Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Page 1 of 2 12 LastLast
Results 1 to 15 of 21

Thread: [Afsana 009] موت کا رقص از ماظق

  1. #1
    Senior Member

    Join Date
    Jan 2008
    Posts
    29,003
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    [Afsana 009] موت کا رقص از ماظق

    افسانہ 9 از ماظق ۔








    موت کا رقص


    پورے گاؤں میں سب پیار سے اسے گُڈی کہتے تھے اور ایسا کچھ غلط بھی نہیں کہتے تھے_وہ لگتی بھی تو جاپانی گڑیا جیسی ہی تھی__خوبصرت چہرہ،ہلکے براؤن بال،سبز آنکھیں گوری رنگت بالکل کسی مصور کی بنائی ھوئی جیتی جاگتی تصویر کا گمان ھوتا تھا_جتنی صورت اچھی تھی اتنی ہی وہ سیرت کی بھی اچھی تھی اسی لئے سارا گاؤں اس کا گرویدہ تھا_گھر میں وہ کل چار بہن بھائی تھے اس کا نمبر دوسرا تھا_اس سے بڑا ایک بھائی عمران تھا پھر ایک چھوٹی بہن امینہ اور پھر ایک اور چھوٹا بھائی عرفان تھا__سب ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے__

    خدا نے جتنی اچھی صورت بنائی تھی نصیب اس قدر اچھے نہ تھے__باپ کی کچھ زمین تھی جس پر کھیتی باڑی سے ان کی ضروریات پوری نہیں ہوتی تھیں_بڑے بیٹے نے گاؤں میں موجود اسکول سے مڈل پاس کی تو باپ نے اپنے ایک جاننے والے کے توسط سے اسے شہر محنت مزدوری کے لئے بھیج دیا_اب وہ وہاں جی ٹی روڈ کے کنارے بنے ھوئے ایک ریستوران میں ویٹر کا کام کرنے لگا__اس طرح کچھ اضافی آمدنی سے ان کے حالات قدرے بہتر ہو گئے تھے_


    *******



    وقت کا پہیہ چلتا رہا_عمران کی عمر اکیس سال ہو گئی تھی اسے ریستوران میں کام کرتے ہوئے پانچ برس ہو گئے__اس دوران وہ ھر عید وغیرہ پر اور اس کے علاوہ دو مہینے بعد بھی ایک دو روز کے لئے گاؤں چلا جاتا تھا__وہ جب اپنی تنخواہ ماں کے ہاتھوں پر رکھتا تو ماں اسے ڈھیر ساری دعائیں دیتی اور وہ خوش ہو کر بالکل بچوں کی طرح ماں سے لپٹ جاتا تھا_


    اب کی بار جب وہ گھر آیا تو اس کی ماں نے اسے کہا بیٹا "گڈی" اب سیانی ہو گئی ہے اور اس کے رشتے آ رہے ہیں ہم سوچ رہے ہیں جلدی سے اس کے ہاتھ پیلے کر کے اپنا فرض پورا کر دیں__لیکن اس کے لئے ہمیں کافی پیسوں کی ضرورت ہو گی__میں نے کچھ پیسے جوڑ رکھے ہیں لیکن اتنی ذیادہ مہنگائی میں وہ رقم بہت معمولی ھے_ میں اپنی بیٹی کو بہت سارا جہیز دینا چاہتی ہوں تا کہ بعد میں کوئی اسے طعنے نہ دے سکے__وہ یہ کہہ کر بیٹے کی طرف جواب طلب نظروں سے دیکھنے لگی_



    میں بھی یہی چاہتا ھوں ماں مگر سمجھ نہیں آتا کہ اتنی رقم کا بندوست کیسے کریں گے_میں اگر اپنے مالک سے قرضہ بھی مانگوں تو چند ہزار سے زیادہ نہیں ملے گا__وہ کچھ تفکر انگیز انداز میں بولا_اس کے چہرے سے پریشانی عیاں تھی_



    بیٹا کچھ تو کرنا ہی پڑے گا_آج کل لوگ شادی سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ لڑکی جہیز کتنا لائے گی_غریب کی بیٹیاں تو گھر میں رشتے کے انتظار میں بوڑھی ہو جاتی ہیں_اس کی ماں نے بجھے ہوئے لہجے میں کہا_



    میں کوشش کروں گا کہیں سے کچھ پیسے ہاتھ آ جائیں__اپنے دوستوں سے بھی بات کروں گا_آپ فکر نہ کریں اللہ نے چاہا تو سب بہتر ہو گا__وہ ماں کو تسلی دیتے ہوئے بولا__بات کرت ہوئے اس کی آواز اس کے چہرے کا ساتھ نہیں دے رہی تھی_





    ******************


    جب بھی چاہیں اک نئی صورت بنا لیتے ہیں لوگ
    ایک چہرے پر نیا چہرہ سجا لیتے ہیں لوگ
    ریستوران میں گونجنے والی ٹیپ کی آواز کے ساتھ ساتھ عمران بھی گنگنا رہا تھا_اسے موسیقی سے اتنی دلچسپی نہیں تھی لیکن وہ جب بھی پریشان ہوتا تھا تو خود کو بہلانے کے لئے ایسا ہی کیا کرتا تھا_

    پچھلے چند دنوں سے ریستوران میں کچھ پراسرار سے لوگ آنے لگے تھے_وہ وہاں کھانا کھا لینے کے بعد بھی کافی دیر تک بیٹھے رہتے تھے_عمران جب بھی انہیں "سرو" کرتا تو وہ اسے اچھی خاصی ٹپ بھی دیتے تھے_آج بھی عمران ان کے پاس کھانا لے کر آیا تو ان میں سے ایک فوراً بولا "کیا بات ہے "نکے" ہم نے تو فرائی گوشت کا آرڈر نہیں دیا ہم نے چکن تکے کے لئے کہا تھا اور تم فرائی گوشت لے آئے ہو_سب خیریت ہے نا_طبیعت تو ٹھیک ہے نا_بات کرنے والے کے لہجے میں غصہ نہیں تھا_

    عمران چونکتے ہوئے بولا__معافی چاہتا ہوں جناب__غلطی ہو گئی_آج واقعی میری طبعت ٹھیک نہیں ہے__

    آج نہیں پچھلے دو تین سے یہی حال ہے تمہارا_ہم پچھلے ایک مہینے سے یہاں آ رہے ہیں__تم پہلے تو ایسے نہ تھے_اگر کچھ پریشانی ہے تو ہمیں بتاؤ_ہو سکتا ہے ہم تمہارے کسی کام آ سکیں__آخر بندہ ہی بندے کا وسیلہ ہوتا ہے__اس آدمی نے مسکراتے ہوئے کہا_

    عمران کو تو جیسے موقع چاہیئے تھا__اس نے اپنے تمام حالات سے ان لوگوں کو آگاہ کر دیا__اس نے یہ بھی بتایا کہ پچھلے چند دنوں سے وہ رقم کے لئے اپنے دوستوں اور رشتے داروں تک سے کہہ چکا ہے لیکن سب نے اپنی اپنی مجبوریاں بتا کر انکار کر دیا ہے__سمجھ میں نہیں آتا کہ اب کیا کرے_

    اچھا۔ ۔ ۔۔ اچھا تو یہ بات ہے__کچھ کرتے ہیں__تم پچھلے ایک مہینے سے ہماری خدمت کر رہے ہو تو ہم بھی کوشش کریں گے کہ تمہارے کسی کام آئیں_شام کو کسی وقت ہمارے ڈیرے پر آؤ__وہاں حاجی صاحب سے ملو__وہ بہت اچھے ہیں ہمیشہ غریبوں کی مدد کرتے ہیں__ضرورت مندوں کے کام آتے ہیں__وہ ضرور تمہاری مدد کریں گے__اب پریشان مت ہو اور ہمیں جلدی سے کھانا کھلاؤ__

    عمران بے یقینی کے عالم میں شام ہوتے ہی ان کے بتائے ہوئے پتے پر پہنچ گیا__وہ ایک حویلی نما گھر تھا جسے وہ لوگ ڈیرہ بولتے تھے_وہاں ان لوگوں کے علاوہ جو ریستوران میں کھانا کھانے آتے تھے اور بھی کچھ لوگ موجود تھے__عمران جیسے ہی وہاں پہنچا ان لوگوں نے اسے فوراً حاجی صاحب کے پاس پہچا دیا_عمران حاجی صاحب کو دیکھ کر کچھ نروس ہو گیا__اس کے ساتھ آنے والے نے عمران کا رسمی تعارف کروایا_اس کے رخصت ہونے کے بعد حاجی صاحب مسکراتے ہوئے بولے مجھے سب پتا لگ چکا ہے_ان لوگوں نے تمہاری پریشانی سے مجھے کل ہی آگاہ کر دیا تھا__

    دیکھو بیٹا۔ ۔ ۔ اس دنیا میں رہنے کے لئے صرف محنت کی نہیں اپنے حق کے لیے لڑنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے__یہاں سب ایک دوسرے کو لوٹنے ایک دوسرے کو کھانے میں لگے ہوئے ہیں_تم سارا دن ریستوران میں کام کرتے ہو لیکن تمہیں اتنی اجرت نہیں ملتی کے ڈھنگ کے کپڑے پہن سکو یا دو وقت کی اچھی روٹی کھا سکو جب کہ ریستوران کا مالک لاکھوں میں کھیلتا ہو گا_ہر طرف یہی ہو رہا ہے_ان لٹیروں سے سب چھین لینا چاہیئے__معاشرے میں موجود بھیڑیوں کا خاتمہ کرنا چاہیئے_لٹیروں کو ان کے انجام تک پہنچانا چاہیئے_ہم بھی یہی کرتے ہیں_بس ہمارا طریقہ ذرا مختلف ہے__اگر تم چاہتے ہو کہ اپنی بہن کی شادی اطمینان سے دھوم دھام سے کر سکو تو تمہیں ہماری جدو جہد میں ہمارا ساتھ دینا ہو گا_ہم وعدہ کرتے ہیں تمہیں تمہاری محنت کا پورا معاوضہ دیا جائے گا_حاجی صاحب نے قدرے تیز لہجے میں کہا_
    مگر مجھے کام کیا کرنا ہو گا_عمران کے لہجے میں الجھن تھی_


    اطمینان رکھو تم سے جو بھی کام لیا جائے گا وہ تم اور تمہارے جیسے لوگوں کی بہتری کے لئے ہی ہے_یاد رکھو سر اٹھا کر جینا ہے تو اپنے حق کے لئے اٹھ کھڑے ہو_اب تم جاؤ اور اچھی طرح سوچ سمجھ لو_تمہارے پاس ابھی وقت ہے ہمارے ساتھ شامل ہونے کے بعد پھر واپسی کا راستہ نہیں ہو گا_اس وقت تک نہیں ہو گا جب تک ہم اپنے ملک کو ظالموں کے شکنجے سے آزاد نہ کروا لیں_

    واپسی پر عمران تمام رستے پریشان رہا_خدا جانے کیسا کام لینا چاہتے ہیں مجھ سے_کیا میں ان کی مرضی کے مطابق کام کر سکوں گا_کیا میں ان لوگوں سے انتقام لے سکوں گا جو بقول حاجی صاحب لٹیرے ہیں جن کی وجہ سے ہمارے گھروں میں اندھیرے ہیں_جن کی وجہ سے ہمیں اکثر بھوکا سونا پڑتا ہے_جو ہم سے کام پورے سے زیادہ کرواتے ہیں لیکن اجرت میں ڈنڈی مارتے ہیں__میں کیا کروں،کون ہے جو مجھے صحیح مشورہ دے__

    پتا نہیں رستہ کب ختم ہوا وہ اس وقت چونکا جب اس کے ساتھ ہی کام کرنے والے ایک لڑکے نے اسے بتایا کہ گاؤں سے اس کا باپ بہت دیر سے آیا ہوا ہے اور اس کا انتظار کر رہا ہے__وہ فوراً ریستوران میں ہی موجود اپنے چھوٹے سے کمرے کی طرف گیا__اپنے باپ کو سلام کیا اور گھر کے حالات دریافت کرنے لگا_

    گھر میں ویسے تو سب خیریت ہی خیریت ہے لیکن تمہاری بہن کی طرف سے ہر وقت فکر رہتی ہے_جب سے نمبردار کا بیٹا شہر سے آیا ہے وہ اکثر ہمارے گھر کے آس پاس کھڑا رہتا ہے_زمانہ خراب ہے بیٹا_میں چاہتا ہوں "گُڈی" کی رخصتی جلد سے جلد ہو جائے_بس کچھ پیسے ہاتھ آ جائیں__عمران کے باپ کے لہجے میں پریشانی واضع تھی_

    آپ فکر نہ کریں بابا__میں پوری کوشش کر رہا ہوں کہ کہیں سے کچھ انتظام ہو جائے_اللہ بہتر کرے گا_عمران اپنے باپ کو تسلی دیتے ہوئے بولا_
    کہاں سے ہو گا انتظام__کم از کم ایک لاکھ روپیہ چاہیئے سوچتا ہوں زمین بیچ دوں دو ڈھائی لاکھ کی تو بِک ہی جائے گی لیکن پھر سوچتا ہوں زمیں کے سہارے ہمارے دن گزر رہے ہیں__زمین نہ ہو گی تو پھر کیا کریں گے اور پھر میری ایک بیٹی تو نہیں ہے امینہ بھی ہے__عرفان ابھی بہت چھوٹا ہے بڑا ہوتا تو کچھ ذمے داری وہ بھی اٹھاتا__دن رات ان پریشانیوں کی وجہ سے تمہاری ماں بھی بیمار رہنے لگی ہے_عمران کے باپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے_

    آج سمجھ میں آ رہا تھا کہ لوگ بیٹی کے ساتھ خدا سے اس کے نصیب کیوں مانگتے ہیں_دور جہالت میں لوگ بیٹیوں کو زبح کر دیا کرتے تھے_زندہ درگور کر دیتے تھے مگر آج انہیں ایک پاکیزہ رشتہ دینے سے پہلے دولت میں تولا جاتا ہے_وہ بھی باپ تھا_وہ بھی مجبور تھا_

    عمران بولا_بابا میں نے ایک اور جگہ نوکری کے لیے کہا ہے_ایک جگہ بات بنتی نظر آ رہی ہے_ابھی بھی وہیں سے آ رہا ہوں_اگر مجھے وہ نوکری مل گئی تو تو اچھی تنخواہ کے ساتھ وہ مجھے کچھ ایڈوانس بھی دیں گے__بس آپ دعا کریں میں وہاں کامیاب ہو جاؤں_عمران نے وہیں بیٹھے بیٹھے فیصلہ کر لیا کہ کچھ بھی ہو وہ ضرور حاجی صاحب کی بات مان لے گا_وہ ان کے لیے کام کرنے پر تیار ہو گیا تھا_

    آج حالات اسے اس بازار میں لے آئے تھے جہاں مجبوریاں بکتی ہیں_جہاں رشتوں کی قیمت پر زنگی خرید لی جاتی ہے_جہاں ایک ظلم کو ختم کرنے کے لئے ایک اور ظلم کیا جاتا ہے_

    اگلے دن وہ شام سے پہلے ہی حاجی صاحب کے ڈیرے پر پہنچ گیا_حاجی صاحب کل کی طرح آج بھی بڑے تپاک سے ملے__عمران نے جھجکتے ہوئے اپنے آنے کا مدعا بیان کیا اور حاجی صاحب کے ساتھ کام کرنے پر اپنی آمدگی ظاہر کی_حاجی صاحب سنجیدگی سے بولے__

    دیکھو بیٹا! یہ کام بہت خطرناک ہے لیکن اگر ہمت سے کام لو گے تو کچھ بھی نہیں ہو گا__ابھی کچھ دن ٹریننگ کے لیے ہمارے ساتھ رہو_پھر کچھ دنوں بعد تمہیں ایک کام سونپا جائے گا_بس یوں سمجھ لو تمہارا امتحان ہو گا_اگر تم اس میں کامیاب ہو گئے تو ہم تمہیں مالا مال کر دیں گے__اس وقت تمہیں ایک لاکھ روپے بطور ایڈوانس دے رہے ہیں تا کہ تم اپنے گھر والوں کو یہ پیغام دے سکو کہ اب تم اچھی جگہ کام کر رہے ہو_یوں تمہاری بہن کی شادی بھی ہو جائے گی_ یہ بات کرتے ہوئے عمران نے پہلی بار حاجی صاحب کے چہرے پر مکاری کے آثار دیکھے تھے_کہتے ہیں شیطان کبھی اپنے اصلی صورت کے ساتھ سامنے نہیں آتا_ہمیشہ خوبصورتی کا لبادہ اوڑھ کر گمراہ کرتا ہے_پرہیز گار اور ایمان والے اس کے دھوکے میں نہیں آتے اس لیے شیطان پہلے ایمان پر وار کرتا ہے_آج عمران کے ایمان پر وار ہو گیا تھا_


    ********


    عمران جلد ہی وہاں سے لوٹ آیا__اس کے ایک ہاتھ میں ایک لاکھ روپے تھے تو دوسرے ہاتھ میں مجبوریوں کی ہتھکڑی_ایک ہاتھ میں بہن کا سہاگ تھا دوسرے ہاتھ میں اپنی ہی بے کفن لاش _آج یوں لگ رہا تھا جیسے ایک پہاڑ سے نکل کے وہ کسی دوسرے پہاڑ کے نیچے آ گیا ہے_اس کا باپ اسی کا منتظر تھا_اس نے باپ سے آنکھیں چراتے ہوئے کچھ سچ اور کچھ جھوٹ پر مبنی اپنی کہانی کہہ دی_اسے اطمینان دلانے کے لیے آج اس نے پہلی بار جھوٹ بولا تھا_ان روپوں میں کتنی طاقت تھی_ساری عمر ایمان کا درس دینے والا،سچ بولنے کی تاکید کرنے والا باپ ناکام ہو گیا اور کاغذ کے چند بے جان نوٹ جیت گئے_کبھی کبھی ہم اپنوں کے لئے بھی جھوٹ بولتے ہیں__

    اگلی صبح اس نے ایک لاکھ روپے دے کر باپ کو رخصت کیا_
    بہن کا بوجھ اس کے کاندھوں سے اتر چکا تھا_اس نے سکھ کی ایک گہری سانس لی اور آئیندہ کے لئے تیاری کرنے لگا_آج سے اسے ٹریننگ شروع کرنی تھی_اس کا امتحان بس شروع ہونے ہی والا تھا_اب وہ اس امتحان کے لیے تیار تھا_


    ******


    سارا گاؤں "گڈی" کی شادی کی تیاری کر رہا تھا_ایک بہت اچھی جگہ اس کا رشتہ طے پا گیا تھا_اگلے مہینے شادی کی تاریخ رکھی جا چکی تھی_آج صبح ہی صبح "گڈی" کے ماں باپ اس کی شادی کی خریداری کے لیے اس کے ہمراہ شہر کے لیے روانہ ہوئے تھے_


    ******


    عمران کو ابتدائی طور پر ایک "مشن" سونپ دیا گیا تھا_وہ اس کے لیے پوری طرح تیار تھا__اسے ایک بہت اہم سیاسی شخصیت کی گاڑی میں بارود رکھنا تھا_کام بہت ہوشیاری سے کرنے کی تاکید کے ساتھ حاجی صاحب نے اسے رخصت کیا تھا__خطرہ بہت تھا لیکن بقول حاجی صاحب یہ سیاست دان عوام کی تقدیروں سے کھلتے ہیں_ان کی وجہ سے آج مہنگائی ہے،بے روز گاری ہے__

    عمران ان لوگوں کو شیطان کا دوسرا روپ سمجھنے لگا تھا_وہ ایک شیطان کو ختم کرنے کے لیے پوری طرح تیار تھا_اسے اس کی گاڑی میں ٹائم بم فٹ کرنا تھا_وہ بہت ہوشیاری سے اس سیاستدان کی گاڑی تک پہنچ چکا تھا_اس کے ایک ہاتھ میں ایک سفری بیگ تھا جس میں بم رکھا ہوا تھا_اسے بتا دیا گیا تھا کہ وہ سیاستدان آج ایک مارکیٹ میں ایک نئی تعمیر ہونے والی سڑک کا افتتاح کرنے جا رہا ہے__

    جس وقت عمران وہاں پہنچا تو سیاستدان آ چکا تھا_اس کی گاڑی قریب ہی پارک کی گئی تھی_عمران کسی طرح چھپتے چھپاتے اس کی گاڑی تک پہنچا اور اپنا کام مکمل کر دیا_اس نے پہلا ہی معرکہ سر کر لیا تھا_وہ بہت خوش تھا_اسے حاجی صاحب سے انعام کی توقع تھی_ٹھیک ایک گھنٹے بعد خبر آنے والی تھی کہ ایک مشہور و معروف سیاستدان کی گاڑی میں بم دھماکہ ہوا ہے جس میں وہ انتقال کر گیا_


    *********


    پنڈھال لوگوں سے بھرا ہوا تھا_یوں تو یہ سڑک کی افتتاحی تقریب تھی لیکن الیکشن کے دن قریب آنے والے تھے اس لیے یہ تقریب انتخابی جلسے کی صورت اختیار کر گئی تھی_اس سیاستدان کے سپورٹر اس کے حق میں تقریریں کرنے لگے_ایک کے بعد ایک آتا گیا اور سیاستدان کو دیر ہوتی گئی_اسے بھی جانے کی جلدی نہیں تھی_موت برحق ہے لیکن اس کا آخری وقت ابھی نہیں آیا تھا_



    ********


    "گُڈی" شہر میں آ کر بہت خوش تھی_وہ پہلے بھی کئی بار شہر آ چکی تھی لیکن آج اسے اپنے لیے خریداری کرنے کا موقع مل رہا تھا_وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ بہت دیر سے مختلف سامان خرید رہی تھی_اس نے اپنی پسند سے اپنی شادی کا ایک عروسی لباس بھی خریدا تھا_حقیقت میں اب وہ تینوں تھک گئے تھے_آج دھوپ بھی قدرے تیز تھی اور سہ پہر ہونے کو آئی تھی کہ انہوں نے کچھ نہیں کھایا تھا_وہیں قریب ہی ایک سڑک پر وہ ایک شربت کے ٹھیلے کو دیکھ کر رک گئے__

    وہاں سے "گڈی" کے باپ نے شربت کے تین گلاس لیے اور قریب ہی کھڑی ہوئی ایک گاڑی کے سائے میں بیٹھ کر پینے لگے کہ اچانک اس گاڑی میں زور دار دھماکہ ہوا اور آس پاس کھڑے ہوئے لوگ چیخ و پکار کرنے لگے_کچھ کی لاشیں وہیں سڑک پر بکھر گئیں اور بہت سے زخمی مدد کے لیے پکارنے لگے_"گُڈی" اور اس کے ماں باپ پیاس بجھانے آئے تھے_انہیں کیا خبر تھی کہ کہ جن گلاسوں میں شربت پی رہے تھے ان میں موت اپنا رقص کر رہی ہے_

    وہ تینوں اب اس دنیا میں نہیں تھے_قریب ہی بجلی کی تاروں پر ایک عروسی لباس یوں لہرا رہا تھا جیسے اپنے پہننے والے کے نہ ملنے پر ماتم کر رہا ہو_کچھ لوگ عروسی لباس خریدنے نکلتے ہیں لیکن کفں لے کر آ جاتے ہیں_کچھ بیٹے زندگی کی تلاش میں موت لے آتے ہیں_آج عمران ان کے لیے موت ہی تو لے آیا تھا_


    ********

    وہ چارہ گر مرے زخموں کو چھیڑنے والا
    دوا کو چھوڑ کے دینے لگا دعائیں مجھے

  2. #2
    Senior Member

    Join Date
    Feb 2008
    Posts
    11,946
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: [Afsana 009] موت کا رقص از ماظق

    اسلام علیکم
    بہت ہی بے مثال افسانہ ہےدل کوچھو گیا۔شکریہ

  3. #3
    Sisters Society

    Join Date
    Feb 2008
    Location
    CA, USA
    Posts
    16,003
    Blog Entries
    2
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: [Afsana 009] موت کا رقص از ماظق

    بہترین





    The most common way people give up their power


    is by thinking they don't have any.


    ~ Alice Walker ~


    Courage is like a muscle.


    We strengthen it with use.


    ~ Ruth Gordon ~

  4. #4
    Senior Member

    Join Date
    Jan 2008
    Posts
    29,003
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: [Afsana 009] موت کا رقص از ماظق

    آپ دونوں کا بہت شکریہ
    کیا اس افسانے پر کوئی تنقید بھی نہیں کرے گا_
    ;dسیکھے ھوؤں کو سب سکھا رھے ھیں_ھمیں کون سکھائے گا_

    وہ چارہ گر مرے زخموں کو چھیڑنے والا
    دوا کو چھوڑ کے دینے لگا دعائیں مجھے

  5. #5
    Section Managers

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    27,433
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1 Thread(s)

    Re: [Afsana 009] موت کا رقص از ماظق

    تنقید تو پتہ نہیں کون کرے، تعریف میں کر دیتی ہوں۔
    تو جی ہوا یوں کے افسانے کا سٹارٹ پڑھ کے یوں لگا کہ یہ کوئی رومانوی کہانی ہو گی، جیسے آپ نے گڈی کی تفصیل بیان کی۔
    اس کے بعد آپ کے دوسرے کریکٹر عمران کی انٹری نے افسانے کو ٹریک پہ چڑھا دیا۔ اس افسانے میں لوگوں کے حالات، مشکلات۔ ۔ ۔ ادھوری خواہشات، جذبات، ہر چیز بہت اچھے سے بیان کی ہے۔

    اور یہ تحریت ہمارے معاشرے کے ایک بہت ہی سیاہ پہلو کی طرف متوجہ کرواتی ہے جس نے ہمیں تمام دنیا کے آگے شرمندہ کیا ہوا ہے۔ کہ کیسے لوگ اپنے ہی لوگوں کا غلط استعمال کرتے ہیں۔

    بہت اچھا لگا یہ کہانی پڑھ کے، اس میں ویک پوائینٹ ہے یا نہیں، اور اگر ہے تو کیا یہ تو اب فرخ بھائی ہی کسی دن موڈ میں آئے تو بتائیں گے۔

    [SIGPIC][/SIGPIC]

  6. #6
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    5,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: [Afsana 009] موت کا رقص از ماظق

    ماظق بھائی اگر اجازت ہو تو کچھ عرض کروں؟
    کون ہوتا ہے حریفِ مئے مرد افگنِ عشق
    ہے مکرّر لبِ ساقی پہ صلا میرے بعد

    -- غالب

  7. #7
    Senior Member

    Join Date
    Jan 2008
    Posts
    29,003
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: [Afsana 009] موت کا رقص از ماظق

    قبلہ میری خوش قسمتی ھے کہ آپ اس پر تبصرہ کریں_
    مجھے ایک بھر پور اور تعمیری تنقید کی اشد ضرورت ھے اور یہ آپ سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا_
    Quote Originally Posted by سخنور View Post
    ماظق بھائی اگر اجازت ہو تو کچھ عرض کروں؟

    وہ چارہ گر مرے زخموں کو چھیڑنے والا
    دوا کو چھوڑ کے دینے لگا دعائیں مجھے

  8. #8
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    6,921
    Mentioned
    8 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: [Afsana 009] موت کا رقص از ماظق

    ماظق بھائی گستاخی معاف۔ یہ جو گڈی کے نین نقش بیان کیے ہیں اے کیہڑے پنڈ دی اے۔ یورپ دا کوئی پنڈ اے؟، ساڈے ایتھے تے ساریاں کالیاں کالیاں ہوندیاں نے۔
    بہت اچھا افسانہ ہے ویسے دیل ڈن۔ مجھے کوئی زیادہ سمجھ تو ہے نہیں جو کیڑے نکالوں۔ مگر یہ ہے کہ اختتام اچانک ہی ہوگیا۔ ایسا مجھے لگتا۔ جتنا ٹائم کہانی کو اٹھانے میں لیا آپ نے اس سے کہیں کم میں اختتام کردیا۔ باقی ماہرین کی آراء کے ہم سب ہی منتظر ہیں۔
    شکریہ

  9. #9
    Senior Member

    Join Date
    Jan 2008
    Posts
    29,003
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: [Afsana 009] موت کا رقص از ماظق

    بھائی جی یہ گڈی دیسی ھے اگر آغاز میں ایسا نہ لکھتا تو بہت سے لوگوں نے پڑھنا ھی نہیں تھا_ویسے بھی قارئین رونے دھونے والی تحریریں زرا کم کم پڑھتے ھیں_پسند کرنے کا شکریہ
    Quote Originally Posted by ہاشمی View Post
    ماظق بھائی گستاخی معاف۔ یہ جو گڈی کے نین نقش بیان کیے ہیں اے کیہڑے پنڈ دی اے۔ یورپ دا کوئی پنڈ اے؟، ساڈے ایتھے تے ساریاں کالیاں کالیاں ہوندیاں نے۔
    بہت اچھا افسانہ ہے ویسے دیل ڈن۔ مجھے کوئی زیادہ سمجھ تو ہے نہیں جو کیڑے نکالوں۔ مگر یہ ہے کہ اختتام اچانک ہی ہوگیا۔ ایسا مجھے لگتا۔ جتنا ٹائم کہانی کو اٹھانے میں لیا آپ نے اس سے کہیں کم میں اختتام کردیا۔ باقی ماہرین کی آراء کے ہم سب ہی منتظر ہیں۔
    شکریہ

    وہ چارہ گر مرے زخموں کو چھیڑنے والا
    دوا کو چھوڑ کے دینے لگا دعائیں مجھے

  10. #10
    Khuloos
    Guest

    Re: [Afsana 009] موت کا رقص از ماظق

    Quote Originally Posted by ہاشمی View Post
    ماظق بھائی گستاخی معاف۔ یہ جو گڈی کے نین نقش بیان کیے ہیں اے کیہڑے پنڈ دی اے۔ یورپ دا کوئی پنڈ اے؟، ساڈے ایتھے تے ساریاں کالیاں کالیاں ہوندیاں نے۔
    اسے بالکل یوں سمجھیں ہاشمی بھائی! جیسے یہ اردو فورم ، اردو افسانے پر آپ کے اردو تبصرے میں دو پنجابی کی سطریں۔ ۔ ۔ :P

    ویسے یہ پالیسی 9004 کے تحت آتی ہیں ۔ ۔ ۔ ؛)

  11. #11
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    6,921
    Mentioned
    8 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: [Afsana 009] موت کا رقص از ماظق

    سسٹر خلوص آپ کا خلوص سر آنکھوں پر۔ مگر میری پرخلوص عرض بھی سن لیں کہ فریڈم آف ایکسپریشن کا قائل ہوں اس کو زبان کی قید میں نہیں رہنے دیتا اظہار بیک وقت تین زبانوں میں بھی ہو توکوئی مضائقہ نہیں۔ ایک بار تو میں نے اپنی بھاگاں جی پر رعب ڈالنے کے لئے فارسی میں بھی اظہار کردیا تھا اپنا مدعا کیونکہ وہ فارسی پٹھان ہیں۔ اور جو پالیسی کا نمبر دیا ہے میں اس پالیسی سے میری کوئی دعا سلام نہیں ہے۔ اس لئے انجانے کے گناہ معاف۔ ہیں جی

  12. #12
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    5,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: [Afsana 009] موت کا رقص از ماظق

    ماظق بھائی آپ کے اس افسانے میں ڈرامائی عنصر بہت زیادہ ہے۔ جس سے یہ افسانہ کم اور ایک ڈرامہ زیادہ دکھائی دیتا ہے ۔ ویسے میرے خیال میں آپ پاپولر ڈرامے اچھے لکھ سکتے ہیں کیونکہ ڈراموں میں ایسے ڈرامائی عناصر موجود ہوتے ہیں جو عام زندگی میں اس طرح وقوع پذیر نہیں ہوتے۔ یعنی اس افسانے کا جو آپ نے اختتام کیا ہے وہ ایسا ہے جو عام زندگی میں بہت شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ افسانے میں یہ بات بہت اہم ہے کہ آپ زندگی کے حقائق کو اس طرح بیان کریں جس طرح وہ عمومی طور پر وقوع پذیر ہوتے ہیں نا کہ ایسے حالات دکھائیں جو عام زندگی سے بہت دور ہوں۔ افسانے کے اختام میں سب لوگوں کا اکھٹا ہو جانا اور اس حادثے میں ہیرو کے اپنے ہی خاندان کے افراد کا مر جانا بہت ہی شاذ و نادر ہے۔ ایسے حالات کسی کو سبق دینے کے لئے تو دکھائے جا سکتے ہیں لیکن افسانہ نگار کا کام اخلاقی نتائج اخذ کرنا نہیں بلکہ صرف معاشرتی مسائل کی نشاندہی کر کے آگے بڑھ جانا ہے۔ معاشرتی مسائل سے کیسے نپٹنا ہے اور ان کا حل کیا کرنا ہے یہ بتانا افسانہ نگار کا نہیں بلکہ معاشرتی سائنسدانوں کا ہے جو ان علوم میں پیشہ ورانہ دسترس رکھتے ہیں۔ بقول منٹو کے "اگر یہ معاشرہ ننگا ہے تو میں اسے ایسے ہی پیش کروں گا۔ اسے کپڑے پہنانا میرا نہیں درزیوں کا کام ہے۔"
    کون ہوتا ہے حریفِ مئے مرد افگنِ عشق
    ہے مکرّر لبِ ساقی پہ صلا میرے بعد

    -- غالب

  13. #13
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    11,169
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: [Afsana 009] موت کا رقص از ماظق


    فرخ بھائی منٹو صاحب سے یہ بھی پوچھ کر بتائیں کہ اگر درزی ھی ننگا ھو تو اسکو کپڑے کون پہنائے گا ـ

    Quote Originally Posted by سخنور View Post
    ماظق بھائی آپ کے اس افسانے میں ڈرامائی عنصر بہت زیادہ ہے۔ جس سے یہ افسانہ کم اور ایک ڈرامہ زیادہ دکھائی دیتا ہے ۔ ویسے میرے خیال میں آپ پاپولر ڈرامے اچھے لکھ سکتے ہیں کیونکہ ڈراموں میں ایسے ڈرامائی عناصر موجود ہوتے ہیں جو عام زندگی میں اس طرح وقوع پذیر نہیں ہوتے۔ یعنی اس افسانے کا جو آپ نے اختتام کیا ہے وہ ایسا ہے جو عام زندگی میں بہت شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ افسانے میں یہ بات بہت اہم ہے کہ آپ زندگی کے حقائق کو اس طرح بیان کریں جس طرح وہ عمومی طور پر وقوع پذیر ہوتے ہیں نا کہ ایسے حالات دکھائیں جو عام زندگی سے بہت دور ہوں۔ افسانے کے اختام میں سب لوگوں کا اکھٹا ہو جانا اور اس حادثے میں ہیرو کے اپنے ہی خاندان کے افراد کا مر جانا بہت ہی شاذ و نادر ہے۔ ایسے حالات کسی کو سبق دینے کے لئے تو دکھائے جا سکتے ہیں لیکن افسانہ نگار کا کام اخلاقی نتائج اخذ کرنا نہیں بلکہ صرف معاشرتی مسائل کی نشاندہی کر کے آگے بڑھ جانا ہے۔ معاشرتی مسائل سے کیسے نپٹنا ہے اور ان کا حل کیا کرنا ہے یہ بتانا افسانہ نگار کا نہیں بلکہ معاشرتی سائنسدانوں کا ہے جو ان علوم میں پیشہ ورانہ دسترس رکھتے ہیں۔ بقول منٹو کے "اگر یہ معاشرہ ننگا ہے تو میں اسے ایسے ہی پیش کروں گا۔ اسے کپڑے پہنانا میرا نہیں درزیوں کا کام ہے۔"
    اے شمع تیری عمرِ طبیعی ہے ایک رات​
    ہنس کر گزار یا اسے رو کر گزار دے​

  14. #14
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    5,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: [Afsana 009] موت کا رقص از ماظق

    Quote Originally Posted by عبداللہ View Post

    فرخ بھائی منٹو صاحب سے یہ بھی پوچھ کر بتائیں کہ اگر درزی ھی ننگا ھو تو اسکو کپڑے کون پہنائے گا ـ
    دوسرا درزی۔
    کون ہوتا ہے حریفِ مئے مرد افگنِ عشق
    ہے مکرّر لبِ ساقی پہ صلا میرے بعد

    -- غالب

  15. #15
    Senior Member

    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    11,169
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: [Afsana 009] موت کا رقص از ماظق

    Quote Originally Posted by سخنور View Post
    دوسرا درزی۔

    لیکن اگر دوسرا ، اور تیسرا درزی بھی ننگا ھو کیونکہ یہاں تو سبھی ننک دھڑنگ پڑے ھوئے ھیں
    اے شمع تیری عمرِ طبیعی ہے ایک رات​
    ہنس کر گزار یا اسے رو کر گزار دے​

Page 1 of 2 12 LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •