Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Results 1 to 8 of 8

Thread: جنگ 1965 کے واقعات

  1. #1
    Senior Member

    Join Date
    Oct 2007
    Posts
    278
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    جنگ 1965 کے واقعات

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    مجھے علم نہیں ہے کہ میں اپنا سوال صحیح جگہ پوسٹ کر رہی ہوں یا نہیں، مجھے انڈیا اور پاکستان کی 1965
    کی جنگ میں پیش آنے والے ایمان افروز واقعات کے بارے میں کسی کتاب کی ضرورت ہے۔
    ان میں سے کچھ سیارہ ڈائجسٹ اور اردو ڈائجسٹ میں بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔
    مثلاـ میں نے اپنی والدہ سے سنا ہے کہ ان دنوں آسمان پر ایک تلوار نظر آتی تھی اور وہ صبح فجر سے لے کر مغرب تک آسمان پر نظر آتی رہتی تھی۔ یا کچھ بزرگوں سے سنا ہے کہ فرشتے بھی اس جنگ میں مدد کیلئے زمین پر اترے تھے جو سفید اور سبز لباس میں تھے۔ اور اس سے ملتے جلتے کئی واقعات میں سنتی رہتی ہوں۔ کیا آپ میں سے کسی نے ایسا کوئی واقعہ اپنے بزرگوں سے سنا ہے؟
    اور اگر کوئی کتاب اس حوالے سے ہو تو ضرور بتائیے۔

    والسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

  2. #2
    Senior Member

    Join Date
    Feb 2008
    Posts
    41,670
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنگ 1965 کے واقعات

    ماھا جواد بہن جی کیا اس طرح کسی کی عمر جاننے کی کوشش تو نہیں ؟
    [SIGPIC]http://www.oneurdu.com/forum/image.php?type=sigpic&userid=20170&dateline=122953 3249[/SIGPIC]

  3. #3
    Senior Member

    Join Date
    Aug 2008
    Posts
    25,159
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنگ 1965 کے واقعات

    ماہا ایک دن مجہے یاد نھیں کسی پاکستانی بڑے مصنف کی کتاب میں ایسا ہی کچھ پڑھا تھا کہ جنگ کے بعد کسی ہندو نے کرنل لکھا ہے اپنی کتاب میں کہ جب وہ لوگ لاہور پر بم کے گولے گولےپھنکتے تھے تو ایک گرین چوغے والا شخص ہوا میں اڑتا ہوا تمام گولوں کو فٹ بال کی طرح کیچ کر کر کے اپنی بغل میں لٹکے تھیلے میں ڈالتا جاتا تھا۔ اس نے کوئ بم نھیں پھٹنے دیا۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ وہ بذات خود داتا صاحب تھے۔ باقی اللہ جانتا ہے۔ مجہے کچھ علم نھیں مگر یھ بات میں اکثر مختلف جگہ سنی اور لکہی دیکھی ہے، کاش مجہے یاد آجائے کونسی کتاب میں پڑھا تہا؟؟؟؟؟
    "There is no market for emotions.
    So,
    Never advertise feelings,
    Just display attitude"

  4. #4
    Senior Member

    Join Date
    Oct 2008
    Posts
    244
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    ستمبر ۔ ۔ ۔ جب پوری قوم ایثار و قربانی کا پیکر بن گئی۔


    دنیا میں ہمیشہ وہی قومیں زندہ وپائندہ رہتی ہیں جو اپنے
    نظریے اور وطن کی حفاظت کو اپنی جان و مال سے زیادہ عزیز رکھتی ہیں زمانے میں ان ہی کی کہانیاں اور داستانیں یاد و رقم کی جاتی ہیں جو آزمائش کی ہر گھڑی پر پورا اترنے کے ڈھنگ و انداز جانتی نہیں۔ کہتے ہیں کہ جب چینی لیڈر ماؤزے تنگ کا آخری وقت آیا وہ فالج زدہ تھے ان کی زبان میں لکنت آ چکی تھی۔ چین کے ممتاز رہنما اپنے قومی محسن کے سرہانے آبدیدہ کھڑے تھے انہوں نے ماؤزے تنگ پر جب نزع کی کیفیت طاری دیکھی تو ،،ماؤ،، سے استدعا کی کہ ،،بابا،، آپ اپنے وسیع و عریض تجربے کی روشنی میں ہماری قوم کے نام آخری پیغام کے طور پر چند نصیحت آموز کلمات ارشاد فرمائیں۔ چنانچہ ماؤزے تنگ نے کپکپاتے ہونٹوںاور لرزتے ہاتھوں کو جنبش دیتے ہوئے کہا کہ مجھے اس بات کا کوئی خدشہ یا ڈر نہیں ہے کہ چین میں کوئی بیرونی ملک حملہ کر کے اس کی آزادی سلب کر سکے گا۔ البتہ مجھے اس بات کا اندیشہ ضرور لاحق ہے کہ اگر ہماری قوم نے کسی وقت اپنی تاریخ کو فراموش کر دیا تو اسے کسی بیرونی حملہ آور کی ضرورت نہیں رہے گی اور وہ ایک نہ ایک روز آزادی کی نعمت سے ضرور محروم ہو جائے گی۔ چینی لیڈر ماؤزے تنگ کا یہ ارشاد اگرچہ چینی قوم کے نام تھا اور بلاشبہ موتیوں میں تولنے کے لائق ہی نہیںبلکہ آزادی کی نعمت کو برقرار رکھنے کا ایک تیر بہدف نسخہ بھی ہے جس پر عمل کر کے بہت کچھ کھویا ہوا پایا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا یہ قومی المیہ رہا ہے کہ ہم نے اپنی نوجوان نسل کو اپنے شاندار ماضی کی تاریخ سے تواتر کے ساتھ آگاہ نہیں کیا، حالانکہ ضرورت اس امر کی کی تھی کہ انہیں بتایا جاتا کہ پاکستان کیسے بنا تھا؟ یہ وہ اہم قومی ذمہ داری تھی جسے بدقسمتی سے ہم پورا کرنے میں بری طرح ناکام رہے اور جس کے نتیجے میں ہم نئی نسل کے دلوں میں تحریک پاکستان کے ایام کے جذبے اور ولولے منتقل نہ کر سکے۔ ایک وقت تھا جب مسلمان نہ صرف مسلم لیگ کے سبز ہلالی پرچم تلے متحد ہو گئے تھے،بلکہ انہوں نے اپنے تمام فروعی اختلافات کو طاق نسیاں کی زینت بنا دیا تھا اور جذبہ ایثار و قربانی کا مجسمہ بن گئے تھے۔ پوری قوم مالا کے دانوں کی طرح وحدت کی لڑی میں پروئی گئی تھی جس کے نتیجے میں ہمیں آزادی کی وہ گرنقدر نعمت حاصل ہوئی جو صدیوں کی جدوجہد کے بعد قوموں کا مقدر بنا کرتی ہے۔ ہندو اور انگریز کی غلامی سے نجات کامنظر ہمارے ازلی دشمن بھارت کو نہ اس وقت ایک آنکھ بھایا تھا اور نہ آج تک وہ ذہنی طور پر ہمارے ملک کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہوا ہے، تاہم جب پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک جیتی جاگتی حقیقت بن کر ابھرا آیا تو ہمارے دشمن بھارت نے زخم خوردہ سانپ کی طرح ہمارے وطن کی سلامتی کے خلاف نہ صرف سازشیں شروع کر دیں بلکہ حیدر آباد اور جونا گڑھ کی مسلم اکثریتی ریاستوں کو ہڑپ کر لیا۔ اس طرح کشمیر پر بھی غاصبانہ قبضہ جمالیا۔ اس کی ہوس ملک گیری کی آگ کی طرح ٹھنڈی ہونے میں نہیں آ رہی تھی کہ 6 ستمبر 1965ء کی رات ہمارے پاک وطن کی سرحد پر جنگ کااعلان کئے بغیر یلغار کر کے جنگ شروع کر دی۔ اس موقع پر دشمن کی پیش قدمی روکنے کے لئے ہمارے فوجی افسروں اور جوانوں نے جس بے مثال جرأت کا مظاہرہ کیا وہ ایمان افروز واقعات راجہ میجر عزیز بھٹی شہید۔ ۔ ۔ راشدمنہاس شہید۔ ۔ ۔ ایم محفوظ شہید۔ ۔ ۔ شبیر شریف شہید۔ ۔ ۔ محمد اکرم شہید اور سوار محمد حسین شہید جیسے شیر دل مجاہدوں کی قربانیوں کی بدولت ہماری قومی تاریخ کے صفحات پر چاند تاروں کی طرح جگمگا رہے ہیں۔یہ وہ وقت تھا جب پوری قوم خواب غفلت سے جاگ اٹھی تھی اور 6 ستمبر 1965ء کے روز فیلڈ مارشل ایوب خان کی تقریر نے ہماری قوم کو ایک نئی زندگی عطا کی تھی۔ انہوں نے کہا: ،،بھارت نے رات کے اندھیرے میں بزدلوں کی طرح پاکستان پر حملہ کیا ہے، لیکن وہ نہیں جانتا کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے۔ ہم کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے دشمن کی یلغار کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن کر بڑھیں گے اور اس وقت تک بڑھتے چلے جائیں گے، جب تک دشمن کی توپوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ٹھنڈا نہیں کر دیتے،،۔ اس کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ کسی نے ہماری قوم کے شانوں کو زور سے جھنجھوڑ کر بیدار کر دیا ہے۔ وطن عزیز کے تمام شاعر، ادیب، موسیقار، گلوکار، آرٹسٹ، علماء کرام، شہری و سول ڈیفنس کے رضا کار اور پولیس کے جوان ایثار اور قربانی کا پیکر بن گئے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ریڈیو اور ٹی وی کی انتظامیہ سے معاوضے کے طور پر کسی نے ایک پائی تک وصول نہ کی۔ اگر کسی شخص کے معاوضے کا چیک بن جاتا تو وہ اس چیک کو دفاعی فنڈ میں جمع کرا دیتا تھا۔ یہ ریکارڈ کی بات ہے کہ ملک بھر میں چوری، ڈاکے، اغوا، راہزنی اور باہمی جھگڑے کی ایک بھی واردات نہ ہوئی اور نہ ہی کہیں قتل و غارت گری کا مقدمہ درج ہوا۔ اتفاق و اتحاد کا وہ عدیم النظیر مظاہرہ تھا جس نے قوم کے دل و دماغ میں حب الوطنی کی ایک نئی روح پھونک دی تھی۔ چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں نے ،،ٹیڈی پیسہ ٹینک سکیم،، کے ذریعے لاکھوں روپے دفاعی فنڈ میں جمع کرائے۔ گلی گلی اور کوچے کوچے میں ریلیف کمیٹیاں بن گئیں جو فوجی جوانوں اور سرحدی علاقوں کے بے گھر مہمانوں کو اشیائے خوردنی اور زندگی کی دیگرضروریات اگلے مورچوں پر جا کر تقسیم کرتے تھے۔ لوگوں کے دلوں سے جنگ کا خوف بادلوں کے سائے کی طرح اڑ گیا اور وہ اپنے دشمن کو ہر لحاظ سے شکست دینے کے لئے پاک فوج کے دوش و بدوش خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ آسمان پر ہوائی جہازوں کی لڑائی کو اپنے مکانوں کی چھتوں اور گلی کوچوں میں کھڑے ہو کر اس طرح دیکھ رہے تھے کہ جس طرح بسنت کے تہوار پر لوگ پتنگوں کے پیچوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ واہگہ، کھیم کرن، سیالکوٹ، چونڈہ اور چھمب جوڑیاں کے مقامی افراد نے محاذوں پر جا کر فوجی جوانوں کے جذبوں کو قریب سے دیکھا، ایسے بھی لمحات دیکھے کہ سترہ روزہ جنگ کے دوران بسا اوقات کھانے کو کچھ میسر نہ ہوتا اور نہ ہی سکھ چین کی نیند اور آرام کرنے کا موقع۔ بھارتی فوج چھمب کے فلک بوس پہاڑوںکے فولادی مورچوں میں بیٹھ کر کھلے میدان میں پیش قدمی کرنے والے پاک فوج کے جوانوں پر اندھا دھند گولے برسا ر ہی تھی۔ آفرین ہماری فوج کے جیالوں کی ہمت مردانہ پر کہ وہ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہوئے اس حد تک آگے چلے گئے کہ وہ بزدل آہنی مورچوں سے دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ عینی شاہدین نے بددل دشمن کے بھگوڑے فوجیوں کی جوتیاں اور نیکریں دریائے توی کے کنارے (چھمب) کے میدان میں بکھری ہوئی دیکھیں جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ بھارتی بھگوڑے پاکستانی فوج سے اس حد تک خوفزدہ ہو گئے تھے کہ اپنے پاؤں کی جوتیاں تک چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اہل سیالکوٹ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے چونڈہ محاذ کی ٹینکوں کی خوفناک جنگ ہوتی ہوئی دیکھی بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ سارے بہادر جوانوں نے دشمن کے ٹینکوں کے آگے لیٹ کر وطن کے دفاع کے لئے اپنی جانیں نثار کر دی تھیں اور ایک انچ زمین پر دشمنوں کو قابض نہیں ہونے دیا تھا۔ یہ جنگ عالمی جنگ کے بعد تاریخ کی سب سے بڑی جنگ قرار پائی جس میں پاک فضائیہ کے طیاروں ایف 86 نے ٹینک شکن ہتھیاروں کے ذریعے جنگ کا نقشہ پلٹ دیاتھا۔ چونڈہ محاذ پر شہید ہونے والے دو مجاہدوں کا واقعہ بھلا کس محب وطن پاکستانی کو بھول سکتا ہے جو اس گاؤں کی مسجد کے پہلو میں امانتاً دفن ہوئے جن کو چند دنوں کے بعد ان کے لواحقین نے جب ان قبروں کی کھدائی کرا کر نکالا تو اس گاؤں کے لوگوں نے قبروں سے نکلنے والی عطر بیز خوشبو کا سہانہ نظارہ کیا بلکہ جب ان دونوں شہیدوں کے چہروں سے کفن سرکائے گئے تو ان کے چہرے گلاب کے پھولوں کی طرح تروتازہ دکھائی دیتے تھے۔ تاریخ کے اوراق اور عینی شاہدین کے مطابق ان کے ہونٹوں پر لازوال تبسم کھیل رہا تھا۔6 ستمبر کسی بھی سال کا ہو، وہ ان شہیدوں اور غازیوں کی یادوں کو تازہ کرتا رہے گا جو 1965ء کے ستمبر کی 6تاریخ کو مورچوں محاذوں اور میدانوں میں دوڑ دوڑ کر دشمن کو تلاش کرتے بھاگ بھاگ کر اس کے ٹینکوں کا پتہ چلاتے اور پھر کارنامے انجام دے کر بلاشبہ ایک ایسی نئی تاریخ لکھی جس کا حرف حرف، ورق ورق درخشاں ہے اور حالات کی اندھیری راتوں میں قندیل کی طرح روشن رہا کرے گا۔ 6ستمبر کو اور اس کے بعد 17 ستمبر تک پاکستان کی افواج کے افسروں اور جوانوں نے شجاعت اور بہادری کے جن کارناموں کو انجام دیا انہیںادیبوں، صحافیوںاور دیگر ارباب قلم نے اپنی تحریروں کے ذریعے محفوظ کرنے کی گئی گرانقدر کوششیں کی ہیں لیکن میں سمجھتاہوں کہ حق پھر بھی ادا نہیں ہو سکا کہ کارناموں کی عظمت بہت بلند اورناپیدا کنار ہے۔پاک فوج کے ہر سپاہی اور افسر نے 1965ء کو لاتعداد ایسی داستانیں اپنے پیچھے چھوڑیں، جن کا ہر عنوان حیرت انگیزہے۔ اس معرکے میں روسی ٹینکوں کا غرورخاک میں ملا دیا گیا اور 1962ء میں عوامی جمہوریہ چین سے جنگ آزما ہونیوالی بھارتی فوج کو قدم قدم پر داغ پسپائی دیا گیا۔ 6 ستمبر کا دن ہمارے لئے جنگ جیتنے والے شہیدوں، غازیوں اور مجاہدوں کی یادوں کے چراغ روشن کرنے، ان پر پھول نچھاور کرنے اور سلام پیش کرنے کا دین ہے۔ قارئین محترم! آج ہمیں اقوام عالم میں زندہ رہنے کے لئے صرف ایک دشمن کاسامنا ہی نہیں بہت سے محاذوں پر دشمنوں کا سامنا ہے، ہم نے جہالت کے خلاف جنگ لڑنی ہے۔ ۔ ۔ غربت کاخاتمہ کرنا ہے، اقتصادی خوشحالی کے لئے جان لڑانی ہے۔ معاشرتی برائیوں کا قلع قمع کرنا ہے۔ ۔ ۔ مذہبی فرقہ واریت کے خلاف ہتھیار اٹھانے ہیں۔ ۔ ۔ آیئے ہم عہد کریں سب محاذوں پر ملک دشمن عناصر کی گھٹیا سازشوں کو بے نقاب کرنے کے لئے متحد ہوں اور پاک وطن کی سلامتی کے لئے مل کر دشمن سے مقابلے کے لئے تجدید عہد کریں۔
    "TO KNOW ME IS TO LOVE ME"

  5. #5
    Member

    Join Date
    Jul 2007
    Posts
    46
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنگ 1965 کے واقعات

    I think k Mumtaz Mufti ki book ALAKH NAGRI main is ka kuch zikar hai
    [SIGPIC][/SIGPIC]

  6. #6
    Senior Member

    Join Date
    Apr 2007
    Posts
    509
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنگ 1965 کے واقعات

    ماہا جواد صاحبہ !
    کسی نے بھی آپ کی رہنمائی نہیں کی۔ بہرحال ایک مختصر سی فہرست حاضتر ہے۔ یہ سب کتابیں مشہور معروف جنگی وقائع نگار اور مصنف محترم عنائت اللہ کی تحریر ہیں جو کہ آپ کو مکتبہ داستان پٹیالہ گراؤنڈ (نزد ھال روڈ، میو ہستپال لاہور کی جانب)۔ سے مل جائیں گی۔ کتابوں کے نام ہیں۔
    بدر سے باٹا پور تک
    دو پلوں کی کہانی
    لاھور کی دپلیز پر
    پاک فضائیہ کی داستان شجاعت
    پرچم اڑتا رہا

    آپ یہ کہیں سے بھی خرید کر پڑھ سکتی ہیں، یہ بہت منگی بھی نہیں ہونگی۔


    شامی
    زندگی میں ایسا کوئی کام ضرور کر جائیے، کہ مرنے کے بعد آپ کے نام کو چند برس تک زندہ رکھ سکے۔


  7. #7
    Senior Member

    Join Date
    Jan 2008
    Posts
    1,117
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنگ 1965 کے واقعات

    ان میں ایک کتاب بدر سے باٹا پور تک کا لنک حاضر ھے
    پڑھیں اور ایمان کو تازہ کریں
    سیالکوٹ کے کچھ واقعات سنے ھیں انشاءاللہ ٹائم ملا تو شئیر کروں گا


    http://www.oneurdu.com/forums/showthread.php?t=76973
    دسمبر کیوں اتنا اداس ہوتا ہے

  8. #8
    Member

    Join Date
    Apr 2012
    Posts
    89
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: جنگ 1965 کے واقعات

    السلام علیکم
    یہ بلکل سچا واقعہ ہے- سبز کپڑے والی پورے ملک پر پھیلی ہوئی تھی-کراچی پر بھی بے انتہا بم برسائے گئے تھے-لیکن کراچی پر ایک بم بھی نہی گرا تھا-بعد میں جو انڈین فوجی گرفتار ہوئے وہ پوچھ رہے تھے کہ تمھاری سبز کپڑوں والی فوج کہاں ہے-میں اس زمانے میں بہت چھوٹی تھی لیکن کچھ کچھ یاد ہے

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •