View RSS Feed

سہیل احمد کا آشیانہ

تجھ کو بھلا کیا معلوم​.....حما ت علی

Rate this Entry
تجھ کو معلوم ہی نہیں تجھ کو بھلا کیا معلوم​
تیرے چہرے کے یہ سادہ سے اچھوتے سے نقوش​
میرے تخیل کو کیا رنگ عطا کرتے ہیں​
تیری زلفیں تیری آنکھیں تیرے عارض تیرے ہونٹ​
کیسی انجانی سی معصوم خطا کرتے ہیں​
خلوت بزم ہو یا جلوت تنہائی ہو​
تیرا پیکر میری نظروں میں اتر آتا ہے​
کوئی ساعت ہو کوئی فکر ہو کوئی ماحول​
مجھ کو ہر سمت تیرا حسن نظر آتا ہے​
چلتے چلتے جو قدم آپ ٹھٹھک جاتے ہیں​
سوچتا ہوں کہیں تو نے پکارا تو نہیں​
گم سی ہو جاتی ہیں نظریں تو خیال آتا ہے​
اس میں پنہاں تیری آنکھوں کا اشارہ تو نہیں​
دھوپ میں سایہ بھی ہوتا ہے گریزاں جس دم​
تیری زلفیں میرے شانوں پر بکھر جاتی ہیں​
تھک کہ جب سر کسی پتھر پی ٹکا دیتا ہوں​
تیری بانہیں میری گردن میں اتر آتی ہیں​
سر بالیں کوئی بیٹھا ہے بڑے پیار کے ساتھ​
میرے بکھرے ہوئے الجھے ہوئے بالوں میں کوئی​
انگلیاں پھیرتا جاتا ہے بڑے پیار کے ساتھ​
کس کو معلوم ہے میرے خوابوں کی تعبیر ہے کیا​
کون جانے میرے غم کی حقیقت کیا ہے​
میں سمجھ لوں بھی اگر اس کو محبّت کا جنوں​
مجھ کو اس عشق جنوں خیز سے نسبت کیا ہے

Submit "تجھ کو بھلا کیا معلوم​.....حما ت علی" to Digg Submit "تجھ کو بھلا کیا معلوم​.....حما ت علی" to del.icio.us Submit "تجھ کو بھلا کیا معلوم​.....حما ت علی" to StumbleUpon Submit "تجھ کو بھلا کیا معلوم​.....حما ت علی" to Google

Categories
انتخاب

Comments