Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Page 4 of 6 FirstFirst ... 23456 LastLast
Results 46 to 60 of 90

Thread: 1US-Writers...نثری تحریروں کا مُقابلہ

  1. #46
    Senior Member

    Join Date
    Jan 2009
    Posts
    6,869
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    (2)



    عکس



    اک پرانی عادت سے مجبور ہو کر وہ چہرہ جو مدت سے نظروں سے اوجھل ہے اسکو یونہی ڈھونڈتے رہنا۔ کبھی ذہن کے خانوں میں چھپے ہوئے خیالوں میں، کبھی زمین پر بکھرے ہوئے لوگوں میں اور کبھی آسمانوں میں اڑتے بادلوں میں، مگر ہر بار ناکام لوٹنا۔

    شاید وہ خاکہ جو میرے ذہن میں تھا جس کو میں نے اپنی آنکھوں کے حصار میں اک عرصہ قید کر رکھا تھا اب اسکو رہائی مل گئی ہے۔

    اب مجھے بھی سب کی طرح اس حقیقت کو ماننا پڑے گا، کہ جو اک بار جہاں چھوڑ دے اسکے عکس کو تمام عمر سہارا بنا کر ہم اپنی زندگی گزار نہیں سکتے انکو وہی چھوڑ کر آگے چلنا پڑتا ہے اور زندگی کے دریا کا رخ موڑنا ہی پڑتا ہے۔

    ہم ان چہروں کو چاہے جتنا مرضی زندہ رکھنے کی کوشش کریں ۔انکو جہاں میں ڈھونڈے کی پوری کوشش کریں مگر سچ تو یہ ہے کہ انہیں کہیں ہم پا نہیں سکتے۔
    ہماری لاکھ کوششوں کے باوجود وہ عکس وقت کی گرد سے آہستہ آہستہ مدہم ہو جاتا ہے۔ کسی کے لوٹ جانے سے اگر اسکا عکس دنیا میں باقی رہتا تو پھر یہ طے تھا کہ دنیا میں کوئی نہیں مرتا ،دنیا سے کوئی نہیں مٹتا۔

  2. #47
    Senior Member

    Join Date
    May 2009
    Posts
    17,348
    Blog Entries
    4
    Mentioned
    4 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    ماشااللہ دونوں تحریریں بہت اچھی لگیں۔

  3. #48
    Section Managers Kainat's Avatar

    Join Date
    Oct 2007
    Location
    Germany
    Posts
    14,437
    Blog Entries
    18
    Mentioned
    14 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ




    یہ قربتیں یہ مسافتیں




    میں نے جب بھی اپنے من کی کھڑکی کھولی تو پتہ چلا کہ آپ کی گزری زندگی کے پل، آپ کی یادیں ہمیشہ آپ کی ذات کا ایک حصہ ہی رہتے ہیں اور ان سے پیچھا نہیں چھڑایا جا سکتا۔
    کیونکہ ان یادوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے کبھی بچپن دوبارہ آنکھوں کے سامنے آیا تو کبھی لڑکپن، اور محسوس ہوا کہ عمر کے وہ پل کتنے انمول تھےاور یادوں کا وہ حصہ کتنا خالص تھا۔ نہ زمانے کی ریا کاری سے واسطہ تھا۔ نہ کسی اور چیز سے غرض، بس اس چھوٹی سی دنیا میں چھوٹی چھوٹی یادیں بھی بعض دفعہ دل کو کتنا خوش کر دیتی ہیں۔
    یادیں اچھی ہوں یا بری، لیکن پھر بھی وہ ایک سائے کی طرح آپ کے ساتھ ہی رہتی ہیں۔ اور آپ کے ساتھ ہی زندگی کا سفرقدم بہ قدم طے کرتی ہیں۔

    یاد میری خاموش ہم سفر،
    تو ہر وقت میرے ساتھ ہوتی ہے۔ بے شک میں تجھے وقت دوں یا نہ دوں، مگر تو ہمیشہ میرا پلو تھامے رکھتی ہے۔ تیرا ساتھ مجھے کتنا پیارا ہے۔ اگر تو میرے ساتھ نہ ہوتی، اور وقت کے لمحوں کی طرح میرے ہاتھوں سے پھسل گئی ہوتیں تو میں کتنی تنہا ، اداس اور تہی دامن ہوتی۔ نہ گزرے وقت کی یادیں جگنو کی طرح میرے ماضی کی سکرین پرجگمگاتیں اور نہ میں حال کی پریشانی کو بھلا کر کبھی یادوں کی گود میں پناہ لے سکتی۔
    ایسی کوئی بات نہیں سنو، میرے من کی کھڑکی سے چوری چوری جھانکنے والی،
    کبھی کبھی میری اور تمہاری ٹھن بھی تو جاتی ہے۔
    "یاد ماضی عذاب ہے یارب
    چھین لے مجھ سے حافظہ میرا "
    دن کو میں ون اردو پر اپنی سہیلیوں سے گپ شپ میں لگی رہتی ہوں تو تم شائد جیلس ہو جاتی ہو اسی لیے جن یادوں سے میں اپنا واسطہ بھی نہیں رکھنا چاہتی تو، کبھی کبھی رات کے اندھیرے اور سناٹے میں وہ غیر محسوس طریقے سے تم میری جھولی میں ڈال دیتی ہو اور جب ان یادوں کی تلخی سے میری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں تو۔۔۔ تم چپکے سے مسکرا دیتی ہو، جیسے تم نے میرے ساتھ کوئی دل لگی کی ہو۔
    ویسے شرارتیں تو تمہیں خوب آتی ہیں۔ کبھی بچپن کو سامنے لا کھڑا کرتی ہو، جب میرا اور تمہارا ساتھ ابھی اتنا بنا بھی نہیں تھا لیکن میری وہ معصومیت بھری باتیں اور کچھ حماقتیں بھی تم نے محفوظ کر کے رکھ لیں تا کہ تم مجھے بعد کی لائف میں چڑا سکو اور اب مجھے کبھی کبھی یاد کروا کر خود مزے سے چھپ جاتی ہو۔ اور میں ان یادوں میں کھوئے کھوئے کبھی ہنڈیا جلا بیٹھتی ہوں، اور کبھی اسی بے خیالی میں منے کے کپڑے منی کو پہنانے لگ جاتی ہوں اور منی کا ہیر بینڈ منے کے بالوں میں لگانے کی کوشسش کرتی ہوں تب میرے صاحب عالم زیرلب مسکرا رہے ہوتے ہیں۔
    لیکن،
    اے میرے بچپن کی ڈور سے بندھی میری سنگی یاد،
    پھر بھی ہم ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ میں بے شک جتنا مرضی تمہیں اگنور کروں اور تو بھی مجھے کبھی خوشی کی یادوں کے جھولے جھلاتے جھلاتے ایک دم حال میں پٹخ دے۔ پھر بھی ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ چاہیئے۔ میں تمہارے بغیر آدھی ادھوری نہیں ہونا چاہتی۔ کبھی کبھی ہمیں جب لگتا ہے کہ ہمارا ساتھ بھی ایک نہ ایک دن ختم ہو جائے گا، تو اس بات کو سوچتے ہی ہم ایک دوسرے کے گلے لگ جاتی ہیں اور اپنا دکھ سانجھا معلوم ہونے لگتا ہے۔
    اور میں پھر سے تمھیں گلے لگا کر اپنے دل میں چھپا لیتی ہوں کیونکہ
    یادوں کا سہارا نہ ہوتا
    ہم چھوڑ کے دنیا چل دیتے
    یہ درد جو پیارا نہ ہوتا
    ہم چھوڑ کے دنیا چل دیتے

    ********


    میں جن راستوں سے گزر جاتا ہوں ایک بار
    مڑ مڑ کے وہ نظارے بلاتے ہیں بار بار

  4. #49
    Section Managers

    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    14,913
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    خاموشی بات کرتی ہے

    بہت مثبت اور خوبصورت سوچ ہے۔ واقعی صرف لفظ ہی نہیں بلکہ خاموشی بھی بات کرتی ہے،ضروری نہیں کہ جو سنائی نہ دے اس کا کچھ وجود بھی نہ ہو۔ ایک اچھا احساس بیان کیا ہے لکھنے والی نے۔

    امید کے جگنو

    بہت خوبصورت لکھا ہے ۔مجھے تحریر کا یہ جملہ۔۔۔
    امید انہیں یقین بخشتی ہے کہ اجالا کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو، اندھیرے پر حاوی ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔۔۔۔ بہت پسند آیا۔ امید واقعی انسان کو اپنے قدموں، اپنے بھروسے پر قائم رہنے کا حوصلہ دیتی ہے۔اور صبر کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

    دوستی کی روشنی

    بہت اچھا لکھا آمنہ جی۔ دوستی واقعی ایک بہت پاکیزہ رشتہ ہے۔ زبان نہ بھی کہے تب بھی دل بہت سے احساسات کو بے قدرا نہیں ہونے دیتا۔

    انمول یادیں

    بہت خوب۔ بہت اچھے خیالات کا اظہار کیا ہے سس۔

    سچ تو یہی ہے کہ یہ دوست ساتھ چھوڑ جاتے ہیں گھر بار۔۔۔دھن دولت سب کچھ ساتھ چھوڑ جاتے ہیں بس یہ انمول یادیں آپکے ساتھ رہتی ہیں ۔۔۔ہمیشہ آپکی زندگی کی ساتھی۔۔۔۔
    بالکل صحیح کہا ۔یادیں ایسی ساتھی ہیں کہ آپ انہیں چھوڑنا بھی چاہیں تو یہ آپ کو نہیں چھوڑتیں۔اور یہ تلخ یا رنگین یادیں ہی ماضی کا اثاثہ ہوتی ہیں۔ لکھتی رہیں۔


    بلا عنوان

    بہت اچھا لکھا ہے احسان بھائی۔ سوال کرنے والا ،جاننے والا ، واقعی بہت بڑا قصور وار سمجھا جاتا ہے۔ طاقت اور ظلم کو دیکھ کر لوگ حق و باطل کے ساتھ انصاف کرنا تک بھول جاتے ہیں۔اگر کوئی آواز اُٹھا ہی لے تو اسے بُرا بھلا کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔بہت اچھا لکھا آپ نے لکھنا جاری رکھیے گا۔

    الفاظ

    لفظوں کا چناو ،بات کو خوبصورت بنانے ،بدصورت بنانے،ان کا حسن بڑھانے یا بد رنگی ظاہر کرنے میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ لفظ ہی محبت یا نفرت پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ کسی کو زخم دینے اور کسی کے زخم پر مرہم رکھنے کا موجب بنتے ہیں۔
    بہت اچھے ٹاپک کا انتخاب کیا رضوان بھائی۔بہت خوب۔

    عکس

    بہت اچھا لکھا پھر سے رضوان بھائی۔ یہ عکس بھی تو یاد کا ایک حصہ ہوتا ہے ۔جب تک یاد باقی رہتی ہے۔اس یاد کا عکس بھی رہتا ہے۔ جو چہرے دلوں میں بس جاتے ہیں ان پر گرد جم تو سکتی ہے تصویر دھندلا تو سکتی ہے مگر اس کا وجود ختم نہیں ہو سکتا۔اور پھر یہ تو انسان پر ہے نا کہ وہ اس پر جمی گرد اپنی یاد کے ہاتھوں سے ہٹا لے۔تو عکس پھر سے واضح ہو جاتا ہے۔


    یہ قربتیں یہ مسافتیں

    بہت اچھا لکھا ہے کائنات سس۔ یادیں بہت قیمتی اثاثہ ہوتی ہیں گزری زندگی کا۔اور بچپن کی تو پھر کیا بات ہے۔اچھا لکھا ہے آپ نے اچھا لگا پڑھ کر ۔لکھتی رہیے۔

  5. #50
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    16,115
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    ہم بے یقین لوگ


    اللہ پاک نے ہر انسان کے اندر کچھ صلاحیتیں رکھی ہیں۔کچھ خاص ،کچھ محتلف دوسرے انسانوں سے۔ہم میں

    سے کچھ ان صلاحیتوں کو پہچان کر انہیں استعمال میں لا کر نا صرف ایک کامیاب زندگی گزارتے ہیں بلکہ

    اپنی ایک پہچان بنانے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں۔جبکہ دوسری طرف کچھ ہم جیسے ہوتے ہیں

    جو ساری زندگی ہونے نا ہونے کے درمیان لٹکے رہتے ہیں۔ساری عمر اپنا ہنر ڈھونڈھنے میں گزرا دیتے ہیں۔

    ہر آواز ہر آہٹ ہر لپکتے ہیں کہ شاید یہ در روشنی کا ہو۔شاید یہ راہ ہمیں خود سے ملوا دے۔ہمیں مکمل کر دے

    اور پھر یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔زندگی کی آخری سانس تک۔کیونکہ یقین کے لئے تو ایک پل ہی بہت ہوتا ہے۔

    اور ہم شاید وہ پل گنوا بیٹھتے ہیں۔اور ساری عمر اس غلطی کا خمیازہ بھگتے ہیں۔

    اور اگر اتفاق سے کبھی کوئی ایسا پل دوبارہ مل بھی جائے تو ہم اسے اپنا کہنے سے ڈرتے ہیں کہ ہماری

    بے یقنی اسے ہم سے دور کر دیتی ہے۔اس لئے جسے اپنے ہنر کی پہچان ہو وہ اس کی قدر کرے۔کہ بھٹکنا
    کوئی خوشگوار عمل نہیں ۔



  6. #51
    Senior Member

    Join Date
    May 2009
    Posts
    17,348
    Blog Entries
    4
    Mentioned
    4 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    بہت خوب۔ کیا سچائی کس موثر انداز میں بیان کی ہے۔

  7. #52
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    یہ بھی پی ایم سے موصول ہونے والی کسی ممبر کی تحریر ہے۔



    یادوں کا سفر


    یادیں، آہ یہ یادیں اور باتیں اتنی پیاری ہیں کہ آنکھیں بند کرتی ہوں تو بس ان چند لمحوں میں ایک ساری زندگی سمٹ آتی ہے۔۔
    رات کی تنہائی اور اس پر بنے اندھیروں کے جال اور باہر برستی بارش اور پھر، پھر کھڑکی پر بارش کے ٹپکتے قطروں کی آواز مجھے ماضی کی طرف اڑائے لیے جاتے ہیں
    میں سر دیوار سے ٹکائے، آنکھیں موندے، بنا کچھ کہے ان کے ساتھ کھینچی جاتی ہوں۔ اس وقت تنہائی کا احساس جوبن پہ ہوتا ہے اور، اور یہ یادیں کبھی عذاب کی مانند اور کبھی خوشبو کی مانند میرے پورے وجود کو اپنے حصار میں لے لیتی ہیں
    دل کو راکھ کر دینے والی یہ یادیں بھی مجھے تنہا نہیں چھوڑتیں، میرا ہاتھ تھام کر میرے ساتھ چلتیں ہیں۔۔ پھر آہستہ سے میرے کانوں میں آکر کہتی ہیں کہ " ہم سے پیچھا چھڑوا کر تو دیکھو۔۔ ہم تمہارے ساتھ قدم ملا کر چل رہی ہیں"
    اور پھر کبھی جب ذہنی الجھنیں بڑھنے لگتی ہیں اور پریشان کرنا شروع کر دیتی ہیں تو پھر یہ خوشبو کی مانند مجھے اپنے حصار میں لے لیتی ہیں اور میں پرانی تصویروں اور خطوں میں کچھ خوشگوار یادوں کو ڈھونڈنے کی سعی کرتی ہوں اور پھر یہ یادیں مجھے اتنی قوت بخشتی ہیں کہ پھر کوئی الجھن یا پریشانی محسوس ہی نہیں ہوتی۔۔ میری یادوں کے یہ انمول موتی جن کو میں نے وقت کی مالا میں پرویا ہے ان کے ساتھ جب میں کبھی گزرے لمحوں کی طرف سفر کرتی ہوں تو میرا من کا آنگن پھینی پھینی خوشبو سے بھر جاتا ہے اور پھر وہ تکلیف دہ یادیں مجھے دکھ نہیں دیتیں کیونکہ ان کے ساتھ میری ان خوشگوار یادوں کا سلسلہ بھی تو جڑا ہے ناں جو میرے قلب و دماغ کو معطر کئے ہوئے ہیں
    میری زندگی کا بہترین اثاثہ ہیں میری یہ یادیں



    [SIGPIC][/SIGPIC]

  8. #53
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    1,103
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    kun hey ye chupa rustam yan phr rustami??? :P
    کہاں سے سیکھی اے اقبال تو نے یہ درویشی
    کہ چرچا بادشاہوں میں تیری بے نیازی کا ھے
    اقبال

  9. #54
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    Quote Originally Posted by Sad prince View Post
    kun hey ye chupa rustam yan phr rustami??? :P


    پہلے اُس چھپے رُستم یا رُستمی کی تحریر پر اچھا سا تبصرہ تو کریں وہ بھی اُردو میں۔ ۔ ۔
    کیا پتہ آپ کی تعریف سُن کر وہ اپنا نام بتا دیں؟

    [SIGPIC][/SIGPIC]

  10. #55
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    1,103
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    tareef tu mein ney kardi hey g.....
    کہاں سے سیکھی اے اقبال تو نے یہ درویشی
    کہ چرچا بادشاہوں میں تیری بے نیازی کا ھے
    اقبال

  11. #56
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    پی ایم سے موصول ہونے والی ایک اور تحریر۔ ۔ ۔
    پڑھ کر ضرور بتائیں کہ کیسی لگی؟
    شُکریہ۔




    میں اور میری اُداسی


    آج پھر مجھ سے وہی سوال کیا گیا کہ "کیا میں اُداس ہوں؟“ ہر بار کی طرح آج بھی میں نے مسکرا کر سوال کو نظر انداز کر دیا ۔میرے لیے اُداسی کے معنی بہت الگ ہیں۔ ویسے ہی الگ جیسے میں ہر دوسرے شخص سے الگ ہوں۔میری سوچ سوا میرے کسی سے میل نہیں کھاتی۔
    لوگ اُداسی کو غم سے ،کچھ کھو جانے سے،کچھ نہ پا سکنے سے منسلک خیال کرتے ہیں۔ کسی کا مل کر نہ ملنا،کسی کا مل کر بچھڑ جانا،کسی کے ملنے کی امید ہونا مگر اسے پانے کی خواہش نہ کرنا۔یہ اسباب انسان کو اُداس کرتے ہیں۔
    مگر میں نے کہا کہ " کسی کو پانے کے لیے بھی اُداسی اپنائی جاتی ہے“۔میرے نزدیک اُداسی درحقیقت اُداسی نہیں بلکہ ایک *ادا *،*سی* ہے ۔ روٹھنے کی ادا، منانے کی ادا،خود کو منوانے کی ادا،یا پھر مان جانے کی ادا۔
    لوگ کہتے ہیں کہ میری مثبت سوچ بہت غلط طریقے سے بات کو الگ معنی دے جاتی ہے۔ یہ حیات کا ،میری سوچ کا ایک ایسا دائرہ ہے جہاں صرف میں موجود ہوں۔
    ہر فرد کی طرح میری شخصیت الگ ہے۔پھر میں وہ کیوں کہوں جو سب کہتے ہیں؟وہ کیوں کروں جو سب کرتے ہیں؟ میری ذات کی ایک اپنی پہچان ہے،اپنی سوچ،اپنی بات،اور ہر بات کا اپنا معنی ہے۔
    بے سبب کچھ نہیں ہوتا۔میری اس ادا ۔ سی۔ کے مفہوم کی بھی وجہ ہے۔
    کون کہتا ہے اُداسی مجھے تنہا کرتی ہے؟ میری اُداسی تو مجھے تمہارے اور بھی نزدیک کر دیتی ہے۔ جب میں اُداس ہوتا ہوں تو کیا تم میرے لیے گھبرا نہیں جاتے ؟ گھبراتے ہو نا ،کیونکہ تمہیں میری پرواہ ہوتی ہے۔ پھر تم میرے قریب آ بیٹھتے ہو۔ بہت محبت ،اپنائیت سے میرا نام لیتے ہو۔ تم جانتے ہو نا کہ مجھے میرا نام تمہاری زبان سے سُننا کتنا پسند ہے؟
    پھر تم اپنا ایک ہاتھ میرے کندھے پر رکھ کر قدرے جھک کر مجھ سے کلام کرتے ہو۔ میرے کوئی جواب نہ دینے پر تمہارا وہی ہاتھ میرے ایک کندھے سے دوسرے کندھے تک کا سفر طے کرتا ہے۔ تم میرے گرد اپنا بازو پھیلاتے ہو۔مجھے اپنے ساتھ لگاتے ہو۔میں جب شدت ِ جذبات سے ، اپنا غم تمہارے سامنے رکھتا ہوں تو ،تم مجھے گلے سے لگا لیتے ہو نا۔میں میری آنکھوں کے سمندر تمہارے حوالے کر دیتا ہوں اور تم کتنی محبت سے اپنی انگلیوں کی پوروں سے ان شبنم کے قطروں کو چُنتے ہو۔ میرے گال سہلاتے ہو اور کہتے ہو کہ " میں تمہارے ساتھ ہوں “۔ تم میرے اتنے قریب ہوتے ہو کہ میں نظر اُٹھا کر دیکھوں تو کائنات میرے قریب ،بہت قریب بیٹھی نظر آتی ہے۔
    میں اپنا غم اور وجہ ِ غم بھول کر تمہارے احساس میں کھو جاتا ہوں۔ تمہاری سانسوں کو شُمار کرنے لگتا ہوں۔ پھر مجھے میری وہ خواہش یاد آ جاتی ہے کہ "کاش میں کبھی تمہارے اتنے قریب ہوں کہ آنے اور جانے والی ہر سانس کو شُمار کر سکوں“اور پھر اُس لمحے جب میری یہ خواہش پوری ہو رہی ہوتی ہے تو میں میرا غم یکسر بھول جاتا ہوں۔ اور ان سانسوں کے اعداد و شُمار میں کھو جاتا ہوں۔
    پھر تم میرے گرد اپنی گرفت مضبوط کرتے ہو اور مجھے پیار سے ڈپٹتے ہو ۔تو میں بے اختیار خوش ہو اٹھتا ہوں۔پھر تم میرے ماتھے پر اپنے گداز ہونٹوں کا بوسہ دیتے ہو اور میری ہستی کے سب دُکھ سمیٹ لیتے ہو۔تو میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھنے لگتا ہوں۔اور سوچتا ہوں کہ تمہارا قُرب جو اس اُداسی نے مجھے دیا۔یہ میری مسکراہٹ مجھے کبھی نہیں دے پائی۔ اور پھر مجھے اُداس ہونا اچھا لگتا ہے۔
    جس نے بھی سُنا اس نے کہا کہ میرا فلسفہ میری طرح ہی عجیب سا ہے۔ لیکن میں لوگوں کی پرواہ کیوں کروں؟ کیا لوگ میری پرواہ کر کے میرے فلسفے کو اپنا سکتے ہیں؟ جب کوئی مجھ جیسا بننا پسند نہیں کرتا تو میں کیوں کسی اور جیسا بنوں؟
    کیا مجھے میری زندگی،میری خوشیاں،میرے غم ،لوگوں سے پوچھ کر ملے ہیں؟ نہیں ۔
    کیا میرے ذہن میں آنے والا ہر سوال ، ہر خیال لوگوں سے پوچھ کر آتا ہے ؟ بالکل نہیں۔
    تو پھر میں اپنے ہر سوال کا جواب لوگوں سے کیوں پوچھوں؟ میرے پاس میری ہر بات کا جواب ہے اور میں اس سے مطمئن ہوں،خوش ہوں۔لوگوں کی پرواہ نہ میں نے کل کی تھی ،نہ آج کرتا ہوں۔
    میرے لیے، میری کہی ہر بات کا ،میرا اپنا مطلب ہے۔میرے لیے میری اُداسی ۔ اِک ادا - سی ہے۔میرے روٹھ جانے کی ادا،اُس کے مجھے منانے کی ادا،میرے مان جانے کی ادا۔




    [SIGPIC][/SIGPIC]

  12. #57
    Section Managers

    Join Date
    Dec 2008
    Posts
    14,913
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    ہم بے یقین لوگ

    بہت خوب عروسہ سس۔ ایک اچھا میسج دیا ہے آپ نے کہ اگر کوئی اپنے ہنر کو پہچان جائے تو اسے بےیقینی میں گنوانے کے بجائے اس کی تراش خراش کر کے اسے اپنی زندگی میں استعمال کرے۔اس کی قدر کرے۔

    یادوں کا سفر

    یادیں واقعی زندگی کا بہترین اثاثہ ہوتی ہیں۔ ان کے بغیر شاید ماضی کی کوئی زندگی ہی نہیں رہ جاتی۔ جو وقت بیت جاتا ہے اسے بطور یاد ہی کے سنبھال کر رکھا جا سکتا ہے۔ پھر چاہے وہ یادیں تلخ ہوں چاہے شیریں۔
    بہت اچھا لکھا ہے جس نے بھی لکھا ہے۔ایسے ہی لکھتے/ لکھتی رہیے۔


    میں اور میری اُداسی

    ایک بہت منفرد سا خیال بیان کیا ہے ۔جس نے بھی لکھا ہے بہت اچھا لکھا ہے۔ ہر انسان ایک الگ تخلیلاتی دنیا رکھتا ہے جہاں وہ من مانی کرتا ہے۔ جیسے اس نثر پارے میں کی گئی۔کسی بھی منفی خیال کو مثبت روپ دینا اور اسے بیان کرنا بہت اچھوتا سا خیال ہے۔اداسی کو اس مثبت انداز سے بیان کرنا مجھے بہت پسند آیا ۔گڈ ،ایسے ہی لکھتے/ لکھتی رہیے۔


  13. #58
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    Quote Originally Posted by Kashfeen View Post
    ہم بے یقین لوگ


    اللہ پاک نے ہر انسان کے اندر کچھ صلاحیتیں رکھی ہیں۔کچھ خاص ،کچھ محتلف دوسرے انسانوں سے۔ہم میں

    سے کچھ ان صلاحیتوں کو پہچان کر انہیں استعمال میں لا کر نا صرف ایک کامیاب زندگی گزارتے ہیں بلکہ

    اپنی ایک پہچان بنانے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں۔جبکہ دوسری طرف کچھ ہم جیسے ہوتے ہیں

    جو ساری زندگی ہونے نا ہونے کے درمیان لٹکے رہتے ہیں۔ساری عمر اپنا ہنر ڈھونڈھنے میں گزرا دیتے ہیں۔

    ہر آواز ہر آہٹ ہر لپکتے ہیں کہ شاید یہ در روشنی کا ہو۔شاید یہ راہ ہمیں خود سے ملوا دے۔ہمیں مکمل کر دے

    اور پھر یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔زندگی کی آخری سانس تک۔کیونکہ یقین کے لئے تو ایک پل ہی بہت ہوتا ہے۔

    اور ہم شاید وہ پل گنوا بیٹھتے ہیں۔اور ساری عمر اس غلطی کا خمیازہ بھگتے ہیں۔

    اور اگر اتفاق سے کبھی کوئی ایسا پل دوبارہ مل بھی جائے تو ہم اسے اپنا کہنے سے ڈرتے ہیں کہ ہماری

    بے یقنی اسے ہم سے دور کر دیتی ہے۔اس لئے جسے اپنے ہنر کی پہچان ہو وہ اس کی قدر کرے۔کہ بھٹکنا
    کوئی خوشگوار عمل نہیں ۔

    عروسہ بہت سادگی سے بہت بڑی اور بہت خوبصورت بات کہی ھے۔
    شاید قسمت کی دستک کو پہچان لینا اسی بنیاد کی عمارت ہوتی ھے ۔

  14. #59
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    باقی سب کی تحریریں بھی جو جو بھی ابھی تک پڑھی ہیں (ساری نہیں پڑھی ابھی) کافی اچھی ہیں اور بہت خوبصورتی سے جذبوں کو لفظوں کا روپ دیا گیا ھے۔ اگر ان میں سے کسی نے ابھی تک افسانہ نہیں لکھا تو ٹرائی ضرور کرے۔

  15. #60
    Sisters Society

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    CA, USA
    Posts
    16,003
    Blog Entries
    2
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    ہم بے یقین لوگ


    بہت خوب عروسہ سس۔ خود آگاہی کا وصف بھی اللہ کسی کسی کو عطا کرتا ہے۔ ہم میں سے خوش قسمت ہوتے ہیں وہ جنکے والدین، استاد، یا دوست انکے اندر کے حقیقی جوہر پہچان جاتے ہیں اور اسکو پنپنے میں مدد دیتے ہیں۔

    مگر ہم میں سے ہی کچھ غمیں جاناں ، غم دوراں کے چکروں میں پڑ کر اپنے آپ کو فراموش کردیتے ہیں۔





    The most common way people give up their power


    is by thinking they don't have any.


    ~ Alice Walker ~


    Courage is like a muscle.


    We strengthen it with use.


    ~ Ruth Gordon ~

Page 4 of 6 FirstFirst ... 23456 LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •