جستجوِ دل

کہیں چند منٹ کی جلدی بہت دیر نہ کردے؟

Rate this Entry

محسن آج بہت خوش تھا۔ آج اُس کی بیٹی کی چوتھی سالگرہ تھی۔ آج صبح جب وہ آفیس آرہا تھا تو اس کی بیٹی نے بڑے پیار سے اُس کے گلے میں اپنی ننھی سی باہیں ڈال کر اُس سے ڈھیروں چھوٹی چھوٹی فرمائشیں کی تھیں۔ اُس نے اُس کو گلے لگا کر خوب پیار کیا اور اُس سے وعدہ کیا تھا کہ وہ یہ سب چیزیں لیکر آئے گا اُس کے لیے شام کو سالگرہ کی تقریب میں۔ یہ سُن کر اپنی بیٹی کی چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں آنے والی خوشی کی چمک دیکھ کر وہ خوشی سے سرشار ہوگیا تھا۔

محسن کی کل کائنات اُس کی چھوٹی بیٹی اور اُس کی بیوی ہی تھی۔ وہ اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا اور اُس کے والدین کا انتقال اُس کے بچپن میں ہی ہوگیا تھا اور وہ بچپن سے ہی زمانے کی دھتکار، دھکے کھا کھا کر جیسے تیسے پڑھ لکھ کر بڑا ہوا تھا اور اب اُس کی یہی خواہش تھی کہ وہ اپنے بچوں کو وہ سب دے گا جو بچپن میں اُس کو نہ مل سکا، وہ سب خوشیاں جس سے وہ محروم رہا۔

وہ سالگرہ میں پہنچنے میں لیٹ ہو رہا تھا۔ آفیس سے نکل کر وہ سالگرہ کے تحفے لینے کے لیے گاڑی کو بھگاتا ہوا مارکیٹ کی طرف کا رُخ کیا۔ مارکیٹ سے اُس نے اپنی بیٹی کے لیے ڈھیروں کھلونے، اُسے پڑھ کر سُنانے کے لیے ڈھیروں کہانیوں کی کتابیں، اسکول کی کتابیں رکھنے کے لیے بیگ، اچھے سے کپٹروں کا جوڑا، جس کو پہن کر اُس کی بیٹی بالکل ننھی سی پری لگتی لیے اور گھر کو جانے والے روڈ پر گاڑی ڈال دی۔ چونکہ اُس کو دیر ہوگئی تھی اس لیے وہ گاڑی کو تیزی سے بھگاتا ہوا گھر کی جانب جارہا تھا اور اپنی بیٹی کے بارے میں سوچ رہا تھا جو یہ سب تحفے دیکھ کر کتنی خوش ہوگی۔ وہ اسی طرح کی سوچوں میں گم سامنے روڈ پر نظریں جمائے گاڑی کو تیزی سے بھگاتا ہوا گھر کو جا رہا تھاکہ اچانک ایک موڑ کاٹتے ہی سامنے روڈ پر ایک پانچ چھ سال کا بچہ نظر آیا جو اپنے والد کا ہاتھ چھوڑ کر اچانک فٹ پاتھ سے روڈ پر آگیا تھا۔ اُس نے بچے کو بچانے کی کوشش کی اُس کی گاڑی جو کافی تیز تھی بے قابو ہوکردیوار سے جا ٹکرائی اور اُس کے دماغ پر اندھیرا چھا گیا، وہ بیہوش ہوچکا تھا۔ اُس کی بیٹی کے کھلونے جو سائیڈ سیٹ پر رکھے تھے روڈ پر بکھرے پڑے تھے۔

لوگوں نے اُس کو جلدی جلدی گاڑی سے نکل کر اسپتال لیجانے لے لیے اُس کو ایمبولنس میں ڈالا۔ اُس کو ایمبولنس میں ہوش آیا تو سب سے پہلے اُس کو اپنی بیٹی اور بیوی کا خیال آیا کہ مجھے کچھ ہوجاتا تو میرے بعداُن کا کیا ہوتا؟ اُن کا خیال کون رکھتا؟ میری بیٹی کو کہانیاں کون سناتا؟ جو خواب میں نے اُس کے لیے دیکھے تھے اُن کو پورا کرنے میں کون اُس کی مدد کرتا؟ کیا اُس کی بیٹی بھی اُس کی طرح دوسرے بچوں کو کھلونوں سے کھیلتے دیکھتی رہتی؟ ایسے بہت سے سوالات سے جو اُس کے ذہن میں آرہے تھے جن کا جواب اُس کے پاس بھی نہیں تھا۔ کیا تھا اگر وہ کچھ منٹ دیر سے پہنچتا بجائے گاڑی بھگانے کے؟ کچھ منٹ کی جلدی نے بہت دیر کردی ہوتی اگر اُسے کچھ ہوجاتا۔

آج اُسے ایسے ہی بہت سے اور حادثات یاد آرہے تھے جو کہ صرف چند منٹ کی جلدی کی وجہ سے رونما ہوتے تھے اور کئی گھروں کے دئیے بجھا دیتے تھے، کئی گھروں کی خوشیاں اپنے ساتھ لے جاتے تھے، کئی لوگوں کی زندگی کا رُخ بدل دیتے تھے، کئی بچوں کے خواب بس خواب بن کر رہ جاتے تھے۔ آج زندگی نے محسن کو یہ موقع دے دیا تھا کہ وہ اپنی غلطیوں کو سدھار سکے اور اُن کی تلافی کرسکے۔ لیکن کیا ہمیں بھی کبھی زندگی ایسا موقع دے گی جب ہم اپنی کی گئی غلطیوں کی تلافی کرسکیں؟ شاید نہیں۔ ۔ ۔ تو کیوں نہ ہم چند منٹ جلدی پہنچنے کی بجائے کچھ دیر سے سہی مگر اپنے پیاروں کے پاس سلامت پہنچیں۔ آپکا کیا خیال ہے؟ کہیںچند منٹ کی جلدی بہت دیر نہ کردے۔ ۔ ۔

Submit "کہیں چند منٹ کی جلدی بہت دیر نہ کردے؟" to Digg Submit "کہیں چند منٹ کی جلدی بہت دیر نہ کردے؟" to del.icio.us Submit "کہیں چند منٹ کی جلدی بہت دیر نہ کردے؟" to StumbleUpon Submit "کہیں چند منٹ کی جلدی بہت دیر نہ کردے؟" to Google

Categories
Own Articles

Comments

  1. ابو لبابہ's Avatar
    بہت سارے لوگ جلدبازی میں اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں
    یہاں قطر میں عربی نوجوانوں کو دیکھتا ہوں اکثر راتوں کو ہائی وے پر ریس کر رہے ہوتے ہیں
    بہتوں کو جائے حادثہ پر ہی مردہ حالت میں دیکھ چکا ہوں
    افسوس ہوتا ہے کہ پیسے کی گرمی پر وہ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ نوجوان اولاد کی موت پر مضبوط سے مضبوط والدین بھی ٹوٹ جاتے ہیں
  2. Rubab's Avatar
    آپ اچھے بلاگ پوسٹ کرتے ہیں آرائیں بھائی، جن کا میسیج خاص ہوتا ہے۔
    جلد بازی کا مظاہرہ تو ہم روز ہی سڑکوں پہ دیکھتے ہیں۔ یہ عقل نہ جانے کب آئے گی کہ جلد بازی میں ہم صرف اپنی ہی نہیں بلکہ دوسروں کی زندگی بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔
  3. Arain's Avatar
    Quote Originally Posted by Khusroo
    بہت سارے لوگ جلدبازی میں اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں
    یہاں قطر میں عربی نوجوانوں کو دیکھتا ہوں اکثر راتوں کو ہائی وے پر ریس کر رہے ہوتے ہیں
    بہتوں کو جائے حادثہ پر ہی مردہ حالت میں دیکھ چکا ہوں
    افسوس ہوتا ہے کہ پیسے کی گرمی پر وہ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ نوجوان اولاد کی موت پر مضبوط سے مضبوط والدین بھی ٹوٹ جاتے ہیں
    صحیح کہا ۔ یہاں پاکستان میں ابھی اکثر لوگوں کو ون ویلنگ کرتے دیکھکر دکھ ہوتا ہے کہ تھرل کے نام پر یہ لوگ یہاں تو جان سے جاتے ہیں یا پھر تاعمر کی معزوری لے لیتے ہیں اور ساری عمر کا غم ان وقت کے ساتھ بوڑھے ہوتے کندھوں کو دے جاتے ہیں

    شکریہ خسرو بھائی
  4. Arain's Avatar
    Quote Originally Posted by Rubab
    آپ اچھے بلاگ پوسٹ کرتے ہیں آرائیں بھائی، جن کا میسیج خاص ہوتا ہے۔
    جلد بازی کا مظاہرہ تو ہم روز ہی سڑکوں پہ دیکھتے ہیں۔ یہ عقل نہ جانے کب آئے گی کہ جلد بازی میں ہم صرف اپنی ہی نہیں بلکہ دوسروں کی زندگی بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔
    شکریہ ربّاب سس
    بلکل ، ابھی کل ہی پولیس اسٹیشن سے کسی کو چھڑوانے جانے کا اتفاق ہوا ، دو موٹر سائیکل تیز رفتاری کی وجہ سے آپس میں ٹکر کر سامنے سے آتی گاڑی کے نیچے آگئے مرنے والوں نے تو معاف کردیا تھا پھر بھی ڈرائیور کو دو دن جیل میں رہنا پڑا کہ پولیس جب جا کر راضی ہو کہ ایسے وقت میں پولیس کا رویہ ایسا ہوتا ہے جیسے اُن کے گھر کا فرد مار دیا ہو گاڑی نے اور قصاص کی رقم اُن کا حق ہو لینا

    اسی لیے میں سب کو یہی کہتا ہوں کہ نہ پہنچنے سے بہتر ہے کہ بندہ دس منٹ لیٹ ہی پہنچ جائے