Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Page 6 of 6 FirstFirst ... 456
Results 76 to 85 of 85

Thread: "اُمید نو-2010" ناولٹ ۔۔

  1. #76
    Senior Member

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    10,284
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: "اُمید نو-2010" ناولٹ ۔۔

    شہروز نے گلابو کو اپنے پیچھے گھوڑے پر بٹھایا اور گھوڑے کو ایڑھ لگادی ۔ گلابو کوسکھوں کےچنگل سے چھڑانے میں جتنی دیر لگی اتنی دیر گھوڑے کو سستانے کا موقعہ مل گیا ۔جب شہروز نے اسے ایڑھ لگائی تو وہ تازہ دم ہوکر دوڑ پڑا۔
    شہروز کی کوشش تھی کہ وہ پاکستان کو جانے والے کسی قافلے میں شامل ہوجائے ۔مگر ابھی تک اسے کوئی ایسا قافلہ نہیں ملاتھا ۔پہلے تو وہ اکیلا تھا اور ہر قسم کی صورت حال کا سامنا کر سکتا تھا مگر اب اسے ایک حسین اور جوان لڑکی کی ذمہ داری بھی نبھانی پڑ گئی تھی۔مگر اسے یہ ذمہ داری کوئی بوجھ نہیں لگی تھی۔گلابو اپنے نام کی طرح حسین تھی ۔اور وہ پہلی ہی نظر میں شہروز کے دل میں اتر گئی تھی۔وہ زندگی میں پہلی بار گھوڑے پر سوار ہوئی تھی اسی لیے وہ ڈر کے مارے شہروز سے چمٹی ہوئی تھی۔اور دونوں ہاتھوں سے اس کی کمر کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔اور یہ سب کچھ شہروز کو اچھا لگ رہا تھا۔
    ۔شہروز ابھی تک اندازے سے سفر کررہا تھا اسے یہ پتا نہیں تھا کہ کس سمت یا کس راستے سے وہ پاکستان میں داخل ہوسکتا ہے ۔وہ بس کسی قافلے کی تلاش میں تھا کیونکہ کوئی قافلہ ہی اسے منزل مقصود تک پہنچا سکتا تھا ۔ایک تو وہ قافلے میں کچھ محفوظ ہوجاتے دوسرا ان کے بھٹکنے کا خدشہ نہیں رہتا ۔
    ایک جگہ اچانک وہ کچھ بلوائیوں کے سامنے آگئے۔اور وہ انہیں دیکھتے ہی کرپانی لہراتے اور للکارے مارتے ہوئے ان کی طرف بھاگے۔تو شہروز نے گھوڑے کو جنگل کےاندر کی طرف دوڑا دیا ۔بلوائیون سے بچنے کے لیے جنگل ہی ان کے لیے محفوظ پناہ گاہ تھی اس لیے وہ گھوڑے کو جنگل کے اندر ہی اندر سرپٹ دوڑاتا گیا ۔اور اس طرح وہ سمتوں کا دھیان نہیں رکھ سکا ۔جب اسے یقین ہوگیا کہ وہ بلوائیوں سے بچ کر آگئے ہیں تو تب اسے احساس ہوا کہ وہ اپنی سمت کھو چکے ہیں ۔مگر شہروز نے پریشانی کو خود پر سوار نہیں ہونے دیا اور اندازے سے ایک سمت گھوڑے کو ڈال دیا ۔جنگل بہت گھنا تھا ۔کہیں کہیں کہیں تو درختوں کی شاخیں اس طرح آپس میں ملی ہوئی تھیں کہ سورج کی روشنی بھی زمین پر نہیں پڑ رہی تھی۔
    اندازے سے انہیں تین گھنٹے ہوگئے تھے مگر ابھی تک جنگل کا سرا نہیں آیا تھا گھوڑا بھی تھک چکا تھا اور اب آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔شہروز کو بھی اس بات کا احساس تھا اس لیے اس نے گھوڑے کو ایڑھ نہیں لگائی۔
    ”گلابو! ہم جنگل میں راستہ بھٹک چکے ہیں۔‘‘شہروز نے اسے آگاہ کیا۔
    ”اب کیا ہوگا۔‘‘گلابو نے پریشانی سے پوچھا۔
    ”اب وہی ہوگا جو منظور خدا ہوگا۔‘‘شہروز نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔
    ”اب رات ہونے والی ہے۔میں کوئی ایسی جگہ تلاش کر رہا ہوں جہاں رات گزاری جاسکے۔‘‘دوپہر سے ہم اس جنگل میں سفر کر رہے ہیں ابھی تک کسی خونخوار جنگلی جانور سے سامنا نہیں ہوا۔تو اس کا مطلب ہے ۔یہ جنگل ان جانوروں سے پاک ہے تو اس طرح ہمیں اس جنگل میں کسی جانور کی طرف سے تو کوئی خدشہ نہیں ہے۔‘‘شہروز نے اسے بتایا۔
    ”ہاں اس جنگل میں درندے نہیں ہیں۔مجھے پتا ہے۔‘‘گلابو نے جواب دیا۔
    ”اچھا آپ کو کیسے پتہ ہے۔‘‘شہزور نے حیرت سے پوچھا۔
    ”آپ بھول رہے ہیں کہ میری بستی اس جنگل کے کنارے ہی ہے۔‘‘گلابو نے کہا۔
    ”ارے ہاں واقعی یہ بات تو میں بھول ہی گیا تھا۔‘‘
    ”اس جنگل میں درندے تو نہیں مگر زہریلے سانپ بہت ہیں ۔تو پھر ہم رات کس طرح گزاریں گے زمیں پر تو لیٹ یا بیٹھ نہیں سکتے۔کہ کہیں کوئی سانپ یا زہریلا کیڑا نا کاٹ لے۔‘‘گلابو نے ایک اور خدشہ بیان کیا تو شہروز بھی سوچنے پر مجبور ہوگیا۔
    آخر کار شہروز نے رات گزارنے کے لیے ایک جگہ تلاش کر لی۔چوڑے پتوں والے دو درختوں کی شاخیں آپس میں اس طرح ملی ہوئی تھیں کہ ان کے ملاپ سے ایک قدرتی مچان بن گئی تھی۔شہروز نے اس قدرتی مچان کے ساتھ کچھ اپنی کاروائی سے اسے شب بسری کے لیے ایک محفوظ ٹھکانہ بنا لیا گھوڑے کو ایک درخت کے ساتھ باندھ کر شہروز نے درختوں سے کافی سارے پتے توڑ کر اس کے آگے ڈال دیئے جنہیں گھوڑا بڑی رغبت سے کھانے لگا۔
    شہروز نے ،گلابو کو سہارا دے کا درخت پڑھایا اور وہ آسانی سے مچان تک پہنچ گئی۔

  2. #77
    Senior Member

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    10,284
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: "اُمید نو-2010" ناولٹ ۔۔

    شہروز نے گھوڑے کی زین کے ساتھ بندھا ہوا ۔بیگ اتار کر مچان میں لے گیا ۔گھر سے نکلتے وقت اس نے کھانے پینے کی کچھ چیزیں بیگ میں ڈال لیں ۔جن میں ایک اچار کا ڈبہ،چار روٹیاں اور پانی کی بوتل تھی۔
    کھانا بیگ کے اوپر ہی رکھ کر اس نے گلابو کو کھانے کی دعوت دی۔گلابو نے کھانا کھانے سے انکار کردیا۔
    ”میرا دل نہیں چاہ رہا کھانے کو۔‘‘
    ”دل تو میرا بھی نہی چاہ رہا مگر زندہ رہنے کے لیے کھانا ضروری ہے۔‘‘شہروز نے کہا
    ”چلو شاباش کھانا کھاؤ۔ہم نے بہت لمبا سفر کرنا ہے ۔کوئی پتہ نہیں آگے کیسے حالات پیش آئیں ،کتنے دن بھوکا پیاسا رہنا پڑے۔‘‘
    شہروز کے پر اصرار پر اس نے کھانے کی طرف ہاتھ بڑھا دیا۔
    کھانا کھانے کے بعد شہروز نے پوری مچان گلابو کے حوالے کردی تاکہ وہ سکون سے سو سکے۔جبکہ وہ خود ایک دو شاخہ موٹی سی ٹہنی پر پاؤں لٹکا کر تنے سے ٹیک لگالی۔
    سورج غروب ہوتے ہی جنگل میں گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا گیا تھا ۔اگست کے آخری دن تھے۔ہوا نہ ہونے کی وجہ سے بے پناہ حبس تھا۔پسینہ شہروز کے جسم پر دھاریوں کی طرح بہہ رہا تھا قمیص بھیگ کر جسم سے چپک گئی تھی ۔تھوڑی ہی دیر بعد جنگلی مچھر ان کا مزاج پوچھنے لگے۔مگر ان کے پاس مچھروں سے بچاؤ کا کوئی علاج نہ تھا۔بس وہ کاٹے جانے والی جگہ کو کھجا سکتے تھے۔اور اس کام میں شہروز تندہی سے لگا ہوا تھا۔
    مچان میں لیٹی گلابو اپنی بستی پر گزر جانے والی قیامت کو یاد کررہی تھی۔کہ
    آج بھی ہر صبح کی طرح بستی میں زندگی بیدار ہوئی تھی کسی کو اس بات کی خبر نہیں تھی کہ آج اس بستی میں کیا قیامت ٹوٹنے والی ہے۔وہ اپنے گھر میں دوپہر کے کھانے کے لیے سبزی کاٹ رہی تھی اس کی اماں آٹا گوندھ رہی تھی جبکہ اس کا ابا چارپائی پر لیٹا اماں سے باتیں کررہا تھا۔کہ اچانک بستی میں شور بلند ہوا ۔اور للکاروں کی آواز سنائی دی۔اس کے ابا فورًا چارپائی سے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ان کا چہرہ دھواں دھواں ہورہا تھا۔وہ ان کی اماں سے مخاطب ہوتے ہوئے بولے۔
    ”گلابو! کی ماں لگتا ہے سکھوں نے بستی پر حملہ کردیا ہے۔یہ للکار نے کی آواز سکھوں کی لگ رہی ہے۔‘‘
    ”ہائے اللہ!۔‘‘ اس کی اماں نے دل تھام لیا۔
    ”گلابو کی اماں جلدی کرو گلابو کو کہیں چھپا دو۔‘‘اس کے ابا نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔
    دونوں میاں،بیوی اپنی جوان بیٹی کو چھپانے کے لیے گھر میں جگہ ڈھونڈنے لگے ۔مگر انہیں کوئی ایسی جگہ نظر نہیں آرہی تھی۔جہان وہ اپنی بیٹی کو چھپا سکیں۔مگر دو مختصر کمروں پر مشتعمل گھر میں چھپنے کی جگہ ہی کہاں تھی۔آخر کا اس کے ابو کی نظر صحن کے ایک کونے میں بنے روٹیاں پکانے والے تنور پر ۔اس نے لرزتی کانپتی گلابو کا بازو پکڑا اور اسے تنور میں گھیسڑ دیا۔اور سخت تاکید کی کہ چاہے گھر میں جیسے بھی حالات ہوں وہ تنور سے نہ نکلے اور نہ ہی اس کے منہ سے آواز نکلے۔اس کے ابو نے تنور کی راکھ نکالنے والے سوراخ میں اینٹ پھنسا دی تاکہ کسی کی اگر تنور پر نظر بھی پڑے تو سوراخ سے گلابو نظر نہ آسکے۔
    پوری بستی سے انسانی چیخوں اور سکھوں کے وحشیانہ قہقہوں کی آوازیں آرہی تھیں۔گلابو کا دل بڑی زور سے دھک دھک کر رہا تھا جبکہ خوف کے مارے اس کے پورے جسم پر لرزا طاری تھا۔
    تھوڑی دیر بعد ہی ان کے صحن کا دروازہ دھڑ دھڑایا جانے لگا۔کمزور دروازہ بھلا ان وحشیوں کی کب تک تاب لاتا ۔تین چار ٹھوکروں میں ہی زمین پر آرہا ۔اور دو سکھ للکارے مارتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔
    تنور کے سوراخ کا رخ کمروں کی طرف تھا ۔سوراخ میں اینٹ ہونے کے باوجود چھوٹی چھوٹی درزیں تھی جن میں سے ایک درز میں گلابو آنکھ لگا کر وہ سارا لرزا خیز منظر دیکھتی رہی۔جب ایک سکھ نے اپنی کرپان اس کے باپ کے پیٹ میں گھیسڑی تو وہ اپنی چیخ کو روکنے کے لیے اپنے منہ کو دونوں ہاتھوں سے دبا لیا۔دیکھتے ہی دیکھتے اس کے ماں باپ اپنی ہی خون میں لت پت ہوکر زمین پر گر گئے۔دونوں سکھ لوٹ مار میں لگ گئے۔ان غریبوں کے گھر میں تھا ہی کیا ۔سارا گھر چھاننے کے باوجود وہ خالی ہاتھ مایوسانہ انداز میں بازو جھٹکتے ہوئے وہاں سے جانے لگے۔
    ان میں سے ایک نے اچانک تنور کا رخ کر لیا۔جبکہ اس کے دوسرے ساتھی منع بھی کیا کہ خالی تنور میں وہ کیا دیکھنے جا رہا ہے مگر اس نے اپنے ساتھی کی بات پر کان نہیں دھرے اور تنور کے پاس پہنچ گیا ۔جب اس نے تنور میں جھانکا تو اس کی حیرت بھری چیخ نکل گئی۔اس نے اپنے ساتھی کو آواز دی۔
    ”اوئے بلبیرے آ۔ ایدر آکے ویکھ اوئے خزانہ تے ایتھے چھپا ائے۔‘‘
    بلبیرے بھاگ کر آگیا ۔دونوں نے اسے تنور سے نکال لیا ۔گلابو ان دونوں وحشیوں کے بیچ پھڑ پھڑا کر رہ گئی تھی۔دونوں نے اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیا کہ اسے جنگل میں لے جا کر موج میلہ کرتے ہیں تاکہ کوئی مداخلت کرنے والا نہ ہو۔اور پھر وہ اسے گھسیٹتے ہوئے جنگل میں لے آئے ۔اگر عین وقت پر شہروز نہ آتا تو اس کے ساتھ کیا ہوتا۔گلابو اس تصور سے ہی لرز گئی۔
    وہ اپنے ماں باپ کو یاد کرکے بے آواز رو رہی تھی۔وہ اچانک اس بھری دنیا میں اکیلی رہ گئی تھی۔وہ شہروز کے بارے میں نہیں جانتی تھی کہ وہ کون ہے ۔کہاں سے آیا ہے۔شکل و صورت سے وہ خاندانی اور شریف لگتا تھا ۔شہروز نے اس کی عزت اور زندگی بچا کر اس پر بہت بڑا احسان کیا تھا ۔مگر وہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔وہ یہ تو بھانپ گئی تھی کہ وہ شہروز کو پسند آگئی ہے تو کیا شہروز اسے ہمیشہ کے لیے اپنا لے گا ۔اسے مستقبل کی فکر ستا رہی تھی اور ماں باپ کا غم بھی کھائے جارہا تھا بے اختیاری میں اس کے رونے کی آواز تھوڑی بلند ہوگئی۔
    شہروز بھی درخت کے تنے سے ٹیک لگائے اپنے گھروالوں پر گزری قیامت کو یاد کررہا تھا۔اس کی آنکھوں دیکھا منظر ابھی تک نہیں بھولا تھا۔اپنے پیاروں کی کٹی پھٹی لاشیں دیکھنا کوئی آسان نہیں تھا مگر اس نے یہ سب دیکھا اور انہیں اپنے ہاتھوں گڑھا کھود کر دفنایا تھا۔اور اب وہ اس بھری دنیا میں اکیلا تھا۔سترہ سال کی عمر ہی کیا ہوتی ہے ۔ایہ عمر تو صرف کھیل کود میں گزرتی ہے یا زیادہ سے زیادہ فکر صرف پڑھائی کی ہوتی ہے۔جبکہ اس عمر میں وہ اکیلا رہ گیا تھا۔اسے اب خود ہی اپنی آئندہ زندگی کے بارے میں سوچنا تھا ۔نہیں ،بلکہ اب گلابو بھی اس کی ذمہ داری تھی۔وہ بھی تو اس کی طرح اکیلی رہ گئی تھی۔دونون کا غم مشترکہ تھا ۔اور اب دونون ہی ایک دوسرے کا سہارا تھے۔کیا وہ زندگی بھر کے لیے ایک دوسرے کا سہارا بن سکتے ہیں۔اس نے دل میں سوچا ۔وہ خود تو زندگی بھر کے لیے گلابو کا سہارا بننے کے لیے دل وجان سے تیار تھا ۔تو کیا گلابو اس کا سہارا قبول کرے گی۔۔ وہ انہیں خیالوں میں کھویا ہوا تھا کہ اس کے کانوں میں رونے کی ہلکی ہلکی آواز آئی۔اس نے چونک کر اندھیرے میں مچان کو دیکھنے کی ناکام کوشش کی۔گلابو ابھی تک نہیں سوئی تھی اور شاید وہ اپنے ماں باپ کو یاد کر کے رو رہی تھی۔شہروز کا دل بھر آیا۔اور وہ اس کے رونے پر تڑپ اٹھا۔گلابو کو اس وقت دلاسے کی ضرورت تھی۔وہ احتیاط سے ٹہنی پر سرکتا ہوا مچان میں پہنچ گیا۔
    ”گلابو! کیوں رو رہی ہو، کیا ماں باپ یاد آرہے ہیں۔‘‘شہروز نے نرم لہجے میں پوچھا۔
    شہروز کی آواز پر وہ چونک کر اٹھ بیٹھی۔مگر کچھ بولی نہیں ۔
    ”گلابو! مجھے پتہ ہے کہ تجھے اپنے ماں باپ کی یاد آرہی ہوگی ۔واقعی تیرا غم بہت بڑاہے ۔لیکن گلابو میں نے بھی تو اپنے ہاتھوں سے اپنے پیاروں کی لاشیں دفنائی ہیں۔ہم دونوں کا غم مشترکہ ہے۔ جو اللہ کو منظور تھا وہ ہوگیا۔اب رونے سے کیا ہوگا۔بہتر ہے کہ رونے کے بجائےاپنے پیاروں کےلیے مغفرت کی دعا کرنی چاہیے۔
    گلابو! ہم دونوں اب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔دونوں ہی اس بھری دنیا میں بے سہارا ہوگئے ہیں۔اب ہم ایک دوسرے کا ہی سہارا ہیں اگر تم چاہو تو میں ہنسی خوشی زندگی بھر کا ساتھی بننے کو تیار ہوں۔اگر چاہو تو میرا ہاتھ تھام لو اگر میرا ساتھ نہیں چاہتی تو پھر بھی میں آپ کا سہارا بنا رہوں گا آپ کو تنہا نہیں چھوڑوں آپ کی بہتری کے لیے مجھ سے جو کچھ بن پڑا وہ میں کروں گا۔شہروز نے یہ کہتے ہوئے اپنا ہاتھ بڑھا دیا ۔جسے گلابو نے بلاججھک تھام لیا ،اور بولی۔
    ”میری یہ زندگی آپ کی ہی مرہون منت ہے۔میری زندگی اور عزت آپ نے ہی بچائی ہے۔اس لیے مجھ پر پہلا حق آپ کا ہی بنتا ہے ۔میں خوشی سے آپ کی زندگی بھر کی ساتھی بننے کو تیار ہوں۔
    گلابو کے جواب نے شہروز کو سرشار کردیا۔اور وہ بولا۔
    ”گلابو! آج سے آپ کی ساری تکلیفیں میں نے اپنے سر لے لیں ہیں۔بس اب تم ہر قسم کی فکروں کو جھٹک دو۔میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ زندگی بھر آپ کو کوئی تکلیف نہیں ہونے دوں گا۔‘‘
    ”مجھے آپ پر اعتماد ہے۔‘‘گلابو نے کہا۔
    ”تو بس پھر اب بے فکر ہوکر سوجاؤں ۔کل ہمیں بہت سفر کر نا ہے۔‘‘شہروز نے پیار سے کہا۔گلابو اس کے حکم پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے لیٹ گئی اور وہ اپنی مخصوص جگہ آکر بیٹھ گیا۔آدھی رات کے وقت ہوا چلنے لگی جس کی وجہ سے مچھروں سے نجات ملی ۔شہروز بیٹھے بیٹھے نیند کی آغوش میں چلا گیا۔صبح پرندوں کے شور سے اس کی آنکھ کھلی ۔اس نے مچان کی طرف دیکھا ۔گلابو مچان میں بیٹھی اڑتے ہوئے رنگ پرنگے پرندوں کو دیکھ رہی تھی۔
    دونوں نے بچے ہوئے کھانے سے ناشتہ کیا اور نیچے اتر آئے ۔
    جیسے ہی دونوں نیچے اترے تو ششدر رہ گئے۔

  3. #78
    Senior Member

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    10,284
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: "اُمید نو-2010" ناولٹ ۔۔

    رات کو کسی زہریلے سانپ کے ڈسنے سے گھوڑا مر گیا تھا۔دونوں کافی دیر مردہ گھوڑے کے پاس افسردہ بیٹھے رہے۔انہیں ایک لمبا سفر درپیش تھا ۔انہیں تو یہ بھی پتا نہیں تھا کہ یہاں سے پاکستان کی سرحد کتنی دورہے ۔انہیں وہاں تک پہنچنے میں کتنے دن لگیں گے۔گھوڑے کے مرنے کی وجہ سے اب انہیں پیدل سفر کرنا تھا۔تھوڑی دیر بعد شہروز اٹھ کھڑا ہوا ۔
    ”اٹھو گلابو! چلیں۔ہمیں بہت سفر کرنا ہے۔‘‘
    گلابو اٹھ کھڑی ہوئی اور شہروز کے پیچھے قدم بڑھا دیئے۔
    شہروز اندازے سے ایک سمت میں چل پڑا۔مگر چلتے چلتے دن کے دو بج گئے تھے جنگل کا کنارا نہیں آیا تھا۔دونوں تھکن سے چور ہوگئے تھے۔اب بھوک بھی ستانے لگی تھی۔شہروز تو اپنی بھوک اور تھکن پہ قابو پائے ہوئے تھا ۔لیکن اسے احساس تھا کہ نازک اندام گلابو ۔یقینًا بہت تھک چکی ہے اور اسے بھوک بھی شدید لگ رہی ہوگی۔لیکن وہ گلابو سے اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا تھا وہ جانتا تھا کہ اگر اس نے گلابو سے پوچھا تو پھر وہ ایک قدم بھی اٹھا نہیں پائے گی۔جبکہ شہروز کی کوشش تھی کہ شام ہونے سے پہلے پہلے وہ جنگل سے نکل جائیں۔مگر وہ جس بات سے ڈرہا تھا وہ ہوکر رہی۔
    گلابو نے اس سے کہا کہ بھوک اور تھکن سے اب اس سے چلا نہیں جارہا یہ کہہ کر وہ ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئی اور تنے سے ٹیک لگا کر آنکھیں موندھ لیں۔
    ”گلابو! ہمت کرو ہمیں شام ہونے سے پہلے اس جنگل سے نکلنا ہے۔جب ہم جنگل سے نکل گئے تو کہیں نہ کہیں سے کھانے پینے کو مل جائے گا۔‘‘شہروز نے اس کی ہمت بندھائی۔
    ”مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے۔‘‘گلابو نے بھوک سےبلبلاتے ہوئے کہا۔
    ”اچھا ٹھیک ہے تم یہاں بیٹھو میں گھوم پھر دیکھتا ہون۔شاید کوئی پھل دار درخت مل جائے۔‘‘شہروز نے کہا۔
    ”نہیں ۔مجھے اکیلے چھوڑ کر نہ جاؤ۔‘‘گلابو نے گھبرا کر شہروز کا ہاتھ پکڑ لیا۔
    ”اچھا بابا نہیں جاتا ۔‘‘شہروز نے اسے محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
    گلابو نے ان نظرون کی تاب نہ لاتے ہوئے شرم سے سرجھکا لیا۔
    ”اچھا ایسا کرتے ہیں تھوڑی دیر سستا لیتے ہیں پھر چلتے ہیں۔‘‘گلابو نے رائے دی۔
    ”ہاں یہ ٹھیک ہے۔‘‘شہروز نے اس کے ساتھ بیٹھ کر درخت سے ٹیک لگاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”اس بیگ میں کیا ہے۔‘‘گلابو نے پوچھا۔
    ”اس میں کچھ رقم ہے اور زمین کے کاغذات ہیں ۔اور کچھ سونے کے زیورات ہیں۔جو ماں نے میری بہنوں کے لیے بنائے تھے۔مگر ان کے نصیب میں نہیں تھے۔آج سے یہ سب کچھ آپ کے حوالے ۔‘‘شہروز نے بیگ گلابو کی طرف بڑھا دیا۔
    ”میں کیا کروں گی ان کا۔‘‘گلابو نے کہا۔
    ”ارے بھئی اب ہم دونوں ایک ہیں تو میری ہر چیز کی مالک توں ہی تو ہے نا۔‘‘شہروز نے اسے شوخ نظروں سے دیکھا۔اور گلابوں بری طرح جھینپ گئی۔
    ایک گھنٹا سستانے کے بعد وہ پھر چل پڑے۔سورج آہستہ آہستہ مغرب کی طرف جھکنے لگا تھا۔مگر اس کی تپش میں کمی نہیں آئی تھی۔ہوا رکی ہوئی تھی جس کی وجہ سے بے پناہ حبس تھا اور وہ دونوں پسینے میں شرابور ہورہے تھے۔
    ”شہروز! وہ دیکھیں پھل دار درخت۔‘‘گلابو نے ایک سمت میں انگلی کرتے ہوئےاسے متوجہ کیا۔شہروز نے اس کی انگلی کے تعاقب میں دیکھا ۔
    ان سے چند قدموں پر ایک درخت لال رنگ کے پھلوں سے لدا ہوا تھا۔گلابو بے صبری سے اس طرف دوڑ پڑی شہروز نے بھی اس کی تقلید کی۔
    ”ٹھہرو گلابو!یہ پھل نہ کھاؤ۔‘‘زمین پر بہت سےپھل گرے ہوئے تھے جن میں ایک پھل اٹھا کر گلابو کھانے لگی تو شہروز نے اس کا ہاتھ پکڑ کر منع کیا۔
    ”کیوں روک رہے ہو۔‘‘گلابو نے اس کے ہاتھ سے اپنی کلائی چھوڑانے کی کوشش کی۔
    ”میں نے زندگی میں ایسا پھل کبھی نہیں دیکھا۔کیاتم نے پہلے کبھی یہ پھل کھایا ہے۔‘‘شہروز نے اس سے پوچھا۔جواب میں اس نےنفی میں سر ہلادیا۔
    ”میں نے تجھے اس لیے منع کیا ہے کہ کہیں یہ پھل زہریلا نہ ہو۔‘‘شہروز نے اسے وجہ بتائی۔
    ”پھر کیسے پتہ چلے گا کہ یہ زہریلا ہے یا میٹھا۔‘‘گلابو نے مایوسی سے کہا۔
    شہروز نے کوئی جواب نہیں دیا ۔اور چاروں طرف دیکھنے لگا۔پھر وہ ایک منظر دیکھ کر چونک گیا اور مسکراتے ہوئے گلابو کو پھل کھانے کی اجازت دے دی۔اور خود بھی صاف ستھرے پھل چن چن کر کھانے لگا ۔پھل بہت رس بھرے اور تھوڑے ترش تھے۔
    گلابو حیرت سے شہروز کو پھل کھاتے ہوئے دیکھنے لگی اور بولی۔
    ”اب آپ کو کیسے پتہ چل گیا کہ یہ پھل زہریلا نہیں ہے۔‘‘
    شہروز نے مسکرا کر اسی طرح کےایک اوردرخت کی طرف اشارہ کیا ۔گلابو نے اس طرف دیکھا اس درخت پر کافی سارے بندر چڑھے پھل توڑ توڑ کر کھا رہے تھے۔گلابو نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے شہروز کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
    ”ارے بابا سیدھی سی بات ہے بندروں کو پھل کھاتے دیکھ کرمیں سمجھ گیا کہ یہ پھل زہریلے نہیں ہیں۔‘‘شہروز نے مسکراتے بتایا۔
    ”او اچھا۔یہ بات ہے۔میں تو حیران ہوگئی تھی۔کہ اچانک آپ کو کیسے پتہ چل گیا۔‘‘گلابو نے ہنستے ہوئے کہا۔
    دونوں نے پیٹ بھر پھل کھائے ۔گلابو نے کچھ پھل اپنے دوپٹے کے پلو میں باندھ لیے۔بھوک مٹانے اور تھوڑی دیر سستانے کے بعد وہ تازہ دم ہوکر چل پڑے۔اور تھوڑی دیر بعد ہی اچانک وہ ایک چھوٹی سی نہر کنارے جا نکلے۔نہر پانی سے لبریز شمال سے جنوب کی طرف بہہ رہی تھی۔ شہروز نے سکھ کا سانس لیا اب وہ اگر نہر کے ساتھ ساتھ ایک سمت چلتے جاتے تو وہ اس جنگل سے با آسانی باہر نکل جاتے۔شہروز اس سوچ میں پڑا ہوا تھا کہ کس سمت میں جائیں ۔کہ اچانک چھپاک کی آواز آئی۔ایسا لگا جیسے کوئی چیز نہر میں کودی ہو۔اس نے گھوم کر دیکھا گلابو اپنی جگہ موجودنہیں تھی۔اس کی تو جان ہی نکل گئی۔وہ زور زور سے گلابو کو آوازیں دینے لگا ۔مگر گلابونہر کے گدلے پانی میں نظر نہیں آرہی تھی۔بد حواسی میں اس نے بھی نہر میں چھلانگ لگادی ۔نہر زیادہ گہری نہیں تھی۔اور نہ اس کے پانی کابہاؤ تیز تھا۔وہ ہاتھ پاؤں چلاتے ہوئے گدلے پانی میں گلابو کو ڈھونڈنے لگا وہ اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھا تھا۔صرف دو دن کی قلیل مدت میں وہ گلابو کو اتنا چاہنے لگا ہے اسے خود اندازہ نہیں تھا۔کافی دیر کی کوشش کے بعد وہ ناکام ہوکر کنارے پر نکل آیا اور سر گھٹنوں پر رکھ کر بے اختیار رو پڑا۔وہ سوچ رہا تھا کہ شاید گلابو اپنے ماں باپ کی موت کو بھلا نہیں سکی تھی اور نہ اسے شہروز پر اعتبار تھا اس لیے اس نے خود کشی کر کے اس ظالم دنیا سے نجات حاصل کر لی تھی۔

  4. #79
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    16,873
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: "اُمید نو-2010" ناولٹ ۔۔

    زھرہ بیگم کی بات نے خان صاحب کو سوچنے پر مجبور کردیا کہ واقعی میں بھی ہوتا تو ایسا ہی کرتا پھر یہ شکوہ کرنا واقعی جائز نہیں اس وقت خان صاحب کو اپنا آپ بہت بے بس لگا عمران کو بتاتے ہوئے بھی ڈر لگ رہا تھا اسکی جوشیلی اور غصے والی فطرت کی وجہ سے اب کیا کریں ان کو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا
    اس کا ایک حل انکو یہی نظر آرہا تھا کہ رابعہ کو کچھ دنوں تک کالج نا جانے دیا جائے

    تو انہیوں نے زہرہ بیگم کو کہا کہ رابعہ کو کالج جانے سے منع کردے

    دوسری صبح جب صبح کے وقت رابعہ کو گھر کے کام کرتا دیکھ کر عمران نے پوچھا
    "بجو کیا آج چھٹی کرنے کا ارادہ ہے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر تو آج آپ مجھے جلدی سے ایک مزیدار سا ناشتہ بنا کردیں ۔۔ ۔ ۔ ۔ تاکہ میں بھی کالج کے لِئے نکل سکوں "

    یہ سنتے ہی رابعہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

    عمران گھبرا گیا
    "کیا ہو بجو کیوں رو رہی ہیں ؟"
    "نہیں کچھ نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ م بیٹھو میں ابھی لاتی ہوں تمہارے لیئے ناشتہ "
    "نہیں پہلے مجھے بتائیں بات کیا ہے "

    رابعہ حیرانی سے اپنے بھائی کو دیکھنے لگی کہ کیا وہ واقعی اتنا بے خبر ؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔"کیا تمہیں نہیں معلوم؟"

    "کیا نہیں معلوم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صاف صاف بتاتی کیوں نہیں ؟"

    رابعہ تو یہ سن کر ڈر گئی اسکو محسوس ہو گیا کہ ماں باپ نے کسی مصلحت کے تحت اس سے یہ بات چھپائی تھی اسکو اب اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا

    "بجو آپ نہیں بتائیں گی "

    رابعہ چپ رہی

    "ٹھیک ہے پھر میں امی سے جاکر پوچھتا ہوں کہ مسلہ کیا ہے"

    "امی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔امی "

    "کیا ہوا بیٹا ؟"

    "رابعہ کالج کیوں نہیں جا رہی "

    "بیٹا اسکی طبعیت ٹھیک نہیں ہے"
    "امی سچ سچ بتائیں اب مجھ سے چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں جان گیا ہوں ضرور کوئی نہ کوئی بات ضرور ہے "
    اتنے میں رابعہ بھیادھر آگئی

    اور اس نے دھیرے دھیرے ساری بات عمران کو بتا دی ۔

  5. #80
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2007
    Posts
    280
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: "اُمید نو-2010" ناولٹ ۔۔

    یہ سب کچھ اتنا اچانک ہوا تھا کہ وہ کچھ سمجھ ہی نہ پائی تھی۔ان کی ہنستی بستی منٹوں میں اجڑ گئی۔ پیارے ماں باپ اس کی آنکھوں کے سامنے قتل ہوگئے۔
    اور اب ایک اجنبی جوان جس کے بارے میں وہ کچھ بھی نہیں جانتی تھی۔اس کا رہنما بن گیا تھا ۔اور وہ اس کا زندگی بھر کا ساتھی بنے پر تیار ہوگیا تھا۔گلابو تو ابھی تک سکتے میں تھی ۔جب اس نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا تو اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ اجنبی پر بھروسہ کرلے۔تو اس نے یہیں کیا ۔بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا۔لیکن ابھی وہ گومگو کی کیفیت میں تھی۔یہ تو اسے پتہ چل گیا تھا کہ وہ اسے شدت سے چاہنے لگا ہے۔مگر پھر بھی وہ اس کی چاہت کو ،محبت کو آزمانا چاہتی تھی۔کہ وہ اس کے ساتھ کتنا مخلص ہے۔اور اسے آزمانے کا موقعہ جلد ہی میسر آگیا۔نہر پر پہنچتے ہی شہروز خیالوں میں کچھ اس طرح کھویا کہ اپنے اطراف سے غافل ہوگیا۔اور گلابو نے نہر میں چھلانگ لگادی۔
    گلابو! تیراکی جانتی تھی۔ان کی بستی کے قریب بھی ایک چھوٹی سی نہر گزرتی تھی جس پر وہ اپنی سہلیوں کے ساتھ کپڑے دھونے جاتی تھی اور سب سہلیوں گھنٹوں نہر میں تیراکی کیا کرتی تھی۔
    گلابو نے چھلانگ لگانے کے بعد گدلے پانی کے اندر ہی اندر اس جگہ سے کافی دورنکل گئی ۔اور پانی سے تھوڑا سا سر باہرنکالے شہروز کی بدحواسیاں دیکھنے لگی۔جب شہروز نے نہر میں چھلانگ مار کر اسے پانی میں تلاش کرنے لگا تو وہ آہستگی سے نہر سے باہر نکلی اورقریب کے ایک درخت کی اوٹ میں چھپ کر کھڑی ہوگئی۔
    شہروز کافی دیر اسے پانی میں ڈھونڈتا رہا اور پھر تھک ہار کر باہر نکل آیا۔اب وہ کنارے پر بیٹھا گھٹنوں پر سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر رورہا تھا اور ساتھ بولتا بھی جارہا تھا۔”گلابو!تم نے یہ کیا کیا،کیا میں واقعی برا انسان ہوں کہ تم نے مجھ پر بھروسہ نہیں کیا ۔میں تجھے بتا بھی نہیں سکا کہ میں تم سے کتنا پیار کرنےلگا ہوں۔اس بھری دنیا میں ایک تمہارا ہی سہارا ملا تھا تو میں سب غم بھلا کر خوش ہوگیا تھا کہ آپ کے ساتھ زندگی خوشی خوشی گزر جائے گی ۔مگر اب۔۔۔۔۔اب میں اکیلا کیسے جی پاؤں گا۔۔۔۔
    گلابو! کو اس کی بے پناہ محبت کا یقین آگیا تھا۔کہ وہ اسے کتنا چاہتا ہے۔یقینًا وہ شہروز کے سنگ خوشی خوشی اپنی زندگی گزار سکتی تھی۔گلابو سے رہا نہ گیا۔تو وہ آہستہ آہستہ دبے پاؤں چلتی شہروز کے پیچھے جا کھڑی ہوئی اور پیار سے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔

  6. #81
    Sisters Society

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    CA, USA
    Posts
    16,003
    Blog Entries
    2
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: "اُمید نو-2010" ناولٹ ۔۔

    عالیہ حسب معمول سہ پہر میں پچھلے لان میں دیوار کے ساتھ لگ کے کھڑی تھی- باوجود کوشش کے وہ دو تین بار سے ذیادہ آئمہ کے ساتھ کھیلنے نہیں جا سکی تھی مگر دونوں میں دوستی ہوگئی تھی- اب یہ دونوں کا روزانہ کا معمول تھا کے دیوار کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتی رہتی تھیں- کبھی کبھی سیڑھی یا کرسی رکھ کر دیوار پر چڑھ کر بھی باتیں کر لیتی تھیں-

    آج بھی دونوں باتیں کر رہی تھی اور اپنے سکول اور سہیلیوں کے قصے ایک دوسرے کو سنا رہی تھیں-"آج علی بھائی نہیں آئے" عالیہ نے ادھر ادھر نظر دوڑا کر پوچھا-
    "وہ اندر کمپیوٹر پر چیٹنگ کر رہا ہے۔" آئمہ نے لاپرواہی سے جواب دیا-

    " مگر آپ تو علی بھائی کو اس دن ڈرا رہی تھی کہ آنٹی کو پتا چل گیا تو وہ ڈانٹیں گی۔"عالیہ نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں پوری کھول کر کہا-

    آئمہ قہقہہ مار کر ہنسی،" تو وہ تو ڈانٹیں گی نا جب وہ گھر آئیں گی، اور جب میں انکو بتاؤں گی۔ ابھی تو علی بھائی سمجھ رہے ہیں کہ مجھے کچھ پتا ہی نہیں- اب اتنی بھی بچی نہیں ہوں۔"

    "آپ نا بتانا پلیز، علی بھائی کو ڈانٹ پڑے گی۔" عالیہ کو افسوس ہوا۔

    "کیوں نا بتاؤں، علی بھائی نے بھی تو میری شکایت لگائی تھی جب میں نے فون کیا تھا اپنی دوست کو۔" آئمہ نے عالیہ کو گھورا-

    "بھائی ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔" عالیہ نے معصومیت سے کہا، "میرا بھائی ہوتا تو میں تو نا بتاتی۔"

    "ارے تو تم لے لو علی بھائی کو، تمھارا بھی تو بھائی ہے۔" آئمہ نے فراخدلی کا مظاہرہ کیا-

    "سچ!" عالیہ کی آنکھوں میں چمک آ گئی-

    "سچ" آئمہ نے جواب دیا، "مگر تم اسے دودنوں میں واپس کر دو گی۔"

    عالیہ نے اسکی بات نا سنی نا سمجھی بلکہ سوچ کر کہنے لگی "بابا تو نہیں لینے دیں گے۔"

    آئمہ نے ناسمجھی میں اسکی طرف دیکھ کر کندھے اچکا دیے-

    ایک تیز ہوا کا جھونکا آیا تو اپنے ساتھ گرد کا بھی ریلا لایا-

    آئمہ کو ایک دم کھانسی آئی اور پھر بڑھتی ہی چلی گئی۔۔۔۔۔-





    The most common way people give up their power


    is by thinking they don't have any.


    ~ Alice Walker ~


    Courage is like a muscle.


    We strengthen it with use.


    ~ Ruth Gordon ~

  7. #82
    Sisters Society

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    CA, USA
    Posts
    16,003
    Blog Entries
    2
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: "اُمید نو-2010" ناولٹ ۔۔

    جب آئمہ کی کھانسی بڑھتی چلی گئی تو عالیہ پریشان ہوگئی-

    آئمہ دیوار کے دوسری طرف گھاس پر گری ہوئی کھانسی سے بے حال ہو رہی تھی-

    عالیہ نے جب آئمہ کا یہ حال دیکھا تو اپنی امی کو آوازیں دینے لگی،"ماما، ماما، جلدی آئیں آئمہ آپی کو کچھ ہو گیا ہے۔"

    اندر سے سعدیہ دوڑی ہوئی آئیں اور دیوار پر چڑھ کر دوسری طرف دیکھنے لگیں-

    آئمہ کے ہونٹ نیلے ہو چکے تھے-

    عائشہ سےچند ایک ملاقات میں سعدیہ کو پتا چلاتھا کہ آئمہ کو سانس کی تکلیف ہے اور وہ انحیلر استعمال کرتی ہے-

    سعدیہ کو کچھ سمجھ نا آیا تو اس نے ٹیرس پر کھڑی نگہت کو آواز دی جو شور سن کر باہر نکل آئی تھی-

    تھوڑی دیر بعد دونوں عثمان چودھری کے گیٹ سے اندر داخل ہونے کو کوشش کر رہی تھیں، مگر گیٹ اندر سے بند تھا اور کانوں پر ہیڈ فون چڑھائے علی تک آواز نہیں جا رہی تھی-

    ایسے میں عالیہ نے ماں کا ہاتھ ہلا کر کہا" میں جا کر گیٹ کھولوں"۔

    سعدیہ اور نگہت نے حیران ہوکر اسے دیکھا اور پھر بات سمجھ کر سر ہلا دیا-

    سونیا اور عالیہ نے اندر سے گیٹ کھولا-

    نگہت نے آئمہ کو سیدھا کیا اور اس سے کچھ پوچھنے کی کوشش کی-

    تھوڑی دیر میں کچن کبنٹ سے سعدیہ دوائیوں کی ٹوکری لئے آ ئیں-

    نگہت نے بہت احتیاط سے سب دوائیوں کو دیکھا اور پھر اس میں سے ایک انحیلر اٹھا کر آئمہ کے منہ سے لگا دیا-

    عثمان اور عائشہ جب گھر میں داخل ہوئے تو فیملی روم کا منظریہ تھا کہ سعدیہ آئمہ کا سر گود میں لئے صوفے بیٹھی تھیں ، اور نگہت اس کے ہاتھ سہلا رہی تھیں-

    پاس ہی علی، عالیہ، سونیا، نوید شاہ فکر مند کھڑے تھے اور احسن بلوچ جویریہ کا ہاتھ پکڑے پاس ہی بیٹھے کسی کا سیل فون پر نمبر ملانے کی کوشش کر رہے تھے-

    عثمان کو دیکھ کر انہوں نے فون بند کر دیا اور اُٹھ کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا" شکر ہے آپ آ گئے، میں آپکو ہی فون ملانے کی کوشش کر رہا تھا۔"





    The most common way people give up their power


    is by thinking they don't have any.


    ~ Alice Walker ~


    Courage is like a muscle.


    We strengthen it with use.


    ~ Ruth Gordon ~

  8. #83
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    16,873
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: "اُمید نو-2010" ناولٹ ۔۔

    جب سے عمران کو اپنے باپ اور بہن کی پریشانی کا پتہ چلا تھا تب سے وہ کچھ گم سم ہوگیا تھا

    رابعہ کو بھی اپنا آپ ہر وقت مجرم کی طرح لگتا ۔ ۔ ۔ ۔ گھر میں بھی ہر وقت خاموشی چھائی رہتی ۔۔ ۔ عمران بھی بہت دیر رات کو گھر آنے لگا تھا نجانے سارادن وہ کیا کیا کرتا تھا کالج کے بعد ، کچھ پوچھو بھی تو جواب صحیح سے نہیں دیتا ۔

    ایک دن کافی رات ہوگئی اور وہ گھر ابھی تک نہیں آیا تھا زھرہ بیگم اوور رابعہ کافی پریشان تھیں کہ اب تک کیوں نہیں آیا پروفیسر صاحب بھی جلدی سونے کے عادی تھے تو انکو اس بارے میں نہی معلوم تھا لیکن جب کافی رات ہوگئی تو انکو مجبوراً انکو اٹھانا پڑا اور ساری صورتحال کیا ہے انکو بتایا ۔
    یہ سن کر پروفیسر صاحب بھی ناراض ہوگئے ۔

    "یہ کب سے ہورہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کیا روز اتنی دیر رات تک باہر رہتا ہے "؟

    "نہیں تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روز تو دس گیارہ بجے تک گھر آجاتا ہے۔"
    زھرہ بیگم نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا

    "تو آپ نے مجھے پہلے اس بارے میں کیوں نہیں بتایا کہ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔یہ روز اتنا وقت گزارتا کہاں ہے ؟"

    "آپ پہلے سے اتنا پریشان تھے تو مجھے مناسب نہیں لگا کہ آپکو پریشان کروں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔باتونی تو پہلے بھی نہیں تھا لیکن جب سے رابعہ کے کالج نا جانے کی وجہ بتائی تو تب سے کافی گم سم ہوگیا تھا ۔ ۔ ۔ اور زیادہ وقت گھر سے باہر گزارنے لگا تھا۔"

    زھرہ بیگم نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا

    "آپ نے اسکو کیوں بتایا ۔۔۔۔۔۔نجانے کن چکروں میں پڑ گیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ اتنا وقت باہر گزارتا تھا آپکو کچھ تو مجھے بتانا چاہیئے تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پ ہلے ہی کم پریشانی تھی اب ایک اور۔ ۔ ۔ ۔پتہ نہیں کہاں ہوگا اس وقت "؟


    پروفیسر خان صاحب پریشانی کے عالم میں ادھر ادھر ٹہلنے لگے پھر کچھ دیر بعد وہ فون کے پاس گئے اور اس کے دستون کے نمبر ملانے لگے تو وہاں سے پتہ چلا وہ کتنے دنوں سے کالج ہی نہیں گیا ۔۔یہ سن کر وہ مزید پریشان ہوگئے۔

    "یا اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہاں گیا میرا بیٹا"

    اسی طرح وہ رات گزر گئی لیکن عمران پھر بھی گھر واپس نہین آیا

  9. #84
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    16,873
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: "اُمید نو-2010" ناولٹ ۔۔

    اسی طرح دو تین دن گزر گئے عمران کا کچھ پتہ نہیں چل سکا انکو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کہاں جائین کس سے پوچھیں

    عثمان چوہدری بھی بہت دنوں سے یہ بات نوٹ کرہا تھا کہ پروفیسر خان کافی گم سم اور اداس نظر آرہے ہیں کچھ دنوں سے کچھ ان کے درمیان کے اختلافات کی وجہ سے کچھ پوچھنے کی ہمت نہیں کرپائے ۔

    ایک دن جمعے کی نماز کے بعد دعا مانگتے ہوئے اس نے دیکھا کہ پروفیسر خان پھوٹ پھوٹ کر روپڑے پھر ان سے رہا نہیں گیا فطری طور پر عثمان چوہدری بہت نرم دل انسان تھا لیکن خان صاحب کو تنگ کرنے کے لئے کچھ ایسی حرکتیں کرجاتا جس سے وہ جز بز ہوکر رہ جاتے اور وہ دیکھ اس کو بہت مزہ آتا لیکن اسکے علاوہ ان کو خان صاحب سے کوئی خاص پرخاش نہین تھی ۔

    وہ خان صاحب کے پاس گیا
    اور انکے برابر بیٹھ گیا اور پھر آہستہ سے ان کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھ کر پوچھا "کیا ہوا خان صاحب ؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں ۔"

    خان صاحب نے انکی طرف دیکھا لیکن کچھ نہین کہا

    "مجھے کافی دنوں سے آپ کچھ پریشان اور اداس لگ رہے ہیں کوئی مسلہ ہے تو مجھے بتائیں ۔ ۔ ۔ ۔ میری کسی حرکت پر بھی آپکا کوئی ردعمل سامنے نہین آرہا نا آپ غصہ ہوتے ہیں نا ہی ناراض کیا بات ہے پلیز مجھے بتائیں تو؟"

    خان صاحب بہت حیران ہوئے یہ سن کر دل ہی دل میں سوچنے لگے کہ "کیا یہ وہ سب حرکتیں میری توجہ حاصل کرنے کے لئے کیا کرتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور میں بھی کتنا بے خبر ہوں کے کبھی اسکی اصلاح کرنے کی کوشش نہین کی بس تنقیدی اور طنزیہ نظروں سے ہی دیکھ کر خود کو بہت برتر اور اعلٰی سمجھا کرتا تھا "
    خان صاحب دل ہی دل میں اپنا مححاسبہ کرنے لگے

    عثمان نے جب اب خان صاحب کو خاموش دیکھا تو تھوڑا مایوس سا ہوگیا

    "مجھے معلوم ہے آپ مجھے پسند نہیں کرتے میری عادات آپ کو سخت ناپسند ہیں لیکن میں وہ سب آپکی توجہ حاصل کرنے کیا کرتا ۔۔ ۔ ۔ ۔ میرا کوئی بڑا بھائی نہیں ہے لیکن مجھے لگتا ہے کوئی اگر ہوتا تو آپکی طرح ہی ہوتا ۔۔۔۔۔میں اس امید پر وہ حرکیتیں کیا کرتا کہ کبھی تو آپ مجھے ٹوکیں گیں ٫ کچھ کہیں گیں لیکن آپ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔خیر کوئی رشتہ نا سہی پھر بھی ہمارے درمیان اس وجہ سے کوئی نا کوئی تعلق ہے ہی پلیز کوئی پریشانی ہے تو مجھے بتائیں شاید میں آپکی کچھ مدد کرپاوں ؟"

    اتنے میں عثمان چوہدری کا بیٹا نوید شاہ کے بیٹے کے ساتھ انکے پاس آگئِے

    "پاپا یہ ولید ہے میرا نیا دوست "

    "السلام علیکم انکل " ولید نے سلام کیا

    "وعلیکم السلام بیٹا کیسے ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ نوید شاہ کے بیٹے ہو ناں "
    ولید نے اثبات میں اپنا سر ہلایا

  10. #85
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    16,873
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: "اُمید نو-2010" ناولٹ ۔۔

    عثمان پھر خان صاحب کی طرف متوجہ ہوا

    اور سوالیہ نظروں سے انکی طرف دیکھنے لگا

    خان صاحب کو بھی کسی سہارے کی اشد ضرورت مححسوس ہو رہی تھی اور عثمان کے خلوص سے وہ واقعی متاثر نظر آرہے تھے تو پھر دھیرے دھیرے وہ اپنا مسلہ عثمان کو بتانے لگے کہ انکا بیٹا عمران کتنے دنوں سے غائب ہے اسکا کچھ بھی پتہ نہیں چل رہا

    "نجانے کہاں ہوگا میرا بچہ کس حال مین ہوگا کسی نے تو اسکو دیکھا ہوگا میں بہت پریشان ہوں پہلے ہی کالج مین کچھ سیاسی غنڈوں نے مجھے تنگ کیا ہوا ہے اور اب یہ "

    علی اوور ولید بھی یہ ساری باتیں سن رہے تھے

    دونوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور پھر دونوں نے ایک ساتھ کہا "ہم نے اکثر انکو ایک کار میں کسی کے ساتھ آتے جاتے دیکھا ہے "

    "کب "؟

    "کافی دنوں سے "علی نے جواب دیا "

    "کیا تمہیں اس گاڑی کا نمبر یاد ہے "
    عثمان نے علی سے پوچھا کیونکہ انکو اپنے بیٹے کی عادت کا پتہ تھا

    "جی پاپا یا د ہے مجھے بلکہ ولید کو بھی "

    یہ سن کر خان صاحب کو امید کی ایک کرن نظر آئی

    اتنے میں نوید شاہ اپنے بیٹے کو انکے پاس دیکھ اسی طرف آگئے

Page 6 of 6 FirstFirst ... 456

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •