Pardaisi

عید کارڈ

Rate this Entry
عید کارڈ

تجھ سے بچھڑ کر بھی زندہ تھا
مَرمَر کر یہ زہر پیا ہے
چپ رہنا آسان نہیں تھا
برسوں دل کا خون کیا ہے
جو کچھ گزری جیسی گزری
تجھ کو کب اِلزام دیا ہے

اپنے حال پہ خود رویا ہوں
خود ہی اپنا چاک سیاہے
کتنی جانکاہی سے میں نے
تجھ کو دل سے محوکیا ہے
سناٹے کی جھیل میں تو نے
پھر کیوں پتھر پھینک دیا ہے

احمد فرازؔ​



Submit "عید کارڈ" to Digg Submit "عید کارڈ" to del.icio.us Submit "عید کارڈ" to StumbleUpon Submit "عید کارڈ" to Google

Categories
Uncategorized

Comments