View RSS Feed

Rubab

افسانہ خالہ رضیہ۔۔۔ آڈیو فائل بمع تحریر

Rate this Entry
السلام علیکم


خالہ رضیہ کے نام سے لکھا یہ افسانہ ون اردو سیزن ون کے اختتام سے قبل لکھا ہوا میرا آخری افسانہ ہے جو فورم پہ پیش نہیں ہو سکا۔ یہ افسانہ ہانگ کانگ کی شام ریڈیو پروگرام میں شامل ہوا، اس کی آڈیو فائل عابد علی بیگ صاحب نے بنائی ہے جن کی آواز میں یہ افسانہ پیش کیا گیا ہے۔
اس افسانے کو اس شکل میں لانے میں، میں بنت احمد سس کی شکرگزار ہوں جنہوں نے اس افسانے کی کمی بیشی کو دور کرکے اس حتمی شکل تک پہنچایا۔
افسانے کی آڈیو فائل یہاں سنی جا سکتی ہے۔
https://www.facebook.com/HongKongKiS...c_location=ufi
********~~**************************************
خالہ رضیہ

گنجان بازار سے داہنے ہاتھ ایک پتلی سی گلی نکلتی ہے۔ اس گلی کے اختتام پہ کھلا میدان ہے جو خشک مٹی سے اٹا پڑا ہے۔ میدان میں کہیں کہیں چھوٹی چھوٹی خودرو جھاڑیاں اگ آئی ہیں ورنہ بالکل چٹیل ہے۔ چھوٹی عمر کے بچے بچیاں اور ہر عمر کے لڑکےاکثر ادھر کھیلتے پائے جاتے ہیں حالانکہ انہیں اس طرف آنے کی سخت ممانعت کی گئی ہے۔

اسی گلی کے آخری گھر میں ایک بڑھیا رہتی ہے۔۔ سوکھی چمرخ سی، جس کی کھال جھریوں کے بوجھ سے لٹک گئی ہے۔ دھول مٹی سے اٹا سر اور چہرہ، اسے مزید خوفناک بنادیتے ہیں، پھرجب وہ زبان کھولتی ہے تو چھوٹے سمجھ سے انجان بچے ماؤں کے پیچھے دبک جاتے ہیں اور جو اس کی باتوں کے معنی سمجھنے کی عمر میں ہوتے ہیں۔۔ وہ ایک دوسرے سے نظریں چرائے، کان منہ لپیٹے ادھر سے بھاگ اٹھتے ہیں۔۔ اس بڑھیا کو کبھی محلے والے خالہ رضیہ کے نام سے پکارتے تھے لیکن اب یہ بگڑ کے پاگل بڑھیا ہو گیا ہے۔

کہتے ہیں قطرہ بھر پانی بھی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ چاہے تو پتھر گھسا دے، اور اگر قطرہ بھر بھی نہ ملے تو مٹی سراپا پیاس بن جائے۔ پانی کی کمی اگر قحط سالی کا روپ دھار لے تو مٹی، دھول بن کے اڑنے لگتی ہے، کبھی بگولوں کی شکل میں اور کبھی طوفان کی صورت میں۔۔۔ ایسے میں بارش برس جائے تو یہی دھول بنی مٹی سوندھ کی مانند فضا میں مہک جاتی ہے۔ برسوں سے سینے میں چھپے بیجوں کو سبزے کی شکل میں پھیلا دیتی ہے۔ زندگی بن جاتی ہے، زندگی کی نوید بن جاتی ہے۔ لیکن اگر پیاس مستقل ہو جائے، قحط سالی گھر میں ڈیرا ڈال لے تو یہی ہریالی اگاتی مٹی، تڑخنے لگتی ہے ۔ اس میں دراڑیں پڑنے لگتی ہیں اور یہ ایسی زمین ہو جاتی ہے جہاں کچھ کاشت نہیں ہو سکتا۔ ایسی زمینیں بستی نہیں ہیں، وہاں سے مکین نقل مکانی کر جاتے ہیں۔ اور زمین تنہا سسکتی رہ جاتی ہے۔ ۔۔

اپنی جوانی میں جب خالہ رضیہ شادی ہو کر اس مکان میں آئی تھی تو اس سے زندگی کے سوتے پھوٹے تھے۔ وہ ایک سرسبز زمین کی مانند تھی، جس میں ہریالی تھی، شادابی تھی۔

اور پھر سال دو سال کے فرق سے اس سرسبز زمین میں تین پھول کھل گئے۔ تیسرے پھول کے کھلنے پہ خالہ رضیہ بھی کھل گئی۔ اس کی شادابی میں اضافہ ہو گیا۔ لیکن سال بھر بعد ہی اس کا شوہر تین بیٹیوں کا تحفہ دے کے کہیں ایسا گیا کہ پھر واپس خبر نہ دی۔ لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے تھے۔ کوئی کہتا کہ بیٹیوں کی ذمہ داری سے ڈر کے بھاگ گیا، کوئی کہتا کہ کوئی امیر ذادی اس پہ ریجھ گئی اور اسے اپنے ساتھ لے گئی۔ اور کوئی کہ غیر قانونی کاموں کے چکر میں خوب دولت کما رہا ہے، اب جب وہ روز نئی عورت لا سکتا ہے تو بےچاری رضیہ کے پاس کیوں آنے لگا۔

یہ باتیں خالہ رضیہ کے کانوں تک بھی پہنچ جاتی تھیں۔ ایسی ہر بات وہ بڑے حوصلے سے سنتی تھی۔۔۔ وہ ایک صابرہ عورت تھی۔ ایسی باتیں سننے پہ جہاں اسے اپنا صبر آزمانا پڑتا وہیں موقع پرست لوگوں کے حوصلے بلند ہو جاتے۔ ایسی ہر افواہ ایسے بے لگام حوصلوں کو بلندیوں کے نئے آسمان دکھاتی۔ لیکن خالہ رضیہ اپنے کھونٹے سے بندھی رہی۔۔ اسے امید تھی کہ جس نے چار گواہوں کی موجودگی میں قرآن پہ ہاتھ رکھ کے ان کی زندگی بھر کی ذمہ داری لی تھی وہ ضرور واپس آئے گا، اپنا وعدہ نبھائے گا۔ لیکن وہ نہیں آیا اور کئی آ گئے۔۔۔
ضرورت کے سو کام ہوتے تھے گھر سے باہر نکلنا ہی پڑتا تھا۔ طرح طرح کی باتیں کی جانے لگیں۔

“اری رضیہ۔۔۔”

“او رضیہ۔۔۔”

“کدھر جا رہی ہو۔۔۔”

“ارے کتنا انتظار کرے گی رضیہ۔۔۔۔ اور ہمیں کتنا کروائے گی۔۔۔ جانے والا واپس نہیں آئے گا۔۔۔ “

“تیری بھابھی میکے گئی ہوئی ہے ذرا واپسی پہ میری بات سنتی جانا۔۔۔۔ “

“انتہا ہو گئی انتظار کی، آئی نہ کچھ خبر میرے یار کی۔۔۔”

جتنے مرد اتنی نگاہیں۔۔۔ ۔۔ دنیا کی نگاہوں کے تیور بدلتے دیکھ کر وہ کسی نہ کسی بچی کی انگلی تھامے باہر نکلنے لگی تھی۔۔ مگر اس سب کے باوجود خالہ رضیہ کے گھر کے آگے جمگھٹا لگا رہنے لگا۔۔ اس نے چادر کا پلو اور نیچا کھینچ لیا۔۔۔ باہر نکلنے کے لئے ننھی بچی کا ساتھ مستقل بنالیا۔۔ مگر نیچی نگاہوں اور بند زبان نے لوگوں کے حوصلے اور بلند کردئیے۔۔۔ زبانیں کچھ اور کھول دیں۔۔ اور نگاہوں کے تیور تیر ہوگئے۔۔

وہ تنہا تھی اور تین تین بیٹیوں کا ساتھ تھا۔ اپنی تمام تر توجہ اپنی بیٹیوں کی پرورش اور زمانے کے سرد گرم سے محفوظ رکھے میں لگائے رکھی۔ عمر کی نقدی ڈھلنا شروع ہوئی تو اس نے اطمینان کی سانس لی رضیہ سے خالہ رضیہ تک کی منزل طے ہوئی۔ ۔۔ اپنے تئیں آبلہ پائی کا سفر تمام کیا۔۔ مگر اب گھر کے باہر مجمع پہلے سے تین گنا ہوگیا تھا۔۔ٹھٹھے اور بلند آواز ہوگئے تھے۔۔ایک پریشانی ہٹی نہیں تھی کہ دوسری آ موجود ہوئی۔۔۔ مشکلات کی بارش تھی کہ چھاجوں برس رہی تھی اور ایک لمحہ خشکی کا میسر نہیں۔۔۔۔ کوئی مصیبت سی مصیبت تھی۔

دنیا والوں کی نظریں اب اس کی بیٹیوں پہ تھیں۔ نظر رکھنے والے کئی ایک تھے مگر سر پر رکھنے والا ہاتھ کوئی ایک بھی نہیں تھا۔

محلے میں پھیلی باتوں کی وجہ سے اس کی لڑکیوں کے رشتے آنے سے پہلے ہی بند ہوگئے تھے۔۔۔ بڑی بیٹی کی عمر کا چاند گھٹنے والا ہوگیا تھا وہ اسے دعا کے لئے ایک پیر کے پاس لے گئی مگر جب واپس لوٹی تو تنہا تھی۔

لوگوں کی گردنیں مزید اونچی اور اس کے گھر کی دیواریں کچھ اور نیچی ہوگئی تھیں۔ اشارے کنایے فحش اور نظریں مزید بےباک ہوگئیں۔

خالہ کی دوسری بیٹی جدھر کام کرنے جاتی تھی، ادھر سے اس کا رشتہ آیا اور دروازے کے باہر اجتماع سن کر لوٹ گیا پھر اس کی بیٹی کو نئی جگہ نوکری تلاش کرنی پڑی۔ ایک روز اس نے نیا رشتہ اور نیا گھر تلاش کرلیا۔

خالہ کے گھر سر ہی سر امنڈ آئے اور دیواروں پر آنکھیں اگ آئیں۔

خالہ رضیہ بھی انسان تھی، مٹی سے بنا ہوا ایک وجود۔۔۔ مٹی کی تمام خصوصیات اس میں بھی بدرجہ اتم موجود تھیں۔ مٹی کی ہریالی سے لے کر تڑخنے تک کے تمام مراحل اس کی ذات پہ بھی اترے تھے۔ کہیں سے ٹھنڈی پھوار کی ایک بوند بھی وجود پہ نہیں گری تھی۔ کسی مہربان ذات نے سر پہ سایہ نہیں کیا تھا۔ برس ہا برس کی قحط سالی سے اس کے وجود کی مٹی تڑخنے لگی تھی۔

تیسری بیٹی پچھلی اندھیری کوٹھری کا جزو بن گئی خالہ رضیہ اسی کوٹھری میں اسے کھانا پینا دیتی اور کوسنے بھی اور پھر اس کے گھر سے اٹھتے بین، روز کا معمول ہی ہوگئے۔

اور پھر پورا ایک دن اور رات گزر گئے خالہ رضیہ کے گھر سے کوئی آواز نہیں ابھری۔۔۔ دوسرا دن ہوا۔۔۔ پھر تیسرے دن لوگ جمع ہوئے۔۔۔ پچھلی کوٹھری کا دروازہ کھلا تھا۔ خالہ رضیہ صحن میں ساکت تھی، اور حرکت مکوڑوں کی اس زندہ لکیر میں تھی جو کوٹھری میں جارہی تھی۔

اور پھر تدفین کا تیسرا روز تھا جب خالہ کے وجود کی دڑاریں کسی خود رو پودے کی طرح اس کی زبان پہ بھی اگ آئی تھیں۔ اور وہاں صرف کڑوی باتیں تھیں، کوسنے تھے۔ اور ننگی گالیاں تھیں۔۔۔

اب خالہ رضیہ کے گھر کا دروازہ ہمہ وقت کھلا رہتا ہے۔۔۔ مگر لوگ اس کے گھر کے سامنے سے گزرنے سے گریز کرتے ہیں یا بحالت مجبوری نظر بچا کر بھاگتے ہوئے گزرتے ہیں۔ کان منہ لپیٹ کر نکلتے ہیں مگر خالہ رضیہ کی آواز دور تک ان کا پیچھا کرتی ہے۔۔۔


Submit "افسانہ خالہ رضیہ۔۔۔ آڈیو فائل بمع تحریر" to Digg Submit "افسانہ خالہ رضیہ۔۔۔ آڈیو فائل بمع تحریر" to del.icio.us Submit "افسانہ خالہ رضیہ۔۔۔ آڈیو فائل بمع تحریر" to StumbleUpon Submit "افسانہ خالہ رضیہ۔۔۔ آڈیو فائل بمع تحریر" to Google

Categories
Uncategorized

Comments

Page 1 of 2 12 LastLast
  1. Usama's Avatar
    مطلب کے ہمیں اب سننا پڑے گا آپکا افسانہ داروغہ جی؟
  2. Fridon's Avatar
    اور جن کو ثقل سماعت کا عارضہ ہو؟
  3. Abdullah's Avatar
    دیواریں نیچی اور لوگوں کی نظریں اونچی ہوتی گئیں۔۔۔
    خوب ترین است جی۔۔۔۔
  4. Meem's Avatar
    سب سے پہلے تو مبارک باد قبول ہو۔۔
    بہت عمدہ افسانہ اور سننے میں زیادہ شاندار لگ رہا ہے۔۔

    اس سے مشن آڈیو بک میں بھی مدد ملے گی۔۔
  5. Ahmed Lone's Avatar
    بہت خوب جی شکریہ
  6. Riju's Avatar
    good step...!
  7. Sajidcompk's Avatar
    why not you produce it in written form,
    so ppl like me can also enjoy who are not allowed to listen, not in office nor at home
  8. Rubab's Avatar
    Quote Originally Posted by Sajidcompk
    why not you produce it in written form,
    so ppl like me can also enjoy who are not allowed to listen, not in office nor at home
    مشن آڈیو بکس کی وجہ سے آڈیو فائل پیش کی تھی تاکہ اس میں دلچسپی رکھنے والے ساتھیوں کو آئڈیا مل سکے۔
    اب افسانے کو تحریری شکل میں بھی پیش کر دیا ہے۔ زحمت کے لئے معذرت خواہ ہوں۔
  9. Fridon's Avatar
    جسٹ واؤ۔۔۔
    داروغہ جی بہت عمدہ۔ یہ کدھر چھپا؟ اگر نہیں تو اس کو بھیجیں۔ مست ہے
  10. 1UM-TeamUrdu's Avatar
    ماشاءاللہ بہت اچھا افسانہ ھے۔

    آڈیو بک سے مزید دلچسپ اور قابل استفادہ ھو گیا ھے

    داد قبول کیجیے۔ مزید ترقی کریں۔ پھولیں پھلیں

    البتہ میں یہ سوچ رھا ھوں کہ اتنی اچھی آڈیو خاصی مہنگی پڑتی ھے۔ چونکہ پروفیشنل افراد اور سسٹم درکار ھے۔ ایک آدھ افسانے کے لیے تو ایسا تعاون مل سکتا ھے۔ بہت سی کتابوں کے لیے کیا ھو گا۔
  11. Sabih's Avatar
    بہت عمدہ افسانہ ہے سمارا سس
    آڈیو می نہیں سن پایا لیکن پڑھنے کا اپنا ہی مزہ ہے.
  12. بنت احمد's Avatar
    فیس بک کے علاوہ اسے سننے کی کوئی اور صورت ہے تو میں بھی سن لوں،
    باقی افسانہ تو ٹو گڈ ہے
  13. 1UM-TeamUrdu's Avatar
    @Rubab;
    رباب بہن اسے ساؤنڈ کلاؤڈ پر اپ لوڈ کریں اور ٹیگز بھی لگائیں جیسے
    Urdu Afsana, Hindi Kaveeta waghera.
    چونکہ ان کی ایک وسیع کمیونٹی ھے اور اس سائٹ کو مزید سینکڑوں سائٹس انڈیکس کرتے ھیں سو آپ کو ھزاروں مزید قارئین مل سکتے ھیں۔ اور پھر وھاں سے ھر جگہ شیئر کرنا بھی آسان ھے

    http://soundcloud.com/shahzadqais/se...is-urdu-poetry
  14. Usama's Avatar
    نہایت عمدہ داروغہ جی۔ معاشرے کی تلخ حقیقت کو بیان کرنے پر داد قبول کیجئے۔
    میرے لیئے محض یہ ایک افسانہ نہیں ایک نظریہ فکر یے۔مجھے نیچی آنکھیں اور بند زبان والے جملے نے بہت متاثر کیا۔ خدا کرے زور قلم اور زیادہ۔
  15. Ahsan_Yaz's Avatar
    بہت عمدہ جی۔
    مبارک باد قبول فرمائیں۔
  16. Kainat's Avatar
    بہت عمدہ، مبارکباد۔۔۔
    صوتی انداز میں سننا بہت اچھا لگا۔ ریڈیو پروگرامز کی یاد آ گئی۔ اس لیے پہلے ساحرہ کا افسانہ آڈیو کی صورت سامنے آیا اب آپکا۔ بہت دلچسپ اور مثبت قدم ہے۔ کتاب ہاتھ میں نہ لینے والوں کے لیے بہترین تحفہ بصورت آڈیو ۔
  17. Rubab's Avatar
    آپ احباب کی توجہ، محبتوں اور وقت کے لیے بہت شکریہ۔
    خوش رہیں۔
  18. Rubab's Avatar
    Quote Originally Posted by 1UM-TeamUrdu
    ماشاءاللہ بہت اچھا افسانہ ھے۔

    آڈیو بک سے مزید دلچسپ اور قابل استفادہ ھو گیا ھے

    داد قبول کیجیے۔ مزید ترقی کریں۔ پھولیں پھلیں

    البتہ میں یہ سوچ رھا ھوں کہ اتنی اچھی آڈیو خاصی مہنگی پڑتی ھے۔ چونکہ پروفیشنل افراد اور سسٹم درکار ھے۔ ایک آدھ افسانے کے لیے تو ایسا تعاون مل سکتا ھے۔ بہت سی کتابوں کے لیے کیا ھو گا۔
    شکریہ ٹیم بھائی۔
    یہ آڈیو فائل، ریڈیو پروگرام کا حصہ ہے، اس لئے کوالٹی وائز بہت اچھی ہے، بیک گراؤنڈ میوزک کی وجہ سے بھی اچھا تاثر پڑتا ہے۔
    اگرآڈیو مشن کی ٹیم مینیج کر سکے تو اچھی کوالٹی آڈیو بکس بنانی چاہئیں تاکہ ان کی افادیت میں اضافہ ہو سکے۔ باقی جو اللہ کو منظور۔
  19. ابو لبابہ's Avatar
    بہت ہی عمدگی سے تحریر کیا گیا افسانہ
    معاشرے کی تلخ حقیقت کی عکاسی کرتی ہوئی تحریر

    آڈیو فائل زبردست ہے
    اتنے اچھے افسانے کے لئے مبارکباد قبول کیجئے
  20. Salman Sallo's Avatar
    ویل ڈن رباب سسٹر اینڈ عابد علی بیگ صاحب۔۔۔آڈیو کیساتھ افسانہ پڑھنے کا کافی مزہ آیا غلط تلفظ کی بھی کچھ اصلاح ہوگئی ، کتنے ایسے الفاظ ہیں جن کو ہم درست لکھتے ہیں مگر غلط پڑھتے ہیں ۔۔
Page 1 of 2 12 LastLast