Rose

کاش پر نم دیر نبی میں جیتے جی ہو بلاوا کسی دن

Rate this Entry
بھر دو جھولی میری یا محمد لوٹ کر میں نہ جاوّں گا خالی
کچھ نواسوں کا صدقہ عطاء ہو در پہ آیا ہوں بن کر سوالی


حق سے پائ وہ شانِ کریمی مرحبا دونوں عالم کے والی
اس کی قسمت کا چمکا ستارہ جس پہ نظرِ کرم تم نے ڈالی


زندگی بخش دی بندگی کو آبرو دین حق کی بچا لی
وہ محمد کا پیارا نواسہ جس نے سجدے میں گردن کٹا لی


حشر میں دیکھیں گے جس دم امتی یہ کہیں گے خوشی سے
آرہے ہیں وہ دیکھو محمد جن کے کاندھے پہ کملی ہے کالی


عاشق مصطفی کی ازاں میں اللہ اللہ کتنا اثر تھا
عرش والے بھی سنتے تھے جس کو کیا ازان تھی ازانِ بلالی


کاش پر نم دیر نبی میں جیتے جی ہو بلاوا کسی دن
حالِ غم مصفطی کو سناوں تھام کر ان کے روضے کی جالی​


پرنم الہ آبادی

Submit "کاش پر نم دیر نبی میں جیتے جی ہو بلاوا کسی دن" to Digg Submit "کاش پر نم دیر نبی میں جیتے جی ہو بلاوا کسی دن" to del.icio.us Submit "کاش پر نم دیر نبی میں جیتے جی ہو بلاوا کسی دن" to StumbleUpon Submit "کاش پر نم دیر نبی میں جیتے جی ہو بلاوا کسی دن" to Google

Categories
Uncategorized

Comments