Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Results 1 to 2 of 2

Thread: پرانے ساحلوں پر نیا گیت

  1. #1
    Senior Member

    Join Date
    Jan 2007
    Posts
    636
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    پرانے ساحلوں پر نیا گیت



    پرانے ساحلوں پر نیا گیت

    سمندر چاندنی میں رقص کرتا ہے
    پرندے بادلوں میں چھپ کے کیسے گنگناتے ہیں
    زمین کے بھید جیسے چاند تاروں کو بتاتے ہیں
    ہوا سرگوشیوں کے جال بنتی ہے
    میری آواز سنتی ہے
    تمھیں فرصت ملے تو دیکھنا
    لہروں میں اک کشتی ہے
    اور کشتی میں اک تنہا مسافر ہے
    مسافر کے لبوں پر واپسی کے گیت
    لہروں کی سبک گامی میں ڈھلتے
    داستاں کہتے
    جزیروں میں کہیں بہتے
    پرانے ساحلوں پر گونجتے رہتے
    کسی مانجھی کے نغموں سے گل مل کر پلٹتے رہیں
    تمھاری یاد کا صفحہ الٹتے ہیں
    ابھی کچھ رات باقی ہے
    تمھارا اور میرا ساتھ باقی ہے
    اندھیروں میں چھپا اک روشنی کا ہاتھ باقی ہے
    چلے آنا
    کہ ہم اس آنے والی صبح کو اک ساتھ دیکھیں گے

    Wassalaam<br /><br />KHALIL-UR-REHMAN

  2. #2
    Senior Member

    Join Date
    Jan 2008
    Posts
    29,003
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)

    Re: پرانے ساحلوں پر نیا گیت

    عمدہ انتخاب ہے۔

    وہ چارہ گر مرے زخموں کو چھیڑنے والا
    دوا کو چھوڑ کے دینے لگا دعائیں مجھے

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •