فرخ بھائی آپ نے خاصی رعائت برتی ھے میں تو سوچ رھا تھا کہ آپ مجھے آئیندہ لکھنے سے منع کر دیں گے_میں نے ایک اور تھریڈ میں اس کا اظہار کیا تھا کہ میری تحریر افسانے کے زمرے میں ھرگز نہیں آتی_ویسے افسانے کی اتنی باریکیوں کا مجھے بھی پتا نہیں تھا جتنی کی آپ نے بتائی ہیں_امید ھے آئیندہ افسانہ لکھنے میں آپ کی بتائی ھوئی باتیں کافی مددگار ثابت ھوں گی گو کہ توقع نہیں کہ ایک ھی جست میں ڈرامہ نگاری سے افسانہ نگاری کا فاصلہ طے کر سکوں گا_اس کے لیے آپ کی راھنمائی کی مستقل ضرورت ھو گی_
منٹو کی مثال خوب رھی_اس سے آئیندہ کے لیے ایک نئی امنگ ملی ھے_تبصرے کا بہت شکریہ
Quote Originally Posted by سخنور View Post
ماظق بھائی آپ کے اس افسانے میں ڈرامائی عنصر بہت زیادہ ہے۔ جس سے یہ افسانہ کم اور ایک ڈرامہ زیادہ دکھائی دیتا ہے ۔ ویسے میرے خیال میں آپ پاپولر ڈرامے اچھے لکھ سکتے ہیں کیونکہ ڈراموں میں ایسے ڈرامائی عناصر موجود ہوتے ہیں جو عام زندگی میں اس طرح وقوع پذیر نہیں ہوتے۔ یعنی اس افسانے کا جو آپ نے اختتام کیا ہے وہ ایسا ہے جو عام زندگی میں بہت شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ افسانے میں یہ بات بہت اہم ہے کہ آپ زندگی کے حقائق کو اس طرح بیان کریں جس طرح وہ عمومی طور پر وقوع پذیر ہوتے ہیں نا کہ ایسے حالات دکھائیں جو عام زندگی سے بہت دور ہوں۔ افسانے کے اختام میں سب لوگوں کا اکھٹا ہو جانا اور اس حادثے میں ہیرو کے اپنے ہی خاندان کے افراد کا مر جانا بہت ہی شاذ و نادر ہے۔ ایسے حالات کسی کو سبق دینے کے لئے تو دکھائے جا سکتے ہیں لیکن افسانہ نگار کا کام اخلاقی نتائج اخذ کرنا نہیں بلکہ صرف معاشرتی مسائل کی نشاندہی کر کے آگے بڑھ جانا ہے۔ معاشرتی مسائل سے کیسے نپٹنا ہے اور ان کا حل کیا کرنا ہے یہ بتانا افسانہ نگار کا نہیں بلکہ معاشرتی سائنسدانوں کا ہے جو ان علوم میں پیشہ ورانہ دسترس رکھتے ہیں۔ بقول منٹو کے "اگر یہ معاشرہ ننگا ہے تو میں اسے ایسے ہی پیش کروں گا۔ اسے کپڑے پہنانا میرا نہیں درزیوں کا کام ہے۔"