Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Page 1 of 2 12 LastLast
Results 1 to 15 of 26

Thread: [Afsana 032]عقلمند از ساحرہ

  1. #1
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    کوا چلا ہنس کی چال

    کوا چلا ہنس کی چال
    نورالعین ساحرہ


    "اچھا میری بات غور سے سنو"۔ عامر اپنی نئی نویلی دلہن ایمن کو "سمجھاتے ہوئے بولا!
    "تمھیں آج سے بہت سے نئے سبق سیکھنا ہوں گے۔ یہاں جاب پر لوگ تمھاری خوبصورتی کی تعریف کریں گے تو برا مان کر چانٹا مت مار دینا اور نہ ہی بدلے میں یہ کہنے لگ جانا پلیزکہ " گھر میں تمھاری ماں بہنیں نہیں ہیں کیا وغیرہ وغیرہ " ۔
    وہ ایمن کو بہت رسان سے نئے ملک میں رہنے کے طریقے سمجھا رہا تھا۔
    "دیکھو یہ امریکا ہے اور یہاں کا سسٹم پاکستان سے بالکل الٹ ہے۔ یہاں بات بات میں بلاوجہ شکریہ، سوری اور دوسرے کی تعریف کرنےکا بہت رواج ہے ۔اس تعریف میں مرد و عورت کی کوئی تخصیص نہیں ہوتی نہ ہی تمھاری تعریف کرنے والے کا مطلب تم سے کوئی فلرٹ کرنا ہو گا ، بس یہ لوگ یوں ہی ہر خوبصورت چیز کی تعریف کر دیتے ہیں اور چونکہ تم بہت حسین ہو تو پہلے سے اس کے لئے ذہنی طور پر تیار رہو۔ تمھیں جواب میں مسکرا کر صرف سب کو شکریہ کہنا ہے اور کچھ نہیں ۔ اگر اس ملک میں آگے بڑھناا چاہتی ہو تو تمھیں اپنے آپ کو بہت بدلنا پڑے گا اور یہ تمام امریکی مینرز تمھیں فوراً سیکھنے ہونگے" ۔

    وہ ذرا سا سانس لینے کو رکا اور اسے پیار سے دیکھتے ہوئے دوبارہ گویا ہوا۔

    "مجھے دبو قسم کی جی حضوری کرنے والی لڑکیاں بالکل پسند نہیں۔۔ میں چاہتا ہوں مجھے تم پر اور تمھارے اپنی ذات پر اعتماد سے فخر محسوس ہو اور سب لوگ میری بیوی کی تعریف کریں۔ ویسے بھی اصل اہمیت تو یہاں صرف تمھارے کام کی ہی ہونے والی ہے ، تمھاری صورت کی نہیں کیونکہ وہ سب ثانوی باتیں ہیں۔ گیند تمھارے کورٹ میں ہے اب اور دیکھنا یہ ہے کہ تم کونسے کونسے نئے سبق کتنی جلدی سیکھتی ہو اور خود کو امریکا میں ایڈجسٹ کرتی ہو"۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭
    عامر ایک اینٹرنیشل کمپنی میں کام کرتا تھا۔ وہ بہت زیادہ اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ عورت صلاحتیوں میں مرد کے برابر ہے اور اِسے اس کے اظہار کا پورا پورا موقع ملنا چاہیئے، اسی لئے وہ کبھی بھی کسی موقعے پر خود کو جدت پسند کہلوانے کا کوئی چانس ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا اور خود بھی اپنی بیوی پر بے جا پابندیوں کا قائل نہ تھا۔

    آج وہ اپنی بیوی کو اپنے آفس میں کام کرنے کے طریقے بتا رہا جسے وہ اپنے آفس میں خالی ہونے والی ویکینسی کے انٹرویو کے لئے لایا تھا اور اتفاق سے وہ فوراً ہی اسکے آفس میں اسی دن اپائینٹ بھی کر لی گئی تھی گوکہ ان دونوں کا ڈیپارٹمنٹ الگ الگ تھا مگر انکے آفس ساتھ ساتھ تھے اور بیچ میں شیشے کی دیواریں تھیں۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو سن تو نہیں سکتے تھے مگر دیکھ اچھی طرح سکتے تھے اسی لئے سارا دن اشاروں کی زبان اور چہرے کے اتار چڑھاؤ کی مدد سے ایک دوسرے کی حالت سے باخبر رہا کرتے تھے۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭
    شروع شروع میں ایمن کوامریکی طرز زندگی اپنانے میں بہت مشکل ہو رہی تھی کیونکہ وہ پاکستان میں ایک قدامت پسند فیملی سے تعلق رکھتی تھی جہاں اس کو زندگی بھر یہی بتایا گیا تھا کہ اسے ایک مشرقی بیوی کی طرح آنکھیں بند کر کے صرف اپنے شوہر کا کہا ماننا ہے۔ ایمن خود کو اس نئے معاشرے میں ڈھالنے کے لئے اور اپنے شوہر کی خوشی کی خاطر یہ سب نا پسندیدہ کام بھی کرتی جا رہی تھی اور تیزی سے خود کو اسی جدید طرز زندگی کا عادی بنا رہی تھی ۔
    آفس میں کوئی بھی مرد یا عورت ایسا نہ تھا جس نے ایمن کی حسن اور ذہانت کی تعریف نا کی ہو اور سب لوگ بار بار عامر کو بہت خوش قسمت بھی کہتے جسکی بیوی نہ صرف بہت ذہین و فطین اور خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ بہت خوش اخلاق تھی بلکہ بچوں کی طرح جاب پر عامر کا خیال بھی رکھتی تھی۔ کبھی اس کے لئے کام کے دوران کچن سے چائے بنا کر لا دیتی اور کبھی لنچ گرم کر کے ٹرے میں رکھ کر اسکے آفس میں رکھ آتی ۔ سب لوگ عامر کا مذاق اڑاتے تھے کہ ایمن تمھاری بیوی سے زیادہ تمھاری بےبی سٹر لگتی ہے۔ کتنے لکی ہو تم! کاش ہم کو بھی ایسی بیوی مل سکتی لائف میں مگر امریکن کلچر میں یہ تو ناممکن سی بات ہے اس کے لئے تو پاکستانی بیوی ڈھونڈنی ہو گی۔

    عامر یہ سب سن کر خوشی سے پھولے نا سماتا اور بہت غرور سے اپنی پیاری بیوی کو دیکھتا جو اس کی پسند تھی اور کتنی قربانیاں دینے کے بعد اس کو ملی تھی۔ پورے خاندان کو ناراض کرنے کے بعد کہیں اس کو پا سکا تھا۔ اب وہ ڈھیروں خوشیاں ایمن کی گود میں بھر دینا چاہتا تھا اور پہلا ثبوت یہی تھا کہ اس نے ایمن کو اپنے آفس میں بالکل اپنی برابری کی سطح پرلا بٹھایا تھا اور پورے عالم میں ایمن کی شکل میں اسکی پسند کا ڈنکا بج رہا تھا اس لئے اس کا فخر کرنا اتنا بےجا بھی نہیں تھا ۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭
    عامر نے ایمن کی وارڈروب ماڈرن کپڑوں سے بھر دی اور صبح شام اسے امریکن لہجے میں انگلش بولنا سیکھا رہا تھا۔ کھبی تو خود اسکو لڑکیوں والے کپڑے پہن کر اٹھنا بیٹھنا اور چلنا سیکھاتا اور کھبی کسی ماڈل کی طرح فائلیں پکڑے امریکن لہجے میں انگلش بول بول کر آداب گفتگو سمجھانے کی کوشش کرتا۔

    کھبی ایمن سنجیدگی سے عامر کو سنتی اور کھبی اسکی ایسی حرکتوں پر ہنستے ہنستےلوٹ پوٹ ہو جاتی۔ ایک دن ایسے ہی صبح صبح جب ان دونوں کے علاوہ آفس میں ابھی کوئی بھی نہیں آیا تھا اور موقع سے فائدہ اٹھا کر وہ اس کو ایک ہاتھ میں فائل پکڑے اور دوسرے میں کافی کے کپ میں پانی بھر کے اس کپ کو بڑی ادا سے پکڑے آہستگی سے چلتے ہوئے ارد گرد بیٹھے فرضی لوگوں کو مسکرا مسکرا کر گڈ مارننگ کہنا سکھاتے ہوئے سامنے نظر نا آنے والی شیشے کی دیوار سے ٹکرا گیا اور کافی کے کپ والا سارا پانی بھی اسکے کپڑوں پر گر گیا اور خود بھی چاروں شانے چت ہو گیا۔

    ایمن کو پہلے تو سمجھ نا آیا کہ اس بات پر ہنسے یا جا کر اسکو اٹھائے ۔ پہلے تو وہ جی بھر کے ہنستی رہی اور پھر جب عامر کی تکلیف کا احساس ہوا تو اس کو اٹھانےکے لئے بھاگی اور جب نیچے جھکی تو اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولی۔
    "عامر ! ہم کتنے بھی ماڈرن ہو جائیں، یہ مت بھول جانا کہ کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم پاکستانی ہیں اور ہمیشہ پاکستانی ہی رہیں گے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کونسے ملک کے کپڑے پہنیں اور کونسے لہجے میں انگلش بولیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔"۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭
    دن تیزی سے پر لگا کر اڑنے لگے۔ اب تو ایسا لگتا تھا جیسے عامر کہیں پس پشت چلا گیا ہے۔ دور بہت دور کہیں پیچھے رہ گیا ہے، پورے آفس میں ایمن کی ذہانت اور خوبصورتی کا سکہ چلنے لگا تھا ۔ وہ صرف اپنی من موہنی صورت سے ہی نہیں بلکہ اپنے اخلاق اور انتہائی محنتی ہونے کی وجہ سے بہت جلدی ترقی کی منزلیں طے کر تے کرتے جب ایک سال بعد ہی عامر کی باس کے عہدے پر فائز ہوئی تو پہلی دفعہ جیسے عامر کے اندر ایک چھناکا سا ہوا اور اس کی انا اور خود داری کا بت جیسے تڑاخ سے ٹوٹ گیا۔
    بجائے خوش ہونے کے وہ اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا کر رہ گیا، وہ یہ بات برداشت نہیں کر سکتا تھا جس کو ہاتھ پکڑ کر قدم قدم چلنا سیکھایا تھا وہی اس کی بیوی جو گھر میں اسکے جوتے پالش کرتی تھی اسکے کپڑے دھوتی تھی اور اکثر اس کے پیروں سے موزے بھی اتارتی تھی-------۔اب وہی بیوی آفس میں باس بن کر اس کو کنٹرول والی تھی کہ تمہیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں اور کون سا کام کس طرح کرنا ہے۔
    _______ پیتھیٹیک---------- وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا اور ناراضگی کے اظہار کے طور پر زور سے ایک مکہ میز پر مارا اور دونوں ہاتھوں میں سر تھام کر بیٹھ گیا۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭
    یہ بات عامر کی برداشت سے باہر تھی اور وہ کسی بھی طرح خود کو اس کے لئے تیار نہیں کر پا رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے پہلے اس کی مردانگی کالے ناگ کے پھن کی طرح بڑے غرور سے پھیلی ہوئی تھی اور وہ خود ایمن جیسی مستانی بین پر مست ہو ہو کر پھنکارا کرتا تھا مگر اب ہر لمحے جیسے وہی مستانی بین ایک بھیانک جوتے کی نوک میں بدل گئی تھی جو ہر گھڑی اس مردانہ پھن کو اپنے اعتماد کے زنانہ بوجھ تلے کچلتی جا رہی تھی ۔ ایمن کا وہی اعتماد جو کھبی اس کے شوہر کی پہلی آرزو ہوتا تھا اب اس کے شوہر پر بار ناتواں بن چکا تھا۔
    عامر جتنی بار بھی سوچتا اتنی بار تیز درد کی ایک لہر جیسے دل میں اٹھتی اور ہر بار وآپس جاتے ہوئے اس کے دل میں موجود ایمن کے پیار کا کچھ حصہ اپنے ساتھ بہا لے جاتی تھی اور اس کے بدلے میں کچھ شکوک و شبہات نفرت اور بےزاری کا جھاڑ جھنکار محبت کے ساحل پر چھوڑ جاتی تھی۔
    یہ اذیت ناک عمل دن میں کئی بار دہرایا جاتا ۔ وہ جب بھی اپنی تمام تر بچی کھچی ہمت جمع کر کےاپنی انا کے اس پھن کو لہرانے کی کوشش کرتا تو بدلے میں ایسا لگتا جیسے ایمن کی طرف سے ہر بار پہلے سے بھی زیادہ بے دردی سے اس پھن کو اپنے جوتے کی نوک تلے کچلنے کا عمل دہرایا جاتا ہے اور آہستہ آہستہ اب تو عامر کی پرغرور پھنکاریں بھی جیسے کراہوں میں بدلنے لگی تھیں۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭
    وہ گھر میں بات بات پر اپنی بیوی کو جھاڑ پلا کر مردانگی کی دھوم مچانے والا مرد آفس میں اپنی بیوی کے سامنے سر جھکا کر داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ اس حالت نے ان کے درمیان ایک اجنبیت کی دیوار سی کھڑی کر دی تھی۔ سارا پیار جیسے کہیں جا سویا تھا یا پھر کسی ویرانے میں منہ چھپا کر پڑا اپنی بدنصیبی پر ماتم کناں تھا۔ عامر نے بہت خیال رکھنے والے شوہر کی بجائے اب ایک خطرناک دل جلی ساس کا روپ دھار لیا تھا اور ہر وقت اپنی بیوی کو طعنوں کی زد میں رکھ لیا تھا۔
    ان دونوں کے درمیان ایک شدید سرد جنگ کا آغاز ہو چکا تھا۔ ایمن سب دیکھ رہی تھی سب سمجھ رہی تھی مگر اس معاملے کو سلجھانے میں بری طرح ناکام ہو رہی تھی۔ اس نے بار بار عامر کو اپنی محبت کا یقین دلانے اور خود کو جان بوجھ کر ہر بات میں عامر سے کمتر ثابت کرنے کی کوشش کرنا شروع کر دی تھی۔

    اس باس کی پوسٹ کو بھی محض ایک اتفاق کہ کر اس کا دل صاف کرنا چاہا بلکہ اب تو وہ پہلے سے بھی ذیادہ عامر کا خیال رکھتی تاکہ عامر کو ایسا کچھ محسوس نہ ہو مگر افسوس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عامر قدرت کی اس ستم ظریفی کو سہ نہیں پا رہا تھا وہ بار بار خود کو ہی مورد الزام ٹھہراتا کہ جس کی غلط لائف پلانینگ نے یہ دن دیکھائے تھے۔ نا وہ ہنس کی چال چلنے کی کوشش کرتا اور نا ہی وہ اپنی بیوی سے جاب کرواتا تو یہ سب بھی نا ہوا ہوتا۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ بہت دیر ہو چکی تھی۔
    اگر وہ زبردستی کسی بھی اور بہانے سے اب ایمن کی جاب چھڑوا دیتا تو بھی زندگی بھر ایمن کے سامنے اس کا سر جھکا ہی رہتا کیونکہ وہ اپنی اپنی جگہ وہ دونوں ہی جاب نا کروانے کی اصل وجہ سے تو خوب واقف تھے ۔ وہ انا گزیدہ ہر وقت ادھر ادھر تڑپتا پھرتا تھا اورکسی پل بھی چین نہیں پاتا تھا ۔
    ایمن کی مصالحت کی ساری کوششیں جب بےکار جانے لگیں تو اس نے بھی جیسے ہمت ہار دی اور ہر وقت کا طنز سہتے سہتے خود کو واقعی عامر کے مقابلے پر سچ مچ لے آئی اور وہ بہت چڑ کر وہ سب کچھ بے فکری سے کرنے لگی جسے دیکھ دیکھ کر عامر کے تن بدن میں مزید آگ بھر جاتی تھی۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭
    ایمن کو کمپیوٹر میں کام کرتے کرتے اچانک اپنے پیچھے ایک سایہ سا نظر آیا تو ڈر کر زور سے چیخ مار کر اچھلی تو جِم بے اختیار قہقہے لگانے لگا۔ جِم اسکا نیا باس تھا بہت ہینڈسم اور بہت جولی سا تھا۔ جہاں بیٹھتا ہنسا ہنسا کر سب کی آنکھوں میں پانی لے آتا ابھی اسے آفس جوائن کئے پندرہ دن بھی نہیں ہوئے تھے مگر آفس میں جیسے اس کے ہونے کا احساس خوشی اور ہنسی بن کر ہر کونے میں پھیلا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ اور ان پندرہ دنوں میں جم نے کم سے کم ایک سو دوست بنا لئے تھے اور پچاس بار ایمن کے حسن کی نہ صرف بہت بےباک تعریف کی تھی بلکہ کئی بار اپنے ساتھ لنچ پر بھی انوائیٹ کر چکا تھا۔ ہر بار ایمن نے اس سے معذرت کر لی کہ اسکا کلچر اس بات کی اجازت نہیں دیتا اور ویسے بھی وہ اپنے ہیسبینڈ کے علاوہ کسی اور کے ساتھ باہر نہیں جایا کرتی۔

    یہ سن کر جم برا سا منہ بناتا اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتا وآپس چلا جاتا مگر ہر آدھے گھنٹے بعد پھر کسی نا کسی بہانے اس کے آفس میں آ دھمکتا اور کہتا
    " تم کس قدر خوبصورت ہو مجھے انڈین بیوٹی بہت انسپائیر کرتی ھے۔ کاش کہ تم شادی شدہ نا ہوتیں تو میں ابھی اسی وقت تمھیں اغوا کر کے تم سے شادی کر لیتا"
    یہ سن کر وہ غٍصےٍسے لال ہو جاتی اور کہتی پہلی تو بات یہ کہ میں انڈین نہیں بلکہ پاکستانی ہوں ، کتنی بار تم کو یہ بات بتاؤں تم لوگ کیوں اس فرق کو نہیں سمجھتے ہو اور دوسری بات کہ تم اپنے آفس میں جاؤ۔ مجھ سے ایسی فضول باتیں مت کرو کیونکہ میں بہت ہیپیلی میریڈ ہوں اور ہمارے کلچر میں کسی سے بھی ایسی باتیں نہیں کی جا سکتیں۔
    ہونہہ! ہیپیلی میریڈ؟
    وہ طنزیہ ہنکارا بھرتا۔۔۔ وہ بھی اس سڑیل کوے کے ساتھ؟ وہ ایک آنکھ بند کر کے عامر کی طرف اشارہ کرتا۔۔۔۔۔
    "تم جیسی بیوٹی کوئین کا اس کوے کے ساتھ ہونا ایک ظلم ہے اس پر بھی اور تم پر بھی۔۔۔۔۔۔ اسکو چھوڑ کر مجھ سے شادی کر لو پلیز۔ میں تمھیں دنیا میں جنت دیکھا دوں گا تم کو مجھ سا قدردان نہیں ملے گا۔ میں تمھارے لئے اپنا مذہب بھی بدل ڈالوں گا ۔ جو تم کہو گی زندگی بھر وہی کروں گا۔ میں تو تمھیں ایک نظر دیکھنے کو ترستا ہوں اور وہ کوا تمھیں کتنی نفرت بھری نگاہوں سے دیکھا کرتا ہے ہر وقت۔ کیا تم مجھے اس سے بے خبر سمجھتی ہو؟ میں سب جانتا ہوں تمھارے اس کے ساتھ اس بے بنیاد تعلق کوٹوٹنے سے اب کوئی نہیں روک سکے گا۔"
    یہ کہ کر وہ خباثت سے ہنسا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ـ
    جم ""
    " نکلو میرے آفس سے ابھی اسی وقت ورنہ میں بھول جاؤں گی کہ تم میرے باس ہو۔ "وہ غصے سے دھاڑی
    اپنی اتنی انسلٹ وہ برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ غیر بھی اب جاننے لگے ہیں کہ اسکے اور عامر کے درمیان کچھ کھٹ پٹ چل رہی ہے۔
    "اب تم مجھے " ہیراس" کر رہے ہو۔ میں تمھاری بےکار باتوں کو مذاق سمجھ کر برداشت کر رہی ہوں اور تم حد سے باہر ہو رہے ہو۔اگر تم ابھی میرے آفس سے نہیں نکلے تو ایچ آر ڈیپارٹمنٹ کو فون کر کے ابھی تمھیں "ہراسمینٹ" کے کیس میں اندر کروا دوں گی""
    یہ سن کر جم آفس سے تو باہر نکل گیا مگر جاتے جاتے کہ گیا ۔ میری پیشکش پر غور ضرور کرنا........ زندگی بہت خوبصورت ہے اور اس طرح سرد جنگ میں نہیں گزاری جا سکتی جیسے تم اور عامر گزار رہے ہو اور اس بات کا آفس میں بھی سب کو علم ہو چکا ہے"۔
    اور ہاں سنو۔۔۔ وہ جاتے جاتے دوبارہ اس کی میز کے قریب آ کر بولا۔۔۔۔۔
    "ہیراس" تو تم نے بھی مجھے اپنی بیوٹی سے کیا ہوا ہے میں اب کس سے شکایت کروں؟ کیا اب 911 والوں کو کال کروں؟ یا پھر اجازت ہو تو شادی کا کیک بک کروانے کے لئے فون کر دوں؟"
    ٭٭٭٭٭٭٭٭
    عامر یہ سب کچھ شیشے کی دیوار کے پار شاکی نگاہوں سے دیکھا کرتا۔ وہ کچھ بھی سن تو نہیں سکتا تھا مگر سب سمجھتا تھا اس کو صاف صاف اندازہ ہو رہا تھا کیا چل رہا ہے۔۔ جم کے بار بار ایمن کے آفس کے چکر لگانے کا کیا مطلب تھا؟ یہ بات ایک شوہر سے زیادہ کون سمجھ سکتا تھا مگر زیادہ تر وہ بدلے میں ایمن کو خوش ہونے کی بجائے بہت غصے میں بھرے ہوا دیکھتا تھا اور اس کو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ایمن جم کو آفس سے نکل جانے کا کہ رہی ہوتی ہے۔ چونکہ شیشے کی دیوار کی وجہ سے وہ کچھ سن نہیں سکتا تھا اس لئے صرف ان دونوں کی حرکات و سکنات سے اپنے شکوک کی عمارت بناتا اور توڑتا رہتا تھا۔ بہرحال کم سے کم اس کو یہ اطمینان تو حاصل تھا کہ اس نے ایمن کو کھبی بھی جم کے ساتھ ایک منٹ کے لئے بھی آفس سے باہر جاتے نہیں دیکھا تھا۔ ان دونوں کے درمیان بھلے کوئی بات چیت نہیں بھی تھی مگر پھر بھی عامر کو اپنی بیوی کی پاک دامنی پر اتنا ہی بھروسہ تھا جتنا سورج کے مشرق سے نکلنے پر ہو سکتا تھا۔
    اس کے باوجود ایک دو بار ہزاروں شکوک شبہات اور نفرت لہجے میں سموئے عامر نے ایمن سے جم کے بارے میں پوچھنے کی کوشش بھی کی مگر وہ صاف مکر گئی کہ ایسی کوئی بات ہی نہیں ہے اور عامر کو صرف وہم ہو رہا ہے ورنہ جم تو ہر ایک کے ساتھ ایسے ہی فرینک نیس سے بات کرتا ہے۔
    الٹا ایمن نے عامر کا دل صاف کرنے کی کوشش بہت تیز کر دی تھی۔ اس سے صاف لفظوں میں بات کرنے اور یہ آفس چھوڑنے کی پیشکش بھی کی اور یہ بھی کہا وہ کسی دوسری سٹیٹ میں موو ہو جاتے ہیں۔ وہ ہر حال میں اپنا گھر بچانا چاہ رہی تھی مگر عامر کے دل میں ، جوکہ شک سے ایسے لبالب بھر چکا تھا جیسے گلاس پانی سے بھر جاتا ہے اور اس میں اب شاید ایمن کے لئے کوئی جگہ نا بچی تھی۔

    عامر اس کو بات بات پر طعنے دیتا ،کوستا، گالیاں دیتا ۔ عامر کی ایمن سے نفرت اور دوری جیسے جیسے بڑھتی جا رہی تھی ویسے ویسے جم کی مہربانیاں اور بونسیز ایمن کے لئے بڑھتے جا رہے تھے۔ کھبی کھبی تو وہ بھی عامر کے رویے سے اتنا اکتا جاتی اور مایوس ہو کر سوچتی کہ عامر کو چھوڑ کر واقعی جم سے شادی کر لے جو اس کی خاطر اپنا مذہب تک چھوڑنے کو تیار تھا ۔ اتنی بری زندگی سے وہ بھی اب اکتا رہی تھی اور اسکے دل میں جم کے لئے جیسے روزانہ کچھ نا کچھ جگہ بننے لگی تھی۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭
    آہستہ آہستہ اسکا دل جم کے لئے جیسے ہموار ہونے لگا تھا ۔ کافی حد تک وہ اپنے آپ کو منانے میں کامیاب ہو تی جا رہی تھی حالانکہ وہ عامر سے بہت محبت کرتی تھی مگر اس کو علم ہو چکا تھا بد نصیبی نے انکے گھر کا رستہ دیکھ لیا تھا اور انکی زندگی میں وقت کا پہیہ الٹا گھوم چکا ہےا۔ عامر کے ساتھ اب زندگی کو دوبارہ سے شروع نہیں کیا جا سکتا تھا تاوقتیکہ کوئی معجزہ نا ہو جاتا اور خود عامر اس کے ساتھ مل کر دوبارہ ایسی کوئی کوشش کرتا مگر وہ تو خود اب راتوں کو بھی گھر سے باہر رہنے لگا تھا۔ پتہ نہیں کہاں جاتا تھا۔ کچھ بتاتا بھی تو نہیں تھا۔ اگر وہ پوچھنے کی کوشش کرتی تو مغلظات کا طوفان ابل پڑتا ۔اس لئے وہ ڈر کے مارے خاموش ہی رہتی۔
    ٭٭٭٭٭٭٭
    ان دونوں کے درمیان اسی کشمکش میں دو سال بیت گئے تھے۔ پورے دن میں چند ضروری جملوں کا تبادلہ بھی ہوتے ہوتے اب نا ہونے کے برابر رہ گیا تھا اسی دوران میں ملک میں بری طرح ریسیشن کا دور پیدا ہونے لگا تھا۔ ان کے آفس سے بھی دو سو لوگ نکالے جا چکے تھے مگر اتفاق سے ان تینوں کا نمبر ابھی تک نہیں آیا تھا ۔ ملکی معشیت تیزی سے گرتی جارہی تھی۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہوتے جا رہے تھے۔ حکومت لوگوں کے گھر چھین چھین کر انکو سڑکوں پر لا رہی تھی۔ غربت کی وجہ سے خودکشی کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔ پورا ملک ناامیدی کے سمندر میں ڈوبا ہوا تھا۔ ایسے میں کوئی بھی اپنی جاب کھونا منظور نہیں کر سکتا تھا۔

    کسی نا کسی طرح یہ تینوں اپنی جگہ پر جاب کر رہے تھے۔ ایک دن اچانک معلوم ہوا کہ اب ان کے ڈیپارٹمنٹ کی باری بھی آ گئی ہے اور ایمن یا جم میں سے کسی ایک کو جاب سے جانا پڑے گا۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کو "لے آف" کیا جانے والا تھا آنے والے مہینے کے آخری فرائڈے کو اور ان میں سے کسی ایک کو ہمیشہ کے لئے اپنے گھر چلے جانا تھا۔

    ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی تھا کہ جم اور ایمن میں سے کون جائے گا۔ دونوں کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ تمام بڑے آفیسیرز کی اہم میٹینگ ہونے والی تھی جس میں وہ دونوں کی خدمات کا جائزہ لے کر کسی ایک کو گھر بھیجنے والے تھے۔ اس فیصلے میں ابھی ایک مہینہ باقی تھا اور یہ وقت دونوں کے لئے بہت بھاری تھا۔ ان دنوں جم کا موڈ بھی کچھ بگڑا بگڑا تھا اور وہ ایمن کے آفس کے چکر بھی نہیں لگا رہا تھا۔ جب بھی دیکھو کسی نا کسی باس کے ساتھ آفس میں بند مذاکرات کر رہا ہوتا۔ دو تین بار ایمن نے خود اس سے بات کرنے کی کوشش کی تو جم نے رکھائی سے جواب دیا۔ ایمن کو تو یقین نہیں آتا تھا کہاں وہ اسکی ایک نظر کا طالب اور کہاں یہ انتہائی روکھا پھیکا سا بندہ!

    خوف کے مارے ایمن کی حالت تو ایسی ہو چکی تھی کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ عامر سے تو ویسے بھی چند لفظوں کا ناطہ رہ گیا تھا پہلے بھی اور اب تو وہ بھی نہیں رہا تھا مگر جم؟ وہ تو کسی حد تک اسکے ساتھ اپنی نئی زندگی شروع کرنے کے بارے میں واقعی سنجیدگی سے غور کرنے لگی تھی۔ لیکن اب اس وقت عامر اور جم میں سے کوئی بھی اس کا سہارا بنتا نظر نہیں آ رہا تھا۔ وہ جائے تو جائے کہاں؟ پاکستان میں تو ویسے بھی اس کا کوئی خاندان نہیں تھا۔ امی ابا کے بچپن میں مر جانے کے بعد غریب ماموں ممانی نے پالا تھا اور جیسے تیسے رخصت کر کے اپنا فرض ادا کر دیا تھا۔ وہ واپس ان کے پاس جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭
    اسی ایک مہینے کے وقفے میں جب ایمن کی زندگی کا فیصلہ کیا جانے والا تھا اچانک جاب پر ایسا کچھ غلط کام ہوا جو اس نے ہرگز نہیں کیا تھا نا اسکا کوئی قصور تھا مگر کاغذات کے حساب سے سب قصور اسی کا بن رہا تھا اور ایمن کی وجہ سے ریسیشن کے دور میں کمپنی کو ایک لاکھ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا۔ ایسا ثابت ہو رہا تھا کہ یہ سب اس کی ذرا سی غلطی اور لاپرواہی سے ہوا ہے۔

    سب بڑے لوگ میٹینگ میں تھے اور وہ کسی مجرم کی طرح سر جھکائے سزا کی منتظر بیٹھی تھی۔ اس پر طرح طرح کے الزام لگ رہے تھے۔ ہر وقت اسکی تعریفیں کرنے والے لوگ آج جیسے وعدہ معاف گواہ بن کے اسکے خلاف ہو گئے تھے۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ اپنی صفائی میں کیا کہے؟ وہ ان کاغذات کو جھٹلا نہیں سکتی تھی اس کے اپنے اصلی سیگنیچر بھی موجود تھے حلانکہ حقیقت میں وہ اس پورے معاملے میں سرے سے انوالو ہی نا تھی ۔ اس نے کسی اور بات کے لئے سائن کیا تھا مگر وہ پیپر اب کہیں اور استعمال ہو چکا تھا بلکہ کچھ لوگ تو اسکو نوکری سے نکالنے کی بجائے سیدھا جعل سازی کے الزام میں جیل بھجوانے کی باتیں کر رہے تھے اور دکھ کی بات تو یہ تھی کہ جم اس وقت ان سب کا سرغنہ بنا ہوا تھا۔ وہ حیران ہو رہی تھی یہ کیسی محبت ہے جو انسان کو ایک نوکری کے کھو جانے کے خوف سے اپنا راستہ بدلنے پر مجبور کر گئی ہے?
    -------------------------------------------------
    ایمن ان دنوں بری طرح ٹوٹ رہی تھی ۔ جم جیسی محبت کا یہ روپ کس نے دیکھا ھو گا آج تک? کیا مغرب میں محبت ایسے کی جاتی ہے? وہ کئی بار اپنے آپ سے یہ سوال پوچھ چکی تھی?
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
    عامر اس سے کوئی بات نا کرتا تھا اور پورے آفس کو علم ہونے کے باوجود وہ اس پورے معاملے سے قطعی لا تعلق نظر آتا تھا۔ ایک لفظ بھی ہمدردی کا نہیں بولا اورنا اس نے ایک بار بھی ایمن سے اس پورے معاملے کے بارے میں ایک لفظ بھی پوچھا تھا۔ الٹا وہ ان دنوں ہر وقت کسی نہ کسی کام میں بہت مصروف نظر آتا تھا ۔ عامر شاید اس لئے خود کو ہر وقت بہت مصروف ظاہر کرتا کہ اسکو بھی بےکار جان کر جاب سے فارغ نا کر دیا جائے۔ آجکل وہ "ڈو نتھنگ لک بزی" کی عملی تصویر بنا ہوا تھا۔ وہ سارا سارا دن فائل روم میں گھسا ہزاروں فائلیں الٹتا پلٹتا رہتا۔ اس کو تو جیسے ایمن کے ہونے نا ہونے کا احساس تک مٹ چکا تھا۔ کبھی کبھار فائلوں کے پلندے اٹھا کر گھر لے آتا اور ساری ساری رات ان میں پتہ نہیں کیا چھانا کرتا۔

    آخر وہ فرائڈے آ ہی گیا جس کے آنے کے خوف سے ایمن کا وجود کانپ رہا تھا۔ اس کو آفس میں بلوا لیا گیا اور ساتھ ہی اس کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے صرف "لےآف" کیا گیا اور جیل بھیجنے کا ارداہ ترک کر دیا گیا تھا۔ وہ کانپتے ہاتھوں سے ان کاغذات پر سائن کر رہی تھی جب عامر ہاتھ میں ہزاروں فائلوں کے پلنڈے پکڑے بلا اجازت زبردستی آفس میں گھس آیا اور بولا

    "میں بلا اجازت اندر آنے کی معافی بعد میں مانگ لوں گا مگر پلیز آپ لوگوں کے لئے جو اہم معلومات لایا ہوں انکو پہلے غور سے دیکھ لیں۔ وہ سب لوگوں کو کچھ ہینڈ آؤٹس پکڑانے لگا۔ یہ سب قصور دراصل جم کا ہے اور اس نے اپنی جاب بچانے کی خاطر کاغذات میں رد وبدل کر کے اسے ایمن کی غلطی بنا دیا ہے"

    یہ سن کر جم نے آفس سے بھاگنے کی کوشش کی مگر عامر نے پہلے ہی ڈور لاک کر دیا تھا۔
    -------------------------------------------------
    ایمن نے تشکر سے بھیگی آنکھوں سے عامر کو دیکھا۔ اب اس کی سمجھ میں یہ راز بھی آ گیا کہ عامر صبح شام ان فائلوں میں سر کھپا کر ایمن کی بے گناہی کے ثبوت ڈھونڈ رہا تھا۔ اس کا دل عامر کے لئے پیار سے لبالب بھر گیا اور بے اختیار اسکی طرف لپکی تو راستے میں ٹھوکر کھا کر گر پڑی۔ عامر نے آگے بڑھ کر اس کو زمین سے اٹھایا اور سینے سے لگاتے ہوئے بولا
    "یاد ہے، ایک دن ایک سبق تم نے مجھے دیا تھا،" کوا چلا ہنس کی چال والا " جب میری سمجھ میں اس کا مطلب آنے لگا تو افسوس۔۔۔! کہ تم خود اس کا مقصد بھولنے لگی تھیں۔ ایمن نے تشکر بھری آنکھوں سے عامر کو دیکھا اور اس کے سینے پر سر رکھ کر سکون سے آنکھیں بند کر لیں۔
    ختم شد

  2. #2
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    22,615
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: افسانہ نگاری کا دوسرا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Sahira View Post
    عقلمند


    بہہہہت خوب ساحرہ
    تو اسی لئے آج سارا دن نظر نہیں آئین کیونکہ افسانہ لکھا جا رھا تھا۔

    ویسے آپ کے اس افسانے کو کوئی پوزیشن ملے یا نہ ملے لیکن بہہہہت سے ممبرز کو یہ بات ضرور پتہ چل جائے گی کہ
    ایک امیریکن مسلم عورت ( آپ) اپنے شوھر کو اپنے سے بلند مرتبہ پر ھی سمجھتی ھے۔


    ویسے تو افسانے کی تعریف کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ اپنی تعریف آپ کر رھا ھے۔
    ایک دو معمولی سی غلطیاں جو مجھے نظر آئیں کہ آپ نے پانچویں پیرا گراف کی نویں لائن میں ایک جگہ عینی لکھا ھے لیکن افسانے میں کوئی کردار عینی کے نام کا نہیں ھے۔
    دوسرا یہ جو ساتویں پیرا گراف میں آپ نے سمائلی پوسٹ کی ھے افسانوی لحاظ سے یہ مجھے ٹھیک نہیں لگی۔

    اگر آپ وھاں جِم کے اس ایکشن کے متعلق لکھ دیتیں جو سمائلی والا کارٹون کر ررھا ھے یعنی سر کھجا رھا ھے تو ٹھیک نہ لگتا۔
    ھاھاھاھاھاھا

    اخر میں دعا کہ
    اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
    [SIGPIC][/SIGPIC]

    جب ہم سے ملو گے تو ہمیں پاؤ گے مخلص
    ہر چند کہ اخلاص کا دعویٰ نہیں کرتے

  3. #3
    Site Managers Rubab's Avatar

    Join Date
    Jun 2007
    Posts
    13,943
    Blog Entries
    6
    Mentioned
    24 Post(s)
    Tagged
    2 Thread(s)

    Re: افسانہ نگاری کا دوسرا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Sahira View Post
    عقلمند
    ا

    مگر اسکو علم ہو چکا تھا انکی زندگی میں وقت کا پہیہ الٹا گھوم چکا تھا۔


    واؤ تو تھا جس کا انتظار وہ شاہکار بالآخر آ ہی گیا۔ مجھے تو لگ رہا تھا کہ اس کے دیدار اس دفعہ نہیں ہونگے۔

    ویسے شبو کہاں گئی۔

    تو اس دفعہ جدیدیت والی کہانی آپ نے لکھ لی، بہت اچھے طریقے سے آپ نے ایمن اور عامر کے کردار کی نفسیات بیان کی ہے اور اس کے بعد اس کہانی کا مثبت انجام تو بہت ہی خوب رہا۔

    جو اللّٰہ کا حکم



  4. #4
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: افسانہ نگاری کا دوسرا مقابلہ

    Quote Originally Posted by مسز تنویر View Post
    بہہہہت خوب ساحرہ
    تو اسی لئے آج سارا دن نظر نہیں آئین کیونکہ افسانہ لکھا جا رھا تھا۔

    ویسے آپ کے اس افسانے کو کوئی پوزیشن ملے یا نہ ملے لیکن بہہہہت سے ممبرز کو یہ بات ضرور پتہ چل جائے گی کہ
    ایک امیریکن مسلم عورت ( آپ) اپنے شوھر کو اپنے سے بلند مرتبہ پر ھی سمجھتی ھے۔


    ویسے تو افسانے کی تعریف کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ اپنی تعریف آپ کر رھا ھے۔
    ایک دو معمولی سی غلطیاں جو مجھے نظر آئیں کہ آپ نے پانچویں پیرا گراف کی نویں لائن میں ایک جگہ عینی لکھا ھے لیکن افسانے میں کوئی کردار عینی کے نام کا نہیں ھے۔
    دوسرا یہ جو ساتویں پیرا گراف میں آپ نے سمائلی پوسٹ کی ھے افسانوی لحاظ سے یہ مجھے ٹھیک نہیں لگی۔

    اگر آپ وھاں جِم کے اس ایکشن کے متعلق لکھ دیتیں جو سمائلی والا کارٹون کر ررھا ھے یعنی سر کھجا رھا ھے تو ٹھیک نہ لگتا۔
    ھاھاھاھاھاھا

    اخر میں دعا کہ
    اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
    ہاہاہاہاہا ھما
    میرا افسانہ پسند کرنے کا بہت شکریہ ابھی سوچا اور ابھی لکھا دو گھنٹے کے اندر اندر۔۔ اصل میں نے جاب سے نکلتے نکلتے پوسٹ کیا تھا اور پھر چیک کرنے اور پروف ریڈینگ کا وقت نہیں مل سکا۔ یہ دونوں غلطیاں صرف ٹائپو ہیں۔ میں نے تو ایک سے ذیادہ ؟؟؟ مارک لکھے تھے مگر وہ اپنے ٓاپ بعد میں اسمائیلی میں بدل گئے وہاں جا کر اور مجھے دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔ آپکے کہنے پر دیکھا تو ہکابکا رہ گئ;d۔ میں تو خود بہت ہنس رھی ہوں کہ افسانہ میں سر کھجانے والے اسمائیلی کا تصور کتنا عجیب سا لگتا ھے;d۔

    مجھے تو لگتا ھے میری چند ایک پیاری دوستوں کو چھوڑ کر جنکے ساتھ واقعی میں دھوکہ ہوا ھے اور وہ حالات کی ڈسی ہوئی ہیں ، باقی سب عورتیں میری طرح ہی سوچتی ہیں اس سے مبرا ہو کر کہ وہ امریکہ میں رھتی ہوں یا پاکستان میں۔،

  5. #5
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: افسانہ نگاری کا دوسرا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Sumara View Post
    واؤ تو تھا جس کا انتظار وہ شاہکار بالآخر آ ہی گیا۔ مجھے تو لگ رہا تھا کہ اس کے دیدار اس دفعہ نہیں ہونگے۔




    ویسے شبو کہاں گئی۔

    تو اس دفعہ جدیدیت والی کہانی آپ نے لکھ لی، بہت اچھے طریقے سے آپ نے ایمن اور عامر کے کردار کی نفسیات بیان کی ہے اور اس کے بعد اس کہانی کا مثبت انجام تو بہت ہی خوب رہا۔

    [/CENTER]
    ھم
    شبو کو ایمن سےبدل ڈالا میں نے جدید کرنے کے چکر میں۔۔۔;d۔
    سمارا اس افسانے کو لکھنے کا 100% کریڈیٹ تمھیں دینے لگی ہوں کیونکہ تم نے مجھ سے یہ ڈنڈے کے زور پر لکھوایا ھے۔ میرا اس بار افسانہ لکھنے کا بالکل بھی ارادہ نہیں تھا مگر تم نے اتنا مجبور کر دیا کہ دو گھنٹے میں بیٹھے بیٹھے ٹاپک سوچا اور اسی وقت ساتھ ساتھ لکھتی چلی گئ۔ بیچ میں بار بار جاب کا کام کرنا پڑ رہا تھا تو تسلسل ٹوٹ رہا تھا مگر میں اسکو ایک ہی قسط میں ہر حال میں ختم کرنا چاہ رھی تھی ورنہ شاید پہلے افسانے کی طرح ٓادھا ادھورا لکھا رھ جاتا جوپہلا والا کئ دن پہلے شروع کیا تھا اور اب ویسے ہی ڈبے میں بند ہونے والا ھے۔
    ارے جدید ادب کہاں ھے؟ میں نے تو بہت ذیادہ کوشش کی کہ بیچ میں کوئی ہیروئین نا آئے صرف ہیرو اور پیڑ پودں اور ٓافس کی میز کرسیوں پر لکھ دوں مگر بات بنی نہیں۔ ناچار مجھے کہیں نا کہیں سے لا کر ایک لڑکی ڈالنی پڑی۔
    پسند کا شکریہ۔ باقی سب بہت رلا چکے ہیں اس لئے میں نے ہیپی اینڈینگ کروا دی ورنہ میرا ارادہ تو بہت ذیادہ رلانے کا بن رہا تھا پہلے۔

  6. #6
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    10,234
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: افسانہ نگاری کا دوسرا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Sahira View Post
    عقلمند



    ۔۔۔مشرقی اور مغربی محبت کے فرق کو واضح کرتے ہوئے اچھی تحریر تھی

    تبصرہ حاضر ہے

    یہ کہانی کئی رنگ لئے ہوئے تھی۔۔مگر دائرہ کار محبت تھی


    ۔عامر کے کردار کے کافی شیڈز تھے ایک لونگ ہسبینڈ ۔۔جو اپنی بیوی سے بھی محبت کرتا ہے لیکن اس کو اپنے سے آگے بڑھتے دیکھنا بھی وہ کھلے دل سے برداشت نہیں کر پا رہا۔۔


    ۔
    عام سے مرد کا عام رویہ جو ہمارے معاشرے میں عموما" ملاحظہ کیا جا سکتا ہے


    پھر اس کی اپنی بیوی کا اس کے سامنے دوسرے کے ساتھ انوالمنٹ اور وہ کچھ نہیں کر پاتا۔۔لیکن اس سب کے باوجود وہ ایمن کو دل سے نہیں نکال سکا جب اسے مدد کی ضرورت تھی عامر نے سب بھلاتے ہوئے اس کی مدد کی کیونکہ وہ اس سے سچی محبت کرتا
    تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟


    یہ پوائنٹ کچھ کلئر نہیں ہوا کیونکہ مشرقی مرد تو اپنی غیرت مندی کی وجہ سے مشہور ہیں۔۔
    اس کی مد د کرنا تو ٹھیک ہے مگر معاف کرنا بڑی اعلیٰ ظرفی کی بات ہے

    جم۔۔۔مغربی مرد ۔۔متاثرین مشرقی حسن۔۔۔۔۔ایک مطلبی شخص۔۔جو اپنی
    جان بچانے کے لئے اپنی محبت کو بھی قربان کر سکتا ہے۔۔


    اور ایمن۔۔۔۔ایک سمجھدار محبت کرنے والی لڑکی۔ اس کا کیریکٹر بہت ڈیٹیل میں لکھا کہ ایک عورت راہ فرار کب اختیار کرتی ہے

    پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مجھے اس کے اینڈ سے تھوڑا سا اختلاف ہے عام زندگی میں ایسا
    نہیں ہوتا۔۔۔شاید ہوتا بھی ہو لیکن عموما" نہیں ہوتا۔

    مجموعی طور پر ایک اچھی کہانی ۔۔۔انسانی رویوں کی عکاسی کرتے ہوئے۔
    ۔
    ساتھ ساتھ حالات حاضرہ پر تبصرہ بھی اچھا تھا ۔۔۔میری مراد ریسیشن سے ہے

    مجھے خاص طور پر وہ والا پارٹ بہت اچھا لگا جب وہ ایمن کو ٹرینڈ کر رہا تھا ۔۔۔اور ایمن کا کوا چلا ہنس کی چال والا جملہ


    گڈ جاب۔

  7. #7
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: افسانہ نگاری کا دوسرا مقابلہ

    بہت مزہٓ آیا دانی تمھارا اتنا تفصیلی تجزیہ پڑھکر،

    Quote Originally Posted by دانیہ View Post
    ۔۔۔مشرقی اور مغربی محبت کے فرق کو واضح کرتے ہوئے اچھی تحریر تھی

    تبصرہ حاضر ہے

    یہ کہانی کئی رنگ لئے ہوئے تھی۔۔مگر دائرہ کار محبت تھی
    بالکل ٹھیک سمجھا حالانکہ میں نے اس بار غیر رومینٹک افسانہ لکھنے کاحلف اٹھایا تھا پھر بھی ایسا ہی لکھ گیا

    ۔عامر کے کردار کے کافی شیڈز تھے ایک لونگ ہسبینڈ ۔۔جو اپنی بیوی سے بھی محبت کرتا ہے لیکن اس کو اپنے سے آگے بڑھتے دیکھنا بھی وہ کھلے دل سے برداشت نہیں کر پا رہا۔۔

    عام سے مرد کا عام رویہ جو ہمارے معاشرے میں عموما" ملاحظہ کیا جا سکتا ہے
    ہمارے ہاں عموما ایسا رویہ دیکھنے کو عام ملتا ھے۔

    پھر اس کی اپنی بیوی کا اس کے سامنے دوسرے کے ساتھ انوالمنٹ اور وہ کچھ نہیں کر پاتا۔۔لیکن اس سب کے باوجود وہ ایمن کو دل سے نہیں نکال سکا جب اسے مدد کی ضرورت تھی عامر نے سب بھلاتے ہوئے اس کی مدد کی کیونکہ وہ اس سے سچی محبت کرتا
    تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
    مدد کرنے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ دل دل میں ابھی بھی اپنی بیوی سے بہت پیار کرتا تھا اور اسکو یہ بھی معلوم تھا ایمن کھبی بھی جم کے ساتھ ایک منٹ کے لئے بھی اسکی نظروں سے اوجھل نہیں ہوئی تھی، گویا وہ اسکی پاکیزگی اور پارسائی کا سب سے بڑا گواہ خود ہی ہی تو تھا،

    یہ پوائنٹ کچھ کلئر نہیں ہوا کیونکہ مشرقی مرد تو اپنی غیرت مندی کی وجہ سے مشہور ہیں۔
    بالکل ٹھیک کہا، اگر وہ ایک بار بھی ایمن کو جم کے ساتھ کہیں باہر جاتے دیکھ لیتا تو پھر کھبی اس کی مدد نا کرتا اور نا اسکی محبت پر یقین رکھتا۔
    ابھی وہ صرف اس سے ناراض تھا ، خفا سا تھا صرف اسکے خود سے آگے بڑھ جانے کی وجہ سے، ابھی جم کے بارے میں اسے مختلف شک تو ہوتے تھے مگر یقین نہیں تھا کیونکہ وہ انکی گفتگو سن نہیں سکتا تھا صرف انکو دیکھ سکتا تھا،، ۔
    اس کی مد د کرنا تو ٹھیک ہے مگر معاف کرنا بڑی اعلیٰ ظرفی کی بات ہے
    اسی لئے معاف کر دیا کہ اسکو بھی معلوم تھا اسکی بیوی نے یہ تعلق نبھانے کی ٓاخری حد تک کوشش کی ھے
    جم۔۔۔مغربی مرد ۔۔متاثرین مشرقی حسن۔۔۔۔۔ایک مطلبی شخص۔۔جو اپنی
    جان بچانے کے لئے اپنی محبت کو بھی قربان کر سکتا ہے۔۔
    ھممممممممممم اسکا اندازہ تو ہر پاکستانی ورکنگ وویمن کو خوب ہوتا ہی ھے، یہ سب لوگ انڈین بیوٹی کے دیوانے ہیں اور ہر پاکستانی کو بھی انڈین ہی سمجھتے ہیں۔

    اور ایمن۔۔۔۔ایک سمجھدار محبت کرنے والی لڑکی۔ اس کا کیریکٹر بہت ڈیٹیل میں لکھا کہ ایک عورت راہ فرار کب اختیار کرتی ہے
    بالکل ٹھیک جانا کونکہ اس نے نباہ کے لئے اپنے ضبط کی آخری حد گنوا دی تھی۔
    پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مجھے اس کے اینڈ سے تھوڑا سا اختلاف ہے عام زندگی میں ایسا
    نہیں ہوتا۔۔۔شاید ہوتا بھی ہو لیکن عموما" نہیں ہوتا۔
    امید ھے اب نہیںہو گا جب سب تفصیل معلوم ہو چکی ھے;d۔
    مجموعی طور پر ایک اچھی کہانی ۔۔۔انسانی رویوں کی عکاسی کرتے ہوئے۔
    ۔
    ساتھ ساتھ حالات حاضرہ پر تبصرہ بھی اچھا تھا ۔۔۔میری مراد ریسیشن سے ہے

    مجھے خاص طور پر وہ والا پارٹ بہت اچھا لگا جب وہ ایمن کو ٹرینڈ کر رہا تھا ۔۔۔اور ایمن کا کوا چلا ہنس کی چال والا جملہ


    گڈ جاب۔
    بہت بہت شکریہ۔ مجھے بہت اچھا لگا یہ تبصرہ اور اگلا افسانہ لکھنے میں بہت کام آئے گا ان شااللہ

  8. #8
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: افسانہ نگاری کا دوسرا مقابلہ

    ویری نائس ساحرہ سس۔
    افسانہ پڑھ لیا۔ بہت ہی اچھا لکھا ہے آپ نے۔

    تفصیلی تبصرہ بھی کروں گی ان شاء اللہ۔
    ذرا تھوڑی فرصت ملے تو۔ کیونکہ شروع سے شروع کرنا ہے۔
    یہ سوچتے ہی تفصیلی پوسٹ لکھنے کا موڈ بدل کر کہیں اور گُھس جاتی ہوں۔
    ان شاء اللہ جس دن ہمت ہوئی اور موڈ میں آئی ۔ ۔ ۔ ۔ تو شروع کروں گی۔

    لیکن بہت اچھا لکھا آپ نے۔ واقعی ایسا ہی ہوتا ہے زیادہ تر۔ ۔ ۔

    7 deadly sins ہیں نا اِس دُنیا میں۔
    جیلیسی بھی اُس میں سے ایک ہے جو کہیں نہ کہیں ہر انسان میں ہی ہوتی ہے۔



    [SIGPIC][/SIGPIC]

  9. #9
    Sisters Society

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    CA, USA
    Posts
    16,003
    Blog Entries
    2
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: افسانہ نگاری کا دوسرا مقابلہ

    کہانی کا موضع اچھا ہے اور کہیں کے بھی آفس کلچر کی اچھی نمائندگی کرتا ہے-اسکے ساتھ ساتھ دو کشتیوں میں سوار لوگوں کے مسائل کی نشاندہی بھی کرتا ہے-عامر کا کردار جو کے آجکل عام ہوتا جا رہا ہے جو بیوی کو مکمل مشرقی بھی دیکھنا چاہتا ہے اور ایکٹیو بھی مگر اسکی ترقی بھی برداشت نہیں کر پاتا- ایمن کا کردار ایسی لڑکی کا جو نئے ماحول میں حیران اور پریشان ہے اور صحیح غلط کا فیصلہ نہیں کر پا رہی-

    مجموعی طور پر ایک اچھی کاوش ہے-





    The most common way people give up their power


    is by thinking they don't have any.


    ~ Alice Walker ~


    Courage is like a muscle.


    We strengthen it with use.


    ~ Ruth Gordon ~

  10. #10
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: افسانہ نگاری کا دوسرا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Wish View Post
    ویری نائس ساحرہ سس۔
    افسانہ پڑھ لیا۔ بہت ہی اچھا لکھا ہے آپ نے۔

    تفصیلی تبصرہ بھی کروں گی ان شاء اللہ۔
    ذرا تھوڑی فرصت ملے تو۔ کیونکہ شروع سے شروع کرنا ہے۔
    یہ سوچتے ہی تفصیلی پوسٹ لکھنے کا موڈ بدل کر کہیں اور گُھس جاتی ہوں۔
    ان شاء اللہ جس دن ہمت ہوئی اور موڈ میں آئی ۔ ۔ ۔ ۔ تو شروع کروں گی۔

    لیکن بہت اچھا لکھا آپ نے۔ واقعی ایسا ہی ہوتا ہے زیادہ تر۔ ۔ ۔

    7 deadly sins ہیں نا اِس دُنیا میں۔
    جیلیسی بھی اُس میں سے ایک ہے جو کہیں نہ کہیں ہر انسان میں ہی ہوتی ہے۔



    افسانہ پسند کرنے کے لئے بہت بہت شکریہ وش۔ کچھ بھی لکھتے وقت میری پوری کوشش یہی ہوتی ھے کہ اپنے ارد گرد کے حالات و واقعات کو جتنا بھی ممکن ہو سکے اپنے لفظوں میں اسی سچائی سے سموں سکوں۔ اس میں ذیادہ تر باتیں اپنی آنکھوں دیکھی ہوتی ہیں اور کچھ جگ بیتی ہوتی ھے جو ھمارے سامنے کسی دوسرے پر بیتتا ھم دیکھ رھے ہوتے ہیں اور کچھ تھوڑی بہت آپ بیتی بھی ہو سکتی ھے۔۔
    یہ موضوع مجھے آجکل ہر جگہ ہر گھر کی کہانی لگتا ھے۔ میرے ارد گرد ایسے بہت سے کردار بکھرے ہوئے ہیں جو کسی نا کسی طرح اسی صورتحال کا کہیں نا کہیں شکار ضرور ہیں۔ میں بہت غور سے ارد گرد کا جائزہ لیتی ہوں۔ یہ مسئلہ آجکل ہر طرف ضرورت سے ذیادہ بڑھتا ہی چلا جارا ھے۔ عورت بنیادی طور پر اتنی طاقت نہیں رکھتی کہ اتنے سارے محاذوں پر اکیلی لڑا کرے۔ وہ خود گھبرائی گھبرائی سی کینفیوز سی پھر رھی ھے۔

  11. #11
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: افسانہ نگاری کا دوسرا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Sahira View Post
    افسانہ پسند کرنے کے لئے بہت بہت شکریہ وش۔ کچھ بھی لکھتے وقت میری پوری کوشش یہی ہوتی ھے کہ اپنے ارد گرد کے حالات و واقعات کو جتنا بھی ممکن ہو سکے اپنے لفظوں میں اسی سچائی سے سموں سکوں۔ اس میں ذیادہ تر باتیں اپنی آنکھوں دیکھی ہوتی ہیں اور کچھ جگ بیتی ہوتی ھے جو ھمارے سامنے کسی دوسرے پر بیتتا ھم دیکھ رھے ہوتے ہیں اور کچھ تھوڑی بہت آپ بیتی بھی ہو سکتی ھے۔۔
    یہ موضوع مجھے آجکل ہر جگہ ہر گھر کی کہانی لگتا ھے۔ میرے ارد گرد ایسے بہت سے کردار بکھرے ہوئے ہیں جو کسی نا کسی طرح اسی صورتحال کا کہیں نا کہیں شکار ضرور ہیں۔ میں بہت غور سے ارد گرد کا جائزہ لیتی ہوں۔ یہ مسئلہ آجکل ہر طرف ضرورت سے ذیادہ بڑھتا ہی چلا جارا ھے۔ عورت بنیادی طعر پر اتنی طاقت نہیں رکھتی کہ اتنے سارے محاذوں پر اکیلی لڑا کرے۔ وہ خود گھبرائی گھبرائی سی کینفیوز سی پھر رھی ھے۔

    بالکل ٹھیک کہا ساھرہ۔
    اور آپکے پچھلے افسانے میں اور اس افسانے میں بھی لڑکی ذات کو لے کر ایک ہی دکھایا آپ نے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    اب یہ پتہ نہیں کہ ایسا آپ نے consciously کیا یا بس ہو گیا۔ ۔ ۔ ۔
    ؟؟


    [SIGPIC][/SIGPIC]

  12. #12
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: افسانہ نگاری کا دوسرا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Wish View Post
    بالکل ٹھیک کہا ساھرہ۔
    اور آپکے پچھلے افسانے میں اور اس افسانے میں بھی لڑکی ذات کو لے کر ایک ہی دکھایا آپ نے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    اب یہ پتہ نہیں کہ ایسا آپ نے consciously کیا یا بس ہو گیا۔ ۔ ۔ ۔
    ؟؟

    ھمممممممممممممم
    میں بھی یہی سوچ رھی تھی وش کہ واقعی میں انجانے میں مجھ سے ایسا ہو گیا ھے۔ میں نے دانستہ نہیں کیا۔ اتفاق سے خود بخود دونوں افسانے ایک ہی رخ پر چلے گئے ہیں۔ حلانکہ میں بہت بااعتماد عورتوں کو بھی جانتی ہوں ۔ان پر بھی لکھنا چاہتی ہوں۔ میں کوشش کروں گی اگر زندگی نے تیسرا افسانہ لکھنے کی اجازت اور مہلت دی تو وہ اس سے بہت الگ موضوع پر ہو گا اور ایک بہت بااعتماد عورت پر بھی ہو گا بلکہ اتنا اداسکن بھی نہیں ھو گا۔ بہت ھنسی مذاق والا لکھنے کا دل کر رہا تھا بس اچانکہ یہی خیال آ گیا اور دو گھنٹے میں لکھ دیا۔ اب دیکھیں باقی پڑھنے والوں کو بھی پسند آتا ھے یا نہیں؟؟؟؟۔

  13. #13
    Durre Nayab
    Guest

    Re: افسانہ نگاری کا دوسرا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Sahira View Post
    عقلمند

    اچھا میری بات غور سے سنو۔ عامر اپنی نئی نویلی دلہن ایمن کو سمجھاتے ہوئے بولا!
    "تمھیں آج سے بہت سے نئے سبق سیکھنا ہوں گے۔ یہاں جاب پر لوگ تمھاری خوبصورتی کی تعریف کریں گے تو برا مان کر چانٹا مت مار دینا اور نہ ہی بدلے میں یہ کہنے لگ جانا پلیزکہ " گھر میں تمھاری ماں بہنیں نہیں ہیں کیا " ۔
    بہت اچھے، مجھے اسٹوری حقیقت سے قریب محسوس ہوئی، جاب پلیس پر کمپیٹیشن بھی زیادہ ہوتا ہے اور اس ریسیشن کے دور میں ایک دوسرے کو گرا کر آگے بڑھنے اور اپنی جاب بچانے کا جیسے ٹرینڈ چل نکلا ہے۔ ہرسمنٹ بھی ہوتی ہے مگر ڈھکے چھپے انداز میں۔
    دوسرا عامر کا کیریکٹر ایک عام پاکستانی مرد کا کیریکٹر ہے وہ دنیا میں اپنی بیوی کی خوبصورتی اور ٹیلنٹ کا چرچا تو بڑے فخر سے کرتا ہے مگر خود سے آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتا۔ اختتام کچھ زیادہ ہی خوشگوار اورافسانوی تھا مگر اچھا لگا۔
    ویل ڈن بہت اچھے طریقے سے آپ نے عامر کی اور ایمن کی فیلنگز کو لفظوں میں پرویا۔

  14. #14
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: افسانہ نگاری کا دوسرا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Durre Nayab View Post
    بہت اچھے، مجھے اسٹوری حقیقت سے قریب محسوس ہوئی، جاب پلیس پر کمپیٹیشن بھی زیادہ ہوتا ہے اور اس ریسیشن کے دور میں ایک دوسرے کو گرا کر آگے بڑھنے اور اپنی جاب بچانے کا جیسے ٹرینڈ چل نکلا ہے۔ ہرسمنٹ بھی ہوتی ہے مگر ڈھکے چھپے انداز میں۔
    دوسرا عامر کا کیریکٹر ایک عام پاکستانی مرد کا کیریکٹر ہے وہ دنیا میں اپنی بیوی کی خوبصورتی اور ٹیلنٹ کا چرچا تو بڑے فخر سے کرتا ہے مگر خود سے آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتا۔ اختتام کچھ زیادہ ہی خوشگوار اورافسانوی تھا مگر اچھا لگا۔
    ویل ڈن بہت اچھے طریقے سے آپ نے عامر کی اور ایمن کی فیلنگز کو لفظوں میں پرویا۔

    افسانے کو پسند کرنے کا بہت بہت شکریہ دری ڈئیر۔ اس میں بہت کچھ حقیقی ھے اسی لئے تمھیں بھی حقیقت سے قریب لگا ،مگر میری ذاتی کہانی بالکل نہیں ھے، ہاں البتہ کہیں نا ناکہیں کچھ نا کچھ سچ میری طرف سے بھی کہیں شامل ضرور کیا جا رھا ھے۔ مجھے دوسری اسٹیٹیس کے بارے میں تو علم نہیں مگر ورجینا میں بےروز گاری اور خودکشی کی شرح بے انتہا بڑھ چکی ھے اور ایسے میں جاب کی اہمیت کوئی اور سمجھ نہیں سکتا۔ پوری زندگی کا محور جاب پر محیط ہو گیا ھے جیسے اور ایک دن تو میں نٹ پر پڑھکر حیران ہو رھی تھی لوگ کن کن طریقوں سے اپنی جاب بچانے کی خاطر خود اپنے پیارے دوستوں اور عزیزوں کو قربانی کا بکرا بنا کر فائر یا لے آف کروانے میں مصروف ہیں۔ سو پین فل۔ رشتے ناطے کہیں پیچھے رہ رھے ہیں اور خود غرضی انکی جگہ لے رھی ھے اکانومی نے تباہی مچا رکھی ھے۔ بس " رشتوں کا تعلق "یہی بتانا میرا مین مقصد بھی ھے اس افسانے میں اور میں خوش ہوں تقریبا سبکو یہ ویسے ہی سمجھ میں آیا ھے جیسے میں کہنا چاہتی تھی۔

  15. #15
    Durre Nayab
    Guest

    Re: افسانہ نگاری کا دوسرا مقابلہ

    Quote Originally Posted by Sahira View Post
    افسانے کو پسند کرنے کا بہت بہت شکریہ دری ڈئیر۔ اس میں بہت کچھ حقیقی ھے اسی لئے تمھیں بھی حقیقت سے قریب لگا ،مگر میری ذاتی کہانی بالکل نہیں ھے، ہاں البتہ کہیں نا ناکہیں کچھ نا کچھ سچ میری طرف سے بھی کہیں شامل ضرور کیا جا رھا ھے۔ مجھے دوسری اسٹیٹیس کے بارے میں تو علم نہیں مگر ورجینا میں بےروز گاری اور خودکشی کی شرح بے انتہا بڑھ چکی ھے اور ایسے میں جاب کی اہمیت کوئی اور سمجھ نہیں سکتا۔ پوری زندگی کا محور جاب پر محیط ہو گیا ھے جیسے اور ایک دن تو میں نٹ پر پڑھکر حیران ہو رھی تھی لوگ کن کن طریقوں سے اپنی جاب بچانے کی خاطر خود اپنے پیارے دوستوں اور عزیزوں کو قربانی کا بکرا بنا کر فائر یا لے آف کروانے میں مصروف ہیں۔ سو پین فل۔ رشتے ناطے کہیں پیچھے رہ رھے ہیں اور خود غرضی انکی جگہ لے رھی ھے اکانومی نے تباہی مچا رکھی ھے۔ بس " رشتوں کا تعلق "یہی بتانا میرا مین مقصد بھی ھے اس افسانے میں اور میں خوش ہوں تقریبا سبکو یہ ویسے ہی سمجھ میں آیا ھے جیسے میں کہنا چاہتی تھی۔
    یہ تو مجھے معلوم تھا کہ یہ آپ کی کہانی نہیں ہوسکتی کیونکہ آپ نے اپنی ککنگ کلاسس میں ابھی تک کسی جم کا ذکر نہیں کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ;d

    جوک اسائیڈ، جس طرح سے یورپین اور امریکن اکانومی سسٹم کولپس ہوا ہے اس کے بعد تو ایسے حالات ہونے ہی تھے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جہاں ہیومن رائٹ کی اس قدر ویلیو ہو اسی ملک کے شہری غریب ملکوں کے شہریوں کی طرھ دربدر ہوجائیں تو یہ واقعی ایک شرمناک بات ہے۔

Page 1 of 2 12 LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •