Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Page 2 of 2 FirstFirst 12
Results 16 to 21 of 21

Thread: [Afsana 009] موت کا رقص از ماظق

  1. #16
    Senior Member

    Join Date
    Jan 2008
    Posts
    29,003
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: [Afsana 009] موت کا رقص از ماظق

    فرخ بھائی آپ نے خاصی رعائت برتی ھے میں تو سوچ رھا تھا کہ آپ مجھے آئیندہ لکھنے سے منع کر دیں گے_میں نے ایک اور تھریڈ میں اس کا اظہار کیا تھا کہ میری تحریر افسانے کے زمرے میں ھرگز نہیں آتی_ویسے افسانے کی اتنی باریکیوں کا مجھے بھی پتا نہیں تھا جتنی کی آپ نے بتائی ہیں_امید ھے آئیندہ افسانہ لکھنے میں آپ کی بتائی ھوئی باتیں کافی مددگار ثابت ھوں گی گو کہ توقع نہیں کہ ایک ھی جست میں ڈرامہ نگاری سے افسانہ نگاری کا فاصلہ طے کر سکوں گا_اس کے لیے آپ کی راھنمائی کی مستقل ضرورت ھو گی_
    منٹو کی مثال خوب رھی_اس سے آئیندہ کے لیے ایک نئی امنگ ملی ھے_تبصرے کا بہت شکریہ
    Quote Originally Posted by سخنور View Post
    ماظق بھائی آپ کے اس افسانے میں ڈرامائی عنصر بہت زیادہ ہے۔ جس سے یہ افسانہ کم اور ایک ڈرامہ زیادہ دکھائی دیتا ہے ۔ ویسے میرے خیال میں آپ پاپولر ڈرامے اچھے لکھ سکتے ہیں کیونکہ ڈراموں میں ایسے ڈرامائی عناصر موجود ہوتے ہیں جو عام زندگی میں اس طرح وقوع پذیر نہیں ہوتے۔ یعنی اس افسانے کا جو آپ نے اختتام کیا ہے وہ ایسا ہے جو عام زندگی میں بہت شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ افسانے میں یہ بات بہت اہم ہے کہ آپ زندگی کے حقائق کو اس طرح بیان کریں جس طرح وہ عمومی طور پر وقوع پذیر ہوتے ہیں نا کہ ایسے حالات دکھائیں جو عام زندگی سے بہت دور ہوں۔ افسانے کے اختام میں سب لوگوں کا اکھٹا ہو جانا اور اس حادثے میں ہیرو کے اپنے ہی خاندان کے افراد کا مر جانا بہت ہی شاذ و نادر ہے۔ ایسے حالات کسی کو سبق دینے کے لئے تو دکھائے جا سکتے ہیں لیکن افسانہ نگار کا کام اخلاقی نتائج اخذ کرنا نہیں بلکہ صرف معاشرتی مسائل کی نشاندہی کر کے آگے بڑھ جانا ہے۔ معاشرتی مسائل سے کیسے نپٹنا ہے اور ان کا حل کیا کرنا ہے یہ بتانا افسانہ نگار کا نہیں بلکہ معاشرتی سائنسدانوں کا ہے جو ان علوم میں پیشہ ورانہ دسترس رکھتے ہیں۔ بقول منٹو کے "اگر یہ معاشرہ ننگا ہے تو میں اسے ایسے ہی پیش کروں گا۔ اسے کپڑے پہنانا میرا نہیں درزیوں کا کام ہے۔"

    وہ چارہ گر مرے زخموں کو چھیڑنے والا
    دوا کو چھوڑ کے دینے لگا دعائیں مجھے

  2. #17
    Administrators

    Join Date
    Oct 2006
    Posts
    15,175
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: [Afsana 009] موت کا رقص از ماظق

    نہایت اچھا لکھا ھے آپ نے۔
    کچھ جگہ املا کی غلطیاں محسوس ھو رھی ھیں۔ اس کے علاوہ یہ فونٹ مجھے پڑھنے میں دشوار محسوس ھوتا ھے پتہ نہیں دوسروں کو کیسا لگتا ھے۔
    منظر نگاری اچھی ھے۔ انجام کچھ چونکا دینے والا تھا۔ مجموعی طور پر نہایت اچھی تحریر ھے اور اب آپ سے مزید بہتر تحریروں کی توقع ھے۔
    Thanks.

  3. #18
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    5,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: [Afsana 009] موت کا رقص از ماظق

    Quote Originally Posted by ماظق View Post
    فرخ بھائی آپ نے خاصی رعائت برتی ھے میں تو سوچ رھا تھا کہ آپ مجھے آئیندہ لکھنے سے منع کر دیں گے_میں نے ایک اور تھریڈ میں اس کا اظہار کیا تھا کہ میری تحریر افسانے کے زمرے میں ھرگز نہیں آتی_ویسے افسانے کی اتنی باریکیوں کا مجھے بھی پتا نہیں تھا جتنی کی آپ نے بتائی ہیں_امید ھے آئیندہ افسانہ لکھنے میں آپ کی بتائی ھوئی باتیں کافی مددگار ثابت ھوں گی گو کہ توقع نہیں کہ ایک ھی جست میں ڈرامہ نگاری سے افسانہ نگاری کا فاصلہ طے کر سکوں گا_اس کے لیے آپ کی راھنمائی کی مستقل ضرورت ھو گی_
    منٹو کی مثال خوب رھی_اس سے آئیندہ کے لیے ایک نئی امنگ ملی ھے_تبصرے کا بہت شکریہ
    ماظق بھائی ۔ میں کیوں کسی کو روکوں گا لکھنے سے اگر کسی کو روکنا مقصود ہوتا تو یہ مقابلے ہی کیوں منعقد کروائے جاتے۔ میں صرف اس چیز سے احتراز برتتا ہوں کہ خواہ مخواہ کی تعریف نہ کی جائے کیوں کہ اس سے انسان زعمِ باطل میں مبتلا ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں وہ کبھی بھی اچھا نہیں لکھ سکتا۔ اس کی مثال ایسے ہے کہ گلوکاروں میں رقابت ہوتی ہے اور وہ اپنے یا اپنے خاندان کے علاوہ کسی اور کو اچھا گاتے نہیں دیکھ سکتا۔ تو جب کوئی گلوکار ان کے خاندان کے علاوہ گاتا ہے تو وہ ہر غلطی پر اسے بڑھ چڑھ کر داد دیتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں وہ گلوکار سمجھتا ہے کہ میں بہت اچھا گا رہا ہوں اور وہ ان غلطیوں پر پختہ ہو جاتا ہے۔ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ آپ سب بہتر لکھ سکیں اس کے لئے کچھ تنقید ضروری ہے۔ اور یہ کبھی بھی کوئی نہ سوچے کہ وہ لکھ نہیں سکتا۔ ہر انسان میں یہ صلاحیت ہے اگر وہ کوشش کرے۔
    گرتے ہیں شہ سوار ہی میدانِ جنگ میں
    وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے
    کون ہوتا ہے حریفِ مئے مرد افگنِ عشق
    ہے مکرّر لبِ ساقی پہ صلا میرے بعد

    -- غالب

  4. #19
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2008
    Posts
    5,200
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: [Afsana 009] موت کا رقص از ماظق

    السلام علیکم۔
    بہت اچھی تحریر ہے،ابتداء آپ نے گڈی سے کیا تو ایسا محسوس ہوا کہ مرکزی کردار گڈی کا ہوگا لیکن پھر مین کردار عمران کا نکل آیا۔۔اگر آپ افسانے کا آغاز اس ہوٹل سے کرتے جہاں عمران کام کرتا تھا اور وہ خیالوں میں گم ہو کر گڈی اور اسکے حالت زار کے بارے میں سوچتا تو میرے خیال میں اس سے افسانوی ٹچک آجاتی۔۔
    کچھ مکالمے جو مجھ کو بہت پسند آئیں۔

    بیٹا کچھ تو کرنا ہی پڑے گا_آج کل لوگ شادی سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ لڑکی جہیز کتنا لائے گی_غریب کی بیٹیاں تو گھر میں رشتے کے انتظار میں بوڑھی ہو جاتی ہیں

    آج سمجھ میں آ رہا تھا کہ لوگ بیٹی کے ساتھ خدا سے اس کے نصیب کیوں مانگتے ہیں_دور جہالت میں لوگ بیٹیوں کو زبح کر دیا کرتے تھے_زندہ درگور کر دیتے تھے مگر آج انہیں ایک پاکیزہ رشتہ دینے سے پہلے دولت میں تولا جاتا ہے_وہ بھی باپ تھا_وہ بھی مجبور تھا

    آج حالات اسے اس بازار میں لے آئے تھے جہاں مجبوریاں بکتی ہیں_جہاں رشتوں کی قیمت پر زنگی خرید لی جاتی ہے_جہاں ایک ظلم کو ختم کرنے کے لئے ایک اور ظلم کیا جاتا ہے


    All good things to those who wait.





  5. #20
    Senior Member

    Join Date
    Jan 2008
    Posts
    29,003
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: [Afsana 009] موت کا رقص از ماظق

    بہت شکریہ سلمان بھائی

    وہ چارہ گر مرے زخموں کو چھیڑنے والا
    دوا کو چھوڑ کے دینے لگا دعائیں مجھے

  6. #21
    Senior Member

    Join Date
    Jan 2008
    Posts
    29,003
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: [Afsana 009] موت کا رقص از ماظق

    متفق فرخ بھائی
    Quote Originally Posted by سخنور View Post
    ماظق بھائی ۔ میں کیوں کسی کو روکوں گا لکھنے سے اگر کسی کو روکنا مقصود ہوتا تو یہ مقابلے ہی کیوں منعقد کروائے جاتے۔ میں صرف اس چیز سے احتراز برتتا ہوں کہ خواہ مخواہ کی تعریف نہ کی جائے کیوں کہ اس سے انسان زعمِ باطل میں مبتلا ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں وہ کبھی بھی اچھا نہیں لکھ سکتا۔ اس کی مثال ایسے ہے کہ گلوکاروں میں رقابت ہوتی ہے اور وہ اپنے یا اپنے خاندان کے علاوہ کسی اور کو اچھا گاتے نہیں دیکھ سکتا۔ تو جب کوئی گلوکار ان کے خاندان کے علاوہ گاتا ہے تو وہ ہر غلطی پر اسے بڑھ چڑھ کر داد دیتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں وہ گلوکار سمجھتا ہے کہ میں بہت اچھا گا رہا ہوں اور وہ ان غلطیوں پر پختہ ہو جاتا ہے۔ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ آپ سب بہتر لکھ سکیں اس کے لئے کچھ تنقید ضروری ہے۔ اور یہ کبھی بھی کوئی نہ سوچے کہ وہ لکھ نہیں سکتا۔ ہر انسان میں یہ صلاحیت ہے اگر وہ کوشش کرے۔
    گرتے ہیں شہ سوار ہی میدانِ جنگ میں
    وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے

    وہ چارہ گر مرے زخموں کو چھیڑنے والا
    دوا کو چھوڑ کے دینے لگا دعائیں مجھے

Page 2 of 2 FirstFirst 12

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •