ ایک بار پھر سے تنہا ہو گئی۔ یہ شک تو اسے بھی اکثر ہوتا تھا جیسے شفیق کو اس سے محبت ہوتی جا رہی تھی مگر ہر بار وہ محبت سے زیادہ اسے اسکی شفقت سمجھتی رہتی تھی۔ اٹھتے بیٹھتے اسے شفیق کی باتیں اور اسکا خیال رکھنا یاد آتا۔
    وہ کیسے اسکے ساتھ پوری پوری رات بیٹھ کر وقت بتایا کرتا تھا کیونکہ اسے اکیلے میں نیند نہیں آیا کرتی تھی۔ وہ دونوں دنیا جہان کی باتیں کرتے اور کبھی بچوں کی طرح لڑنے لگتے۔ اسے شفیق بہت بہت اچھا لگتا تھا۔ وہ سوچتی کاش اسکا شوہر بھی اسکے ساتھ ہوتا اور اسکا مزاج بھی شفیق جیسا ہوتا تو زندگی کتنی حسین ہوتی۔ شفیق کے چلے جانے سے اسکی زندگی میں دوسرا بڑا خلا پیدا ہو گیا تھا۔

    اسی طرح کافی مہینے گزر گئے ۔ شفیق ساغر نے کالم لکھنا اب بالکل ختم کر دیا ۔
    اکثر اخباروں میں اسکے ہارٹ اٹیک کی خبر چھپی تو وہ خدا کے سامنے خوب روئی ،گڑگڑائی اور شفیق کی زندگی کی بھیک مانگتی رہی۔اپنے کئے پر نادم بھی ہوئی مگر "اچھے مقصد" کے لئے "برا کرنے" سے "اچھے نتیجے" کی امید پھر بھی کم نہ ہوئی ۔ پھر اسکے صحت مند ہونے کے بعد اکثر اخباروں میں لکھا ہوتا کہ وہ اب صاحب فراش ہو گیا ہے۔ کسی سے ملتا جلتا نہیں ہے۔ کوئی کہتا رشوت لے کر اب خاموش رہتا ہے اور حکومت کے خلاف کچھ نہیں لکھتا ۔ ڈر گیا ہے ۔ کوئی کہتا اسکی "سپاری" دی جا چکی ہے ۔ اس نے لوگوں کے خلاف لکھنا بھی اسی لئے چھوڑ دیا ہے۔ غرض جتنے منہ اتنی ہی باتیں پڑھتی رہتی تھی اور اس کے لئے دعا گو رہتی تھی۔۔
    ؛ؓ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ ؓ؛

    ایک دن جب حوریہ اچانک ٹی وی دیکھتے ہوئے ایک چینل بدلنے لگی تو سامنے شفیق ساغر کو لمبی داڑھی میں ٹخنوں سے اوپر شلوار پہنے کچھ درس دیتا ہوا پایا تو حیرت سے دنگ رہ گئی۔ اسکا چہرہ بہت نورانی لگ رہا تھا اور وہ بہت زیادہ اسلامی رنگ میں رنگ چکا تھا۔
    "تو گویا تم اپنی منزل تک پہنچ گئے شفیق ساغر"
    اسکو اس طرح تبلیغ کرتے دیکھ کر حوریہ دل ہی دل میں بولی اور اتنے مہینوں بعد کھل کر طمانیت سے مسکرا دی۔ اسکے دل سے سارا بوجھ ایک دم اتر گیا۔ اب وہ زیادہ آسانی سے سہیل کے ہمیشہ کے لئے پاکستان سیٹ ہونے کا انتظار کر سکتی تھی ۔ پہلے وہ اپنا ایک واحد دوست کھو کر بہت اداس رہتی تھی مگر اب وہ بہت خوش تھی۔ صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کر کے اس نے نہ صرف بہت سے لوگوں کی عزت و ناموس بچا لی تھی بلکہ انجانے میں ہی سہی مگر ایک بھٹکے ہوئے شخص کو اسکی منزل تک پہنچانے کی وجہ بھی بن گئی۔
    ؛ؓ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ ؓ؛
    ختم شد









  2. #2
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: لگن لاگی تم سے من کی لگ

    یہ لیجئے جناب ۔اب تو آپکو خبر ہو ہی گئ کہ میرا افسانہ تھا۔ چلیں جناب اب ہو جائیں دھواں دار تبصرے میرے اس افسانے پر۔
    آپکے تفصیلی کمنٹس کا انتظار رھے گا۔ اگر اس میں کوئی بات آپکو سمجھ میں نہیں آئی ہو یا کلئیر نہ ہو رہی ہو ،یا کسی بات پر اعتراض ہو تو ضرور بتائے گا ۔ میں پوری کوشش کروں گی کہ اس پوائینٹ کو کلیرفائی کر سکوں۔
    اسکے علاوہ اگر آپکے پاس کوئی اچھا پوائینٹ ہو جو آپکے خیال میں اس افسانے کو اس سے بہتر بنا سکتا تھا تو پلیز مجھے ضرور بتائے گا تاکہ نیکسٹ افسانہ لکھتے ہوئے مجھے وہ پوائینٹ دھیان میں رھے۔
    اور اگر کچھ اچھا لگا ہو تو وہ بھی بتانا منع نہیں ہےتعریف بھی موسٹ ویلکم۔

  3. #3
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: لگن لاگی تم سے من کی لگ

    ساحرہ سس اجازت ہو تو پوسٹ ایڈٹ کر کے ٹائٹل درست کر دوں؟
    اور افسانے کا نمبر بھی ساتھ ہی لکھنا تھا۔
    کر دوں؟
    [SIGPIC][/SIGPIC]

  4. #4
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    10,234
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: لگن لاگی تم سے من کی لگ

    اچھا جی تمہاری ہیروئین کو عدالت میں گھسیٹ لوں۔۔۔


    میرے ذہن میں اٹھنے والے کچھ سوال۔۔۔۔۔


    ہیروئین نے تصویر کیوں بھیج دی جب کہ اسے شک بھی تھا کہ فریق مخالف کی نیت ٹھیک نہیں

    کیا حقیقت میں ایسا ہونا ممکن ہے ۔۔۔مجھے یہ کہانی اس کا انجام حقیقت سے کافی دور لگا۔۔۔


    کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ کوئی کسی کی محبت میں اتنا بدل جائے۔۔۔۔۔۔


    عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر عموما" پڑھا تو یہی ہے کہ یہ بہت کٹھن ہوتا ہے اور صدیاں لگتی ہے یہ کچھ جلدی طے نہیں ہو گیا۔۔۔۔

  5. #5
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: لگن لاگی تم سے من کی لگ

    اوہ ہاں کر دو نا وش

  6. #6
    Site Managers Rubab's Avatar

    Join Date
    Jun 2007
    Posts
    13,943
    Blog Entries
    6
    Mentioned
    24 Post(s)
    Tagged
    2 Thread(s)

    Re: لگن لاگی تم سے من کی لگ

    میاں بیوی کے رشتے میں کھوٹ، بے اعتنائی اور توقعات کے پورا نہ ہونے کو موضوع بنایا گیا ہے۔ عشق مجازی میں ناکامی کو عشق حقیقی کی سیڑھی کے طور پر بھی دکھانے کی کوشش کی گئی۔۔

    جو اللّٰہ کا حکم



  7. #7
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    10,234
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: لگن لاگی تم سے من کی لگ

    اوہ اوہ تعریف لکھنا بھول گئی صرف اسی کو تو موسٹ ویلکم کیا گیا ہے

    بھئی تمہارا لکھنے کا اسٹائل۔۔۔ کڑی سے کڑی جوڑنا۔۔۔الفاظ کا انتخاب سب کچھ بہت اچھا ہے ۔۔۔ویلڈن کیپ رائٹنگ

  8. #8
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: لگن لاگی تم سے من کی لگ

    ہاہاہاہاہا نہیں جناب ہر چیز کو موسٹ ویلکم کیا گیا ھے۔ ابھی جواب دیتی ہوں اعتراض کا بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  9. #9
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: لگن لاگی تم سے من کی لگ

    دانیہ;
    اچھا جی تمہاری ہیروئین کو عدالت میں گھسیٹ لوں۔۔۔

    ضرور ضرور ۔ مجرم عدالت میں حاضر ھے جناب

    میرے ذہن میں اٹھنے والے کچھ سوال۔۔۔۔۔


    ہیروئین نے تصویر کیوں بھیج دی جب کہ اسے شک بھی تھا کہ فریق مخالف کی نیت ٹھیک نہیں
    اسے شک تھا ۔ یقین ہرگز نہیں تھا کیونکہ اسکے تصور میں بھی یہ بات نہیں آ سکتی تھی کہ اس سے عمر میں 30 سال بڑا شخص کھبی اس حوالے سے بھی سوچ سکتا ھے جبکہ وہ خود دادا بھی بن چکا تھا اور ہیروئن بھی شادی شدہ تھی۔ اور چونکہ انکے درمیان کافی دوستی تھی دو سالوں سے اس لئے ہیروئن نے بات مان لی تھی مگر بدلے میں کتنی اچھی شرطیں بھی تو منوا لیں تھیں نا۔

    اس افسانے میں ، میں نے ایک اور سبق بھی دینے کی کوشش کی ھے اور وہ ھے
    غیر مرد اور عورت کھبی بھی دوست نہیں ہو سکتے چاھے انکی عمروں میں 30 سال کا فرق ہی کیوں نہ ہو۔
    کیا حقیقت میں ایسا ہونا ممکن ہے ۔۔۔مجھے یہ کہانی اس کا انجام حقیقت سے کافی دور لگا۔۔۔

    ھمممممممممم۔ اگر آپ لوگوں کو یاد ہو تو میں نے کہا تھا مجھے جھوٹا افسانہ لکھنا نہیں آتا۔ میں جب بھی کچھ لکھوں گی وہ ہمیشہ سچ ہی ہو گا۔ اب سچ کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اگر میں 50 افسانے لکھوں تو وہ میرے ذاتی ہی ہوں گے;dبلکہ میرے اردگرد جو بھی لوگ بستے ہیں میں ان کو بہت غور سے دیکھتی، سنتی ،پڑھتی ہوں ۔ ان سب کی زندگی ایک کہانی ہے۔ مجھے تو صرف کسی نہ کسی کی سچی کہانی کو افسانے کی شکل میں ڈھالنا ہوتا ھے اور پھر افسانوی رنگ دینا ہوتا ھے۔ مجھے اپنی طرف سے شاید اچھا افسانہ بنانا نہ آئے اگر کھبی کوشش بھی کروں تو اس لئے میں صرف سچائی پر بیس کرتے واقعات پر لکھتی ہوں۔۔ بس اتنا سا فرق ھے تھوڑا بہت افسانوی رنگ دے دیتی ہوں اور نام مقام بدل دیتی ہوں تاکہ اصلی لوگ کسی ممکنہ خطرے سے محفوظ رہیں۔
    کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ کوئی کسی کی محبت میں اتنا بدل جائے۔۔۔۔۔۔

    ہاں بالکل ہو سکتا ھے بلکہ ہوا ھے~۔

    عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر عموما" پڑھا تو یہی ہے کہ یہ بہت کٹھن ہوتا ہے اور صدیاں لگتی ہے یہ کچھ جلدی طے نہیں ہو گیا۔۔۔۔

    ہاں بہت کٹھن اور مشکل ہوتا ھے۔ ہارٹ اٹیک اسی سلسلے کی کڑی تھا جوکہ بالکل سچا تھا بلکہ طوالت کے ڈر سے بہت سے واقعات نہیں لکھے جو اس سچائی کو مزید اچھی طرح ایکسپلین کر سکتے تھے۔


    کوئی اور پوائینٹ؟

    ;d;d۔اور تعریف کے لئے شکریہ

  10. #10
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: لگن لاگی تم سے من کی لگ

    ارے بھئ کسی کو میرے افسانے پر ابھی تک تبصرہ نہیں کرنے کا خیال آیا کوئی؟اور دانی صاحبہ کہاں رہ گئیں جو تڑپ رہیں تھیں میری ہیروئن کے لتے لینے پر;d;d;d؟

  11. #11
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    10,234
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: لگن لاگی تم سے من کی لگن [Afsana 055]

    میں اپنے لکھے کا پوسٹ مارٹم کر رہی تھی۔۔۔مجھے تم سے ایسے ہی جوابوں کی امید تھی لیکن ناں میری تسلی نہیں ہوئی۔۔۔

    کچھ ہے جو میں ایکسپریس نہیں کر پارہی ۔۔۔۔بڑے میاں اور البیلی ہیروئین کا ایٹیٹیوڈ کچھ گڑ بڑ ہے ۔۔۔سم تھنگ ویری آرٹیفیشل۔پھر لکھوں گی سوچ کر کہ کیا چیز

  12. #12
    Senior Member

    Join Date
    Oct 2008
    Posts
    6,226
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: لگن لاگی تم سے من کی لگ

    ساحرہ
    یہ تمارا افسانہ تھا ؟؟

    بہت اچھا لکھا تم نے اور میں نے ووٹ بھی اسی کو دیا تھا

  13. #13
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: لگن لاگی تم سے من کی لگن [Afsana 055]

    ہاہاہاہا
    اچھا ٹھیک ھے تم اپنے افسانے کا پوسٹ مارٹم کر لو ۔بعد میں تفصیل سے لکھنا۔

  14. #14
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: لگن لاگی تم سے من کی لگن [Afsana 055]

    ہاہاہا
    ہاں زینب یہ غلطی مجھ ہی سے ہوئی تھی۔ پسند کرنے کا بہت بہت شکریہ۔

  15. #15
    Section Managers

    Join Date
    Aug 2007
    Posts
    22,601
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: لگن لاگی تم سے من کی لگ

    اچھااااااااااااااااااا تو یہ تمہارا افسانہ تھا۔میں نے سب سے پہلے یہی پڑھا تھا۔آخری تھا نا یہ شاید۔اسی کے پڑھنے کے بعد وش سے کہا تھا کہ نام بتاؤ لکھاریوں کے۔
    اچھا لکھا تھا ۔لگتا نہیں کہ افسانہ ہے۔کیا کسی واقعہ پر لکھا؟

    بس اینڈ ذرا جلدی آ گیا تھا۔یہ کمی لگی۔~

Page 1 of 6 123 ... LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •