Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Page 2 of 6 FirstFirst 1234 ... LastLast
Results 16 to 30 of 90

Thread: 1US-Writers...نثری تحریروں کا مُقابلہ

  1. #16
    Sisters Society

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    CA, USA
    Posts
    16,003
    Blog Entries
    2
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    خاموشی بات کرتی ہے

    زبردست تحریر۔ باقی رائے فرصت سے۔۔۔۔۔

    پلیز فونٹ ایک سا کر دیں۔ اچھا تاثر نہیں دے رہا۔ نمایاں کرنے کیلئے فاصلہ یعنی سپیس دے لیں۔





    The most common way people give up their power


    is by thinking they don't have any.


    ~ Alice Walker ~


    Courage is like a muscle.


    We strengthen it with use.


    ~ Ruth Gordon ~

  2. #17
    Sisters Society

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    CA, USA
    Posts
    16,003
    Blog Entries
    2
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    یادیں
    وش آپکی ہمت کی داد دینی پڑتی ہے۔ ایک مقابلہ ابھی پوری طرح سے سمٹا نہیں اور آپ ایک نئے کام کا بیڑہ اٹھائے حاضر۔۔۔۔اللہ آپکو کامیابیاں دے، آمین۔

    بہت اچھے اسلوب میں آپ نے یادوں کو بیان کیا اور نئے لکھنے والوں کیلئے پیچیدہ کی بجائے ایک عام فہم تحریر پیش کی۔ بہت خوب!





    The most common way people give up their power


    is by thinking they don't have any.


    ~ Alice Walker ~


    Courage is like a muscle.


    We strengthen it with use.


    ~ Ruth Gordon ~

  3. #18
    Severus
    Guest

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    Quote Originally Posted by Wish View Post

    لیں جی ایک تحریر بطور پی ایم موصول ہوئی ہے جس میں مصنفہ سامنے نہیں آنا چاہتیں۔ لیکن یہ رہا اُن کا نثر پارہ۔ آپ لوگ پڑھ کر اپنی رائے سے آگاہ ضرور کیجیئے گا۔ کہ کسی کی پہلی تحریر آپ کے ایک کمنٹ کی مُنتظر ہے۔




    خاموشی بات کرتی ہے
     
    کہتے ہیں کہ شور لہروں کی عادت ہوتی ہے ۔ تو خاموشی چٹان کی طاقت،، اگر آپ خاموشی کے ساتھ رہنا سیکھ جاو تو یہ ساتھ آپ کو کبھی اپنی ذات میں تنہا نہیں کرتا۔۔۔ کبھی آنکھیں موند کر اس کی موجودگی کا احساس کر کے دیکھیں تو بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ خود ہی اپنے احساسات کو زبان دیتی ہے۔ اس کی اپنی ایک زبان ہے اور جب یہ بولنا شروع کرتی ہے تو آپ کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے اور آپ چاہ کے بھی اس سے باہر نہیں نکل پاتے۔۔۔
    کبھی چوڑیوں کی چھنکار میں اور کبھی پائل کی کھنک میں چپکے سے یہ کچھ گنگناتی جاتی ہے۔۔اور کبھی خزاں میں پارک میں پھیلے سوکھے پتوں پر تنہا چلتے ہوئے یہی خاموشی ہمارے ساتھ چلتی ہے اور ہمیں احساس دلاتی ہے کہ ہم تنہا نہیں ، خاموشی، خاموشی کے ساتھ ہماری ہمسفر ہے۔
    میں اکثر اپنے آپ کو چار دیواری میں قید محسوس کرتی ہوں ایسا لگتا ہے کہ باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ، کوئی روشنی نہیں، بس کسی زندان میں قید ہوں،،، تب یہی خاموشی تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند آکے اپنے ہونے کا احساس دلاتی ہے اور کہتی ہے کہ "میں ہوں ناں" ۔۔۔۔ میرا ہاتھ تھام کرمیرے احساسات کو جگاتے ہوئے اور میرے ہونے کا یقیں دلاتی مجھے اس زندان سے نکالتی ہے۔۔
    میرے چاروں طرف پھیلی یہ خاموشی اپنے پر پھیلائے اس انتظار میں بیٹھی رہتی ہے کہ میں کب تنہا ہوں اور یہ اپنی باتوں سے مجھے بہلائے، مسکرائے، گنگنائے اور میں اس کی کھلکھلاہٹ میں کھو کر اور اس کے ساتھ بے معنی باتیں کرتے ہوئے اپنے ارد گرد سے بےنیاز ہو جاوں۔۔ کبھی بات کر کے دیکھیے گا اس سے، کیسے آپ کے احساسات کو یہ خود ہی لفظوں میں ڈھال لے گی
    بس یہی ہوں میں اور میری ہمسفر میری خاموشی۔



    بہت بہت بہت ہی اعلیٰ۔۔۔۔۔۔

  4. #19
    Senior Member

    Join Date
    Nov 2009
    Posts
    771
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    امید کے جگنو


    کبھی کبھی ہوتا ہے نا کہ ہم خوش اور مگن ہوتے ہوئے بھی مطمئن نہیں ہوپاتے۔ زندگی ایک دائرے میں گھومتی محسوس ہوتی ہے اور تب ایک انجانی سی تھکن وجود کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ ہر سفر بے سمت، ہر کام بے معنی سا لگنے لگتا ہے۔ انہی سوچوں میں گھرا دیکھ کر مایوسی اپنے پر پھیلاتی ہے اور ناامیدی ہمارے دل و دماغ پر اپنے پنجے گاڑھ لیتی ہے۔ ناامیدی ہم سے وہ معمولی خوشیاں بھی چھین لیتی ہے جو ہر ابھرتے سورج کے ساتھ ہمیں چلتے رہنے کی ہمت دیا کرتی ہیں۔ بے انتہا شور میں گھرے ہوئے بھی ہمیں اپنے اندر صرف ایک مہیب سناٹا سنائی دیتا ہے۔ ۔ ۔ رونشیوں کی چکاچوند میں بھی ہر طرف اندھیرا چھاتا محسوس ہوتا ہے مگر اس اندھیرے میں بھی امید کے جگنو راستہ دکھانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ بالکل اس کہانی کی طرح جس میں اندھیری رات میں بھٹکتے بلبل کو جگنو نے راستہ دکھایا تھا۔ امید کے جگنو زندگی کے بے مقصد دائروں میں بھٹکتے تھکن زدہ انسان کے ہاتھ تھامتے ہیں اور ناامیدی سے امید تک کا سفر طے کرواجاتے ہیں۔ سوچیں تو حیران رہ جائیں کہ ان معمولی، چھوٹی سی جانوں میں اتنی طاقت کہاں سے آجاتی ہے کہ یہ میلوں پھیلے سناٹے کو اپنی ذرّوں جیسی روشنی سے چیرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ یہ طاقت انہیں امید دیتی ہے۔ امید انہیں یقین بخشتی ہے کہ اجالا کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو، اندھیرے پر حاوی ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جیسے کالی رات میں سورج کی پہلی ننھی سی کرن کچھ سہمی ہوئی سی آگے بڑھنے سے گھبراتی ہے تو امید کے جگنو اس کے ہاتھ تھام کر اسے بھی اس خوف سے نکال لاتے ہیں۔ پھر اسے دیکھتے دیکھتے سورج کی بہت سی کرنیں اندھیرے کو اجالے میں بدلنے میں اس کے ساتھ آکھڑی ہوتی ہیں۔ اصل ہمت پہلی کرن کو کرنی ہوتی ہے۔ ۔ ۔ دقت کا سامنا اس پہلی کرن کو کرنا پڑتا ہے، مگر پھر امید کے جگنوؤں کے سہارے یہ آگے بڑھتی چلی جاتی ہے اور اس اندھیرے سے اجالے کے سفر میں بہت سی کرنیں اس کی ہم سفر ہوجاتی ہیں۔ اندھیرا جتنا بھی گہرا ہو، امید کے جگنو اس اندھیرے کو اجالے میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ ضرورت صرف ان پر اعتماد کرنے کی ہے۔ ہاتھ بڑھائیے اور امید کے جگنوؤں کے بڑھے ہاتھ تھام کر ان کے ساتھ اجالے کے سفر میں شامل ہوجائیں۔ ۔ ۔ زندگی بہت با مقصد لگنے لگے گی۔
    A little knowledge that acts is worth infinitely more than much knowledge that is idle. (Kahlil Gibran)

  5. #20
    Section Managers

    Join Date
    Feb 2008
    Posts
    28,644
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    Quote Originally Posted by Wish View Post



    خاموشی بات کرتی ہے



    میرے چاروں طرف پھیلی یہ خاموشی اپنے پر پھیلائے اس انتظار میں بیٹھی رہتی ہے کہ میں کب تنہا ہوں اور یہ اپنی باتوں سے مجھے بہلائے، مسکرائے، گنگنائے اور میں اس کی کھلکھلاہٹ میں کھو کر اور اس کے ساتھ بے معنی باتیں کرتے ہوئے اپنے ارد گرد سے بےنیاز ہو جاوں۔۔ کبھی بات کر کے دیکھیے گا اس سے، کیسے آپ کے احساسات کو یہ خود ہی لفظوں میں ڈھال لے گی



    بس یہی ہوں میں اور میری ہمسفر میری خاموشی۔
    زبردست۔۔۔ بہتتتت اچھا لکھا ہے ۔۔۔مختصر لیکن پراثر تحریر۔۔
    My page

    Food Creations By SaMina


    My HATERS are my motivators?? ?? ??

  6. #21
    Sisters Society

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    CA, USA
    Posts
    16,003
    Blog Entries
    2
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    صرف آپ سب کا ساتھ دینے کیلئے۔۔۔۔۔۔۔

    دنیا کے ہر کونے میں بچوں کو سکولز میں کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں سے ایک bullying بھی ہے۔ ایسے میں کچھ بچے آگے بڑھ کر انجانے میں ایک دوسرے کا ساتھ دے لیتے ہیں اور خود کو اور اپنے دوستوں کو بھی اس سے محفوظ کر لیتے ہیں۔ ہم والدین اکثر بچوں کو خودغرضی کا درس دیتے ہیں اور اپنے بچاؤ کیلئے کہتے ہیں مگر ہم میں سے ہی کچھ کے بچے آگے بڑھ کر کسی کا ہاتھ تھام لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔


    دوستی کی روشنی



    اس نے لنچ کرتے کرتے سر اٹھا کر دیکھا۔ جم آج پھر اس کے ارد گرد منڈلا رہا تھا۔ وہ پھر اپنا لنچ کھانے لگا۔

    "کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں"۔ جم نے آہستہ سے کہا۔


    "بیٹھ جاؤ" اس نے کندھے اچکا کر لاپرواہی سے جواب دیا۔


    "کینڈی لو گے۔" جم نے اپنے پسینے سے بھیگی ہتھیلی اس کے سامنے کھول دی، جس پر چڑمڑ ریپر میں لپٹی ایک کینڈی تھی۔


    "نہیں، شکریہ"۔ اس نے بے اعتنائی سے جواب دیا۔اگر کوئی اسے اچھی طرح جانتا تو سمجھ سکتا تھا کہ یہ بے اعتنائی نہیں، بے اعتمادی تھی جو اسے جم سے بے تکلف نہیں ہونے دے رہی تھی۔


    سامنے سے آتے ہوئے ہم جماعت بچوں کو دیکھ کر جم اسکے اور قریب سرک آیا۔


    *************

    ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا۔ جب سے وہ اس جماعت میں آیا تھا، تب سے جم اسکے قریب آنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسے وجہ سمجھ نہیں آ سکتی تھی کیونکہ باقی بچے اس سے دور دور رہتے تھے۔ مگر جم کا حساب الٹا تھا۔ وہ اور جم دونوں چوتھی جماعت میں تھے مگر جم قدوقامت کے لحاظ سے اس سے کم تھا اور اسکی صحت بھی اتنی اچھی نہیں تھی۔


    *****************


    "اسامہ بن لادن۔" ڈیو نے ہمیشہ کی طرح اس پر آوازہ کسا۔ "بتاؤ نا، کیا تم دہشت گرد ہو۔"


    "کیا تمھارے ملک میں ہر کوئی دہشت گرد ہے۔"ڈیو کے ساتھ ویلری بھی شامل ہو گئی۔ باقی بچے ہنسنے لگے۔ آواز اتنی نیچی تھی کہ ٹیچر تک آواز نہیں جا رہی تھی۔


    *****************


    "تم ٹیچر کو بتاتے کیوں نہیں ہو۔" جم نے اسکے ساتھ بیٹھتے ہو ئے سوال کیا۔


    اس نے کندھے اچکا دیئے۔


    "مجھے پتا ہے تم لادن جیسے نہیں ہو ، تم بہت اچھے ہو۔" جم نے اسکی ڈھارس بندھانے کے انداز میں کہا۔


    اس نے مسکرا کر جم کی طرف دیکھا اور پھر دونوں کھیلنے لگے۔


    *****************


    آج خلاف توقع اپنی اماں کو سکول کے باہر انتظار کرتا دیکھ کر اسکے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔ وہ جلدی سے جم کو خدا حافظ کہہ کر کار کی طرف بڑھا۔


    "اسلام علیکم۔" اماں نے ہمیشہ کی طرح پہل کی۔


    "وعلیکم السلام۔" اس نے ہمیشہ کی طرح نیچی آواز میں جواب دیا۔


    " یہ آپ کے ساتھ کون تھا۔" اماں نے پوچھا۔


    "کون؟" اس نے انجان بننے کی کوشش کی۔ اماں اب یقیناً کہیں گی کہ کیسے کیسے دوست بنا لیتے ہو۔ جم کا تو حلیہ بھی کتنا خراب ہوتا ہے۔ جیسے کبھی کنگھی نا کی ہو، کبھی منہ ہاتھ نا دھویا ہو۔ وہ سر جھکائے سوچتا رہا۔


    اماں کے اصرار پر صرف نام بتا کر چپ کر گیا۔ اماں نے بھی پھر کچھ نہیں کہا۔


    ****************

    "آج سکول میں کیا ہوا تھا۔" اماں نے بہت دھیمی آواز میں اس سے پوچھا۔


    ابھی کچھ ہی دیر پہلے تو سکول سے فون آیا تھا۔


    "کچھ نہیں۔"


    "مگر آپکے پرنسپل تو کچھ اور ہی کہہ رہے ہیں۔" اماں کا لہجہ اور نرم اور دھیما ہو گیا، جسکا مطلب تھا کہ اب انکا غصہ ذیادہ ہو گیا ہے۔


    اس نے سہمی نظروں سے ماں کو دیکھا اور پھر اسکی آنکھیں گیلی ہونے لگیں۔


    "ڈیو نے کرسی ماری تھی۔"


    "کیسے؟"


    "میں میز کے نیچے سے پنسل اٹھا نے جھکا تھا تو اس نے میری کمر میں کرسی دے ماری۔"


    "پھر۔۔۔۔۔!"


    "پھر۔۔۔۔!"


    "پھر کیا ہوا!" اماں کا لہجہ پھر سخت ہو گیا۔


    "پھر جم نے مسٹر گریرو کو بتا دیا۔"


    "آپ نے خود کیوں نہیں بتایا؟"


    خاموشی اور گیلی آنکھیں۔

    "کیا پہلے بھی ڈیو نے کبھی ایسا کیا ہے؟"


    "وہ مجھے اسامہ بن لادن کہتا ہے۔"


    "اگر ایسا پہلے بھی ہوا ہے تو آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا اور نا ہی اپنے ٹیچر کو!"


    سکوت۔۔۔۔۔


    "بیٹا اگر آپ ایسا کرو گے تو بچے آپکو تنگ کرتے رہیں گے۔ آپکو مضبوط ہو نا بڑے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" اماں کے مخصوص جملے شروع ہو گئے تھے۔ اب بھلا ایک ماں کیا جانے کہ سکول میں گزارہ کر نا کتنا مشکل کام ہے!


    ****************


    آج اسکے قدم تھکے تھکے تھے۔


    "السلام علیکم"


    "وعلیکم السلام"


    "کیا ہوا۔۔۔۔۔؟"


    اس نے اماں کے آگے اپنی مٹھی کھول دی۔ایک چھوٹا سا گفٹ بکس تھا جس میں کینڈیاں تھی۔ پھر اس نے اپنے پیچھے کیا ہوا ہاتھ بھی سامنے کر دیا۔ یہ ایک چھوٹا سا کارڈ تھا۔


    اماں نے حیران ہو کر اسکی طرف دیکھا اور پھر کارڈ پڑھنے لگیں۔


    ڈیئر فوزان،

    میں تمھارا شکر گزار ہوں کہ تم میرے دوست بنے جب میرا کوئی دوست نہیں تھا۔ میں یہاں سے جا رہا ہوں کیونکہ یہاں سب بچے مجھے تنگ کرتے ہیں۔میں تمھیں ہمیشہ یاد رکھوں گا۔

    تمھارا دوست

    جم


    "جم کہاں جا رہا ہے۔۔۔۔" اماں نے پوچھا۔

    "دوسرے سکول"۔


    "کیوں؟"


    " یہاں بچے اسے bully کرتے تھے۔"


    یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔


    پھر تھوڑی دیر بعد بولا " میرے ساتھ جب وہ ہوتا تھا تو اسکو کوئی کچھ نہیں کہتا تھا کیونکہ میں قد میں لمبا ہوں نا۔۔۔۔"


    "ہم دونوں ایک دوسرے کو پروٹیکٹ کر لیتے تھے۔۔۔۔۔"


    " آئے ول مس ہیم"


    اماں نے ایک نظر اسکے اداس چہرے تو دیکھا اور گاڑی چلا دی۔ دل میں افسوس تھا کہ جم کو کوئی جوابی تحفہ بھی نا دے سکے۔


    ایک دم گاڑی کے باہر نظر پڑی تو جم اور اسکی مام ہاتھ ہلا رہی تھیں۔


    "اسکی مام نے بھی مجھے تھینکیو کہا تھا" وہ مسکرایا، جوابی ہاتھ ہلاتے ہوئے۔


    ****************


    ہفتے، مہینے، سال، ایسے ہی گزر گئے۔ وہ ہائی سکول میں آ گیا۔ آج اسکے واٹر پولو کے ٹرائل تھے۔ سوئمنگ پول کے کنارے سارے سٹوڈنٹس جمع تھے۔ کوچ کی انسٹرکشنز سنتے سنتے اس نے سر گھما کر دیکھا۔


    "جم!"


    "فوزان!"


    جم اس سے گرمجوشی سے ملا۔


    ***************

    ٹی وی پر سکول میں بچوں کے مسائل کے متعلق فلم دیکھتے ہوئے اچانک اماں بولی۔


    "آپکو پھر کبھی جم نظر آیا۔"


    "جی، میرے ساتھ ٹیم میں تھا۔"


    "اچھا!" اماں ایکدم سیدھی ہو گئی۔


    "مگر اب وہ کسی اور سٹیٹ میں چلا گیا ہے۔" وہ پھر سےٹی وی پر نظمیں جما کر بیٹھ گیا، اس بات سے انجان اور لاتعلق کہ ایک دوسرے کی دوستی نے کیسے انکی زندگی میں روشنی بھر دی۔

    ****************





    The most common way people give up their power


    is by thinking they don't have any.


    ~ Alice Walker ~


    Courage is like a muscle.


    We strengthen it with use.


    ~ Ruth Gordon ~

  7. #22
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    Quote Originally Posted by Fozan View Post
    صرف آپ سب کا ساتھ دینے کیلئے۔۔۔۔۔۔۔

    دنیا کے ہر کونے میں بچوں کو سکولز میں کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں سے ایک bullying بھی ہے۔ ایسے میں کچھ بچے آگے بڑھ کر انجانے میں ایک دوسرے کا ساتھ دے لیتے ہیں اور خود کو اور اپنے دوستوں کو بھی اس سے محفوظ کر لیتے ہیں۔ ہم والدین اکثر بچوں کو خودغرضی کا درس دیتے ہیں اور اپنے بچاؤ کیلئے کہتے ہیں مگر ہم میں سے ہی کچھ کے بچے آگے بڑھ کر کسی کا ہاتھ تھام لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔


    دوستی کی روشنی




    ****************


    ویری نائس آمنہ سس۔ ۔ بہت خُوبصورت بیان ہے دوستی کا۔ ۔ نئے رشتوں کا۔ ایسے رشتے جس میں تعلق خون کا یا نام کا نہیں۔ ۔ ۔ بلکہ احساسات کا ہوتا ہے۔
    اور اس کے علاوہ ایک نہایت اہم اور آج کل کے زمانے میں رائج مسئلے کی طرف نشاندہی کی گئی ہے۔

    ہمارے اسکول میں بڑے لڑکے کچھ ایسا ہی کرتے ہیں۔ دو تین لڑکے اکٹھے جاتے ہیں۔ اور کوئی ایک آگے بڑھ کر کسی ایک بچے کو پیچھے سے آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کر اُٹھا لاتا ہے۔ اُسے تھوڑا سا گُھماتے ہیں اور چھوڑ کر مُڑ جاتے ہیں۔

    نہ جانے لوگوں کو دوسروں کو یوں تکلیف دینے میں کیا راحت ملتی ہے؟

    یہ انسان کی ہی اتنی قسمیں ہیں۔ اگر کہیں وہ بہت مضبوط اور طاقت ور ہے تو کہیں وہ ہی نہایت کمزور۔۔ ۔روتا ، چیختا چِلاتا اور اپنے کیے کچھ نہ کر پاتا۔

    بہت اچھا لکھا۔ لکھتیں رہیں۔

    شُکریہ
    [SIGPIC][/SIGPIC]

  8. #23
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    Quote Originally Posted by حرا قریشی View Post
    امید کے جگنو


    رونشیوں کی چکاچوند میں بھی ہر طرف اندھیرا چھاتا محسوس ہوتا ہے مگر اس اندھیرے میں بھی امید کے جگنو راستہ دکھانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ بالکل اس کہانی کی طرح جس میں اندھیری رات میں بھٹکتے بلبل کو جگنو نے راستہ دکھایا تھا۔
    ۔
    ۔
    ۔
    ۔

    اندھیرا جتنا بھی گہرا ہو، امید کے جگنو اس اندھیرے کو اجالے میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ ضرورت صرف ان پر اعتماد کرنے کی ہے۔ ہاتھ بڑھائیے اور امید کے جگنوؤں کے بڑھے ہاتھ تھام کر ان کے ساتھ اجالے کے سفر میں شامل ہوجائیں۔ ۔ ۔ زندگی بہت با مقصد لگنے لگے گی۔


    بہت خُوبصورت حِرا۔ آپ تو ماشاء اللہ ریگولر لکھنے والوں میں سے ہو۔ اور پڑھ کر احساس ہی ہوتا ہے کہ کسی منجھے ہوئے نے قلم اُٹھایا ہے۔
    بہت خُوبصورتی اور ماہری سے یہ پیغام آپ نے سب تک پہنچایا کہ انسان جتنا بھی مایوسیوں کے بادلوں میں گِھرا رہے there is always a silver lining.

    آپ نے اس مُقابلے کے لیے کچھ لکھا، بہت اچھا لگا۔
    لکھتی رہیں۔ خوش رہیں۔

    [SIGPIC][/SIGPIC]

  9. #24
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    پی ایم سے موصول ہونے والی ایک اور تحریر جو شاید کسی کی پہلی نثری کوشش ہے۔ نام خُفیہ رکھنے کا کہا گیا ہے۔ لیکن آپ کے حوصلہ افزاء کمنٹس ایسے ہی چُھپے ہوئے لکھاریوں کو منظرِ عام پر لا سکتے ہیں۔
    شُکریہ
    وش




    انمول یادیں



    یادیں میری بھی تنہائی کا ایک حصہ سی ہیں۔۔جب زندگی کی تیز رفتار دنیا سے گھبرا کر میں بھاگنے کی کوشش کرتی ہوں تو یہ یادیں ہی مجھے اپنی بانہوں میں سمیٹ لیتی ہیں ۔۔پیار سے میرے بال سہلاتی ہیں ۔۔۔ایک شوخ مسکراہٹ مجھے دے جاتی ہیں بلکہ کبھی کبھی اتنا بھر پور قہقہہ دیتی ہیں کہ مجھے خود ہوش نہیں رہتا۔۔۔اور میں زور سے ہنس دیتی ہوں پھر آس پاس دیکھتی ہوں کہ کوئی مجھے دیکھ تو نہیں رہا پھر دوبارہ ہنس دیتی ہوں۔۔۔اور کبھی ایسی تلخ یاد دلا دیتی ہیں کہ آنسو بن بولے کہے نکل جاتے ہیں۔۔۔خود پہ اختیار ہی نہیں رہتا۔۔
    یادیں۔۔۔۔زندگی کا ایک انمول تحفہ۔۔جیسے اس کے بغیر زندگی نا مکمل سی ہے۔۔۔کبھی ہونٹوں پر مسکراہٹ کی صورت میں نظر آتی ہے تو کبھی آنکھوں میں آنسو کی صورت میں۔۔۔کبھی اتنی تلخ کہ یاد کرنے کو دل ہی نا چاہے اور کبھی اتنی میٹھی کے زندگی کے آخری لمحات میں بھی سکون فراہم کریں۔۔۔۔

    سچ تو یہی ہے کہ یہ دوست ساتھ چھوڑ جاتے ہیں گھر بار۔۔۔دھن دولت سب کچھ ساتھ چھوڑ جاتے ہیں بس یہ انمول یادیں آپکے ساتھ رہتی ہیں ۔۔۔ہمیشہ آپکی زندگی کی ساتھی۔۔۔۔


    [SIGPIC][/SIGPIC]

  10. #25
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    Quote Originally Posted by Fozan View Post
    یادیں
    وش آپکی ہمت کی داد دینی پڑتی ہے۔ ایک مقابلہ ابھی پوری طرح سے سمٹا نہیں اور آپ ایک نئے کام کا بیڑہ اٹھائے حاضر۔۔۔۔اللہ آپکو کامیابیاں دے، آمین۔

    بہت اچھے اسلوب میں آپ نے یادوں کو بیان کیا اور نئے لکھنے والوں کیلئے پیچیدہ کی بجائے ایک عام فہم تحریر پیش کی۔ بہت خوب!


    بہت شُکریہ فوزان سس۔
    افسانوی مقابلے میں مجھے محسوس ہوا کہ فورم پر کچھ ایسے لوگوں کا گروپ بھی ہے جو لکھنا چاہتا ہے۔ یا لکھ سکتا ہے۔ لیکن پہلی کوشش کے لیے افسانہ ایک بہت بڑی چیز ہے۔ پہلے صرف سوچ کو لفظوں میں ڈھالنے کی پریکٹس کی ضرورت ہے۔ اُس کے لیے یہ مُقابلہ شروع کر لیا۔ کہ وہ تو اب ختم ہو گیا تو فارغ کیوں بیٹھنا۔ دیکھیں نا اسی طرح باقیوں کے ساتھ ساتھ ہماری تحریروں میں بھی ایک ایک تحریر کا اضافہ ہو گیا۔ اور کئیوں کی تحریر وجود میں آ گئی۔ آج دوسرے دن ہی میں اس تھریڈ کی بدولت دو نئے مصنف ڈھونڈ پائی۔
    ان شاء آگے مزید کا بھی امکان ہے۔ کوشش سب کو ہی کرنی چاہیے۔ کوئی کام تب تک ہی مُشکل ہوتا ہے جب تک اس کے لیے کوشش نہ کی جائے اور بیٹھ کر سوچا جائے کہ ہائے یہ کام تو بڑا مشکل ہے۔
    اور میں اس مقابلے میں بھی تمام افسانہ گروپ کے تعاون کی اُمید رکھتی ہوں۔ کہ آگے بڑھیں اور ون اُردو سے ٹیلنٹ ہو ہنٹ کریں۔


    شُکریہ



    [SIGPIC][/SIGPIC]

  11. #26
    Senior Member

    Join Date
    May 2009
    Posts
    17,348
    Blog Entries
    4
    Mentioned
    4 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    بلا عنوان


    عجیب ہونقوں کی طرح بغیر کچھ سوچے سمجھے میں آگے ہی آگے بڑھا جا رہا تھا کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں کہاں نکل آیا ہوں۔ گلیاں اور سڑکیں تو اپنی ہی جیسی ہیں مٹی کی خوشبو بھی بالکل اپنے دیس کی ہی ہے۔ مگر لوگ! لوگوں کی کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی بہت پرائے پرائے لگ رہے تھے۔

    میں کسی سے بھی بات کیے بغیر آگئے بڑھتا جا رہا تھا کہ اچانک ایک موڑپر لوگوں کا جم غفیر دیکھا۔ ایک شخص تھا عجیب سی وضع اختیار کیے ہوئے لوگوں کی طرف حقارت کی نظر سے دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں اور چہرے سے نفرت نظر آ رہی تھی اس کے الفاظ مجھ سمجھ نہیں آ رہے تھے مگر وہ شاید کسی کو ختم کر دینے کی بات کر رہا تھا اچانک میرا سر مڑا تو کیا دیکھتا ہوں کہ تمام لوگوں کے ہونٹ مقفل ہیں اور وہ بالکل مشینی انداز میں سر کو ہلائے جا رہے ہیں۔

    میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہوئے پکارنے لگا،" میں جاننا چاہتا ہوں، میں جاننا چاہتا ہوں۔" وہ سب لوگ اٹھ کر مجھ پر ٹوٹ پڑے مجھے مارتے ہوئے میری طرف منہ کر کے الگ الگ بولیاں بولنے لگے کوئی کہہ رہا تھا۔"ارے۔ یہ تو بدتمیز ہے۔""یہ بد اخلاق شخص ہے۔" اسے پتہ ہی نہیں اس شہر میں لوگ سوال نہیں کرتے' اس کی جرات کیسے ہوئی سوال کرنے کی اور وہ بھی اتنے بڑے شخص سے' اس کو ہر لفظ کے ساتھ لپٹی خوشبو محسوس نہیں ہوتی یقیناً یہ خارجی، منافق یا منکر ہے اسے نکال دو اسے کوڑے مارو۔

    میں اپنے زخموں کو سہلاتا حیرت سے سب کو دیکھے جا رہا تھا۔ اور یہ سوچ بار بار میرے زہن میں آ رہی تھی کہ میں نے غلط کیا کہا۔ اس شہر میں سوال پوچھنا جرم کیوں ہو گیا۔

    کیا اس شہر کے لوگ علم سے بیزار ہوں گے ہیں کہ وہ سوال ہی نہیں پوچھتے۔اور کیا وعدہ کے ایفاء کا وقت قریب آ گیا ہے اور علم اٹھایا جا رہا ہے۔

  12. #27
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    Quote Originally Posted by IhsanSehar View Post
    بلا عنوان



    "ارے۔ یہ تو بدتمیز ہے۔""یہ بد اخلاق شخص ہے۔" اسے پتہ ہی نہیں اس شہر میں لوگ سوال نہیں کرتے' اس کی جرات کیسے ہوئی سوال کرنے کی اور وہ بھی اتنے بڑے شخص سے' اس کو ہر لفظ کے ساتھ لپٹی خوشبو محسوس نہیں ہوتی یقیناً یہ خارجی، منافق یا منکر ہے اسے نکال دو اسے کوڑے مارو۔


    کیا اس شہر کے لوگ علم سے بیزار ہوں گے ہیں کہ وہ سوال ہی نہیں پوچھتے۔اور کیا وعدہ کے ایفاء کا وقت قریب آ گیا ہے اور علم اٹھایا جا رہا ہے۔


    زبردست جی۔ بہت ہی خُوب۔ ایک کہانی کے سے انداز میں کتنی بڑی سوچ دے دی کہ آض کل کیا عالم ہے معاشرے کا۔ لوگوں کا۔ خود شناسی کہنے کو تو بہت ہے لیکن ہونے کو بس جی حُضوری تک۔
    بہت اچھا لکھتے ہیں آپ۔ کیا آپ لکھتے رہتے ہیں؟



    [SIGPIC][/SIGPIC]

  13. #28
    Senior Member

    Join Date
    May 2009
    Posts
    17,348
    Blog Entries
    4
    Mentioned
    4 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    Quote Originally Posted by Wish View Post
    زبردست جی۔ بہت ہی خُوب۔ ایک کہانی کے سے انداز میں کتنی بڑی سوچ دے دی کہ آض کل کیا عالم ہے معاشرے کا۔ لوگوں کا۔ خود شناسی کہنے کو تو بہت ہے لیکن ہونے کو بس جی حُضوری تک۔
    بہت اچھا لکھتے ہیں آپ۔ کیا آپ لکھتے رہتے ہیں؟



    تحریر پسند کرنے کا بہت شکریہ۔

    انشااللہ کوشش جاری رکھوں گا۔

    خودشناسی بہت بڑا لفظ ہے۔ اور خدا شناسی سب سے بڑا۔ مگر میں نے کہیں پڑھا تھا کہ خدا شناس ہونے کے لیے خود شناس ہونا ضروری ہے۔کو شش جاری ہے اور اللہ سے مدد کی دعا بھی۔

    اپنے من میں ڈوپ کر پاء جا سراغ زندگی
    تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

  14. #29
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    Quote Originally Posted by IhsanSehar View Post
    تحریر پسند کرنے کا بہت شکریہ۔

    انشااللہ کوشش جاری رکھوں گا۔

    خودشناسی بہت بڑا لفظ ہے۔ اور خدا شناسی سب سے بڑا۔ مگر میں نے کہیں پڑھا تھا کہ خدا شناس ہونے کے لیے خود شناس ہونا ضروری ہے۔کو شش جاری ہے اور اللہ سے مدد کی دعا بھی۔

    اپنے من میں ڈوپ کر پاء جا سراغ زندگی
    تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

    کوشش تو جاری رکھیں جناب۔ آپ کی تحریر کا تقاضا ہے کہ لکھتے رہیں۔
    لیکن کیا یہ پہلی کوشش ہے؟


    [SIGPIC][/SIGPIC]

  15. #30
    Senior Member

    Join Date
    May 2009
    Posts
    17,348
    Blog Entries
    4
    Mentioned
    4 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: نثری تحریروں کا مُقابلہ

    نہیں میرے خیال میں دو ایک تحریریں تھریڈ میں لکھی تھیں شاید آپ کی نظر سے گزری ہوں۔

Page 2 of 6 FirstFirst 1234 ... LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •