View RSS Feed

Pardaisi

اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو​

Rate this Entry
اشکِ رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو​
اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو​

یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد​
تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو​

لائی ہے اب اُڑا کے گئے موسموں کی باس​
برکھا کی رُت کا قہر ہے اور ہم ہیں دوستو​

دل کو ہجومِ نکہتِ مہ سے لہو کیے *​
راتوں کا پچھلا پہر ہے اور ہم ہیں دوستو​

پھرتے ہیں مثل موج ہوا شہر شہر میں​
آوارگی کی لہر ہے ہم ہیں دوستو​

آنکھوں میں اڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دھول​
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو​


منیر نیازی​

Submit "اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو​" to Digg Submit "اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو​" to del.icio.us Submit "اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو​" to StumbleUpon Submit "اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو​" to Google

Categories
Uncategorized

Comments